مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۱)

ادارہ

ڈاکٹر سید مطیع الرحمن / محمد عمار خان ناصر



مطیع سید: آپ ﷺ وضو کے دوران ناک اور منہ میں پانی ڈالتےتھے اور آپ ہمیشہ ڈالتے رہے۔1 پھر ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ ضروری نہیں، اس کے بغیر بھی وضو مکمل ہو جا تاہے ؟

عمار ناصر: یہ استنباط ہے۔ استنباط اسی کو کہتے ہیں کہ دلائل کا یا نصوص کاجوانداز اور اسلوب ہے، اس سے شارع کی منشا کو سمجھا جائے۔ شارع چیزوں کو اہمیت کے لحاظ سے الگ الگ طریقوں سے اپنی منشا واضح کرتا ہے۔ قرآن نے جب بیان کیا ہے کہ وضو کرو تو چہرہ دھوؤ تو اس سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ وضو میں فرض تو چہرہ دھونا ہی ہے۔ اس کے علاوہ جو زائد امور احادیث میں بیان ہوئے ہیں، وہ فرض نہیں ہو سکتے ورنہ قرآن وضو کا ادھورا طریقہ بیان نہ کرتا۔

مطیع سید: کیا ایسے لوگ بھی رہے ہیں جو اسے فرض قرار دیتے ہوں؟

عمار ناصر: ظاہریہ کے ہاں غالباً‌ ایسا ہے۔

مطیع سید: ایک جنگ کے موقع پر وضو میں بعض صحابہ کی ایڑیاں خشک رہ گئیں۔ انہوں نے ایڑیوں پر مسح کر لیا تھا، ایسے الفاظ آتے ہیں۔2 یہاں مسح سے کیا مراد ہے ؟

عمار ناصر: مطلب یہ کہ صحیح طرح ایڑیوں کو دھویا نہیں تھا، بس گیلا ہاتھ پھیر کر کام چلانے کی کوشش کی۔

مطیع سید: مجھے مسح سے ایسے لگا کہ شاید ان صحابہ نے قرآن کی آیت سے مسح کا استدلال کیا ہو۔

عمار ناصر: نہیں، یہاں یہ معاملہ نہیں تھا۔ یہاں مسح کر نے کا مطلب یہ ہے کہ جلدی میں انہوں نے بس ہاتھ پھیر لیا، ٹھیک طریقے سے دھویا نہیں۔

مطیع سید: گھر بناتے ہوئے ہم بیت الخلا میں قبلہ رخ نہ ہونے کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت میں تو بڑا واضح آتا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ کی پشت اس طرف تھی۔3 تو اتنی صاف اور واضح روایت کے ہوتے ہوئے ہم کیوں تاویل کرتے ہیں کہ نہیں، انہوں نے آپﷺ کو صحیح طرح دیکھا نہیں ہوگا ؟ یہی تاویل عموماً‌ شارحین کرتے ہیں۔

عمار ناصر: اس میں ایسا ہوتا ہے کہ جب آپ کے سامنےدوسرے دلائل زیادہ قوی ہوں جن میں ممانعت آئی ہے یا جن میں آپ کا فہم بتا رہا ہے کہ یہ کوئی عمومی بات نہیں ہے تو یہی کرتے ہیں کہ قوی دلیل کی روشنی میں اس کے مخالف شواہد کی تاویل کرتے ہیں۔

مطیع سید: عمامہ پر مسح آج بھی کیا جاسکتا ہے؟

عمار ناصر: بالکل کیا جا سکتا ہے۔ حنفی فقہاء کہتے ہیں کہ گیلا ہاتھ کسی حد تک سر پر پھیرلیں تاکہ مسح کا فرض براہ راست سر کے مسح سے ادا ہو جائے۔ پھر باقی مسح عمامہ کے اوپر سے کرلیں۔

مطیع سید: ہم درود میں اللھم صل علی محمد وعلی آلِ محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آلِ ابراھیم کی دعا کرتے ہیں۔ آلِ ابراہیم کا تو ہمیں پتہ ہے کہ اللہ نے ان کو نبوت عطا فرمائی یعنی یہ ان پر خدا کا کرم تھا۔ آپ ﷺ کی آل کو کس چیز سے نوازا گیا ہے جو یہاں درود شریف میں بیان ہواہے ؟

عمار ناصر: تشبیہ ظاہر ہے، ہر پہلو سے تو نہیں ہوتی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد پر دین کے حوالے سے اللہ کی خاص عنایا ت ہوئیں۔ وہ چونکہ ماضی کی بڑی روشن مثال ہے تو اس پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یعنی جیسے ان کی اولاد کو اس مقصد کے لیے چن لیا گیا اور دنیا کی قوموں میں ان کو ایک خاص مقام دیا گیا تو اسی طرح محمد اور آلِ محمد ﷺ پر بھی خصوصی رحمت اور عنایت کی جائے۔ اس میں من کل الوجوہ تشبیہ نہیں ہوتی اور یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ جیسے ان میں انبیا آئے تھے، آل محمد میں بھی نبی ہوں گے۔

مطیع سید: رفع الیدین کرنے اور نہ کرنے کی ایک توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ نبیﷺ نے کبھی کیا اور کبھی نہیں کیا، لہذا دونوں طریقے درست ہیں۔ لیکن صحابہ کے ہاں ایسی اپروچ نہیں دکھائی دیتی۔ یا تو صحابہ کرتے تھے یا نہیں کرتے تھے۔ کبھی کرنااور کبھی نہ کرنا تو کسی صحابی سے ثابت نہیں ہے، نہ ہی یہ ثابت ہے کہ کسی صحابی نے کہا کہ دونوں طریقے ہی درست ہیں، جیسے چاہو، عمل کرو۔

عمار ناصر: کسی صحابی کے بارے میں اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ وہ ہمیشہ رفع یدین کرتےتھے۔ روایات میں مطلقاً‌ بیان ہوا ہے کہ وہ رفع یدین کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے کسی صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے زندگی کے معمول کی تحقیق کر کے اسے بیان نہیں کیا، صرف اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے، اسی طرح مختلف صحابہ کو دیکھنے والوں نے بھی اپنے جزوی مشاہدات ہی بیان کیے ہیں۔ کسی بیان سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ متعلقہ صحابی کا پوری زندگی کا مسلسل عمل بیان کیا جا رہا ہے۔

مطیع سید: احناف نے رفع الیدین کرنے کی روایات کو کیوں نہیں لیا ؟

عمار ناصر: امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو غیر ثابت سمجھتے تھے۔ انھوں نے روایت پر تنقید کی ہے۔ بعد میں امام طحاوی نے ایک دوسرا استدلال پیش کیا اور کہا کہ یہ عمل ثابت تو ہے، لیکن یہ پہلے دور کا ہے جو بعد میں منسوخ ہو گیا تھا۔ آج کل زیادہ تر یہی استدلال احناف کے ہاں مقبول ہے۔ البتہ علامہ انور شاہ اور دیگر متاخرین نے اس سے اختلاف کیا ہے اور دونوں طریقوں کو ثابت اور غیر منسوخ قرار دیا ہے۔

مطیع سید: صحیح مسلم میں جو روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھانے سے منع فرمایا،4 جب اس روایت کو باب کے عنوان سے امام مسلم نے واضح کر دیا کہ سلام کے وقت رفع یدین سے متعلق ہے تو پھر ہمارے ہاں لوگ اس سے ترک ِ رفع الیدین کی دلیل کیسے لیتے ہیں؟

عمار ناصر: یہ درست بات ہے۔ حنفی علماء نے بھی اس استدلال کی تردید کی ہے کہ یہ رکوع والے رفع یدین سے متعلق نہیں ہے۔ البتہ صحیح مسلم کے عنوانات کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خود امام مسلم کے اپنے قائم کردہ نہیں ہیں، بلکہ بعد میں کسی نے روایات کے مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے شامل کیے ہیں۔

مطیع سید: صلوۃ الخوف کوقرآن بڑی تفصیل سے بیان کرتا ہے، حالانکہ بظاہر یہ بڑی وقتی سی چیز لگتی ہے۔

عمار ناصر: ویسے تو اللہ تعالیٰ کی جو ترجیحات اور جو اہمیت رکھنے والی چیزیں ہیں، ان کوہم انسانی پیمانوں سے نہیں سمجھ سکتے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور حیثیت اور آپ سے متعلق حدود وآداب کو بیان کرنا تو قرآن مجید کا خاص موضوع ہے۔ صلوۃ الخوف کا مسئلہ اصلاً‌ اسی پہلو سے بیان ہوا ہے، اس کا ایک فقہی مسئلہ ہونا ضمنی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے مسلمان یہ گوارا نہیں کرتے تھے کہ کسی اور کی امامت میں نماز ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس جذبے کی تصویب فرمائی ہے اور اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک حل بتا دیا ہے کہ ایسی صورت حال میں سارے مسلمان اس طرح آپ کی امامت میں باری باری نماز ادا کر سکتے ہیں۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہےکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں چیزوں کے کون سے پہلو اہم ہیں۔ قرآن نے جس پہلوسے اس کو بیان کیا ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ نماز سے متعلق ایک چھوٹا سا اور وہ بھی کبھی کبھار پیش آنے والا مسئلہ ہے اور قرآن نے اس سے اعتنا کرلیا ہے۔ قرآن کے سامنے وہاں جو مسئلہ ہے، وہ پیغمبر کی ذات ہے اور اس کے حوالے سے ایک سوال پیداہوگیا کہ پیغمبر کے ہوتے ہوئے مسلمان نہیں چاہتے کہ کسی اور کے پیچھے نماز پڑھیں اور قرآن ا ن کی اس خواہش کو نہ صرف بنظر ِ تحسین دیکھ رہا ہے بلکہ اس کا ایک پورا طریقہ بتارہا ہے۔

مطیع سید: کیا فقہاء نے اسے نبیﷺ کے دور کے ساتھ مخصوص کیا ہے ؟ یہ بھی رائے دی جاتی ہے کہ چونکہ آپﷺ کی امامت میں سارے نماز پڑھنا چاہتے تھے، اس لیے اس کو اس قدر اہتمام سے بیان کیا گیا۔

عمار ناصر: مجھے اس میں امام ابویوسف کا موقف ٹھیک لگتا ہے۔ امام ابو یوسف کا یہ موقف ہے کہ اتنے تردد کی ضرورت کیا ہے؟ اب ہمیں ایسی کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو کون سا امام ہے جس کے پیچھے سارے مسلمان اصرار کریں کہ ہم تو اسی کے پیچھے نماز پڑھیں گے؟ وہ باری باری الگ الگ جماعت کر سکتے ہیں۔ قرآن تو بیان شروع ہی یہاں سے کرتا ہے کہ اذا کنت فیھم، یعنی آپ ان کے اندر موجود ہوں اور انھیں نماز پڑھا رہے ہوں تو پھر یہ طریقہ ہوگا۔

مطیع سید: آپﷺ نے ایک منقش چادر کے بارے میں فرمایا کہ یہ ابو جہم کو دے دو۔5 آپﷺ نے خود یہ چادر استعمال کرنی پسند نہیں فرمائی لیکن انہیں دینے کو کہا۔ کیا وہ مسلمان نہیں تھے۔ کیا وجہ تھی ؟

عمار ناصر: نہیں، اس کی وجہ یہ نہیں ہے۔ یہ ابوجہم تو چادروں کی خریدو فروخت کرنے والے تھے اور انھی سے یہ منقش چادر خریدی گئی تھی۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ چادر اسے واپس دے کر کوئی سادہ چادر لے آؤ جس کے نقش ونگار نماز میں اپنی طرف متوجہ نہ کریں۔

مطیع سید: سیاہ کتا شیطان ہے،6 اس سے کیا مراد ہے ؟ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورت، گدھا اور کتا، ان تینوں میں سے کوئی آگے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

عمار ناصر: اس کو بعض ظاہریہ اس معنی میں لیتے ہیں کہ نماز فقہی طور پر فاسد ہو جاتی ہے۔ عام طور پر محدثین اس کو اس معنی میں نہیں لیتے۔ قطع سے مراد یہ ہے کہ نماز کا ایک روحانی پہلو بھی ہے جس میں فرشتوں کے حضور کی اور ان کی دعاؤں کےساتھ شرکت کی بڑی اہمیت ہو تی ہے۔ دیکھیں، نماز ی کے آگے سے آپ گزرتے ہیں تو اس سے نماز کے ماحول میں اور روحانی کیفیت میں ایک طرح کاخلل پیدا ہو جاتا ہے۔ نماز کا اپناایک روحانی ماحول بھی ہوتا ہے۔ اس میں اگر کتا سامنے سے گزر گیا ہے تو اس سے بھی ایک طرح کا خلل آ جاتا ہے۔ عورت کے بارے میں بعض شارحین یہ کہتے ہیں کہ یہ بات مطلقاً‌ ہر عورت کے بارے میں کہی گئی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ ماہواری کی کیفیت میں عورت کا گزرنا مراد ہے۔ اس پہلو سے بھی کہتے ہیں کہ جب آپ نماز میں یکسوئی کی حالت میں کھڑے ہوں، اس حالت میں اگر عورت آپ کے سامنے سے گزر ے تو آپ کی یکسوئی میں خلل واقع ہو سکتا ہے۔

مطیع سید: فقہ میں نماز کے اند ر عملِ قلیل اور عملِ کثیر کا فرق بتایا گیا ہے، جبکہ احادیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ بچوں کو نماز کے دوران میں اٹھا لیتے تھے اور سجدے میں جاتے ہوئے انھیں زمین پر بٹھا دیتے تھے۔7 یہ عمل تو فقہ کی اصطلاح میں عمل قلیل نہیں ہے۔ تو پھر کس بنیاد پر عملِ قلیل اور عملِ کثیر کی تقسیم کی گئی ہے؟

عمار ناصر: کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو آپ خاص محل میں تو قبول کر لیتے ہیں، لیکن اس کو ایک عمومی ضابطہ سمجھنے کے بارے میں آپ کا مجموعی فہم دین یہی کہے گی کہ ایسا نہیں ہے۔ نماز اصل میں تو یہی ہے کہ سکون اور اطمینان کے ساتھ اور نماز سے غیر متعلق اعمال کے ساتھ مشغول ہوئے بغیر ادا کی جائے۔ اب آپ اگر اس طرح کے اعمال کو عمومی اجازت پر محمول کرنا چاہیں تو آپ کا فہم دین آپ کو بتائے گا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں توجیہ کے کئی پہلو نکالے جا سکتے ہیں، مثلاً‌ یہ کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص تھا۔ لیکن توجیہ آپ جو بھی کر لیں، اصل بات یہ ہے کہ نماز کے متعلق دین کی مجموعی ہدایات اس سے مانع ہیں کہ اس طرح کے اعمال کو نماز کی حالت میں ایک عام اجازت قرار دیا جائے۔

مطیع سید: نماز کے بعد جو باجماعت دعا ہوتی ہے، اس کی کوئی روایت ہے ؟

عمار ناصر: اس طرح معمولاً‌ تو ثابت نہیں، بعد میں کسی دور میں اس کا رواج ہوا ہے۔ ہمارے بعض پرانے اہل علم مثلاً‌ شاطبی وغیرہ اسے بدعات میں ہی شمار کرتے ہیں۔

مطیع سید: علامہ انور شاہ صاحب کے بارے میں آتا ہے کہ وہ بھی اس کے قا ئل نہیں تھے۔

عمار ناصر: ثبوت کا تو کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ یعنی آج کل جس طرح ہم معمولاً‌ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتے ہیں، اس طرح معمولاً‌ حضورﷺ کے زمانے میں ہوتی تھی، یہ تو کوئی بھی نہیں کہتا۔ تو اصل سوال یہ ہے کہ اس کو ایک معمول کے طور پر اختیار کرنے کی کیا حیثیت ہے ؟ شاطبی کا کہنا ہے کہ یہ بدعت ہے۔

مطیع سید: احناف کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

عمار ناصر: متقدمین احناف کا موقف میرے ذہن میں نہیں، لیکن دیوبندی علماء مختلف الرائے ہیں۔ بعض جیسے مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحبؒ بہت سخت مخالف تھے، جبکہ بعض قائل تھے، جیسے مفتی کفایت اللہ صاحبؒ نے اس پر باقاعدہ ایک رسالہ لکھا ہے۔ ہمارے دادا حضرت مولانا سرفراز صفدر صاحبؒ بھی فرض نماز کے بعد جواز اور استحباب کے قائل تھے، لیکن نوافل کے بعد اجتماعی دعا کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ علامہ انور شاہ صاحبؒ نے کسی بحث میں یہ لکھا ہے کہ بہت سے امور میں کسی چیز کا فی نفسہ ثابت اور مشروع ہونا کافی ہوتا ہے اور اس کی بنیاد پر اسے معمولاً‌ اختیار کیا جا سکتا ہے، چاہے شارع نے خود ا س کو معمول بنانے کا اہتمام نہ کیا ہو۔ میرے خیال میں، اس رائے میں کافی وزن ہے۔

مطیع سید: نبیﷺ نے سردی اور گرمی کے متعلق فرمایا کہ یہ جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔8 یہ آپ ﷺ نے کن معنوں میں فرمایا؟ آج کا جدید ذہن اس کو کیسے سمجھ سکتا ہے، کیونکہ سائنس تو ہمیں اس تبدیلی کی وجہ زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کا کم یا زیادہ ہونا بتاتی ہے؟

عمار ناصر: ایسے بیانات بنیادی طور پر متشابہات کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی صحیح حقیقت کو سمجھنا مشکل ہے، بس بالاجمال یہ ماننا کافی ہے کہ موسم کی تبدیلی کا تعلق ایک سطح پر کائنات کے اس نظام سے بھی ہے جس میں جنت اور جہنم واقع ہیں۔ البتہ اس سے اس کی نفی نہیں ہوتی کہ ایسی چیزوں کے ان اسباب کو جانا اور متعین کیا جائے جو عام انسانی علم کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ کائناتی نظام کی الگ الگ سطحیں ہیں اور اپنی اپنی سطح پر دونوں باتیں درست ہیں۔

مطیع سید: ایک دفعہ آپ ﷺ نے ظہر کی چار کی بجائے پانچ رکعتیں پڑھادیں اور بعد میں صرف سجدہ سہو کرلیا، چھٹی رکعت ساتھ نہیں ملائی۔9 حنفی فقہا تو چھٹی رکعت ملانے کا کہتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر نمازی چوتھی رکعت میں تشہد میں بیٹھا ہو، پھر تو بعد میں دو رکعتیں مزید پڑھنے سے فرض نماز ادا ہو جائے گی، ورنہ نہیں ہوگی۔ لیکن یہاں تو نبی ﷺ کا واضح عمل ہمارے سامنے موجود ہے۔

عمار ناصر: صدرِاول میں فقہا کے لیے یہ مسئلہ تھا کہ روایتیں اس طرح سے منقح اور مدون ہوکر ساری تحقیق کے ساتھ ان کو نہیں پہنچی تھیں۔ بہت سی روایتیں تو پہنچی ہی نہیں تھیں۔ بہت سی ایسی تھیں جو اس طرح باوثوق ذریعے سے نہیں پہنچی تھیں جس سے وہ ان کی صحت پر مطمئن ہو جاتے۔ اس لیے ان کے لیے ایسی چیزوں میں قیاس سے کام لینے کی یاکسی روایت پر عمل نہ کرنے کی زیادہ گنجائش تھی۔

مطیع سید: تو کیا آج بھی اس کی تاویلات کی گنجائش ہے؟

عمار ناصر: متاخرین احناف نے اس طرح کے مباحث میں کافی سوالات اٹھائے ہیں۔ مثلاً‌ اس روایت میں چوتھی رکعت میں تشہد میں بیٹھنے کا ذکر نہیں جس کی احناف عموماً‌ یہ تاویل کرلیتے ہیں کہ روایت میں اس کا تو ذکر نہیں کہ آپ نے چھٹی رکعت شامل نہیں کی۔ ہو سکتا ہے، آپ نے کی ہو۔ لیکن مفتی تقی عثمانی صاحب کے درسِ ترمذی کے مرتب نے حاشیے میں اس پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ معروف روایت میں تو اس کا ذکر نہیں، لیکن بعض روایتوں میں اس کی صراحت موجود ہے۔ انہوں نے طبرانی کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں وضاحت ہے کہ آپﷺ چوتھی رکعت میں نہیں بیٹھے تھے۔

مطیع سید: اسی واقعے میں آپ ﷺ نے لوگوں سے کچھ بات چیت کی اور جب واضح ہوگیا کہ آپ سے سہو ہوا ہے تو دوبارہ نماز ادا کرنے کے بجائے صرف سجدہ سہو فرما لیا۔10 کیا گفتگو کرنے سے نماز ٹوٹ نہیں گئی تھی؟

عمار ناصر: اسی سے مالکیہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر اصلاح ِ نماز کے لیے بقدر ضرورت کوئی گفتگو ہوئی ہو تو اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ آپ اسی پر بِنا کر سکتے ہیں۔

مطیع سید: آپ کو میں نے دیکھا ہےکہ آپ تشہد میں مسلسل انگلی ہلاتے ہیں۔ یہ کس روایت کے تحت ہے ؟ صحیح بخاری یا صحیح مسلم کے مطالعے میں تو ابھی تک ایسی روایت نہیں آئی۔

عمار ناصر: صحیحین میں غالباً‌ نہیں آئی، لیکن بہت سی روایتیں ہیں۔ کئی صحابہ نے آپ ﷺ کا یہ عمل نقل کیا ہے کہ آپ تشہد میں دعا کرتے ہوئے اپنی شہادت کی انگلی کو ہلاتے رہتے تھے۔

مطیع سید: اس کے پیچھے کیا تصور ہے؟

عمار ناصر: بس یہ دعا کی علامت ہے۔ آپ دعاکررہے ہیں اور یہ توحید کی بھی علامت ہے۔

مطیع سید: لیکن احناف توایسا نہیں کرتے۔

عمار ناصر: وہی مسئلہ ہے کہ تمام روایتیں اس طر ح ائمہ تک قابلِ اطمینان طریقے سے نہیں پہنچیں۔ احناف تک جو روایتیں نہیں پہنچیں، میں نے اس پر تھوڑا سا کام کیا تھا۔ بہت سے مسائل ہیں جن میں ان تک روایتیں نہیں پہنچیں۔ بعض جگہ تو وہ تصریح بھی کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے یہ روایت ہے، اس کے علاوہ کوئی روایت ہے تو ہمیں بتاؤ۔ اسی لیے امام محمدجب بعد میں مدینہ گئے تو بہت سے مسائل میں اسی بنیاد پر انھوں نے امام ابوحنیفہ کی رائے سے اختلاف کیا کہ ان کے سامنے کچھ قابل اعتماد روایات ان کی رائے کے خلاف آ گئی تھیں۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے دعا کی کہ بخار کو جحفہ کی طرف بھیج دیاجائے۔11 کیا جحفہ کوئی آباد علاقہ تھا یا کوئی ویران خطہ تھا؟

عمار ناصر: مجھے معلوم نہیں۔ ہو سکتاہے، اس وقت وہاں آبادی ہو۔

مطیع سید: اگر آباد تھا کہ تو آپﷺ بخارکو وہاں بھیجنے کے بجائے بخار کا خاتمے کی دعا بھی تو فرما سکتے تھے۔ مدینے سے بخار کو وہاں کیوں بھیج دیا گیا؟

عمار ناصر: جی یہ بھی دعا کرسکتے تھے لیکن دعا میں یہ چیز بھی دیکھنی ہوتی ہے کہ اللہ کے کسی تکوینی قانون کے تحت وباآئی ہے تو وہ تو اپنا کام پورا کر کے جائے گی۔ اللہ کی بعض سنن کو ہم اس طرح نہیں سمجھتے۔ ممکن ہے، اللہ کے قانون میں یہ ہو کہ یہ وبا جو آئی ہے، اس نے اپناحصہ لےکر ہی جانا ہے۔ البتہ اس کی شاید گنجائش ہو کہ ایک علاقے سے اسے دوسرے علاقے کی طرف بھیج دیا جائے۔ جحفہ اس وقت اگر آباد تھا تو معلوم نہیں، وہاں مسلمانوں کی آبادی تھی یا مشرکین کی۔ ممکن ہے، ایسے مشرکین ہوں جو بددعا یا عذاب کے مستحق ہوں۔ یا ہو سکتا ہے، یہ پہلو ہو کہ اگر اس وبا کی زد میں لوگوں نے آنا ہی ہے تو وہ مدینہ کے لوگ نہ ہوں، کیونکہ ہجرت کے بعد ویسے ہی یہاں کی آب وہوا اور وبا وغیرہ کی وجہ سے مہاجرین کےلیے یہاں ٹھہرنے میں کافی دقت تھی۔ تو اس نوعیت کے کئی امکان قابل غور ہو سکتے ہیں۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ قبر کاعذاب جانوربھی سنتے ہیں۔12 پھر یہ علمی اختلاف کیوں پیداہواکہ قبر یہی ہے اور یہیں پر عذاب ہو رہاہے یا کہیں اور ہو رہاہے ؟ اگر جانور عذاب کو سنتے ہیں تو پھر تو یہیں اسی قبر میں ہورہاہوگا۔ جویہ کہتے ہیں کہ اس قبر میں عذاب نہیں ہوتا، کیا ان کے سامنے یہ روایت نہیں ہے؟

عمار ناصر: یہ بحثیں صحابہ اور تابعین کے ہاں تو موجود نہیں ہیں۔ بعد کے دور میں متکلمین نے چھیڑیں۔ متکلمین میں بعض ایسے ہوتے ہیں جو نص سے قریب تر رہنے کو ترجیح دیتےہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں جو کچھ پیدا ہونے والے عقلی سوالات کی روشنی میں ایک تعبیر کر لیتے ہیں اور روایتوں کی تشریح اس کے تحت کرتے ہیں۔ یہی کچھ اس معاملے میں بھی ہوا ہے۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو قبر ہے، اصل میں یہاں عذاب و ثواب نہیں ہے۔ ان کا اشکال یہ ہے کہ جو لوگ ڈوب کر مرگئے یا جنہیں جانور کھاگئے، ان کا عذاب وثواب کہاں ہوتا ہے؟ وہ تو کسی قبر میں نہیں ہیں۔ اس سے وہ یہ اخذ کرتے ہیں کہ عذاب وثواب کسی دوسرے عالم میں ہوتا ہے۔ اس کی روشنی میں وہ پھر ان احادیث کی توجیہ وتاویل کر لیتے ہیں جن میں اس مٹی کی قبر میں عذاب وثواب کا ذکر آیا ہے۔

مطیع سید: تو اس سلسلے میں کیا موقف اختیا رکر نا چاہیے؟

عمار ناصر: میراخیال یہ ہے کہ جو اس طرح کی چیزیں ہیں، ان میں کوئی ایک کلی قسم کا موقف یا نظریہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یعنی آپ باقاعدہ کوئی کلیہ بنائیں، کوئی نظریہ بنائیں کہ ایسا ہی ہوتا ہے، اس کی ضرورت نہیں ہے۔ نصوص سے جو بات بھی ثابت ہو، بس اس کو ویسے ہی مان لینا چاہیے، اس سے کوئی کلی قاعدہ یا اصول نہیں بنانا چاہیے۔ اگر آپ قرآن میں دیکھیں تو آپ کو دونوں تینوں طر ح کے شواہد مل جائیں گے۔ بعض ایسے ہیں جن سے عذابِ قبر نہ ہونے پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً‌ سورۃ یسین میں تصریح ہے کہ کفار کو جب قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو وہ حیران ہوں گے کہ من بعثنا من مرقدنا ھذا، ہم تو سوئے ہوئے تھے، کس نے ہمیں اٹھا دیا۔ مطلب یہ کہ درمیان کے دور کا انہیں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ اس طرح حدیثوں میں کچھ ایسی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ یہ جو قبر میں پڑا ہوا جسم ہے، اسی کے ساتھ عذاب و ثواب کا تعلق ہے۔

بعض ایسی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ مثال کے طور پر شہدا ء کو پرندوں کے جسم دے دیے جاتے ہیں اور وہ ان اجسام میں نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اب ان چیزوں کی کھود کرید میں پڑنے کی بجائے یہ کہہ دینا زیادہ درست ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہاں بھی ہو اور کسی دوسرے جہان میں بھی ہو۔ یا یہ کہ کچھ انسانوں کے ساتھ یہاں ہو اور کچھ کے ساتھ وہاں ہو۔ تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کااور پیغمبر کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ جو مرنے اور جی اٹھنے کے درمیان کا عرصہ ہے، اس میں اس طرح کے معاملات ہوتے ہیں۔ اب اس میں اس بحث کا کیا فائدہ ہے کہ اس جسم کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ جسم ِ مثالی کے ساتھ ہوتا ہے ؟ عذاب بہرحال بندے کو ہوتا ہے اور اس کی تکلیف ہوتی ہے۔ وہ اس جسم کو ہو یا جسمِ مثالی کوہو، اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔

مطیع سید: کیا خاص طور پر جمعہ کا روزہ رکھنا منع ہے؟ روایت میں اس کی ممانعت آئی ہے۔13

عمار ناصر: حدیث میں ہے کہ صرف جمعے کو روزے کے لیے خاص نہ کیا جائے، بلکہ اگر روزہ رکھنا ہو تو اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی کوئی دن ساتھ ملا لیا جائے۔ اس سے یہ لگتا ہے کہ جمعے کے دن اس طرح روزے کا اہتمام کرنے سے روکنا مقصود ہے جس سے یہ لگے کہ یہ دن روزے کے ساتھ کوئی خاص مناسبت رکھتا ہے۔ اگر یہ پہلو نہ ہو اور اہتمام کے بغیر کبھی روزہ رکھ بھی لیا جائے تو اس کی ممانعت نہیں۔ بعض شارحین کہتے ہیں کہ شاید اس پہلو سے آپﷺ نے منع کیا کہ جمعہ کے دن لوگوں کو کچھ مشقت اٹھا کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جانا ہوتا ہے تو آپ نے عام لوگوں کی مشقت کا لحاظ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس دن روزہ نہ رکھیں۔

مطیع سید: ایک روایت میں ہے کہ آپ نے کسی کو مٹھی بھرکر درہم دیے۔ راوی بتاتا ہے کہ یہ پانچ سو درہم تھے۔14 یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہاتھ میں پانچ سو درہم آجائیں ؟ اتنا چھوٹا سکہ تو اس وقت غالباً‌ نہیں ہوتاہوگا۔

عمار ناصر: یہ تو درہم کا حجم دیکھنے سے ہی کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے، دونوں ہتھیلیاں ملا کر درہم اٹھائے گئے ہوں اور ان کی تعداد پانچ سو بن جاتی ہو۔

مطیع سید: ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد ناخن اوربال نہ کٹوانا،15 یہ حکم استحبابی ہے، یہ کیسے معلوم ہوا؟روایات میں تو ظاہراً‌ تاکیدی حکم ہی دیا گیا ہے۔

عمار ناصر: اصل میں ہر حکم کے بارے میں فقہا مجموعی دلائل اور کسی حکم کے گر دو پیش کے قرائن سے یہ متعین کرتے ہیں کہ اس کا فقہی درجہ کیا ہے۔ اس حوالے سے احناف نے ایک بڑا اہم عقلی اصول بیان کیا ہے کہ شریعت میں کوئی حکم جو تمام مسلمانوں سے متعلق ہو یعنی عموم بلویٰ کی نوعیت رکھتا ہو، وہ اگر کسی خبر واحد میں آیا ہو تو وہ واجب نہیں ہو سکتا، وہ صرف مستحب ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر شارع کی نظر میں وہ واجب ہوتا تو پھر اس کا ابلاغ کسی خبر واحد سے نہیں، بلکہ شہرت اور تواتر کے ساتھ کیا گیا ہوتا۔ ناخن اور بال نہ کاٹنے کی روایت بھی چونکہ خبر واحد ہے، اس لیے خصوصاً‌ احناف کے اصول کے مطابق یہ واجب نہیں ہو سکتا۔


حواشی

  1.  صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب الطہارۃ، باب فی وضوء النبی صلى الله عليہ وسلم، رقم الحدیث: 235، جلد: 1، ص: 210
  2.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌کتاب العلم، ‌‌باب من اعاد الحديث ثلاثا ليفهم عنہ، رقم الحدیث: 96، ص: 99
  3.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌کتاب الوضوء، ‌‌‌‌باب التبرز فی البيوت، رقم الحدیث: 148، ص: 113
  4.  صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب الصلاۃ، باب الامر بالسكون فی الصلاۃ والنہی عن الاشارة باليد ورفعہا عند السلام، رقم الحدیث: 430، جلد: 1، ص: 322
  5.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب الصلاۃ، ‌‌باب اذا صلى فی ثوب لہ اعلام ونظر الى علمہا، رقم الحدیث: 373، ص: 167
  6.  صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب الصلاۃ، باب قدر ما يستر المصلی، رقم الحدیث: 510، جلد: 1، ص: 365
  7.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب الصلاۃ، ‌‌باب اذا حمل جاريۃ صغيرة على عنقہ فی الصلاة، رقم الحدیث: 516، ص: 197
  8.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب مواقیت الصلاۃ، ‌‌باب: الابراد بالظہر فی شدة الحر، رقم الحدیث: 536، ص: 202
  9.  صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب السہو فی الصلاة والسجود لہ، رقم الحدیث: 572، جلد: 1، ص: 401
  10.  صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب السہو فی الصلاة والسجود لہ، رقم الحدیث: 572، جلد: 1، ص: 401
  11.  صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب مقدم النبیﷺ واصحابہ المدینۃ، رقم الحدیث: 3926، ص: 988
  12.  صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب التعوذ من عذاب القبر، رقم الحدیث: 586، جلد: 1، ص: 411
  13.  صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب صوم یوم الجمعۃ، رقم الحدیث: 1985، ص: 522
  14.  صحیح البخاری، کتاب الشھادات، باب من امر بانجاز الوعد، رقم الحدیث: 2683، ص: 691
  15.  صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب نہی من دخل عليہ عشر ذی الحجۃ وہو مريد التضحيۃ ان ياخذ من شہره او اظفاره شيئا، رقم الحدیث: 1977، جلد: 3، ص: 1565

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(نومبر ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter