علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۹)
اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا ایک تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

(اہل تشیع کی اہم کتبِ رجال کا رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے فرد ا فردا تجزیہ جاری ہے، پچھلی قسط میں چند کتب کا ذکر آگیا تھا، اس قسط میں یہی سلسلہ آگے بڑھایاگیا ہے۔)

8۔ شعب المقال فی درجات الرجال

یہ کتاب معروف ایرانی عالم و محقق مہدی نراقی کے بیٹے نجم الدین ابو القاسم نراقی کی ہے، اس کتاب میں مصنف نے رجال کو تین درجات ا قسام میں تقسیم کر کے بیان کیا ہے:

پہلی قسم ان رواۃ کی ہے، جن کی ثقاہت پر کتب رجال کا مکمل اتفاق ہے، اس قسم میں مصنف نے 898 رواۃ کا ذکر کیا ہے۔

دوسری قسم ان رواۃ کی ہے، جن کی ثقاہت کے بارے میں کتب رجال میں متضاد اقوال منقول ہیں، اس قسم میں 193 رواۃ کا ذکر ہے۔

تیسری قسم ان رواۃ کی ہے، جن کی کتب رجال میں حدیث میں ثقاہت کی بجائے صرف مدح منقول ہے، جیسے انہیں شیخ، الامام یا الفقیہ کے لقب سے ذکر کیا گیا ہو، اس قسم میں 479 رواۃ کا ذکر ہے۔ یوں کل ملا کے تقریبا 1570 رواۃ کا ذکر ہے، جو ظاہر ہے کہ کل شیعہ رواۃ کے اعتبار سے نہایت قلیل تعداد ہے، یہ کتاب ساڑھے تین سو صفحات کی متوسط ضخامت والی ایک جلد میں چھپی ہے۔

9۔ اتقان المقال فی احوال الرجال

یہ کتاب چودہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم و مجتہد محمد طہ نجف کی ہے، یہ کتاب بھی نراقی کی شعب المقال کی طرح یک متوسط جلد میں چھپی ہے، اس کتاب میں مصنف نے رواۃ کو ثقات، حسان اور ضعفاء تین اقسام میں بیان کیا ہے، رواۃ کی ترقیم نہیں کی گئی ہے، لیکن ایک جلد میں پندرہ سو دو ہزار سے زائد رواۃ نہیں سما سکتے، یوں یہ کتاب بھی استیعاب ِ رواۃ کے اعتبار سے پچھلی کتاب کی طرح بالکل غیر مفید کتاب ہے۔

10۔ تنقیح المقال فی علم الرجال

یہ کتاب معروف عراقی مجتہد و محقق شیخ عبد اللہ مامقانی (المتوفی 1933ھ)کی ہے، شیعہ علم رجال کی تاریخ میں اولین مفصل کتاب ہے، مقدمات و خاتمہ و فہارس سمیت یہ کتاب چالیس جلدوں میں چھپی ہے، اس کتاب میں مصنف نے اپنے زمانہ تک کا سارا کا سارا علم رجال سمونے کی کوشش کی ہے، کتاب پر ایک تحقیقی نظر ڈالنے والے محمد رضا مامقانی نے اپنی کتاب "مسرد تنقیح المقال" میں کتاب کے مصادر و ماخذ میں تیس کے قریب شیعہ کتب رجال کا ذکر کیا ہے ، ان کے علاوہ اہم سنی کتب رجال اور دیگر شیعہ کتب اخبار و روایات کو بھی کتاب کے مصادر میں شامل کیا ہے۔ یوں یہ کتاب شیعہ علم رجا ل کے تقریبا سب موجود مصادر کا مجموعہ ہے، اس کتاب میں مصنف راوی کا نام ذکر کرتے ہیں، اس کے بعد جن جن مصادر و ماخذ میں اس کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، مصنف اس کتاب کے رمز کے ساتھ اسے ذکر کرتے ہیں، مصنف نے کتاب کی فراغت کے بعد "نتائج التنقیح " کے نام سے اپنی کتاب میں مذکور رجال کی فہرست دی ہے اور اس کے ساتھ جن جن رجال پر ثقاہت یا ضعف کا حکم لگایا ہے، اس کا بھی ذکر کیا ہے، شیخ رضا مامقانی کے نزدیک نتائج التنقیح میں رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے تعداد یوں بنتی ہے:

ثقات: 1328

حسان: 1665

موثق: 46

یوں کل ملا کے 3039 رواۃ کی توثیق کی گئی ہے، جبکہ 10326 رواۃ ایسے ہیں، جن کے بارے میں ضعف، مجہول یا مہمل کا لفظ ذکر کیا گیا ہے، یوں نتائج التنقیح کے مطابق کل رواۃ 13365 بن جاتے ہیں۔ جن کے بارے میں مصنف نے کوئی نہ کوئی جرح یا تعدیل کا تبصرہ کیا ہے۔

یہ بلا شبہ ایک ضخیم تعداد ہے، یہ تعداد کل شیعہ رجال (30000) کا 45 فیصد بنتا ہے، جو پچھلی کتب کی بنسبت کافی زیادہ تعداد ہے، لیکن یہاں دو باتیں قابلِ ذکر ہیں:

1۔اس کتاب میں مصنف نے اپنے زمانے تک موجود سارا کا سارا شیعہ علم رجال سمویا ہے، تو نتیجہ میں ثقہ رواۃ صرف تین ہزار جبکہ ضعیف، مھمل و مجہول رواۃ دس ہزار بنے، ، یوں گویا شیعہ کے کل رجالی تراث میں تقریبا 25 فیصد رواۃ ثقہ جبکہ 75 فیصد رواۃ ضعیف و مجہول ہیں۔ لھذا یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ علامہ مامقانی تک رجال کا جتنا شیعہ رجال کا جتنا تراث تیار ہوا تھا، اس میں 75 فیصد رواۃ خود شیعہ محققین کے نزدیک ضعیف، مجہول اور مھمل ہیں، جبکہ محض 25 فیصد رواۃ ایسے ہیں، جن کے بارے میں توثیق و تعدیل کا کئی نہ کوئی قول مل جاتا ہے۔

2۔اس کتاب میں مصنف نے دس ہزار سے زائد ر واۃ کے بارے میں مجہول یا مھمل کی جو اصطلاح استعمال کی ہے، شیخ حیدر حب اللہ اس کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

احدی اہم الملاحظات علی الکتاب ھی ان المامقانی استعمل مصطلح المجہول اعم مماھو مصطلح علیہ عند الرجالیین لیعم المجہول وھو من صرح الرجالیون بجہالتہ و المھمل وھو من ہل یذکر ہ الرجالیون لا بمدح ولا قدح“1

اس کتاب کے بارے میں ایک اہم بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ علامہ مامقانی نے مجہول کی اصطلاح علمائے رجال کی اصطلاح مجہول سے عام معنی میں استعمال ہے، علامہ مامقانی کے اصطلاح مجہول میں اصطلاحی مجہول بھی شامل ہے یعنی وہ راوی جس کی جہالت کی صراحت علمائے رجال نے کی ہو اور مھمل بھی شامل ہے، یعنی وہ راوی جس کا ذکر کتب رجال میں سرے سے ہی نہ ہو، نہ مدحا ً‌ اور نہ قدحاً‌۔

یوں گویا دس ہزار سے زائد جو رواۃ علامہ مامقانی نے مجہول و ضعیف قرار دئیے، ان میں ایسے رواۃ بھی شامل ہیں جن کا ذکر ہی علمائے رجال کے ہاں مفقود ہے۔ مجہول کی یہ اصطلاح علامہ خوئی کی معجم رجا ل الحدیث میں بھی بکثرت ملتی ہے، جس پر تبصرہ آگے آئے گا، دراصل اہل تشیع کے علم رجال کا اولین جو سرمایہ تیار ہوا، وہ کل ملا کے سات آٹھ ہزار رواۃ سے زیادہ نہیں ہے، بشرطیکہ اس میں مکررات نہ مانیں، جیسا کہ اس سلسلے کی اولین اقساط میں یہ بات تفصیل کے ساتھ آچکی ہے، جہاں فریقین کے اولین سرمایہ رجال کا ایک تقابل پیش کیا گیا، بعد کی صدیوں کی کتب چونکہ انہی اولین سرمایے کی جمع و ترتیب پر مشتمل ہے، اس لئے ایسے رواۃ، جن پر مدحا یا قدحا بحث کی گئی ہیں، بہت کم ہیں، اس لئے زمانہ حال کے جن مصنفین (جیسے علامہ مامقانی و علامہ خوئی غیرہ) نے اس اولین سرمایے سے ہٹ کر احادیث کی اسناد میں موجود رواۃ کو بھی جمع کرنے کا بیڑا اٹھایا، تو انہیں یہ مشکل پیش آئی کہ بہت سے رواۃ پر تو علمائے رجال نے کسی قسم کا کلا م ہی نہیں کیا، تو انہیں مجہول و مہمل کی درجہ بندی میں شامل کرنا پڑا۔

یوں اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو علامہ مامقانی نے جن ہزارہا رواۃکو مجہول کی درجہ بندی میں شامل کیا، وہ اصلا جرح و قدح کی کوئی قسم نہیں ہے، بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ ان رواۃ کے بارے میں علمائے رجال کا اثباتاً‌ یا نفیاً‌ کسی قسم کا کوئی تبصرہ ہی موجود نہیں ہے۔ اس لئے علامہ مامقانی کی تنقیح المقال چالیس ضخیم جلدوں پر مشتمل ہونے کے باوجود رجال کی تعدیل و تجریح کے اعتبار سے پچھلی کتب سے کسی طور بھی مختلف نہیں ہے، قابل تبصرہ رواۃ اس میں بھی زیادہ سے زیادہ وہی چار سے پانچ ہزار کے آس پاس ہیں، جن کا ذکر متقدمین کی کتب میں بھی موجود ہے، باقی آٹھ سے نو ہزار کے قریب رواۃ کا ذکر و عدم ذکر برابر ہے، کیونکہ وہ مھمل و مجہول ہیں، یعنی کتب رجال ان کی مدح و قدح سے خاموش ہیں۔ مجہول و مھمل کی یہ بحث نہایت دلچسپ ہے، اگر اس کا تقابل اہل سنت کی الجہالۃ فی الراوی والی اصطلاح کے ساتھ کیا جائے، آنے والی اقساط میں ان شا اللہ اس بحث کو الگ عنوان کے ساتھ بیان کیا جائے گا، جس سے آخری زمانے میں لکھی گئی اہل تشیع کی ضخیم کتب رجال کی ضخامت کے باوجود رواۃ کی تقویم میں غیر مفید ہونا مزید واضح ہوسکے گا۔

11۔ قاموس الرجال

یہ کتاب معروف شیعہ محقق و مجتہد محمد تقی تستری کی ہے، بارہ جلدوں پر مشتمل ہے، یہ کتاب دراصل علامہ مامقانی کی کتاب تنقیح المقال پر ایک تنقیدی و توضیحی حاشیہ ہے، اور تنقیح المقال کی تہذیب اور اس کا اختصار ہے، مصنف نے مقدمہ میں تنقیح المقال کے ان نقائص کو تفصیل سے بیان کیا ہے، جس کی وجہ سے قاموس الرجال کی صورت میں اس کی تہذیب کی ضرورت پیش آئی، چونکہ یہ مستقل کتاب نہیں، بلکہ تنقیح المقال کا ہی ایک مہذب ایڈیشن ہے، اس لئے اس پر مستقل تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

12۔ معجم رجال الحدیث

شیعہ رجالی تراث کی جو پہلی اینٹ شیخ کشی و نجاشی و امام طوسی نے رکھی تھی، اس کی آخری اینٹ معروف معاصر عراقی شیعہ محقق و مجتہد ابو القاسم خوئی نے معجم رجال الحدیث کی صورت میں رکھی، شیعہ علم رجال کی ہزار سالہ تاریخ میں معجم رجال الحدیث سے زیادہ معیاری اور تمام رجالی تراث کو دقت سے کھنگالنے کا کام نہیں ہوا، شیخ خوئی شیعہ حلقوں میں محتاج تعارف نہیں، شیعہ مکتب میں مرجعیت کے مقام پر فائز تھے، تفسیر و حدیث میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے، تفسیر میں البیان فی تفسیر القرآن لکھی، تو حدیث میں معجم رجال الحدیث لکھی، جو چوبیس جلدوں پر مشتمل ہے، معجم رجال الحدیث کا ایک مختصر لیکن شیعہ علم رجال کے حوالے سے نہایت وقیع مقدمہ لکھا، جس میں کتب اربعہ کی صحت و قطعیت کے حوالے سے اخباری مکتب کا علمی و تحقیقی رد، علمائے رجال کی توثیقات کی حیثیت اور کتب رجال کے تسامحات وغیرہ جیسے اہم مباحث بیان کئے، کتاب کا منہج و اسلوب شیخ خوئی نے "مزایا الکتاب " کے عنوان سے بارہ نکات میں بیان کیا ہے، 2 ان بارہ نکات میں دو باتیں بڑی اہم ہیں، شیخ خوئی کے الفاظ میں اسے نقل کرتے ہیں:

  • شیخ خوئی لکھتے ہیں:
"ثم انا ذکرنا فی الکتاب کل من لہ روایۃ فی الکتب الاربعۃ سواء اکان مذکور فی کتب الرجال ام لم یکن، وذکرنا موارد الاختلاف بین الکتب الاربعۃ فی السند، و کثیرا ما نبین مو ھو الصحیح منھا وما فیہ تحریف او سقط"

یعنی ہم نے کتاب ہر اس راوی کا ذکر کیا ہے، جس کی کتب اربعہ میں کوئی روایت ہے، خواہ وہ کتب رجال میں مذکور ہو یا نہ ہو، اور اہم نے کتب اربعہ کے اسناد میں اختلافی مقامات کی نشاندہی بھی کی ہے، اور زیادہ تر ان اختلافات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان میں سے کونسا طریق صحیح ہے، اور کس میں تحریف ہوئی ہے یا کوئی راوی سقط ہوا ہے۔

یوں یہ شیعہ علم رجال کی تاریخ میں یہ پہلی کتاب ہے، جس میں کتب اربعہ کے تمام رواۃ کا اہتمام کے ساتھ استقصاء کیا گیا ہے، اس سلسلہ مضامین میں اب تک جتنی شیعی کتب رجال کا ذکر آچکا ہے، ان میں زیادہ تر کتب سابقہ تراثِ رجال کی جمع و ترتیب اور ان کی شرح و توضیح پر مشتمل ہیں، کتب اربعہ کی مجموعی یا ان میں سے کسی ایک دو کے رواۃ کے احوال پر مشتمل کتب نہ ہونے کے برابر ہیں، شیخ خوئی پہلی شخصیت ہیں، جنہوں نے کتب اربعہ کے تمام تر رواۃ کو معجم میں جمع کرنے کی کوشش کی ہے، چنانچہ شیخ حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:

التزم السید الخوئی فی الموسوعہ ان یذکر کل الرواۃ الواردۃ اسمائھم فی الکتب الاربعۃ او فی المصادر الرجالیہ القدیمۃ، فاذا بحثنا عن اسم ما ولم نجدہ مذکورا فی کتاب السید الخوئی، فھذا معناہ ان ھذا الاسم لم یرد فی ای من الکتب الاربعۃ و لم یتعرض لہ الرجالیون القدمی"3

یعنی سید خوئی نے اس موسوعہ میں ان تمام رواۃ کو ذکر کرنے کا التزام کیا ہے، جن کے نام کتب اربعہ یا قدیم رجالی مصادر میں آئے ہیں، لھذا جب ہم کسی راوی کا نام تلاش کرنا چاہیں اور اسے سید خوئی کی کتاب میں نہ پائیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نام کتب اربعہ میں بھی نہیں آیا ہے اور نہ ہی اولین علمائے رجال اس کا ذکر کرچکے ہیں۔

اب اگر اس جہت سے اہل سنت کے ساتھ تقابل کیا جائے کہ اہل سنت کے صحاح ستہ کے تمام رواۃ پر مشتمل پہلی کتاب کب لکھی گئی تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اہل سنت کے صحاح ستہ کے تما م رواۃ کے احوال پر لکھی گئی پہلی اہم اور اساسی کتاب امام عبد الغنی مقدسی ( المتوفی 600ھ) کی کتاب الکمال فی اسماء الرجال ہے، جس سے آگے تہذیب الکمال، تہذیب التہذیب، تقریب التہذیب اور الکاشف فی من لہ روایۃ فی الکتب الستۃ جیسی کتب تیار ہوئیں، شیخ عبد الغنی مقدسی اور صحاح ستہ میں تین صدیوں کا فاصلہ ہے، جبکہ ابو القاسم خوئی اور کتب اربعہ میں پورے ہزار سال کا فاصلہ ہے، اس کے علاوہ صحاح ستہ کے رجال پر(انفرادا و اجتماعا ) مجموعی طور پر سو کے قریب کتب لکھی گئیں ہیں، جن میں سے چالیس کے قریب مطبوعہ کتب ہیں (ملاحظہ ہو رواۃ الحدیث، النشاۃ، المصطلحات،المصنفات ص678 تا 696) جبکہ کتب اربعہ کے تمام رجال پر معجم رجال الحدیث کے علاوہ کوئی قابل ذکر کتاب نہیں، البتہ کتب اربعہ کے رجال پر انفرادی کتب شاید لکھی گئی ہوں، لیکن ان کی تعداد کتنی ہیں اور کتنی مطبوعہ ہیں؟ شیعہ علم رجال کی تاریخ پر لکھی کتب بالخصوص شیخ حیدر حب اللہ کی کتاب دروس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ میں اس حوالے سے قابل ِ ذکر مواد موجود نہیں ہے، حالانکہ شیخ حیدر حب اللہ نے نہایت استقصاء کے ساتھ علم رجال کی تاریخ لکھی ہے، اس سے شیعہ کے کتب اربعہ اور اہل سنت کے صحاح ستہ کے رجال پر مواد کا آسانی سے تقابل ہوجاتا ہے۔

  • کتاب کی ایک اور خصوصیت بیان کرتے ہوئے شیخ خوئی لکھتے ہیں:
"السابعۃ التدقیق فی احوال الرواۃ والبحث عن وثاقتھم او حسنھم علی وجہ علمی"4

یعنی اس کتاب کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رواۃ کے احوال ثقاہت یا حسن ہونے کے اعتبار سے بڑی باریک بینی سے بیان کئے گئے ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ خوئی نے رواۃ کی جرح و تعدیل پر خصوصی توجہ دی ہے، اب سوال یہ ہے کہ معجم رجال الحدیث میں رواۃ کی تقویم کس طرح کی گئی ہے، تو اس پہلو سے کتاب کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کتاب میں بھی علامہ مقانی کی تنقیح المقال کی طرح مجہول و مہمل رواۃ نہایت بکثرت ملتے ہیں، اس بات کا اثبا ت معجم رجال الحدیث کی تلخیصات کا جائزہ لینے سے ہوتا ہے، چنانچہ ذیل میں دو تلخیصات کا ذکر کیا جاتا ہے:

1۔سید جواد حسینی نے معجم رجال الحدیث سے کتب اربعہ کے تمام رواۃ الگ کئے ہیں اور ان رواۃ پر سید خوئی نے جو حکم لگایا ہے، اس کا بھی ذکر کیا ہے، یہ کتاب "المعین علی معجم رجال الحدیث " کے نام سے چھپی ہے، اس کتاب میں کتب اربعہ کے رواۃ کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں:

"تم بالمعین و لاول مرۃ معرفۃ عدد رواۃ الکتب الاربعۃ فبلغ ثلاثۃ آلاف وسبعمائۃ راوہ تقریبا"5

یعنی اس کتاب معین کی مدد سے کتب اربعہ کے رواۃ نکی تعداد معلوم ہوئی، جو 3700 کے قریب رواۃ بنتے ہیں۔

مصنف نے المعین میں ان تمام رواۃ کے تراجم معجم رجال الحدیث سے نقل کئے اور آخر میں ان رواۃ کی ایک فہرست بھی دی ہے اور اس کے سامنے سید خوئی کا لگایا گیا حکم بھی لکھ دیا ہے کہ سید خوئی نے اس راوی، ثقہ، مجہول، ضعیف، کذاب کیا کیا لکھا ہے، مقالہ نگا ر نے اس پوری فہرست میں سے مجہول و مہمل رواۃ الگ کئے تو کل 2800 کے قریب رواۃ ایسے نکلے، جن کے بارے میں سید خوئی نے مجہول یا مہمل کا لفظ لگایا ہے، گویا 3700 رواۃ کا 75 فیصد حصہ (2800 ) رواۃ مجاہیل بنتے ہیں، جب کتب اربعہ کے رواۃ میں سے مجاہیل دو تہائی سے زیادہ ہیں، تو باقی رواۃ میں کتنے مجاہیل ہوں گے، مخفی نہیں۔

2۔ محقق محمد الجواہری نے نے معجم رجال الحدیث کی ایک بہترین تلخیص 'المفید من معجم رجال الحدیث " کے نام سے ایک ضخیم جلد میں تیار کی ہے، اس کتاب میں مصنف نے معجم رجال الحدیث کے تمام رواۃ کو فہرست کے انداز میں ذکر کرتے ہوئے ہر راوی کے بارے میں شیخ خوئی کا تبصرہ بھی ساتھ نقل کیا ہے، معروف ویب سائٹ موقع فیصل نور کے ایک تحقیقی آرٹیکل میں المفید من معجم رجال الحدیث میں مجاہیل، ثقہ، ضعیف رواۃ کی تعداد نقل کی گئی ہے، تو اس آرٹیکل کے مطابق معجم رجال الحدیث میں رجال کی تقویم کے اعتبار سے تعداد یوں بنتی ہے:

  • مجاہیل و مہمل رواۃ: 7982
  • ثقہ رواۃ6: 2886

یاد رہے معجم رجال الحدیث میں کل رواۃ ساڑے پندرہ ہزار کے لگ بھگ ہے، جس میں آٹھ ہزار کے قریب رواۃ یعنی آدھے کے قریب رواۃ مجاہیل ہیں، یوں معجم رجال الحدیث اپنی ضخامت اور بعض رجالی مباحث کی وقعت کے باوجود رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے متقدمین کے رجالی تراث سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔


حواشی

  1. دروس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ، ص 388
  2. معجم رجال الحدیث، شیخ خوئی، ج1،ص 15
  3. دروس فی تاریخ علم الرجال، حیدر حب اللہ، ص 404
  4. معجم رجال الحدیث، خوئی، ج1،ص 13
  5. المعین علی معجم رجال الحدیث ص 5
  6. https://www.fnoor.com/main/articles.aspx?article_no=15744#.YiYrb-hBw2w

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(اپریل ۲۰۲۲ء)

اپریل ۲۰۲۲ء

جلد ۳۳ ۔ شمارہ ۴

مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین سے متعلق ہمارا موقف
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۷)
ڈاکٹر محی الدین غازی

مطالعہ سنن ابی داود (۴)
ادارہ

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۹)
مولانا سمیع اللہ سعدی

کم عمری کا نکاح: اسلام آباد ہائیکورٹ کا متنازعہ فیصلہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قادیانیوں اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں میں فرق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قادیانیوں کے بطورِ اقلیت حقوق اور توہینِ قرآن و توہینِ رسالت کے الزامات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مسلم وزرائے خارجہ سے توقعات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

صغر سنی کی شادی پر عدالتی فیصلے کا جائزہ
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

ماں باپ کی زیادہ عمر اور ڈاؤن سنڈروم کا تعلق
خطیب احمد

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۴)
ڈاکٹر شیر علی ترین

الشریعہ اکادمی کا سالانہ نقشبندی اجتماع
مولانا محمد اسامہ قاسم

ولی کامل نمونہ اسلاف حضرت مولانا محمد قاسم قاسمی ؒکی رحلت
مولانا ڈاکٹر غازی عبد الرحمن قاسمی

تلاش کریں

Flag Counter