جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

مولانا حافظ محمد رشید

اپریل 2014ء کے الشریعہ میں شائع ہونے والے راقم کے مضمون’’جمہوری و مزاحمتی جدوجہد۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ کی تردید میں جون 2014ء کے الشریعہ میں ڈاکٹر عبدالباری عتیقی صاحب کامضمون شائع ہوا ہے۔9صفحات پرمشتمل مضمون کے پہلے دو صفحات میں راقم کے متذکرہ مضمون پر ’’فردجرم‘‘ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

۱۔محمد رشیدکے مضمون میں جہادی وانقلابی لوگوں کا نقطہ نظربیان کیاگیاہے۔

۲۔یہ نقطہ نظر اول تا آخرغلط ہے۔

۳۔پوری تحریر قرآن وحدیث کے دلائل سے عار ی ہے۔

۴۔پوری تحریر محض جذبات کی شاعری کا اظہار ہے۔

۵۔یہ تحریر ردعمل کی نفسیا ت اورنام نہاد غیرت پر مبنی ہے۔

۶۔یہ دور حاضرکی وہ انقلابی فکر ہے جس میں تباہ کن تشدداوردہشت گردی کومزاحمت اور جہادکا نام دے دیا جاتا ہے۔

۷۔انسانیت کی تاریخ میں جنگ و قتال ایک اضطراری اورہنگامی حالت رہی ہے اور امن ایک مستقل چیز۔محمد رشیدنے جوش جذبات میںیہ ترتیب الٹ دی ہے۔ان کے نزدیک اب جنگ وقتال اور مسلح جدوجہد عین فطری اور مستقل حالت قرار پائی ہے جبکہ پرامن دوراورپرامن جدوجہد اضطراری اور وقتی ٹول قرار پایا ہے۔

ڈاکٹرعتیقی نے اپنے مضمون کے تین صفحات تصور جہادکی’’ مرمت‘‘ اور چار صفحات جمہوریت کی تعریف و دفاع اور خلافت سے لاتعلقی کے اظہارپرسیاہ فرمائے ہیں۔جن لوگوں کی فکری ابتری کا یہ حال ہو کہ قرآن واسلام کے سیاسی اصولوں کی تمام خوبیاں انہیں انگریزکے عطاکردہ ’’جمہوریت‘‘ کے سیاسی نظام میں توبدرجہ کمال نظر آرہی ہوں،لیکن یہی خوبیاں انہیں نبی اکرم ﷺکے عطاکردہ’’خلافت‘‘ کے سیاسی نظام میں نظر نہیں آتیں۔ جمہوریت کے مقابلہ میں خلافت کے سیاسی نظام سے بے تعلقی کااظہاریہ ذہنیت ان الفاظ میں کرتی ہے کہ ’’یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ ایسا نہیں ہے کہ اسلام نے ’’خلافت‘‘ کے نام سے کوئی مخصوص سیاسی نظام قائم کیا ہے‘‘۔ بھلا جوذہنیت نبی اکرم ﷺ کے عطا کردہ اور منہاج نبوت پر قائم ہونے والے خلفائے راشدین کے خلافت کے سیاسی نظام کو یک قلم اسلام سے نکال باہر کرتی ہو،اس ذہنیت کے لیے راقم ایسے نہایت کمتراور حقیر طالب علم پر وہ الزامات لگانا کیسے مشکل ہوسکتاہے جن کا ذکر اوپر کی سطور میں ہوا ہے۔

مضمون نگار کی معقولیت اور دیانت کا اندازہ اس نکتہ سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ راقم نے اپنے مضمون میں علمبرداران جمہوریت پرانتہائی سنگین نوعیت کی جوفردجرم تحریرکی، جناب عتیقی کا مضمون ان انتہائی سنگین جرائم/الزامات کے جواب میں بالکل خاموش ہے۔لیکن جمہوریت پر وارد ہونے والے چند ایسے اعتراضات و نقائص، جن کا ہمارے مضمون میں قطعاً کوئی ذکرتک نہیں، کی زوردار تردیدلکھ مارتے ہیں۔اس زوردار تردیدوتنقید اور جمہوریت کے فرضی دفاع پر چار صفحات سیاہ کردیے جاتے ہیں۔

فرض کریں کہ ایک ’’ملزم‘‘ کے خلاف سنگین دفعات کے تحت کوئی مقدمہ عدالت میں زیرکاروائی ہے۔اس ’’ملزم‘‘کامخالف وکیل دہشت گردی،قتل،اغوااور ڈکیتی وغیرہ کے سنگین جرائم ثابت کرنے کے لیے عدالت میں اس کے خلاف دلائل دیتا ہے تو اس ’’ملزم‘‘کا وکیل ان سنگین جرائم کے جواب اوردفاع میں ایک لفظ بھی عدالت میں نہیں کہتا بلکہ اپنے موکل/ ’’ملزم‘‘کے خلاف سائیکل چوری،کم تولنے، ٹریفک کا اشارہ توڑنے وغیرہ الزامات (جن کا مقدمہ میں کوئی ذکرہی نہیں)کا نہایت مدلل، زورداراور دندان شکن جواب /دفاع عدالت میں پیش کرتا ہے۔اب ایسے وکیل کی دیانت اور معقولیت پرجتنااعتبارکیاجاسکتاہے،اپنی زیر بحث تحریر کے ذریعہ ڈاکٹر عتیقی کا رویہ اتنا ہی معتبر اور معقول ثابت ہوتا ہے۔کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ ڈاکٹر عتیقی نے راقم کے مضمون کا جواب دینے کے لیے ’’جمہوریت ‘‘پر جن اعتراضات کا جواب عنایت فرمایا، ان اعتراضات کا راقم کے زیربحث مضمون میں ذکر تک نہ ہے۔

ڈاکٹر عتیقی علمبرداران جمہوریت پر راقم کے الزامات کے دفاع میں جس ’’معقولیت اور دیانت ‘‘کامظاہرہ کرتے ہیں، بالکل اسی ’’معقولیت اور دیانت ‘‘کا اظہار آنجناب کے ان دیگر الزامات میں ہمیں نظر آتا ہے ،جو انہوں نے راقم کے زیربحث مضمون پر عائد فرمائے ہیں۔

ایک تجزیہ کار/تنقید نگارکی علمی دیانت اس چیزکاتقاضا کرتی ہے کہ فریق مخالف پر جو جوالزامات لگائے جارہے ہیں،ان الزامات/مفروضات کو وہ فریق مخالف کی تحریرکے حوالہ جات سے ثابت کرے اور پھرعلمی دلائل سے ان کا تجزیہ ومحاکمہ کرے۔لیکن ڈاکٹرعتیقی صاحب کا مضمون اپنے الزامات/دعووں اورمفروضات کوثابت کرنے میں اس معقول اور صائب روش سے عاری نظرآتا ہے۔موصوف نے اپنی تحریر میں جابجامغالطہ آمیزیاں پیدا فرمائی ہیں اور پھر اپنی ان خود تراشیدہ مغالطہ آمیزیوں کی تردید میں زوراستدلال کا استعمال فرمایا ہے۔

آنجناب کی دیانت کا حال یہ ہے کہ وہ راقم کے نقطہ نظرکو پورے زوروشور سے غلط قرار دے رہے ہیں ،اسے نرا جذباتی اور قرآن وسنت کامخالف قرار دے رہے ہیں مگر مجال ہے اپنے 9صفحاتی مضمون کے کسی ایک پیرے ہی میں وہ راقم کے نقطہ نظرکا نچوڑاور خلاصہ بیان کردیں۔تاہم انہوں نے راقم کے مضمون کے بعض نامکمل اقتباسات سے اپنی مرضی کا مکمل مفہوم اخذکیااور پھر اس کی تردید میں صفحے سیاہ کرنے میں نہایت مہارت کا مظاہرہ فرمایا۔ذیل میں ہم اپنے 9صفحاتی مضمون (جمہوری ومزاحمتی جدوجہد۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ)میں بیان کیے گئے نقطہ نظر کا خلاصہ بیان کررہے ہیں:

۱۔ظالم، بے انصاف، بے رحم ، بے حس ،غریب کُش اور کمزوروں کا استحصال کرنے والے معاشروں میں مسلح بغاوت یا مزاحمت ظلم،جبر،بے رحمی اور بے انصافی کی لعنتوں کا ردعمل ہے۔جوطاقت و قوت کے زعم اور تکبر میں مبتلا ایوانوں کے ردعمل میں جنم لیتا ہے ۔

۲۔ہم نہ ہی سیاسی حکومت کا قیام بذریعہ انتخاب(Election) کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے دینی و دنیاوی استحصال پر احتجاج کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ہمارا اصل دکھ تو یہ ہے کہ ان ٹولز کو ضرورت اور کام چلانے کے ٹولز کے عام مقام پر رکھنے کی بجائے ہمارے قائدین اور دینی زعماء انہیں انسانیت کی یافت اور مسائل کا واحد حل بناکر پیش کررہے ہیں۔

۳۔آج ساری دنیا کے شیاطین اور مقتدرطبقات (ابلیس کی نمائندہ عالمی طاقتوں )نے دنیا بھرمیں جمہوریت کو اپنی محبوب ترین لونڈی بنایا ہوا ہے۔یہ عالمی طاقتیں اپنی اس لونڈی کے ذریعے اسلام کی بدترین مخالفت کررہی ہیں، اسلام،اہل اسلام، مشاہیر اسلام کا مذاق اڑا رہی ہیں اورمسلمانوں کے محبوب ترین شعائر یعنی رسول رحمتﷺ اور قرآن حکیم کی بدترین توہین کی مرتکب ہورہی ہیں۔ابلیس،اس کی آلہ کارعالمی طاقتیں اور ان عالمی طاقتوں کے آلہ کارمسلم حکمرانوں نے ساری دنیا میں فتنہ اور فساد کا بازاد گرم کیا ہوا ہے۔ یہ ابلیسی ٹولہ انسانیت کی روح کا گلا دبا رہا ہے، انسان کی روحانی زندگی کے لیے یہ ٹولہ ایک عذاب بنا ہوا ہے۔درحقیقت یہ ٹولہ بدترین دہشت گرد ہے، جس نے اپنے اختیارات ،وسائل ،جدید جنگی ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ سے نوع انسانی کو ایک دہشت اور خوف میں مبتلا کیاہوا ہے۔ یہ ابلیسی ٹولہ نہ صرف انسان اور آخرت(انسان کی ابدی مسرت) کے درمیان ایک دیوار بن کرکھڑا ہوگیا ہے بلکہ ابلیس لعین کا یہ پیروکار ٹولہ انسان اور اس کی دنیا کی نہایت محدود زندگی کی مسرتوں کے درمیان بھی ایک دیوار بن کر کھڑا ہے۔

۴۔حقیقت یہ ہے کہ ابلیس نے ’’جمہوریت اور آزادی‘‘ کے عنوان سے اجتماعی سطح پرانسانیت کا جو بدترین استحصال کیا ہے اور انسانیت کو زندگی کی بنیادی ترین ضرورتوں سے جس طرح محروم کیا ہے، ماضی کی بدترین بادشاہتوں کے دور میں بھی اجتماعی سطح پر انسانیت کا اس طرح گلا دبانا ناممکن تھا۔ 

۵۔جب دنیا کا منظرنامہ یہ صورتحال پیش کررہا ہو کہ پوری دنیا میں’’جمہوریت ‘‘ کے نام پر انسانیت کی بدترین تذلیل اور استحصال ہورہا ہو۔ساری دنیا کی حکومتیں جمہوریت کا نام لے کراپنے عوام کی ’’روح اور جسم‘‘ ہردوکا slowly & steadily گلا دبارہی ہوں۔ابلیس کی آلہ کار عالمی طاقتیں اسلام اور جمہوریت کو ایک دوسرے کی ضد ثابت کرنے پر تلی ہوں۔دنیا کے ہر کونے میں ’’جمہوریت ‘‘ کے نام پر اسلامی اقداراور اس کی علامتوں (حیا، پردہ، حجاب،داڑھی)کو چن چن کر ختم کرنے کی کوششیں ہورہی ہوں اورجہاں بس چلے (مثلاً فلسطین، چیچنیا، کوسوو، بوسنیا، میانمار، کشمیر، عراق، افغانستان میں) مسلمانوں کو بھی چن چن کرماردیاجائے۔عالمی ابلیسی قوتوں کے آلہ کارحکمران طبقات کومسلم معاشروں میں جمہوریت کے نام پرکرپشن،بددیانتی،بدعہدی، لوٹ مار، قانون شکنی،غریب کا گلا گھونٹنے، ظلم و فساد کا بازارگرم کرنے، تعلیم، صحت،قانون،عدالت،امن غرض ہرشعبہ زندگی کی ’’حیات’’ کا گلا نہایت مکاری، منافقت، سفاکی اور بے حسی سے گھونٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ان مقاصد کے حصول کے لیے عالمی طاقتوں کا ابلیسیت کی تمام طاقتوں سے مسلح ہوکراپنے آلہ کار مسلم حکمرانوں کی مکمل سرپرستی کرنااور بار بار جمہوریت کا راگ الاپنا وہ بدترین فعل ہے جس نے مسلم ممالک میں بدترین فساد،بربادی،تباہی، انارکی کا ایک ناختم ہونے والا منحوس چکر چلایا ہوا ہے۔

۶۔جمہوریت کے نام پر مسلم ممالک کا تعلیمی شعبہ مغربی دہشت گردی کا شکار ہے، ہمارا صحت کا شعبہ ابلیسی دہشت گردی کا شکار ہے، ہمارا عدالتی نظام قانون کے نام پر بے انصافی اورانصاف میں تاخیرکی خوفناک دہشت گردی کا شکار ہے،ہماری معیشت، ہماری معاشرت، ہمارے ذرائع ابلاغ غرض زندگی کا ہر ہر موثروقابل ذکر شعبہ ابلیسی دہشت گردی کا شکار ہے۔اور ہم اس بدترین زوال، اس بدترین دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود۔۔۔اور تسلسل کے ساتھ مسلم معاشروں کے ہر شعبہ زندگی پر مغرب کے ابلیسی فکری و عملی دہشت گردانہ حملوں کی موجودگی میں تنازعات کو صرف’’جہاد بذریعہ غیرمسلح احتجاجی تحریک‘‘میں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ رویہ نہ صرف جہاد بمعنی قتال میں مداہنت کے ارتکاب پر مبنی ہے بلکہ مسلم ممالک اورساری انسانیت کو درپیش ابلیس کے شش اطراف دہشت گردانہ حملوں سے آنکھیں چرانے اور غض بصر کرنے کے مترادف ہے۔

۷۔آج مسلم عوام کو، مسلم اساتذہ کو، مسلم صحافیوں کو، مسلم ذرائع ابلاغ کو، مسلم حکمرانوں کواور مسلم مسلح افواج کو ابلیسیت کے شش اطراف انسانیت کش حملوں سے بچانے کا اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ اان کے فکر و عمل کو ’’ایمان واخلاق‘‘کی ابدی طاقت اور ‘‘جہاد قتال‘‘کی ہنگامی ربانی طاقت سے مسلح کرنے میں ہمارے قائدین اور مفکرین مسلسل، پیہم اور بلاتعطل جدوجہد پر اپنی صلاحیتوں کو مرکوز فرمائیں۔اس جدوجہدسے غفلت اورعدم توجہی نے انسانیت کی روح کو ’’موت و حیات‘‘ کی کشمکش میں مبتلا کیا ہوا ہے۔

۸۔ان جمہوریت پرست درندوں نے براعظم امریکہ کے کروڑوں انسانوں کو چن چن کرجانوروں کی طرح ہلاک کیا۔اور آج تک یہ انسانیت دشمن، ابلیس کے پیروکار، حیا اور اسلام سے دہشت زدہ جمہوری درندے ساری دنیا پر مسلط ہیں۔ اگرجمہوریت نے مغرب کے ان درندہ صفت انسانوں میں کوئی تبدیلی پیدا کی ہوتی (جو Dark Agesمیں بھی بالکل درندوں ہی کی طرح ایک دوسرے کا گلا کاٹتے رہتے تھے)تویہ انسانیت کوعقیدہ و فکر کی آزادی دیتے، انسانیت کے لیے زندگی کی ضروریات وسہولیات کا حصول (ارزاں ترین قیمت پر)آسان ترین کردیتے،اسلام اور حیا کو اپنا سب سے بڑا دشمن نہ سمجھتے، دولت، سائنس اور ٹیکنالوجی کو ساری دنیا کے انسانوں کے دکھ درداور مسائل دور کرنے کے لیے استعمال کرتے، جنگی جنون اور مہلک ایٹمی و کیمیاوی ہتھیاروں سے اپنے آپ کو مسلح نہ کرتے۔مگر آج دنیا کا جو منظر نامہ ہے وہ ان مثبت باتوں کے بالکل الٹ ہے۔ان مہلک نتائج کو دیکھ کر ہی حضرت علامہ اقبال کو آج سے قریباً سو سال پہلے کہنا پڑا:

تیری حریف ہے یا رب سیاست افرنگ
مگر ہیں اس کے پجاری فقط امیر و رئیس
بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تونے
بنائے خاک سے اس نے دوصدہزار ابلیس

راقم کے زیربحث مضمون کا خلاصہ درج بالا نکات میں پیش کیاگیاہے۔کیاجناب ڈاکٹر عبدالباری عتیقی ہمارے مضمون میں بیان کیے گئے ان مرکزی ترین نکات کو دیکھ کربتاسکتے ہیں کہ ان نکات سے وہ نتیجہ فکرکس طرح اخذ ہوتاجس کا اظہاروہ اپنے جوابی مضمون میں ایک الزام کی شکل میں اس طرح کرتے ہیں:

’’استعماری طاقتوں کے ظلم و ناانصافی پرمبنی اقدامات کوبنیاد بناکرہوش وحواس سے عاری اورقید شریعت سے آزادجذبات پرمبنی تباہ کن تشدد اور دہشت گردی کو’مزاحمت اور جہاد‘ کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔‘‘ 

اگر وہ اپنے اس الزام کوبشمول دیگرنامعقول الزامات کے ہمارے مضمون پر ثابت نہیں کرسکتے اور یقیناوہ ایسا نہیں کرسکے توانہیں مان لینا چاہیے کہ تنقید نگاری اور تجزیہ کاری کے لیے دیانت اورمعقولیت کی جوکم از کم سطح مطلوب ہے،اس سے انہوں نے اپنے آپ کو عاری ثابت کیا ہے۔موصوف کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی بھی تجزیہ کارکی تنقید اور مخالف نقطہ نظرکا کوئی معقول جواب نہ پاکراس پربلا دلیل وثبوت ’’تباہ کن تشدد اور دہشت گردی ‘‘قسم کے لچر اور بیہودہ الزام لگا دیناعلم اور دلیل کے میدان میں ایک بے قیمت اور اجنبی طرز استدلال ہے۔ہاں! جہالت ودرندگی کے رسیا،طاقت وقوت کے نشوں میں بدمست اورخدائی کی دعویدار قوتوں کا یہ محبوب، مرغوب اور دل پسند طرز استدلال اور مشغلہ رہاہے کہ جب کسی کمزور فریق کا شکار کرنا ہو یا کسی ناپسندیدہ شخص کو مجرم ثابت کرنے کا کوئی جواز اور ثبوت ہاتھ نہ لگ رہا ہو تو اس پر فرضی اور جھوٹا الزام لگا کر اپنے شوق شکار اور ذوق درندگی کی تسکین کرلی جائے۔

اگراپنے اس تجزیہ اور نقطہ نظرکی وجہ سے راقم پرجناب ڈاکٹرعتیقی کااوپر بیان کیا گیا فتویٰ ثابت ہوتا ہے توموصوف تسلی جمع خاطر رکھیں کہ وہ خود بھی اپنے اس فتویٰ کی زد سے بچ نہیں پاتے کیونکہ موصوف تصورجہادکی ’’مرمت‘‘ کرتے ہوئے جہاد کی تعریف ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: 

’’جہاد ظلم وعدوان کے خلاف مسلمان ریاست کے مسلح اقدام کو کہتے ہیں‘‘۔

موصوف کی اس تعریف کے رو سے ریاست کے اندر اور باہر ہر قسم کے ظلم اور زیادتی کو ریاست کا بذریعہ بندوق اور بذریعہ فوجی (جنگی)اقدام ختم کرنا جہاد ہے۔ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ موصوف کی یہ تعریف جہاد کو ایک مذاق اور ایک کھیل بنا کر رکھ دیتی ہے۔لیکن ہم اتنا ضرورکہیں گے کہ جہاد کی اس انوکھی تعریف کی وجہ سے موصوف کا درج بالا فتویٰ زیادہ شدت سے اور پوری شان سے ان پر لاگوضرور ہوجاتاہے۔کیوں کہ مغربی ابلیسی قوتیں امت مسلمہ کی’’جہادوقتال‘‘کے محض تصورات ہی سے وابستگی کو ’’تباہ کن تشدداور دہشت گردی‘‘کا سبب قرار دیتے ہیں۔اور اس معاملے میں ان کے ہاں کوئی فرق نہیں پایا جاتا کہ اگر کوئی فرد ’’جہاد وقتال‘‘کے تصورات سے وابستگی کا اظہار کرے تواسے ’’تباہ کن تشد اور دہشت گردی‘‘ قرار دیاجائے گا اور اگر پوری قوم اور ریاست ’’جہاد وقتال‘‘ سے وابستگی اور عملی تیاری کرے گی تو اسے مغرب کی انسانیت دشمن ابلیسی قوتیں’’تباہ کن تشدد اور دہشت گردی‘‘قرار نہیں دیں گی۔

جہاد وقتال کے قرآنی تصورات کو مسخ کرنے والے اور اس مقدس قرآنی تعلیم کے معاملے میں مداہنت،مصالحت، شرمندگی اور صفائیاں پیش کرنے والے مغرب کی دجالی قوتوں کو اس لیے سازگار ہیں کہ مسلمانوں میں جہاد اور شہادت کے تصورات انسانیت کی کامل تباہی کے ابلیسی ایجنڈے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔مسلمان ریاستوں کے حکمران(چاہے وہ حزب اختلاف میں ہوںیا حزب اقتدار میں)کامل طور پر دجالی تہذیب کے آگے سربسجودہیں۔ایک مسلم ریاست (افغانستان)نے عالمی ابلیسی قوتوں کے جھوٹ،دھوکہ اورفریب کے آگے سرجھکانے سے انکارکیاتھا،تودجال کی نمائندہ قوتیں اس پر ٹوٹ پڑیں اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔بعدمیں افغانستان کی عوام نے اسلام اور جہادکا جھنڈا تھامااور گزشتہ تیرہ سال سے کامل استقامت سے مغرب کی انسانیت دشمن ابلیسی قوتوں سے جنگ آزما ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں دجالی اقدار کا تاحال سب سے بڑا نمائندہ امریکہ افغانستان میں شکست سے دوچار ہے۔پس مسلم ریاستیں اوران کے حکمران عالمی دجالی طاقتوں کا اصل مسئلہ نہیں ہیں۔ان کا اصل درد سروہ مسلم عوام ہیں جو اللہ ورسول سے عشق کا دم بھرتے ہیں،جو مغربی دجالی تہذیب کی بجائے اسلام کو راہ نجات سمجھتے ہیں اورنماز ،روزہ حج اورزکواۃ کی طرح جہاد کو بھی ایک عبادت سمجھتے ہیں۔اس عوام کو گمراہ کرنے کے لیے بے حیائی،دنیا پرستی،عیاشی، آوارگی،خود پرستی اور سودی معیشت کی لعنتوں سے برباد کرنے کی آخری حد تک کوشش کی جاچکی ہے، لیکن اس کے باوجود امت مسلمہ اور انسانیت کے دفاع کے داخلی حصار(ایمان واخلاق)اورخارجی حصار(جہاد)کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ابلیس تاحال کامیاب نہیں ہوسکا۔

اسی وجہ سے ابلیس کی سکیم تبدیل ہوئی اور امت مسلمہ کے وہ افراد جن کے ایمان واخلاق اور جہاد وقتال کے قرآنی تصورات کوابلیس مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام ہوگیاتھا،ان میں ایسے مفکرین اور سکالرزکی سرپرستی کی گئی جن کی مساعی کارخ(Shift of emphasis) ایمان واخلاق کی تعمیر کی بجائے فقہی اور فروعی مسائل میں مغرب سے ہم آہنگیاں تلاش کرنے کی طرف پھرچکاہو۔لہٰذا جہاد وقتال کے تصورات کو مسخ کرنے اور اسے عوام کی نظروں سے اوجھل کرنے کے لیے پورے شدومد سے ریاست کے ’’آسمانوں‘‘(جہاں کے حکمران دجالی تہذیب اور اس کے پروگرام کے سامنے کامل طور پر سجدہ ریزہیں)میں چھپانے والے دانشوروں کے لیے دوستی وعنایات کے دروازے کھول دیے گئے۔

یہ نسخہ ابلیسی آلہ کاروں نے اندلس میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے نہایت کامیابی سے آزمائی جانے والی اس سکیم سے اخذ کیاتھا،جس میں مغرب کے گوری چمڑی والے طاقتورعیسائی حکمرانوں نے مسلم عوام کے جذبہ جہادسے محفوظ رہ کراندلس کی چھوٹی چھوٹی کمزور اورنام نہاداسلامی ریاستوں کو زیرکرنے کے لیے خودپرست اور عیاش حکمرانوں کو جھوٹ، دھوکے اور فریب سے لالچ اور طمع دے کر معاہدوں میں جکڑلیا ۔اورپھر ایک ایک کرکے ان مسلم ریاستوں کو ہڑپ کرتے گئے۔رہ گئے مسلم عوام تو وہ ریاست (کے حکمرانوں)سے آخر وقت تک یہی توقع رکھتے رہے کہ وہ ان کی آزادی اور خود مختاری پر سودے بازی اور اسلام سے عظیم غداری کا ارتکاب نہیں کرسکتے ۔ریاست پر حد سے زیادہ انحصاراورمسلم معاشرے کے خارجی دفاعی حصار(جہاد)سے غفلت کے نتیجے میں اندلس کے مسلمانوں کو تاریخ کی عظیم ترین نسل کشی کا سامنا کرنا پڑا۔جس کے نتیجے میں پندرہویں صدی عیسوی کے اختتام کے ساتھ ہی اندلس سے اسلام اور مسلمانوں کا بھی خاتمہ ہوگیا۔انسانی نسل کشی کا یہ نسخہ اندلس کے نئے عیسائی حکمرانوں کے توسط سے نئی دریافت ہونے والی دنیااورنئی کالونی (براعظم امریکہ)برآمد کیاگیا،جسے اگلے تین چار سوسالوں میں امریکہ کے دس کروڑ اصل باشندوں(ریڈ انڈین)کی نسل کشی کے لیے بے حد کامیابی سے آزمایاگیا۔کیونکہ وہاں نہ تو اسلام تھا اور نہ ہی جہاد۔اندلس میں اسلام اور مسلمانوں کے خاتمہ اور انسانیت کی عظیم نسل کشی کے لیے آزمایاجانے والا ابلیسی نسخہ اکیسویں صدی کی عالمی دجالی طاقتوں کا اہم ترین حربہ بن چکا ہے ۔جس کی رو سے عالمی شیطانی تہذیب کے غلبہ کے لیے اورانسانیت کی آخری حد تک تباہی کے لیے ضروری ہے کہ مسلم حکمرانوں(ریاستوں)کو لالچ،فریب اور دھوکہ سے معاہدوں میں جکڑلو اورمسلم ریاستوں کو ابلیسی عالمی مقاصدکی خدمت میں لگادو۔رہ گئے مسلم عوام توان میں ایمان وجہادکی حرارت کو سردکردو۔افسوس مسلم ممالک کے حکمرانوں اور دانشوروں کی عظیم اکثریت دانستہ یا نادانستہ اس ناپاک دجالی منصوبہ کی ادنیٰ خدمتگار بن چکی ہے۔

واضح رہے کہ جس طرح مسلم عوام کو ایمان اور جہاد کی متوازن اور ڈسپلن تعلیم سے روکنا اوردوررکھناابلیسی مشن ہے۔بالکل اسی طرح مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر،مسلم معاشروں میں انارکی،ہلاکت،فسادات اورتباہی پھیلانا بھی ابلیس ہی کا دجالی مشن ہے۔لہٰذا جہاد مسلم معاشرے کی اقدار ،عوام اور سرحدوں کا مقدس ترین دفاعی حصارہے۔مسلم معاشروں کوبم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے تباہی،بدامنی اورانارکی سے دوچارکرنا قطعاً قطعاً جہاد نہیں ہے۔۔۔یہ جہاد کو بدنام کرنے اورجہاد کو فساد ثابت کرنے کا وہ شیطانی منصوبہ ہے میڈیا،دانشور اور صحافیوں کی عظیم اکثریت جس کے ادنیٰ خدمت گار بن چکے ہیں۔ یہ صرف اور صرف ابلیسی آلہ کاروں کا پیدا کردہ فساد ہے،چاہے اس کا ارتکاب اسلام اور ایمان کے کتنے ہی بلند وبانگ دعووں کے ساتھ کیوں نہ کیا جائے۔جہادمسلمانوں کے، کمزور انسانوں کے، اسلامی اقدار کے اور مسلم معاشروں کے امن اورڈسپلن کی حفاظت اور دفاع کانام ہے۔جہاد اہل ایمان کی اجتماعی مسلح قوت کے ذریعے اسلامی اقداراور انسانیت پر حملہ آورمسلح قوت کا اللہ پر یقین اور جنت کی آرزو کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کا نام ہے۔

راقم کا دل اس یقین سے سرشار ہے کہ پاکستان کی پاک افواج اور افغانستان وخیبرپختونخواہ کے پاک دل و پاکبازمجاہدین اپنی تمام تر خامیوں،کمزوریوں اور خطاؤں کے باوجود،انسانیت کی کامل تباہی کے ابلیسی ودجالی منصوبے کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔یہ ابلیسی خونخوار درندوں کے مقابلے میں اسلام اور انسانیت کے دفاع کی وہ آخری چٹان ہے،جسے توڑنا اور تہس نہس کرنامغربی دجالی تہذیب کے نمائندوں کا اہم ترین مشن بن چکاہے۔لہٰذا پاکستانی افواج اورافغانستان ووزیرستان وغیرہ کے مسلم سپاہیوں کونقصان پہنچاناوہ بدترین دہشت گردی ہے،جو عالم مغرب کی عالمی طاقتوں کی آخری تمنا بن چکی ہے۔ جو لوگ اس دجالی منصوبہ بندی کے آلہ کار بن چکے ہیں وہ اسلام اور انسانیت کے بدترین دشمن ہیں۔رہا یہ سوال کہ پاکستانی افواج اور وزیرستان کے مجاہدین (طالبان)کی باہمی آویزش کے نتیجے میں مارے جانے والے سپاہیوں کی کیا پوزیشن ہے تواس میں عادلانہ موقف یہ ہے کہ ہر دومسلم فریقین میں سے جو بھی اسلامی اقدار،اسلامی سرحدوں اوراور مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت کے عزم وارادے سے لڑتا ہواماراگیاوہ شہیدہے۔

تاہم دجالی تہذیب کے اسلام کش و انسانیت دشمن شیطانی ایجنڈاکے مقابل انسانیت کے دفاع کی اس ’’آخری چٹان اور حصار‘‘کی باہمی آویزش کو ہم کسی طور جہاد کا نام نہیں دے سکتے۔ہماری ناقص رائے میں یہ آویزش عالمی استعماری طاقتوں کی طویل منصوبہ بندی اورخوفناک سازش کا نتیجہ ہے۔یہ آویزش غیر فطری اوروقتی ہے۔اس آویزش کے دونوں فریق فطری اتحادی ہیں،لہٰذا یہ آویزش زیادہ دیر چلتی نظر نہیں آتی جس نے بہرحال ختم ہونا ہے اور فطری طور پر ایک عظیم ترین اتحاد کی شکل میں نمودار ہونا ہے،جو ابلیس کے دجالی نمائندوں کے لیے ایک خوفناک ڈراؤنا خواب ہے۔

جہاد بطورتبدیلی کا سیاسی آرگن:راقم کے زیربحث مضمون میں سیاسی تبدیلی کے لیے یا نفاذ اسلام کے لیے جہاد کا تعارف ایک سیاسی ٹول کے طورپرقطعاً نہیں کرایاگیا۔ہاں! ان اہل علم کے رویہ پر نہایت افسوس کا اظہار ضرور کیا گیا ہے جوجہاد کو سیاسی تبدیلی کے آرگن کے طور پرمتعارف کرانے والے حضرات کی جتنی شدت سے نفی کرتے ہیں اتنی ہی شدت سے جمہوریت اور احتجاجی سیاست کے فریب کارانہ کھلونوں کو نفاذ اسلام کے لیے واحد طریق عمل قرار دیتے ہیں۔اوربعض مفکرین اورقائدین (مثلاً تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم)تو نفاذِ اسلام اور غلبہ دین کانبوی منہاج بیان کرتے ہوئے دورِ نبویﷺ کے جہادمیں اجتہادکا اعلان فرماتے ہیں اور احتجاجی سیاست کو ’’غیرمسلح تصادم‘‘ کا نام دیتے ہوئے اسے عصر حاضرمیں جہاد وقتال کاواحدمتبادل قرار دے ڈالتے ہیں۔جہاد وقتال کی ایک غلط تعبیر ایک نام نہاد اجتہادکو جنم دیتی ہے۔اور پھر عصرحاضرکے فریب کارانہ جمہوری ہتھکنڈوں(احتجاجی سیاست)کواسلامی انقلاب کا واحد منہاج قرار دیتے ہوئے اسے ’’جہاد وقتال‘‘کا تقدس عطا کردیاجاتا ہے۔راقم نے تنظیم اسلامی کی رفاقت کے دنوں میں ڈاکٹراسرار احمد مرحوم سے طویل عرصے(1996سے2002) تک بذریعہ مراسلت اس فکری مغالطہ کی سنگینی اور گمراہی کو مبرہن کرنے کی کوشش کی۔تاہم راقم کو اس کا اعتراف ہے کہ ایک نہایت حقیر کارکن انتہائی بلندیوں پرفائزراہنما کے غلط تیقن اور وجدان کی اصلاح کرنے میں ناکام رہا۔اس راہ میں جوسب جھیلتے ہیں وہ جھیلنا پڑا:

اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس زنداں، کبھی رسوا سربازار

اپنے زیر بحث مضمون میں بھی راقم نے جمہوریت اور آزادی کے عنوان سے ابلیس کے دجالی فریب کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ہے۔اور اس فکری خرابی پرنقد کیا ہے جس کے ذریعے ساری دنیا میں فساد کی واحد وجہ مسلمانوں کے ’’جذبہ جہاد‘‘کوقرار دے کر ’’احتجاجی سیاست ‘‘کے جمہوری کھلونوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھمادیاجاتا ہے۔ معاملہ کی خرابی اس وقت نہایت سنگین اور شدید ہوجاتی ہے جب ’’ہمارے نہایت محترم قائدین اور علماء بھی جمہوریت، آئینی جدوجہداورانتخابی و احتجاجی سیاست کواسلام اورمسلمانوں کے لیے بالکل اسی طرح مفید،ضروری اورناگزیر قرار دیتے ہیں جس طرح مغرب کے ملحد،لادین اور سرمایہ پرست اسے اپنے معاشروں کے لیے بے حد مفید،ضروری اور ناگزیر قرار دیتے ہیں۔لہٰذاآج ایک طرف اگرمغرب کے مقتدرابلیسی اور دجالی اذہان دیار مغرب میں رہنے والے انسانوں کی عظیم اکثریت کو جمہوریت ،آئین،انتخابی اور احتجاجی سیاست کے کھلونے دے کران کا ذہنی،جسمانی اور روحانی بدترین استحصال کررہے ہیں تودوسری طرف اہل اسلام کے نہ صرف سیاسی قائدین بلکہ دینی مذہبی راہنما اور مفکرین کی نگاہ میں بھی جمہوریت،آئین، انتخابی اور احتجاجی سیاست کے دجالی کھلونے اہل اسلام کے دکھوں کا واحد علاج اور مداوا ہیں۔‘‘ 

اس تجزیہ کے ساتھ راقم نے اپنے زیر بحث مضمون میں عرض کیا کہ ’’ہماری دینی قوتوں پر ہردم یہ واضح رہنا چاہیے کہ ایمان واخلاق نہ صرف تمام شعبہ ہائے حیات کی اصلاح کا مستقل اورابدی نبویﷺمنہاج اور حل ہے بلکہ انسانی شعبہ ہائے حیات پر ابلیسیت کے جابرانہ اورقاتلانہ حملوں،امن کے خلاف ابلیس کے پیدا کردہ فساد، دہشت گردی اورجنگ کے تدارک کے مستند ترین اور کائنات کے رب کے محبوب ترین علاج ’’جہادوقتال‘‘ کا بھی داخلی محافظ و نگہباں ہے جبکہ جہاد وقتال ایمان واخلاق کا خارجی محافظ ہے۔‘‘۔ نیز یہ کہ ’’ہمارے قائدین اور مفکرین مسلسل، پیہم اور بلاتعطل اس جدوجہد پر اپنی صلاحیتوں کو مرکوز فرمائیں۔اس جدوجہدسے غفلت اورعدم توجہی نے انسانیت کی روح کو ’’موت و حیات‘‘ کی کشمکش میں مبتلا کیا ہوا ہے۔اگرہمارے نہایت محترم قائدین کسی مجبوری یا عذرکی وجہ سے اپنی اصل اور مستقل ذمہ داری نباہنے سے قاصر ہیں تو ہم نہایت ادب سے عرض کریں گے کہ وہ کم از کم امت مسلمہ کے وقاراور اسلام کے نفاذکو ان وقتی ہنگاموں،احتجاجی جلوسوں اور لانگ مارچوں سے مشروط کرنے کا سبق نہ پڑھائیں، جنہیں آزما آزما کرحضرت انسان تھک چکا ہے مگرمنزل ہے کہ ہاتھ لگتی ہی نہیں۔ یہ فرسودہ احتجاجی ہتھکنڈے(بمعنی منظم اورپرامن احتجاجی تحریکیں) کم از کم پچھلے ایک سوسال سے مسلم سیاسی ومذہبی تحریکوں کے زیرعمل ہیں۔۔۔لیکن نتیجہ سب کے سامنے ہے،دنیا میں غلبہ واقتدار اور دین کا احیا تو کیا ہوتا، الٹا ایمان اورمذہب کی رہی سہی قدریں بھی اس راہ میں گم ہوکر رہ گئیں۔سوال کیاجاسکتا ہے کیوں؟ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ اضطرار کو اضطرار کے مقام پر رکھنے کی بجائے اسے اوڑھنا بچھونا بنالیاگیا اوراس غیر فطری اصرار اور جنون میں وہ اپنا اصل اور مستقل لائحہ عمل بھلاتے اور پس پشت کرتے چلے گئے۔‘‘

محترم ڈاکٹر عبدالباری عتیقی صاحب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ہمارے اس تجزیہ اور تجویز کے کسی ایک جملے سے بھی ان کی طرف سے عائد کیے جانے والے الزامات کو ثابت کیا جاسکتا ہے ۔

آخر میں ہم موصوف کے اس الزام کوجزوی طورپر قبول کرتے ہیں کہ :’’(محمد رشید کی)پوری تحریرقرآن وحدیث کے دلائل سے مکمل طور پر تہی دامن نظر آتی ہے‘‘۔ہم یہ وضاحت پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ ہماری زیربحث تنقیدی تحریر کے براہ راست مخاطب وہ نہایت محترم اہل علم تھے جو ایمان اور جہاد کی اہمیت وعظمت کو براہ راست قرآن وحدیث سے ہم سے بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔تاہم ہمیں خطرہ ہے کہ اگر ہم نے اہل ایمان کی اجتماعی زندگی کے داخلی محافظ ’’ ایمان واخلاق‘‘اورخارجی محافظ’’جہادوقتال‘‘کی اہمیت وعظمت اور تشریح کے لیے قرآن وسنت کے سینکڑوں حوالہ جات سے استدلال کیاتوالشریعہ کو خاص نمبرشائع کرنا پڑجائے گا ،اگرکبھی الشریعہ نے اس موضوع پر خاص نمبر شائع کرنے کا اعلان کیا توڈاکٹر عتیقی کا یہ اعتراض بھی دور کردیاجائے گا،تاہم اس بات کا غالب امکان ہے کہ یہ مقالہ ’’جمہوری ‘‘فریب کاریوں کی تعریف وتحسین، الحاد وآوارگی سے کھیل کوداورخلافت وجہاد کے خالص قرآنی ونبوی تصور کے انکاروفرار سے عاری ہونے کی وجہ سے(ثناخوان مغرب کی نظروں میں) مردودہی قرارپائے گا۔اوراس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ڈاکٹرعبدالباری عتیقی اور اس قبیل کے دیگرلوگ جعلی الزامات اوردیگرخوفناک فتویٰ نما تیروں سے ہمیں چھلنی چھلنی کرنے کے لیے میدان میں نہیں نکل آئیں گے؟

موصوف نے اپنے مضمون کے آخر میں راقم کی ذات پر طعنہ زنی کرتے ہوئے طنزکے نشترچلائے ہیں ۔انسان جب دلیل کے میدان میں ناکام ہوجاتا ہے تووہ اپنی ناکامی کو ہجوگوئی اورطعنہ زنی کی اوٹ میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔اب بھلا ذاتی ہجو گوئی کا کسی کو کیا جواب دیا جائے۔ہم ان کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت فکر عطافرمائے۔درج ذیل دلی کیفیت کے ساتھ ہم اپنے اس طویل وضاحت نامہ کو ختم کرتے ہیں:

غم جہاں ہو،غم دوست ہوکہ تیر ستم
جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

آراء و افکار

ستمبر ۲۰۱۴ء

جلد ۲۵ ۔ شمارہ ۹

جمہوریت اور پاکستانی سیاست
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

غزہ کی صورتحال اور عالم اسلام
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

خاطرات
محمد عمار خان ناصر

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
مولانا حافظ محمد رشید

مادّی ترقی کا لازمہ: واہمہ یا حقیقت؟ چند توضیحات
محمد ظفر اقبال

گوجرانوالہ میں قادیانی مسئلہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

خانقاہ یاسین زئی اور مولانا سید محمد محسن شہیدؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ایک علمی و فکری ورکشاپ کی روداد
محمد عثمان فاروق

Flag Counter