مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح ۔ ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے استدلال کا تنقیدی جائزہ

مولانا سید متین احمد شاہ

(راقم نے یہ مقالہ رائے کے لیے مشفق مکرم جناب عمار خان ناصر صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ انھوں نے اس پر ایک تفصیلی رائے مرحمت فرمائی جس پر بعض مقامات پر اسلوبِ خطاب میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اس میں بیان کردہ نکات کو مقالے میں مندرج کرنے کے بجائے بلفظہ مستقلاً شامل کرنا مناسب معلوم ہوا جس کی وجہ ان کی علمی قدر وقیمت ہے، اس لیے اسے بحث کے مزید پہلووں کی توضیح کے لیے آخر میں درج کر دیا گیا ہے۔ متین احمد)


جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی علوم کے سربراہ ڈاکٹر محمد شکیل اوج نے اپنی سرپرستی میں شائع ہونے والے مجلے شش ماہی ’’التفسیر‘‘ میں اس کے جواز کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا جو اب ان کے مجموعہ مضامین ’’نسائیات‘‘ میں شامل ہے۔یوں تواس مجموعے کے مختلف مندرجات پر گفتگو کی جاسکتی ہے تاہم اس وقت پیش نظر اسی مضمون ’’محصنین اہلِ کتاب سے مسلم عورتوں کا نکاح‘‘پر اپنی ناچیز معروضات پیش کرنا مقصود ہے۔

عہد جدید کے تہذیبی و تمدنی ارتقا اورمشرق و مغرب کے فکری تصادم کے نتیجے میں کئی ایسے مسائل اہلِ علم کے سامنے آئے جن سے گزشتہ دور کے اہلِ علم کو واسطہ پیش نہیں آیا تھا۔ان مسائل کا تعلق زندگی کے کسی ایک پہلو سے نہیں بلکہ تقریبا تمام پہلوؤں سے ہے۔عقیدہ، عبادت، معاملات، معیشت ، سیاست۔۔۔ تمام میدانوں میں فکر کا ایک مستقل دھارا ہے جس کا سامنا امت کے اہلِ علم وفکرنے کیا ہے۔مغرب کی اس تہذیبی یلغار کے اثرات میڈیا کے ذریعے ہر سوچنے والے انسان تک رسائی حاصل کر چکے ہیں اور وہ ان سوالات کی چبھن اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔اس سنگینی کے اثرات کا سامنا ان مسلمانوں کو زیادہ ہے جو دیارِ غیر میں رہ رہے ہیں۔انھی مسائل میں سے ایک افسوس ناک مسئلہ مسلمان عورتوں کے غیر مسلم مردوں سے شادی کرنے کا بھی ہے۔ہمارے ملک میں تو شاید اس مسئلے کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں ہے، لیکن امریکا، کینیڈا ، افریقہ، ہندوستان وغیرہ میں مسلمان اس صورتِ حال سے دوچار ہو رہے ہیں۔ ایمانی کم زوری اور مادی چکا چوند نے نئی نسل کو اقبال کے بقول ہربند سے آزاد کر کے کعبے سے صنم خانے میں لا آباد کیا ہے۔ اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں کہ کوئی مسلمان لڑکی کسی کافر آشنا کے ساتھ چلی گئی اور شادی منعقد کر لی؛ اس لیے یہ سوال سوچنے والے اہل علم کے لیے تردد کا باعث ہے۔ 

غیر مسلموں سے نکاح کے سلسلے میں قرآنِ کریم کے تین مقامات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔سورۂ بقرہ میں مومن مردوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ مشرک عورتوں سے نکاح کریں، اسی طرح مسلمان مردوں کو اس بات سے بھی منع کیا گیا ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے کروائیں۔ ارشادِ خداوندی ہے:

وَلاَ تَنکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ، وَلأَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْْرٌ مِّن مُّشْرِکَۃٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْکُمْ، وَلاَ تُنکِحُوا الْمُشِرِکِیْنَ حَتَّی یُؤْمِنُوا، وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْْرٌ مِّن مُّشْرِکٍ وَلَوْ أَعْجَبَکُمْ، أُوْلَءِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ، وَاللّٰہُ یَدْعُوَ إِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِإِذْنِہِ، وَیُبَیِّنُ آیَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ (۱) 
’’اور (مومنو!) مشرک عورتوں سے جب تک ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے، اس سے مومن لونڈی بہتر ہے اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں، مومن عورتوں کو ان کی زوجیت میں نہ دینا کیوں کہ مشرک (مرد) سے خواہ تم کو کیسا بھلا لگے، مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘

اسی طرح سورۂ مائدہ میں مسلمان مردوں کے لیے حلال چیزوں کے بیان میں نکاح کا ذکر بھی ہے۔وہاں ان کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اہل کتاب میں سے محصن عورتوں سے نکاح ان کے لیے حلال ہے۔ ارشاد ہے:

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ (۲) 
’’اہل کتاب میں سے محصن عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔‘‘

مشرک کے معاملے میں مسلمان مرد اور عورت دونوں کو نہی ہے، لیکن اس آیت میں مسلمان مرد کو کتابی عورت سے نکاح کی اجازت تو دی گئی جبکہ مسلمان عورت کے کتابی مرد سے نکاح کے بارے میں سکوت اختیار کیا گیا ہے۔

سورۂ ممتحنہ میں ارشادہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا جَاءَ کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ، اللّٰہُ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِہِنَّ، فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ، لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّونَ لَہُنَّ (۳)
’’مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کر لو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔‘‘

ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے استدلال کی طرف آنے سے پہلے یہ دیکھنا مناسب ہے کہ امت کے مفسرین اور فقہا اس حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں۔ تفاسیر اور کتبِ فقہ کی مراجعت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورت کے غیر مسلم مرد سے نکاح کا قائل کوئی بھی قابلِ ذکر مفسر اور فقیہ نہیں رہا ہے اور اس کی حرمت پر چودہ سو سال میں امت کا اجماع رہا ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت میں صراحتاً مسلمان عورتوں کو مشرک مردوں کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر ایک مسلمان غلام کو ترجیح دی گئی ہے خواہ مشرک بظاہر متاثر کن ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت میں سب سے بنیادی اور قابلِ ترجیح چیز دین اور ایمان کا مسئلہ ہے۔ چناں چہ سورۂ بقرہ میں اس حکم کے ساتھ فرمایا گیا: أُوْلَئِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ (یہ مشرک لوگ جہنم کی طرف بلانے والے ہیں)۔ سورۂ مائدہ میں بھی اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا گیا : وَمَن یَکْفُرْ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِی الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (۴) (جو کوئی ایمان کا منکر ہو تو اس کا عمل برباد ہو گیا اوروہ آخرت میں خسارے میں چلا گیا۔)

نکاح کے سلسلے میں ایک حدیث شریعت کے اسی مزاج کو واضح کرتی ہے جس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ عورت سے نکاح اس کے جمال، مال، حسب ونسب اور دین کی وجہ سے کیا جا سکتاہے، لہٰذا انتخاب کرنے میں دین کو پیش نظر رکھا جائے۔ (۵) احکامِ شرعی کے پہلو بہ پہلو اس ایمانی اور دینی تذکیر کا مقصد یقیناًیہی ہے کہ یہ نکاح محض قضائے شہوت کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ تہذیب و تمدن کے عمیق رشتے مربوط ہیں اور شریعت جن مقاصد کے حصول کے لیے آئی ہے، ان میں نسل اور دین کی حفاظت کا گہرا تعلق اس نکاح کے ساتھ ہے۔اس وجہ سے مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر سے جائز نہیں ہے۔علامہ ابن جریر طبری سورۂ بقرہ کی آیت کے تحت بعض سلف کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

یعنی تعالی ذکرہ بذلک ان اللہ قد حرم علی المومنات ان ینکحن مشرکا کائنا من کان المشرک ومن ای اصناف الشرک کان، فلا تنکحوہن ایہا المومنون منہم فان ذلک حرام علیکم ولان تزوجوہن من عبد مومن مصدق باللہ وبرسولہ وبما جاء بہ من عند اللہ خیر لکم من ان تزوجوہن من حر مشرک ولو شرف نسبہ وکرم اصلہ وان اعجبکم حسبہ ونسبہ (۶)
’’اللہ تعالیٰ کا مقصود اس سے یہ ہے کہ اس نے مومن عورتوں پر یہ بات حرام کر دی ہے کہ وہ کسی مشرک سے نکاح کریں، خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اور اس میں جس نوعیت کا شرک بھی پایا جاتا ہو، اس لیے اے جماعتِ مومنین! تم ان عورتوں کا نکاح ان مشرک مردوں سے نہ کرو، کیوں کہ ایسا کرنا تم پر حرام ہے۔ان کا نکاح تم اللہ ، اس کے رسول اور اس کی طرف سے لائی گئی وحی پر ایمان رکھنے والے مومن غلام سے کرو، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کا نکاح کسی آزاد مشرک سے کر ڈالو؛اگرچہ اس کا حسب و نسب اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو اور اس کی خاندانی نسبت اور حسن وجمال تم کو متاثر ہی کیوں نہ کرے۔‘‘

اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شرک اپنے عموم پر ہے اوراس عموم کی وجہ بظاہر اس حکم کی علت ہے۔ جملہ أُوْلَئِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ ماقبل کے ساتھ بغیر عطف کے واقع ہوا ہے اور اس کی حیثیت یہاں استینافِ بیانی کی ہے جو ماقبل کلام سے پیدا ہونے سوال کا جواب ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ممانعت کی وجہ اور علت کیا ہے؟ اس کا جواب اس جملے میں دیا گیا ہے کہ یہ لوگ جہنم کے داعی ہیں، اس لیے ان کے ساتھ یہ نکاح منع ہے۔اگرچہ قرآن مجید میں مشرکین سے براہ راست مراد عام طور پر اس عہد کے مشرکین ہوتے ہیں، لیکن احکام کا تعلق ان کی علتوں کے ساتھ ہوتا ہے ، الا یہ کہ کوئی واضح دلیل آ کر یہ بتا دے کہ یہ حکم انہی افراد کے ساتھ خاص ہے۔ چناں چہ شرک کی یہ علت جہاں بھی پائی جائے گی، وہ دعوتِ جہنم کو مستلزم ہونے کی وجہ سے اس امتناع کا سبب قرار پائے گی اور اس کے دینی اور ایمانی نقصانات سے بچنا جہاں ممکن نہ ہو، وہاں اس کی بنیاد پر حکم کا ترتب ہو گا۔اصول ہے کہ اذا علق الشارع حکما علی علۃ فانہ یوجد حیث وجدت. (۷) (شارع نے کوئی حکم کسی علت کے ساتھ مربوط کیا ہو تو جہاں بھی وہ علت پائی جائے گی، وہ حکم بھی پایا جائے گا۔)

سورۂ ممتحنہ میں بھی مسلمان عورتوں کو کافروں کی طرف لوٹانے کی نہی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر جانبین سے حلال نہیں ہیں۔ یہاں بھی کفار سے مراعد سیاق وسباق کی روشنی میں مشرکین ہی ہیں۔اس لیے مسئلے کا نقطہ ارتکاز سورۂ مائدہ کی آیت ہے جس میں مومن مردوں کو مومن مسلمان عورتوں اور اہلِ کتاب کی پاک باز عورتوں سے نکاح کے حلال ہونے کو بیان کیا گیا۔اس آیت میں مسلمان عورت کو کتابی مرد سے نکاح کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا، لیکن آیا اس سکوت کی وجہ سے یہ مقام مجتہد فیہ بن گیا ہے اور حالات اور ظروف کے مطابق اس کا معاملہ مسلمانوں کی مرضی کے سپرد کر دیا گیا ہے؟ اس بات کو جاننے کے لیے اس آیت کو اس کے سیاق میں دیکھنا ضروری ہے۔ اصل میں یہ آیت سابقہ آیت سے مربوط ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا چیز حلال کی گئی ہے؟ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔‘‘ (۸) پھر اس آیت میں کچھ چیزوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ تمھارے لیے حلال ہیں۔ آگے زیر بحث آیت اصل میں اسی سوال کے جواب کا تسلسل ہے۔ شیخ محی الدین الدرویش نے اس کی نحوی تالیف اس طرح ذکر کی ہے۔ 

کلام مستانف مسوق لتکریر ذکر الطیبات التی احلت لکم یوم السوال عنہا او الیوم الذی اکملت لکم دینکم (۹) 
’’یہ کلام استینافی ہے جس کو انھی پاکیزہ چیزوں کے بیان کو تقویت بخشنے کے لیے لایا گیا ہے جن کو ان کے بارے میں سوال کے یا تکمیلِ دین کے زمانے میں حلال کیاگیا۔‘‘

گویا آیت اور ماقبل آیت کے درمیان حرفِ عطف کا نہ آنا اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں کلام میں بلاغت کی اصطلاح میں فصل بصورت اتحاد تام ہے، اور کلام کی جہت ایک ہی ہے۔جب یہ مقام حلال اور حرام جیسے نہایت نازک امورکی (نئے سرے سے یا تکریرِ سابق کے طور پر)تشریع کاہے تو پہلے اللہ تعالیٰ نے دونوں آیات میں عمومی انداز میں طیبات کا حلال ہونا بتایا، لیکن انسانی عقل یا فطرت کو اس سلسلے میں فیصل اور قطعی قرار نہیں دیا جا سکتا اور ان کے بارے میں ہر وقت یہ احتمال ہے کہ وہ اس معاملے میں غلطی کا ارتکاب کر دیں ، اس لیے حلال امور کو واضح طور پر بتا دیا گیا۔ ایک نازک معاملے میں سوال کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہاں جن امور کی حلت یا حرمت بیان کرنا مقصود ہے تو ان کے کسی فرد کے بارے میں کوئی احتمال یا گنجلک کو باقی نہ رہنے دیا جائے اور بات کو واضح کر کے بیان کر دیا جائے ، ورنہ یہ بات ایک حکیمانہ جواب کی عظمت کے منافی ہے۔اگر یہ مقام سوال کے جواب کا نہ ہوتا۔جہاں ایک کلامِ بلیغ کے مناسب وضاحت اصل ہے اور ابہام اس کی بلاغت کے منافی ہے۔ اور متکلم از خود کوئی تشریعی امور کو بیان کر رہا ہوتا تو یہ احتمال تھا کہ یہ مقام مجتہد فیہ ہو جائے، کیوں کہ بہ ہر حال حلال اور حرام کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اس میں اصل طیب ہونا ہے، لیکن ان طیبات کے مخصوص افراد میں مسلمان مرد کے کتابی عورت سے نکاح کے حلال ہونے کو بیان کر دینا اور اس کے برعکس صورت کو بیان نہ کرنا اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ یہاں اس طیب کا دائرہ مخصوص ہے؛ اس لیے کسی مسلمان عورت کا غیر مسلم کتابی سے نکاح درست نہیں ہو گا ’’کیوں کہ آیت میں صرف اہل کتاب عورتوں کے متعلق بتایا گیا ہے۔‘‘ (۱۰)

2۔ استدلال کے اس علمی پہلو کے علاوہ مسلمان عورت کے غیر مسلم کے ساتھ نکاح کے ناجائز ہونے کا دوسرا اہم پہلو مقاصدی ہے اور سورۂ بقرہ کی آیت کے ضمن میں مشرکوں کے ساتھ نکاح کے عدمِ جواز کی علت کے بیان میں، جیسا کہ ذکر ہوا، یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ اس کا تعلق دین اور ایمان کی حفاظت کے ساتھ ہے۔ سورۂ مائدہ کی مذکورہ بالا آیت کے ساتھ بھی وَمَن یَکْفُرْ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِی الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (اور جو کوئی ایمان کے ساتھ کفر اختیار کرے گا تو اس کا عمل اکارت جاے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا)۔ مسلمان مرد کو کتابی عورت کے ساتھ نکاح کرنے کو جائز کہنے کے باوجود قرآنِ کریم نے اصل مقصدی پہلو کو سامنے رکھا ہے اور وہ ہے ایمان اور دین کا پہلو۔ یہ جملہ معترضہ بتا رہا ہے کہ یہاں یہ اجازت ان کے تزکیہ حال کے لیے نہیں بلکہ تیسیر مسلمین کے لیے ہے۔(۱۱)

3۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے جس کی طرف مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اشارہ کیا ہے کہ یہاں یہ حکم اور اجازت اس دور میں دی گئی ہے جب اسلام کو مکمل غلبہ حاصل ہو چکا ہے، چناں چہ کہتے ہیں:

’’اس دور میں کفار کا دبدبہ ختم ہو چکا تھا اور مسلمان ایک ناقابل شکست طاقت بن چکے تھے۔ یہ اندیشہ نہیں تھا کہ ان کو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی تو وہ کسی احساس کمتری میں مبتلا ہو کر تہذیب اور معاشرت اور اعمال و اخلاق میں ان سے متاثر ہوں گے۔ بلکہ توقع تھی کہ مسلمان ان سے نکاح کریں گے تو ان کو متاثر کریں گے اور اس راہ سے ان کتابیات کے عقائد و اعمال میں خوشگوارتبدیلی ہو گی اور عجب نہیں کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں۔ علاوہ ازیں یہ پہلو بھی قابل لحاظ ہے کہ کتابیات سے نکاح کی اجازت بہرحال علیٰ سبیل التنزل دی گئی ہے۔ اس میں آدمی کے خود اپنے اور اس کے آل و اولاد اور خاندان کے دین و ایمان کے لیے جو خطرہ ہے، وہ مخفی نہیں ہے۔‘‘ (۱۲)

جناب جاوید احمد غامدی نے یہی بات بڑی جامعیت اور اختصار کے ساتھ بیان کی ہے، لکھتے ہیں:

’’آیت کے سیاق سے واضح ہے کہ یہ اجازت اس وقت دی گئی جب حلال و حرام اور شرک و توحید کے معاملے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔اس کے لیے آیت کے شروع میں لفظ ’’الیومَ‘ بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اجازت میں شرک وتوحید کے وضوح اور شرک پر توحید کے غلبے کو بھی یقیناًدخل تھا۔لہٰذا اس بات کی پوری توقع تھی کہ مسلمان ان عورتوں سے نکاح کریں گے تو یہ ان سے لازماً متاثر ہوں گی اور شرک وتوحید کے مابین کوئی تصادم نہ صرف یہ کہ پیدا نہیں ہو گا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں۔ یہ اس اجازت سے فائدہ اٹھاتے وقت اس زمانے میں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔‘‘ (۱۳) 

یہ بات بہت معنی خیز ہے کہ جب یہ غلبے کے دور کی بات ہے اور اس میں نکاح کی اجازت بھی صراحتاً مسلمان مرد کو دی گئی ہے جس کو بیوی پر ولایت کاملہ حاصل ہوتی ہے تو آخر اس غلبے کے عہد میں کسی مسلمان عورت کو یہ اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ اس عہد میں اسلام کی دعوت اپنے شباب پر تھی اور داعی اعظم کا وجودِمسعود خود امت میں موجود تھا جنھوں نے کفار کی تالیفِ قلب اور ان کو مسلم معاشرے میں جذب کرنے کے لیے ناقابلِ فراموش اقدامات کیے۔ کیا ان کو اس بات کی حرص نہیں ہو سکتی تھی کہ اس نکاح کو جائز قرا ر دیتے اور صحابہ کرام کو بھی اس کی ترغیب دیتے؟جب کہ صورتِ حال یہ ہے کہ اس وقت کا کوئی ایک واقعہ بھی اس نظریے کی تائید نہیں کرتا۔ مرد کو اجازت دے کر یہ مقصود بھی اسلام نے حاصل کر لیا اور یہاں تک گنجائش بھی تھی جس کو نظر انداز نہیں کیا گیا، لیکن عورت کے معاملے میں یہ مقصد حاصل ہونے کے بجائے اس اقدام کے Counter Productive ہونے کاغالب اور واضح امکان موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت عام طور پرتاثر پذیر ہوتی ہے اور مرد کی قوامیت میں ہوتے ہوئے یہ غالب امکان بلکہ امر واقعہ ہے کہ وہ مرد کی پسند اور ناپسندکے تابع ہوتی ہے، اس لیے یہ عین ممکن ہے کہ وہ (جس کو حدیث میں ناقصات العقل والدین کہا گہا ہے)مرد کے کافرانہ عقائد اور اعمال کو اختیار کر لے۔ عورت کی یہی انفعالیت اور تاثر پذیری ہے جس کی وجہ سے اسے شریعت اسلامی میں حکم و امامت کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

اسی بات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ مسلمان کے کافر عورت سے نکاح کرنے کے جواز اور برعکس صورت کے عدمِ جواز کے درمیان ایک فارق موجود ہے جس کی وجہ سے دونوں صورتوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، اور وہ یہ کہ مسلمان یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ کے تحت سابقہ انبیاء اور ادیان کے، نسخ سے پہلے صحیح ہونے پر ایمان رکھتا ہے۔یہ بات اس کے اسلام کی طرف آنے کا ایک مثبت باعث ہو سکتی ہے، جب کہ ایک نصرانی یا یہودی نہ مسلمانوں کے دین کو صحیح مانتا ہے اور نہ آپ کی نبوت پر ایمان رکھتا ہے۔ ان کا توحید بھی تثلیث جیسے شرک کی بدترین آلودگی میں ملوث ہے؛اس لیے مسلمان عورت کے لیے غالب امکان ہے کہ کافر اس کو اپنے دین کی طرف کھینچ لے۔ (۱۴)

علامہ عبداللہ یوسف علی کہتے ہیں:

A Muslim woman may not marry a non-Muslim, because her Muslim status would be affected: the wife ordinarily takes the nationality and status given by her husband's law. A non-Muslim woman marrying a Muslim husband would be expected eventually to accept Islam. (15) 
’’ایک مسلمان عورت ایک غیرمسلم مرد سے شادی نہیں کر سکتی، کیوں اس سے اس کے مسلمان ہونے کی حیثیت متاثر ہو گی۔ بیوی عام طورپر خاوند کے قانون کی طرف سے دی گئی قومیت اور حیثیت کو اختیار کرتی ہے۔ اس کے بر عکس ایک مسلمان سے شادی کرنے والی غیر مسلم عورت آخر کار اسلام قبول کر لے گی۔‘‘

وہبہ زحیلی اس حکمت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وسبب تحریم زواج المسلم بالمشرکۃ والمسلمۃ بالکافر مطلقا کتابیا کان او مشرکا ہو ان اولئک المشرکین والمشرکات یدعون الی الکفر والعمل بکل ما ہو شر یودی الی النار، اذ لیس لہم دین صحیح یرشدہم ولا کتاب سماوی یہدیہم الی الحق مع تنافر الطبائع بین قلب فیہ نور وایمان وبین قلب فیہ ظلام وضلال، فلا تخالطوہم ولا تصاہروہم اذ المصاہرۃ توجب المداخلۃ والنصیحۃ والالفۃ والمحبۃ والتاثر بہم وانتقال الافکار الضالۃ والتقلید فی الافعال والعادات غیر الشرعیۃ، فہولاء لا یقصرون فی الترغیب بالضلال مع تربیۃ النسل او الاولاد علی وفق الاہواء والضلالات (۱۶)
’’مسلمان مرد کے مشرک عورت کے ساتھ اور مسلمان عورت کے علی الاطلاق کافر مرد، خواہ وہ کتابی ہو یا مشرک، کے ساتھ نکاح کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مشرک مرد اور عورتیں، کفر اور واصل جہنم کرنے والے اعمالِ شرکے داعی ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے پاس باعث ہدایت کوئی صحیح دین اور حق کی طرف رہ نمائی کرنے والی کوئی آسمانی کتاب نہیں ہے، نیز نور وایمان اور ظلمت و ضلال کے دلوں کے فرق کے لحاظ سے ان کی طبیعتوں میں تضاد ہے، اس لیے نہ تو ان کے ساتھ اختلاط کرو اور نہ ان کے ساتھ رشتہ داریاں قائم کرو؛ کیوں کہ رشتے داریاں، تعلق باہمی، خیر خواہی، محبت و الفت، ان سے متاثر ہونے، گمراہ کن افکار کے منتقل ہونے اور غیر شرعی عادات و اعمال کی تقلید کا باعث ہوتی ہیں؛ اس لیے کہ یہ لوگ گم راہی کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اپنی خواہشات اور گم راہیوں کے مطابق نسل کی تربیت میں کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘ 

ایمان اور دین کا یہی وہ لازمی پہلو ہے جس کی وجہ سے امت کے متعدد فقہا نے دارالحرب اور دارالکفر میں کتابیات سے نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے۔ 

یہاں عہد صحابہ کے ایک واقعے کا ذکر مناسب ہوگا۔ حضرت حذیفہ بن یمانؓ نے ایک یہودی عورت سے شادی کی تو حضرت عمرؓ نے ان کو لکھا کہ اس کو طلاق دے دیں۔ حذیفہ نے ان کولکھا کہ اگر یہ حرام ہے تو طلاق دے دیتا ہوں۔ حضرت عمر نے جواباً تحریر فرمایا کہ میں نہیں کہتا کہ حرام ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان کی بیسواؤں کے چکر میں پڑ جاؤ گے۔ (۱۷) 

یہ نصیحت اس صحابی کو کی جا رہی ہے جس کا مزاج یہ تھا کہ لوگ حضور سے خیر کے سوالات پوچھتے تھے اور یہ شر کے سوالات دریافت کرتے تھے کہ کہیں فتنے میں نہ پڑ جائیں اور نصیحت کرنے والی شخصیت فاروقِ اعظم کی ہے جن کی ایمانی دوربینی اور بصیرت محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں صحابہ کا مزاج کیا تھا اور وہ ان امورمیں دینی مصالح کو کس طرح ترجیح دیتے تھے۔ اسی بات کے پیشِ نظر امام مالک کے نزدیک کتابیہ عورت سے نکاح مکروہ ہے۔ (۱۸)

مسلمان مرد کے غیر مسلم عورت سے نکاح کے بارے میں اس طویل عرض کا مقصود یہ تھا کہ اس اجازت میں شریعت اسلامی کا مزاج واضح ہو جائے کہ یہ اجازت کوئی اتنی پسندیدہ چیز نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت کو کسی کے نکاح میں دینا مرد کے نکاح کے مقابلے میں زیادہ نزاکت کا حامل ہو تا ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ عورت پر مرد کو کامل ولایت حاصل ہو تی ہے اور وہ اس کے عادات واطوار کے اپنانے میں منفعل مزاج ہوتی ہے۔کافر کے نکاح میں دینا یقینی اور بدیہی طورپر اس کے دین کی تباہی کے باعث ہو گا ، اس لیے اس سے نکاح کو شریعت بہ طریقِ اولیٰ نادرست قرار دے گی۔

بعض کتبِ تفسیر میں ایک روایت ان الفاظ میں ملتی ہے:

عن جابر بن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’نتزوج نساء اہل الکتاب ولا یتزوجون نساء نا‘‘. (۱۹)
’’حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں، لیکن وہ ہماری عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے۔‘‘

علامہ ابن کثیر یہ روایت نقل کرنے کے بعد ابن جریر طبری کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس روایت کی سند میں وجوہِ ضعف موجود ہیں، لیکن امت کے اجماع کی وجہ سے اس کو درست تسلیم کیا جائے گا۔ (۲۰)

اس بحث کے بعد ڈاکٹر شکیل اوج کے موقف سے تعرض کیا جا تا ہے۔ ڈاکٹر اوج نے اس مسئلے کے بیان کرنے سے پہلے ایک تمہید ذکر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے مشرکین سے دو طرفہ نکاح کی ممانعت کی ہے اور اہلِ کتاب سے یک طرفہ نکاح کی۔ مشرکین سے قرآنی اصطلاح کے مطابق صرف عہد نبی کے مشرکین مراد ہیں اور یہ ممانعت انہی کے ساتھ خاص ہے۔ اہل کتاب سے نکاح کے معاملے میں یک طرفہ جواز کو بیان کیا گیا ہے اور جانب ثانی (مسلمان عورت کے کتابی مرد سے نکاح) کے بارے میں سکوت اختیار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ مجتہد فیہ بن گیا ہے اور حالات اور ضرورت کے تحت کسی بھی صورت کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ نیز اہل کتاب کا خاص اطلاق یہود ونصاریٰ پر ہے؛ لیکن تحقیق کے بعد دنیا کی بیش تر اقوام کو اہل کتاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ (۲۱)

قرآنِ کریم کی مخصوص اصطلاحات ’مشرکین‘ اور ’اہل کتاب ‘ کے اطلاق میں یہ تخصیص اور تعمیم بظاہر درست نہیں ہے۔ مشرکین سے اگر قرآن کی مراد اس وقت کے مشرکین ہیں تو اہل کتاب سے بھی مراد یہود و نصاریٰ ہی ہیں اور اس دائرے کو پھیلا کر دنیا کی بیشتر اقوام کو اس کے تحت داخل کرنا تکلف محض ہے۔ لفظ مشرک کو اصطلاح پر باقی رکھنا اور لفظ اہ کتاب کو لغوی پہلو سے عام کرنا دعویٰ بلا دلیل ہے۔ قرآن پاک نے جن اکتیس مقامات پر اہل کتاب کا لفظ اور سولہ مقامات پر اوتوا الکتب کے الفاظ استعمال کیے ہیں (جیسا کہ ڈاکٹر اوج بھی ذکر کرتے ہیں)، ان کا سیاق و سباق واضح طور پر بتاتا ہے کہ مراد یہود ونصاریٰ ہیں اور ان سے کسی اور قوم کو مراد نہیں لیا جا سکتا جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل کی ہو۔ اگر کتاب کے لفظ کی عمومیت سے (جیسا کہ البقرہ ۲۱۳ کا حوالہ دیا گیا ہے) دیگر اقوام بھی مراد لی جائیں اور تحقیق کے بعد ان کو اہلِ کتاب قرار دیا جاسکتا ہے تو لفظِ شرک اور اس کے مشتقات کو سامنے رکھ کر یہ دعویٰ کرنا کیوں درست نہیں ہے کہ شرک کی علت جہاں بھی موجود ہو، وہاں مشرک کے لفظ کا اطلاق درست ہے؟آخر مجوسی، صابی، ستارہ پرست، کنفیوشس کے پیروکار بدھ اس عموم میں کیوں نہیں آ سکتے؟ڈاکٹر اوج کا پہلا اطلاق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مکمل طور پر غلط ہے، بلکہ اس کی حیثیت ایسے ہی جیسے ہمارے عرف میں علما کا اطلاق ایک خاص طبقے پر ہوتا ہے لیکن اس سے کسی دوسرے سے علم کی نفی نہیں ہوتی؛ لیکن اسی اسلوب کی گنجائش دوسری جگہ پر اختیار کرنا بھی تو ممکن ہے اور مشرکین کے اطلاق عرفی کے علاوہ شرک کا وجود دوسری جگہ بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ 

علامہ رشید رضا کا کہنا ہے کہ قرآنِ کریم کی دونوں اصطلاحوں ’مشرکین‘اور ’اہلِ کتاب‘میں اس اجتہاد کی گنجائش موجود ہے کہ ان کو اپنے خاص اطلاق سے ہٹ کر بھی استعمال کیا جائے۔ (۲۲) چناں چہ سلف میں بعض افراد سے یہ بات مروی ہے کہ انھوں نے مشرکین سے نکاح کی ممانعت والی آیت میں حکم کا مدار مخصوص اصطلاح پر نہیں رکھا بلکہ اس علت پر رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا اور وہ علت شرک ہے۔ پہلے ابن جریر طبری کے حوالے سے یہ بات گزری ہے اور صحابہ میں حضرت ابن عمرکی طرف یہ بات منسوب ہے کہ وہ مشرکین سے نکاح کی نہی میں یہود ونصاریٰ کو بھی داخل سمجھتے تھے اور ان کی یہ دلیل تھی کہ جب یہود حضرت عزیر کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں تو پھر اس شرک سے بدترین شرک اور کون سا ہو سکتا ہے جس کے بعد ان سے مناکحت کے معاملات جائز ہوں؟ جن مفسرین نے اس قول کو اختیار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اپنے نزول کے وقت تمام غیرمسلموں، خواہ وہ کتابی ہوں یا غیر کتابی ، کو شامل تھی، لیکن یہ حکم سورۂ مائدہ کی آیت سے جزوی طور پر منسوخ ہے۔(۲۳) تاہم یہ مذہب کم زور ہے اور جمہور کا موقف یہی ہے کہ یہ نکاح جائز ہے البتہ ایسا کرنا،جیسا کہ گزرا، ضرورت کے تحت ہی ہے اور شریعت کی نظر میں زیادہ پسندیدہ عمل نہیں ہے۔

اس تمہید کے بعد ڈاکٹر اوج کہتے ہیں کہ مسلمان عورت کے کتابی مرد سے نکاح کا معاملہ مجتہد فیہ ہے اور ضروریاتِ زمانہ کے اقتضا سے کوئی صورت اختیار کی جا سکتی ہے اور ہمیں اس سکوت میں اثبات کا پہلو زیادہ قرین صواب لگتا ہے، کیوں کہ مثبت معنی کے متعدد قرائن خود قرآن میں موجود ہیں۔اس کے بعد انھوں نے اپنے دعوے کی تائید میں چار قرائن پیش کیے ہیں۔ 

پہلا قرینہ یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت 221 اور سورۂ ممتحنہ کی آیت ۱۰ میں مشرکین سے نکاح کے معاملے میں نہی دو طرفہ ہے، لیکن سورۂ مائدہ میں حلت کا یک طرفہ بیان ہے؛ اس لیے اگر’’مسلمان عورت کا نکاح اہلِ کتاب مرد سے ناجائز ہوتا تو ضرور اس مقام پر اس کی صراحت کر دی جاتی، جیسا کہ مشرک مردوں کے معاملے میں کی گئی۔‘‘(۲۴)

اثباتی پہلو کے لیے پیش کیا گیا یہ قرینہ کم زور معلوم ہوتا ہے۔ یہاں اسی بات کو دلیل مثبِت بنانے کے بجائے اگر یہ کہا جائے کہ سورۂ بقرہ اور ممتحنہ میں جب دو طرفہ نہی ہے تواس سے معلوم ہوا کہ یہ حرمت دونوں طرف سے ہے۔ اگر اہلِ کتاب کے معاملے میں بھی حلت دو طرفہ ہوتی تو اس کو واضح طور پر بیان کر دیا جاتا ، لیکن یہاں چوں کہ یک طرفہ حلت کا بیان ہے، اس لیے مسئلہ مجتہد فیہ نہیں رہا ، بلکہ یہ بات بالبداہت ثابت ہو گئی کہ کتابی عورت سے تو مسلمان مرد کا نکاح تو جائز ہے، لیکن برعکس جائز نہیں، کیوں کہ اگر دوسری صورت بھی جائز ہوتی تو اس کو صراحت کے ساتھ بیان کر دیا جاتا جس طرح مشرکین کے معاملے میں بیان کیا گیا۔ اگر اس زاویے سے دیکھا جائے جائے تو یہی بات دلیل مثبِت نظر آنے کے بجائے دلیل نافی نظر آنے لگتی ہے اور اس کی تردید کا بظاہر کوئی قرینہ نہیں ہے۔

یہاں اگر دونوں آیات کے سیاق وسباق پر غور کیا جائے تو اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت سے پہلے مصالحت یتامیٰ کا مضمون ہے اور اس کے تناظر میں کہا گیا ہے کہ اس مصلحت کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ایمان بہ ہر حال مقدم ہے اور اس کے لیے نکاح اہل ایمان ہی سے مناسب ہے۔بعد میں بھی یہی کہا گیا کہ مشرکین داعی جہنم ہیں۔ گویا مقام شرح و توضیح کا تھا، اس لیے اس کو واضح کر کے بیان کر دیا گیا۔ سورۂ مائدہ میں بھی۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ۔یہ مقام اصل میں سوال کے جواب کا مقام ہے اور ایسے مقام پر کلامِ بلیغ کا تقاضا ہے کہ بات میں ایجاز نہ ہو ، بلکہ وہ اطناب اور شرح کے ساتھ ہو کہ سائل کی تشفی ہو جائے اور جواب ملنے کے بعد بھی وہ تشنگی کا احساس نہ کرے۔ چناں چہ یہاں جو جواب شارع کے ہاں مقصود تھا، وہی بیان کر دیا گیا ۔ اگر جانب ثانی اس کی نظر میں حلال ہوتی تو اس کو ضرور بیان کیا جاتا اورسوال کا جواب ہونے نیز تشریع کا مقام ہونے کا تقاضا بھی یہی تھا۔ شرح و توضیح کے مقام پر کلامِ بلیغ کا تقاضا اطناب ہے نہ کہ ایجاز اور پھر مقام اگر نکاح جیسے نازک ترین مسائل کی حلت وحرمت سے متعلق ہو تو وہاں اس کی حساسیت اور بڑھ جاتی ہے اور اس کی حلت و حرمت کا مسئلہ انسانی عقل کے حوالے کرنا کلامِ حکیم کے شایانِ شان نہیں ہے۔ سورۂ نساء میں قرآن نے جہاں محرمات کا بیان کیا ہے، وہاں بھی اطناب اور تفصیل کا اسلوب اختیار کیا ہے۔

دوسرا قرینہ ڈاکٹر شکیل اوج نے اپنے موقف کی تائید میں یہ ذکر کیا ہے کہ سورۂ مائدہ کی اس آیت سے پہلے طیبات کی حلت کا اصول بیان کیا گیا ہے اور پھر طعام کی دوطرفہ حلت کے بیان کے ساتھ ایجاز واختصار کے پیش نظر نکاح میں بہ ظاہر یک طرفہ حلت کو بیان کیا گیا ، لیکن یہ اجازت اصلاً دو طرفہ حلت ہی کو متضمن ہے، کیوں کہ اہلِ کتاب کے مرد بھی محصن ہونے کہ وجہ سے طیب ہو سکتے ہیں۔(۲۵)

یہ قرینہ بھی ایک کم زور قرینہ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں بنیادی سوال اہمیت کا ہے۔ کیا شارع کے بلیغ کلام کا یہ نقص نہیں تصور ہوگا کہ طعام کے معاملے میں تو وہ اطناب اور شرح کے ساتھ بتائے کہ وہ دونوں طرف سے حلال ہے ، جب کہ اصول ہے کہ اشیا میں اصل اباحت ہے اور نکاح کے معاملے میں وہ ایجاز سے کام لے جو حلت اور حرمت کے پہلو سے کھانے کے مقابلے میں ایک بہت نازک مسئلہ ہے؟ نکاح کا معاملہ یہاں اگر دوطرفہ حلال ہوتا تو یقیناًاس میں بھی یہاں طعام کی طرح اطناب ہی سے کام لیا جاتا۔ طیبات کو یقیناًشارع نے اصولاً حلال ٹھہرایا ہے ،لیکن اس کے ساتھ بعض حلال چیزوں کو بیان کرنا اسی مقصد کے لیے ہے کہ یہاں انسانی عقل خود ہی طیب کا تعین کرنے میں نہ ٹھوکر کھائے، چناں چہ یہاں طیبات کا دائرہ بیان کر دیا۔ باقی جن طیبات کا ذکر نہیں ہے تو ان میں شریعت کے اس اصول پر عمل کیا جائے گاکہ اشیا میں اصل اباحت ہے اور ابضاع میں اصل تحریم ہے۔ علامہ ابن نجیم فرماتے ہیں: لا یجوز التحری فی الفروج. (۲۶) (فروج کے معاملے میں تحری اور اجتہاد جائز نہیں ہے۔) اس اصل کی حکمت یہی ہے کہ اگر اس میں انسانی عقل کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو انسانی دین اور تمدن پر جو افتاد آئے گی وہ محتاجِ وضاحت نہیں ہے۔اہلِ کتاب عورتوں کے ساتھ مسلمان مردوں کا نکاح غلبہ اسلام کے عہد میں جائز قرار دینا خدمتِ اسلام کی مصلحت کے تحت ہے تاہم شریعت کی نظر میں یہ کوئی بہت پسندیدہ عمل نہیں ہے اور عہد صحابہ میں اس کی چند ایک مثالیں ہی ملتی ہیں،جیسا کہ پہلے گزرا، لیکن مسلمان عورت کو ایک کافر کے نکاح میں دینا اس مصلحت کے حق میں قطعا نہیں ہے۔ اگر یہ کوئی پسندیدہ صورت ہوتی تو یقیناًصحابہ کرام بھی اپنے ذہن رسا سے یہ اجتہاد فرما سکتے تھے اوراہل کتاب کے ’’محصنینِ طیبین‘‘کو تلاش کر کیاس عہد کی نہایت مضبوط ایمان والی صحابیات اس مقصد کو بخوبی پورا کر سکتی تھیں کہ اس کے نکاح میں آ کر اس سے متاثر ہونے کے بجائے اس کی سیرت و کردار کو بدل لیتیں، لیکن اس عہد مبارک کی کوئی ایک مثال بھی اس اجتہاد کی نہیں ملتی۔یہاں تو قرآن کی واضح طور پر اجازت کو بھی دین کے وہ متوالے زیادہ پسندیدہ نہیں سمجھ رہے اور دینی مصلحت کو زیادہ پیشِ نظر رکھ رہے ہیں، جب کہ ان کے مضبوط ایمان کے بارے میں یہی گمان کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے نکاح ان کے لیے زیادہ مضر بھی نہیں ثابت ہو سکتے تھے۔ڈاکٹر شکیل اوج کے نزدیک ’’جب’’ باعمل کتابیہ ‘‘ مسلم خاندان میں جذب کی جا سکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ کسی ’’باعمل کتابی‘‘کو جذب نہیں کیا جا سکتا؟باکردار کتابی مردوں کو مسلم معاشرہ یا خاندان میں جذب نہ کرنا غیر مساویانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہے، یا ایک ہی طرح کے مقدمہ میں دو طرح کے فیصلے کرنا ہے۔‘‘ (۲۷) ڈاکٹر اوج کی یہ رائے عالم گیریت کے تناظر میں درست سہی، لیکن اس میں کچھ معذرت خواہی کا انداز نظر آتا ہے۔پہلے یہ بات گزری کہ غلبہ اسلام کے عہد میں اہلِ کتاب سے قرب و موانست کے پیش نظر ان کے ساتھ معاملہ مناکحت کی جس حد تک گنجائش تھی، وہ دے دی گئی۔ اگر اس عہدِ مسعود میں جانب ثانی کی کوئی گنجائش ہو تی تو اس کو ضرور ذکر کیا جاتا اور عملاً اس کا کا کوئی نمونہ سامنے آتا، لیکن ظاہر ہے کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔

تیسرا قرینہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ اہلِ کتاب کی محصنات سے پہلے مومن محصنات کا ذکر ہے،اور مومن مردوں کا ذکر نہیں ہے، لیکن وہاں دو طرفہ صورت جائز ہے تو اہلِ کتاب کے محصن مردوں کے معاملے میں یہی دوطرفہ صورت اختیار کی جائے گی۔ (۲۸)

یہ قرینہ تقریباً پہلے قرینے کی مانند ہی ہے اور اس پر گفتگو سے اس کا جواب واضح ہے کہ یہاں مقام تشریع کا ہے اور اگر شارع کے پیش نظر یہ بات ہوتی تو اسے ضرور واضح کر دیا جاتا۔

چوتھا قرینہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ قرآن میں غیر شادی شدہ مسلمان عورتوں کو کہیں بھی مسلمان مردوں سے شادی کا حکم نہیں دیا گیاجو کہ ان کے ہم مذہب ہیں تو ان کو غیر مسلم مردوں سے نکاح کاکیسے حکم دیا جاتا، اور اس عدمِ ذکر سے یہ کیسے لازم آیا کہ اہل کتاب مردوں سے مسلمان عورتیں نکاح نہیں کر سکتیں۔(۲۹)

یہ دلیل تقریباً اسی طرح کی ہے جو میلاد شریف کے جواز کے لیے پیش کی جاتی ہے کہ جب قرآن وحدیث میں اس کی نہی وارد نہیں ہے تو اس سے خود بہ خود ثابت ہوا کہ وہ جائز ہے۔اگر اس سے نہی نہیں ہے تو اس کا ناجائز ہونا کہاں سے ثابت ہوتا ہے؟ قرآن کریم نے مشرکین سے نکاح کے معاملے میں جب دو طرفہ حکم دیا ہے تو وہاں ظاہر ہے خطاب مسلمان مرد اور عورتوں دونوں کو ہے۔ یہاں دلالۃ النص سے خود یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اہل ایمان کا آپس میں نکاح جائز ہے، مسلمان مرد کا مسلمان عورت سے اور برعکس بھی،لیکن جب اہل کتاب کا معاملہ آتا ہے تو وہاں صرف یک طرفہ صورت ہی بیان کی جاتی ہے۔ یہاں آخر شارع کو کیا امر مانع تھا کہ اس نے دوسری طرف کو بیان نہیں کیا؟ اگر یہ صورت جائز ہوتی تو ضرور اس کو بھی ذکر کر دیا جاتا۔

ڈاکٹر شکیل اوج کی بحث کے بارے میں یہی کچھ عرض کرنا مقصود تھا۔ یہاں اس سوال کا جواب جاننا ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں اس بحث کی ضرورت کیا تھی؟شروع میں یہ ذکر کیا گیا کہ بعض جگہوں پر یہ صورتِ حال پیش آ رہی ہے کہ مسلمان عورتیں غیر مسلموں کو ترجیح دے رہی ہیں، اس لیے اہل علم کو یہ سوچنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ اس سلسلے میں درست طرز تو یہ تھا کہ ایمان وعمل سے دور بد نصیب مسلمانوں کو یہ تنبیہ کی جا تی اور ان کے والدین کو یہ احساس دلایا جاتا کہ اپنی اولاد کی احسن اسلامی خطوط پر تربیت کریں جس کے نتیجے میں یہ مسائل پیدا نہ ہوں۔لیکن نام نہاد مسلمانوں کی گم راہی ، بد عملی اور تہذیبِ مغرب کی کورانہ تقلید کو تہذیب و تمدن کے ارتقا کا نتیجہ یا مظہر سمجھ کراس طرح کی راہ نمائی یقیناًان کی مزید بے راہ روی کا باعث بن سکتی ہے۔خاندان کا ادارہ شاید وہ واحد ادارہ ہے جس میں مشرق اور مغرب کے درمیان ابھی بہت کچھ امتیاز باقی ہے اور یہاں کی عفت اور تقدس کا کافی گہرا نقش آج زندگیوں میں موجود ہے۔ اگر اس کو بھی ’’قانونِ انجذاب‘‘کے تحت اہلِ مغرب کی زندگیوں کے تابع کر دیا جائے تو پھر شاید ہماری تہذیبی شناخت کے لیے یہ زہرِ ہلاہل سے کم نہیں ہو گا۔بعض مغل شاہنشاہوں نے یہی طرزِ عمل اختیار کیا تو خاندان کے ادارے میں وہ تمام مفاسد در آئے جو ہندو تہذیب کا امتیاز تھے اور’’آج بھی جو لوگ قوموں اور مذہبوں کے امتیازی نشانات ونظریات کو ختم کرنے کے درپے ہیں، وہ اس کا سب سے زیادہ کارگر نسخہ آپس کی شادیوں ہی کو سمجھتے ہیں۔اس وجہ سے ایک مسلمان کو اس معاملے میں بے پرواہ اور سہل انگار نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ (۳۰)

آج سے چودہ سو سال پہلے تو شاید ممکن تھا کہ اْس ماحول میں کوئی محصن مل جائے اور اس سے بھی یک طرفہ اجازتِ نکاح دی جائے، لیکن آج کے جس منظر نامے میں یہ بحث چھیڑی گئی ہے، اس میں ’’اہل کتاب‘‘(جن کے دائرے میں ڈاکٹر شکیل اوج کے اجتہاد کی رو سے روئے زمین کے تمام غیر مسلموں کو تحقیق کے بعد داخل کیا جا سکتا ہے)میں صفت احصان کو تلاش کرنا شاید ایک نا ممکن کام ہو گا۔جہاں جنسی آزادی کو ایک فلسفہ حیات اور انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس کے برا ہونے کو سرے سے برا سمجھا ہی نہیں جارہا ، وہاں سے ’’محصنینِ طیبین‘‘ کو تلاش کرکے مسلمان عورتیں ان کے حوالے کرنے کا نقطہ نظر بہ ظاہر درست معلوم نہیں ہوتا۔اس طرح کا کوئی جواز اسلامی شریعت میں ہوتا تو خیرالقرون کا عہد اس کے لیے بہ ترین دور تھا، لیکن ظاہر ہے کہ اس عہد میں اس صورتِ حال کی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔ پھر آج کے یہود ونصاریٰ میں کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جو سرے سے خدا کے وجود ہی کے قائل نہیں۔ مسلمان مرد کو اس عہد میں تثلیث کے پرستاروں سے یک طرفہ نکاح کی اجازت اس لیے دی گئی تھی کہ کم از کم بد ترین شرک کی آمیزش کے باوجود بہ ہر حال وہ لوگ خدا کے قائل ضرور تھے اور مسلمانوں اور ان میں وحدت کی بعض بنیادیں مشترک تھیں۔ آج یہ صورتِ حال بدل چکی ہے اور جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں شرک ایک شاکلہ تھا ،آج یہود ونصاریٰ کی زندگیوں میں الحاد ایک غالب شاکلے کی حیثیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی آج کے اکثر اہل کتاب سے اْس تعامل کی نفی کرتے ہیں جو اْس عہد کے اہلِ کتاب کے ساتھ روا تھا، بلکہ ان کو تو سرے سے انہیں اہلِ کتاب کہنے ہی سے انکار ہے۔ فرماتے ہیں:

’’یہ یاد رہے کہ ہمارے زمانہ کے ’’نصاریٰ‘‘عموماً برائے نام نصاریٰ ہیں۔ان میں بہ کثرت وہ ہیں جو نہ کسی کتابِ آسمانی کے قائل ہیں ، نہ مذہب کے، نہ خدا کے۔ ان پر اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا، لہٰذا ان کے ذبیحہ او ر نساء کا حکم اہلِ کتاب کا سا نہ ہوگا۔‘‘ (۳۱)

مولانامفتی محمد تقی عثمانی نے بھی یہی بات فرمائی ہے۔(۳۲)اصل وجہ وہی ہے کہ اس قسم کے نکاح کی حلت و حرمت کا مدار کسی کے یہودی یا نصرانی ہونے کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ صیانت دین وایمان کی علت پر ہے۔آج کے اہلِ کتاب میں تو کسی مسلمان کو شاید ہی ایسی محصن عورت مل سکے اور برعکس صورتِ حال بھی اسی طرح ہے، اس لیے کسی مسلمان مرد کابھی اس طرح کامنصوص نکاح حرام لغیرہ ہوگا ، چہ جائے کہ مسلمان عورت کے نکاح کو جائز قرار جائے جس کی اجازت قرآنی فحواے کلام سے بہ آسانی مستنبط نہیں کی جاسکتی۔



جناب عمار خان ناصر کا مکتوب

برادرِ گرامی جناب سید متین شاہ صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

کتابی مرد کے ساتھ مسلمان عورت کے نکاح کے حوالے سے آپ کا مقالہ نظر نواز ہوا۔ ما شاء اللہ عمدہ استدلال پر مبنی ہے، اگرچہ بعض جگہ تبصرے ذرا سخت لہجے میں آ گئے ہیں۔

میرے طالب علمانہ فہم کے مطابق اس مسئلے کے جو قابل غور پہلو بنتے ہیں، ان کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کر رہا ہوں:

سب سے بنیادی نکتہ اس بات کی تعیین ہے کہ مائدہ کی آیت میں محصنات اہل کتاب کے تصریحاً ذکر کیے جانے جب کہ محصنین سے سکوت کی وجہ ازروئے بلاغت کیا ہو سکتی ہے؟ آیا یہ سکوت اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجازت صرف محصنات کے نکاح کی دینا مقصود ہے یا اس کے علاوہ کچھ دوسرے پہلو ؤں کا بھی احتمال ہے؟

پہلے نکتے کے حق میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے (جو جصاص نے بیان کی ہے اور آپ نے بھی ا س کا ذکر کیا ہے) کہ مائدہ کی آیت دراصل سورۂ بقرہ میں مشرکین (یعنی ہر قسم کے اہل کفر) کے ساتھ حرمت نکاح کے عمومی حکم کے بعد ایک استثنایا تخصیص کو بیان کرنے کے لیے آئی ہے اور اس اعتبار سے یہاں محصنات اہل کتاب کے ذکر پر اکتفا اس بات کی دلیل ہے کہ محصنین اہل کتاب سے مسلمان عورتوں کے نکاح کے حوالے سے حرمت کا سابقہ حکم علیٰ حالہ برقرار ہے۔

اگر اس استدلال کا بنیادی مقدمہ درست ہو تو ظاہر ہے کہ نتیجہ بھی بہت محکم ہے، تاہم میری طالب علمانہ رائے میں بقرہ کی آیت: ولا تنکحوا المشرکین کی تعمیم کو قرآن مجید کی مخصوص اصطلاح اور استعمال قبول نہیں کرتا۔ اہل کتاب میں سے نصاریٰ میں یقیناًشرک پایا جاتا ہے، لیکن بطور ایک گروہ کے المشرکین کا لقب قرآن نے خاص طور پر اہل کتاب سے الگ، صرف مشرکین عرب کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس لحاظ سے صحیح صورت حال یہ بنتی ہے کہ قرآن نے بقرہ میں مشرکین سے نکاح کی تو ممانعت کر دی تھی، جبکہ کفار کے دیگر گروہوں کا حکم مسکوت عنہ رہا تا آنکہ مائدہ کی آیت میں اسے ایک مستقل ہدایت کے طور پر، نہ کہ بقرہ کی آیت کی تخصیص کے طور پر، بیان کیا گیا۔ 

الیوم احل لکم کے الفاظ سے بظاہر یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ یہاں ان چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جنھیں پہلے حرام قرار دیا گیا تھا، لیکن بدیہی طور پر یہ شبہ درست نہیں، کیونکہ یہ اسلوب قرآن کی زبان میں مسکوت عنہ اور مبہم چیزوں کی حلت کے واضح بیان کے لیے بھی اتنا ہی موزوں ہے۔ پہلے مفہوم پر اس لیے بھی انھیں محمول نہیں کیا جا سکتا کہ احل لکم الطیبت  اور المحصنت من المؤمنات  میں طیبات اور محصنات کو یہاں پہلی مرتبہ حلال نہیں کیا گیا، بلکہ ان کی پہلے سے معلوم حلت کو ایک خاص بلاغی فائدے کے لیے (جس کا ذکر آگے آتا ہے) دہرایا گیا ہے۔

میرے خیال میں قرآن مجید کے مجموعی اسالیب کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ احتمال کے علاوہ کم سے کم دو مزید احتمالات قابل غور ہیں: 

ایک یہ کہ قرآن مجید میں مناکحات کے بیان میں عمومی طور پر مردوں کو ہی مخاطب کیا گیا ہے اور اصلاً انھی کے تعلق سے احکام بیان کیے گئے ہیں، جبکہ خواتین کے احکام ان سے بالتبع اخذ کیے جاتے ہیں۔ مثلاً نساء میں محرمات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ آزاد عورتوں سے نکاح نہ کر سکتے ہوں، وہ لونڈیوں سے نکاح کر لیں: فمن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المومنت فمن ما ملکت ایمانکم من فتیاتکم المومنت۔ یہاں آزاد عورتوں کے، غلاموں سے نکاح کا تصریحاً ذکر نہیں، لیکن ظاہر ہے کہ بالتبع اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اسی اصول پر مائدہ کی آیت میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ چونکہ مناکحات میں اصلاً مرد ہی مخاطب ہوتے ہیں، اس لیے انھی کے زاویے سے محصنات اہل کتاب کا ذکر کیا گیا ہے اور محصنین اہل کتاب کا حکم اس سے بالتبع اخذ کیا جائے گا۔ گویا مسلمان عورتوں کے لیے محصنین اہل کتاب کی حلت کا عدم ذکر کوئی قطعی دلیل اس بات کی نہیں بنتی کہ ان کے ساتھ نکاح کو ممنوع سمجھا جائے۔

بقرہ کی آیت ولا تنکحوا  میں صنفین کے نکاح کی ممانعت کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں سادہ طور پر صرف نکاح کے احکام کا بیان پیش نظر نہیں، بلکہ بحیثیت مجموعی مسلمان سوسائٹی کے مشرک سوسائٹی کے ساتھ تعلقات کی تحدید مقصود ہے۔ دونوں کے مابین خاندانی رشتے ناتے پہلے سے چلے آ رہے تھے اور قرآن اب اس پر پابندی عائد کرنا چاہتا تھا، اس لیے تصریحاً یہ کہنے کی ضرورت تھی کہ مشرکین کے ساتھ ازدواجی تعلق کی کوئی بھی صورت اختیار نہ کی جائے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہاں نئے رشتے قائم کرنے کی ممانعت بتائی گئی ہے، جبکہ سابقہ رشتوں سے متعلق کوئی واضح ہدایت نہیں دی گئی۔ سابقہ رشتوں سے متعلق واضح ہدایت بہت بعد میں سورۂ ممتحنہ میں معاہدۂ حدیبیہ کی ایک شق کے تناظر میں دی گئی اور یہ کہا گیا کہ نہ مسلمان مرد، مشرک عورتوں کو اپنے نکاح میں روکے رکھیں اور نہ مسلمان عورتوں کو، ان کے مشرک خاوندوں کے پاس واپس بھیجا جائے۔

دوسرا احتمال جو قابل غور ہے، وہ یہ کہ قرآن مجید عام طور پر حکم کے بیان میں مخاطبین کے ذہنی حالات اور زمانہ نزول کی معروضی صورت حال کو بھی مد نظر رکھتا ہے اور اس کی بیان کردہ قیود اور شرائط کا صحیح رخ سمجھنے کے لیے اس پہلو کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے، جیسے مثال کے طور پر من اصلابکم  کی قید کا مقصد سمجھنے کے لیے متبنیٰ سے متعلق عرب روایت کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ مائدہ کی آیت میں صرف محصنات کے حکم پر اکتفا کی ایک ممکنہ وجہ، اس اسلوب کی رو سے، یہ ہو سکتی ہے کہ اس ماحول میں مسلمانوں کے ہاں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کا رجحان اور رغبت تو موجود تھی اور غالباً یہی چیز یسئلونک ماذا احل لہم  کا محرک بنی تھی، لیکن خواتین کو ان کے نکاح میں دینے کی کوئی خاص روایت یا رجحان موجود نہیں تھا۔ اس لحاظ سے قرآن نے اگر سائلین کے ذہنی رجحان کے تناظر میں اسی پہلو کے بیان پر اکتفا کی (اور دوسرے پہلو کے، سرے سے زیر بحث ہی نہ ہونے کی وجہ سے صرف نظر کیا) تو اسے کوئی قطعی قرینہ اس بات کا نہیں کہا جا سکتا کہ وہ محصنین سے نکاح کو ممنوع قرار دینا چاہتا ہے۔

مذکورہ وجوہ سے میری طالب علمانہ رائے کے مطابق محصنین اہل کتاب کے ساتھ نکاح کی ممانعت کو قطعی طور پر منصوص کہنا ازروئے اصول فقہ کافی مشکل ہے۔ البتہ چند قرائن سے شارع کا یہ رجحان یقیناًمعلوم ہوتا ہے کہ ایسا نکاح اس کی نظر میں ناپسندیدہ ہے۔ مثلاً مائدہ کی آیت میں قرآن نے اہل کتاب کے ساتھ معاملات کے حوالے سے دو امور کا ذکر کیا ہے: ایک طعام اور دوسرا نکاح۔ طعام کے ذکر میں صریحاً دو طرفہ حلت بیان کی گئی ہے، یعنی طعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لہم، جبکہ نکاح کے بیان میں صرف یک طرفہ حلت کا ذکر ہے۔ ایک ہی سیاق میں اسلوب کی یہ تبدیلی قطعی دلیل نہ سہی، ایک بہت مضبوط قرینہ اس بات کا ضرور ہے کہ شارع نکاح کی اجازت کو یک طرفہ ہی رکھنا چاہتا ہے۔

قرآن کے دیگر بیانات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ مناکحت کے تعلق کو اصلاً اہل ایمان ہی کے مابین پسند کرتا ہے۔ چنانچہ مائدہ کی زیر بحث آیت میں اصولی طور پر المحصنات من المؤمنات کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اس لیے کہ ان کی حلت پہلے سے واضح تھی، تاہم قرآن نے اس کو یہاں دہرایا ہے اور اس کے بعد بالتبع محصنات اہل کتاب کا ذکر کیا ہے تاکہ نکاح کے معاملے میں شارع کی ترجیحات واضح رہیں۔ سورۂ نساء میں لونڈیوں کے ساتھ نکاح کی اجازت میں من فتیاتکم المؤمنات کی قید بھی اسی ترجیح کو واضح کرتی ہے۔

مزید برآں شریعت کے عمومی مقاصد اور پیش نظر مصالح بھی اس رجحان کی تائید کرتے ہیں۔ رشتہ نکاح میں عورت کا مرد کے تابع ہونا ایک بدیہی امر ہے اور ظاہر ہے کہ اسلام کا مجموعی مزاج اس کو ناپسند ہی کرے گا کہ ایک مسلمان عورت کسی غیر مسلم مرد کے فراش پر ہو۔ فی نفسہ ایک ناگوار امر ہونے کے ساتھ ساتھ اگر عورت اور اس کی اولاد کے، شوہر کے دین اور کافرانہ ماحول سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی ہو تو ظاہر ہے کہ اس رشتے کی قباحتیں شریعت کی نظر میں مزید بڑھ جاتی ہیں۔

مذکورہ ساری بحث کے تناظر میں، میری رائے یہ ہے کہ اہل کتاب کے مردوں او رمسلمان عورتوں کے مابین نکاح کو عمومی اباحت کے طور پر پیش کرنا اور خاص طور پر یہود ونصاریٰ کے علاوہ دوسرے غیر مسلم گروہوں کو بھی ’’اہل کتاب‘‘ میں شمار کرتے ہوئے باہمی مناکحت کے رجحان کی حوصلہ افزائی کرنا شریعت کے مزاج اور ترجیحات کی درست ترجمانی نہیں۔ البتہ ایک خاص صورت میں عملی مصالح کے تناظر میں اہل کتاب مرد اور مسلمان عورت کے نکاح کو گوارا کیا جا سکتا ہے، یعنی جب میاں بیوی میں سے صرف عورت مسلمان ہو جائے اور اس کے لیے عملی حالات کے لحاظ سے اپنے شوہر اور بچوں سے علیحدگی اختیار کرنا بوجوہ مشکل ہو جائے۔ یہ صورت اس وقت یورپ میں کثرت سے پیش آ رہی ہے اور عالم اسلام کے بعض جید اہل علم نے اس پر اجتہادی زاویہ نظر اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ (یورپی مجلس افتاء کا رجحان بھی اس حوالے سے تیسیر کی طرف ہے، جبکہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب نے ’’مقاصد شریعت‘‘ میں اس کی تائید کی ہے)۔ میرا طالب علمانہ رجحان بھی اسی طرف ہے اور اپنی کتاب ’’حدود وتعزیرات:چند اہم مباحث‘‘ میں، میں اس پر اپنی رائے ان الفاظ میں بیان کر چکا ہوں:

’’نصوص کے فہم کا ایک بے حد اہم پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس دائرۂ اطلاق کو متعین کیا جائے جس میں نص قطعی طور پر موثر ہے اور جس سے باہر ایک مجتہد اپنی مجتہدانہ بصیرت کو بروے کار لانے کے لیے پوری طرح آزاد ہے۔ اس فہم میں ظاہر ہے کہ اختلاف بھی واقع ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن مجید کی رو سے ایک مسلمان خاتون کو کسی غیرمسلم مرد سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ حکم کوئی نیا رشتہ نکاح قائم کرنے کی حد تک تو بالکل واضح ہے، لیکن میاں بیوی اگر پہلے سے غیرمسلم ہوں اور بیوی اسلام قبول کر لے تو کیا ان کے مابین تفریق بھی لازم ہوگی؟ حکم کا اس صورت کو شامل ہونا قطعی نہیں۔ عقلی اعتبار سے حالت اسلام میں کسی غیر مسلم شوہر کا ارادی انتخاب کرنے اور پہلے سے چلے آنے والے رشتہ نکاح کو نبھانے میں ایک نوعیت کا فرق پایا جاتا ہے اور سیدنا عمر کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ اس صورت میں تفریق کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ بعض مقدمات میں انھوں نے میاں بیوی کے مابین تفریق کر دی ،جبکہ بعض مقدمات میں بیوی کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو خاوند سے الگ ہو جائے اور چاہے تو اسی کے نکاح میں رہے۔ (مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۰۰۱، ۳۸۰۰۱) یقیناًاس فیصلے میں انھوں نے بیوی کو درپیش عملی مسائل ومشکلات کا لحاظ رکھا ہوگا اور آج کے دور میں بالخصوص غیرمسلم ممالک میں پیش آنے والے اس طرح کے واقعات میں سیدنا عمر کا یہ اجتہاد رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔‘‘ (ص ۲۵۳، ۳۵۳)

امید ہے کہ زیر بحث مسئلے کے حوالے سے یہ معروضات غور وفکر میں کسی حد تک آپ کی مدد کر سکیں گی۔ 

دعاؤں کی درخواست کے ساتھ

محمد عمار خان ناصر

۱۷؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء


حوالہ جات

۱۔ البقرۃ ۲۲۱

۲۔ المائدہ ۵

۳۔ الممتحنہ ۱۰

۴۔ المائدہ ۵

۵۔ بخاری، صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الاکفاء فی الدین، رقم ۵۰۹۰

۶۔ محمد بن جریر الطبری، جامع البیان فی تاویل القرآن، ت: احمد محمد شاکر، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، ط ۱، ۱۴۲۰ھ۔۲۰۰۰م، ج ۴، ص ۳۷۰

۷۔ محمد بن علی شوکانی، ارشاد الفحول الیٰ تحقیق الحق من علم الاصول، بیروت، دار الکتاب العربی، ط ۱، ۱۴۱۹ھ۔۱۹۹۹ء، ج ۱، ص ۳۳۷

۸۔ المائدہ ۴

۹۔ محی الدین درویش، اعراب القرآن الکریم، بیروت، دار الارشاد، ط ۴، ۱۳۸۳ھ۔۱۹۶۴م، ج ۱، ص ۱۲۶

۱۰۔ عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن (خاندانی معاملات نکاح وطلاق وغیرہ)، کراچی، ادارۂ فکر اسلامی، ط ۲، ۲۰۰۰ء، ص ۶۳

۱۱۔ طاہر بن عاشور، التحریر والتنویر، تیونس، دار التونسیۃ، ۱۹۸۴ء، ج ۶، ص ۱۲۴

۱۲۔ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، لاہور، فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۹ء، ج ۲، ص ۴۶۵

۱۳۔ جاوید احمد غامدی، البیان، لاہور، المورد، ط ۱، ۲۰۱۰ء، ج ۱، ص ۶۰۰

۱۴۔ ابن عاشور، مرجع سابق، ج ۲، ص ۳۶۳

15- Abdullah Yusuf Ali, The Holy Qur'an: Translation and Commentary (Islamabad: Da'wah Academy, 2004) p. 280 

۱۶۔ وہبہ زحیلی، التفسیر المنیر فی العقیدۃ والشریعۃ والمنہج، دمشق، دار الفکر المعاصر، ط ۲، ۱۴۱۸ھ، ج ۲، ص ۲۹۲

۱۷۔ ابن ابی شیبہ، المصنف فی الاحادیث والآثار، کتاب النکاح، من کان یکرہ النکاح فی اہل الکتاب، رقم حدیث ۱۶۱۶۳

۱۸۔ محمد بن یوسف مواق مالکی، التاج والاکلیل لمختصر خلیل، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۹۹۴ء، ج ۵، ص ۱۳۳

۱۹۔ عماد الدین ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ط ۱، ۱۴۱۹ھ، ج ۱، ص ۴۳۷

۲۰۔ نفس مصدر وصفحہ

۲۱۔ ڈاکٹر شکیل اوج، نسائیات (چند فکری ونظری مباحث) ، کراچی، کلیہ معارف اسلامیہ، جامعہ کراچی، جون ۲۰۱۲ء، ط ۱، ص ۹۵۔۱۰۰

۲۲۔ رشید رضا، تفسیر المنار، مصر، الہیءۃ العامۃ المصریۃ للکتاب، ۱۹۹۰ء، ج ۶، ص ۱۵۷

۲۳۔ محمد عزت دروَزہ، التفسیر الحدیث (مرتب حسب ترتیب النزول)، قاہرہ، دار احیاء الکتب العربیۃ، ج ۶، ص ۳۹۳

۲۴۔ شکیل اوج، مرجع سابق، ص ۱۰۰

۲۵۔ شکیل اوج، مرجع سابق، ص ۱۰۲

۲۶۔ زین الدین ابن نجیم، الاشباء والنظائر، حواشی وتخریج: زکریا عمیرات، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ط ۱، ۱۴۱۹ھ۔۱۹۹۹ء، ج ۱، ص ۵۷

۲۷۔ شکیل اوج، مرجع سابق، ص ۱۰۴

۲۸۔ نفس مرجع، ص ۱۰۳

۲۹۔ نفس مرجع وصفحہ

۳۰۔ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، ج ۱، ص ۵۲۰

۳۱۔ شبیر احمد عثمانی، تفسیر عثمانی، مجمع الملک فہد، ص 

۳۲۔ محمد تقی عثمانی، آسان ترجمہ قرآن، کراچی، مکتبۃ المعارف، ۲۰۱۰ء، ص ۲۳۹

آراء و افکار