مطالعہ سیرتؐ کے روایتی اور غیر روایتی پہلو

ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی

(۸ مارچ ۲۰۱۴ء کو الشریعہ اکادمی میں علماء و طلبہ کی نشست سے خطاب۔)


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم۔

حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب اور دیگر حضرات علماء اور معزز سامعین!

میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ پاکستان آنے کے بعد مجھے مسلسل آپ حضرات سے رابطے اور اپنی باتیں اور معروضات پیش کرنے کا موقع ملتا ہے، سعادت ملتی ہے۔

سیرت نبویؐ بنیادی طور پر اس خاکسار کا حوالہ بن گئی ہے کہ عام طور پر اسی موضوع پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جدید دور میں جتنے کام اس وقت ہو رہے ہیں، بلا تکلف یہ عرض کر سکتا ہوں کہ پاکستان میں اس کی مختلف جہات پر بہت عمدہ، اچھا اور وسیع کام ہو رہا ہے۔ اردو میں جتنا کام اس وقت پاکستان میں ہوا ہے، وہ دوسرے مقامات پر نہیں ہو سکا۔ ایک تجزیے کے مطابق عربی میں اتنا اچھا کام ابھی تک نہیں ہو پایا ہے جتنا یہاں مختلف جہتوں سے سیرت پر ہوتا رہا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیرت ایک وسیع اور ہمہ گیر موضوع ہے جس میں بہت سی چیزیں آجاتی ہیں۔ ایک طرف سیرت نبوی کا تعلق قرآن مجید سے ہے، دوسری طرف حدیث مبارکہ سے ہے، تیسری طرف سماجیات اور تاریخ سے ہے، چوتھی طرف علوم و فنون سے ہے۔ ایسی بہت سی جہات تلاش کی جا سکتی ہیں اور ان پر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیرت نگاری کا طریقہ یا سیرت کا مطالعہ کیسا ہو؟ ایک طریقہ ہمارے ہاں اب تک چلا آرہا ہے کہ ہم بیانیہ انداز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح ولادت سے لے کر وفات تک مکی اور مدنی ادوار میں تقسیم کر کے اس کو پڑھتے ہیں اور وہ ایک تاریخی بیانیہ ہوتا ہے۔ یہ تاریخی بیانیہ عام طور پر اب لکیر کا فقیر ہوگیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امامین ہمامین ابن اسحاقؒ اور ابن ہشامؒ نے جو طرز قائم کر دیا تھا، اس کی پیروی ہمیشہ کی جاتی رہی۔ علامہ شبلیؒ نے جب سیرۃ نبوی کا خاکہ مرتب کیا اور کتاب لکھی تو جلد اول خالصتاً اسی Pattern (طرز) پر لکھی اور اس کے بعد جتنی سنجیدہ کتابیں آئیں اور اضافہ کرنے والی بھی بنیں وہ اسی پیٹرن پر لکھی گئیں، اور وہ جو بیانیہ Historical Narrative تھا، وہ ہمیشہ برقرار رہا۔ 

مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی کتاب ’’سیرۃ المصطفیٰ‘‘ ہو، مولانا مودودیؒ کی ’’سیرت سرورِ عالم‘‘ ہو، مولانا عبدالرؤف دانا پوری کی ’’اصح السیر‘‘ ہو، یا ان کے علاوہ جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں تو وہ بیانیہ انداز میں چلتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت، رضاعت، بچپن، لڑکپن، نوجوانی، قبل بعثت کی زندگی، بعد بعثت کی زندگی، نبوت، تبلیغ، خفیہ تبلیغ کا زمانہ، علانیہ تبلیغ کا زمانہ، مظالم قریش۔ اس طرح کے سارے بیانات و عنوانات کو ملا کر دیکھیں، آپ کو یکساں ملیں گے۔ اب اس میں بعد کے لوگوں نے کیا اضافے کیے؟ وہ اضافے صرف یہ ہوئے کہ لوگوں نے کچھ دوسرے ماخذ سے چند روایتیں بڑھا دیں۔ حدیث سے کہیں اضافہ کر دیا۔ شبلیؒ سے غلطی ہوئی تھی تو اس کی تصحیح اور تنقیح کر دی۔ دوسرے علماء کرام نے جب دیکھا کہ شبلیؒ پہ تنقید ہو رہی ہے تو انہوں نے تنقید کے جواب میں تنقید لکھ دی، دوسرے مکتب فکر والوں نے کچھ اور اضافے کر دیے۔ اس طرح سیرت کا ایک اسلوب چل پڑا، وہی روایتی۔ اب اسی طریقے کو اختیار کیا جائے گا تو بہت دنوں تک کوئی اضافہ قابل قدر اس میں نہیں کیا جا سکتا۔ اصل طریقہ کیا ہے ہمارے روایتی علماء کا یا سیرت نگاروں کا؟ چاہے اس میں یونیورسٹی کے دانشور ہوں یا پروفیسر اہل قلم ہوں، ان سب کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ دو چار کتابوں کو سامنے رکھ کے ایک اور کتاب لکھ دیتے ہیں۔ کہیں کہیں اضافے کر دیتے ہیں، جو غلطیاں ہوگئی ہوں ان کی اصلاح کر دیتے ہیں، بعض مآخذ کے حوالے دے دیتے ہیں۔ لیکن اس میں بنیادی فرق نہیں ہوتا۔ 

اصل میں مغربی دنیا کے لوگوں نے جو چلن نکالا ہے، وہ ہم کو اختیار کرنا چاہیے۔ موضوعاتی اسٹڈی آف ہسٹری ہونی چاہیے۔ یعنی موضوعاتی اعتبار سے، تحلیل و تجزیہ کی بنیاد پر سیرت کی اسٹڈی ہوگی تو نئی نئی جہتیں سامنے آئیں گی اور پھر نئی نئی چیزیں نکلتی جائیں گی۔ اور مآخذ میں جو روایتی مآخذ ہیں ابن اسحاقؒ ، ابن ہشامؒ ، واقدیؒ ، ابن سعدؒ اور طبریؒ ، ان روایات کو چھوڑ کر یا ان سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے غیر روایتی مآخذ سے بھی ہم کو بہت سی چیزیں مل سکتی ہیں اور بڑی قیمتی معلومات ملتی ہیں۔ شہروں پر کتابیں ہیں، مکہ اور مدینہ کی تاریخوں پر، ازرقی اور سمہودیؒ کی کتابیں ہیں۔ اسی طرح سے دوسرے شہروں کی تاریخیں ہیں، تاریخ بغداد ہے، تاریخ دمشق ابن عساکرؒ کی ہے، اسی طرح بہت سے شہروں کی تاریخیں ہیں جن میں ہمارے لیے بہت سا مواد ہے، اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نئی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ 

دوسرے اور بھی مآخذ ہیں جس میں فہرست نگاری ہے، مثلاً محمد ابن حبیب بغدادی کی کتاب المحبر  اور المنمق فی اخبار قریش۔ ان میں فہرستیں ہیں جن میں تفصیلات ملتی ہیں کہ مثلاً عہد نبوی میں یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے قبل، بعثت کے زمانے میں یا بعد میں خلافت راشدہ، خلافت امویہ کے زمانے میں کون کون سے لوگ مطعمون میں شامل تھے، کھانا کھلانے والے تھے ، کون لوگ جوادون میں تھے۔ ایسے لوگ جنہوں نے مکی و مدنی زندگی میں ایسے غلط کام کیے تھے جنہیں دین حنیف تسلیم نہیں کرتا تھا، جیسے نکاح الوقت کا معاملہ ہے۔ ایسے کون لوگ تھے جنہوں نے بعثت سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں دین حنیفی کو پوری طرح سے سمجھا تھا اور اس کی پابندی کی تھی، قدر دانی کی تھی۔ شراب نوشی نہیں کی، بت پرستی نہیں کی، دین حنیف کو قائم رکھنے کی کوشش کی۔ ایسے کون سے لوگ تھے جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ تو ایسی تمام فہرستیں موجود ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی فہرستیں ہیں۔ صحابہؓ کے مختلف طبقات کیے گئے ہیں، ان کی فہرستیں ہیں۔ ان میں بنیادی جو چیز ہے وہ معاشرتی اور سماجی تفصیل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کن لوگوں کے سماجی پیشے (Economic Professions) کیا تھے۔ تو اس میں ساری تفصیلات ہمارے پاس ہیں کہ کون لوگ گیہوں کی تجارت کرتے تھے، کتنے لوگ ایسے تھے جو تیل کی تجارت کرتے تھے، اور مختلف حضرات سبزی اور دوسری چیزوں کی تجارت کرتے تھے۔ یہ تجارتی Classification (تقسیم کار) ہے، یہ بہت دلچسپ اور بہت اہم ہے۔ اس میں سماج کا ایک بڑا طبقہ شامل تھا۔ 

پیشے کے علاوہ صنعت اور حرفت کے کچھ مسائل ہیں۔ ان علاقوں کا ذکر ہے جہاں مختلف چیزیں پیدا ہوتی تھیں، ان کو لایا جاتا تھا۔ ثقیف اور طائف کے بارے میں پوری پوری کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اتفاق سے وہ کتابیں عام لائبریریوں میں نہیں ملتیں، لیکن بہرحال چھپ گئی ہیں اور موجود ہیں۔ تو ثقیف کے بارے میں ہماری معلومات بہت زیادہ ہو جاتی ہیں۔ طائف کے بارے میں، ہمارا عام طور سے خیال ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف اور ثقیف سے تعلق بالکل معمولی تھا، بعد کے زمانے میں قائم ہوا۔ حالانکہ رضاعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت حلیمہ سعدیہ کے گھر میں اور وطن میں ہوئی تھی اور وہاں سے پانچ سال یا دو سال کے بعد آپ واپس تشریف لے آئے۔ اس میں یہ بحث بڑی اہم ہے کہ آپؐ نے حضرت حلیمہ سعدیہ کے یہاں رضاعت کا کتنا زمانہ گزارا، دو برس یا پانچ برس؟ یہ بہت اہم چیزیں ہیں جن کی ہم تحقیق کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ اس کے بعد واپس جب تشریف لائے تو کیا طائف کے سفر پر نبوت کے دسویں سال حضرت خدیجہ اور ابو طالب کی وفات کے بعد ہی آپ تشریف لے گئے؟ اس کے دوران آپ کا کوئی تعلق نہیں رہا یا ثقیف کے لوگوں کا اور قریش کے لوگوں کا کوئی تعلق نہیں رہا؟ یہ تصور اصل میں ہمارے ہاں معلومات کے خلا کی وجہ سے آیا ہے۔ اس سب کو نسب کی کتابوں سے اور شہروں کی تواریخ سے اور جو روایتی مآخذ ہیں ابن اسحاق، ابن ہشام، واقدی اور بلاذری، ان کتابوں سے پر کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اکابر صحابہؓ کا ان سے پہلے اکابر قریش کا ثقیف سے مسلسل رابطہ تھا۔ ہر طرح کے تعلقات تھے۔ سماجی، معاشرتی، سیاسی، تجارتی، دینی، ہر طرح کے تعلقات تھے۔ 

مثلاً آپ اس لائبریری میں بیٹھے ہیں، اس کے حوالے سے ایک بات کہوں۔ عرب میں ایک شخص تھے جنہوں نے اس زمانے میں ایک لائبریری قائم کر رکھی تھی۔ ان کا نام تھا امیہ بن ابی الصلت ثقفیبہت مشہور شاعر ہیں۔ وہ تاجر بھی تھے، کوئی دلچسپ چیز دیکھتے تو خرید لیتے۔ حضرت ابو سفیانؓ کے دوست تھے، شریک تھے، ندیم تھے، ساتھ مل کے تجارت کرتے تھے۔ وہ بصریٰ اور شام کے مختلف شہروں میں جاتے تھے، انہیں لکھنے پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ بہت بڑے شاعر تھے اور توحید پر مبنی اشعار اُن کے ملتے ہیں۔ ان کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ ان کا شعر اسلام لا چکا تھا اور بلا شبہ آپ نے ان کے اشعار سنے بھی تھے۔ ان کے اشعار پر بہت کام بھی ہو چکا ہے۔ امیہ بن ابی الصلت کا خیال یہ بھی تھا کہ جس نبی آخر الزمان کے آنے کا وقت ہوگیا ہے تو شاید وہی منتخب کیے جائیں۔ چنانچہ وہ جناب رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو مکے میں ملنے کے لیے ائے تھے، لیکن جب آپ کے اعلان رسالت کی خبر سنی تو ان کا دل ٹوٹ گیا اور وہ نہیں آئے۔ یہ سوچنے کی سب باتیں ہیں جو آدمی سوچ سکتا ہے۔ یہ ایک بہت دلچسپ بات ان کے بارے میں ملتی ہے کہ ابو سفیان کے ساتھ جب سفر پر جاتے تھے تو تجارت کے علاوہ صومعوں میں، گرجاؤں میں، یہودیوں کی عبادت گاہوں میں، مختلف جگہوں میں چلے جاتے تھے، وہاں کتابیں نکال کے جمع کرتے تھے، پڑھتے تھے اور بہت سی چیزیں لے کے آتے تھے۔ ابو سفیان اکثر و بیشتر ان پر طنز کرتے تھے کہ آپ تجارت کے لیے آئے ہیں یا یہاں کتابیں پڑھنے کے لیے آئے ہیں۔ تو بہت سی کتابیں تلاش کر کے لاتے تھے اور طائف میں انہوں نے اپنی ایک لائبریری بنائی ہوئی تھی۔ 

چونکہ ہم روایتی مآخذ کے علاوہ دوسری روایتوں کا تجزیہ نہیں کرتے، اس لیے ہماری معلومات ادھوری رہ جاتی ہیں۔ مثلاً کتاب المحبر اور المنمق اور بہت سی دوسری کتابیں، ان کتابوں کی بنیاد پر عہد نبوی میں تجارت اور جاہلی دور میں تجارت پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے، بلکہ کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ تجارت کا وہاں ایک مسئلہ یہ تھا کہ اکثر و بیشتر ایک دوسرے کے شریک ہوتے تھے جنہیں ندیم کہا جاتا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک تجارت کا ذکر ملتا ہے، جاہلی دور میں آپ کے شریک تجارت رہے تھے۔ 

ایک فہرست بغدادی نے کتاب المحبر اور المنمق میں دی ہے۔ اس کے شروع میں انہوں نے عبد المطلب بن ہاشم اور ان کے شریک تجارت حرب بن امیہ اموی کو بیان کیا ہے۔ آخر میں ایک مسئلے پر دونوں میں اختلاف پیدا ہوا، وہ اختلاف بھی تجارتی تھا۔ وہ اختلاف یہ تھا کہ عبد المطلب کے جوار میں، پناہ میں ایک یہودی تاجر تھا جو بازاروں میں ان کے مال سے تجارت کیا کرتا تھا۔ وہ کسی وجہ سے حرب بن امیہ کو پسند نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ وہ بار بار عبد المطلب پر دباؤ ڈالتے تھے کہ اس کو بازار سے اٹھا دیا جائے۔ لیکن جب وہ نہیں مانے تو لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکا دیا اور لوگوں نے اس یہودی تاجر کو قتل کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عبد المطلب نے اپنے رشتہ دار سے جو شریک تجارت بھی تھے، خاندانی رشتے اور قرابت داری بھی تھی، فوری طور پر مطالبہ کیا کہ اس کی دیت دی جائے ورنہ ہمارے تمہارے تعلقات ختم ہو جائیں گے۔ دیت دینے سے انہوں نے انکار کر دیا۔ نتیجتاً آپ نے جو تجارتی معاہدہ کیا تھا، اسے توڑ دیا اور عبد اللہ بن حزام تیمی سے اپنا تجارتی تعلق قائم کر لیا۔ 

آپ اس فہرست کو دیکھیں اور اس کا موازنہ کریں تو تمام اکابر قریش، تمام اکابر صحابہؓ ایک دوسرے کے تجارتی ندیم نظر آئیں گے۔ ایک طرف اموی ہاشمی ہیں، ایک طرف مخزومی ہیں۔ مخزومیوں کا اور ہاشمیوں کا آپس میں تعلق بڑا عجیب و غریب نظر آئے گا۔ یہ کہانی آپ نے عام طور پر سنی ہوگی، کتابوں میں عام طور سے سنائی جاتی ہے کہ بنو امیہ اور بنو ہاشم میں شروع سے ہی اختلاف چلا آرہا تھا اور رقابت تھی، دشمنی تھی۔ لیکن یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے، اس لیے کہ کم سے کم تیس چالیس شادیاں تو دونوں خاندانوں میں اس زمانے کی موجود ہیں۔ تجارتی تعلقات موجود ہیں، مضاربت کے تعلقات ہیں، ندیمی کے تعلقات ہیں، سماجی تعلقات ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے تعلقات ملتے ہیں۔ ایک بات اور بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ بنو ہاشم، بنو عبد شمس یعنی بنو امیہ، بنو نوفل اور بنو عبد المطلب، یہ چار خاندان تھے جن کو بنو عبد مناف کے بڑے نام سے جانا جاتا تھا اور ہمیشہ ان چاروں خاندانوں کا مجموعہ ان کا بزرگ خاندان بنو عبد مناف تھا۔ یہ عہد نبوی میں بھی تھا اور بعد میں بھی تھا۔ ابن اسحاق نے بھی لکھا ہے اور دوسرے تمام لوگوں نے بھی لکھا ہے کہ جب بنو عبد مناف کا بنو مخزوم سے یا قریش کے کسی بھی دوسرے خاندان کے سامنے کوئی معاملہ ہوتا تھا تو بنو عبد مناف کے یہ چاروں خاندان ایک طرف ہوتے تھے، متحدہ محاذ بنا لیتے تھے، اور دوسروں کے مقابلے میں ایک خاندان کی حیثیت سے پیش آتے تھے۔ ایسے معاشرتی تعلقات پر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ 

ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ان خاندانوں، بنو عامر بن لوی ہوں یا بنو مخزوم ہوں یا دوسرے لوگ ہوں، آپس میں ان کے سماجی اور معاشرتی تعلقات تھے۔ ہمارے ہاں صورت حال یہ ہوتی ہے کہ اگر ہمیں کسی سے اختلاف ہے کسی وجہ سے تو سلام دعا بھی بند ہو جاتی ہے۔ لیکن وہاں صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس سے پہلے کے سماجی تعلقات، معاشرتی تعلقات اسلام لانے کے بعد بھی خراب نہیں ہوتے تھے ، ان میں دراڑ نہیں پڑتی تھی۔ اختلاف ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی معاشرتی سطح پر اسے قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ہدایت بھی فرمائی تھی۔ آپ نے کبھی سوچا یا کبھی آپ کے خیال میں یہ آیا کہ ابو جہل مخزومی جسے ہم فرعون امت کہتے ہیں اور ہر وقت لعن طعن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بلا شبہ اس نے مخالفت شدید ترین کی تھی، لیکن جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں ملتا تھا تو مصافحہ کرتا تھا اور اس کے بعد آپؐ بھی اس سے مصافحہ فرماتے تھے؟ اس لیے داعی کا بنیادی طور پر کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی سے نفرت کرے۔ اگر وہ کسی شخص سے نفرت کرے گا تو دعوت کا کام نہیں کر سکے گا۔ کسی صحابیؓ نے کہا کہ وہ تو مخالفت کرتا تھا، دوسرے بھی مخالفت کرتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کس نے نہیں کی؟ سوائے ایک دو کے سب نے مخالفت کی۔ حضرت عمرؓ تو قتل کرنے کے درپے ہوگئے تھے، دوسرے لوگوں نے بھی کچھ کم کام نہیں کیے تھے۔ لیکن بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف کر دیا تھا اور ان کا اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس لیے کہ آپ کا کام تھا دلوں کا جیتنا۔ ان کو زیر کرنا، شکست دینا، ان کو فنا کر دینا آپ کا کام نہیں تھا۔ منٹگمری واٹ نے بڑی خوبصورت بات لکھی ہے:

The policy of the prophet Muhammad (saw) was to win the hearts of the people, not to crush them.
(پیغمبر محمدؐ کی پالیسی یہ تھی کہ لوگوں کے دل جیتے جائیں نہ کہ انہیں توڑا جائے)

یہ بنیادی چیز ہے کہ آپؐ کا نبوت سے پہلے کا معاملہ ہو یا نبوت کے بعد کا، مکی دور کا ہو یا مدنی دور کا، آپؐ نے کبھی بھی کسی شخص کو فنا کرنے کی، اپنے دشمنوں کو تہس نہس کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ ان کو جیتنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب نے پوری تفصیل سے اعداد و شمار دیے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سالہ جنگوں میں کتنے لوگ مقتول ہوئے تھے، کتنے زخمی ہوئے تھے۔ صرف دو سو اٹھارہ آدمی مارے گئے تھے کل غزوات میں۔ فتح مکہ ہوگیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب کے سامنے موجود تھے۔ سب کی گردنیں جھکی ہوئی تھیں، خطرہ تھا کہ نجانے کیا ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارا کیا خیال ہے، میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟ تو لوگوں نے کیا کہا؟ یہی تو کہا تھا کہ آپ کریم ابن کریم ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ایک کریم کو زیب دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا، جاؤ، انتم الطلقاء، تم سب کے سب آزاد ہو۔ یہ وہ صورت حال تھی جو سمجھنے کی ہے۔ آپؐ کو لوگوں کو ختم کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا، نہ آپ کی زندگی میں کبھی یہ پالیسی رہی تھی۔ آپ لوگوں کے گھروں میں جاتے تھے، کافروں کے گھروں میں کھانا کھاتے تھے، ان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی دعوتیں کرتے تھے، ان کی دعوتیں قبول فرماتے تھے، ان کے ساتھ سلوک کرتے تھے۔ 

امیہ بن خلف کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زبردست دشمنی تھی جو بعد میں مارا بھی گیا۔ اس نے مکے کے تمام اکابر کی دعوت کی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آیا اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر کھانا کھانے کے لیے تشریف لائیں۔ آپ نے اس کی دعوت فورًا قبول فرمالی۔ جب وہ واپس گیا تو راستے میں اس کا دوست عقبہ بن ابی معیط اموی اس سے ملا۔ اس نے کہا کہ سنا ہے تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کھانے پر بلایا ہے۔ اس نے کہا، ہاں بلایا ہے۔ کھانے پر تو بلانا ہی چاہیے اور سب کو دعوت دی تو ان کو بھی دعوت دی، وہ بھی آرہے ہیں۔ اس نے بہت لعن طعن کیا، لیکن امیہ نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ وہ آدمی اچھے ہیں، ہمیں دین سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن آپ آدمی اچھے ہیں اور اچھے آدمی کو کھانے پر بلانا چاہیے۔ 

اسی طرح اس پہلو کو الٹ کر دیکھیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ زندگی بھر رہے اور پچاس سال کی عمر تک ان سے تعلق رہا۔ بچپن سے لے کر ان کی تربیت میں رہے، ان کے گھر میں بھی رہے، وہ تو اسلام نہیں لائے تھے۔ آپ ان کے گھر میں کھاتے پیتے تھے، خود حضرت فاطمہ بنت اسد یعنی ابو طالب کی بیوی کہا کرتی تھیں کہ رسول اکرمؐ کھانے کے لیے جب گھر آتے تھے تو برکت ہوتی تھی۔ ہم ان کے لیے کھانا بچا کے رکھا کرتے تھے، اپنے بچوں کو نہیں دیتے تھے جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھا لیں۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سماج و معاشرت میں سب لوگوں کے ساتھ میل ملاپ کا تھا۔

یہی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرامؓ کو دی تھی۔ امیہ بن ابی خلف اور ایک بہت مشہور صحابی جو عشرہ مبشرہ میں ہیں، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپس میں دوست تھے اور بہت قریبی دوست تھے۔ جیسے کہتے ہیں، ایک دوسرے کے ’’لنگوٹیے یار‘‘ تھے۔ دوستی میں آپس میں ملتے جلتے تھے۔ عبد الرحمن بن عوف نے شروع میں ہی اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل دیا، عبد الرحمن رکھ دیا۔ امیہ بن ابی خلف کو شکایت ہوئی، وہ آپؓ کو عبد الرحمن نام سے نہیں پکارتا تھا۔ وہ ہمیشہ آپؓ کو عبد الکعبہ کے نام سے پکارتا تھا تو حضرت عبد الرحمن جواب نہیں دیتے تھے۔ دونوں میں اختلاف چلتا رہا۔ ایک دن اس نے کہا کہ میں آپ کو پکارتا ہوں، آپ جواب ہی نہیں دیتے۔ تو حضرت عبد الرحمنؒ نے فرمایا، تم پتہ نہیں کس شخص کو بلاتے ہو۔ آخر میں اس پر صلح ہوئی (اس بات پر غور فرمائیے گا) کہ نہ تم عبد الرحمن کہو گے اور نہ عبد الکعبہ کہو گے، بلکہ عبد الٰہ کہہ کے پکارو گے۔ اس کے بعد امیہ آپؓ کو عبد الٰہ کہہ کے بلاتا تھا تو آپ جواب دیتے تھے۔ یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کے ساتھ جاتے تھے، ندیم تھے، شریک تھے، کھانے پینے میں، اٹھنے بیٹھنے میں، اکٹھے تجارت کرتے تھے۔ بالآخر ہجرت مدینہ سے پہلے باقاعدہ ایک دستاویز لکھی ان دونوں نے کہ مکے میں عبد الرحمن بن عوفؓ کے جتنے تجارتی اور شخصی مفادات ہیں، ان سب کی حفاظت امیہ بن خلف کرے گا اور مدینہ میں عبد الرحمن بن عوف، امیہ کے تجارتی اور شخصی مفادات کی حفاظت کریں گے۔ 

یہ معاہدہ باقاعدہ لکھا گیا تھا، دستاویز تھی۔ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو دو جگہ بیان کیا اور اس میں بیان کیا ہے کہ ایسا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ باب کتاب الاجارۃ میں ہے اور اس سے امام بخاری نے یہ اخذ کیا ہے کہ مسلم اگر حربی سے دارالاسلام یا دارالحرب میں کوئی معاہدہ کرے تو وہ جائز ہوگا۔ ایک کافر کی جان مال کی حفاظت کی ضمانت دی گئی تھی۔ پھر جنگ احد میں مشرکین کو شکست ہوئی اور امیہ اور اس کا بیٹا ؟؟ جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے تو حضرت بلالؓ اور پر جوش صحابہؓ نے جو ان کے مظالم سے تنگ آگئے تھے، ان کا پیچھا کیا۔ اس موقع پر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے بہت کوشش کی کہ امیہ کی جان بچا سکیں، لیکن بلال اور ان کے ساتھیوں نے کسی صورت میں اسے معاف نہیں کیا اور اسے قتل کر کے ہی دم لیا۔ اس کشمکش میں حضرت عبد الرحمنؓ، امیہ کو بچانے میں زخمی ہوگئے تھے۔ 

اسلام کی شان یہ تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت کا جو تصور پیش کیا تھا، انسانیت کو سنوارنے کا وہ تصور ہمیں پیدا کرنا چاہیے اور اسی پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ اسوہ نبویؐ ہے اور اس کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلالت ہے، محبت و کرامت ہے، جس کو ہمیں سمجھنا چاہیے اور اس لحاظ سے ہمیں سیرت نبویؐ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے کہا تھا : بشرا ولا تنفرا، لوگوں کو بشارت دو، نفرت نہ پھیلاؤ۔ نفرت نہیں پھیلانی چاہیے، بشارت دینی چاہیے۔ آپؐ تو ان لوگوں کے لیے بھی سراسر رحمت تھے جنہوں نے آپؐ کی جان لینے کی کوششیں کیں، ان کو بھی معاف کر دیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ آپ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایک جنگ میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو آپؐ نے بھیجا اور ان کے ساتھ دوسرے صحابہ کرامؓ تھے۔ حضرت اسامہ نے دشمن پر تلوار سونتی۔ ایک اور انصاری نے بھی تلوار سونتی۔ اس نے تلوار کے سامنے فورًا کلمہ پڑھا اور لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ دیا۔ انصاری نے اپنی تلوار روک لی اور حضرت اسامہؓ تلوار نہیں روک سکے اور اس کو قتل کر دیا۔ جب واپس آئے تو انصاریؓ نے یہ رپورٹ حضورؐ کو دی کہ حضرت اسامہؓ نے یہ کیا۔ آپؐ نے بلا کر ان سے پوچھا تو حضرت اسامہؓ نے کہا کہ تلوار کے خوف سے اس نے اسلام قبول کر لیا۔ تو آپ نے فرمایا ھلاّ شققت عن قلبہ  تو نے اس کا دل چیر کے دیکھا تھا؟ اسامہ، وہ دن کیسے ہوگا جب وہ لا الٰہ الا اللہ کہتا ہوا آئے گا، تم کیا جواب دو گے؟ اسامہ وہ دن کیسا ہوگا جب وہ لا الٰہ الا اللہ کہتا ہوا آئے گا، تم کیا جواب دو گے؟ آپؐ نے یہ تین بار فرمایا۔ حضرت اسامہؓ کہتے ہیں کاش میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا۔ 

تو یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے پہلو ہیں جن کو ہمیں عملی دنیا میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ روایتی معجزاتی پہلو بہت بیان ہو چکا ہے، اب اس کی بجائے موضوعاتی پہلو پر توجہ دینی چاہیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اگر ایک بھی معجزہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ دوسری بات آپ سے یہ کر دوں، آپ سب اہل علم ہیں۔ معجزہ بنیادی طور پر اللہ کی آیات میں سے ہوتا ہے، صرف ظاہر نبی کے ہاتھ پر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں وضاحت ہے کہ اگر آپ چاہیں کہ کوئی آیت، کوئی نشانی لے آئیں تو آپ نہیں لا سکتے۔ معجزات تو صرف دلائل نبوت کے طور پر پیش کیے گئے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ آپ سچے نبی ہیں۔ آپؐ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے اور آپؐ کی سیرت و رحمت ہے اور پوری دنیا کو محیط ہے۔ تو بنیادی طور پر ہمیں سیرت کا مطالعہ اس طرح سے کرنا چاہیے۔

ضروری نہیں کہ بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی جائیں۔ ضخیم کتابوں کو آپ چھوڑ دیں۔ مولانا محمد علی جوہرؒ بڑے لمبے لمبے خطوط اور مضامین لکھا کرتے تھے تو کسی نے کہا کہ آپ اتنے لمبے لمبے خطوط اور طویل مضامین کیوں لکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، بھئی مختصر لکھنے کی فرصت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختصر لکھنے کے لیے بڑی پتہ ماری کرنی پڑتی ہے۔ ہزاروں صفحات کو دس بیس صفحوں میں جمع کرنا بہت مشکل کام ہے، لیکن ایک بات کو پچاس صفحوں پر پھیلا دینا عام طور پر ہمارا علماء کا کام ہے۔ یہ کام ہم بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے حضرت شاہ ولی اللہؒ پر ایک تعارف لکھنے کا حکم دیا گیا، ایک بڑے بزرگ آدمی نے حکم دیا تھا کہ چالیس صفحے میں لکھنا ہے۔ دانتوں پسینہ آگیا کہ صرف چالیس صفحے پر اس عظیم آدمی کی شخصیت کو کیسے سمویا جا سکتا ہے۔ لیکن لکھا اور اسے دس مرتبہ لکھا، اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ بہت جامع چیز بن گئی۔ لیکن اس کو لکھنے میں ہم کو یہ اندازہ ہے کہ کیا گزری تھی۔ تین چار سو صفحے لکھنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ تو ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں علماء کرام کو لکھنی چاہئیں۔ جو سیرت سے واقف ہیں، ان کو چھوٹے رسائل لکھنے چاہئیں۔ آپ جانتے ہیں کہ طویل کتابیں و مضامین آپ لکھیں گے، بہت سی چیزیں لکھیں گے، اس کا Impact (اثر) نہیں ہوتا۔ اس کو لوگ پڑھ نہیں سکتے۔ اب زمانہ ہے بہت تیز رفتاری کا، جلدی سے کچھ پڑھ لینے کا۔ تو چھوٹی چھوٹی چیزیں سیرت پر آنی چاہئیں۔ دس صفحے کی، پندرہ صفحے کی، چالیس صفحے کی، اس میں آپؐ اسی قسم کی چیزیں سیرت کی لائیں۔ اس لیے کہ آپ ایسی کوئی کتاب لا سکیں جس میں بہت ہی نئی چیزیں ہوں، نئی معلومات ہوں یا نئی تشریحات ہوں، اس کے لیے آپ کو بہت زیادہ مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بسا اوقات دس بیس سال بھی لگ جاتے ہیں۔ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں لکھیں جو دلوں کو چھو لیں، جو انسانوں کی زندگی کو بدل دیں، جو ذہن و فکر کو بدل کے بالکل دوسرے راستے پر ڈال دیں جس کی تعبیر اقبال نے کی تھی:

؂ نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

تو یہ تقدیریں بدلنے کا کام اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کے قلم میں ہے، آپ کی تقریر میں ہے۔ بہت لمبی تقریریں کرنے سے بہت لمبے مضامین لکھنے سے، روایتی قسم کی باتیں کرنے سے اب کچھ نہیں ہوتا، اب نئی چیزیں کہنے کی ضرورت ہے۔ 

حضرات! آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔ پاکستان جب بھی آتا ہوں تو بہت محبت ملتی ہے۔ بڑا اعزاز و اکرام آپ اس بندہ ناچیز کا کرتے ہیں۔ بہت ہی دل میں شرمساری بھی محسوس ہوتی ہے اور بالکل سچی بات کہہ دوں کہ نفس کچھ موٹا بھی ہو جاتا ہے اپنی تعریفیں سن سن کے۔ یہ اچھا لگتا ہے، لیکن شرمندگی بھی ہوتی ہے۔ احساس ہوتا ہے کہ کیا دھرا کچھ نہیں، لیکن تعریفیں بہت ہوتی ہیں۔ یہ سب آپ کی فیاضی، آپ کے دل کی سخاوت ہے۔ میں گھر میں اکثر کہتا ہوں کہ جب گھر میں لکھتے لکھتے تھک جاتا ہوں اور بہت پریشان ہوجاتا ہوں اور محبت کے کوٹے میں کمی ہو جاتی ہے تو پھر میں پاکستان چلا جاتا ہوں۔ 

وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔

آراء و افکار

Flag Counter