اسلامی قانون کی تشکیل نو : درپیش چیلنج اور محدود فکری رویے

ڈاکٹر محمود احمد غازی

(ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی مختلف تحریروں سے مرتب کیا گیا۔ مدیر)


جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے بڑی ریاست چھوڑی جو کم و بیش بائیس لاکھ مرب کلو میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی جس میں آبادی کا اندازہ ایک ملین کے قریب تھا جن میں ایک چوتھائی کے قریب صحابہ کرامؓ تھے۔ باقی لوگوں کا شمار تابعین میں ہوتا تھا۔ اسلامی ریاست میں مختلف علاقوں میں عمال حکومت مقرر تھے۔ محصلین زکوٰۃ ہر صوبے، علاقے اور ہر قبیلے میں مقرر کیے جا چکے تھے۔ ہر علاقے میں فیصلہ کرنے والے قاضی اور فتویٰ دینے والے مفتی موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی فرمانے والے خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ اس پورے نظام کی سربراہی فرما رہے تھے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو قرآن مجید اور اپنی سنت کے علاوہ کوئی مرتب یا مدون قانون عطا نہیں فرمایا تھا۔ صحابہ کرامؓ، ان کے بعد تابعین اور ان کے بعد تبع تابعین کو جب کسی معاملے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو وہ اس کے لیے اجتہاد سے کام لیتے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں سے جو حضرات مجتہد تھے وہ خود اجتہاد کرتے اور اپنے اجتہاد کی روشنی میں معاملہ کا فیصلہ فرما دیتے۔ اگر وہ خود مجتہد نہ ہوتے یا اس معاملہ میں اپنے انتہائی تقویٰ اور محتاط رویہ کی وجہ سے خود اجتہاد نہ فرماتے تو دوسرے مجتہدین کی رائے پر عمل درآمد کرتے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب مجتہدین میں شامل تھے یا ان کی بڑی تعداد کو اجتہاد میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ تابعین میں بھی مجتہدین کی بڑی تعداد تھی۔ تبع تابعین میں بھی بہت سے مجتہدین تھے۔ یہ حضرات اگر وہ خود مجتہد ہوتے تو براہ راست اجتہاد سے کام لیتے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے اجتہاد کے مطابق معاملات کا فیصلہ کر دیا کرتے تھے۔

صحابہ کرامؓ میں سے گورنر، قاضی اور مفتی صاحبان نے اور ان تمام حضرات نے جو معاملات کا فیصلہ کرنے کے سرکاری طور پر مکلف تھے، اسی طریقے کے مطابق کسی مدوّن قانون کے بغیر اپنے براہ راست اجتہاد کے نتیجے میں معاملات کو چلایا۔ اگر قاضی، عامل، گورنر یا فیصلہ کرنے والا خود اپنے کو اجتہاد کا اہل نہ سمجھتا تو کسی مجتہد سے جس کے تقویٰ اور علم پر اس کو اعتماد ہوتا، استفسار کرتا اور اس کے فتوے یا اس کے اجتہاد کی روشنی میں معاملات کو طے کر دیتا۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قانون میں وسعت پیدا ہوتی گئی اور فقہ اسلامی کے نام سے ایک نیا فن وجود میں آتا گیا۔ 

جب تابعین کا آخری زمانہ تھا اور تبع تابعین کے دور کا آغاز تھا تو اہل علم نے عام طور پر یہ محسوس کیا کہ اسلامی ریاست اور مسلم معاشرہ کی روز افزوں ضروریات کے لیے احکام فقہ کی تدوین ضرو ری ہے۔ اب تک یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوا، اس کا اجتہاد کے ذریعہ حل دریافت کر لیا گیا۔ جب کوئی مقدمہ سامنے آیا، اجتہاد کے ذریعہ اس کا فیصلہ کر دیا گیا۔ اب اس امر کی ضرورت محسوس ہوئی کہ کسی صورت حال کے واقعتا پیش آنے کا منتظر رہنے کی بجائے معاملات کا پہلے سے اندازہ کر کے اور مسائل کا پہلے سے اداراک کر کے ان کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں تجویز کر دیا جائے۔ بعض فقہا نے اس ضرورت کا احساس کیا اور اس پر کام شروع کر دیا، بعض اہل علم نے اسے غیر ضروری سمجھا اور اس سے اجتناب کیا۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ نے پہلے گروہ کی رائے کو قابل قبول سمجھا اور ان کے کام کو سراہا۔ ان حضرات میں امام اعظم ابوحنیفہؒ (م ۱۵۰ ھ)، امام شافعیؒ (م ۲۰۴ھ)، ان حضرات کے تلامذہ، امام مالکؒ (م ۱۷۹ھ) اور بہت سے دوسرے ائمہ مجتہدین شامل ہیں۔ ان حضرات نے انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے کام لے کر آئندہ آنے والی مشکلات کی پیش بندی کی۔ ان مسائل کا اندازہ کیا جو امت کو پیش آنے والے تھے اور اپنی انتہائی فہم و بصیرت کے مطابق قرآن و سنت کی روشنی میں ان کا پیشگی حل تجویز کیا۔ ان میں سے جس فقیہ یا مجتہد کے علم اور تقویٰ پر امت کو اعتماد تھا، امت نے اس فقیہ کے اجتہادات پر عمل درآمد شروع کر دیا اور یوں فقہی مسالک یا مذاہب وجود میں آگئے۔ جس زمانے میں فقہی مسالک و مذاہب کی داغ بیل پڑ رہی تھی، یعنی دوسری صدی کے وسط سے لے کر تیسری صدی کے اواخر تک، یہ وہ زمانہ ہے جب مجتہدین بڑی تعداد میں دنیائے اسلام کے ہر علاقے میں موجود تھے۔ ان مجتہدین امت نے اپنے اپنے ذوق، اپنے اپنے مزاج، اپنے اپنے علاقے کی ضروریات اور اپنے اپنے تخصصات (Specialization) کے مطابق شریعت کے مختلف میدانوں میں کام کیا اور آنے والوں کے لیے رہنمائی کا سامان فراہم کرگئے۔

اس وقت تک یعنی چوتھی صدی ہجری کے وسط تک اس بات کی کوئی پابندی نہیں تھی کہ فیصلہ کرنے والا قاضی یا قانونی رہنمائی کرنے والا حکمران یا فرماں روا، کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے والا کوئی عامل حکومت یا گورنر کسی خاص فقہی مسلک کی پیروی کرے۔ نہ یہ سرکاری طور پر لازمی قرار دیا گیا تھا، نہ عامۃ الناس نے اس کی ضرورت کو محسوس کیا اور نہ فقہائے اسلام نے اس کو لازمی قرار دیا۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ فقہائے اسلام نے ہر ایسے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جس کا مقصد یہ تھا کہ کسی خاص فقہی اسلوب اجتہاد یا کسی خاص فقیہ کے اجتہاد کو لازمی قرار دیا جائے یا لازمی سمجھا جائے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کا کام محض ایک تجویز کی حیثیت رکھتا ہے جو امت کے اہل علم کے سامنے رکھی گئی ہے۔ امت کے اہل علم اگر اس سے اتفاق کریں گے تو اس پر عمل درآمد کریں گے۔ جن حالات میں اتفاق کریں گے ان حالات میں اس پر عمل درآمد کریں گے اور جن حالات میں اتفاق نہیں کریں گے ان حالات میں اس پر عمل درآمد نہیں کریں گے۔

پانچویں صدی ہجری کے اواخر میں فقہائے اسلام نے غور کیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ اب مختلف علاقوں میں الگ الگ اسلوب اجتہاد اس طرح مروج ہوگئے ہیں کہ اب اگر قاضی، مفتی یا جج صاحبان کو اس کی اجازت دی گئی کہ وہ ان مسالک سے ماورا ہو کر براہ راست اجتہاد سے کام لیں اور ان مسالک کو نظر انداز کر کے یعنی مقامی رائج الوقت اسلوب اجتہاد کو نظر انداز کر کے کسی نئے اسلوب اجتہاد سے کام لیں تو اس سے عامۃ الناس میں ایک تشویش پیدا ہوگی اور ذہنی طور پر لوگ الجھن کا شکار ہوں گے۔ اس لیے اس وقت یہ طے کیا گیا کہ جس علاقے میں جو اسلوب اجتہاد مروج ہے، قاضی صاحبان اسی کی پیروی کریں اور اس اسلوب اجتہاد کو چھوڑ کر کسی اور اسلوب کی طرف رجوع نہ کریں۔ اس کے دو بڑے اسباب تھے اور یہ دونوں اسباب بڑے وقیع تھے:

۱۔ اس کا ایک بڑا سبب تو یہی تھا کہ تخصصات اور مہارتیں ایک خاص مسلک ہی کے اندر دستیاب تھیں اور ان مسالک سے ہٹ کر مہارتیں اور تخصصات بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں تھیں۔ اس لیے بڑے پیمانے پر آزادانہ اجتہاد کا کام ان تخصصات اور مہارتوں سے ہٹ کر کرنا بڑا دشوار تھا۔ مثال کے طور پر اگر سمرقند اور بخارا کے فقہاء یہ فیصلہ کرتے کہ کسی خاص معاملے میں امام مالکؒ کے اسلوب اجتہاد کے مطابق کام کریں تو وہاں نہ فقہ مالکی کی کتابیں دستیاب تھیں، نہ وہاں فقہ مالکی کے متخصصین موجود تھے اور نہ وہاں کے طلبہ اور اساتذہ کو اور اساتذہ کے اساتذہ کو کئی سال سے فقہ مالکی کتابیں پڑھنے پڑھانے کا موقع ملا تھا۔ اس لیے اگر یکایک ان سے یہ کہا جاتا کہ وہ کسی معاملے کا فیصلہ فقہ مالکی کے مطابق کریں تو یا تو وہ کمزور دلائل اور نامکمل مطالعہ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرتے یا کم از کم نامکمل مواد یا کم دستیابی مواد کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرتے جو ہو سکتا ہے کہ کمزور یا غلط فیصلہ ہوتا اور فقہ مالکی کی حقیقی روح اور اسلوب کے مطابق نہ ہوتا۔

ایک خطرہ جو بڑا حقیقی خطرہ تھا، یہ تھا۔ اس حقیقی خطرے کی تائید ان جغرافیائی حالات سے بھی ہوتی ہے جو اس وقت امت مسلمہ کو درپیش تھے۔ فرض کریں کہ مفتی جو سمرقند میں تشریف فرما ہوں، ان کے سامنے کوئی مسئلہ پیش ہو تو کیا ان سے یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ چھ مہینے کا سفر کر کے گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر اسپین یا قیروان یا مراکش جائیں اور وہاں چھ آٹھ مہینے قیام کر کے مالکی فقہ کے ماہرین سے استفادہ کر کے مالکی فقہ کی کتابیں حاصل کریں اور پھر واپس آکر سوال پوچھنے والے کو جواب دیں؟ ظاہر ہے کہ یہ بات قابل عمل نہ تھی اور نہ اس کی ضرورت تھی۔ اس لیے فقہائے اسلام نے بجا طور پر یہ طے کیا کہ جس اسلوب اجتہاد کی جس علاقے میں زیادہ پیروی ہو رہی ہے اور وہاں زیادہ مروّج ہے، اسی کی پابندی کی جائے اور اس کے حدود سے حتیٰ الامکان نکلنے سے گریز کیا جائے۔

۲۔ اس پابندی کو لازمی قرار دینے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ عامۃ الناس جن کی بڑی تعداد قانون کی نزاکتوں سے واقف نہیں ہوتی، جن کی بڑی تعداد اجتہادات کی پشت پر کارفرما دلائل اور اصولوں کے نازک پہلوؤں سے واقف نہیں ہوتی، اگر ان کے سامنے کوئی ایسے دلائل یا ایسے اجتہادات رکھے جاتے جو ان کے مانوس اور مالوف اسلوب سے مختلف ہوتے تو اس کا امکان تھا کہ ان میں تشویش یا رد عمل پیدا ہو جس سے مزید مسائل اور قباحتیں پیدا ہو سکتی تھیں۔ فقہ اسلامی محض ایک قانون نہیں ہے، یہ محض ایک سیکولر لاء نہیں ہے جس سے صرف عدالتوں، صرف قاضیوں یا صرف حکومتوں کو واسطہ ہو بلکہ یہ زندگی کی ایک ہمہ گیر اسکیم کا ایک مربوط اور متکامل حصہ ہے جس سے لوگوں کی جذباتی، اخلاقی اور دینی ہر طرح کی وابستگی ہے۔ لوگ اس کو اپنی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی شے سمجھتے ہیں۔ ایک مسلمان دین سے اپنی وابستگی کو ہر چیز سے قیمتی قرار دیتا ہے۔ اس لیے کوئی مسلمان کسی ایسے معاملے میں جو اس کی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی حیثیت رکھتا ہو، کوئی ایسا عمل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا جس سے اس کے خیال و ادراک میں اور اس کے مالوف اور پسندیدہ طرز عمل میں کوئی انحراف پیدا ہو۔ ایک عام مسلمان کی رائے میں ممکن ہے کہ اسے انحراف سمجھا جاتا، اس لیے فقہائے اسلام نے اس سے احتراز کیا۔

جب فقہائے اسلام غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گئے تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جس علاقے میں جو اسلوب اجتہاد مروّج ہے، وہاں کے قاضی صاحبان کو اسی کی پیروی کرنی چاہیے اور اس سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قاضی صاحبان اور تعبیر شریعت کی غیر محدود آزادی جو ابتدائی پانچ سو سال تک جاری رہی، کی حد بندی کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔ اس سے پہلے فقہائے اسلام، مجتہدین اور قاضی صاحبان مکمل طور پر آزاد تھے کہ براہ راست اپنے اجتہاد یا کسی اور کے اجتہاد کی روشنی میں کسی معاملے کا جو فیصلہ صحیح سمجھیں، اس کے مطابق معاملے کو طے کر دیں۔ اب امت مسلمہ نے اپنے اجتماعی فیصلے سے ایک اجتماعی ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ اس آزادی میں ایک حد بندی قائم کی جائے اور اس آزادی کو اس خاص اسلوب اجتہاد یا مسلک یا مذہب فقہی تک محدود کر دیا جائے جو اس علاقے میں مروج ہے، سوائے اس کے کہ تمام علمائے کرام اتفاق رائے سے کوئی اور فیصلہ کریں۔ اس کی گنجائش پہلے بھی تھی اور بعد میں بھی رکھی گئی لیکن عمومی طور پر ایک مسلک کی پیروی کو لازمی قرار دے دیا گیا۔

اگر آپ پانچویں صدی ہجری کے بعد لکھی جانے والی کتابیں دیکھیں تو ان میں قاضی صاحبان کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں ان میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وہ اس مسلک یا اسلوب اجتہاد میں مہارت رکھتے ہوں جس کے مطابق ولی یعنی حکمران نے ان کو فیصلہ کرنے کا پابند کیا ہے۔ یہ بحث بھی اس زمانے میں ملتی ہے کہ ولی امر قاضیوں اور عدالتوں کو کسی خاص اسلوب اجتہاد کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند کر سکتا ہے۔ اس سے پیشتر تیسری چوتھی صدی ہجری کی کتابوں میں یہ بات نہیں ملتی۔ ان میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ملتا ہے کہ قاضی کو مجتہد ہونا چاہیے اور قاضی اگر مجتہد نہیں ہے تو وہ قاضی نہیں بن سکتا۔ زمانے کے لحاظ سے اجتہاد میں تبدیلی کا یہ فرق ہے کہ جب مجتہد ہونے کی ضرورت تھی تو فقہائے اسلام نے قاضی کے لیے مجتہد ہونا ضروری قرار دیا اور جب حالات ایسے ہوئے کہ احکام شریعت مدوّن ہوگئے اور نئے اجتہاد کی ضرورت بہت سے معاملات میں ختم ہوگئی تو انفرادی طور پر قاضی کا مجتہد ہونا لازمی نہیں رہا۔ تاہم اگر قاضی مجتہد ہو تو اچھی بات ہے۔ یہ سلسلہ کم و بیش مزید پانچ سو سال جاری رہا۔ ان مزید پانچ سالوں میں یعنی اندازاً کہا جا سکتا ہے کہ پانچویں صدی ہجری کے اواخر سے دسویں صدی ہجری کے وسط یا اوائل تک فقہاء کرام کا نقطہ نظر عام طور پر یہ رہا ہے کہ قاضی، مفتی، اور فیصلہ کرنے والے صاحبان کے لیے اس خاص مسلک یا مذہب کی پابندی لازمی ہے جو اس علاقے میں مروّج ہے اور جس پر عمل کرنے کا حکمران یا بادشاہ نے ان کو حکم دیا ہے۔ 

ایک آفاقی فقہ: مستقبل کا تقاضا

[تاہم] گزشتہ سو، سوا سو برس کے تجربے نے یہ بتایا ہے اور ہر آنے والا دن اس تجربہ کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے کہ آئندہ دور مختلف فقہی مسالک میں محدود رہنے کا دور نہیں ہے بلکہ ان مسالک کو اجتماعی طور پر مسلمانوں کی مشترکہ میراث قرار دینے اور ان سب کو ساتھ لے کر چلنے کا دور ہے۔ آئندہ جو فقہ سامنے آنے والی ہے، وہ صرف اور صرف عالمگیر فقہ اسلامی ہوگی۔ وہ فقہ حنفی، مالکی، شافعی یا حنبلی فقہ نہیں ہوگی۔ آج ایک آفاقی (Cosmopolitan) فقہ وجود میں آرہی ہے جس میں مسلمانوں کے سامنے پورے فقہی ذخیرے کو سامنے رکھ کر نئے انداز سے احکام مرتب کیے جا رہے ہیں۔ ایسے احکام جن میں فقہ اسلامی کے پورے ذخائر سے کام لیا جا رہا ہے اور جن میں شریعت کے مقاصد اور قرآن و سنت کی نصوص کو اوّلین اور اساسی حیثیت حاصل ہے۔ اس عالم گیر فقہ کی صحیح اسلامی خطوط پر تدوین دورِ جدید کی سب سے بڑی اور سب سے بنیادی ضرورت ہے۔

جس چیز کو آفاقی فقہ کہا گیا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، بلکہ در اصل فقہ اسلامی ہی کی اس اصل اور ابتدائی روح کا احیا ہے جس سے اس عظیم الشان کام کا آغاز ہوا تھا۔ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے مبارک دور سے جس فقہی سرگرمی کا آغاز ہوا تھا، وہ انسان کی فکری تاریخ میں ایک ایسا غیر معمولی کارنامہ ہے جس کی تفصیلات و دقائق اور جس کی مختلف جہتوں پر غور و خوض کا کام ابھی جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عظمت کے مختلف پہلو محققین کے سامنے آتے جائیں گے۔ صدرِ اسلام میں فقہی سرگرمی کسی مسلک، علاقہ، زمانہ یا کسی انفرادی رائے تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ عمومی طور پر شریعت اسلامی کی روح اور شریعت اسلامی کی بین الانسانیت اور بین الاقوامیت کی ترجمان تھی۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں جو فقہ مرتب ہو رہی تھی، جس میں مزید وسعت تابعین اور تبع تابعین کے دور میں پیدا ہوئی، اس کو نہ کسی مسلک کی تنگنائیوں میں محدود کیا جا سکتا تھا، نہ کسی خاص علاقے سے اس کو اس انداز سے وابستگی تھی جو بعد میں فقہی مسالک کو مختلف علاقوں سے حاصل ہوگئی تھی۔ بلکہ یہ ایک ایسی عالمگیر، بین الاقوامی اور بین الانسانی فقہ تھی جس نے اسلامی ریاست اور مسلم معاشرے کی بڑھتی ہوئی ضروریات میں راہنمائی کا سامان فراہم کیا۔ یہ وہ دور تھا جب اسلامی ریاست روزانہ سینکڑوں میل کے حساب سے وسعت اختیار کر رہی تھی۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے اور آئے دن نئے ممالک اور نئی تہذیبیں امت اسلامیہ کا حصہ بن رہی تھیں۔ تبدیلی کے اس غیر معمولی عمل اور انسانی سرگرمی کی اس غیر معمولی وسعت کو جس چیز نے نظم و ضبط کے دائرے میں رکھا اور جس چیز نے ان سب تبدیلیوں کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کیا وہ فقہ اسلامی اور فقہائے اسلام کی تحقیقات ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فقہ اسلامی تمام دنیا کی انسانی ضروریات کا جواب دے رہی تھی۔ وہ اپنے زمانے کے ساتھ نہیں چل رہی تھی بلکہ اپنے زمانے سے صدیوں برس آگے تھی۔ وہ زمانہ کی پیرو نہیں، زمانہ کی قائد تھی۔ فقہائے اسلام ان مسائل پر غور کر رہے تھے جن کو پیش آنے میں ابھی کئی کئی سو سال اور بعض صورتوں میں ایک ایک ہزار سال کا زمانہ باقی تھا۔ 

فقہائے کرام کی کم و بیش دو اڑھائی سو سالہ کوششوں کے بعد جب فقہ اسلامی اپنی ترقی کی ایک خاص سطح تک پہنچ گئی اور اس کی ترتیب و تنظیم کا کام شروع ہوا، اس وقت ضرورت محسوس کی گئی کہ مختلف علاقوں میں وہیں کے رائج اور مقبول فقہی اسالیب کی پیروی کی جائے تاکہ ترتیب و تنظیم کے اس عمل اور توسیع کو منضبط کرنے کے اس کام کو عقلی حدود اور شرعی قواعد کا پابند کیا جا سکے۔ یہ ایک انتظامی ضرورت بھی تھی اور ایک علمی ضرورت بھی۔ ایسا بعض جغرافیائی اور تاریخی اسباب کی بنا پر بھی کیا گیا، لیکن بہرحال یہ ایک عارضی اور وقتی چیز تھی۔ عارضی اور وقتی چیز اس وقت تک کے لیے تھی جب تک دنیائے اسلام بالخصوص اور دنیائے انسانی بالعموم ایک نئے بین الاقوامی اور عالم گیر دور میں قدم نہ رکھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک ہزار سال کی فقہی تیاری اور فقہائے اسلام کے تمام تشکیلی کارنامے اس دور کی ایک تمہید تھے جو اب شروع ہو چکا ہے۔ آئندہ آنے والے دن، عشرے اور صدیاں اس کی ضرورت کو مزید واضح کرتی چلی جائیں گی۔ آئندہ آنے والا دور عالم گیریت کا دور ہے۔ اس وقت دنیا ایک عالم گیر گاؤں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آج اگر کوئی شخص دنیا کے کسی ایک گوشے میں کسی رائے کا اظہار کرتا ہے تو چشم زدن میں وہ رائے دنیا کے ہر گوشے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس پر تنقید، جواب اور جواب الجواب اور تبصرے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ 

آج سے پانچ سو سال پہلے اگر یہ ممکن تھا کہ فقہائے ماوراء النہر بعض معاملات میں شدت اختیار کریں اور کچھ دوسرے فقہاء دنیا کے بعض دوسرے علاقوں میں انہی معاملات کے بارہ میں نرمی اختیار کریں، اور یہ نرمی اور شدت بیک وقت دنیائے اسلام میں رائج العمل رہے، تو یہ اس دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق تھا لیکن آج ایسا ممکن نہیں ہے۔ آج اگر دنیا کے کسی بھی گوشے میں بیٹھا ہوا فقیہ کوئی شدید رائے اختیار کرتا ہے یا کوئی ایسا نقطہ نظر اختیار کرتا ہے جو کسی احتیاط پر مبنی ہونے کی وجہ سے عامۃ الناس کی نظر میں مشکل قرار دیا جائے تو اس کے نتیجے میں پوری دنیا میں فقہ اور شریعت پر تنقید اور تبصرے کا ایک طویل رد عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے منفی اثرات پوری دنیائے اسلام پر اور خاص طور پر ان لوگوں پر پڑتے ہیں جو فقہ اسلامی سے وابستگی کی وہ سطح نہیں رکھتے جو ہر مسلمان کی ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ایسا نقطہ نظر اختیار کرتا ہے جو ضرورت سے زیادہ رخصت یا غیر ضروری تخفیف پر مبنی ہو تو اس کے اثرات بھی بہت جلد پوری دنیائے اسلام میں پھیل جاتے ہیں۔ اس لیے آج کل کے حالات میں یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی خاص اسلوب یا طرز اجتہاد کی پیروی کو اس طرح لازمی قرار دیا جائے جس طرح آج سے نو سو سال پہلے لازمی قرار دیا گیا تھا۔ 

وہ مسائل جو دور جدید نے پیدا کیے ہیں جن کے بارے میں متقدمین کی کتابوں میں کم راہ نمائی ملتی ہے یا بعض جگہ نہیں ملتی، ان کے بارے میں دور جدید کے علمائے اسلام نے ایک اجتماعی اجتہاد کی روش اپنائی ہے اور تمام فقہی مسالک اور نقطہ ہائے نظر کو سامنے رکھ کر ایک ایسا نقطہ نظر اپنانے کی کوشش کی ہے جو دور جدید کے تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہو، جس میں قرآن و سنت کے نصوص کی حدود کی پوری پوری پیروی کی گئی ہو اور جو جائز رخصت اور تخفیف مسلمانوں کو حدود شریعت میں دی جا سکتی ہو، وہ دی گئی ہو جس کی مثال راقم الحروف نے اسلامی بینک کاری، اسلامی بیمہ کاری، اسلامی تکافل، اسلامی سیاسی نظام، قانون سازی اور اس طرح کے معاملات سے دی ہے۔ یہ وہ معاملات ہیں جن میں دنیائے اسلام میں گزشتہ پچاس سال کے دوران نئے اجتہادی رجحانات پیدا ہوئے ہیں۔

آج دنیائے اسلام میں اسلامی ریاست کے بارے میں تصورات تقریباً واضح ہیں۔ آج یہ بات طے ہے کہ جس چیز کو ہم اسلامی دستور یا نمائندہ حکومت کا اسلامی تصور قرار دیتے ہیں، اس کے اساسات اور بنیادیں کیا ہیں۔ اس کے اہم خصائص اور تصورات کیا ہیں اور وہ کون سے اصول ہوں گے جن پر دور جدید کی نمائندہ حکومت کا دستور تیار کیا جائے گا۔ آپ جامعہ ازہر کے تیار کیے ہوئے معیاری اسلامی دستور کو دیکھیں، پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو ملاحظہ فرمائیں، علمائے کرام کے بائیس نکات کو دیکھیں، اسلامی کونسل آف یورپ کے تجویز کردہ مثالی اسلامی دستور کو دیکھیں، اس طرح کی تمام دستاویزات میں ایک یکسانیت اور ہم رنگی پائی جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تعلق مختلف فقہی مسالک سے ہے۔ ان دستاویز کو مرتب کرنے والوں میں کوئی شافعی ہے، کوئی حنفی ہے اور کوئی حنبلی ہے۔ لیکن ان سب حضرات نے ان دستوری تجاویز کو تیار کرنے میں کسی ایک مسلک کی پیروی کو ضروری نہیں سمجھا بلکہ فقہ اسلامی کے تمام ذخائر سے بالعموم اور قرآن و سنت کے ذخائر سے براہ راست بالخصوص استفادہ کیا ہے۔ یہ دستوری فکر اسلامی دستوری فکر تو کہی جا سکتی ہے، اس کو حنفی دستوری فکر یا شافعی یا حنبلی دستوری فکر نہیں کہا جا سکتا۔

ابھی حال ہی میں برادر ملک سعودی عرب میں بعض نئے دستوری فیصلے کیے گئے ہیں۔ وہاں مقامی سطح پر انتخابات کا عمل بھی ابھی پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ چند سال پہلے ایک مجلس شوریٰ بھی تشکیل دی گئی تھی۔ یہ تمام فیصلے وہ ہیں جو ایک نئے انداز سے پہلی مرتبہ جزیرہ عرب میں ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان فیصلوں یا ان تجربات میں برادر ملک سعودی عرب کے لوگ رائج الوقت مغربی تجربات سے متاثر نہیں ہوئے۔ یقیناًمغربی تجربات سے متاثر ہو کر اور مغربی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ تمام معاملات اختیار کیے گئے۔ لیکن ان معاملات کو شریعت کے مطابق تشکیل دینے اور انہیں اسلامی تعلیمات اور روایات سے ہم آہنگ کرنے میں سعودی علماء نے صرف فقہ حنبلی کی پیروی نہیں کی بلکہ انہوں نے فقہ اسلامی کے تمام ذخائر اور قرآن و سنت کی بنیادی اور اساسی نصوص کو سامنے رکھا۔ یہی بات پاکستان، مصر اور دنیائے اسلام کے دوسرے ممالک کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔

اسی طرح سے اسلامی بینک کاری یا اسلامی بیمہ کاری کی مثال لے لیں۔ اسلامی بینک کاری پر اس وقت سوڈان، پاکستان، ایران، ملائیشیا اور مصر میں خاص طور پر بڑا نمایاں کام ہوا ہے۔ مصر اور ملائشیا کے لوگ فقہ شافعی کے پیروکار ہیں، پاکستان میں اکثریت فقہ حنفی کی پیروکار ہے اور ایران میں گزشتہ چار سو سال سے فقہ جعفری کی پیروی کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بات بڑی حیرت انگیز اور خوش آئند ہے کہ ان تمام ممالک میں اسلامی بینک کاری کے تصورات ایک جیسے ہیں۔ ان سب ممالک میں ربا کے جو اسلامی متبادلات تجویز کیے گئے ہیں، وہ تقریباً یکساں ہیں اور جہاں جہاں بھی کسی فقہ اور ملک میں کوئی نرمی یا تخفیف ملتی ہے اس کو بلا استثنا ان تمام ممالک میں اختیار کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر آج کل کارپوریٹ فنانسنگ میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ جب ایک انٹر پرینیور (Entrepreneur) کسی انٹر پرائز کا فیصلہ کرتا ہے اور اس انٹر پرائز کی کامیابی یا اس کے شروع کیے جانے کی صورت میں جس منافع کا وعدہ کرتا ہے، یہ منافع اس کے لیے ادا کرنا واجب التعمیل ہے یا نہیں۔ فقہ حنفی کی رو سے اس طرح کے کاروباری وعدے قانوناً واجب التعمیل نہیں ہیں۔ وہ صرف اخلاقی طور پر واجب التعمیل ہیں۔ اب پاکستان میں بھی اور پاکستان سے باہر بھی یہ محسوس کیا گیا کہ خالص حنفی نقطہ نظر کے مطابق دور جدید کی کارپوریٹ فنانسنگ پر عمل بڑا دشوار ہے۔ آج کے نظام کاروبار میں اس بنیادی وعدے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اسی کی بنیاد پر سارا نظام چلتا ہے جس میں پہلے قدم کے طور پر یہ بتایا گیا ہو کہ جو لوگ اس کاروبار میں حصہ لیں گے یا اس میں سرمایہ کاری کریں گے ان کو فلاں شرح سے نفع دیا جائے گا۔ اب اگر اس وعدے کو محض اخلاقی وعدہ قرار دیا جائے اور یہ عدالتوں کے ذریعے قابل نفاذ نہ ہو تو اس کے نتیجے میں نہ کمپنیاں چل سکتی ہیں، نہ شیئر مارکیٹ چل سکتی ہے اور نہ کارپوریٹ فنانسنگ کے بہت سے کام کیے جا سکتے ہیں۔ اس مشکل کا سامنا کرتے ہوئے یا اس مشکل کا لحاظ کرتے ہوئے یہ محسوس کیا گیا کہ اگر اس میں فقہ مالکی کے نقطہ نظر کو اختیار کر لیا جائے تو یہ مشکل دور ہو سکتی ہے۔ لہٰذا قریب قریب ہر ملک کے اہل علم نے یہ رائے ظاہر کی کہ اس معاملہ میں فقہ مالکی ہی کی رائے کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ امام مالکؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے ایسا وعدہ کرے جس کے نتیجے میں وہ شخص جس سے وعدہ کیا گیا ہے، کوئی مالی ذمہ داری اپنے اوپر لے لے تو اس ذمہ داری کا بالآخر بوجھ وعدہ کرنے والے پر ہوگا۔ اس کو محض اخلاقی وعدہ قرار نہیں دیا جائے بلکہ اسے قانونی طور پر نافذ کیا جائے گا۔ امام مالکؒ کا یہ نقطہ نظر تقریباً تمام فقہاء نے اختیار کر لیا ہے۔ مصر اور ملائشیا جیسے شافعی ممالک میں بھی، پاکستان جیسے حنفی ملک میں بھی اور ایران جیسے جعفری ملک میں بھی اس مالکی نقطہ نظر پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

اسی طرح سے کچھ معاملات ایسے ہیں جہاں فقہ حنبلی کا نقطہ نظر نسبتاً زیادہ آسانی فراہم کرتا ہے اور بقیہ تینوں فقہاء کا نقطہ نظر وہ سہولتیں فراہم نہیں کرتا جس کی ضرورت آج محسوس کی جا رہی ہے۔ اس لیے اب عام رجحان یہ ہے کہ معاملات اور تجارت کے باب میں ان سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے جو حنبلی اجتہادات کے ذریعے ہمیں ملتی ہیں۔ غیر حنبلی ممالک میں اور خود حنبلی ملک سعودی عرب میں امام احمد بن حنبلؒ کے اجتہادات سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ یہی کیفیت فقہ حنفی کے بعض معاملات میں بھی ہے کہ اس نے اپنے اجتہاد کی بنیاد پر بعض معاملات میں ایسی رعایتیں تجویز کی ہیں جو دوسرے فقہاء کے ہاں نہیں ملتیں۔ 

لہٰذا ضرورت اور حالاتِ زمانہ نے یہ ناگزیر کر دیا ہے کہ فقہ اسلامی کے تمام ذخائر کو سامنے رکھا جائے اور ایک ایسی اجتماعی فقہ تشکیل دی جائے جو دنیائے اسلام کے مسائل کا یکساں طور پر ادراک کرے اور ان کا یکساں اور ایک جیسا حل تجویز کرے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ضرورت کا دائرہ بھی بڑھتا جائے گا اور احساس بھی روز بروز گہرا ہوتا چلا جائے گا۔ جیسے جیسے ضرورت کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا، اس کی ضرورت کا احساس بھی پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ جیسے جیسے یہ احساس پیدا ہوگا، عملاً اس فقہ کے خصائص سامنے آتے جائیں گے۔ آئندہ پچاس سال یا چالیس سال میں (اللہ کو بہتر معلوم ہے کتنی دیر میں) ایک نئی فقہ سامنے آجائے گی جسے نہ فقہ حنفی کہا جا سکے گا اور نہ مالکی فقہ کہا جا سکے گا۔ بلکہ وہ اسلامی عالمی فقہ کہلانے کی زیادہ مستحق ہوگی۔ یہ اسلامی عالمی فقہ پوری دنیائے اسلام کو یکساں طور پر مخاطب کر رہی ہوگی۔ یہ پوری دنیائے اسلام کے مسلمانوں کو درپیش مسائل و مشکلات کا یکساں انداز میں جواب دے رہی ہوگی۔ اس میں مسلم اقلیات کے مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہوگی۔ اس میں مسلمانوں کے بین الاقوامی معاملات سے فقہی اعتناء کیا گیا ہوگا۔ اس میں مسلم اقلیات کے مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہوگی۔ اس میں مسلمانوں کے بین الاقوامی معاملات سے فقہی اعتنا کیا گیا ہوگا۔ اس میں جسے آج کل انٹرنیشنل ہیومن ٹیرین لاء (International Humanitarian Law) یعنی بین الاقوامی انسانی قانون کہتے ہیں، اس کے مسائل کا بھی جواب دیا گیا ہو گا۔ موجودہ فقہی ذخائر جو مسالک کے عنوان سے مرتب و مدوّن ہیں، یہ اس نئی فقہ کے لیے مآخذ اور مصادر کا کام دیں گے۔ ان مصادر و مآخذ کی مدد سے یہ نئی فقہ اسی روح کی علم بردار اور اسی جذبے سے سرشار ہوگی جس روح کی علم بردار صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی فقہ تھی اور اسی جوش عمل سے سرشار ہوگی جس جوش عمل سے صحابہ، تابعین اور تبع تابعین سرشار تھے۔

یہ کام کس رفتار سے آگے بڑھے گا اور کن حدود اور خطوط پر بڑھے گا، یہ بات اہل علم کے غور کرنے کی ہے۔ آج اگر فقہائے دور جدید اس ضرورت کا احساس کر کے اس آئندہ آنے والی پیش رفت کے قواعد و ضوابط مقرر کر دیں گے تو یہ پیش رفت معقول اور شرعی حدود کے اندر برقرار رہے گی۔ اگر دورِ جدید کے معاصر علماء اور فقہاء نے اس نئے رجحان کی ضرورت اور اہمیت کا احساس نہ کیا یا اس ضرورت کو غیر حقیقی ضرورت قرار دیا تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ یہ پیش رفت کسی حد کی پابند نہ رہے، اور وہ لوگ جو شریعت کا علم نہیں رکھتے یا وہ لوگ جو اس پیش رفت کو غلط طریقے سے استعمال کرنا چاہیں یا اسے غلط راستے پر چلانا چاہیں، وہ اس پیش رفت پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ ایک منفی رجحان ہوگا جو بالآخر امت مسلمہ کے لیے خوش آئند ثابت نہیں ہوگا۔

علامہ اقبالؒ کی خواہش

یہ اتنا بڑا چیلنج ہے جس کا احساس علامہ اقبالؒ نے آج سے کم و بیش اَسّی سال پہلے کیا تھا۔ یہ اتنا بڑا کام ہے جس کے لیے وہ خود عرصۂ دراز تک خواہاں رہے کہ کچھ ماہرین شریعت کی مدد دستیاب ہو جائے تو وہ اس کام کا آغاز اپنی زندگی ہی میں کر جائیں۔ انہوں نے ۱۹۲۵ء میں یہ لکھا تھا کہ جو شخص زمانہ حال کی جورس پروڈنس پر نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا، وہ بنی نوع انسان کا سب سے بڑا محسن اور اس دور کی اسلامی تاریخ کا مجدّد ہوگا۔ آج اسی تجدیدی کام کی ضرورت ہے۔ 

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تقنین سے مراد صرف اتنی ہے کہ قدیم کتابوں میں فقہائے اسلام نے جو کچھ لکھا ہے اس کو دفعہ وار ایک دو تین ڈال کر مرتب کر دیا جائے۔ واضح رہے کہ تقنین اس کا نام نہیں ہے۔ تقنین، احکامِ فقہ پر ایک نئی اجتہادی بصیرت کے ساتھ نگاہ ڈالنا، احکامِ فقہ کو دور جدید سے ہم آہنگ کرنا اور دور جدید کے معاملات اس طرح مرتب کرنا ہے کہ یہ سارا عمل شریعت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہو جائے۔ جہاں فقہائے کرام کے اجتہادات دورِ جدید میں نظر ثانی کے محتاج ہیں، ان پر اس طرح نظر ثانی کرنا کہ حدودِ شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو اور شریعت کے مقاصد کماحقہ پورے ہوں۔ یہ سارا کام اس احتیاط، تدبیر اور حکمت کے ساتھ کرنا کہ دورِ جدید کا وہ انسان (جس میں تعلیم دین کی بھی کمی ہے، جس کی دینی تربیت بھی مناسب انداز کی نہیں ہوئی اور جو ایک غیر اسلامی اور غیر دینی ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہے) اس تبدیلی کو قبول کر لے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں اسے کوئی ایسا حرج یا مشکل پیش نہ آئے جس کی وجہ سے وہ احکام شریعت کو قبول کرنے میں تأمل کرے۔ قرآن مجید نے یسر (آسانی) کا حکم دیا ہے اور رفعِ حرج (تنگی و مشقت دور کرنا) کی تلقین کی ہے۔ آج ہمیں تدوین نو کے اس عمل میں یسر اور رفعِ حرج سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ 

واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں، پاکستان سے باہر اور جدید دنیائے اسلام کے بیشتر مقامات پر تدوین شریعت کا کام اس انداز سے نہیں ہوا جس انداز سے دورِ جدید میں کیا جانا مقصود تھا۔ جامعہ ازہر (مصر) میں آج سے تقریباً تیس سال پہلے مختلف فقہی قوانین کی تدوین نو کا بیڑا اٹھایا گیا تھا اور وہاں کے ماہرین کی ایک بڑی جماعت نے مختلف مسالک کی بنیاد پر قوانین کے الگ الگ مجموعے مرتب کیے تھے۔ علمی اعتبار سے یہ ایک اچھی کاوش تھی، لیکن اس سے دنیائے اسلام میں زیادہ استفادہ نہ کیا جا سکا اور یہ کام محض کتب خانوں کی زینت بننے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ شاید اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ اب مسلکوں کی پابندی کا دور آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ اب جدید مسلم ممالک کا پبلک لاء مسلکوں کے محدود دائرہ کار کی پابندی کے ساتھ نہیں بنایا جا سکتا۔ 

حدود وقصاص میں عورت کی گواہی 

[مثال کے طور پر حدود وقصاص کے مقدمات میں عورت کی گواہی کے مسئلے میں] دلائل کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن پاک یا سنت رسولؐ میں کوئی ایسی واضح اور صریح نص قطعی موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر کوئی حتمی اور طے شدہ رائے قائم کی جا سکے۔ مسئلہ صدر اسلام میں صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے مابین مختلف فیہ رہا ہے اور جہاں صحابہ و تابعین کی غالب اکثریت نے یہ رائے اختیار فرمائی کہ حدود میں عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں ہے، وہاں ایسے صحابہ کرام اور تابعین بھی ہیں جنہوں نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے حدود میں عورتوں کی گواہی کو قابل قبول قرار دیا۔ لہٰذا یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ دور صحابہ و تابعین میں یہ مسئلہ مختلف فیہ تھا اور مجتہدین صحابہ و تابعین نے اپنے اپنے اجتہادات کے مطابق اس معاملہ میں آرا اختیار فرمائیں۔ مذکورہ بالا چار دلائل کی حیثیت نصوص قطعیہ کی نہیں بلکہ محض شواہد و مؤیدات کی ہے جو جمہور کے اجتہاد کی تائید میں پیش کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض فقہا نے صرف زہری کے اثر کا حوالہ دینا کافی سمجھا ہے اور بعض نے آیات و احادیث کے صیغہ ہائے تذکیر کی بنیاد پر گفتگو کی ہے۔ شبہ بدلیت اور قصور ولایت کی بات متاخرین کے ہاں ملتی ہے۔ متقدمین کے ہاں عموماً یہ دلائل نہیں ملتے۔ یوں بھی فقہاء کرام کا یہ اسلوب معلوم و معروف ہے کہ وہ اپنے امام مجتہد کے اقوال کی تائید میں جو عقلی دلائل دیتے ہیں ان کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ان کے امام مجتہد نے محض ان کی بنیاد پر یہ رائے قائم کی ہے بلکہ یہ عقلی دلائل عموماً فریق ثانی پر اتمام حجت کے لیے دیے جاتے ہیں۔ یہ دلائل محض ایک نقطہ نظر کی تائید میں عقلی توجیہات ہیں جن کو نہ کوئی مضبوط شرعی دلیل قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ اس طرح کے دلائل کی بنیاد پر شریعت کے قطعی احکام کا تعین ہو سکتا ہے۔ فقہائے کرام کی جانب سے ایسے عقلی دلائل کا دیا جانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ کو اجتہادی معاملہ سمجھتے تھے اور انہوں نے جو رائے قائم کی وہ ان کی اجتہادی رائے تھی جس سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔

یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ائمہ اربعہ کے متفق علیہ نقطہ نظر سے ہٹ کر کسی اور رائے کا اختیار کرنا بڑی بھاری اور نازک ذمہ داری ہے جس کے لیے بہت غیر معمولی احتیاط اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس سے قبل دنیائے اسلام کے دوسرے ممالک کے علاوہ خود پاکستان میں بہت سے معاملات میں ائمہ اربعہ کی رائے سے ہٹ کر نقطہ ہائے نظر اختیار کیے گئے ہیں اور ان کو قبول عام بھی حاصل ہوا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں اور خود اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے علاوہ رائج الوقت اسلامی بین الاقوامی قوانین میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ ایک معاملہ میں ائمہ اربعہ کی رائے سے ہٹ کر کوئی اور رائے اختیار کی گئی۔ اس لیے راقم الحروف کی یہ جسارت اس نوعیت کی پہلی جسارت نہیں ہے اور شاید آخری بھی نہیں ہوگی۔ ان گزارشات کی روشنی میں راقم الحروف کی رائے کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ حدود و قصاص اور دوسرے معاملات میں عورتوں اور مردوں کی گواہی یکساں طور پر معتبر ہے۔ 

۲۔ البتہ قرآن پاک اور سنت رسول خدا کی قطعی نصوص کی بنیاد پر دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوگی۔ 

۳۔ حدود و قصاص کے تمام معاملات قرینہ قاطعہ کی بنیاد پر بھی طے کیے جا سکتے ہیں اور ان کی بنیاد پر حدود کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ قرینہ قاطعہ کا حدود و قصاص میں قابل قبول ہونا قرآن پاک، سنت رسول، تعامل صحابہ اور اقوال ائمہ مجتہدین سے ثابت ہے۔ اس لیے اس کے خلاف کسی فقیہ کی رائے کو قابل قبول نہیں کہا جا سکتا۔

اصول فقہ دور جدید میں

دور جدید میں جہاں دوسرے اسلامی علوم میں نئے نئے رجحانات پیدا ہوئے ہیں اور تحقیق و تدبر کے نئے نئے میدان سامنے آئے ہیں، وہاں اصول فقہ میں بھی نئے نئے رجحانات پیدا ہوئے ہیں اور تحقیق اور غور و فکر کے لیے بہت سے نئے موضوعات سامنے آئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ پچاس سال اصول فقہ کے لیے ایک دور جدید کے منار ثابت ہوں گے اور جو رجحانات گزشتہ پچاس ساٹھ سال میں ابھر کر سامنے آئے ہیں وہ پایہ تکمیل تک پہنچیں گے اور ان کے حتمی نتائج و ثمرات سامنے آجائیں گے۔

اس سے قبل یہ اشارہ کیا جا چکا ہے کہ جدید مغربی اصول قانون کے اثر سے بہت سے معاصر اہل علم نے اصول فقہ کے مضامین کو نئے انداز سے مرتب کرنا شروع کیا ہے۔ اس ترتیب نو کے دو بڑے بڑے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ ایک رجحان جو دنیائے عرب میں پایا جاتا ہے وہ اصول فقہ کے موضوعات کو فرانسیسی اصول قانون کی ترتیب سے مرتب کرنے کا ہے۔ اس رجحان کے ابتدائی اور پیش رو نمائندوں میں معروف دو الیبی، مصطفی زرقاء، صبحی محمصانی اور سلام مدکور وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔ ان حضرات میں بیشتر کی اصل اور بنیادی تعلیم اسلامی علوم اور بالخصوص فقہ اسلامی کی تھی جس کو انہوں نے اسلام کے بنیادی مآخذ و مصادر اور فقہ اسلامی کے جید اساتذہ سے پڑھا اور سمجھا تھا۔ بعد میں ان حضرات نے فرانس کی درسگاہوں میں فرانسیسی زبان اور قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اسلامی قانون کے مختلف پہلوؤں اور تصورات پر وہاں کی جامعات میں مقالات لکھے اور یوں فقہ اسلامی کے موضوعات کو فرانسیسی اسلوب میں پیش کرنا سیکھا۔

اس سلسلہ کا آغاز تو بیسویں صدی کے اوائل ہی میں ہوگیا تھا لیکن اصل پیش رفت بیسویں صدی کے وسط میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب شام، مصر اور الجزائر و مراکش سے بڑی تعداد میں طلبہ فرانس گئے اور وہاں کی یونیورسٹیوں میں قانون کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ اس انداز سے اصول فقہ پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں استاذ مصطفی احمد زرقاء کی ’’الفقہ الاسلامی فی ثوبہ الجدید‘‘ ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ استاذ مصطفی احمد الزرقاء نے اس کتاب میں اصول فقہ کے چند اہم مباحث کے ساتھ ساتھ فقہ اسلامی سے بہت سا ایسا مواد اخذ کر کے مرتب کیا ہے جو روایتی طور پر اصول فقہ کے مباحث میں شامل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ بلا شبہ ایک بڑا تاریخ ساز اور اجتہادی نوعیت کا کام تھا جو استاد مصطفی زرقاء اور ان کے معاصر اہل علم نے بڑی کامیابی اور عرق ریزی سے انجام دیا۔ ان حضرات نے فقہ کی بنیادی کتابوں کے عمیق اور تنقیدی مطالعہ سے ایسے اصول اور تصورات دریافت کیے جن کی ضرورت متقدمین نے محسوس نہ کی تھی اور وہ ان اصولوں اور تصورات کو اس نئے انداز کے بجائے اپنے قدیم روایتی انداز سے جزئیات اور فروعی مسائل کے سیاق و سباق میں پیش کرتے تھے۔ استاذ مصطفی الزرقاء، شیخ علی الخفیف اور استاذ ابو زہرہ جیسے علمائے اصول نے ملکیت، مال، قبضہ، حق اور ایسے بہت سے فقہی اصولوں اور تصورات کو نئے انداز سے مرتب کر کے اصول فقہ کی کتابوں میں شامل کیا، اور یوں بہت سے فقہی مباحث کو نئی ترتیب دے کر اصول فقہ کے دائرہ میں شامل کر لیا۔ 

اس سلسلہ کا دوسرا بڑا رجحان ہمارے برصغیر میں سامنے آیا جہاں انگریزی قانون کی فرمانروائی اور انگریزی اسلوب کی حکمرانی تھی۔ یہاں کے مسلمان اہل علم نے اصول فقہ کے مباحث کو انگریزی اصول قانون کے انداز میں مرتب کرنے کی طرح ڈالی۔ اس رجحان کے اولین نمائندہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، جسٹس سر عبد الرحیمؒ تھے۔ ان کی کتاب Principles of Muhammadan Jurisprudence اس اعتبار سے اپنی نوعیت کی پہلی کتاب تھی کہ اس میں اصول فقہ کے مباحث کو انگریزی اصول قانون کے اسلوب میں بیان کیا گیا تھا۔ اس کتاب نے انگریزی تعلیم یافتہ اور قانون دان طبقہ میں اصول فقہ کے مباحث کو متعارف کرایا۔ بیسویں صدی کے اوائل سے مغرب میں بھی اصول فقہ کا مطالعہ شروع ہوگیا۔ میکڈانلڈ، گولڈ تسیہر (Goldziher) اور شاخت (Schacht) جیسے نامور مغربی فضلا نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے اصول فقہ کا مطالعہ کیا اور بہت سے ایسے مباحث اور سوالات اٹھائے جو مسلمان مصنفین نے اس سے قبل نہیں اٹھائے تھے۔ ان مباحث نے مغربی جامعات کے مسلمان طلبہ کے ذریعہ جدید علمائے اصول کے انداز تحقیق و تصنیف کو بھی متاثر کیا اور انہوں نے اپنی اپنی تصانیف میں ان نئے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی۔ فقہ اسلامی کے قانون روما سے متاثر ہونے کی بحث، اجماع کے واقع ہو سکنے اور واقع ہونے کی صورت میں اس کے تیقن کا مسئلہ، جدید قانون سازی اور ضابطہ بند احکام کے نفاذ سے پیدا ہونے والے مسائل وہ ہیں جو بہت سے معاصر مصنفین کی تحریروں میں اٹھائے گئے ہیں۔ 

آج اصول فقہ پر کمی (Quantity) اور کیفی (Quality) دونوں اعتبار سے جتنا کام عرب دنیا میں ہوا ہے، وہ ابتدائی چند صدیوں کے بعد ہونے والے مجموعی کام سے (چند اہم مستثنیات کو نکال کر) زیادہ نہیں تو اس کے برابر ضرور ہے۔ چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کو ہم بلا تامل اصول فقہ کے عہد تجدید اور احیائے نو سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ گزشتہ ہجری صدی کے اوائل سے عرب دنیا میں جو کام ہونا شروع ہوا ہے اس میں دو بنیادی خصوصیات نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ دور جدید کی اصول فقہ کی کتابوں میں کسی متعین اور پہلے سے طے شدہ فقہی یا اصولی مسلک کی پابندی کم کی گئی ہے۔ بہت کم کتابیں ایسی ہیں جن میں کسی خاص فقہی مسلک کی پابندی کو پیش نظر رکھا گیا ہو۔ ورنہ اکثر تحریروں کا رجحان یہی ہے کہ فقہ اور اصول فقہ کے پورے سرمایہ کو مسلمانوں کا مشترکہ ورثہ قرار دے کر بحیثیت مجموعی علمائے اصول کے خیالات کو پیش کیا جائے اور فقہی مسالک اور اصولی نقطہ ہائے نظر کے مابین ایک مثبت اور صحت مندانہ تقابلی مطالعہ کے رواج کو فروغ دیا جائے۔ استاذ مصطفی زرقاء، استاد محمد ابو زہرہ، محمد سلام مدکور اور ڈاکٹر عبد الرزاق سنہوری کی تصریروں میں یہ بات واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔

دوسری قابل ذکر بات جس کے بارہ میں پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، یہ ہے کہ دور جدید کے بہت سے عرب مصنفین نے مختلف مغربی تصورات کا بھی تنقیدی مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے اور اصول فقہ کے نظریات و تصورات کا تقابل مغربی قانون کے اصولوں سے کیا ہے۔ اس تقابل سے بہت سی ایسی غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں جو بعض مغربی مصنفین کی تحریروں سے پیدا ہوئی تھیں۔ مثال کے طور پر بعض مغربی مصنفین نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ فقہ بالعموم اور اصول فقہ کے بعض نظریات بالخصوص رومن قانون سے ماخذ ہیں اور چند جزوی مشابہتوں کو ادھر ادھر سے جمع کر کے بعض مغربی مصنفین یہ لکھنے لگے تھے کہ یہ چیزیں رومن لاء کے زیر اثر اسلامی قانون میں داخل ہوئیں۔ تقابلی مطالعہ بات سے یہ غلط فہمی دور ہونے لگی اور اسلامی قانون کے اصل ماخذ اور اصولوں کے ارتقائی مطالعہ نے اس تاثر کو ہمیشہ کے لیے ختم کر ڈالا۔

دنیائے اسلام کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ برصغیر جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان میں بھی اصول فقہ پر تحقیق و تصنیف کی ایک نئی رو گزشتہ سو سال کے دوران سامنے آئی ہے۔ برصغیر میں اصول فقہ کی تاریخ دوسرے علوم کی تاریخ سے مختلف نہیں رہی۔ یہاں کے اہل علم کی متعدد فقہی اور اصولی تالیفات نے دنیائے اسلام کے علمی اور تعلیمی حلقوں کو متوجہ کیا۔ عہد مغلیہ کے مشہور و معروف فقیہ، اصولی اور فلسفی قاضی محب اللہ بہاریؒ (م ۱۱۱۹ھ) کی مشہور و معروف کتاب ’’مسلّم الثبوت‘‘ اصول فقہ کی ایک انتہائی مقبول اعلیٰ درسی کتاب کے طور پر دنیائے اسلام کے مختلف حصوں میں متداول رہی ہے۔ برصغیر کے علاوہ ترکی، مصر، شام اور افغانستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایک طویل عرصہ تک ’’مسلّم الثبوت‘‘ اصول فقہ کے نصاب کی ایک اعلیٰ کتاب کے طور پر پڑھی اور پڑھائی گئی۔ برصغیر میں اصول فقہ پر لکھی جانے والی کسی اور کتاب کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی جتنی ’’مسلّم الثبوت‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ ’’مسلم الثبوت‘‘ کے علاوہ بھی برصغیر پاک و ہند کے مختلف حصوں میں بالعموم اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں بالخصوص اصول فقہ کے موضوع پر متعدد قابل ذکر کتابیں لکھی گئیں۔ یہاں ان سب کا تذکرہ تو دشوار ہے البتہ ایک معروف درسی کتاب ’’نور الانوار‘‘ کا ذکر ضروری ہے۔ یہ کتاب جو برصغیر میں گزشتہ تین سو سال سے ایک متداول کتاب چلی آرہی ہے، عہد شاہ جہانی اور عہد عالمگیری کے مشہور استاد اور فقیہ ملا احمد جیون امیٹھویؒ (م ۱۱۳۰ھ) کی تصنیف ہے۔ ملا جیونؒ مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے استاد اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ ’’نور الانوار‘‘ ایک اور قدیم تر اصولی کتاب ’’المنار‘‘ کی شرح ہے۔

دنیائے اسلام کے نامور مفکر اور برصغیر پاک و ہند میں تجدید و اصلاح کے ایک رجحان ساز قائد شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (م ۱۱۷۶ھ) کی کتابوں نے بھی اصول فقہ کی درس و تدریس پر گہرا اثر ڈالا۔ شاہ صاحب نے براہ راست اصول فقہ پر کوئی کتاب تو نہیں لکھی لیکن انہوں نے متعدد اہم اصولی مسائل کو اپنی تحقیقات کا موضوع بنایا۔ ان کی کتابوں ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘، ’’الانصاف‘‘ اور ’’عقد الجید‘‘ میں اجتہاد، اجماع اور تفسیر و تعبیر سنت جیسے اہم مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔ شاہ صاحب کے افکار نے بعد میں آنے والے تقریباً تمام اہل علم، فقہاء اور علمائے اصول کو متاثر کیا۔ ان کے خیالات میں جو جامعیت اور اعتدال پایا جاتا ہے اس نے بعد میں آنے والوں کے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا اور یوں برصغیر میں ایک نیا اسلوب سامنے آیا۔

اوپر سر عبد الرحیمؒ کی کتاب کا تذکرہ کیا جا چکا ہے جو بیسویں صدی کے آغاز میں سامنے آنے والی ایک منفرد انداز کی کتاب تھی۔ اس کتاب نے پہلی مرتبہ مغربی تعلیم یافتہ قانون دانوں کے حلقے کو اصول فقہ کے مباحث سے متعارف کرایا۔ اگرچہ سر عبد الرحیمؒ کی کتاب عربی میں لکھی جانے والی بعض درسی کتابوں کے اردو تراجم کی انگریزی تلخیص ہے، تاہم اس کی ترتیب میں ایک جدت پیدا کی گئی تھی اور اسلوب بھی نئے انداز کا تھا۔ اس نئی ترتیب اور اسلوب نے اصول فقہ کو مغربی اصول قانون کی ترتیب اور اسلوب میں پیش کرنے کی طرح ڈالی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ سر عبد الرحیمؒ کی ڈالی ہوئی نیو پر بعد میں مزید تعمیر کی جاتی اور اس اسلوب پر کام کو آگے بڑھایا جاتا لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور مغربی تعلیم یافتہ حضرات میں سے کسی اور قانون دان نے اس کام کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہ لی۔

البتہ حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبالؒ کو شدت سے اس امر کا احساس تھا کہ فقہ اور اصول فقہ کی تدوین نو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سر عبد الرحیمؒ کی کتاب کا بنظر غائر مطالعہ کیا تھا اور یہ محسوس کر لیا تھا کہ اب اصول فقہ اور فقہ کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس نئے دور کے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ فقہ اور اصول فقہ کی مکمل تدوین نو کی ضررت ہے۔ ان کی مختلف تحریروں میں تدوین نو کے ان مجوزہ خطوط کی کسی حد تک نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ تاہم ان کا احساس یہ تھا کہ یہ کام تن تنہا کسی ایک فرد کے کرنے کا نہیں بلکہ اس غرض کے لیے قدیم و جدید کے ماہرین کو مل کر مشترکہ کوششوں سے یہ کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے وقتاً فوقتاً برصغیر کے نامور اہل علم سے درخواست کی، لیکن افسوس کہ کوئی بھی اس معاملے میں ان کا ہاتھ بٹانے پر آمادہ نہ ہو سکا۔ خود انہوں نے تن تنہا اس کام کا بیڑا اٹھانا (غالباً اپنے انتہائی متواضعانہ مزاج کی وجہ سے) مناسب نہ جانا۔

پاکستان بننے کے بعد بھی اصول فقہ کے میدان میں طویل عرصہ تک کوئی خاص قابل ذکر پیش رفت نہ ہو سکی اور ایک آدھ ہلکی پھلکی درسی کتاب کے علاوہ کوئی ٹھوس اور دیرپا کام نہیں ہوا۔ پاکستان میں گزشتہ دو ایک عشروں میں جو تھوڑا بہت کام ہوا ہے وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان، بالخصوص اس کے ذیلی شعبہ ادارہ تحقیقات اسلامی سے وابستہ حضرات کا ہے۔ ادارہ تحقیقات اسلامی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے وابستہ اہل علم میں ڈاکٹر کمال فارو قی، ڈاکٹر احمد حسن، ڈاکٹر خالد مسعود اور پروفیسر عمران احسن نیازی کی کاوشیں قابل قدر اور وقیع ہیں۔ 

خوشی کی بات یہ ہے کہ اب دیگر جامعات اور بعض دینی مدارس میں بھی اصول فقہ کی تدوین نو کی ضرورت کا احساس پیدا ہونے لگا ہے۔ اس معاملے میں پنجاب یونیورسٹی لاہور پاکستان کو سبقت کا شرف حاصل ہے۔ پنجاب یونیورسٹی نے قانون اور اسلامیات کے شعبوں میں اصول فقہ کے نصابات کو ذرا نئے انداز سے مرتب کیا جس کے نتیجے میں کئی نئی تحریریں سامنے آئیں۔ دینی مدارس سے وابستہ حضرات میں مولانا ثناء اللہ زاہد اور مولانا محمد انور بدخشانی کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔ ان حضرات نے بعض قدیم درستی کتابوں کو نئے انداز سے مرتب کیا ہے اور طلبہ کو اصول فقہ کے مضمون سے متعارف اور مانوس کرانے کے لیے پرانی درسی کتابوں کے نئے اور آسان متون تیار کیے ہیں۔

دور جدید میں اسلامی ریاست کا نقشہ

بیسویں صدی کے وسط میں جب دنیا کے مختلف ممالک میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اس دور میں اسلامی ریاست کا احیاء کیسے کیا جائے اور جدید جمہوری ماحول میں اسلامی شریعت کی بالادستی کیسے قائم کی جائے تو بہت سے حضرات کے ذہنوں میں اسلامی ریاست کا کوئی واضح نقشہ اور تصور نہیں تھا۔ اس تصور کے واضح نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی ریاستیں کم و بیش دو سو سال پہلے مغربی استعمار کی آمد پر ایک ایک کر کے ختم کر دی گئی تھی۔ اسلامی قوانین کو ایک ایک کر کے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے اجتماعی اور ملی ادارے ایک ایک کر کے مٹا دیے گئے تھے۔ اب بیسویں صدی کا وسط آتے آتے صورت حال یہ ہوگئی تھی کہ مسلمان کئی سو سال سے جس نظام اور جن اداروں سے مانوس تھے، وہ اسلام سے بالکل متعارض تھے، اس لیے ان کے سامنے ایسا کوئی عملی نقشہ برسر زمین موجود اور کافرما نہیں تھا جس کی بنیاد پر اور جس کو سامنے رکھ کر وہ ایک نئے نظام کا خاکہ مرتب کر سکتے۔ اسلامی ریاست و حکومت کے موضوع پر قدیم دینی لٹریچر اور اسلامی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہوا ملتا ہے وہ تین قسم کی چیزوں سے عبارت ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی سیاسی نظام کے بارے میں علامہ ماوردیؒ (م ۴۵۰ھ) کی مشہور کتاب ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ جو پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں لکھی گئی تھی اور اس طرح کی دیگر بہت سی کتب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں تین اقسام کے معاملات سے بحث کی گئی ہے:

کچھ معاملات بنیادی احکام سے متعلق ہیں۔ یہ وہ احکام ہیں جو قرآن و سنت کی نصوص میں بیان ہوئے ہیں اور جن کو اسلامی ریاست یا اسلامی معاشرہ کا اساسی عنصر اور شرط لازم یا جزو لاینفک قرار دیا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک ایسا لازمی عنصر جس کی عدم موجودگی میں نہ معاشرے کو اسلامی معاشرہ قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ریاست کو اسلامی ریاست کہا جا سکتا ہے۔ 

دوسرا حصہ ان احکام پر مشتمل ہے جو فقہائے اسلام نے اپنے اجتہاد اور فہم و بصیرت کی روشنی میں مرتب کیے ہیں جن سے اختلاف کرنے کی گنجائش بعد کے مفکرین اور مجتہدین کے لیے موجود ہے اور موجود رہی ہے، بلکہ ان احکام کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے بعض معاملات میں قدیم فقہاء سے اختلاف بھی کیا گیا ہے۔

تیسرا حصہ ان امور پر مشتمل ہے جو فقہائے کرام کے کسی اجتہاد پر مبنی نہیں تھا بلکہ وہ ان فیصلوں اور احکام پر مشتمل ہے جو مختلف انتظامی اداروں کے لیے مرتب کیے گئے تھے اور جن کو مختلف مسلمان حکمرانوں اور مسلمان ریاستوں نے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر اختیار کیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ مختلف مسلمان حکمرانوں اور مسلمان ریاستوں نے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر مختلف زمانوں میں مختلف ادارے قائم کیے اور ان اداروں کے لیے تفصیلی احکام بھی مرتب کرائے۔ ریاستی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مختلف اداروں کے قیام کی ضرورت ہر دور میں پیش آتی ہے اور اس دور میں بھی پیش آتی تھی۔ بعض ادارے پہلی صدی ہجری میں وجود میں آئے، بعض دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں اور چھٹی صدی میں بنائے گئے۔ غرض ہر صدی میں بعض اداروں کے قیام کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی۔ ان اداروں کے بارے میں بھی تفصیلات ان کتابوں میں موجود ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہمارے دور میں اسلامی ریاست قائم کی جائے گی تو کیا اس کے لیے متذکرہ بالا تینوں قسموں کے احکام پر عمل کرنا ضرور ہوگا؟ دور جدید میں اسلامی ریاست کی بات کرنے سے قبل اس اہم سوال پر غور کرنا اور اس کا جواب دینا ضروری ہے۔ قرآن پاک، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور فقہاء کی تصریحات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں قسم کے احکام کی حیثیتیں مختلف ہیں۔ پہلی قسم کے احکام جو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں منصوص ہیں وہ اپنی تمام جزئیات اور تفصیلات کے ساتھ جن میں کوئی نظر ثانی یا سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہو سکتی، لازمی طور پر واجب التعمیل ہیں۔

جو معاملات اجتہادی ہیں ان میں اس دور کے مفکرین اور مجتہدین کو کم از کم نظری اعتبار سے اس بات کا اختیار ہے کہ وہ موجودہ دور کے لحاظ سے ان میں کسی تبدیلی یا اجتہاد کی ضرورت محسوس کریں تو شریعت کی دی گئی گنجائش کے مطابق نئے احکام وضع کر سکتے ہیں۔

تیسری قسم کے احکام کے بارے میں سب سے پہلے یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ کیا وہ اس دور میں بھی اپنی معنویت رکھتے ہیں؟ اور کیا وہ یا ان میں سے چند احکام موجودہ حالات کے سیاق و سباق میں قابل عمل ہیں؟ مثال کے طور پر جہاد کا حکم تو شریعت میں ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا، لیکن جہاد کے لیے ادارے، تنظیمیں اور حالات کے موافق طریق کار ہر دور میں متعین کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم ان تنظیمات اور اداروں کی تفصیلات وضع کرنے میں حالات و زمانہ کی رعایت رکھی جائے گی۔ ان تفصیلات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اگر ان سے بہتر کوئی تدبیر اور تنظیم موجود ہے تو اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔

بہت سے مسلمان دانشور ان تینوں اقسام کے احکام میں کوئی امتیاز نہیں کرتے اور اس عدم امتیاز کی بنا پر فکری الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں اور بعض اوقات انہی الجھنوں کی بنا پر خود شریعت ہی سے بد ظن ہو جاتے ہیں اور اسلام کے بارہ میں ان کے ذہنوں میں الجھنیں اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ وہ اس تیسری قسم کے احکام کو بار بار دہرا کر یہ کہتے ہیں کہ اس دور میں یہ احکام کیسے چل سکتے ہیں؟ اس دور میں تلوار سے جہاد کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اور آخر قتل کے کسی مجرم کو سزا کے لیے تلوار ہی سے گردن اڑانے کی کیا ضرورت ہے؟

دوسری طرف کچھ لوگ جو شریعت کے علمبردار ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان تینوں اقسام کے احکام کو تمام تفصیلات کے ساتھ جوں کا توں اس دور میں بھی اختیار کیا جانا ضروری ہے۔ ان دونوں نقطہ ہائے نظر کے حامل حضرات نے کبھی سنجیدگی سے شریعت کے احکام اور مسلمانوں کے تاریخی تجربہ کے مابین فرق کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا نتیجہ مزید ژولیدگی کی صورت میں نکلا اور یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی صورت حال پیدا ہوگئی جس نے اسلامی قوانین کے نفاذ کے سارے معاملہ کو خاصا پیچیدہ بنا دیا۔ 

حکومت پاکستان نے ۱۹۴۸ء میں اسلامی نظام کا خاکہ مرتب کرنے کے لیے تجاویز طلب کیں۔ بہت سے لوگوں نے اس سلسلے میں اپنی تجاویز دیں۔ ان میں سے دو کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا، جس سے اندازہ ہوگا کہ اسلامی نظام کے بارے میں لوگوں میں کس انداز کی فکر پائی جاتی رہی ہے اور وہ نفاذ شریعت کے معاملے کو کس طرح دیکھتے رہے ہیں۔ ایک خاکہ میں تجویز کیا گیا تھا کہ اسلامی حکومت کا نظام نافذ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ فلاں خاص فقہ سے وابستہ جتنی مساجد ہیں، ان سب کا سروے کر کے ان سب کی ایک فہرست مرتب کرلی جائے۔ اس فہرست کے مرتب کرنے کے بعد ان مساجد کے خطباء اور ائمہ مساجد اور ان مساجد میں قائم مذہبی مدارس کے سربراہان کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنے میں سے سب سے زیادہ متقی اور صاحب علم شخصیت کو منتخب کر لیں اور جب وہ شخصیت منتخب ہو جائے تو سب ائمہ اور خطباء حضرات اس شخصیت سے بطور امیر المومنین یا خلیفہ المسلمین بیعت کر لیں۔ بیعت کے بعد پاکستان کا نظام اس شخصیت کے سپرد کر دیا جائے اور پھر سارا کام اسی کے ہاتھوں چلے۔ وہ شخصیت جو بھی نظام حکومت چلائے گی، وہی اسلامی نظام حکومت ہوگا اور اس کی ہدایات اور احکام کے نفاذ کو شریعت کا نفاذ قرار دیا جائے گا۔ ظاہر بات ہے کہ نفاذ شریعت کی یہ شکل نہ ۱۹۴۸ء میں پاکستان میں ممکن تھی، نہ آج ممکن ہے اور نہ آئندہ ممکن ہوگی اور نہ نفاذ شریعت کے یہ معنی ہیں کہ کسی خاص مسلک یا طبقہ کے ائمہ مساجد اور خطباء کو بلا کر معاملات ریاست ان کے سپرد کر دیے جائیں۔

ایک اور خاکہ کی رو سے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ فلاں مسلک کے ایک بڑے ممتاز اور جید عالم کو شیخ الاسلام کے منصب پر فائز کر دیا جائے، وہ شیخ الاسلام مساجد کا نظام چلائے، نکاح اور طلاق کے مقدمات کی سماعت کرے۔ جب ایسا ہو جائے گا تو پاکستان میں شریعت اسلامی کا نفاذ ہو جائے گا۔

اگر اسلامی نظام کے قیام کا مطلب یہی ہے کہ ایک مشہور عالم شیخ الاسلام کہلاتے ہوں، وہ مساجد کا نظام چلاتے ہوں اور نکاح و طلاق کے مقدمات جو ان کے پاس آئیں ان کا فیصلہ کرتے ہوں تو اس اعتبار سے آج کا روس بھی اسلامی مملکت ہے، کیونکہ وہاں شیخ الاسلام کا منصب بھی موجود ہے، وہاں مسجدوں کا نظام بھی شیخ الاسلام کے سپرد ہے اور جو لوگ نکاح و طلاق کے مقدمے شیخ الاسلام کے پاس لے کر آتے ہیں، وہ ان کا فیصلہ بھی کر دیتے ہیں۔ اس مفہوم کے اعتبار سے کئی ممالک آج اسلامی ممالک کہے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس بات سے نہ کوئی صاحب علم و بصیرت اتفاق کرے گا اور نہ اسلامی نظام کے یہ معنی ہیں۔

ان دو مثالوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بعض حضرات کے ذہنوں میں پاکستان کے ابتدائی دنوں میں اسلامی نظام کے بارے میں کیا تصورات تھے۔

آراء و افکار