دیسی سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

(۵) سیکولر ریاست خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہوتی ہے 

سیکولر لوگ اکثر یہ راگ الاپتے بلکہ اس راگ کے ذریعے اہل مذہب پر رعب جمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو ’سیکولرازم کا مطلب ریاست اور مذہب میں جدائی ہے اور بس، سیکولر ریاست کا کوئی اخلاقی ایجنڈہ (دین) نہیں ہوتا اور یہ خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہوتی ہے‘۔ اس دعوے کا مقصد یہ ثابت کرنا بلکہ دھوکہ دینا ہوتا ہے کہ (۱) چونکہ سیکولر ریاست ایک پوزیٹو (positive، حقیقت جیسی کہ وہ ہے ) ریاست ہوتی ہے نہ کہ نارمیٹو (normative، حقیقت جیسی کہ اسے ہونا چاہئے )، (۲) اسی لئے سیکولر ریاست کسی تصور خیر کی بیخ کنی نہیں کرتی، (۳) بلکہ تمام تصورات خیر کے فروغ کے یکساں مواقع فراہم کرتی ہے، (۴) لہذا ریاست کو پوزیٹو (سیکولر، یعنی غیرجانبدارانہ) بنیاد پر قائم ہونا چاہئے نہ کہ مذہبی بنیاد پر کیونکہ مذہب خیر کے معاملے میں جانبدار ہوتا ہے اور اپنے مخصوص تصور خیر سے متصادم تمام تصورات کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا۔ سیکولر ریاست کی اس غیر جانبداریت کے دعوے کو سیکولر لوگ ایک عرصے سے دھرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے جواب میں عام طور پر اہل مذہب یہ کہتے ہیں کہ ’ریاست کو خیر کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں بلکہ جانبدار ہونا چاہئے ‘ یا یہ کہ ’ اسلامی ریاست سیکولر ریاست کی طرح غیر جانبدار نہیں بلکہ خیر کے معاملے میں جانبدار ہوتی ہے اور یہ اچھی بات ہے ‘ وغیرہ۔ مگر اس قسم کے تمام جوابات یہ فرض کرلیتے ہیں گویا سیکولر ریاست واقعی ’ہر خیر‘ کے معاملے میں ’غیر جانبدار‘ (neutral) ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے عین برعکس ہے، ایک سیکولر ریاست نہ صرف یہ کہ ’ اپنا مخصوص اخلاقی ایجنڈہ ‘ رکھتی ہے اور اس مخصوص تصور خیر کی طرف جانبدار ہوتی ہے بلکہ ’دیگر تمام تصورات خیر کو جانچنے کیلئے ایک انتہائی ڈاگمیٹک اخلاقی پیمانہ ‘ بھی رکھتی ہے اور اسی بنیاد پر یہ ’ان دیگر تصورات کی بیخ کنی‘ کرتی چلی جاتی ہے، لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ ساری واردات وہ ’پوزیٹوازم، معروضیت اور غیر جانبداریت‘ کے پردوں میں ہی کرجاتی ہے، اور مذہبی حضرات ان پردوں کو چاک کرکے سیکولر لوگوں کا گھناؤنا چہرہ سامنے لانے کے بجائے ان کی پچ پر ہی کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔ بظاہر معصوم دکھائی دینے والے اس دعوے میں کئی خطرناک وارداتیں چھپی ہوئی ہیں، یہاں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ 

سیکولر لوگوں کا یہ دعویف کہ سیکولر ریاست کا کوئی اخلاقی ایجنڈہ (ٹھیک اور غلط کا تصور و پیمانہ ) نہیں ہوتا‘ اپنی ذات میں متناقض (self-contradictory)دعوی ہے۔ درحقیقت یہ دعوی اس قدر مضحکہ خیز ہے کہ اسے رد کرنے کے لیے کسی پیچیدہ دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔ ان عقلمندوں سے کوئی پوچھے کہ کیا بذات خود یہ تصور کہ ’مذہب کو ریاست سے الگ ہونا ’’چاہئے‘‘‘ (لفظ چاہئے پر فوکس رہے) ایک اخلاقی چوائس اور ترجیح کا معاملہ نہیں؟ پھر یہ کہنا کہ ’مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود رکھنا ’’چاہئے‘‘ ‘ (لفظ چاہئے پر توجہ رہے) ٹھیک اور غلط کی ایک مخصوص چوائس نہیں؟ ظاہر ہے تمام لادینی نظرئیے اس اخلاقی ترجیح کے بھی قائل نہیں، مثلاً مارکسزم اپنی اصل شکل میں اس انفرادی مذہبی آزادی دینے کا بھی روا نہیں، تو یہ انفرادی مذہبی آزادی کا حق ایک اخلاقی ترجیح ہی ہوئی نا؟ پھر یہ تصور کہ ’اجتماعی نظم زندگی مذہب کے سوا کسی دوسری بنیاد (مثلاً ہیومن رائٹس) پر قائم ہونا ’’چاہئے‘‘‘ صحیح اور غلط کا ایک مخصوص تصور نہیں؟ زیادہ سے زیادہ کوئی یہی کہہ سکتا ہے نا کہ یہ تصور اسے بوجوہ بھلا معلوم ہوتا ہے، مگر کیا اسکا انکار کرسکتا ہے کہ یہ ایک اخلاقی ترجیح کا معاملہ ہی ہے؟ کیا ہیومن رائٹس سے نکلنے والے تصور خیر کو دیگر تمام تصورات خیر پر ’’فوقیت دینا‘‘ ایک اخلاقی ترجیح نہیں؟ پھر کیا دنیا کے تمام تصورات خیر کو ہیومن رائٹس کی کسوٹی پر ’’جانچنا ‘‘ اور اس ہی کسوٹی پر پرکھ کر ان کے ’’ٹھیک یا غلط ہونے کا فیصلہ صادر کرنا‘‘ بذات خود خیروشر کا ایک پیمانہ وضع کرلینا نہیں ہے؟ درحقیقت سیکولرازم کے بارے میں اس قسم کے دعوے وہی شخص کر سکتا ہے جسے سیکولرازم کے ڈسکورس کے بارے میں کوئی خبر ہی نہ ہو۔ 

اب ذرا آگے بڑھ کر مزید باریکی سے انکے دعوے کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب سیکولر لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ رکھ کر ایسے قانونی نظام پر ریاست کی تشکیل کی جانی چاہئے جو خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہو کر تمام تصورات خیر کو پنپنے کے مواقع فراہم کرے، تو ایسا قانونی نظام انکے خیال میں ہیومن رائٹس فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ مگر ہیومن رائٹس کے مطابق اصل تصور خیر ’فرد کی آزادی ‘ (یعنی ’حق کی خیر پر فوقیت ہونا‘) ہے، لہٰذا اس کے مطابق دنیا کا ہر وہ تصور خیر جو ’فرد کی اس صلاحیت کہ وہ جو چاہنا چاہے چاہ سکے اور اسے حاصل کرسکے‘ پر قدغن لگاتا ہے وہ غیر اخلاقی، غیرعقلی و غیر فطری تصور ہے اور اسی لئے اس کی بذریعہ قوت سرکوبی کرنا لازم ہے۔ معلوم ہوا کہ ہیومن رائٹس پر ایمان لانا غیر جانبداری کا رویہ اختیار کرنا نہیں بلکہ بذات خود خیر کے ایک مستقل مابعد الطبیعیاتی تصور (فرد کی آزادی کے حصول) پر ایمان لانا ہے ، اور ہیومن رائٹس پر مبنی سیکولر (جمہوری دستوری ) ریاست لازماً اسی تصور خیر کے تحفظ اور فروغ کی پابند ہوتی ہے (اور یہی اسکا ’دین ‘ ہوتا ہے)۔ لہٰذا اسے ’پوزیٹوازم اور غیر جانبداریت‘ سے تعبیر کرنا دھوکہ دھی کے سوا اور کچھ نہیں۔ 

چنانچہ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مغرب اور سیکولر طبقے کا یہ دعوی کہ لبرل سیکولر ریاست خیر کے معاملے میں غیر جانبدار اور اسی لئے Tolerant ہوتی ہے (اسکی قلعی بھی ہم آگے کھولے دیتے ہیں) ایک جھوٹا دعوی ہے کیونکہ خیر کے معاملے میں غیر جانبداری کا رویہ ممکن ہی نہیں۔ درحقیقت اس دنیا میں غیر جانبداریت (neutralism) بمعنی ’عدم رائے‘ (no position) کا کوئی وجود نہیں، بلکہ غیر جانبداری کے دعوی کا اصل مطلب ہوتا ہے ’کسی اصول کے مطابق رائے دینا یا فیصلہ کرنا‘ (غیرجانبداریت، معروضیت ، پوزیٹوازم، عقلیت، فطرت وغیرہ جیسے الفاظ محض اپنے مخصوص مفروضہ مقاصد و نظریات کو چالاکی کے ساتھ فروغ دینے اور مدمقابل کیلئے قابل قبول بنانے کا ایک مناظرانہ طریقہ کار ہے اور بس)۔ جو لوگ ان معنی میں غیر جانبداری کا دعوی کرتے ہیں گویا وہ تمام اصولوں سے ماوراء کہیں خلا میں معلق ہو کر اپنی رائے دے رہے ہیں فی الحقیقت وہ مہمل تصورات کا شکار ہیں، کیونکہ اس دنیا میں ایسا کوئی مقام نہیں جہاں پہنچ کر انسان غیر جانبدار ہوجائے۔ مثلاً یہ کہنا کہ ’فلاں مسئلے میں آپ مسلمان کے بجائے غیر جانبدار ہو کر غور کریں ‘ محض بے وقوفی کی بات ہے، کیا اسلا م سے باہر نکل کر انسان کافر ہوتا ہے یا غیر جانبدار ؟ کیا کفر بذات خود ایک جانبدارانہ مقام نہیں؟ [ائمہ علم الکلام نے معتزلہ کے ’المنزلۃ بین المنزلتین‘ (ایمان و کفر کے ما بین ایک امکانی غیر جانبدار پوزیشن) کے عقیدے کی بیخ کنی اسی گمراہی سے امت کو بچانے کیلئے فرمائی۔ عبدیت سے باہر نکل کر انسانی عقل غیر جانبدار نہیں بلکہ خواہشات اور شیاطین کی غلام ہو جاتی ہے جیسا کہ ارشاد ہوا فان لم یستجیبوا لک فاعلم انما یتبعون اھواۂم ومن اضل ممن اتبع ھواہ بغیر ھدی من اللہ  (پس اے رسول اگر وہ قبول نہ کریں آپ کے ارشاد کو تو جان لو کہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیرو کارہیں اور اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوگا جو خدائی ہدایت کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرے)، مزید فرمایا لاتطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ھواہ  (اس شخص کی اطاعت نہ کرجس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور جس نے اپنے خواہش نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے) ، نیز من یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطاناً فہو لہ قرین (جو کوئی رحمن کے ذکر سے منہ موڑتا ہے تو ہم اسکے اوپر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اسکا دوست بن جاتا ہے)]۔ 

(۶) سیکولر ریاست کسی تصور خیر کی بیخ کنی نہیں کرتی 

درج بالا بحث کے بعد یہ غلط فہمی خود بخود صاف ہوجانی چاہئے کیونکہ اپنے دائرہ عمل میں سیکولر ریاست صرف انہی تصورات خیر اور حقوق کو برداشت کرتی ہے جو اسکے اپنے تصور خیر (ہیومن رائٹس، یعنی ہیومن کی آزادی) سے متصادم نہ ہوں، اور ایسے تمام تصورات خیر جو ہیومن رائٹس سے متصادم ہوں انکی بذریعہ قوت بیخ کنی (suppress) کر دیتی ہے۔ ان حقائق کو چند آسان مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کریں ہندو اپنی مذہبی روایات کی بنیاد پر ’ستی کرنے‘ یا معاشرے کو اپنے مخصوص ’ذات پات کے نظم‘ پر تشکیل دینا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا سیکولر ریاست ان اعمال کی اجازت دے گی؟ ہرگز نہیں، کیوں؟ اسی لیے نا کہ ’ہیومن رائٹس قانون انہیں ان اعمال کی اجازت نہیں دیتا کہ یہ اعمال و ترجیحات بنیادی انسانی حقوق کے فلسفے سے متصادم ہیں‘۔ تو کیا سیکولر ریاست ان اعمال کی اجازت نہ دے کر بلکہ بذریعہ جبر، قوت و قانون انہیں بند کر کے ہندو تصور خیر کی بیخ کنی نہیں کرتی؟ اتنا ہی نہیں ذات پات کے نظام کی تشکیل منہدم کرکے سیکولر ریاست ہندو انفرادیت کے فروغ کا راستہ بند کردیتی ہے اور اس طرح ہندو انفرادیت کی بھی بیخ کنی دیتی ہے کیونکہ ہندو ں کے خیال میں ذات پات کے معاشرتی نظم کے بغیر وہ انفرادیت جو انکے عقائد کے ساتھ ہم آہنگ ہے کبھی دریافت نہیں کی جاسکتی۔ دوسرے لفظوں میں سیکولر ریاست ہیومن رائٹس کے نام پر ہندو رسوم ہی نہیں بلکہ ہندو عقائد کو مہمل بنا کر انکی بھی بیخ کنی کرڈالتی ہے۔ اسی طرح فرض کریں ایک مسلمان لڑکی کسی کافر سے شادی کرنا چاہتی یا مسلمان لڑکا بدکاری کرنا یا کسی لڑکے کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے، ظاہر ہے اس معاملے میں اسلامی معاشرہ وریاست ہرگز اس کی اجازت نہیں دے گی، مگر چونکہ ہیومن رائٹس قانون ان افعال کو ہیومن کا حق قرار دیتا ہے لہذا اس ریاست میں افراد کو انکی قانونی اجازت اور ریاستی سرپرستی حاصل ہوگی۔ اگر مسلمان اجتماعیت اس لڑکی اور لڑکے پر اپنا تصور خیر مسلط کرنے کی کوشش کرے گی تو لبرل ریاست ان کے خلاف کاروائی کرکے ان کی سر کوبی کردے گی۔ اب دیکھئے مسلمان چاہتے ہیں کہ ان کے معاشرتی نظم کی بقا جس اجتماعی ڈھانچے میں مضمر ہے اسے تحفظ فراہم کیا جائے مگر سیکولر ریاست عین اسکے برعکس قانون بناتی ہے۔ کیا اسکے نتیجے میں اسلامی معاشرت اور نتیجتاً اسلامی انفرادیت انتشار اور تحلیل کا شکار نہیں ہوجائے گی؟

یہاں بنیادی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ہیومن رائٹس ’ہیومن (خود کو قائم بالذات سمجھنے والی یعنی خدا کی باغی انفرادیت) کے حقوق‘ (right of HUMAN) کا تحفظ کرتے ہیں نہ کہ ’مسلم (ہندو یا عیسائی) انفرادیت کے حقوق‘ (right of MUSLIM)۔ دیکھئے مسلم مرد کی مرد سے شادی ’ہیومن کا حق‘ تو ہے مگر ’مسلمان کا حق نہیں‘، سوال یہ ہے کہ جب ان دوقسم کی انفرادیتوں کے حقوق میں مخاصمت ہوگی تو کیا سیکولر ریاست کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتی ہے یا نہیں؟ نیز کس کو کس پر ترجیح دیتی ہے؟ درحقیقت اسی سوال کے جواب میں سیکولر ریاست کی ’جانبداریت‘ کی ساری واردات چھپی ہوئی ہے۔ تو جب یہ ریاست ’ہیومن رائٹس‘ (ایک مخصوص تصور انفرادیت و خیر) کو دیگر تصورات خیر پر فوقیت دیتی ہے نیز اسی پیمانے پر انہیں جانچتی ہے تو کیا یہ بذات خود ایک مخصوص تصور خیر کی طرف جانبداریت کا رویہ نہیں؟ پس خوب یاد رہے کہ اپنے مخصوص خیر کے معاملے میں لبرل جمہوری ریاست بھی انتہائی راسخ العقیدہ (dogmatic) اور intolerant ہوتی ہے اور اپنے اس مخصوص تصور خیر سے متصادم کسی نظرئیے کی بالادستی کو روا نہیں رکھتی۔ چنانچہ مشہور لبرل مفکر رالز (Rawls) کہتا ہے کہ مذہبی آزادی کو لبرلزم کے لئے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، وہ مذہبی نظریات جو لبرل آزادیوں کا انکار کریں ان کو عملاً کچل دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی وبا کو ختم کرنا ضروری ہوتاہے۔ اسی بنیاد پر ہیومن رائٹس کی چمپئن یورپی اقوام نے کروڑوں ریڈ انڈین اور دیگر اقوام کا قتل عام روا رکھا (جان لاک اور جیفرسن کے الفاظ میں ریڈ انڈین بھینسے اور بھیڑئیے ہیں ) اور آج بھی مجاہدین کو قتل کیا جا رہا ہے۔ 

(۷) سیکولر ریاست تمام تصورات خیر کے فروغ کے مساوی مواقع فراہم کرتی ہے 

اب تک کی بحث کے بعد اس نکتے پر زیادہ تفصیلی گفتگو کی ضرورت تو نہیں البتہ چند ایک مزید پہلووں سے بھی اس دعوے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اصولی بات یہ ہے کہ افراد کی ذاتی زندگیوں میں وہی اقدار ، کیفیات، صلاحیتیں و اعمال پھلتے پھولتے ہیں جن کے اظہار کے اجتماعی زندگی میں مواقع موجود ہوں، جنہیں اجتماعی زندگی میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو، نیز جن کے حصول و عدم حصول پر اجتماعی زندگی میں کامیابی و ناکامی کا انحصار ہو۔ ایسی اقدار جو اجتماعی زندگی میں لایعنی و مہمل تصور کی جاتی ہوں یہ سمجھنا کہ لوگوں کی نفرادی زندگی میں پھلتی پھولتی رہیں گی ایک غیر عقلی بات ہے۔ جس ذاتی زندگی کا اجتماعی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو آہستہ آہستہ مہمل بن کر اپنی موت آپ ہی مر جایاکرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب ہمارا اجتماعی سیکولر نظام فرد کو علم دین کے حصول کیلئے کسی درجے میں بھی مجبور نہیں کررہا تو دینی علوم کا حصول افراد کی نجی زندگیوں میں غیر متعلقہ ہوتا جارہا ہے مگر سائنسی علوم ہر کسی کا مطمع نظر بن رہا ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ جدید اجتماعی زندگی اسی علم کے ارد گرد تعمیر کی گئی ہے۔ 

اب ذاتی اور اجتماعی زندگی کے اس باہمی تعلق کو سامنے رکھ کر اس بات پر غور کریں کہ سیکولر ڈسکورس کا ایک اہم تقاضا آخرت کی اقداری حیثیت کا انکار کردینا بلکہ اسے لایعنی و مہمل قرار دینا بھی ہے۔ چنانچہ سیکولر ڈسکورس کہتا ہے کہ معاشرتی و ریاستی صف بندی میں یہ سوال کہ ’افراد اس معاشرے میں زندگی بسر کرنے کے بعد جنت میں جائیں گے یا جہنم میں‘ ایک لایعنی و مہمل سوال ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مسئلہ کہ آیا ’افراد کو معاشرے میں زیادہ نیکیاں اور کم گناہ کمانے کے مواقع میسر ہیں‘ ایک بے کار سوال ہے، کیونکہ جونہی ’نیکی اور بدی کے مواقع‘ کا سوال اٹھایا جائے گا مذہب فورا ذاتی زندگی سے نکل کر اجتماعی میدان میں آجاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس ریاست کے نزدیک خود ’نیکی و بدی ‘ ہی لایعنی تصورات ہیں۔ اب ظاہر ہے اسلامی نکتہ نگاہ سے آخرت کی اقداری حیثیت بنیادی نوعیت کی ہے، یعنی یہاں معاشرتی و ریاستی صف بندی میں اصل اور فیصلہ کن سوال ہی یہ ہے کہ افراد کو جنت میں جانے کے مواقع زیادہ فراہم ہونگے یا جہنم میں؟ مگر مذہب کو فرد کا نجی مسئلہ قرار دینے کا مطلب یہ اعلان کرنا ہے کہ ’مرنے کے بعد جنت و جہنم میں جانا‘ اجتماعی نظم کی تشکیل میں بے کار و بے معنی سوال ہے، جبکہ اسلام میں سب سے اہم اورپہلا سوال ہی یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی شخص کہاں جائیگا ۔ اب دیکھئے مذہب اجتماعی نظم کے قیام کیلئے جس شے کی اقداری حیثیت و فوقیت کو کلیدی سمجھتا ہے سیکولر ڈسکورس اسے لایعنی قرار دیکر نکال باہر کردینا چاہتا ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ سیکولر اجتماعی نظم بھی قائم ہوجائے مگر لوگوں کی زندگیوں میں آخرت بطور قدر بھی پنپتی رہے؟ صرف ایک فاتر العقل انسان ہی ایسا امکان سوچ سکتا ہے۔ جس خاندان کے کسی اجتماعی عمل اور فیصلے میں تقوی و پرہیزگاری سرے سے متعلقہ سمجھے ہی نہ جارہے ہوں آخر وہاں بچے کیونکر تقوی و پرہیزگاری اختیار کرتے رہنے کو ترجیح دیتے رہیں گے؟ اسے کہتے ہیں کہ people seek what the system rewards ، یعنی افراد اس شے کی تگ و دو کرتے ہیں جسے نظام قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ محض نظریاتی باتیں نہیں، بلکہ دنیا میں جہاں بھی سیکولر جمہوری اقدار (آزادی ، مساوات اور ترقی) کا فروغ ہوا، ان معاشروں کے افراد کی زندگیوں میں فکر آخرت اور مرنے کے بعد کی زندگی کا سوال بے کار ہوتا چلا گیا اور لذت پرستانہ فکر معاش فکر معاد پر غالب آگیا۔ درحقیقت افراد کی نجی زندگی میں وہی اقدار پنپتی ہیں جو اجتماعی زندگی میں قابل قدر سمجھی جارہی ہوتی ہیں، جن ذاتی اقدار کا اجتماعی زندگی میں کامیابی و ناکامی سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو آخر فرد کیونکر انہیں اختیار کرتا چلا جائے گا؟ لہذا یہ کہنا کہ سیکولر نظم ’ہر تصور خیر‘ کے فروغ کے مساوی مواقع فراہم کرتی ہے ایک سفید جھوٹ ہے۔ درحقیقت لبرل معاشروں میں سیکولر ریاست جس نظام زندگی کو جبراً مسلط کرتی ہے وہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام زندگی ہے جسکے نتیجے میں سوائے ہیومن کے تمام اجتماعیتیں لازماً تحلیل ہو جاتی ہیں اور دیگر تمام نظام ہائے زندگی پر عمل کرنے کا دائرہ کار کم سے کم تر ہوتے ہوتے ختم ہو جاتا ہے۔ 

(۸) سیکولر ریاست پرامن مذہبی بقائے باہمی ممکن بناتی ہے 

اس ضمن میں سیکولر لوگ بڑے طمطراق سے یہ بھی کہتے ہیں کہ سیکولر ریاست مذہبی اختلافات (مثلا شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی) کو ختم کرکے انکے پرامن بقائے باہمی کو ممکن بناتی ہے، اور ہمارے چند دینی لوگ بھی اس جھانسے کا شکار ہوکر اسے سیکولر ریاست کی کوئی ’خوبی ‘ اور اہل مذہب پر اس کا کوئی ’احسان ‘ تصور کرنے لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیکولر ریاست مذہبی نزاعات کا یہ حل مذہب کی اجتماعی و ذاتی اقداری حیثیت کو ’قائم و دوائم ‘ رکھتے ہوئے ’اس کے اندر‘ ہی طے کردیتی ہے یا مذہب کو ’لایعنی و مہمل‘ بنا کر حل کرتی ہے؟ اگر یہ حل وہ مذہب کی اقداری حیثیت کو لایعنی، غیرضروری و مہمل بنا کر کرتی ہے جیسا کہ امر واقعہ ہے تو اس میں اہل مذہب کیلئے خوش کن بات کیا ہے؟ ظاہر ہے اس دنیا میں کوئی بھی انسان بے کار و لایعنی شے کیلئے نہیں لڑتا، چنانچہ سیکولر ریاست کے قیام و بقا کے نتیجے میں مذہبی ترجیحات کی اقداری حیثیت چائے و کافی کی ترجیح سے زیادہ کچھ نہیں رہتی۔ کیا اسلام کو ’دین‘ سمجھنے والوں کے لیے یہ قابل قدر بات ہے یا تشویش کا مقام ؟ دوسرے لفظوں میں سیکولر ریاست کا جو فعل و خصوصیت اہل مذہب کے لیے انتہائی قابل مذمت ہونا چاہئے، چند سادہ لوح لوگ اسے اس کی خوبی فرض کرلیتے ہیں۔ 

اسی طرح جب یہ کہا جاتا ہے کہ ’سیکولر ریاست حصول مذہب کے معاملے میں کسی پر جبر نہیں کرتی‘ تو فی الحقیقت اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مذہب اِس نظم میں مہمل و لایعنی قرار دیا گیا ہے کیونکہ نظام اس ہی شے کے حصول کے لیے جبر کرتا ہے جسے وہ قابل قدر سمجھتا اور بنانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکولر ریاست فرد پر سائنسی (بشمول فزیکل و سوشل سائنسی) علوم کے حصول کیلئے بھرپور جبر کرتا ہے کہ اسکے بغیر وہ اس نظام میں کامیاب نہیں ہوسکتا جبکہ مذہب اسکے نزدیک محض کھیل تماشا ہوتا ہے۔ مگر ہمارے سادہ لوح مذہبی لوگ سیکولر نظام کی فراہم کردہ چند غیر متعلقہ مذہبی آزادیوں سے یہ دھوکہ کھا جاتے ہیں گویا یہ نظام مذہب کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ چنانچہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ سیکولر ریاست ہر مذہب کے چند انفرادی شعائر کی ادائیگی کا حق اس لئے نہیں دیتی کہ یہ انہیں ’قابل قدر یا اہم‘ سمجھتی ہیں بلکہ اس لئے دیتی ہے کہ یہ انہیں ’مہمل ، لایعنی، اور غیر متعلقہ‘ سمجھتی ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ہمارے یہاں چند ایسے مفکرین (مثلاً وحید الدین خان صاحب) بھی پیدا ہوگئے ہیں جن کے خیال میں اسلام پھیلتا ہی سیکولر نظام میں ہے، گویا زہر ہی ان کے نزدیک تریاق ہے۔ ایسے لوگ یا تو مذہب کو محض چند رسوم عبادت تک محدود سمجھتے ہیں اور یا پھر یہ سیکولر لوگوں کے دعوائے غیر جانبداریت سے انتہائی حد تک متاثرہیں اور اسی وجہ سے اپنے تئیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ چونکہ اسلام حق ہے لہٰذا جونہی اسے یہ ’نیوٹرل‘ موقع ہاتھ آئے گا یہ اپنا لوہا منوالے گا۔ لیکن اس قسم کے استدلال کو ان حضرات کی سادہ لوحی پر تو محمول کیا جا سکتا ہے مگر علمی دنیا میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ 

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سیکولرریاست کے غیر جانبداریت کے اس جھوٹے دعوے سے متاثر ہوکر تمام مذہبی گروہ اور طبقے اس کے ہاتھوں خوشی خوشی اپنی جڑیں کٹوالینے پر تیار ہوجاتے ہیں؛ یعنی بریلوی، دیوبندی، سلفی، شیعہ سب ایک ایسی انفرادیت (ہیومن) اور اجتماعیت (سول سوسائٹی) کے غلبے کو قبول کرلینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں جو ان سب کی نفی اور بیخ کنی کردیتی ہے مگر یہ سادہ لوح لوگ اسے اپنے ساتھ ’برابری، مساوات، عدل و انصاف ‘ کا معاملہ اور ’اپنی بقا کا غماز ‘ سمجھتے رہتے ہیں، فیاللعجب۔ اس مقام پر سیکولر لوگ تو کجا خود مذہبی لوگ ہی یہ استدلال پیش کرنے لگتے ہیں کہ کیونکہ یہ تمام مذہبی گروہ آپسی نزاعی کیفیت کا شکار ہیں اور ان کا باہمی رویہ ٹھیک نہیں لہٰذاخود ان گروہوں کے حق میں یہ بہتر ہے کہ اقتدار کی کنجیاں ان کے پاس رہنے کے بجائے کسی غیرجانبدار قوت کے پاس رہیں۔ سوچئے کس قدر عجیب ہے یہ استدلال ، کیا آپسی ناگوار رویوں کو بنیاد بنا کر کسی ایسے تیسرے فریق کو گھر کا مالک بن بیٹھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے جو ہم سب کا استحقاق ملکیت غصب کرکے گھر پر ایسا قانون مسلط کردے جو ہم سب ہی کے خلاف ہو اور ہم سب کی بیخ کنی کردے؟ مستحکم سیکولر ریاستی نظام میں تو مسلم، عیسائی ، ہندو ہونا ہی لایعنی ، مہمل اور غیر متعلقہ شے بن جاتی ہے چہ جائیکہ ان ذیلی شناختوں کی بقا کا تصور کیا جاسکے۔ 

(جاری) 

آراء و افکار