اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۴)

مولانا سمیع اللہ سعدی

5۔مخطوطات و نسخ

اہل تشیع و اہل سنت کے حدیثی ذخیرے  کے فروق میں سے ایک بڑا فرق  کتب ِحدیث کے مخطوطات و نسخ کی تعداد و قدامت کا فرق ہے ،اہل تشیع کے اکثر  کتب ِحدیث کے  قدیم معتمد نسخ معدوم ہیں ،اسی کمیابی  کی وجہ سے ان میں بڑے پیمانے پر تحریفات بھی ہوئی ہیں ،ذیل میں اس حوالے سے چند جید اہل تشیع محققین و علماء کی آرا ذکر کی جاتی ہیں :

1۔معروف شیعہ پیشوا و معتبر عالم سید علی خامنائی  اہل تشیع کے کتب رجال کے نسخ و مخطوطات پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"بناء علی ما ذکر الکثیر من خبراء ھذا الفن ان نسخ کتاب الفہرست کاثر الکتب الرجالیۃ القدیمۃ المعتبرۃ الاخری مثل کتاب الکشی  النجاشی  والبرقی والغضائری  قد ابتلیت جمیعا بالتحریف و التصحیف  ولحقت بھا الاضرار الفادحۃ ،ولم تصل منھا لابناء ھذا العصر نسخۃ صحیحۃ"1

ترجمہ :اس فن کے بہت سے ماہرین نے یہ بات ذکر کی ہے کہ کتاب  فہرست اور دیگر  معتبر کتب رجالیہ جیسے کتاب کشی ،نجاشی ،برقی غضائری میں تحریف و تصحیف ہوچکی ہے ،اور  حفاظت کے نقطہ نظر سے بعض سخت عوارض لاحق ہو چکے ہیں ،اور ہمارے زمانے تک ان کتب کا کوئی صحیح نسخہ نہیں پہنچ سکا ۔

2۔معروف شیعہ محقق حیدر حب اللہ  ،جنہوں نے  شیعہ علم حدیث پر  بہترین کتب لکھی ہیں ، لکھتے ہیں :

"فقدت الامامیہ اعدادا ھائلۃ من الکتب التی سجل علماء التراجم و الرجال والفہارس اسماءھا ،ولم نجد صعودا لھذ الموضوع عند الشیعہ الا فی العصر الصفوی، لان السلطۃ وفرت لھم الامن والامان والدعم المالی الکبیر لاستنساخ کتبھم و ترویجھا بنسخ کبیرۃ و کثیرۃ "2

ترجمہ:امامیہ کے ہاں  کتب رجال ،تراجم ،فہارس  کی بہت بڑی تعداد صفوی دور سے قبل  پردہ خفا میں تھی ،اور صفوی دور میں حکومت ہونے،مالی وسائل ہونے اور امن و امان میں ہونے کی وجہ سے امامیہ کو موقع ملا کہ  وہ اپنی کتب تراث کے بڑے اور کثیر نسخے لکھیں اور انہیں  ترویج دے ۔

شیخ حیدر حب اللہ کی عبارت سے معلوم ہوا کہ شیعہ کتب تراث کے نسخوں کا اصل زمانہ صفوی دور  (907ھ تا 11035ھ) تھا۔

یہی وجہ ہے کہ کتب اربعہ کے علاوہ  بہت سی کتب شیعہ ایسی ہیں ،جن کا ظہور پہلی مرتبہ صفوی دور سلطنت میں ہوا ،اور شیعہ کی ضخیم کتب  بحار الانوار ،وسائل الشیعہ  وغیرہ صفوی سلطنت کے بعد کی پیداوار ہیں ،شیخ حیدر حب اللہ لکھتے ہیں :

"نحن نقبل  ان الکثیر من الکتب التی ظھرت نسخھا  فی العصر الصفوی ،ولا نملک طریقا الیھا یصحح نسختھا الواصلۃ الینا الاان تحتاج الی تدقیق، و بعض ھذہ الکتب لم یثبت لہ طریق معتبر"3

ترجمہ:ہم اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ بہت سی ایسی کتب ،جن کے نسخے صفوی دور میں  پردہ ظہور میں آئے ،ہم ایسا کوئی راستہ نہیں پاتے ،جو ہم تک پہنچے اس کتاب کے نسخوں کی تصحیح کر سکیں ،یہ کام  مزید تحقیق و تدقیق کا محتاج ہے ،ان میں سے بعض کتب کا کوئی معتبر  طریق ثابت نہیں ہے ۔

یہاں بجا طو رپر سوال پید اہوتا ہے کہ شیعہ کی آخری تین مراجع حدیث ،وسائل الشیعہ ،بحار الانوار اور مستدرک الوسائل   کا بڑا حصہ انہی کتب پر مبنی ہیں ،جن کا ظہور صفوی دور میں ہوا ،تو یہ مراجع  کیسے معتبر مراجع میں شامل ہیں ؟

3۔شیعہ کی معتبر ترین کتاب کافی کا بھی معتمد نسخہ وہی ہے ،جو صفوی دور میں لکھا گیا ،  خاص طور پر وہ نسخہ جو  صفوی دور کے معروف شیعہ محدث باقر مجلسی کے سامنے پڑھا گیا ،اس نسخے کے علاوہ  صفوی دور کے دیگر  مکمل  مخطوطات کو سامنے رکھ کر کافی کی موجودہ طبعات تیار ہوئی ہیں ، ( صفوی دور میں عالم ِظہور میں آنے والے  نسخوں کا حال ابھی حیدر حب اللہ کی زبانی آپ پڑھ چکے ہیں ) صفوی دور سے پہلے کافی کا مکمل اور تصحیح شدہ نسخہ موجود نہیں ہے،  اگرچہ صفوی دور سے پہلے الکافی کے نامکمل  مخطوطات ہیں ،معروف شیعہ محقق حیدر حب اللہ الکافی پر مخالفین کے اعتراضات کی وجو ہات میں سے ایک اہم وجہ کا ذکر کرتے ہوئے  لکھتے ہیں :

لا نجد لھذا الکتاب نسخۃ قدیمۃ ترقی الی ما قبل القرن السابع الھجری، حتی بحسب اعتراف آخر الطبعات المحققۃ المصححۃ عند الامامیہ، وھی طبعۃ دار الحدیث فی ایران، والتی استقصت نسخہ ولم تعثر فی اقدم النسخ الا علی القرن السابع الھجری فی نسخۃ غیر کاملۃ ایضا "4

 ترجمہ :اس کتاب الکافی کا کوئی ایسا قدیم نسخہ نہیں ہے ،جو ساتویں صدی ہجری سے پہلے کا ہو ،یہاں تک کہ امامیہ کے ہاں  الکافی کی سب سے آخری محقق  و مصحح طبع  دار الحدیث ایران  کے محققین کا بھی یہی اعتراف ہے ،جنہوں نے الکافی کے نسخوں کا  احاطہ کرنے کی کوشش کی  ،تو انہیں الکافی کا ساتویں صدی ہجری سے پہلے کا کوئی قدیم نسخہ نہ مل سکا ،اور ساتویں صدی ہجری کا نسخہ بھی نامکمل نسخہ ہے ۔

 یہی وجہ ہے کہ  الکافی کی سب سے معروف اشاعت ،جو معروف محقق علی اکبر الغفاری کی تحقیق سے شائع ہوئی ہے ،اس میں مخطوطات کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلا نسخہ یوں بیان کیا ہے :

نسخۃ مصححۃ مخطوطۃ فی سنۃ 1067ھ5

مصنف نے تقریبا سات کے قریب مخطوطات ونسخ بیان کئے ہیں ،وہ سب دسویں صدی  کے بعد  یعنی صفوی دور  کے نسخے و مخطوطات ہیں ۔

الکافی کی  یہ سب سے پہلی محقق اشاعت ہے ، حال ہی میں قم  ایران سے الکافی کی ایک محقق اشاعت سامنے آئی ہے ،جو بیس سے زیادہ محققین اور سو کے قریب مخطوطات کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے ،اس اشاعت میں بھی اصل اصیل علی اکبر غفاری کی اشاعت کو قرار دیا گیا ہے ،چنانچہ کتاب کے محققین لکھتے ہیں :

"عاملنا متن الکافی المطبوع بتحقیق المرحوم الغفاری و طبع دار الکتب الاسلامیہ معاملۃ نسخۃ معتبرۃ "6

ترجمہ :ہم نے مرحوم غفاری  کی تحقیق سے طبع شدہ متن کافی کو ایک نسخہ معتبرہ کے طور پر لیا ۔

اس کے برعکس اگر ہم صحیح بخاری کے نسخوں کو دیکھیں ،تو    ان میں انتخاب مشکل ہوجاتا ہے کہ کس نسخہ کا ذکر کیا جائے ؟کیونکہ سب ہی اتقان و صحت میں ایک دوسرے سے بڑھے ہوئے ہیں ،بطور ِمثال صرف ایک نسخے کا ذکر کرنا چاہوں گا ،کہ صحیح بخاری کا ایک معروف نسخہ حافظ یونینی کا نسخہ ہے ،یہ نسخہ چار جید محدثین  ابو محمد الاصیلی ،ابو ذر الہروی ،ابو الوقت السجزی ،ابو القاسم ابن عساکر  کے سامنے پڑھے گئے نسخہ جات  کے ساتھ تقابل کر کے تیار کیا گیا ،یہ چاروں حضرات  صحیح بخاری کے معروف رواۃ  سے روایت کرنے والے ہیں ،مثلا ابو ذر الہروی نےصحیح بخاری کے تین براہ راست رواۃ المستملی ،الحموی اور الکھشمیھنی   سے صحیح بخاری کو روایت کیا ہے 7۔یہ صرف ایک نسخہ ہے ،ورنہ صحیح بخاری  کو صرف امام بخاری سے نوے ہزار سے زائد شاگردوں نے براہ راست پڑھا ہے ۔

 معروف شیعہ محقق  شیخ حیدر حب اللہ   الکافی و دیگر کتب حدیث  کے نسخ و مخطوطات کی کمیابی کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"و اذا کان الذین سمعوا من الامام البخاری کما یقول الفربری تسعین الف رجل، وان آخر من سمع من ببغداد حسین المحاملی ،فان عدد الامامیۃ کلھم فی ذلک الزمان قد لایجاوزون عدد من سمع من البخاری من طلاب العلم"8

ترجمہ :فربری کے بقول امام بخاری سے بخاری شریف نوے ہزار شاگردوں نے براہ راست پڑھی ہے ،اور امام بخاری سے آخر میں سما ع کرنے والے حسین محاملی ہیں ،جبکہ اس زمانے میں اہل تشیع کی کل تعداد  صحیح بخاری کا سماع کرنے والوں کے  بمشکل برابر تھی ۔

وجہ جو بھی ہو ، اہلسنت و اہل تشیع کی کتب حدیث کے نسخہ جات و مخطوطات کا جب تقابل کیا جائے تو  اہلسنت کی کتب کے نسخے و مخطوطات   اہل تشیع کی تراث ِحدیث کے نسخہ جات و مخطوطات سے   کئی درجے  زیادہ نظر آتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ شیعہ  تراث ِحدیث کی استنادی حیثیت کو ثابت کرنے والے معروف شامی محقق حیدر حب اللہ نے شیعہ تراث حدیث  میں تشکیک کی جن وجوہات پر بحث کی ہے ،ان میں نسخ و مخطوطات کا مسئلہ بھی  اٹھایا ہے۔9

ایک اشکال اور اس کا جواب

اہل تشیع کی تراث حدیث کے مخطوطات و نسخ کی کمیابی چونکہ  شیعہ   ذخیرہ حدیث کو  مشکوک بنانے کے لئے اہم ترین عامل ہے ،اس لئے بعض اہل تشیع اہل علم نے بجواب آن غزل   صحیح بخاری کی قدیم مخطوطات کو زیر بحث لانے کی کوشش کی ،چنانچہ معروف  شیعہ محقق حیدر حب اللہ لکھتے ہیں :

"فلو نظرنا  فی کتاب البخاری الذی اشتغل علیہ اھل السنۃ بشکل ھائل عبر التاریخ، وبلغت مواضع نسخہ فی العالم ما بین نسخۃ کاملۃ واجزاء او قطع زھاء 2327 موضعا، وعلمنا ان مکتبۃ الملک عبد العزیز بالمدینۃ المنورۃ لوحدھا  علی 226 نسخۃ اصلیۃ من  ھذا الکتاب، بعضھا  کاملۃ واخری اجزاء، تعود لفترات  مختلفۃ و علیھا خطوط مشاھیر العلماء، لتوقعنا ان نملک نسخۃ بخط المولف او الذی املی علیہ المولف کالفربری، لکن  اقدم نسخۃ مخطوطۃ فی العالم لھذا لکتاب  ھی علی ما یبدو القطعۃ التی نشرھا المستشرق منجانا فی کمبردج 1936، وقد کتب عام 370 براویۃ المروزی عن الفربری، ای بعد حوالی 115 عاما من وفاۃ البخاری، واما سائر النسخ الھامۃ والمعتمدۃ لھذا الکتاب فتعود الی نسخۃ الحافظ ابی علی الصدفی (514ھ) ونسخۃ الحافظ ابن سعادۃ الاندلسی (566ھ ) و نسخۃ  عبد اللہ بن سالم البصری المکی (1134ھ) وأمثالھا من النسخ والمخطوطات القديمۃ التي يقع اختلاف بينھا وبعضھا ناقص وبعضھا كامل، وھذا ھو حال النسخ في العادۃ، فلا يضرّ أن تتوفرأقدم نسخۃ لكتاب الكافي في القرن السابع الھجري10

ترجمہ : اگر ہم صحیح بخاری کو دیکھیں ،جس کے ساتھ  اہلسنت   کی بڑی تعداد  کا مسلسل  علمی اشتغال رہا ، دنیا میں صحیح بخاری کے کامل ،ناقص ،مخطوطات 2327 کے قریب ہیں ، صرف مکتبۃ الملک عبد العزیز میں اس کتاب کے کامل ناقص 226 مخطوطات ہیں ،جو مختلف زمانوں کے ہیں ،اور ان پر مختلف مشاہیر کے دستخط ہیں ۔ہم یہ توقع رکھتے تھے کہ  ہمیں مولف کا براہ راست مخطوطہ یا مولف نے جن تلامذہ پر کتاب کی املاء کرائی ،جیسے فربری ،ان کا براہ راست مخطوطہ مل جائے گا ،لیکن  اس کتاب کا دنیا میں قدیم ترین نسخہ ،جو ایک مستشرق نے کیمبرج میں نشر کیا ،وہ  امام بخاری کی وفات کے 115 سال بعد کا نسخہ ہے ،جو  370 میں امام مروزی نے فربری سے نقل کیا ،جبکہ باقی نسخوں کا مرجع چھٹی صدی ہجری کے ابو علی صدفی ،چھٹی صدی ہجری کے ابن سعادۃ اور بارہویں صدی ہجری کے ابن سالم المکی  اور دیگر اہل علم کے کامل و ناقص مخطوطات ہیں ، جن میں اختلافات بھی ہیں ،اور نسخوں کا حال یہی ہوتا ہے ،لھذا اگر الکافی کا ساتویں صدی ہجری سے پہلے کوئی نسخہ نہیں ہے ،تو اسے اس کی استنادی حیثیت کو کوئی ضرور لاحق نہیں ہوتا ۔

شیعہ محقق نے صحیح بخاری کے نسخوں پر اعتراض کر کے الکافی  کی مشکوک استنادی حیثیت کو ڈھانپنے کی  کوشش کی ہے ،لیکن علمی میزان میں یہ اعتراض  کوئی خاص وزن نہیں رکھتا ،ہم چند نکات کی شکل میں اس مغالطے کا جواب دیتے ہیں :

1۔اگر اس اعتراض کو جوں کا توں ما نا جائے ،تب بھی صحیح بخاری نسخ و مخطوطات کے حوالے سے الکافی سے کہیں زیادہ فائق نظر آتی ہے ،کیونکہ  صحیح بخاری کا قدیم ترین نسخہ امام بخاری کی وفات کے صرف 115 سال بعد کا ہے ،اور یہ نسخہ بھی کسی غیر معروف ناسخ کا نہیں ،بلکہ ایک معروف محدث امام مروزی نے امام بخاری کے براہ راست شاگرد اور صحیح بخاری کی کتابت کے مرکزی راوی امام فربری سے  نقل کیا ہے ،کیا شیعہ محققین الکافی کا کوئی ایسا نسخہ دکھا سکتے ہیں ، جو امام کلینی کے براہ راست شاگرد  سے نقل کیا گیا ہو ؟یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ  اما م کلینی کے چار سو سال بعد ساتویں صدی ہجری کا جو  نسخہ ہے ،اس کی بھی کوئی سند نہیں ہے کہ ناسخ نے یہ نسخہ کس نسخے سے نقل کیا ،اور منقول  عنہ نسخہ کس درجے کا تھا؟

2۔مخطوطات و نسخ کے محققین جانتے ہیں کہ کسی کتاب کی  استنادی حیثیت کو قوی ثابت کرنے کے لئے  اس کتاب کے مخطوطے کی قدامت زیادہ اہم عامل نہیں ،بلکہ مخطوطے کی سند ،مخطوطے کو لکھنے والا ،اور اس مخطوطے کو کہاں سے لیا گیا ہے ؟یہ عوامل زیادہ اہم ہوتے ہیں ،صحیح بخاری کے جو بھی  اہم نسخے ہیں  ،اس میں  مذکورہ امور کی وضاحت بالتفصیل ہوتی ہے ،اوپر حافظ یونینی کے نسخے کے حوالے سے تفصیل آچکی ہے کہ کس طرح چار جید محدثین کے سامنے پڑھے گئے نسخہ جات  سے نقل کیا گیا ،اور وہ محدثین براہ راست صحیح بخاری کی کتابت والے راویوں سے ناقل ہیں ،اسی طرح ابو علی الصدفی کے جس  نسخے کا ذکر شیعہ محقق نے کیا ہے ،وہ بظاہر تو چھٹی صدی ہجری کا ہے ،لیکن اس  پر جو عبارت لکھی ہے ،اس سے اس مخطوطے کی استنادی حیثیت خوب واضح ہوتی ہے ، اس مخطوطہ پر درجہ ذیل عبارت لکھی ہے:

"کتبہ حسین بن محمد الصدفی من نسخۃ بخط محمد بن علی بن محمود  مقروءۃ  علی ابی ذر رحمہ اللہ وعلیھا خطہ "11

ترجمہ :یہ نسخہ حسین بن محمد صدفی نے محمد بن علی بن محمود کے لکھے گئے نسخے سے نقل کیا ،جو ابو ذر پر پڑھا گیا تھا ،اور ا س نسخے پر ابو ذر کی کتابت بھی ہے ۔

یہ ابو ذر الھروی وہی محدث ہیں ،جنہوں نے صحیح بخاری کے تین معروف رواۃ ،المستملی ، الحموی  اور الکھشمہینی  سے براہ راست  صحیح بخاری  کو نقل کیا ہے ۔

اسی طرح جس نسخے کو شیعہ محقق  امام بخاری کے 115 سال والا نسخہ کہہ کر بظاہر عدم ِ قدامت سے اس کی استنادی حیثیت کو مشکوک بنا رہے ہیں ،یہ  نسخہ  امام مروزی نے براہ راست صحیح بخاری کے کاتب و راوی امام فربری سے نقل کیا ہے ۔

الکافی پر بنیادی اعتراض اس کے مخطوطات کی قدامت کا نہیں ،بلکہ موجود نسخوں کی استنادی حیثیت ،موجود نسخوں کا ماخذ نسخہ اور ان  ماخذ نسخوں  کی مصنف یا مصنف کے براہ راست تلامذہ تک سند متصل   جیسے امور کا فقدان ہے ۔

 شاید  مکمل و معتمد نسخہ جات کے فقدان کی وجہ ہے کہ الکافی کی موجودہ شروحات سب نویں صدی ہجری  (دور صفوی )اور اس کے بعد کے ادورا  کی ہیں ،یعنی ان ادوار کی ہیں ،جب الکافی کے مکمل نسخے منظر عام پر آنا شروع ہوئے  ،الکافی کی کوئی ایسی شرح اب تک سامنے نہیں آئی ہے ،جو موجود ہو اور وہ ساتویں صدی ہجری سے پہلے  لکھی گئی  ہو۔چنانچہ   الکافی کے معروف محقق شیخ عبد المحسن عبد الغفار نے اپنی تفصیلی کتاب "الکلینی و الکافی  " میں الکافی کے ستر کے قریب شروح و حواشی کا ذکر کیا ہے ،ان میں سب سے قدیم ترین شرح (جس کا بھی وجود نہیں ،صرف فہارس کی کتب میں ہے )ساتویں صدی ہجری کے عالم نصیر الدین طوسی کی شرح ہے۔12 باقی سب شروحات و تعلیقات ساتویں صدی کے بعد کے ادوار کی ہیں ۔یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ الکافی کا قدیم ترین  نامکمل نسخہ ساتویں صدی ہجری کا ہے اور اس کی اولین شرح بھی اسی زمانے کی ہے ۔


حواشی

    1. الاصول الاربعۃ فی علم الرجال ،علی خامنائی ،دار الثقلین ،بیروت ،ص50

    2. المدخل الی موسعۃ الحدیث عند الامامیہ ،حیدر حب اللہ ،ص455

    3. ایضا :ص461

    4. ایضا :ص439

    5. الکافی للکلینی ،تحقیق علی اکبر غفاری ،دار الکتب الاسلامیہ طہران ،ج1،ص44

    6. الکافی للکلینی ،تحقیق قسم احیاء التراث ،قم ،ج1،ص120

    7. دیکھیں : مقدمہ ،صحیح بخاری ،دار طوق النجاۃ ، بیروت

    8. المدخل الی موسوعۃ الحدیث ،حیدر حب اللہ ،ص455

    9. دیکھیے :المدخلی الی موسوعۃ الحدیث ،حیدر حب اللہ ،ص 453 تا 460

    10. المدخل الی موسوعۃ الحدیث ،حیدر حب اللہ ،ص454

    11. روایات و نسخ الجامع الصحیح ،محمد بن عبد الکریم بن عبید،دار امام الدعوۃ ،ریاض ،ص43

    12. الکلینی و الکافی ،عبد المحسن عبد الغفار ،موسسۃ النشر الاسلامی ،قم ،ص443

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث