مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۲)

ادارہ

ڈاکٹر سید مطیع الرحمن / محمد عمار خان ناصر



مطیع سید: جس کی بیٹی نکاح سے ناراض ہو جائے، وہ مر دود ہے۔1 یہاں مر دود سے کیا مراد ہے؟

عمار ناصر: مطلب یہ کہ اس کو فسخ کر دیا جا ئے گا۔

مطیع سید: نکاح ہو گا ہی نہیں؟

عمار ناصر: یعنی اس کو رد کر دیا جا ئے گا، قائم نہیں رہنے دیا جائے گا۔

مطیع سید: اگر رخصتی بھی ہو گئی ہے تو کیا وہ اس کو طلاق دے گا؟

عمار ناصر: اس کا تعلق صورت حال کی نوعیت سے ہے۔ اس پر کوئی ایک ہی اصول یا کلیہ نہیں لاگو ہوگا۔ بعض صورتوں میں آپ کو اس کو منعقد مان کر فسخ کی طرف جانا پڑے گا۔ بعض صورتوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔ اس میں یہ فقہی گنجائش ہوتی ہے، اور فقہا کا اختلاف بھی ہے۔

مطیع سید: ولیمہ کی کیاحیثیت ہے؟ کیا یہ ضروری ہے، سنت ہے یا محض ایک دینی رسم ہے؟

عمار ناصر: فقہی لحاظ سےسنت ہے۔ مسلمانوں کے معاشرتی نظام اور دینی رسومات میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔

مطیع سید: عورتوں کے بارے میں فقہا کہتے ہیں کہ کھانا پکانا اورگھر کا کام کاج، اصلاً‌ ان کی ذمہ داری نہیں۔ احناف کہتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری صرف دوکام ہیں، حق مباشرت اور گھر میں رہنا۔ اس کے علاوہ ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ کیااحناف قانونی مفہوم میں کہہ رہے ہیں؟ اس طرح تو گھر کا نظا م چل ہی نہیں سکے گا۔

عمار ناصر: یہ ساری چیزیں کلچر سے تعلق رکھتی ہیں اور عرف پر مبنی ہوتی ہیں۔ قرآن نے ایک اصول بیان کر دیا جو بہت صحیح ہے کہ ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف۔ معروف کے لحاظ سے جو ان کی ذمہ داریاں ہیں، اسی کے لحاظ سے ان کے حقوق ہیں۔ جس کلچر میں ہماری فقہ مدون ہوئی ہے، اس میں عام طورپر گھروں میں خادموں اور باندیوں کا ہونا معمول کی بات تھی اور ان کو گھر کا ناگزیر حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس میں یہ تصور پیداہوا کہ جب گھر میں خادم اور باندیاں ہیں تو وہ انھی کاموں کے لیے ہیں، تو بیوی کی اصل ذمہ داری یہ نہیں ہے۔ تو حقوق وفرائض کے تعین میں ایک بڑا دخل عرف کا بھی ہے۔ اُس کلچر میں یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ ہمارے ہاں کا کلچر مختلف ہے۔ ہمارے ہاں بعض ایسے خاندان ہیں جن میں روایت چل رہی ہے کہ گھر میں کام کے لیے ملازمہ اور خانسامے ہوتے ہیں۔ اس میں اگر آپ بیوی کو گھر کے کام کا کہہ رہےہیں تو اس کا مطلب یہ سمجھا جائے گاکہ آپ ا س کی تحقیر کرناچاہ رہے ہیں کہ گھر میں نوکر چاکر موجود ہیں، لیکن آپ اسے کہہ رہے ہیں کہ کام کرو۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کی حیثیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ عام گھروں میں خواتین پر ہی گھر کے کام کاج اور کھانا پکانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تو ہمارے عرف میں اس فقہی جزئیے کا اطلاق نامناسب ہوگا۔

مطیع سید: حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ سے حضر ت عمر نے ہی منع کیا ہے۔2 گویا صحابہ میں اس بات پر اتفاق نہیں تھا کہ متعہ کو آنحضرت ﷺ نے ممنوع ٹھہرایا تھا؟

عمار ناصر: جی، صحابہ کے بیانات سے اور خود حضرت عمر کے ارشادات سے بھی قرین قیاس بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے عمومی معاشرتی مصلحت کو سامنے رکھتے ہوئے اجتہاداً‌ متعہ کو ممنوع قرار دیا تھا۔ متعہ کے نصاً‌ ممنوع ہونے پر صحابہ کے مابین اتفاق رائے نہیں تھا۔ حضرت علیؓ خیبر کے موقع پر کی جانے والی ممانعت کا حوالہ دیتے تھے، لیکن ابن عباس اس کے باوجود اضطرار کی حالت میں متعہ کے جواز کے قائل تھے۔

مطیع سید: حضرت عائشہ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک عورت نے کہا کہ کوئی غیر محرم بالغ مرد ہے جو گھر میں آتا جاتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کو دودھ پلا دو اور پھر وہ تمھارے پاس آ جا سکتا ہے۔3

عمار ناصر: یہ سالم مولیٰ ابی حذیفہ کے بارے میں ہے۔ ابو حذیفہ نے انہیں منہ بولا بیٹا بنایا ہواتھا اور وہ انھی کے گھر میں رہتے تھے، وہیں پلے بڑھے تھے اور گھر کے فرد کی طرح ان کا آناجانا تھا۔ جب متبنیٰ کے متعلق یہ حکم آیا کہ وہ حقیقی اولاد نہیں ہیں تو ان کی اہلیہ نے یہ سوال آپ کے سامنے رکھا کہ اب ابوحذیفہ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے تاثرات دکھائی دیتے ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ تم اس کو دودھ پلا دو تو اس سے ابوحذیفہ کے دل کا تردد ختم ہو جائے گا۔ پھر وہ پہلے کی طرح گھر میں آتا جاتارہے۔

مطیع سید: لیکن قرآن میں دودھ پلانے کی عمر دو سال ذکر ہوئی ہے۔ یہاں ایک بالغ مرد کو دودھ پلا کر رضاعت ثابت کی جا رہی ہے۔ تو کیا قرآن کے مطلق حکم کو حدیث مقید کرسکتی ہے؟

عمار ناصر: اصولیین کے ہاں اس پر لمبی چوڑی بحث ہے۔ اصولی بات یہ ہے کہ قرآن کا حکم ہو یا حدیث کا، اس میں تخصیص کی ایک نوعیت یہ ہے کہ اصل حکم میں ترمیم کرکے شارع کوئی تبدیلی کر دے۔ ایک و ہ تخصیص ہوتی ہے کہ آپ اصل میں شارع کے منشا کو سمجھ کر اور دیگر نصوص کی روشنی میں قیاسا َ کہتے ہیں کہ یہ حکم یہاں نہیں لاگو ہونا چاہیے۔ اس صورت میں آپ حکم میں کوئی ترمیم نہیں کررہے، بلکہ کہہ رہے ہیں کہ اصل میں کہنے وا لے کا منشا بھی یہی ہے۔ تو یہ جو قیاسی تخصیص ہے، یہ دراصل ترمیم نہیں ہوتی۔ اصل میں کسی حکم کے انطباق کو یا اطلاق کو آ پ خود شارع کے دوسرے بیانات کی روشنی میں متعین کرتے ہیں۔ یہ تخصیص میں سمجھتا ہو ں کہ قرآن کے حکم میں ایک فقیہ بھی اجتہاداً‌ کر سکتا ہے، تو پیغمبر کیوں نہیں کر سکتا؟

مطیع سید: بہت سی احادیث کے بارے میں احناف یہ موقف اختیارکرتے ہیں کہ قرآن میں چونکہ یہ حکم مطلق ہے، اس لیے ہم اسے حدیث سے مقید نہیں کر سکتے۔

عمار ناصر: میری رائے میں احناف کا یہ موقف محل نظر ہے۔ لیکن اس میں کافی تفصیلی مباحث ہیں جو اصول فقہ کی کتابوں میں دیکھنے چاہییں۔

مطیع سید: آپ ﷺنے ایک موقع پر ایک قیافہ شناس کی رائے پر خوشی کا اظہار کیا جس نے دو آدمیوں کی جسمانی مشابہت دیکھ کر یہ کہا تھا کہ یہ دونوں باپ بیٹا ہیں۔4 جبکہ احناف کہتے ہیں کہ قیافہ شناس کی بات پر نسب کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

عمار ناصر: اس روایت کے بارے میں احناف کہتے ہیں کہ یہاں یہ بات نہیں کہی جارہی۔ ایک بچہ جس کا نسب پہلے سےمعلوم نہیں ہے اور آپ محض ایک قیافہ شنا س کے بیان پر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، روایت میں تو یہ زیرِ بحث نہیں ہے۔ روایت میں تو یہ بات ہے کہ زید بن حارثہ کا اسامہ کا والد ہونا تو نسب کے معروف قواعد کے لحاظ سےثابت تھا۔ البتہ بعض لوگ الٹی سیدھی باتیں کرتے تھے اور اس نسب پر شبہے کا اظہار کرتے تھے تو جب ایک قیافہ شناس نے بھی یہ کہہ کر تصویب کر دی کہ یہ باپ بیٹا ہیں تو اس سے جو لوگوں کے ذہن میں جو شبہات تھے، وہ ختم ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس سے آپ یہ نہیں اخذ کر سکتے کہ کوئی اور ثبوت نہ ہو تو بھی آپ صرف قیافہ شناس کے کہنے پر ثبوت ِ نسب کا فیصلہ کردیں گے۔

مطیع سید: روایت میں آتا ہے کہ اگر آدمی دوسری شادی کرے تو نئی بیوی اگر کنواری ہو تو اس کے پاس سات دن اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن رہے۔ پھر اس کے بعد بیویوں میں دنوں کی برابر تقسیم شروع کرے۔5 احناف کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ نئی بیوی کنواری ہو یا ثیبہ، سب کے لیے برابر دن ہوں گے اور دلیل قرآن سے دیتے ہیں کہ قرآن کہتا ہے کہ ان کے مابین عدل کرو۔

عمار ناصر: احناف کا استدلال مضبوط نہیں لگتا۔ عدل اپنی جگہ برحق ہے، لیکن ایک نئی دلہن آئی ہے تو اس کا کچھ اضافی حق بنتا ہے۔

مطیع سید: اگر حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت خیانت نہ کرتی۔6 یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔

عمار ناصر: میرا تاثر بھی یہی ہے کہ یہ چونکہ حضرت ابو ہریرۃ سے مروی ہے اور ان کی نسبت سے بعض اسرائیلیات بھی آ گئی ہیں، اس لیے روایت کے مضمون سے ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی وہیں سے آئی ہے۔ بہرحال شارحین نے، جو حضرت آدم کو بہکانے سے متعلق بعض روایات ہیں کہ حوا نے ان کو بہکا پھسلا کر ممنوعہ پھل کھلانے پر آمادہ کیا، اس کی روشنی میں اس کی تشریح کی ہے۔

مطیع سید: فاطمہ بنت قیس کی روایت میں آتا ہے کہ عورت کو جب تیسری طلا ق دے دی جائے مرد پر اس کی عدت میں نان نفقہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔7 لیکن احناف کہتے ہیں کہ نان نفقہ اس کے ذمے ہوگا۔

عمار ناصر: اس روایت پر فقہا میں اختلاف ہے۔ امام شافعی اس روایت کو لیتے ہیں لیکن کئی اکابر صحابہ نے اس روایت کو نہیں لیا۔ حضرت عمر نے بھی نہیں لیا، حضرت عائشہ نے بھی نہیں لیا۔ احناف کا موقف بھی اس روایت کے خلاف ہے۔ اصولی طور پر چونکہ تیسری طلاق کے بعد بھی بیوی شوہر کی عدت میں ہے اور اس نے وہ پابندی اس کے لیے ہی قبول کی ہے، اس دوران میں وہ کسی اور جگہ نکاح بھی نہیں کر سکتی ہے تو خرچہ بھی اسی پر آنا چاہیے۔

مطیع سید: روایت میں آیا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو پسلی سے پیداکیا،8 یہ کیا کوئی تمثیل ہے؟

عمار ناصر: محدثین کے ہاں دونوں طرح سے اس کی تشریح ملتی ہے۔ بعض اس کو لفظی معنوں میں لیتے ہیں اور اس کی تائید میں بعض اسرائیلی روایات بھی موجود ہیں جن میں یہ ہے کہ انھیں آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیداکیا گیا۔ لیکن کچھ دوسرے اہل علم اس کو استعارے کا اسلوب بھی کہتے ہیں۔

مطیع سید: اگر استعاراتی اسلوب لیں تو پسلی سے کیا مراد ہے؟

عمار ناصر: کجی کے معنوں میں ہے، کیونکہ روایت کے جو پورے الفاظ ہیں، ان میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ ایسا اسلوب ہے جیسے خلق الانسان من عجل کا ہے، یعنی انسان جلد بازی کے خمیر سے پیداکیا گیا ہے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ استعارے کا اسلوب ہے۔ یعنی عورت کی طبیعت میں ایک خلقی کجی ہے، اگر تم اس کو بالکل سیدھا کرنا چاہو تو وہ نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس کے تخلیقی عمل کی طرف اشارہ ہو کہ چونکہ اس کو پسلی سے پیداکیاگیا ہے، اس لیے جس طرح پسلی میں ایک خم ہے، عورت کا مزاج بھی ایسا ہی ہے۔ اگر پسلی سے پیداہوئی ہو تو میرے خیال سے بعید بات نہیں ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ساری انسانیت کی ابتدا ایک نفس سے ہوئی ہے۔ ایک نفس سے پھر اللہ نے اس کا جوڑا پیدافرمایا۔ اس سے لگتا ہے کہ مستقلاً‌ آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور پھر آدم سے آگے حوا کو تخلیق کیا گیا۔

مطیع سید: ایسا بھی ممکن ہے کہ جس طرح اللہ نے آدم کو الگ سے پیدا کیا، اسی طرح سے حواکو بھی الگ سے پیداکیا ہو؟

عمار ناصر: اگر خلقکم من نفس واحدہ کو ظاہری معنوں میں لیں تو پھر یہ بات کہنا مشکل ہے۔ اصل تو ایک جان ہونی چاہیے جس سے آگے نسل چلی ہو۔ اگر ایک فرد الگ پیدا کیا گیا اور دوسرا الگ تو پھر ایک نفس والی بات درست نہیں ہو سکتی۔ بہرحال یہ متشابہات میں سے ہے۔ اس کی پوری حقیقت جاننا ممکن نہیں۔

مطیع سید: آپﷺ نے کوئی عورت بطور باند ی رکھی؟

عمار ناصر: جو زیادہ عا م اور معروف موقف ہے، اس کے مطابق ماریہ قبطیہ باندی ہی تھیں۔

مطیع سید: ایک دفعہ کوئی شکایت بھی ان کے حوالے سے آپﷺ کے سامنے آئی تھی جس پر آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ایک آدمی کی تفتیش کے لیے بھیجا تھا؟

عمار ناصر: جی، چونکہ سیدہ ماریہ کو آپﷺ نے ازواج کے ساتھ نہیں رکھا ہواتھا، تھوڑا ہٹ کر ان کے لیے الگ رہائش تھی تو ایک شخص گھر کا ضروری ساز وسامان ان کو پہنچانے کے لیے ان کے پاس آتا جاتا تھا۔ اس پر لوگوں نے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت علیؓ کو بھیجا کہ جا کر اس شخص کو قتل کر دو۔ انھوں نے جا کر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ شخص تو مخنث ہے، یعنی اس کا آلہ تناسل کٹا ہوا ہے۔ اس واقعے میں ایک بڑا اشکال یہ ہے کہ آپ نے بغیر تحقیق کے کیسے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا؟ اور یہ کہ اگر وہ مجرم تھا تو صرف اس کو کیوں سزا دی، سیدہ ماریہ کا کیوں مواخذہ نہیں کیا؟ شارحین اس کی توجیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے علم میں تو صحیح حقیقت حال تھی، لیکن آپ نے لوگوں کے شبہات اور منفی تاثر کے ازالے کے لیے حضرت علی کو مامور کیا تاکہ ایک ظاہری تحقیق اور تفتیش کے ذریعے سے بھی لوگوں پر واضح ہو جائے کہ وہ جو الزامات لگا رہے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں۔

مطیع سید: کیا ان کے لیے بھی خاص دن مقرر تھا؟

عمار ناصر: نہیں، ان کے لیے کوئی باقاعدہ دن مخصوص نہیں تھا، جس طرح ازواج کے لیے دنوں کی تقسیم تھی۔


حواشی

  1. صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب اذا زوج ابنتہ وہی كارہۃ فنكاحہ مردود‌‌ ، رقم الحدیث: 5138، ص: 1323
  2. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب النکاح، ‌‌باب نہی رسول الله صلى الله عليہ وسلم عن نكاح المتعۃ آخرا، رقم الحدیث: 5117، ص: 1318
  3. صحیح مسلم، كتاب الرضاعۃ، باب رضاعۃ الكبير، رقم الحدیث: 1453، جلد: 2، ص: 1076
  4. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب فضائل الصحابۃ، ‌‌باب مناقب زيد بن حارثۃ، رقم الحدیث: 3731، ص: 945
  5. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب النکاح، ‌‌‌باب اذا تزوج الثيب على البكر، رقم الحدیث: 5214، ص: 1341
  6. صحیح مسلم، كتاب الرضاعۃ، باب لولا حواء لم تخن انثى زوجہا الدهر، رقم الحدیث: 1470، جلد: 2، ص: 1092
  7. صحیح مسلم، كتاب الطلاق، باب المطلقۃ ثلاثا لا نفقۃ لہا، رقم الحدیث: 1480، جلد: 2، ص: 1114
  8. صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الوصاة بالنساء، رقم الحدیث: 5186، ص: 1332

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(دسمبر ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter