علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۲)
اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

2۔کتب رجال انواع اقسام

ہر دو مکاتب ِ فکر کے علم رجال کی ابتدائی تاریخ کے تقابل کے بعد دوسری بحث یہ دیکھنے کی ہے کہ دونوں کے ہاں موجود رجالی تراث کا انواع اقسام کے اعتبار سے کیا تقابل بنتا ہے؟اہل علم جانتے ہیں کہ علم رجال کی کتب متنوع اقسام و انواع پر مشتمل ہیں، جن میں مختلف زاویوں سے رواۃِ حدیث پر بحث کی گئی ہے، ذیل میں ہم دونوں گروہوں کے علم رجال کی کتب کا اس اعتبار سے ایک جائزہ لیتے ہیں :

سنی رجالی تراث : انواع و اقسام

اہل سنت کے پاس جو رجالی سرمایہ موجود ہے، وہ بہت سی انواع پر مشتمل ہے، ذیل میں ان انواع اور اس کی نمائندہ کتب کا مختصرا ذکر کیا جاتا ہے:

1. کچھ ایسی کتب ہیں، جو خاص طور پر صحابہ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:

  • معرفۃ الصحابہ، ابو نعیم اصبھانی (المتوفی 430ھ)
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ابن عبد البر (المتوفی 463ھ)
  • اسد الغابۃ فی تمییز الصحابہ، ابن الاثیر (المتوفی 630ھ)
  • الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، ابن حجر عسقلانی (المتوفی 852ھ)

2. رجالی کتب میں سے کچھ ایسی کتب ہیں، جو صرف ثقہ رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:

  • تاریخ اسماء الثقات، ابو حفص عمر بن احمد ابن شاہین (المتوفی 385ھ)
  • معرفۃ الثقات، احمد بن عبد اللہ العجلی (المتوفی 261ھ)
  • الثقات ابو حاتم محمد بن حبا ن البستی (المتوفی 354ھ)
  • الثقات ممن لم یقع فی الکتب الستۃ، زین الدین قاسم بن قطلو بغا (المتوفی 879ھ)

3. علم رجال کی بعض کتب صرف ضعاف رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:

  • الضعفاء الصغیر، امام محمد بن اسماعیل بخاری (المتوفی 256ھ)
  • الضعفاء و المتروکین، ابو عبد الرحمان احمد بن شعیب النسائی (المتوفی 303ھ)
  • المجروحین من الرواۃ، ابن حبان البستی (المتوفی 354ھ)
  • الضعفاء، ابو جعفر محمد بن عمرو العقیلی (المتوفی 322ھ)
  • الکامل فی ضعفاء الرجال، ابن عدی (المتوفی 365ھ)

4. رجالی تراث کی ایک قسم ایسی کتب ہیں، جن میں ان رواۃ کا ذکر ہے، جنہیں متکلم فیہ کہا جاتا ہے، یعنی جن کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے، کوئی جرح کی ہو، خواہ وہ جرح موثر ہو یا نہ ہو، جیسے:

  • میزان الاعتدال فی نقد الرجال، علامہ ذہبی (المتوفی 748ھ)
  • لسان المیزان، حافظ ابن حجر (825ھ)

5. بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ضعفاء و ثقات کی تمییز کئے بغیر سب کا ذکر ہے، جیسے :

  • التاریخ الکبیر، امام بخاری (المتوفی 256ھ)
  • الجرح و التعدیل، ابن ابی حاتم الرازی(المتوفی 327ھ)
  • احوال الرجال، ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی (المتوفی 259ھ)

6. بعض کتب ایسی ہیں، جو صحاح ستہ یا دیگر کتب ِ احادیث کے رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:

  • الکمال فی اسماء الرجال، عبد الغنی المقدسی (املتوفی 600ھ)
  • تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، ابو لحجاج یوسف بن عبد الرحمان المزی (المتوفی 742ھ)
  • تھذیب التھذیب اور تقریب التہذیب، حافظ ابن حجر (المتوفی 852ھ)
  • تعجیل المنفعۃ بزوائد رجال الائمۃ الاربعۃ، حافظ ابن حجر (ایضا)
  • الجمع بین رجال الصحیحین، ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی (المتوفی 507ھ)
  • التعدیل و الترجیح لمن روی عنہ البخاری فی الصحیح، ابو الولید سلیمان بن خلف الباجی (المتوفی 474ھ)
  • رجال صحیح الامام مسلم، ابو بکر احمد بن علی الاصبھانی (المتوفی 428ھ)
  • الکاشف فی معرفۃ من لہ روایۃ فی الکتب الستۃ، امام ذہبی (المتوفی 748ھ)
  • تذھیب التھذیب، امام ذہبی (ایضا)
  • اکمال تہذیب الکمال فی اسما ء الرجال، علاء الدین مغلطائ(المتوفی 762ھ)

7. بعض ایسی کتب ہیں، جن میں صرف مدلسین رواۃ کا ذکر ہے، جیسے:

  • التبیین لاسماء المدلسین، برھان الدین العجمی (المتوفی 841ھ)
  • تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس، حافظ ابن حجر (852ھ)
  • طبقات المدلسین، امام سیوطی (المتوفی 911ھ)

8. بعض کتب ایسی ہیں، جن میں حفاظ محدثین کا تذکرہ ہے، یعنی وہ محدثین، جنہیں کسی نہ کسی اعتبار سے علمِ حدیث میں امامت کا درجہ حاصل ہے، جیسے:

  • تذکرۃ الحفاظ، امام ذہبی (748ھ)
  • طبقات الحفاظ، امام سیوطی (911ھ)

9. کچھ کتب ایسی ہیں، جو مختلطین رواۃ کے ذکر پر مشتمل ہیں، یعنی ایسے رواۃ جو حافظے کے اعتبار سے معتمد تھے، لیکن پھر کسی بیماری، حادثے یا ضعف عمر کی وجہ سے ان کا حافظہ بگڑ گیا، ان کی تعیین اس لئے ضروری ہے، تاکہ ان کے اوائل عمر و اواخر عمر یا قبل الاختلاط و بعد الاختلاط احادیث کی تمییز رہے، جیسے:

  • الاغتباط بمن رمی من الرواۃ بالاختلاط، برھان الدین حلبی (841ھ)
  • الکواکب النیرات فی معرفۃ من اختلط من الرواۃ الثقات، محمد بن احمد ابن الکیال (المتوفی 929ھ)
  • کتاب المختلطین، حافظ صلاح الدین علائی (المتوفی 761ھ)

10. بعض کتب میں رواۃ کے طبقات بیان ہوئے ہیں، کہ کونسا راوی کس طبقے اور کس قرن سے تعلق رکھتا ہے ؟جیسے:

  • طبقات ابن سعد، محمد بن سعد (المتوفی 230ھ)
  • طبقات الرواۃ، خلیفہ بن خیاط (المتوفی (240ھ)
  • طبقات، امام مسلم بن حجاج (المتوفی 261ھ)
  • تاریخ الاسلام و طبقات المشاہیر و الاعلام، امام ذہبی (المتوفی 748ھ)

11. کچھ کتب میں ان رواۃ کی تفصیل دی گئی ہے، جو کنی و القابات سے معروف ہیں، یہ انتہائی اہم فن ہے، اس میں دس سے زیادہ قسم کے رواۃ کا بیان ہوتا ہے، جن کی کنیت و نام دونوں معروف ہوں، کوئی ایک معروف ہو، ایک سے زیادہ کنیتیں ہوں، پھر ان میں اختلاف ہے یا نہیں، الغرض متعدد قسم کے رواۃ کا ذکر ہوتا ہے جیسے:

  • الکنی و الاسماء، ابی بشر الدولابی (المتوفی 310ھ)
  • الکنی و الاسماء، امام مسلم بن حجاج (261ھ)
  • تاریخ اسماء المحدثین و کناھم، ابو عبد اللہ محمد بن احمد المقدمی (المتوفی 310ھ)
  • الاستغناء فی معرفۃ الکنی، ابن عبد البر(المتوفی 463ھ)
  • کشف النقاب عن الاسماء و الالقاب، ابن جوزی(المتوفی 597ھ)
  • نزھۃ الالباب فی الالقاب، ابن حجر (852ھ)

12. بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ان رواۃ کا ذکر ہے، جن کے نام، والد کے نام یا ان کی کنیت یا نسب خطا یا لفظا ایک ہو، جنہیں المتفق و الممفترق کہا جاتا ہے، جیسے:

  • المتفق و المفترق، ابو بکر احمد بن علی خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
  • الموضح لاوہام الجمع و التفریق، خطیب بغدادی(ایضا)

13. کچھ کتب ایسی ہیں، جن میں ایسے رواۃ کا ذکر ہے، جن کے نام یا کنیت یا القابات خطا ایک جیسے ہوں، لیکن لفظا مختلف ہو، جیسے سلام تشدید کے ساتھ اور بغیر تشدید کے، اس نوع کی کتابیں، جیسے:

  • الموتلف و المختلف، ابو الحسن الدار قطنی (المتوفی 385ھ)
  • الاکمال فی رفع الارتیاب عن الموتلف و المختلف فی الاسماء و الکنی و الالقاب، ابو نصر ابن ماکولا (المتوفی 475رھ)
  • تقیید المہمل و تمییز المشکل، ابو علی حسین بن محمد الغسانی (المتوفی 498ھ)
  • الموتلف و المختلف فی الاسماء، ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی(المتوفی507ھ)

14. کچھ ایسی کتب ہیں، جو ایسے رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہوں، جو پچھلی دو اقسام سے مرکب ہوں1، انہیں متشابہ و مشتبہ کہا جاتا ہے، جیسے:

  • رفع الارتیاب فی المقلوب من الاسماء و الانساب، خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
  • • المشتبہ فی اسماء الرجال وانسابھم، امام ذہبی (748ھ)
  • تبصیر المنتبہ بتحریر المشتبہ، ابن حجر عسقلانی (852ھ)
  • تلخیص المتشابہ فی الرسم، خطیب بغدادی(463ھ)

15. بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ان رواۃ کا تذکرہ ہے، جو آپس میں بہن بھائی، بھائی بھائی بنتے ہیں، ایسے رواۃ کے الگ تذکرے کا مقصد یہ ہے تاکہ کسی بھی دو راویوں کے والد کے نام کو یکساں دیکھ کر انہیں بھائی نہ سمجھ لیا جائے، کیونکہ اس سے رواۃ کے طبقات و ازمنہ متاثر ہوتے ہیں، عین ممکن ہے، کچھ رواۃ میں صدیوں کا فرق ہو، لیکن دونوں کے والد کا نام یکساں ہو، اس قسم کی کتب، جیسے:

  • الاخوۃ، ابو داود سجستانی (المتوفی 275ھ)
  • کتاب الاخوۃ، علی ابن المدینی (المتوفی 234ھ )
  • کتاب الاخوۃ، ابو المطرف الاندلسی (المتوفی 402ھ)

16. کچھ ایسی کتب ہیں، جن میں ایسے رواۃ کا تذکرہ ہے، جن سے صرف ایک راوی نے روایت لی ہو، ان سے مجاہیل کا پتا چلتا ہے، اس فن کی اہم کتاب امام مسلم نے "المنفردات و الوحدان" کے نام سے لکھی ہے، جو چھپ چکی ہے۔

17. کچھ کتب ایسی ہیں، جن میں ان رواۃ کا تذکرہ ہے، جن کا ہم نام کوئی نہیں ہے، کیونکہ ان کے نام عجیب و مشکل تلفظ والے ہوتے ہیں، جیسے عجیان، اجمد ایسے رواۃ کو المفردات من الاسماء و الالقاب و الکنی کہتے ہیں، اس فن پر چوتھی صدی ہجری کے محدث ابو بکراحمد بن ہارون البردیجی نے "الاسماء المفردۃ" کے نام سے کتاب لکھی ہے۔

18. بعض کتب ایسے رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جن کےا یک سے زائد القابات، اسماء، کنی اور صفات ہوتے ہیں، تاکہ ایک راوی کو متعدد نہ سمجھا جائے، اس کو خطیب بغدادی نے اپنی کتاب "الموضح لاوہام الجمع و التفریق " میں بیان کیا ہے۔

19. بعض ایسی کتب ہیں، جن میں مبھم رواۃ کی تعیین کی گئی ہے، یعنی وہ رواۃ، جو مختلف اسناد میں رجل، امراۃ یا کسی وصفِ غیر معروف سے مذکور ہوں، اس فن کی کتب جیسے:

  • الاسماء المبھۃ فی الانباء المحکمۃ، خطیب بغدادی (463ھ)
  • غوامض الاسماء المبھمۃ، ابو القاسم خلف ابن بشکوال(المتوفی 578ھ)
  • المستفاد من مبھمات المتن و الاسناد، ولی الدین العراقی (المتوفی 826ھ)

20. بعض کتب رواۃ و رجال کے سنین و تواریخ وفات پر لکھی گئیں ہیں، جن کو وفیات کہتے ہیں، یہ انتہائی اہم ترین فن ہے، ان سے رواۃ کے طبقات اور ان کے لقاء و عدم لقاء کا پتا چلتا ہے، یوں اسناد میں انقطاعِ ظاہری یا مخفی کا علم ہوتا ہے، جیسے:

  • تاریخ موالد العلماء و وفیاتھم، ابو سلیمان محمد بن عبد اللہ ابن زبر الربعی (المتوفی379ھ)
  • السابق و اللاحق فی تباعد ما بین وفاۃ راویین عن شیخ واحد، خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
  • الذیل علی تاریخ موالد العلماء ووفیاتھم، ابو محمد عبد العزیز بن احمد الکتانی الدمشقی (المتوفی 466ھ)
  • وفیات الاعیان، ابو العباس احمد بن محمد ابن خلکان (المتوفی 681ھ)
  • فوات الوفیات، محمد بن شاکر الکتبی (المتوفی 764ھ)
  • الوافی بالوفیات، صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی (المتوفی 764ھ)
  • الوفیات، ابو رافع تقی الدین محمد بن رافع السلامی (المتوفی 774ھ)
  • در السحابۃ فی بیان مواضع وفیات السحابہ، حسن بن محمد الصغانی (المتوفی 650ھ)
  • الاعلام بوفیات الاعلام، امام ذہبی (المتوفی 748ھ)
  • التکملۃ لوفیات النقلۃ۔حافظ زکی الدین عبد العظیم المنذری(المتوفی 656ھ)

وفیات کی یہ سب کتب چھپی ہوئی ہیں، اس نوع کی اہمیت کی وجہ سے اس کی کتب زیادہ ذکر کیں، آگے (ان شا اللہ )جب شیعی علم رجال کی کتب ذکر ہوں گی، تو وفیات کے اعتبار سے خصوصیت کے ساتھ تقابل کیا جائے گا۔

21. بعض ایسی کتب ہیں، جن میں مخصوص صدی و قرن کے علماء و رواۃ کا ذکر ہوتا ہے، جیسے:

  • الدرر الکامنۃ فی اعیان المائۃ الثامنۃ، ابن حجر عسقلانی (المتوفی852ھ)
  • الضوء اللا مع فی اعیان القرن التاسع، شمس الدین السخاوی(المتوفی 902ھ)

22. کچھ ایسی کتب ہیں، جو مخصوص بلا د و امصار کے رواۃ و رجال کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:

  • تاریخ مدینۃ السلام (تاریخ بغداد ) خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
  • تاریخ مدینۃ دمشق (تاریخ ابن عساکر ) ابو القاسم ابن عساکر (المتوفی 571ھ)
  • تاریخ واسط، ابو الحسن اسلم بحشل الواسطی (المتوفی 292ھ)
  • طبقات العلماء و المحدثین من اہل الموصل اور تاریخ الموصل، ابو زکریا یزید بن محمد الازدی(المتوفی 334ھ)
  • طبقات المحدثین باصبھان والواردین علیھا، ابو شیخ عبد اللہ بن محمد الانصاری(المتوفی 369ھ)

23. کچھ ایسی کتب ہیں، جن میں مخضرمین کا ذکر ہے، یعنی وہ لوگ جنہوں نے زمانہ جاہلیت و زمانہ نبوت پایا، لیکن نبی ﷺ پر آپ کے زمانہ میں ایمان نہیں لائے، یوں وہ زمانہ نبوت میں ہونے کے باوجود تابعی کہلاتے ہیں، ان نوع کی مشہور کتاب برھان الدین سبط ابن العجمی (المتوفی 841ھ)کی "تذكرة الطالب المعلَّم لمن يقال : إنه مخضرم" ہے۔

24. کچھ کتب انساب و قبائل کے اعتبار سے رواۃ کےتذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:

  • الانساب، ابو سعید عبد الکریم السمعانی (المتوفی 562ھ)
  • اللباب فی تہذیب الانساب، ابن اثیر (المتوفی 630ھ)
  • لب اللباب فی تحریر الانساب، امام سیوطی (المتوفی 911ھ)

25. بعض کتب ایسی ہیں، جو مشہور محدثین کے شیوخ و اساتذہ اور ان محدثین کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جن سے اجازتِ حدیث حاصل ہے، جسے مشیخہ یا معجم الشیوخ کہا جاتا ہے، جیسے:

  • معجم الشیوخ، ابو سعید ابن الاعرابی (المتوفی 340ھ)
  • المعجم الاوسط و المعجم الصغیر، طبرانی (المتوفی 360ھ)
  • المعجم فی اسامی شیوخ ابی بکر احمد بن ابراہیم الاسماعیلی (المتوفی 370ھ

اس نوع کی کتب کثرت سے لکھی گئیں ہیں، اختصار کے پیشِ نظر صرف تین کتب کا ذکر کیا۔

  • سنی کتب رجال کے انواع ا قسام پر مشتمل کتب کی ایک مختصر سی فہرست سامنے آگئی، اس فہرست میں اختصار کرتے کرتےبھی 25 انواع ا قسام بن گئیں، اب بھی متعدد اقسام کا ذکر نہیں کیا گیا 2 اس فہرست میں جن نمائندہ کتب کا ذکر کیا گیا ہے، وہ سب ایسی کتب ہیں، جو مطبوع ہیں اور ہمارے پاس متداول ہیں، ان کتب کا ذکر چھوڑ دیا گیا، جن کا ذکر تاریخ و فہارس کی کتب میں تو ہیں، لیکن کسی بھی وجہ سے ہم تک نہیں پہنچ سکیں، اس کے بعد شیعی علم رجال کی کتب کے انواع و اقسام کا ذکر ہوگا اور ساتھ ہر دو مکاتب کے انواع و اقسام پر مشتمل کتب ِ رجال کا ایک تقابل و تجزیہ پیش کیا جائےگا۔


حواشی

  1. اس لئے تعریفات کی فنی  جامعیت یا مانعیت کا اشکال نہ کیا جائے یہاں  تعریفات مقصد نہیں، صرف اقسام کے تعارف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
  2.  جیسے، کتب عن ابیہ عن اجدہ ،معرفۃ الاکابر من الاصاغر، معرفۃ الابناء من الاباء، معرفۃ الاقران وغیرہ

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(ستمبر ۲۰۲۱ء)

Flag Counter