حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ڈاکٹر رضوان علی ندوی کی تنقید (۲)

مفتی امان اللہ نادر خان

پانچویں اعتراض کا جواب

اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ ’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ‘‘۔

علامہ عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ’’لا یصح‘‘ سے مراد’’صحیح اصطلاحی‘‘ کی نفی ہو تو یہ بات ہو سکتی ہے ،لیکن یہ مضر نہیں اس لیے کہ ’’ صحیح اصطلاحی‘‘ احادیث کا تو وجود ہی کم ہے، یہی وجہ ہے کہ عام شرعی احکام اور فضائل ’’حدیث حسن ‘‘ سے ثابت ہوتے ہیں ، یہی ابن راہویہ کی مراد ہے ۔ اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ کوئی حدیث ثابت ہی نہیں، جیسا کہ ڈاکٹر صاحب کا مدعا ہے، تو یہ بات بالکل غلط ہے ، اس لیے کہ ’’ حسن ‘‘ درجے کی کئی احایث حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں احادیث کی معتبر کتابو ں میں مو جود ہیں جو ازروئے اسناد صحیح ہیں۔ اختصاراً یہاں کچھ ذکر کرتے ہیں :

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں پہلی حدیث

(۱) مسند احمد کی روایت ہے:

حدثنا علي بن بحر، حدثنا الولید بن مسلم، حدثنا سعید بن عبد العزیز عن ربیعۃ بن یزید عن عبد الرحمن بن أبي عمیرۃ الأزدي عن النبي ﷺأنہ ذکر معاویۃ وقال: اللھم اجعلہ ھادیاً مھدیاً وأھد بہ ‘‘ (مسند احمد: ۲۹؍۴۲۶)

محقق شعیب ارنوؤط سند کی تصحیح اور رجا ل کی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’رجالہ ثقات ،رجال الصحیح ‘‘ .

اس کے علاوہ کئی جلیل القدر محدثین نے مختلف طرق سے اس کی تخریج کی ہے،چنانچہ امام بخاری نے ’’ التاریخ الکبیر‘‘ (۵؍۲۴۰)،(۷؍۳۲۷)، امام ترمذی نے اپنی’’ جامع ‘‘(۳۸۴۲)ابن ابی عاصم نے ’’اآاحاد والمثانی‘‘ (۱۱۲۹)، خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ(۱؍ ۲۰۷ ،۲۰۸ )،امام ابو بکر الخلال نے ’’ السنۃ ‘‘ (۶۹۹) ابن قانع نے ’’معجم الصحابۃ‘‘ (۲؍ ۱۴۶ )،امام طبرانی نے ’’ الأوسط‘‘ (۶۶۰)، ابو نعیم اصفہانی نے ’’حلیۃ الأولیا ء ‘‘(۸؍ ۳۵۸)، خطیب تبریزی نے ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ (ص: ۵۷۹)، امام ذہبی نے ’’تاریخ الإسلام ‘‘(۲؍۳۴۲)، حافظ نور الدین ہیثمی نے’’موارد الظمآن‘‘(۵۶۶)، ابن سعد نے ’’ الطبقات الکبری ‘‘(۷؍ ۱۳۶)،ابو نعیم نے ’’أخبار أصفہان‘‘ (۱؍ ۱۸۰ )،ابن الاثیر جزری نے ’’أسد الغابۃ‘‘(۴؍ ۳۸۶ )حافظ ابن کثیرنے ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ (۸؍ ۱۲۹) ابن عساکر نے ’’ تاریخ دمشق‘‘ (۶؍ ۶۸۶ )، امام نووی نے’’ تہذیب الأسماء واللغات‘‘ (۲؍ ۱۰۳ ،۱۰۴)،ابن ابی حاتم نے اپنی ’’ علل‘‘ (۲؍ ۳۶۲)، امام احمد نے ’’کتاب فضائل الصحابۃ‘‘(۲؍ ۹۱۳،۱۴)اور ابن حجر ہیثمی نے ’’تطہیرالجنان ‘‘(ص: ۱۱،۱۲ ) میں اس کو ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قراردیا ہے۔ ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘ اس ’’ حسن ‘‘ درجے کی حدیث کو ابن الجوزی کے حوالے سے ’’موضوع کہہ کر آگے چل دیے ۔

ہم یہاں ڈاکٹر صاحب کی ’’خیانتوں ‘‘اور ’’ حدیث دانی ‘‘ کا جائزہ لیں گے۔

۱۔ ابن الجوزی نے دو طرق سے یہ ر وایت نقل کی، ایک میں ’’ محمد بن اسحاق ‘‘اور دوسرے میں ’’ اسماعیل بن محمد ‘‘پر کلا م کر کے اسے رد کر دیا ، ہماری روایت میں یہ دونو ں راوی نہیں ، ایک طریق کا حکم لے کر دوسرے پر چسپاں کر نا خالص ’’ علمی افتراء‘‘،’’تلبیس ابلیس ‘‘اور ’’ تحقیقی خیانت ‘‘ ہے ۔

۲۔ ابن الجوزی نے ’’لایصحان‘‘ کہا تھا، جو أعم ہے ’’موضوع‘‘ سے ۔ حدیث کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ ہر ’’ مو ضو ع‘‘ حدیث ’’لا یصح‘‘ ہو تی ہے، جب کہ ہر ’’لا یصح‘‘ حدیث ’’مو ضوع ‘‘ نہیں ہو تی، لہٰذا اسے ’’موضوع ‘‘قرار دے کر اس کی نسبت ابن الجوزی کی طرف کرنا نرا بہتان اور خالص افترا ہے۔ 

۳۔علیٰ سبیل التسلیم’’ موضوع ‘‘ مان لینے سے یہ حکم اسی طریق کا ہو گا ،جسے ابن الجوزی نے ذکر کیا ہے باقی پر یہ حکم بوجہ عدمِ وجودِعلت نہیں لگے گا ۔

۴۔پھر اس سے زیادہ سے زیادہ مذکورہ طریق ہی ’’ مو ضوع ‘‘ کہلائے گا ، نفسِ حدیث کا مو ضوع ہو نا پھر بھی کسی صورت ثابت نہیں ہو تا ۔

۵۔ڈاکٹر صاحب کا مبلغ علم دیکھیے کہ دیگر تمام جلیل القدر محدثین کرام کی تصحیح ، تحسین وتو ثیق کو یکسر نظر انداز کر کے صرف ابن الجوزی کی بات پر ( اور اسکی حقیقت بھی ہم واضح کر چکے )اعتماد کر کے ایک صحیح حدیث کو رد کر دیا ۔

(۶) ڈاکٹر صاحب کو ’’سیر الأعلام ‘‘ کے بیالیس صفحات میں یہ حدیث نظر نہیں آئی ؟

( ۷) امام ذہبی نے اس مو ضو ع پراکیس ’’ مو ضوع ‘‘ احایث کی نشاندہی ’’سیر الأعلام ‘‘ میں کروائی ہے، ان میں مذکورہ حدیث کو شمار نہیں کیا ۔(سیر الأعلام : ۳؍ ۱۲۸۔۱۳۱)

اس اعتراض کا تحقیقی جواب یہ ہے :

۱۔ حضرات محدثینِ کرام وماہرین علومِ حدیث کے نزدیک علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کا شمار ’’متشددین‘‘ میں ہوتا ہے، جو جرحِ راوی اور تضعیف راویت میں سختی سے کام لیتے ہیں۔(قواعد في علوم الحدیث، ص: ۱۸۸ و الرفع والتکمیل، ص: ۳۲۰، ۳۲۱)

۲۔ ان حضرات (جن کا شمار ’’متشددین‘‘ میں ہوتا ہے)کی جرح کا حکم یہ ہے کہ ان کی جرح اس وقت مقبول ہو گی، جب دیگر محدثینِ کرام نے ان کی موافقت کی ہو اور مقابلے میں کسی اور محدث سے توثیق منقول نہ ہو، یا اگر توثیق بھی منقول ہو تو پھر جرح مفسر ہو، ورنہ ان کی جرح محدثین کے ہاں معتبر نہیں۔ (قواعد في علوم الحدیث، ص: ۱۸۸-۱۹۰)

۳۔ ثقہ محدثین کرام کی تصریحات کے مطابق اسی تشدد وافراط کے نتیجہ میں ابن الجوزی رحمہ اللہ نے صحاحِ ستہ کے علاوہ مسند أحمد، مستدرک حاکم، السنن الکبریٰ، شعب الإیمان، دلائل النبوۃ، صحیح ابن حبان، صحیح ابن خزیمۃ، سنن الدارقطني، اور مسند دارمي کی بعض ضعیف ، بعض حسن، بلکہ بعض ’’صحیح‘‘ درجے کی احادیث پر بھی کلام کیا ہے اور اسے ’’موضوع‘‘ قرار دیا ہے۔نیز! حضراتِ محدثین کرام نے ایسی تمام احادیث کی باقاعدہ نشاندہی کی ہے اور انہیں شمار کیاہے، جن کی تعداد ۳۰۰ تک پہنچتی ہے۔(تدریب الراوي:۱؍۲۷۸۔ منہج النقد، ص:۲۹۷، ۲۹۸۔ الأجوبۃ الفاضلۃ، ص: ۱۶۳، ۱۶۹).

۴۔اسی وجہ سے کئی جلیل القدر محدثین کرام نے علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کا اس صنیع پر خوب تعاقب کیا ہے جسے علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی ’’اللآليالمصنوعۃ‘‘، ’’ذیل اللآليالمصنوعۃ‘‘، ’’النکت البدیعات‘‘، اور شروح سنن ’’ابی داؤد، نسائی و ابن ماجہ‘‘ وغیرہ میں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ’’القول المسدد‘‘ اور ’’الخصال المکفرۃ‘‘ میں اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی ’’تلخیص کتاب الموضوعات‘‘ اور’’ تلخیص العلل المتناہیۃ‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

۵۔ محدثین کرام کی تصریحات کے مطابق علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کی مذکورہ تسامحات کے دو سبب ہیں:

الف: کسی راوی پر کسی محدث کی جرح ہوتی ہے (اگرچہ یسیر ہو،) علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ اسی کو مدار بنا کر روایت کو رد کر دیتے ہیں اور اس راوی کے حق میں دیگر محدثین کرام کے توثیقی و تعدیلی کلمات کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔

ب: دوسرا سبب یہ ہے کہ کسی روایت کے کسی ایک طریق محدثینِ کرام نے ’’وضع‘‘ کا حکم لگایا ہوتا ہے، جب کہ اسی روایت کے دیگر صحیح طرق بھی موجود ہوتے ہیں، علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ مغالطہ میں پڑ کر ’’مطلق متن ‘‘ پر ’’وضع‘‘ کا حکم لگا دیتے ہیں، جس کی زد میں ’’صحیح طُرق‘‘ بھی آجاتے ہیں، حالانکہ دیگر محدثینِ کرام کا کلام نہ ’’ مطلق متن‘‘ اور نہ ہی دیگر ’’صحیح طرق‘‘ پر ہوتا ہے۔

۶۔ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کے اس افراط و تفریط کی شہادت علامہ سیوطی ، حافظ ابن حجر، حافظ سخاوی،حافظ انصاری، حافظ عراقی، امام نووی، حافظ ذہبی اور دیگر جلیل القدر محدثینِ کرام رحمہم اللہ نے دی ہے۔

مذکورہ حدیث پر جو کلام علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے کیا ہے یہ بھی ان کے جملہ اوہام اور تسامحات میں سے ہے، جس کی تصریح حافظ ذہبی نے ’’تلخیص العلل المتناہیۃ‘‘ میں کی ہے، چناں چہ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کے ایک طریق میں ’’ محمد بن اسحاق لؤلؤی‘‘ نامی راوی پر کلام کیا ہے، حافظ ذہبی نے یہاں ابن الجوزی کو ہونے والے مغالطے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

’’قال ابن الجوزي : مدارہ علی محمد بن إسحاق اللؤلؤي، ولم یکن ثقۃ، وھذا جھل منہ؛ فإنما محمد بن إسحاق ھنا أبو بکر الصاغاني، ثقۃ‘‘.(تلخیص العلل المتناہیۃ، ص:۹۳)

یعنی ابن الجوزی نے یہاں لاعلمی اور مغالطہ سے مذکورہ راوی کو ’’محمد بن اسحاق لؤلؤی بلخی‘‘ سمجھاہے، جس پر انہوں نے جرح نقل کی ہے، حالاں کہ یہ محمد بن اسحاق ’’ابو بکر صاغانی‘‘ ہیں اور یہ ’’ثقہ‘‘ راوی ہیں۔

پھر علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے ایک دوسرے طریق میں ’’اسماعیل بن محمد‘‘ نامی راوی پر کلام کرتے ہوئے فرمایا:

قال الدارقطني: إسماعیل بن محمد ضعیف کذاب‘‘.

حافظ ذہبی نے اس پر استدراک کرتے ہوئے فرمایا:

’’وھذہٖ بلیۃ أخریٰ، فإنما إسماعیل ھنا ھو الصفار-ثقۃ- والذي کذبہ الدارقطني ھو المزني، یروي عن أبي نعیم‘‘. (تلخیص العلل المتناہیۃ، ص: ۹۴)

یعنی یہ دوسری مصیبت ہے اس لیے کہ یہاں روایت میں جو ’’اسماعیل بن محمد‘‘ نامی راوی ہیں، یہ ’’اسماعیل بن محمد الصفار‘‘ ہیں، جو ایک ’’ثقہ‘‘ راوی ہیں۔ اورابن الجوزی نے امام دارقطنی کے حوالے سے جن کی تکذیب نقل کی ہے، وہ ’’اسماعیل بن محمد المزنی‘‘ ہیں، جو ’’ابو نعیم‘‘ سے روایت کرتے ہیں۔

اس تحقیقی جواب کی تفصیل کے لیے دیکھیے: ’’معرفۃ أنواع علم الحدیث‘‘ (ص:۲۰۴)، ’’تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ‘‘ (۱؍۱۰)، ’’فتح المغیث‘‘ (۱؍۲۷۵، ۲۷۶)، ’’قواعد في علوم الحدیث‘‘ (ص:۱۸۸ -۱۹۰)، ’’الرفع والتکمیل في الجرح والتعدیل‘‘ (ص: ۳۲۰، ۳۲۵)، ’’تدریب الراوي‘‘ (۱؍۲۷۸، ۲۷۹)، ’’منہج النقد في علوم الحدیث‘‘ (ص: ۲۹۷، ۲۹۸)، ’’الأجوبۃ الفاضلۃ للأسئلۃ العشرۃ الکاملۃ‘‘ (ص:۱۶۳ -۱۷۱) اور ’’تلخیص العلل المتناہیۃ‘‘(ص: ۹۳، ۹۴).

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں دوسری حدیث

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو دعا دیتے ہوئے فرمایا :

’’ اے اللہ ! معاویہؓ کوکتاب اورحساب کا علم عنایت فرما اور اسے عذاب سے محفوظ فرما ‘‘۔ 

دیکھیے: ’’مسند أحمد ‘‘(۴؍ ۱۲۷)،’’مجمع الزوائد ‘‘(۹؍ ۳۵۶)،’’کتاب فضائل الصحابۃ للأمام أحمد ‘‘ (۲؍ ۹۱۳،۹۱۴)، ’’موارد الظمآن ‘‘(ص: ۵۶۶)،’’کتاب المعرفہ والتاریخ للبسوي (۲؍ ۳۴۵)،’’أنساب الأشراف للبلاذري‘‘(۴؍ ۱۰۷)،’’تاریخ دمشق‘‘ (۱۶؍۶۸۳)، ’’تاریخ الإسلام للذہبي ‘‘ (۲؍ ۳۱۸)، ’’الاستیعاب ‘‘(۳؍ ۳۸۱)،’’البدایۃ والنہایۃ‘‘(۸؍ ۱۲۰)،’’الإصابۃ‘‘(۱؍ ۳۸۵،۳۸۶)،’’کنز العمال‘‘ (۶؍ ۱۹۰ )،(۷؍ ۸۸)، ’’جزء الحسن بن عرفۃ العبدي‘‘(رقم الحدیث :۳۶،۶۶) بحوالہ سیرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،از مولانا محمد نافع مد ظلہ،(۱؍۱۱۲)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں تیسری حدیث

حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

’’ معاویہ کا تذکرہ خیر و خوبی کے سوا مت کرو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہے کہ آپ معاویہ کے حق میں فرماتے تھے: ’’اے اللہ !انہیں ہدایت نصیب فرما ‘‘ ۔

دیکھیے: ’’سنن الترمذي‘‘ (ص: ۵۴۷)،’’ التاریخ الکبیر للبخاري‘‘( ۴؍ ۳۲۸)،’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ (۸؍ ۱۲۲)،’’ تاریخ دمشق ‘‘(۱۶؍۶۸۶) .

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں چوتھی حدیث

حضر ت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: کہ آپ کے جسم کا کو ن سا حصہ میرے قریب ترہے ؟ تو حضرت معاویہ نے فرمایا :میرا شکم آپ کے نزدیک ہے ، تو اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا :’’ اے اللہ ! اسے علم و حلم سے پرُ فرما ‘‘۔

دیکھیے :’’التاریخ الکبیر للبخاري‘‘ (۴؍ ۱۸۰)،’’علل الحدیث لابن أبي حاتم‘‘(۲؍ ۳۵۹)،’’تاریخ الإسلام للذہبي‘‘(۲؍ ۳۱۹)،’’تاریخ دمشق‘‘( ۱۶؍ ۶۸۸ )بحوالہ سیرت معاویہ رضی اللہ عنہ ،از مولانا محمد نافع (۱؍ ۱۱۵)

ابن عساکر نے ’’تاریخ دمشق‘‘ میں’’نفی فضیلتِ معاویہ رضی اللہ عنہ ‘‘ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ مذکورہ روایات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں وارد روایات میں سے اصح ترین ہیں:

’’أصح ماروي في فضل معاویۃ، حدیث أبي حمزۃعن ابن عباس أنہ ’’کان کاتب النبي ﷺ‘‘، فقد أخرجہ مسلم في صحیحہ، وبعدہ حدیث،’’ اللھم علمہ الکتاب والحساب‘‘، وبعدہ حدیث ابن أبي عمیرۃ : ’’اللھم اجعلہ ھادیاً مھدیاً‘‘( ۱۶؍ ۶۹۷)

اسی کو ابن عراق کنانی نے بھی’’تنزیہ الشریعۃ‘‘میں علامہ سیوطی کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔(تنزیہ الشریعۃ: ۲؍۸، ذیل الآالی للسیوطی ،ص: ۷۵) 

حافظ ابن کثیر مندرجہ با لا احادیث پر بحث کر نے کے بعد فرماتے ہیں کہ 

’’ ہم نے اس مسئلہ میں مو ضو ع ومنکر روایات سے احتراز کر کے صرف صحیح ، حسن اور جید روایات کے بیان کر نے پر اکتفا کیا ہے‘‘۔ ( البدایۃ والنھایۃ:۸؍۱۲۲)

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا بحری جہاد کر نے والے لشکر کو جنت کی خوشخبری دی ہے (بخاری، کتاب الجہاد :رقم : ۲۹۲۴)اور محدثین و مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ پہلی بار غزوہ( جسے ’’غزوہ قبرص‘‘ کہا جاتا ہے )۲۷ھ ؁ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت میں پیش آیا۔

اب ڈاکٹر صاحب پر اپنا مدعا ثابت کر نے کے لیے اصولی طور سے لازم ہے کہ وہ ہماری ذکر کردہ پانچوں’’صحیح احادیث ‘‘کو جملہ طرق کے ساتھ،’’موضوع ‘‘ ثابت کریں ،اس لیے کہ ایک طریق کی صحت سے بھی فی الجملہ مضمون کا ثبوت ہو جا تا ہے اور صرف ’’ضعیف ‘‘ثابت کرنے سے بھی بات نہیں بنے گی کہ ’’ باب الفضائل‘‘میں ضعیف حدیث تین شرائط کے ساتھ مقبول ہے ،پھر تعدد طرق سے تو وہ بھی قوی ہو جاتی ہے ۔

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کے ذکر کردہ ’’مطاعن ‘‘ کا سر سری جا ئزہ لیتے ہیں ۔

پہلے طعن کا جواب

۱۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گور نر بنانا ،حمص کی ولایت انھیں سپرد کرنا ،بعد ازاں شام کے تمام علاقے و نواحی ان کی امارت میں دینا اور اپنے دورِ خلافت کے آخر تک انہیں بر قرار رکھنا ،پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بھی ان سے یہی معاملہ بر قرار رکھنا ظاہر ہے کہ اسی کو ’’ اعتمادِخاص ‘‘ کہا جا تا ہے ۔

رہی بات دُرّے مارنے والے واقعے کی، سو وہ ایک جزوی واقعہ ہے جو نہ ’’ اعتمادِ خاص ‘‘ کے منافی ہے اور نہ ہی ’’نفی فضیلت ‘‘ کو مستلزم ہے۔ پھر یہ ان حضرات کا ’’غایتِ تقوی ‘‘اور ’’ کمال ‘‘ تھا کہ ذرا سی بات پر بھی فوراً گرفت فرماتے۔ ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی’’جلالی شان ‘‘ بھی اگر مد نظر رکھیں تو با ت واضح ہو جاتی ہے۔ کئی احادیث میں ان کا یہ مقولہ مذکور ہے :

’’دعني یا رسول اللہ ﷺ! أضرب عنق ھذا المنافق‘‘

اسی تناظر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس بات کو بھی دیکھ لیا جائے کہ 

’’ یہ اللہ کا اقتدار ہے وہ نیک کو بھی دیتا ہے اور فاجر کو بھی ‘‘۔

پھر کسی بھی صحابی سے متعلق ’’معصومیت ‘‘ کا دعویٰ ہم نے کب کیا ہے ؟ ان سے بڑی بڑی غلطیاں سر زرد ہوئیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مغفرتِ کاملہ فرمائی۔ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’لقد تاب توبۃ لو قسمت بین أمۃ لوسعتھم ‘‘ (مسلم، رقم :۴۴۳۱)

لیکن ڈاکٹر صاحب اب بھی معاف کر نے کے لیے تیار نہیں۔ ’’سیر الأعلام ‘‘کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’ اے اللہ ! ابو سفیان پر لعنت کر ‘‘۔

لیکن آپ کا یہ مبارک ارشاد یاد نہیں: ’’الإسلام یھدم ما کان قبلہ‘‘، یہ کہا ں کی تحقیق ہے؟’’رافضیت نوازی‘‘ اور کس چیز کا نام ہے ؟

دوسرے طعن کا جواب

(۲) حضرت عمر رضی ا للہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی مدح سرائی میں فر مایا کرتے تھے کہ : 

’’تم قیصر و کسریٰ کی دانائی اور زیرکی کا ذکر کرتے ہو ،حالانکہ تمہارے پاس معاویہ جیسے دانشمند اور زیرک آدمی مو جود ہیں ‘‘۔

کبھی فرماتے :

’’تم ہرقل اور کسری کی ہوشمندی و ہوشیاری سے تعجب کرتے ہو اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑبیٹھتے ہو‘‘۔

بعض دفعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر نظر فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا:

’’دانائی اور زیرکی میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو تو عربوں کے کسری ہیں‘‘۔ 

دیکھیے:’’ الکامل في التاریخ ‘‘( ۳؍ ۳۷۳)،’’تاریخ الإسلام ‘‘(۲؍۳۴۳)،’’البدایۃ والنہایہ‘‘(۸؍ ۱۳۲).

لیکن ڈاکٹر صاحب نے جب ’’تعصب ‘‘ ( بلکہ رافضیت ) کی عینک سے مطالعہ کیا ،تو انہیں یہ مَنْقَبت بھی مذمت نظر آئی ،نتیجۃً اس کا جومفہوم بیان کیا، وہ قارئین ملاحظہ فرماچکے ہیں ۔فکر ہر کس بقدر ہمت اوست ۔

تیسرے طعن کا جواب

۳۔ ’’لا أشبع اللہ بطنہ‘‘کے جواب سے قبل ڈاکٹر صاحب کے چند ’’ تسامحات ‘‘کی نشاندہی ضروری ہے :

(۱) ابتداءً حوالہ’’ مسند احمد‘‘ کا دیا گیا ہے ، حالانکہ اس میں نہ تین مرتبہ کاذکر ہے اور نہ ہی بد دعا کا۔

(۲) مسند احمد میں ’’وکان کاتبہ‘‘(کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے ، )بھی مذکور ہے ،ڈاکٹر صاحب نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ 

(۳) آپ نے انہیں کتابتِ وحی کے لیے بلایا تھا ۔

(۴) تین مرتبہ بلائے جانے اور بد دعا کا ذکر ’’سیر الأعلام ‘‘(۳؍ ۱۲۳)اور ’’ البدایۃ والنہایۃ ‘‘(۸؍ ۱۲۶)میں ہے، جس کا حوالہ ڈاکٹر صاحب نے دیا ہے ،لیکن دونوں جگہ ’’وکان یکتب الوحي‘‘ کی تصریح ہے اور دونوں حضرات نے اس کے بعدانتہائی بہترین ومناسب توجیہ بھی ذکر کی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ آپ کی طرف سے دعا ہے، بددعا نہیں ۔یہ دونوں باتیں بھی’’ڈاکٹر صاحب ‘‘کی ’’دیانت ‘‘ کی نذر ہو گئیں ۔

اب اصل جواب کی طرف آتے ہیں ،وہ یہ کہ حدیث کی کتاب ’’مسند احمد ‘‘میں جواصل واقعہ مذکور ہے ،اس میں نہ تین مرتبہ کا ذکر ہے، نہ بد دعا کا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ کسی راوی کا اپنا ادراج ہے ، البتہ مزید تتبع سے ’’مسلم ‘‘ میں بھی یہ روایت ملی ،وہاں دو مرتبہ کا ذکر ہے اور مذکورہ بد دعا کا بھی ۔

علامہ بلاذری نے ’’أنساب الأشراف ‘‘ میں لکھا :

’’قال أبو حمزۃ: فکان معاویۃ بعد ذلک لا یشبع‘‘. (۴؍ ۱۰۶)

اس تصریح سے معلوم ہوا کہ یہ راوی ابو حمزہ (جو ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کر تے ہیں )کا ادراج ہے ،یہ ابو حمزہ عمران بن ابی عطاء الأسدی الواسطی ہیں ، ایک متکلم فیہ راوی ہیں ،علمائے رجال نے ان پرنقد و کلام کیا ہے۔ 

تفصیل کے لیے دیکھیے: ’’المغني في الضعفاء‘‘(۲؍ ۱۳۶)،’’کتاب الضعفاء الکبیر‘‘(۳؍ ۲۹۹)،’’میزان الاعتدال‘‘ (۳؍ ۲۳۹)،’’الجرح والتعدیل‘‘ (۶؍ ۳۸۷)،’’تہذیب الکمال ‘‘(۲۲؍ ۳۴۳)،’’تہذیب التہذیب‘‘(۸؍ ۱۳۶)،’’تقریب التہذیب ‘‘(ص: ۴۳۰).

ان کی تضعیف یا تو ثیق سے متعلق حتمی رائے قائم کرنا تو مشکل ہے ،البتہ امام نووی کی تصریح کے مطابق اتنی بات متفق علیہ ہے کہ ان کی صرف ایک ہی روایت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے ہے، جو مسلم اور مسند احمد میں ہے اور اس میں ان کی متابعت کوئی نہیں۔ (شرح النووی :۱۶؍ ۳۷۱)۔ حاصل یہ ہے کہ یہ ان کا متفردانہ قول ہے اور راوی کا متفرد قول بغیر متابعت کے لائقِ اعتناء نہیں ہوتا،پھر روایت پر نقد و کلام سے قطع نظراس جملہ کا صحیح محمل موجود ہے، وہ یہ کہ یہ ’’ثَکَلَتْک أمُّک‘‘،’’ترِبت یداک‘‘ اور ’’ علی رَغمِ أنفک‘‘کے قبیل سے ہیں جو بغیر کسی قصد کے صادر ہوتے ہیں ، اس توجیہ کو امام نووی نے اختیا ر کیا ہے ۔(شرح النووی :۱۶؍ ۳۷۱)

امام ذہبی نے ’’سیر الأعلام‘‘میں یہ مطلب بیان کیا کہ ’’ اللہ ان کو شکم سیری نہ دے ،تا کہ قیامت کے دن انہیں بھوک کی تکلیف نہ ہو‘‘۔(۳؍ ۱۲۳) اس لیے کہ آپ نے فرمایا :

’’ جو شخص دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو گا، وہ آخرت میں سب سے زیادہ بھو کا ہوگا ‘‘۔ (ترمذی: ۲۴۷۸) و ( ابن ماجہ :۳۳۵۰)و(ابن ابی الدنیا فی الجوع :۲؍۲)و(مجمع الزوائد: ۵؍ ۳۱)

تیسری توجیہ :امام نووی فرماتے ہیں کہ امام مسلم نے پہلے یہ حدیث ذکر کی کہ:

’’اے اللہ!میں اگر کسی بھی شخص کو ایسی بد دعا دوں،جس کا وہ مستحق نہ ہو،تو اس بد دعا کو اس کے لیے گناہوں سے پاک کر نے ،تزکیہ اور قربت کا ذریعہ بنا ‘‘۔

پھر اس سے متصل ہی مذکورہ حدیث کو لا کراستنباط کیا ہے کہ یہ آپ کے پہلے فرمان کے مطابق در حقیقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا ہے۔ (شرح النووی :۱۶؍ ۳۷۱ ) اسی کو امام ذہبی نے ’’سیر الأعلام‘‘ (۳؍ ۱۲۴)اور حافظ ابن کثیر نے ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ (۸؍ ۱۲۶،۱۲۷)میں اختیار کیا ہے ،لیکن ڈاکٹر صاحب اسے ماننے کے لیے تیا ر نہیں کہ ’’ہنر بچشم عداوت بزرگ تر عیب است‘‘۔

چوتھے طعن کا جواب

۴۔ رہی با ت بخاری و مسلم کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت میں کوئی باب نہ باندھنے کی ،سو اس کے جواب میں اولاًیہ عرض ہے کہ کسی فضیلت کے ثبوت کو بخاری و مسلم پر موقوف کرنے کا نرالا معیار چودہ صدیوں میں سے کس مفسر ، محدث ،محقق یا فقیہ کاہے؟ کیا بخاری میں تمام صاحبِ مناقب صحابہ کے مناقب و فضائل موجود ہیں 

وثانیاً: ’’عدم ذکر الشئ لایستلزم عدم وجودہ‘‘ جس کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔

وثالثاً: ایسا ہے بھی نہیں ،بلکہ مسلم کے حوالے سے تو ہم ابھی ذکر کر چکے اور امام بخاری نے اگر ’’صحیح بخاری‘‘ میں مناقب بیان نہیں کیے تو ’’التاریخ الکبیر ‘‘بھی تو انہی کی کتاب ہے ۔

رہی بات امام بخاری کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حالات کو’’ذکرِمعاویہ ‘‘ کے عنوان سے ذکر کر نے کی ،سو یہ اگر ’’نفی فضیلت ‘‘کو مستلزم ہے ،تو ڈاکٹر صاحب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ عباس بن عبد المطلب،ابوالعاص بن الربیع،اسامہ بن زید ،عبد اللہ بن عباس ،جریر بن عبد اللہ البجلی ،حذیفہ بن الیمان ،اور ہند بن عتبہ بن ربیع رضی اللہ عنہم اجمعین کے فضائل و مناقب کا بھی انکار کردیں ،یہ الزامی جواب ہے ،تحقیقی جواب یہ ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ ’’تفنن فی الکلام ‘‘کی غرض سے ایسی تعبیرات اختیار کرتے ہیں ،کذا في’’الناہیۃ ‘‘(ص:۳۴)۔

پانچویں طعن کا جواب

۵۔ ڈاکٹر صاحب نے جو آخری طعن ذکر کیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فضائلِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں وارد روایات کو مَن گھڑت اور مو ضوع قرار دیا ہے، پھر آخر میں اسحاق بن راہویہ اور امام نسائی کا حوالہ بھی دیاہے۔

جہاں تک بات ہے اسحا ق بن راہویہ اور امام نسائی کے کلام کی ،تو اس کا جواب سابق میں ہم تفصیل و تحقیق کے ساتھ دے چکے ہیں،رہی بات امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی ،سو اس میں یہ یقین نہیں کہ وہ ’’مَن گھڑت ‘‘ فضائل کون سے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب جب تک یہ ثابت نہ کریں کہ ان ’’مَن گھڑت ‘‘ فضائل سے وہی مراد ہیں، جو ہم نے سابق میں احادیث کی معتبر کتب سے محدثین کرام کی تحسین و توثیق کے ساتھ ذکر کیے ہیں،اس وقت تک ان کا مدعا ثابت نہیں ہو گا اور یہ ثابت کر نے کے لیے ڈاکٹر صاحب کو بلا مبالغہ صدیاں در کار ہیں۔ لیکن ان کی سہولت کے لیے ہم خود ہی ثابت کردیتے ہیں کہ اس سے مراد وہ فضائل نہیں جو ہم نے ذکر کیے ہیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت میں متعدد موضوع روایات اس کے علاوہ ہیں، جو ہم ذکر کر چکے ، جیسا کہ حافظ ذہبی کی ’’سیر الأعلام ‘‘ کے حوالے سے اکیس روایا ت کا حوالہ گزرا ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی مراد بھی وہی دیگر مو ضوع روایات ہیں ، نہ کہ وہ جو ہم نے ذکر کیں ، دلیل اس کی یہ ہے کہ ہماری ذکر کردہ روایا ت کو خود امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے ’’مسند أحمد‘‘ اور ’’کتاب فضائل الصحابۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے ،اگر ان کی مراد یہی روایات ہیں، تو پھر امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے خود کیوں ان فضائل کو ذکر کیا ؟

ڈاکٹر صاحب نے ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ تو ذکر کیا تھا:

’’ولاخلاف أن أبا سفیان ومعاویۃ أسلما في فتح مکۃ سنۃثمان ‘‘.

لیکن ابن قیم کا یہ فیصلہ نظر انداز کر گئے کہ:حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت کی متعلقہ احادیث کذب محض ہیں: 

’’ومن ذلک الأحادیث في ذم معاویۃ رضي اللہ عنہ، وکل حدیث في ذمہ فھو کذب‘‘. (المنار المنیف في الصحیح والضعیف، ص:۱۱۷)

یہ ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے صحیح حالات۔ ان میں سے بہت سے گوشے ابھی تفصیل طلب ہیں۔ عام قارئین کو یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر ،عظیم المرتبت صحابی رسول ہیں، ۷ھ میں مشرف با سلام ہوئے۔ صحیح احادیث کی روشنی میںآپﷺ سے ان کے حق میں کئی دعائیں منقول ہیں۔ ان کا شمار سرِ فہرست ’’کاتبین وحی ‘‘ میں ہوتا تھا۔ حضرت عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں بیس (۲۰) سال تک شام کے ’’امیر ‘‘( گورنر) رہے۔ اس کے بعد بیس(۲۰) سال تک ’’خلیفہ ‘‘ رہے ،کم وبیش آدھی دنیا پر (اسلامی نظام نافذ کرکے )حکومت کرنے کے بعد ۶۰ھ میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوکر دارِ بقاء کی طرف منتقل ہو گئے۔

آراء و افکار