علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۳)
اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعی رجالی تراث، انواع و اقسام

شیعی علم رجال کا انواع و اقسام کے اعتبار سے جائزہ ایک کٹھن کام ہے، ان سطور کا راقم یہ لکھنے پر مجبور ہے کہ بلا مبالغہ کئی دن تک سینکڑوں صفحات اور ویب پیجز کھنگالنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ شیعی علم رجال ایک چیستاں ہے، جس کو کماحقہ سمجھنے کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہے، اولا کتبِ رجال کی درجہ بندی میں حائل مشکلات کا ذکر کیا جاتا ہے، پھر تتبع و تلاش سے شیعی رجالی تراث کی جو اقسام سامنے آئی ہیں، ان کا ذکر ہوگا:

1۔ شیعی رجالی تراث کی منظم تاریخ، مرتب تعارف اور کامل ببلو گرافی موجود نہیں ہے، حیدر حب اللہ نے اپنی کتاب "درس تمہیدیۃ فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ" میں، شیخ جعفر سبحانی نے "کلیات فی علم الرجال " میں، عادل ہاشم نے "المباحث الرجالیہ " میں محقق عبد الہادی فضلی نے "اصول علم الرجال میں اور محقق طہرانی نے "مصفی المقال فی مصنفی علم الرجال " میں شیعی علم رجال کی تاریخ لکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن ان سب کتب میں شیعی رجالی تراث کی انواع و اقسام کے اعتبار سے کسی قسم کی کوئی تفصیل نہیں ہے، اس کے برخلاف اہل سنت میں صرف ایک کتاب "رواۃ الحدیث، النشاۃ، المصطلحات، المصنفات از عواد بن حمید الرویثی" میں سنی رجالی تراث کی 1000 کے قریب صفحات میں 32 اقسام و انواع(718 کتب ِ رجال ) کا ذکر کیا گیا ہے، جو بھی قاری پچھلی پانچ مصنفین کی کتب اور اس ایک کتاب کا موازنہ کرے گا، اسے انداز ہوجائے گا کہ اہل سنت کے علم رجال کی کتنی مرتب تاریخ لکھی گئی ہے اور شیعہ علم رجال کی تاریخ میں ترتیب و تدوین کے اعتبار سے کتنا بڑے خلا موجود ہیں۔

2۔ شیعی علم رجال کی کتب کی تعداد سرے سے ہی کافی کم ہے، چنانچہ حیدر حب اللہ نے اپنی کتاب "دروس تمہیدیۃ فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ " میں زمانہ نبوت سے لیکر عصر ِ حاضر تک شیعی رجال کی تاریخ اور ہر صدی کی کتبِ رجال کا ذکر کیا ہے، اس پوری کتاب میں مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتب کی تعداد 115 کے قریب بنتی ہے، ان میں مطبوعہ کتب بمشکل 35 بنتے ہوں گے، (یہ احتیاطا زیادہ سے زیادہ تعداد ہے ) جبکہ اسی سلسلے کے پچھلی اقساط میں سنی رجالی تراث کی انواع و اقسام کا ذکر کرتے ہوئے 25 انواع کے تحت 90 کے قریب مطبوعہ کتب کا ذکر آچکا ہے، جس میں ہم نے کافی اختصار سے کام لیا، نیز محقق عواد بن حمید الرویثی نے اپنی کتاب "رواۃ الحدیث، النشاۃ، المصطلحات، المصنفات " میں صرف صحاح ستہ کے رجال پر 127 کتب(مطبوعہ و غیر مطبوعہ ) کا ذکر کیا ہے، گویا سنی رجالی تراث میں صرف صحاح ستہ کے رجال پر جو کام ہو اہے، وہ تیرہ صدیوں کی پوری شیعہ علم رجال (مطبوعہ و غیر مطبوعہ )سے زیادہ ہے1، اس لئے اس تھوڑی تعداد میں تنویع و تقسیم کافی مشکل ہے، بلکہ ایک اعتبار سے دیکھیں، تو سنی رجالی تراث کی صرف انواع پورے شیعہ علم رجال کی کتب کے قریب قریب ہیں، کیونکہ محقق عواد نے اپنی کتاب میں 32 کے قریب انواع ذکر کی ہیں، جبکہ محقق حیدر حب اللہ نے اپنی پوری کتاب میں شیعی مطبوعہ کتب ِ رجال تقریبا 35 ذکر کی ہیں۔

3۔ شیعی علم رجال کی جو کتب مطبوع ہیں، ان کی محققانہ اشاعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، محققانہ اشاعت سے مراد ایسی اشاعت، جس کے شروع میں کتاب کے منہج و اسلوب پر مفصل مقدمہ تحقیق ہو، کتاب میں موجود تراجم پر ترقیم ہو، ان تراجم کی دیگر کتبِ رجال سے تخریج ہو، آخر میں متنوع فہارس ہوں، اس قسم کی مطبوعات تقریبا معدوم ہیں، شیعہ مطبوعہ کتب میں محقق خوئی کی معجم رجال الحدیث کی اشاعت ایک مناسب اشاعت ہے، جبکہ دیگر جوامع رجال جیسے جامع الرواۃ للاردبیلی، قہپائی کی مجمع الرجال، شہید ثانی کی التحریر الطاوسی جیسی اساسی کتب کی اشاعتیں تحقیق کے اعتبار سے انتہائی ناقص ہیں، محققانہ اشاعتیں نہ ہونے کی وجہ سے بھی ان بڑی کتب کے منہج و اسلوب اور رجالی تراث میں اس کی درجہ بندی کرنا مشکل اور کٹھن کام ہے۔

4۔ شیعی اساسی کتب ِ رجال اور علمائے جرح و تعدیل پر دراسات وتحقیقات بھی انتہائی قلیل تعداد میں ہیں، جس میں کتاب و صاحبِ کتاب کا مفصل تعارف، منہج، تراجم، امتیازات و خصوصیات، اغلاط و اخطاء، نسخ و مخطوطات، کیفیتِ ذکر ِ تراجم، تعدادِ تراجم وغیرہ جیسے امور شامل ہوں، جبکہ اس کے برخلاف اہل سنت کی کتب ِ رجال پر اس قسم کی دراسات کثیر تعداد میں موجود ہیں، مثلا:

  • موارد مغلطائی فی اکمال تہذیب الکمال، از احمد کامل بن جاملین
  • دراسۃ المتکلم فیھم من رجال تقریب التہذیب، ازعبد العزیز بن سعد التخیفی
  • منہج الامام البخاری فی التعلیل من خلال کتاب التاریخ الکبیر، احمد عبد اللہ احمد
  • منہج الحافظ ابن حجر فی الجرح بالبدعۃ من خلالکتابہ التقریب، کریمہ سودانی
  • ابن حبان و منہجہ فی کتابہ الثقات، سعد الدین منصور احمد
  • ابن عدی و منہجہ فی کتابہ الکامل فی ضعفاء الرجال، زہیر عثمان
  • منہج ابی جعفر العقیلی فی جرح الرجال من خلال کتابہ الضعفاء الکبیر، مختار نصیرۃ
  • الامام علی بن المدینی و منہجہ فی نقد الرجال، اکرام اللہ امداد الحق
  • ملامح کلیہ من منہج الحافظ ابی حاتم الرازی فی الجرح و التعدیل، عبد اللہ بن مرحول السوالمہ
  • منہج الامام النسائی فی الجرح و التعدیل و جمع اقوالہ فی الرجال، قاسم علی سعد

بطورِ نمونہ صرف دس کتب ذکر کیں، ورنہ اہل علم جانتے ہیں کہ اس قسم کی کتب سینکڑوں کی تعداد میں ہیں، شیعی کتب و علمائے رجال پر دراسات و تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے بھی شیعی رجالی تراث کی درجہ بندی مشکل ہے، کیونکہ ان جیسی کتب کی مدد سے کسی بھی کتاب کی درجہ بندی آسان ہوجاتی ہے۔

5۔ سب سے بڑی اور بنیادی مشکل یہ ہے کہ شیعہ علم ِ حدیث کے تین اجزاء، علم مصطلح الحدیث، کتب حدیث اور علم رجال و جرح و التعدیل الگ الگ زمانوں اور غیر مربوط انداز میں مرتب ہوئے، جب کتبِ حدیث کی تدوین ہوتی ہے، تو علم رجال اور مصطلح الحدیث کا وجود نہیں ہوتا، پھر جب کتب رجال لکھنی شروع ہوتی ہیں، تو علم مصطلح الحدیث کی اولین کاوشیں ساتویں صدی ہجری میں سامنے آتی ہیں، اس لئے شیعہ علمائے رجال کے سامنے کتبِ رجال کے وہ مناہج و اسالیب اور انواع و اقسام سامنے نہیں تھے، جن کا بیان عموما علم مصطلح الحدیث میں ہوتا ہے، جبکہ اس کے برخلاف سنی علم حدیث میں یہ تینوں اجزاء ایک زمانے، بلکہ ایک جیسے حضرات سر انجام دیتے ہیں، مثلا امام بخاری حدیث کی کتب بھی لکھتے ہیں، ساتھ رجال پر تفصیلی جوامع بھی تیار کرتے ہیں، امام خطیب بغدادی علم مصطلح الحدیث پر متون بھی تیار کرتے ہیں اور ساتھ رجال پر تفصیلی کتب بھی تحریر کرتے ہیں، ابن حبان حدیث کی کتاب بھی لکھتے ہیں، ساتھ ثقہ رجال کی تدوین بھی کرتے ہیں، الغرض یکساں زمانے اور ایک ہی محدث کی تینوں اجزاء میں کئی گئی کاوشوں کی وجہ سے سنی رجال کی ہر کتاب شروع سے ہی ایک خاص نوع اور خاص منہج وا سلوب کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔

اب موجود شیعی رجالی تراث کی انواع و اقسام کا ذکر کیا جاتا ہے:

 1) شیعہ رجال کی اولین کتب زیادہ تر فہارسِ مصنفین پر مشتمل ہیں، یعنی وہ شیعہ رجال، جنہوں نے کسی بھی فن میں کوئی کتاب لکھی ہے، شیعہ محققین رجالی تراث کی قلت کی وجہ سے ان جیسی کتب کو بھی علم رجال الحدیث کی کتب میں ذکر کرتے ہیں، حالانکہ اہل سنت کے ہاں بھی فہرست ابن ندیم جیسی کتب ہیں، لیکن ان جیسی کتب کو سنی رجالی تراث میں اہل سنت اہل علم شمار نہیں کرتے، کیونکہ مصنفین کو رجال الحدیث سمجھنا محض مفروضہ ہے، اس سلسلے کی اہم شیعہ کتب، جیسے:

  • فہرس النجاشی، احمد بن علی النجاشی (المتوفی 450ھ)
  • فہرس الطوسی، محمد بن الحسن الطوسی (المتوفی 460ھ)
  • معالم العلماء فی فہرست کتب الشیعۃ، محمد بن علی شہر آشوب (المتوفی 588ھ)
  • فہرس منتجب الدین ابن بابویہ، ابن بابویہ(المتوفی 585ھ)

 2) بعض کتب رجال ایسی ہیں، جن میں متقدمین کی کتب پر تعلیقات، تلخیص یا ان کی شرح کی گئی ہے، جیسے:

  • التعلیقات علی خلاصۃ الاقوال، شہید ثانی (965 ھ)
  • حواشی علی نقد الرجال، و منہج المقال، رجال الکشی و النجاشی، عنایۃ اللہ القہبائی (1026ھ)
  • معراج اہل الکمال الی معرفۃ الرجال (شرح فہرس الطوسی )، سلیمان بن عبد اللہ ماحوذی(المتوفی 1121ھ)
  • حاشیۃ علی خلاصۃ الاقوال، شہید ثانی (965ھ)
  • حاشیۃ علی رجال ابن داود، شہید ثانی (965ھ)
  • نضد الایضاح فی ترتیب ایضاح الاشتباہ، محمد بن حسن الفیض کاشانی (1091ھ)
  • تعلیقۃ علی منہج المقال، وحید بہبانی (المتوفی 1206ھ)
  • منتی المقال فی احوال الرجال، شیخ ابو علی الحائری(استربادی کی کتب اوران کی تعلیقات کی تلخیص و ایضاح پر مشتمل ہے)( المتوفی 1216ھ)
  • تکملۃ الرجال حاشیہ نقد الرجال، عبد النبی الکاظمی (المتوفی 1256ھ)

 3) بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ائمہ (معصومین ) کے تلامذہ و اصحاب اور طبقاتِ رجال کا بیان ہوا ہے، جیسے:

  • کتاب الرجال، محمد بن خالد برقی (المتوفی 280 ھ علی قول )
  • رجال الطوسی، محمد بن الحسن الطوسی (460ھ)
  • الدرجات الرفیعۃ فی الطبقات الشیعہ، سید علی خان(المتوفی 1120ھ)
  • طرائف المقال فی معرفۃ طبقات الرجال، سید علی بروجردی(المتوفی 1313ھ)
  • معجم الثقات و ترتیب الطبقات، ابو طالب التجلیل (1429ھ)

 4) کچھ ایسی کتب ہیں، جن میں صرف ثقہ رواۃ کا ذکر کیا گیا ہے، جیسے:

  • فائق المقال فی الحدیث و الرجال، احمد بن رضا البصری(1090ھ کے بعد، متعین سن وفات نامعلوم ہے)
  • معجم رواۃ الحدیث و ثقاتہ (12 مجلدات )سید محمد باقر موحد (1435ھ)

 5) بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ضعیف رواۃ کی فہرست دی گئی ہے، جیسے:

  • کتاب الضعفاء، حسین بن عبد اللہ الغضائری(المتوفی 411ھ)

 6) بعض کتب ایسی ہیں، جن میں متقدمین کی کتبِ رجال کو الف بائی یا کسی اور ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا ہے، جیسے:

  • التحریر الطاووسی، سید احمد بن طاووس، مرتب کردہ، حسن بن زین الدین العاملی (المتوفی 965ھ)، یہ کتاب رجال الکشی، رجال طوسی، فہرس طوسی، رجال النجاشی اور رجال الغضائری کا مجموعہ ہے۔ یہ اصلا ابن طاووس کی کتاب حل الاشکال فی معرفۃ الرجال سے مرتب کردہ ہے۔
  • مجمع الرجال، (4مجلدات )عنایۃ اللہ القہبائی (المتوفی 1026ھ)(اس میں متقدمین کے اصول خمسہ، رجال الکشی، رجال الطوسی، فہرس الطوسی، رجال النجاشی اور ابن الضغائری کو جمع کیا گیا ہے )

 7) بعض ایسی کتب ہیں، جن میں ضعفاء و ممدوحین رجال دونوں کا تذکرہ الگ الگ کیا گیا ہے، جیسے:

  • نقد الرجال، ابن داود الحلی (المتوفی 797ھ)
  • خلاصۃ الاقوال فی معرفۃ الرجال، علامہ حلی ( المتوفی 726ھ))
  • حاوی الاقوال فی معرفۃ الرجال، (4 مجلدات )عبد النبی جزائری (المتوفی 1021ھ)
  • الوجیزۃ فی علم الرجال، علامہ مجلسی (المتوفی 1110ھ)
  • شعب المقال فی درجات الرجال، ابو القاسم النراقی(المتوفی 1319ھ)
  • اتقان المقال فی احوال الرجال، شیخ محمد طہ نجف(المتوفی 1323ھ)

 8) بعض کتب ایسی ہیں، جن میں اسماء کے ضبط، صحیح تلفظ اور کتب رجال میں اس سلسلے میں ہونے والی اغلاط کی تصحیح مذکور ہے، جیسے:

  • ایضاح الاشتباہ فی اسماء الراۃ، شیخ حسن بن یوسف الحلی المعروف امام حلی (المتوفی 726ھ)(800 کے قریب رواۃ کا ذکر ہے )

 9) کچھ ایسی کتب ہیں، جو جوامع و قوامیس کی درجہ بندی میں آتی ہیں، یعنی وہ کتب، جن میں مصنف نے اپنے سے پہلے تمام رجالی ذخیرہ کو اس میں سمونے کی کوشش کی ہو، جیسے:

  • منہج المقال فی تحقیق احوال الرجال (7مجلدات )محمد بن علی الاسترابادی(1028ھ)
  • نقد الرجال، (5 مجلدات )سید مصطفی التفرشی (المتوفی 1044 ھ کے بعد )
  • جامع الرواۃ (2 مجلدات )محمد علی الاردبیلی (المتوفی 1101ھ)
  • تنقیح المقال فی علم الرجال (40 مجلدات ) عبد اللہ مامقانی(المتوفی 1351ھ)
  • قاموس الرجال (12 مجلدات )، محمد تقی تستری (1415ھ)
  • معجم رجال الحدیث (24 مجلدات ) امام خوئی المتوفی( 1413ھ)
  • مستدرکات علم رجال الحدیث، (8 مجلدات )شیخ علی نماز ی شاہرودی (المتوفی 1402ھ)

 10) بعض کتب صحابہ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، شیعہ علم رجال میں صحابہ کے تذکرے پر مشتمل کتب نہ ہونے کے برابر ہیں، ان میں سے ایک رسالہ حر عاملی (المتوفی 1104ھ) نے "رسالہ فی معرفۃ الصحابہ" کے نام سے لکھا ہے، جس میں 500 کے قریب صحابہ و صحابیات کا ذکر کیا گیا ہے۔

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(اکتوبر ۲۰۲۱ء)

اکتوبر ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۱۰

عدت کے شرعی احکام : چند ضروری توضیحات
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۱)
ڈاکٹر محی الدین غازی

مطالعہ جامع ترمذی (۵)
ادارہ

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۳)
مولانا سمیع اللہ سعدی

قومی زبان — عدالتِ عظمٰی اور بیوروکریسی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عشرہ دفاعِ وطن
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام کے عہد اول میں فکری انقلاب
بیرسٹر ظفر اللہ خان

Flag Counter