آراء و افکار

قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

اپنے گذشتہ مضمون ’’تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل ۔۔۔‘‘ پر بالترتیب جناب عاصم بخشی اور ڈاکٹر شہباز منج کے دو ناقدانہ تبصرے ’’الشریعہ‘‘ کے شمارہ اگست ۲۰۱۴ء میں نظر سے گذرے۔ دونوں صاحبان نے میرے مضمون میں مذکور اصل علمی نکات سے ذرا بھی مس نہیں کیا اور نہ ہی میرے اصل موقف ومدعا کو موضوعِ بحث بنایا ہے جسے میں ان کی طرف سے نیم دلانہ ’’اعترافِ حقیقت‘‘ سمجھتا ہوں۔ تاہم کچھ مغالطے ہیں اور کچھ سوالات ہیں جو خصوصا اول الذکر ناقد نے اٹھائے ہیں اور ہماری گفتگو کے اصل منشاء سے غیر متعلق ہونے کے باوجود زیرِ بحث موضوع سے ہی کچھ کچھ متعلق ہیں اور ان...

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

قبلہ اول، انبیائے کرام کا مولد و مدفن اور روئے زمین پر حرمین شریفین کے بعد افضل ترین بقعہ مسجدِ اقصی کے حوالے سے عمار خان ناصر کا ’’عجیب و غریب‘‘ موقف اور ماضی و حال کی پوری امتِ مسلمہ کے برعکس اختیار کردہ ’’نظریہ‘‘علمی حلقوں میں کافی عرصے سے زیرِ بحث ہے ۔امتِ مسلمہ کے بالغ نظرمحققین نے اس موقف اور نظریے کے مضمرات، نقصانات، پسِ منظر اور اس حوالے سے عمار خان ناصر کے’’ ماخذ و مراجع‘‘ کو بخوبی آشکارا کیا ہے۔ذیل کی تحریر میں ہم آنجناب کی اس موضوع پرشائع شدہ دو مرکزی تحریروں’’مسجدِ اقصی،یہوداور امتِ مسلمہ‘‘(ماہنامہ الشریعہ، ستمبر ،...

جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

محمد رشید

اپریل 2014ء کے الشریعہ میں شائع ہونے والے راقم کے مضمون’’جمہوری و مزاحمتی جدوجہد۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ کی تردید میں جون 2014ء کے الشریعہ میں ڈاکٹر عبدالباری عتیقی صاحب کامضمون شائع ہوا ہے۔9صفحات پرمشتمل مضمون کے پہلے دو صفحات میں راقم کے متذکرہ مضمون پر ’’فردجرم‘‘ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ۱۔محمد رشیدکے مضمون میں جہادی وانقلابی لوگوں کا نقطہ نظربیان کیاگیاہے۔ ۲۔یہ نقطہ نظر اول تا آخرغلط ہے۔ ۳۔پوری تحریر قرآن وحدیث کے دلائل سے عار ی ہے۔ ۴۔پوری تحریر محض جذبات کی شاعری کا اظہار ہے۔ ۵۔یہ تحریر ردعمل کی نفسیا ت اورنام...

مادّی ترقی کا لازمہ: واہمہ یا حقیقت؟ چند توضیحات

محمد ظفر اقبال

مئی ۲۰۱۴ء میں وطن عزیزکے مؤقر جریدے ماہنامہ الشریعہ [گوجرانوالہ] میں راقم کا ایک مضمون ’’مادی ترقی کا لازمہ ۔ واہمہ یا حقیقت؟‘‘ شائع ہوا۔ ۱؂ یہ مضمون کسی تحکمانہ جذبے کے زیر اثر نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ اس کا واحد مقصد عصر حاضر میں مادی ترقی کے حوالے سے ہم ایسے طالب العلموں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات و اشکالات کے جوابات کی جستجو تھی۔ راقم نے جو کچھ تھوڑا بہت مطالعہ کیا تھا، اس کے مطابق جو سوالات اور اشکالات قابل جواب معلوم ہوئے وہ اہل علم کی خدمت میں اس خیال سے پیش کردیئے تھے کہ ان کے گراں قدر افکار اس مبحث کو آگے بڑھانے اور خلجان کی...

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ڈاکٹر رضوان علی ندوی کی تنقید (۲)

مفتی امان اللہ نادر خان

پانچویں اعتراض کا جواب۔ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ ’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ‘‘۔ علامہ عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ’’لا یصح‘‘ سے مراد’’صحیح اصطلاحی‘‘ کی نفی ہو تو یہ بات ہو سکتی ہے ،لیکن یہ مضر نہیں اس لیے کہ ’’ صحیح اصطلاحی‘‘ احادیث کا تو وجود ہی کم ہے، یہی وجہ ہے کہ عام شرعی احکام اور فضائل ’’حدیث حسن ‘‘ سے ثابت ہوتے ہیں ، یہی ابن راہویہ کی مراد ہے ۔ اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ کوئی حدیث ثابت ہی نہیں، جیسا کہ ڈاکٹر...

مادی ترقی اور شناخت کا بحران

حافظ کاظم عثمان

مئی ۲۰۱۴ء کے شمارے میں ایک مضمون ’’مادی ترقی کا لازمی نتیجہ: شناخت کا بحران، واہمہ یا حقیقت‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ جناب محمد ظفر اقبال صاحب کا موضوع قابل ستایش ہے اور مغربی عقائد و نظریات کے بارے میں ان کا مؤقف بھی مضبوط ہے، لیکن مضمون پڑھتے ہوئے بعض باتوں نے پریشان کیا اور ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوئے۔ یہ مضمون دراصل ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں لکھا گیا ہے۔ 1۔ محمد ظفر اقبال صاحب ابتدا ہی میں لکھتے ہیں کہ ’’امر واقعہ ہے کہ مسلمان آج مادی ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔‘‘ سوال یہ ہے کہ مسلمان آج مادی ترقی میں کس سے پیچھے ہیں اور یہ پیچھے ہونا...

قرآنی مطالبہ تدبر کائنات: حقیقت مطلق تک رسائی کا عالمگیر مذہبی تجربہ یا ایک ناقابل ابلاغ سری کیفیت پر اصرار؟

عاصم بخشی

اگر کسی اہم سوال پر مبنی مضمون کا مقدمہ عقل و شعور کو اپنا مخاطب بنانے کی بجائے مناظرانہ اسلوب میں کیے گئے ان دعوؤں سے شروع ہو کہ بات تو نہایت واضح ہے مگر چوں کہ یہ سائنسی علمیت کا شکار نام نہاد دانشور عوام میں غلط فہمیاں پیدا کر کے ان کو صراط مستقیم سے بھٹکا رہے ہیں اس لیے ہمیں قلم اٹھانا پڑ رہا ہے، تو یہ مکالمہ کی موت ہے اور علمی تنقیدکا کیاکہیے کہ وہ توشاید مکالمہ سے کہیں آگے کا مرحلہ ہے۔ یہ تھا وہ فوری احساس جو مولانا عبداللہ شارق کا مضمون ’’تدبر کائنات کے قرآنی فضائل: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی‘‘ پڑھ کے ذہن میں پیدا ہوا۔ مگر یہ تسلیم...

روحانی تدبر کائنات؟

ڈاکٹر محمد شہباز منج

کوئی بات کسی کے سر تھوپنے کا واقعی کوئی اخلاقی جواز نہیں۔لیکن کچھ مہربان صرف یہ جملہ استعمال کرکے دوسروں کے سر جو جی چاہے تھوپنے کی سند حاصل کر تے دکھائی دیتے ہیں۔میرا سائنس اور مغربی فکر سے متعلق اپنے مضامین میں ایک مقدمہ یہ تھا کہ قرآن کائنات میں تدبر کی جو دعوت دیتا ہے، اس کے نتیجے میں سائنسی ترقی میں مدد مہیا ہوتی ہے۔میں نے کہیں یہ بات نہیں کہی کہ قرآن سے کسی ایسے تدبر کی دعوت ملتی ہے جو آدمی کو خدا بیزار بنا دے یا اسے خدا اور اس کے مطالبات سے غافل کر دے ۔ الشریعہ جون 2014کے "تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل" نگارنے میرے مضامین سے یہ تدبر خدا جانے...

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ڈاکٹر رضوان علی ندوی کی تنقید (۱)

مفتی امان اللہ نادر خان

مؤرخہ 7 اور 8 جولائی (2013) کے روزنامہ ’’امت‘‘ میں ’’ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی ‘‘صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’ حضرت معاویہؓ اور قدیم مؤرخین اور محدثین‘‘ شائع ہوا ، جس میں ڈاکٹر صاحب نے ’’ اہلسنت والجماعت ‘‘ کے مؤقف سے انحراف کر کے بزعمِ خویش حضرت سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے ’’صحیح حالات ‘‘پر ’’تاریخی حقائق ‘‘اور ’’قدیم مؤرخین و محدثین ‘‘ کی آراء کی مدد سے روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کرنے کی نا کام کو شش کی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زبان زد عام مشہور فضائل و مناقب من گھڑت ہیں ،قدیم مؤرخین و محدثین میں سے کسی نے انہیں ذکر...

جمہوری و مزاحمتی جدوجہد ۔ محمد رشید کے جواب میں

ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

الشریعہ اپریل ۲۰۱۴ء کے شمارے میں محمد رشید صاحب کا مضمون ’ جمہوری و مزاحمتی جدوجہد‘ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے اس میں انتہائی وضاحت سے اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا اور دوسرے جہادی و انقلابی لوگوں کا نقطہ نظر بیان کردیا ہے۔ ہم اس نقطہ نظر کو اول تا آخر غلط سمجھتے ہیں اور اس غلطی کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ فاضل مضمون نگار کی تحریر میں جہادی و انقلابی نقطہ نظر انتہائی وضاحت سے بیان کر دیے جانے کے باوجود پوری تحریر قرآن و حدیث کے دلائل سے مکمل طور پر تہی دامن نظر آتی ہے۔ پوری تحریر واضح طور پر محض جذبات کی شاعری کا اظہار...

روس کے خلاف افغانوں کا جہاد: ایک مغالطے کا ازالہ

اکرم تاشفین

روس کے خلاف افغانوں کا جہاد ، امریکا کا تعاون اور روس کی شکست۔یہ موضوع اب شاید مزید اس قابل نہیں کہ اس پر بحث ومباحثہ کا میدان گرم رکھا جائے کیوں کہ ’’اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘۔ دنیا بھر میں تیزی سے بدلتے حالات میں عالم اسلام کو اس وقت جن فکری اور نظریاتی چیلنجوں کا سامنا ہے، ایسے حالات میں روس کی شکست کے پارینہ قصے کو دہرا نا ضیاع وقت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ تاریخ کے اس حساس عصر میں مسلمان اہل فکر وقلم کو آگے بڑھتے رہنا چاہیے اور مسلمانوں خصوصاً نوجوان نسل کو جن فکری پیچیدگیوں کا سامنا ہے، ان گتھیوں کو سلجھاتے رہنا چاہیے۔...

جناب عبد الستار غوریؒ

محمد عمار خان ناصر

جناب عبد الستار غوری بھی اپنے وقت مقرر پر اللہ کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔ آمین۔ ان سے پہلی ملاقات آج سے کوئی بائیس چوبیس برس قبل گوجرانوالہ میں ، جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں ہماری رہائش گاہ پر ہوئی۔ وہ اپنے کسی دوست کے ہمراہ والد گرامی سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ (میری یادداشت کے مطابق یہ ڈاکٹر سفیر اختر صاحب تھے، لیکن ایک موقع پر غوری صاحب نے تصحیح کرتے ہوئے غالباً افتخار بھٹہ صاحب کا نام لیا تھا)۔ اس زمانے میں مجھے مسیحیت اور بائبل وغیرہ کے مطالعے کا نیا نیا شوق، بلکہ کسی حد تک جنون...

مکالمے کی نئی راہیں

محمد عامر خاکوانی

پچھلے ڈیڑھ دو برسوں کے دوران سوشل میڈیا سے میرا رابطہ خاصا بڑھا ہے۔ میری دلچسپی دوسری ویب سائیٹس میں پیدا نہیں ہو سکی، فیس بک البتہ شروع ہی سے مجھے دلچسپ لگی۔ میرے کئی دوستوں کو ٹوئٹر زیادہ پسند ہے اور ان کے خیال میں اس کے ذریعے زیادہ بہتر ابلاغ ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوتا ہوگا، مگر مجھے تو ٹوئٹر خاصا بور لگا۔ جو بات فیس بک میں ہے، وہ ادھر نہیں۔ ممکن ہے آگے جا کر ٹوئٹر میں دلچسپی پیدا ہو جائے۔ فیس بک کا ایک بڑا فائدہ میں نے یہ دیکھا کہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کا باہمی رابطہ او ر انٹرایکشن اس نے ممکن بنا دیا۔ متضاد سوچ کے حامل وہ لوگ جو کبھی ایک محفل...

کیا مرزا قادیانی ہوش مند اور ذی فہم شخص تھا؟

مولانا محمد یوسف لدھیانوی

مولانا عبد الماجد دریا آبادیؒ مرزا قادیانی کو غیر معمولی عقل و علم کا شخص اور فہیم و ذی ہوش کا لقب پوری سادگی کے ساتھ دیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی شخصی زندگی کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے، اس کی طفلی، شباب اور پیری کے واقعات اور احوال پر نظر غائر رکھنے، اس کے تمام معاملات پر غور کرنے، اور اس کی تحریرات کو بنظر صحیح دیکھ جانے کے بعد میرا خیال تھا کہ کوئی شخص بشرطِ عقل سلیم اس کو زیرک، دانا، عاقل، عالم، ذی فہم اور ہوش مند قرار نہیں دے سکتا، الّا یہ کہ خود اسی کے حواس ماؤف ہوگئے ہوں۔ پہلی دفعہ مولانا کی تحریر پڑھ کر یہ جدید انکشاف ہوا کہ مرزا...

مادی ترقی کا لازمہ ۔ واہمہ یا حقیقت؟

محمد ظفر اقبال

یہ زمانہ انسانی فکر اور معاشرے کی ہر سطح پر مغربی افکار اور تہذیب کے غلبے کا زمانہ ہے۔ جدید مغربی تہذیب اپنی ابتدا سے اب تک خالص مادیت کی علم بردار رہی ہے۔ مادی ترقی [material progress] ہی کے باعث مغرب آج پوری دنیا پر عملاً متصرف ہے۔ ماریہ سبرٹ لکھتی ہیں: It was progress which had permitted Europeans to 'Discover' the whole world, and progress which would explain their growing hegemony over the global horizon.۱؂ اس حقیقت کے بالمقابل یہ بھی امر واقعہ ہے کہ مسلمان مادی ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔ مغرب کی مادی ترقی اور فتوحات کا عروج، امت مسلمہ پر مغرب کے تسلط اور یلغار کی مسلسل اور متواترسرگرمیاں اور مسلمانوں کی استخلاف فی...

مطالعہ سیرتؐ کے روایتی اور غیر روایتی پہلو

ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی

میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ پاکستان آنے کے بعد مجھے مسلسل آپ حضرات سے رابطے اور اپنی باتیں اور معروضات پیش کرنے کا موقع ملتا ہے، سعادت ملتی ہے۔ سیرت نبویؐ بنیادی طور پر اس خاکسار کا حوالہ بن گئی ہے کہ عام طور پر اسی موضوع پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جدید دور میں جتنے کام اس وقت ہو رہے ہیں، بلا تکلف یہ عرض کر سکتا ہوں کہ پاکستان میں اس کی مختلف جہات پر بہت عمدہ، اچھا اور وسیع کام ہو رہا ہے۔ اردو میں جتنا کام اس وقت پاکستان میں ہوا ہے، وہ دوسرے مقامات پر نہیں ہو سکا۔ ایک تجزیے کے مطابق عربی میں اتنا اچھا کام ابھی تک نہیں ہو پایا ہے جتنا یہاں...

اسلامی قانون کی تشکیل نو : درپیش چیلنج اور محدود فکری رویے

ڈاکٹر محمود احمد غازی

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے بڑی ریاست چھوڑی جو کم و بیش بائیس لاکھ مرب کلو میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی جس میں آبادی کا اندازہ ایک ملین کے قریب تھا جن میں ایک چوتھائی کے قریب صحابہ کرامؓ تھے۔ باقی لوگوں کا شمار تابعین میں ہوتا تھا۔ اسلامی ریاست میں مختلف علاقوں میں عمال حکومت مقرر تھے۔ محصلین زکوٰۃ ہر صوبے، علاقے اور ہر قبیلے میں مقرر کیے جا چکے تھے۔ ہر علاقے میں فیصلہ کرنے والے قاضی اور فتویٰ دینے والے مفتی موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی فرمانے...

خاطرات

محمد عمار خان ناصر

علم الکلام کی اصطلاح اگرچہ علمی وفنی لحاظ سے ایسے جدلیاتی مباحث کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن میں کسی مخصوص الٰہیاتی اور اعتقادی مسئلے کا اثبات یا تردید مقصود ہو، تاہم اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مسائل ومباحث کو براہ راست موضوع بحث بنانے کے علاوہ ایسی عمومی حکمت عملی وضع کرنا اور اس کے خط وخال کی وضاحت کرنا بھی اس علم کے دائرے میں ہی شمار ہوگا جس کا مقصد غلط نظریات اور باطل فلسفوں کے منفی اثر سے ذہنوں کو بچانا اور اسلامی عقائد ونظریات کی حقانیت اور صداقت کا یقین دلوں میں راسخ کرنا ہو۔ یہ پہلو عام طور سے علم الکلام سے متعلق تحریروں...

دیسی سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

۵) سیکولر ریاست خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہوتی ہے۔ سیکولر لوگ اکثر یہ راگ الاپتے بلکہ اس راگ کے ذریعے اہل مذہب پر رعب جمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو ’سیکولرازم کا مطلب ریاست اور مذہب میں جدائی ہے اور بس، سیکولر ریاست کا کوئی اخلاقی ایجنڈہ (دین) نہیں ہوتا اور یہ خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہوتی ہے‘۔ اس دعوے کا مقصد یہ ثابت کرنا بلکہ دھوکہ دینا ہوتا ہے کہ (۱) چونکہ سیکولر ریاست ایک پوزیٹو (positive، حقیقت جیسی کہ وہ ہے ) ریاست ہوتی ہے نہ کہ نارمیٹو (normative، حقیقت جیسی کہ اسے ہونا چاہئے )، (۲) اسی لئے سیکولر ریاست کسی تصور خیر کی بیخ کنی نہیں کرتی،...

’’جمہوری و مزاحمتی جدوجہد‘‘ ۔ ایک تجزیاتی مطالعہ

محمد رشید

’’الشریعہ‘‘ کے مدیر اعلیٰ مولانا زاہد الراشدی صاحب کچھ عرصہ سے تسلسل کے ساتھ نفاذ اسلام کے لیے آئینی اور جمہوری جدوجہدکی تلقین فرما رہے ہیں اور مسلح مزاحمت کے مقابلے میں غیر مسلح مزاحمت کے طریق کار کی دعوت پیہم اصرار سے دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کسے کہتے ہے؟ اور غیر مسلح مزاحمت کیا ہے؟ مسلح مزاحمت کیا ہے؟ مسلح مزاحمت یا مسلح بغاوت دراصل کسی کمزورفریق کے مقابلہ میں بے حد طاقتور فریق کے ظلم، جبراورآمرانہ سوچ اورشکنجہ کو بے رحمی سے اس کمزورفریق پرمسلط کرنے کے نتیجہ میں رونما ہوتا ہے۔مسلح بغاوت یا مزاحمت درحقیقت...

شریعت کی تعبیر اور دستور کی اسلامیت اور کی بحث

عمران احسن خان نیازی

ان دنوں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کون سی شریعت پاکستان میں نافذ کی جائے گی ؟ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بہت سے فرقوں اور شریعت کی بہت سی تعبیرات کی موجودگی میں کس کی تعبیر نافذ کی جائے گی ، بالخصوص اب جبکہ بعض لوگوں نے شریعت کے نفاذ کے لیے ہتھیار بھی اٹھالیے ہیں ؟ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ پاکستان کے دستور اور قانون کی رو سے پاکستان میں "عدلیہ کی شریعت " نافذ کی جائے گی۔ اس بات کی مختصر توضیح ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔ دستور کی دفعہ 227 ( ا) دو ذمہ داریاں عائد کرتی ہے: اولاً یہ کہ ’’تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت میں مذکور احکامِ...

دیسی سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

(۱) کون سا اسلام جناب، کیونکہ مولویوں کا اسلامی احکامات کی تشریح میں اختلاف ہے، لہٰذا جب تک یہ اختلافات ختم نہیں ہوجاتے اسلام کو اجتماعی نظم سے باہر رکھو۔ (۲) ٹھیک ہے اختلافات ہمارے درمیان بھی ہیں، مگر ہم لڑتے تو نہیں نا ، مولوی تو لڑتے ہیں ایک دوسرے کو کافر و گمراہ کہتے ہیں۔ (۳) عقل پر مبنی نظام مذہب کی طرح ڈاگمیٹک نہیں ہوتا۔ (۴) عقلی نظام تبدیل ہوسکتا ہے، لہٰذا یہ اختلافا ت رفع کا بہتر فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ (۵) سیکولر ریاست خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہوتی ہے۔ (۶) چونکہ سیکولر ریاست کا کوئی اخلاقی ایجنڈا نہیں ہوتا، لہٰذا یہ کسی تصور خیر کی...

فکرِ مغرب: بعض معاصر مسلم ناقدین کے افکار کا تجزیہ (۲)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

جہاں تک سائنس اور اخلاقی اقدار کے باہمی تعلق کا سوال ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی چیز جو حقیقتِ مطلقہ کے عرفان کااہم ذریعہ ہواسے لازماً اعلی اخلاقی اقدار کے حصول کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔لیکن حادثہ یہ ہوا کہ مغرب میں نشأۃِ ثانیہ کے دور میں جب مذہب اور سائنس میں جدائی واقع ہوئی تو اہلِ سائنس نے ردعمل میں جہاں مذہب کو سائنس کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتے ہوئے رد کردیا وہاں مذہبی اخلاقی اقدار سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی ۔جب سائنس کا مذہبی اخلاقیات سے کوئی علاقہ نہ رہا تو ظاہر ہے اس میں وہی اخلاقیات داخل ہونا تھیں جو اس سے متعلق لوگوں کی اخلاقیات...

غزالی اور ابن رشد کا قضیہ ۔ اصل عربی متون کی روشنی میں (۲)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

(۳) آپ جان چکے ہیں کہ غزالی نے ’’مسلم‘‘ فلسفیو ں کی طرف جن ہفوات کی نسبت کی ہے، ابنِ رشد ان ہفوات کی ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کی طرف نسبت کو غلط ثابت نہیں کرپائے، بلکہ لگتا ہے کہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں تھا۔ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں سے منسوب جن دو ہفوات کا ہم نے حوالہ دیا ہے، ان کے ضمن میں ابن رشد کا رویہ سامنے آچکا ہے کہ وہ ان جیسے مسائل میں بوعلی سینا وغیرہ کو ناقل کی بجائے الٹا موجدِ اول نام زد کردیتے ہیں اور یوں بوعلی سینا وغیرہ کے خلاف غزالی کی ’’چارج شیٹ‘‘ کو اور بھی زیادہ مضبوط بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی آپ جان چکے ہیں کہ غزالی نے جہاں فلاسفہ کی...

فکرِ مغرب : بعض معاصر مسلم ناقدین کے افکار کا تجزیہ (۱)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

مغربی فکر سے متعلق ہمارے یہاں کے علمی حلقوں میں بالعموم دو رویے پائے جاتے ہیں۔ایک یہ کہ مغربی فکر معیارِ حق ہے،اس کے حاصلات کو نہ صرف یہ کہ رد نہیں کرنا چاہیے بلکہ نعمتِ غیر مترقبہ سمجھتے ہوئے قبول کر لینا چاہیے۔اس رویے کے حامل مذہبی عقائد و نظریات کے مغربی نتائجِ فکر سے تطابق کومعراجِ علم خیال کرتے ہیں۔ان کے نزدیک مذہب کی اس دور میں سب سے بڑی خدمت اس کے ذریعے یہ ثابت کر دینا ہے کہ اے مغرب:مستند ہے’’تیرا‘‘ فرمایا ہوا۔ یہاں تک کہ وہ اس کوشش میں مسلمات و بدیہیاتِ دین کو بھی تاویل کی سان پر چڑھا دیتے ہیں۔ دوسرا رویہ یہ ہے کہ مغربی فکر اور اس...

مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح ۔ ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے استدلال کا تنقیدی جائزہ

مولانا سید متین احمد شاہ

جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی علوم کے سربراہ ڈاکٹر محمد شکیل اوج نے اپنی سرپرستی میں شائع ہونے والے مجلے شش ماہی ’’التفسیر‘‘ میں اس کے جواز کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا جو اب ان کے مجموعہ مضامین ’’نسائیات‘‘ میں شامل ہے۔یوں تواس مجموعے کے مختلف مندرجات پر گفتگو کی جاسکتی ہے تاہم اس وقت پیش نظر اسی مضمون ’’محصنین اہلِ کتاب سے مسلم عورتوں کا نکاح‘‘پر اپنی ناچیز معروضات پیش کرنا مقصود ہے۔ عہد جدید کے تہذیبی و تمدنی ارتقا اورمشرق و مغرب کے فکری تصادم کے نتیجے میں کئی ایسے مسائل اہلِ علم کے سامنے آئے جن سے گزشتہ دور کے اہلِ علم کو واسطہ پیش...

امارت اسلامیہ کا قیام اور سقوط ۔ افغان طالبان کا نقطہ نظر

ادارہ

(زیر نظر سطور امارت اسلامیہ افغانستان کے سرکاری ترجمان ماہنامہ ’’شریعت‘‘ کے شمارہ نومبر/ دسمبر ۲۰۱۳ء میں ’’۱۵؍محرم: افغان عوام کی فتح کا دن‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے ایک مضمون سے ماخوذ ہیں۔ امارت اسلامیہ اور القاعدہ کے مابین تعلق کی نوعیت کے ضمن میں افغان طالبان کے موقف کے حوالے سے اہمیت کے پیش نظر اس حصے کو یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ اہل دانش کی طرف سے اس موضوع پر سنجیدہ تجزیاتی تحریروں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ مدیر)۔ طالبان تحریک کا ظہور وقت اور حالات کا ایک مثبت رد عمل تھا۔ یہ ایک مسلح تحریک تھی جس نے افغانستان کو ٹوٹنے، بکھرنے،...

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

مساواتِ عامہ اور آزادی۔ لبرل جمہوریت میں ریاست کے تمام باشندے جنسی،مذہبی،سیاسی اور معاشرتی ہر اعتبار سے مساوی سمجھے جاتے ہیں اور ہر ایک کو ہر قسم کے افعال،اعمال اور نظریات اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے ،بشرطیکہ یہ آزادی امنِ عامہ اور ریاست کے نظم و نسق میں رکاوٹ نہ بنے۔جمہوریت کی اسلام کاری میں اس اصول میں درج ذیل ترامیم کرنی ہوں گی۔ 1۔اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی علاقہ،رنگ و نسل اور زبان کے اعتبار سے انسان مساوی حیثیت رکھتے ہیں،البتہ اسلام انسانوں کو مومن اور کافر دو بڑے گروہوں میں تقسیم کرتا ہے ۔اسلامی ریاست میں کفاراور غیر مسلموں...

دینی رسالے ہائیڈ پارک نہیں بن سکتے

فصیح احمد

محترم مکرم و معظم جناب زاہد الراشدی صاحب نے نومبر ۲۰۱۳ء کے الشریعہ میں ’’الشریعہ اور ہائیڈیارک‘‘ کے عنوان سے ادارتی کلمات میں راقم کے البرہان ستمبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہونے والے مضمون ’’تار عنکبوت‘‘ کو اپنے موقف کو موکد کرنے کے لیے پیش کیا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ حضرت والا نے میری تحریر سے وہ نتائج اخذ فرمائے جو راقم کی تحریر کے منشاء، مدعا، مقصد، سے کوئی مطابقت ہی نہیں رکھتے۔ اس التباس ذہنی یا انتشار فکری کا سبب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ حضرت والا ہر دینی رسالے کو ہائیڈیارک کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ہر رنگ کا پھول کھلا ہو ، ہر...

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

سولہویں صدی میں مارٹن لوتھر کی اصلاح مذہب کی تحریک مغربی دنیا میں انقلابات اور تبدیلیوں کا نکتہ آغاز ثابت ہوئی اور مغربی دنیا انقلاب ،تبدیلی ،جدیدیت،پرانے تصورات و مفروضات کی بیخ کنی،مذہب پرستی اور کسی مابعد الطبیعی طاقت کوماننے کی بجائے انسانیت پرستی اور عقل پرستی کی ایک ایسی شاہراہ پر گامزن ہوئی، جس نے حیاتِ انسانی کا ہر شعبہ مکمل طور پر تبدیل کیا۔مغربی مفکرین و فلاسفہ نے انسانیت پرستی،مساوات ،ترقی،آزادی اور عقل پرستی کا نعرہ کچھ اس انداز سے لگایا کہ مغربی دنیا کا ہر فرد اپنے ماضی سے لاتعلقی،مذہب سے بیزاری اور ان مفکرین کے طے کردہ...

الشریعہ اور ہائیڈ پارک

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہمارے انتہائی مہربان اور فاضل دوست پروفیسر ڈاکٹر محمد امین صاحب کی زیر ادارت لاہور سے شائع ہونے والے اہم علمی و فکری جریدہ ماہنامہ ’’البرہان‘‘ کے ستمبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں جامعہ ہمدرد کراچی کے ایک فاضل بزرگ جناب فصیح احمد کا مضمون ’’تار عنکبوت‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مولانا وحید الدین خان کے بعض افکار کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے اور اس میں ’’الشریعہ‘‘ کی پالیسی کے حوالہ سے بھی کچھ ارشاد فرمایا ہے جو درج ذیل ہے: ’’ایک بات ہم مدیر البرہان ڈاکٹر محمد امین صاحب کی خدمت میں بصد احترام عرض کرنا چاہتے ہیں کہ البرہان ایک نظریاتی،...

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ دنوں بعض عسکریت پسند گروہوں کی طرف سے اس مضمون کے بیانات اخبارات میں شائع ہوئے کہ حکومت پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے آئین کی بات کرتی ہے جبکہ ہم شریعت کی بات کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ بہت سے عسکریت پسند گروپوں کے نزدیک دستور پاکستان اور شریعت اسلامیہ ایک دوسرے کے مد مقابل اور حریف ہیں جبکہ یہ خیال درست نہیں ہے اور اس مغالطے کو فوری طور پر دور کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت...

اخلاقیات کی غیر الہامی بنیادوں کا داخلی محاکمہ

محمد زاہد صدیق مغل

جدید زمانے کے مذہب مخالفین، خود کو عقل پرست کہنے والے اور چند سیکولر لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اخلاقیات (خیرو شر، اہم و غیر اہم)یعنی قدر کا منبع الہامی کتاب نہیں ہونا چاھئے (کیوں؟ بعض کے نزدیک اس لیے کہ مذہبی اخلاقیات ڈاگمیٹک ہوتی ہیں، بعض کے نزدیک اس لیے کہ ان کی عقلی توجیہہ نہیں ہوتی اور بعض کے نزدیک اس لیے کہ وہ سرے سے وحی کو علم ہی نہیں مانتے، مگر یہ ’کیوں‘ فی الحال ہمارے لیے اہم نہیں )۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ اچھا یہ بتاؤ کہ پھر اخلاقیات کی بنیاد کیا ہے تو انکے مختلف لوگ مختلف دعوے کرتے ہیں۔ اس مختصر مضمون میں ہم اخلاقیات کی انہی معروف غیر...

مغرب میں مطالعہ اسلام کی روایت / قصاص کے معاملے میں ریاست کا اختیار

محمد عمار خان ناصر

مغرب میں مطالعہ اسلام کی روایت۔ گزشتہ دو تین صدیوں میں مغربی اہل علم اور محققین اپنی مسلسل اور اَن تھک کوششوں کے نتیجے میں اسلام، اسلامی تاریخ اور مسلم تہذیب ومعاشرت کے مطالعہ وتجزیہ کے ضمن میں ایک مستقل علمی روایت کو تشکیل دینے میں کامیاب رہے ہیں جو اہل مغرب کے اپنے تہذیبی وفکری پس منظر اور ان کے مخصوص زاویہ نگاہ کی عکاسی کرتی ہے اور جسے نہایت بنیادی حوالوں سے خود مسلمانوں کی اپنی علمی روایت کے بالمقابل ایک متوازی علمی روایت قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ روایت مسلمانوں کی تاریخ وتہذیب اور مذہب وثقافت سے متعلق جملہ دائروں کا احاطہ کرتی ہے اور...

برصغیر میں برداشت کا عنصر ۔ دو وضاحتیں

مولانا مفتی محمد زاہد

’’بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر‘‘ کے عنوان سے میرا ایک مضمون دو قسطوں میں الشریعہ میں شائع ہوا جو در حقیقت پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی طرف سے شائع ہونے والے ایک کتابچے کا ابتدائی حصے کے علاوہ باقی حصہ تھا۔ الحمد للہ اس کتابچے اور مضمون کو بہت پذیرائی ملی، بلکہ اتنی پذیرائی کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ میں نے ایک فضول کام کیا ہے۔ اس لیے کہ جس بات کو سب مان رہے ہیں، اسے ثابت کرنا تحصیل حاصل کی طرح ہے۔ پذیرائی اور حوصلہ افزائی کرنے والے تمام حضرات کا شکریہ۔ تاہم بہت جلد اس وقت یہ احساس ہوا کہ واقعی یہ باتیں عرض کرنے کی ضرورت تھی...

مفتی محمد زاہد صاحب کے موقف پر ایک تحقیقی نظر (۲)

مولانا عبد الجبار سلفی

فاضل مضمون نگار نے مولانا عبدالحئی فرنگی محلی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ لکھنؤ کے باسی تھے جو اہل تشیع کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مولانا عبدالحئی کا کثرتِ مطالعہ بھی ضرب المثل ہے، اس لیے یہ بات بعید سی ہے کہ لکھنؤ جیسے شہر میں رہتے ہوئے وہ شیعہ مذہب سے ناواقف ہوں۔ مولانا لکھنوی کے مجموعۃ الفتاوی میں بڑی تعداد میں ایسے فتاوی موجود ہیں، جن میں انہوں نے عام اہل تشیع کی تکفیر کا فتویٰ نہیں دیا۔ الخ۔ تبصرہ۔ مبالغہ آرائی اہلِ علم کے وقار کو بہت دھچکا لگاتی ہے۔ عدم تکفیر پر مولانا عبدالحئی لکھنوی کے ’’بڑی تعداد‘‘ کے فتاویٰ میں سے کوئی تھوڑی سی تعداد اگر...

اختلاف رائے کے دائرے، حدود اور آداب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۷۔۱۸ جون کو ’’معاشرہ میں باہمی احترام اور رواداری کے فروغ میں ائمہ و خطبا کا کردار‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینار کی آخری نشست میں گفتگو۔)۔ بعد الحمد والصلوٰۃ! اگرچہ میری گفتگو کا عنوان ’’مختلف فقہی مذاہب سے استفادہ کی صورتیں‘‘ بتایا گیا ہے لیکن میں اس ورکشاپ کے عمومی موضوع کے حوالہ سے بھی کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ معاشرہ میں باہمی احترام اور رواداری کے فروغ میں علماء کرام اور ائمہ و خطباء کے کردار کے ایک پہلو کے بارے میں شرکاء محفل کو توجہ دلانا مناسب سمجھتا ہوں کہ...

اسلامی نظریاتی کونسل اور ڈی این اے ٹیسٹ

ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

پچھلے دنوں اسلامی نظریاتی کونسل نے کچھ سفارشات پیش کی ہیں جن میں ’’زنا بالجبر‘‘کے کیس میں DNA ٹیسٹ کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے حوالے سے ایک سفارش بھی شامل ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’زنا بالجبر‘‘ کا کیس ثابت کرنے کے لیے DNA ٹیسٹ قابل بھروسہ نہیں ہے، البتہ اسے ثانوی ثبوت کے طور پر مد نظر رکھا جا سکتا ہے۔ ہم اس حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری روایتی دینی تعبیر میں زنا ’’مستوجبِ حد‘‘ (چاہے وہ بالرضا ہو یا بالجبر) کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے جو واحد طریقہ کار قابل قبول ہے وہ یہ ہے کہ چار مسلمان، عاقل ، بالغ، تزکیۃالشہود کے معیار...

مفتی محمد زاہد صاحب کے موقف پر ایک تحقیقی نظر (۱)

مولانا عبد الجبار سلفی

معاصر ماہ نامہ الشریعہ گوجرانوالہ، بابت جون ۲۰۱۳ء میں جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’برصغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر ’’پہلی قسط کے طور پر شائع ہوا۔ فاضل مضمون نگار نے برصغیر پاک و ہند کی مذہبی و دینی روایات میں عدمِ برداشت، اشتعال اور فرقہ وارانہ تقسیم پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ عدمِ برداشت کا تعلق فقط مذہب، مسلک، فرقہ اور عقائد و نظریات سے ہے یا علاقائی، موسمی، خاندانی اور ذاتی مزاج بھی اس میں مدخل ہیں، ہمیں فاضل مضمون نگار کے عنوان اور زیر...

بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر (۲)

مولانا مفتی محمد زاہد

بر صغیر میں فرقہ وارانہ تقسیم کا ایک اہم زاویہ حنفی اور اہلِ حدیث تقسیم ہے۔ اگرچہ دونوں طرف کے حضرات کے درمیان مناظرہ بازی اور کبھی کبھار دشنام بازی بھی ہوتی رہی ہے، لیکن دونوں طرف کے سنجیدہ اور راسخ علم رکھنے والی شخصیات نے ہمیشہ نہ صرف یہ کہ اس اختلاف کو اپنی حدود میں رکھنے کی کوشش کی بلکہ ایک دوسرے کے احترام کی مثالیں بھی قائم کیں۔ اس سلسلے میں چند واقعات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ حنفی، اہلِ حدیث اختلاف کا ایک اثر جو دینی مدارس میں درس و تدریس کے ماحول پرمرتب ہوا اور پھر عوامی ماحول بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، یہ تھا کہ درس و...

تحفظ ناموس رسالت

ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا زاہد الراشدی بہت بالغ نظر عالم ہیں۔ ان کی نظر میں بلوغت ہی نہیں بلکہ گہرائی و گیرائی بھی ہے۔ حالات کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔ بین السطور معاملہ پڑھ لینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور جلد معاملے کی تہہ تک پہنچ جانا ان کا وصف ہے۔ مولانا ناخن گرہ کشا بھی رکھتے ہیں جن کی وجہ سے بڑی بڑی پیچیدہ اور الجھی گتھیاں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں آزاد کشمیر میں تھے۔ جہاں توہین قرآن کے حوالے سے حالات نازک ہو گئے۔ مولانا کی گرہ کشائی کی صلاحیت بروقت کام آئی اور معاملات کنٹرول میں آگئے۔ وگرنہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر لوگوں کے لیے حالات بہت...

مغربی اجتماعیت : اعلیٰ اخلاق یا سرمایہ دارانہ ڈسپلن کا مظہر؟ (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

غربت اور افلاس کا فروغ اور اس کے مجوزہ حل۔ ذرائع پیداوار پر مارکیٹ ڈسپلن کے غلبے کے نتیجے میں غربت و افلاس ،معاشی و سماجی ناہمواریوں اور استحصال نے جنم لیا۔ (یہاں اس بات کا دھیان رہے کہ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام میں لوگوں کی مطلق آمدن (absolute income) میں اضافہ ہونے کی بنا پر مطلق (absolute) غربت تو کم ہوجاتی ہے، البتہ اضافی (relative) آمدنیوں کا تفاوت اور اضافی غربت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سرمایہ دارانہ معاشرے میں لوگوں کی آمدنیوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ۹۸ فیصد لوگ خود کو محروم اور ناخوش محسوس کرتے ہیں)۔ اس کی بنیادی طور پر چند وجوہات...

مولانا مودودیؒ اور مولانا ہزارویؒ کے حوالے سے مباحثہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مولانا محمد چراغؒ کے حوالے سے کچھ عرصے سے ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر بحث جاری ہے اور چونکہ اب یہ بحث مکالمہ کے بجائے مورچہ بندی کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، اس لیے مزید تکرار سے بچنے کے لیے ہم نے اس کو یہیں ختم کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسا کہ کئی بار عرض کیا جا چکا ہے، ’’الشریعہ‘‘ کو علمی، فکری، تاریخی اور دیگر متعلقہ مسائل پر باہمی مباحثہ و مکالمہ کا فورم ضرور بنایا گیا ہے، لیکن ہم اسے صرف مکالمہ کی حد تک رکھنا چاہتے ہیں اور مناظرہ و محاذ آرائی...

چراغ علم و حکمت

مولانا حافظ محمد عارف

ماہنامہ الشریعہ کے فروری 2013ء کے شمارہ میں خواجہ امتیاز احمد صاحب (سابق ناظم اسلامی جمعیت طلبہ گوجرانوالہ )کا ایک مضمون شائع ہوا، جو چوہدری محمد یوسف صاحب ایڈووکیٹ (سابق رکن جماعت اسلامی)کے مضمون کے جواب میں تھا۔ جس میں جماعت اسلامی کے بارے میں اظہار خیال کیا گیا تھا۔خواجہ امتیاز احمد صاحب نے اپنے مضمون کے شائع ہونے کے بعد مئی 2013ء کے شمارہ میں ایک مکتوب کے ذریعے مولانا فیاض صاحب کے استفسار پر چند وضاحتیں کیں۔ جن میں مولانا غلام غوث ہزاروی علیہ الرحمۃ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ کو سیاہ دل کہا...

بعض مسائل کے حوالے سے امام اہل سنتؒ کا موقف

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برادر عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن سلمہ نے ایک خط میں، جو ’الشریعہ‘ کے اسی شمارے میں شامل اشاعت ہے، اس طرف توجہ دلائی ہے کہ گزشتہ شمارے کے ’کلمہ حق‘ میں عید کی نماز سے پہلے تقریر، ہوائی جہاز میں نماز اور نمازِ تراویح کے بعد اجتماعی دعا کے حوالے حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ کے موقف کی درست ترجمانی نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں: o عید سے پہلے تقریر کے بارے میں ایک مختصر سا مکالمہ درج کر دیتا ہوں جو حضرت والد محترمؒ کی وفات سے چند ماہ پہلے کا ہے اور برادرم مولانا قاری حماد الزھراوی سلّمہ کی موجودگی میں ہوا تھا۔ عید سے...

’’الشریعہ‘‘ بنام ’’ضرب مومن‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے کچھ عرصہ سے ’’ضرب مومن‘‘ اور ’’اسلام‘‘ میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے خلاف باقاعدہ مورچہ قائم کر رکھا ہے اور وہ خوب ’’داد شجاعت‘‘ پا رہے ہیں۔ ہم نے دینی وعلمی مسائل پر اختلافات کی حدود کے اندر باہمی مکالمہ کی ضرورت کا ایک عرصے سے احساس دلانا شروع کر رکھا ہے اور اس میں بحمد اللہ تعالیٰ ہمیں اس حد تک کامیابی ضرور حاصل ہوئی ہے کہ باہمی بحث ومباحثہ کا دائرہ وسیع ہونے لگا ہے اور پیش آمدہ مسائل ومعاملات کے تجزیہ وتحقیق اور تنقیح وتحلیل کے ذریعے اصل صورت حال معلوم کرنے کا ذوق بیدار ہو رہا ہے اور...

بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر (۱)

مولانا مفتی محمد زاہد

ایشیا کا وہ خطہ جو بر صغیر کہلاتا ہے ، بالخصوص اس کے وہ علاقے جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں یا بڑی تعداد میں آباد ہیں یہ ہمیشہ سے ہی مختلف تہذیبوں کی آماج گاہ اور ان کی آمد و رفت کا راستہ رہے ہیں۔ اس لیے تہذیبی اور ثقافتی تنوع یا اختلافات کا ذائقہ یہ خطے چکھتے چلے آئے ہیں اس کے جو اثرات اس خطے کی اجتماعی نفسیات پر بھی پڑے ہیں وہ ایک مستقل مطالعے کا موضوع ہوسکتے ہیں، یہاں بر صغیر میں صرف مسلمانوں کی دینی روایت کے حوالے سے بات کرنا مقصود ہے۔ بر صغیر میں مسلمانوں کی دینی روایت کو اگر دیکھا جائے تو اس میں فرقہ وارانہ تقسیم ، عدمِ برداشت کے بھی بہت...

مغربی اجتماعیت : اعلیٰ اخلاق یا سرمایہ دارانہ ڈسپلن کا مظہر؟ (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

مغربی اثرات کے تحت اسلامی دنیا میں بیسویں صدی کے دوران جو فکری مواد لکھا گیا اس کا ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ ’مغرب کی اجتماعی زندگی چند اعلی انسانی اخلاقی اقدار کا مظہر ہے، لہٰذا مغرب ہم سے بہتر مسلمان ہے بس کلمہ پڑھنے کی دیر ہے‘۔ یہی دعویٰ ان الفاظ میں بھی دہرایا جاتا ہے کہ ’اجتماعی زندگی کی تشکیل کے معاملے میں مغرب ہم سے بہت بہتر اقدار کا حامل ہے، البتہ ذاتی معاملات (مثلاً بدکاری، شراب نوشی وغیرہ کے استعمال ) میں کچھ نا ہمواریاں پائی جاتی ہیں‘۔ دوسرے لفظوں میں یہ دعویٰ کرنے والے حضرات یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مغرب کا اجتماعی نظم ’اسلامی تعلیمات...

عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف / امیر عبد القادر الجزائری: شخصیت وکردار کا معروضی مطالعہ

محمد عمار خان ناصر

عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف۔ دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ کے متعلق عام طور پر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ وہ جدید علوم سے واقفیت حاصل نہیں کرتے اور نتیجتاً دور جدید کے ذہنی مزاج اور عصری تقاضوں کے ادراک سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن میرے نزدیک اس طبقے کا زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ خود اپنی علمی روایت، وسیع علمی ذخیرے اور اپنے اسلاف کی آرا وافکار اور متنوع تحقیقی رجحانات سے بھی نابلد ہے۔ اس علمی تنگ دامنی کے نتیجے میں ا س طبقے میں جو ذہنی رویہ پیدا ہوتا ہے، وہ بڑا دلچسپ اور عجیب ہے۔ یہ حضرات اپنے محدود علمی...

جعلی مجاہد کی اصلی داستان

مفتی ابو لبابہ شاہ منصور

قارئین کرام! آپ کو علم ہوگا کہ ضرب مومن میں کتابوں پر تبصرے شائع نہیں کیے جاتے یا بہت ہی کم شائع کیے جاتے ہیں۔ نیز یہ بھی علم ہوگا (راقم الحروف پہلے بھی لکھ چکا ہے) کہ احقر کتابوں کا تعارف یا تقریظ لکھنے سے حتی الامکان کتراتا ہے۔ اپنی کتابوں پر بھی اپنے بڑوں کو تقریظ لکھنے کی زحمت دینا اچھا نہیں سمجھتا۔ مروجہ تقاریظ، کتاب، مصنف اور صاحب تقریظ سب کی ساکھ گرانے کا باعث لگتی ہیں۔ کتاب چاولوں کی دیگ نہیں کہ چند چاول دیکھ کر ساری دیگ کو دم لگ جانے کی خوشخبری سنا دی جائے، لیکن آج ا س اصول کو توڑتے ہوئے ہم اپنے آپ کو ایک انوکھی مجرمانہ کتاب کا تعارف...
< 151-200 (424) >
Flag Counter