دینی رسالے ہائیڈ پارک نہیں بن سکتے

فصیح احمد

محترم مکرم و معظم جناب زاہد الراشدی صاحب نے نومبر ۲۰۱۳ء کے الشریعہ میں ’’الشریعہ اور ہائیڈیارک‘‘ کے عنوان سے ادارتی کلمات میں راقم کے البرہان ستمبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہونے والے مضمون ’’تار عنکبوت‘‘ کو اپنے موقف کو موکد کرنے کے لیے پیش کیا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ حضرت والا نے میری تحریر سے وہ نتائج اخذ فرمائے جو راقم کی تحریر کے منشاء، مدعا، مقصد، سے کوئی مطابقت ہی نہیں رکھتے۔ اس التباس ذہنی یا انتشار فکری کا سبب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ حضرت والا ہر دینی رسالے کو ہائیڈیارک کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ہر رنگ کا پھول کھلا ہو ، ہر پرندہ چہچہا رہا ہو اور ہر شخص کو سب کچھ کہنے کی آزادی ہو۔ مطلق اصول صرف یہ ہو کہ تم جو کہنا چاہتے ہو آزاد ہو، ہم بھی اس کے رد عمل میں جو کچھ لکھنا چاہیں گے، وہ لکھیں گے۔ اس عمل کو محترم راشدی صاحب تلاش حق اور خیر کی جستجو کا نام دیتے ہیں اور ان کاخیال ہے کہ اس مکالمے، مباحثے، تبادلے سے خیر کی شناخت آسان اور حق تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ اس صدی کے سب سے بڑے فلسفی ہیبر ماس کا خیال بھی یہی ہے اس باطل عمل کو وہ Intersubjective Communication کہتا ہے۔ ہیبر ماس کے خیال میں ہر مکتب فکر ، ہر گروہ، ہر مفکر کو تبادلہ خیالات کے عمل میں شریک کیا جائے ۔اس کے نتیجے میں ایسا خیر بر آمد ہوجائے گا جس پر سب کا اتفاق ہوگا۔ جناب راشدی صاحب نے ہیبر ماس کو پڑھے بغیر ہی اس کے فلسفے کو طائرانہ تعقل کے ذریعے ایک دینی امر بنادیا ہے۔

ہماری جس تحریر سے راشدی صاحب نے اپنے غلط موقف کی اصولی تائید دریافت کی ہے، وہ تحریر ہم دوبارہ ان کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

’’ایک بات ہم مدیر البرہان ڈاکٹر محمد امین صاحب کی خدمت میں بصد احترام عرض کرنا چاہتے ہیں کہ البرہان ایک نظریاتی، تحقیقی اور علمی رسالہ ہے لہٰذا اس رسالے میں مضامین کا چناؤ اور مضامین کی اشاعت کے حوالہ سے بھی علمی تحقیقی رویہ اپنانا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ قارئین کو علمی و فکری انتشار سے بچایا جائے۔ انتشار ذہنی سے بچنے کے لیے اس بات کی کوشش کی جائے کہ ایسے گمراہ کن اور غیر علمی مضمون کو رسالے میں چھاپنے کی ضرورت ہی نہیں اور اگر کسی مصلحت کے تحت کبھی شائع کرنا ضروری ہو تو پہلے کسی اہل علم کو وہ مضمون بھجوادیا جائے اور ان سے جواب لکھوایا جائے۔ مضمون کا جواب ملنے کے بعد ا س مضمون کے ساتھ اس جواب کو بھی شائع کردیا جائے تاکہ قارئین دونوں کے موقف کو سامنے رکھ کر رائے قائم رسکیں، کیونکہ بسا اوقات قاری ایک ماہ کا رسالہ پڑھنے کے بعد دوسرے ماہ اس کا جواب کسی وجہ سے نہیں پڑھ سکا تو اس قاری کے فکری انتشار یا گمراہی کا ذمہ دار کون ہوگا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ قارئین البرہان کو علمی و فکری انتشار سے بچانے کا اس سے بہتر اور مناسب کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ ہماری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ البرہان کو ہائیڈیارک نہیں بننا چاہیے‘‘۔ [ماہنامہ الشریعہ، کلمہ حق، ص۲،نومبر ۲۰۱۳ء]

اس تحریر سے درج ذیل اصول ثابت ہوتے ہیں:

(ا) دینی رسالے کے لیے مضامین کا چناؤ اور اشاعت کا مقصد قارئین کو علمی و فکری انتشار سے بچانا ہو۔

(ب) قارئین کو انتشار ذہنی سے بچانے کی کوشش کی جائے اور وحید الدین خان جیسے گمراہ فرد اوران کے غیر علمی مضمون کو چھاپنے کی ضرورت ہی نہیں۔جو اغلاط کا دفتر ہے۔

(پ) اگر جناب وحید الدین خان صاحب جیسے گمراہ شخص کی تحریر کو مصلحت کے تحت کبھی شائع کرنا ضروری ہو تو پہلے کسی اہل علم کو وہ مضمون بھجوادیا جائے اور ان سے جواب لکھوایا جائے مضمون کا جواب ملنے کے بعد اس گمراہ مضمون کے ساتھ اس کا جواب بھی شائع کردیا جائے تاکہ قارئین دونوں کے موقف کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرسکیں۔ یہاں ہم نے خاص طور پر وضاحت کی ہے کہ اگر کسی مصلحت کے تحت کسی گمراہ کن ، غیر علمی مضمون کو شائع کرنا ضروری ہو تب اس حفاظتی طریقے کے ساتھ مضمون کی مجبوراً اشاعت کی جائے اس اشاعت کا مقصد لوگوں کو گمراہ مضمون کی گمراہیوں سے آگاہ کرنا ہے نہ کہ گم راہ مصنف کے خیالات کی اشاعت کرنا ۔

(ت) گمراہ مضمون اور اس کا جواب ایک ساتھ شائع کیا جائے تاکہ اس مضمون کی گمراہی واضح کردی جائے، اس کا ازالہ وامالہ بھی ہو جائے تاکہ دین کے نام پر پھیلائی جانے والی دینی گمراہیوں کو عوام پر واضح کردیا جائے۔ یہ کا م بھی مصلحت عامہ کے تحت مجبوراً ہی کیا جائے گا او راس کی حکمت یہ ہے کہ اگر گمراہ مضمون پہلے شائع کردیا جائے اور اس کا جواب بعد میں تو اس سے گمراہی کا ازالہ نہیں ہوسکے گا۔ اکثر اوقات ایک قاری ایک ماہ کا رسالہ پڑھنے کے بعد کسی مصروفیت یا کسی بھی دوسرے سبب سے اس کا جواب نہیں پڑھتا اور گمراہ مضمون کے سحر کا شکار ہو سکتا ہے اس صورت میں قاری کی گمراہی کا ذمہ دار کون ہوگا کیونکہ دینی رسالے کا مقصد انتشار اور خلفشار ذہنی عام کرنا نہیں، اسے ختم کرنا ہے۔ لہٰذا دینی رسالے کے قارئین کو فکری انتشار سے بچانے کا بہترین طریقہ یہی ہے۔

(ٹ) لہٰذا ہماری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ دینی رسالے (البرہان) کو ہائیڈیارک نہیں بننا چاہیے کیونکہ ہائیڈپارک وہ جگہ ہے جہاں جس کا جو دل چاہے کہہ سکتاہے۔ اس آزادی اظہار رائے کا کوئی اصول طے شدہ نہیں ہوتا، ہر بات اور دعویٰ الحق ہوتا ہے۔ ہائیڈیارک میں ہر طوطی آواز لگاسکتا ہے۔ وہ متفرق ، متنوع، رنگا رنگ، آوازوں کا دبستان ہوتا ہے جہاں ہر پرندے کو پرواز کی اور ہر بلبل کو گریبان چاک کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ 

دینی رسالہ ہائیڈپارک نہیں بن سکتا۔ وہاں مکالمے، مباحثے، تبادلۂ خیال کے اصول پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ ان اصولوں کے تحت کسی سے بھی مکالمہ ہوسکتا ہے۔ مکالمے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دونوں فریقین کی ما بعد الطبیعیاتی اساسات [Metaphysical Foundations] ایک ہوں۔ اس اصول کو طے کیے بغیر مکالمہ مکالمہ نہیں رہتا۔ مناظرے کا بھی اصول یہی ہے کہ فریقین پہلے کسی اصول پر متفق ہو جاتے ہیں جو دونوں کے لیے حجت ہوتا ہے۔ رسالت مآب نے اسی لیے کفار اور مشرکین کو مکالمے کی دعوت نہیں دی کیونکہ دونوں کے مابین مکالمے کی مشترکہ بنیاد نہیں تھی۔ دونوں کی ما بعد الطبیعیاتی اساسات یکسر مختلف تھیں۔ ان کو صرف دعوت دی گئی۔ لیکن اہل کتاب کو دعوت بھی دی گئی اور ساتھ ہی ساتھ مکالمے کی بھی دعوت دی گئی کیونکہ اہل کتاب کی ما بعد الطبیعیاتی اساسات اہل ایمان سے مماثل تھیں۔ ان میں تحریف ہوگئی تھی۔ توحید وہ بھی تسلیم کرتے تھے، لیکن ان کی توحید خالص نہیں تھی۔ اس کے باوجود ان کو دعوت ’’خالص توحید‘‘ کی بنیاد پر دی گئی کیونکہ وہ التوحید ، الکتاب اور الرسول کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح ایک ماں اپنے بیٹے کو پہچانتی ہے۔ مکالمے، مباحثے کی طرح مباہلہ کا اصول بھی یہی ہے کہ دونوں فریقین میں کوئی مشترک اساس ہو۔ جب ایک فریق دلیل برہان فرقان کے باوجود ایمان لانے پر تیار نہ ہو تو اسے مباہلے کی دعوت دی جاتی ہے کیونکہ دونوں فریق ایک ہی خدا پر یقین رکھتے ہیں اور دونوں کا خیال یہی ہوتا ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ لہٰذا مباہلہ کی دعوت اسے دی جاتی ہے جو خدا کے وجود کو تسلیم کرتا ہو۔ کسی ملحد کو مباہلے کی دعوت نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ خدا کو تسلیم نہیں کرتا، آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا۔ باطل فریق اہل کتاب خدا کو اپنا رب مانتے تھے لہٰذا اہل نجران کو دعوت مباہلہ دی گئی۔ 

اہل نجران کو معلوم تھا کہ رسالت مآب سچے ہیں قران اللہ کا کلام ہے لہٰذا وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اللہ کی نصرت رسالت مآبؐ کے ساتھ ہے۔ اگر مباہلہ ہوا تو اللہ کی لعنت ہم پر پڑے گی اور ہمارے گھر والے ہلاک ہو جائیں گے لہٰذا وہ بھاگ گئے۔ قرآن نے واضح کردیا کہ اہل کتاب قرآن کو اور اس کے لانے والے کو خوب پہچانتے تھے اور جب وہ آگیا تو اس سے منکر ہوگئے پس ان منکرین پر اللہ کی لعنت ہے قرآن حکیم نے کفار، مشرکین ،اہل کتاب سب سے مناظرے، مکالمے، مباحثے، کے آداب طے کردیے ہیں کہ یہ مشترکہ اساس کی بنیاد پر ہوگا۔ اساسات طے شدہ ہیں۔ اگر کوئی ان اساسات، بنیادی مقدمات، ایمانیات، بنیادی اصولوں کو تسلیم نہیں کرتا تو اس سے مکالمے و مباحثے و مناظرے کے بجائے اس کو دعوت دی جائے گی۔

الشریعہ پر ہمارا اعتراض یہی ہے کہ الشریعہ قرآن ، سنت اوراسلامی علمیت کی روشنی میں مکالمے مباحثے کے طے شدہ اصولوں کو اچھی طرح جاننے کے باوجود ان مکاتب فکر سے مکالمہ و مباحثہ کررہا ہے جن کے بنیادی اصول، مبادیات، منہج ہی مختلف ہے۔ مثلاً اہل السنت والجماعت کی مبادیات پر یقین رکھنے والے گروہ کو اہل سنت میں ہی شمار کیا جائے گا اور اس گروہ یا فرد سے مذاکرہ، مباحثہ ، مکالمہ جاری رہے گا لیکن اگر ایک گروہ اور ایک فرد ایک مکتب فکر اہل السنت و الجماعت کے بنیادی اصولوں قرآن سنت اجماع قیاس کو تسلیم ہی نہیں کرتا، صطلاحات اہل السنت کی استعمال کرتا ہے، لیکن ان کے مفاہیم میں تحریف، تغیر، تبدل کرکے مکالمہ کرنا چاہتا ہے تو اس سے مکالمہ نہیں ہوسکتا، لیکن اس گروہ کو دعوت ضرور دی جاسکتی ہے۔ الشریعہ کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان گمراہ فرقوں، مکاتب، اشخاص کی آرا نہایت کرو فر سے آزادی اظہار کے نام پر شائع کررہا ہے جو گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ اس طرح گمراہی کی تبلیغ، ترسیل، اشاعت میں نادانستہ طور پرشرکت کرکے وہ دینی حلقوں میں ذہنی انتشار اور فکری خلفشار پھیلا رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان گمراہ افکار کا مسکت جواب لکھنے کے بجائے الشریعہ ان افکار کا دانستہ یا نادانستہ اتنا کم زور جواب دیتا ہے کہ گمراہ فکر کی قبولیت کا دریچہ کشادہ ہوتا جارہا ہے ہم نے اپنی تحریر میں اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھا تھا:

’’دینی علمی رسالوں کو ہائیڈیارک میں تبدیل کرنے کا کام مولانا زاہد الراشدی صاحب نے الشریعہ کے ذریعہ بخوبی انجام دیا ہے۔ دنیا بھر کی غلط سلط تحریریں نہایت کرو فر کے ساتھ الشریعہ میں شائع ہوتی ہیں ۔ انتشار پھیلانے کے اس عمل کو وہ آزادانہ رائے اور علمی ترقی کہتے ہیں۔ موصوف جاوید غامدی صاحب کے نظریات اپنے صاحبزادے کے سائے میں پھیلانے کا کام کررہے ہیں ، تجدید دین کے نام پر تجدد عام ہورہا ہے‘‘۔ [ماہنامہ الشریعہ، کلمہ حق، ص۲،نومبر ۲۰۱۳ء]

اس تمہید کے بعداب حضرت والا محترم حضرت مولانا راشدی صاحب کا موقف پڑھیے:

’’الشریعہ‘‘ کے بارے میں جناب فصیح احمد کے ارشادات پر کچھ معروضات پیش کرنے سے پہلے ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ اداکرتے ہیں کہ انہوں نے علمی وفکری مسائل پر باہمی تبادلۂ خیالات اور مباحثہ و مکالمہ کی اہمیت و افادیت کے ساتھ ساتھ دونوں طرف کے مضامین کو ایک ہی فورم پر شائع کرنے کی ضرورت بیان کرکے ہمارے اس موقف کی اصولی طور پر تائید فرمادی ہے کہ علمی و فکری مسائل پر مکالمہ و مباحثہ ہونا چاہیے اور کوئی ایسا فورم بھی ضرور موجود ہونا چاہیے جہاں کسی مسئلہ پر مختلف موقف رکھنے ولے دو یا دو سے زائد فریقوں کا موقف یک جا شائع ہوتا کہ قارئین کو سب لوگوں کا موقف سامنے رکھ کر رائے قائم کرنے میں آسانی رہے۔ الشریعہ گزشتہ ربع صدی سے یہی خدمت سر انجام دے رہا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہماری پالیسی پر ناقدانہ نظر رکھنے والے علمی حلقوں میں بھی اس کی اہمیت و ضرورت کا احساس پیدا ہورہا ہے، فالحمداللہ علی ذلک۔ ہمیں اعتراف ہے کہ ’’الشریعہ میں گزشتہ ربع صدی کے دوران شائع ہونے والے بہت سے مضامین کی زبان ’’ہائیڈپارک‘‘ اور ’’موچی دروازہ‘‘ سے مختلف نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ زبان کس نے استعمال کی ہے؟‘‘ [ماہنامہ الشریعہ، کلمہ حق، ص۲،۳،نومبر ۲۰۱۳ء]

حضرت والا نے ہماری عبارت سے جو معانی اخذ کیے ہیں متن کے فہم سے وہ معانی کسی صورت نہیں پھوٹتے ہم نے درج بالا سطور میں اپنے متن کا فہم دلا ئل سے واضح کردیا ہے تاکہ ہمارے متن سے گمراہی اخذ کرنے کا کوئی قرینہ باقی نہ رہے کوئی دریچہ نہ کھل سکے اور ہر امکان مسدود ہو جائے ۔ ہمارا موقف صرف یہ ہے کہ دینی رسالو ں میں بحث و مباحثہ ان مکاتب فکر کے افکار پر ہونا چاہیے جو اہل السنت و الجماعت کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہوں اور ان مسلمہ اصولوں کے دائرے میں رہ کر اپنے خیالات افکار پیش کررہے ہوں اگر وہ ان مسلمات کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور دین کی تعبیر و تشریح کے نئے اصول تخلیق کرکے اہل السنت و الجماعت کی پندرہ سو سالہ قدیم علمیت کے مقابلے پر نئی متوازی علمیت پیش کرتے ہیں تو ان سے مکالمہ نہیں ہوسکتا ان کو دعوت دی جاسکتی ہے یا ان کو مباہلے کا پیغام دیا جاسکتا ہے۔

اپنے اس موقف کی تائید میں ہم خودحضرت والا مولانا زاہد الراشدی صاحب کی ایک تحریر پیش کررہے ہیں محترم عمار ناصر صاحب کی کتاب’’حدود تعزیرات چند اہم مباحث ‘‘کے ’’دیباچے‘ ‘ میں وہ لکھتے ہیں:

۱۔ راقم الحروف کے نزدیک اسلامی قوانین و احکام کی تعبیر و تشریح کے لیے صحیح قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی بہر حال پابندی کی جائے [عمار ناصر، حدود و تعزیرات ، ص ۹، المورد لاہور طبع اول ۲۰۰۸ء] 

۲۔ جن تقاضوں کو ہم قرآن و سنت کی تعلیمات اہل سنت کے علمی اور اجتہاد شرعی کے دائرے میں قبول کرسکتے ہیں انہیں کھلے دل سے قبول کرلیں ۔[ص ۱۰، محولہ بالا]

۳۔ جوامور قرآن و سنت کی نصوص صریحہ، اور اجتہاد شرعی کے مسلمہ اصولوں سے متصادم ہوں ان کے بارے میں کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیے بغیر پوری دل جمعی کے ساتھ ان پر قائم رہیں (ص ۱۰ محولہ بالا) 

۴۔ سنت رسول سے مراد وہی ہے جو امت مسلمہ چودہ سو سال سے اس کا مفہوم سمجھتی آرہی ہے اور اس سے ہٹ کر سنت کا کوئی نیا مفہوم طے کرنا اور جمہور امت میں اب تک سنت کے متوارث طور پر چلے آنے والے مفہوم کو مسترد کردینا بھی عملًا سنت کو اسلامی قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے (ص ۱۰، محولہ بالا ) 

۵۔ صرف قرآن کریم کو قانون سازی کی بنیاد بنانا اور سنت رسول کو قانون سازی کا ماخذ تسلیم کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور خود قرآنی تعلیمات کے منافی ہے (ص ۱۰، محولہ بالا )

۶۔ ایک رجحان آج کل عام طور پر یہ بھی پایا جاتاہے کہ سنت مستقل ماخذ قانون نہیں ہے (ص ۱۰ محولہ بالا)

۷۔ سنت کو اسلامی قانون سازی کا مستقل ماخذ اور قران و سنت کی تعبیر و تشریح کا حتمی معیار تسلیم کیا جائے جیسا کہ حضرات صحابہ کرام کے دور میں ہوتا تھا اور اسی پر امت مسلمہ کا اجماعی تعامل چلا آرہا ہے [ص ۱۱، محولہ بالا )

۸۔ قرآن و سنت دونوں کو قانون سازی کی بنیاد کے طور پر تسلیم کیا جائے ۔ (ص ۱۲ محولہ بالا )

۹۔ قدیم و جدید میں تطبیق کی کوشش ( احسن کام ہے ) صرف ایک شرط کے ساتھ کہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ و الجماعۃ کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو کیونکہ اس دائرے سے آگے بہر حال گمراہی کی سلطنت شروع ہو جاتی ہے ( ص ۱۳، محولہ بالا )

راشدی صاحب کے ان دلائل سے ہمیں صد فی صد اتفاق ہے ہمارا منشاء بھی یہی ہے کہ الشریعہ اور تمام دینی رسالوں میں انہی اصولوں کے مطابق مباحثے، مکالمے اور مناظرے کا اہتمام ہونا چاہیے تمام علمی تحریریں ، اختلافی گفتگو ، تنقیدی آراء اگر قرآن و سنت کی نصوص صریحہ، امت کے اجماعی تعامل، اہل السنت و الجماعت کے علمی مسلمات کے دائرے کے اندر پیش کی جائیں تو ان پر بحث و مباحثے اور گفتگو کا دروازہ کھلا رکھا جائے لیکن الشریعہ اور راشدی صاحب پر ہمارا بنیادی اعتراض یہی ہے کہ انہوں نے ان طے شدہ اصولوں کے بر خلاف گمراہ مکاتب فکر کے خیالات کی ترسیل کو آزادی اظہار رائے کا نام دے کر الشریعہ کو ہائیڈ پارک میں تبدیل کردیا ہے۔

ان اصولی مباحث پر گفتگو کے بعدجو ہمارے اور راشدی صاحب کے مابین مشترک متفق علیہ ہیں اب ہم غامدی صاحب کے مکتب فکر کے افکار کی الشریعہ میں تشہیر ، تبلیغ ، تدریس ، ترسیل کے حوالے سے جناب محترم راشدی صاحب کے عذر کا جائزہ لیتے ہیں راشدی صاحب غامدی صاحب کے مکتب فکر کے افکار کی اشاعت کی دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’محترم فصیح احمد صاحب نے جناب جاوید احمد غامدی اور ان کے حلقۂ فکر کے بعض احباب کے مضامین کی ’’الشریعہ‘‘ میں اشاعت کا ’’طعنہ‘‘بھی دیا ہے، حالانکہ ہم نے غامدی صاحب پر تنقیدات بھی الشریعہ میں شائع کی ہیں۔ فصیح صاحب نے اسے نظر انداز کردیا۔‘‘ [ماہنامہ الشریعہ، کلمہ حق، ص۵،نومبر ۲۰۱۳ء]

لیکن راشدی صاحب کا یہ عذر، یہ دلیل ان کے طے شدہ اصولوں کے منافی ہے۔ غامدی صاحب کے مکتب فکر سے اہل سنت و الجماعت کا مکالمہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ جناب غامدی صاحب کا مکتب فکر اہل السنت والجماعت کے اصولوں کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ وہ سنت کو ماخذ قانون تسلیم نہیں کرتا، وہ اجماع کو ماخذ قانو ن تسلیم نہیں کرتا، وہ عقل و فطرت کو ماخذات دین کے طور پر قبول کرتا ہے۔ وہ نصوص کی تعبیر و تشریح میں تنوع، رنگا رنگی، تغیرات کا قائل ہے۔ ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ ایک مکتب فکر جب سنت کو ماخذ قانون ہی تسلیم نہیں کرتا تو اس مکتب فکر سے مذاکرے مباحثے کی بنیاد کیا ہو؟ ایک مکتب فکر خدا اور رسول کو تسلیم کرنے سے انکار کردے یا قرآن کو کتاب اللہ تسلیم نہ کرے تو کیا تب بھی ہم اس مکتب فکر کے خیالات علم کی نئی روش، جدید جہت ،منفرد سطح کے طور پر پیش کرکے مکالمہ شروع کردیں گے؟ ظاہر ہے ہم اس مکتب فکر کو دعوت دیں گے۔ مکالمہ مباحثہ ان سے ممکن نہیں کیونکہ وہ ہمارے بنیادی مسلمات کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ 

غامدی صاحب نے ’’میزان‘‘ میں صاف لفظو ں میں لکھ دیا ہے:

۱۔ سنت دین ابراہیمی کی روایت ہے سنت عبادات، معاشرت، خور و نوش رسوم و آداب تک محدود ہے سنت محض نماز، روزہ، اعتکاف، زکوٰۃ، صدقہ فطرہ، حج و عمرہ، قربانی تشریق کی تکبیروں ، نکاح و طلاق ، حیض و نفاس، سور یا خون، مردار، خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت، جانروں کے تزکیہ، بسم اللہ سے دائیں ہاتھ سے کھانے پینے، السلام علیکم کہنے اور جواب دینے، چھینک پر الحمدللہ جواب میں یرحمک اللہ کہنے، مونچھیں پست رکھنے، زیر ناف کے بال کاٹنے، بغل کے بال اکھاڑنے ، ناخن کاٹنے، ختنہ، ناک منہ دانت صاف کرنے، استنجا، حیض و نفاس کے بعد غسل، غسل جنابت، میت کے غسل ، تجہیز و تکفین ،تدفین، عید الفطر اور عیدالاضحی کا نام ہے ان سنتوں کی کل تعداد ۱۶ ہے [غامدی میزان ، ص ۱۴، طبع پنجم ۲۰۱۰ء المور لاہور ] 

۲۔ سنت صرف وہی چیز ہوسکتی ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے دین ہو (اور سنت میں مخفی دین صرف ۱۶ سنتوں میں محصور ہے ) سنت کا تمام تر تعلق عملی زندگی سے ہے علم و عقیدہ ، تاریخ، شان نزول ، اور اس طرح کی چیزوں کا سنت سے کوئی تعلق نہیں سنت کا لفظ ہی اس سے ابا کرتا ہے کہ ایمانیات کی قسم کی کسی چیز پر اس کا اطلاق کیا جائے لہٰذا علمی نوعیت کی کوئی بھی چیز سنت نہیں ہے اس کا دائرہ صرف کرنے کے کام ہیں اس دائرے سے باہر کی چیزیں اس میں کسی طرح شامل نہیں کی جاسکتیں عملی نوعیت کی وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہوسکتیں جن کی ابتداء پیغمبر کے بجائے قرآن سے ہوئی ہے سنت قرآن کے کسی حکم پر عمل یا اس کی تفہیم و تبتین کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نفل نماز ،روزے ،قربانی بھی سنت نہیں فطرت بھی سنت نہیں ہے۔ فطرت سنت سے الگ ہے نماز میں قعدے کے اذکار بھی سنت نہیں ہیں سنت خبر واحد سے ثابت نہیں ہوتی سنت قرآن کی طرح صحابہ کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے لہٰذا سنت بھی قرآن ہی کی طرح پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہو جاتی ہے [میزان ص ۵۷، ۵۸، ۵۹، ۶۰، ۶۱ محولہ بالا] دوسرے معنوں میں جس طرح قرآن کی آیات کی تعداد متعین ہے سنتوں کی تعداد بھی متعین ہے ۔

میزان کے مقدمے میں پہلے صفحے پر ’’اصول و مبادی‘‘ کے تحت غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ دین کا تنہا ماخذ اس زمین پر اب محمدؐ کی ذات ہے (ص ۱۳ میزان ۲۰۱۰) قانون و حکمت دین حق ہے اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے ۱۔ قرآن مجید، ۲۔سنت(ص ۱۳ محولہ بالا)صفحہ ۴۷ پر غامدی صاحب لکھتے ہیں’’ سنت قرآن کے بعد نہیں بلکہ قرآن سے مقدم ہے [ص ۴۷ محولہ بالا] سنت دین ابراہیمی کی روایت ہے (ص ۱۴ محولہ بالا ) ان متضاد بیانات میں ترتیب قائم کی جائے تو ماخذات دین کی فہرست جو غامدی صاحب نے مرتب کی ہے خود ان کے اصول کی روشنی میں اس طرح مرتب ہوگی۔ ۱۔ سنت (کیونکہ سنت حضرت ابراہیم سے شروع ہورہی ہے معلوم نہیں دیگر انبیاء جو حضرت ابراہیم سے پہلے تھے کیا کرتے تھے ان کو توسنت کا علم ہی نہیں تھا ) ۲۔ رسالت مآبؐ ، ۳۔قرآن مجید لیکن غامدی صاحب نے اس ترتیب کو سہواً پیش نظر نہیں رکھا۔

راشدی صاحب کا اصول ہے کہ سنت ماخذ قانون ہے غامدی صاحب کے مکتب کا اصول ہے کہ وہ ماخذ قانون نہیں ہوسکتی۔ اس بنیادی اختلاف کی صورت میں غامدی صاحب کے مکتب فکر اور برادرِ مکرم عمار خان ناصرصاحب کے خیالات پر مکالمہ کیسے ممکن ہے جب بنیادی مقدمات ہی مختلف ہیں۔ ایک جانب غامدی صاحب کا دعویٰ ہے کہ سنت قرآن کی طرح قطعی الدلالہ ہے اور صحابہ کے اجماع و عملی تواتر سے متعین ہے لیکن اس تعین، اجماع، عملی تواتر کا حال یہ ہے کہ( ۱) میزان حصہ اول ۱۹۸۵ء میں سنتوں کی تعداد متعین نہیں تھی اس وقت اہل سنت کی تعریفِ سنت سے غامدی صاحب متفق تھے۔ (۲) محاضرات کراچی ۱۹ تا ۲۸ مارچ ۱۹۹۸ء میں غامدی صاحب نے سنتوں کی تعداد چالیس بیان کی ۔ (۳)اصول و مبادی تالیف جاوید احمد غامدی دانش سرا ۱۲۳ بی ماڈل ٹاؤن لاہور طبع اول ۲۰۰۰ء، کے مطابق سنتوں کی تعداد چالیس تھی ۔(۴)میزان طبع دوم اپریل ۲۰۰۲ء دارالاشراق ۱۲۳ بی ماڈل ٹاون لاہور میں ص ۱۰ پر اصول و مبادی کے تحت سنتوں کی تعداد صرف ۲۷ رہ گئی ۔(۵) میزان طبع اول ۲۰۰۸ء میں سنتوں کی تعداد صرف صرف اٹھارہ رہ گئی۔( ۶)میزان طبع پنجم فروری ۲۰۱۰ء میں سنتوں کی تعداد صحابہ کے اجماع و عملی تواتر سے صرف ۱۷ رہ گئی۔ (۷) میزان طبع اول ۲۰۰۸ء اور میزان ۲۰۰۹ء میں سنتوں کی تعداد ۱۸ تھی۔ ایک سنت جو ۲۰۰۸ء ، ۲۰۰۹ء تک صحابہ کے اجماع اور عملی تواتر سے قرآن کی طرح ہی امت کو منتقل ہوئی تھی، اچانک ۲۰۱۰ء میں کہاں غائب ہوگئی؟ وہ سنت تھی نومولود کے کان میں اذان ۔ ۲۰۱۰ء میں غامدی صاحب کو خبر ہوگئی کہ اس سنت پر صحابہ کا اجماع نہیں تھا نہ تواتر عملی تھا۔ لہٰذا یہ سنت خارج کردی گئی۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں ثبوت کے اعتبار سے سنت اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے سنت اسی طرح ان کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے لہٰذا اس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ [میزان ص ۱۴، طبع پنجم ۲۰۱۰ء] تو سوال یہ ہے کہ سنت اتنی قطعی، واضح، قرآن کی طرح مستحکم تھی تو ۲۰۱۰ء میں وہ کیسے منسوخ ہوگئی؟ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کا اجماع عملی تواتر بھی منسوخ ہوسکتا ہے اور قرآن کی آیت کی تعداد بھی کم و بیش ہوسکتی ہے جس طرح سنت کی تعداد کم زیادہ ہو رہی ہے ماخذ ناقابل تغیر ہوتا ہے۔ اگر سنت ماخذ ہے تو یہ کیسا ماخذ ہے جو مسلسل تغیر و تبدل سے گزر رہا ہے۔

۳۔ غامدی صاحب دین کے صرف دو ماخذ تسلیم کرتے ہیں: قرآن، سنت۔ وہ قیاس، اجماع کو ماخذ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی نظر میں سنتوں کی تعداد صرف ۱۷ ہے۔ قرآن کی تشریح و تفسیر کے ضمن میں وہ سنت کو ماخذ، ذریعہ تسلیم نہیں کرتے کہ سنت تو صرف اعمال کا نام ہے۔ علم، قانون، اصول، تشریح و تفسیر کا نام نہیں۔ اصلاً غامدی صاحب کا ماخذ دین صرف اور صرف قرآن ہے، وہ سنت کو ماخذ قانون و ماخذ تفسیر قرآن تسلیم نہیں کرتے۔ منکر سنت کے بارے میں خود راشدی صاحب کی رائے یہ ہے کہ’’ صرف قرآن کریم کو قانون سازی کی بنیاد بنانا اور سنت کو قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنا قطعی طو ر پر ناقابل قبول اور خود قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔‘‘ [ص ۱۰ دیباچہ حدود و تعزیرات عمار ناصر طبع اول جولائی ۲۰۰۸ء ] غامدی صاحب اوران کا مکتب فکر بشمول محترم عمار ناصر صاحب جب سنت کو ماخذ قانون ہی نہیں مانتے تو قرآنی تعلیمات کے خلاف غلط نقطۂ نظر بھی رکھتے ہیں تو ان کی تحریروں کی الشریعہ میں اشاعت کا کیا جواز ہے؟ 

الشریعہ پر ہمارا اعتراض یہی ہے کہ وہ ہائیڈپارک نہ بنے، قرآن و سنت اجماع قیاس کے اصولوں کا محافظ بنے۔ جدیدیت پسندوں، منکرین سنت کے افکار کو اپنے رسالے کی زینت بنا کر ان کو اعتبار وقار اور اعتماد مہیا نہ کرے۔ یہ دین کے ساتھ مذا ق ہے اور اپنے طے شدہ اصولوں کا انکار۔ قرآن نے یہی بات واضح کی ہے کہ اے ایمان والو، تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔

آراء و افکار