بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر (۱)

مولانا مفتی محمد زاہد

ایشیا کا وہ خطہ جو بر صغیر کہلاتا ہے ، بالخصوص اس کے وہ علاقے جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں یا بڑی تعداد میں آباد ہیں یہ ہمیشہ سے ہی مختلف تہذیبوں کی آماج گاہ اور ان کی آمد و رفت کا راستہ رہے ہیں۔ اس لیے تہذیبی اور ثقافتی تنوع یا اختلافات کا ذائقہ یہ خطے چکھتے چلے آئے ہیں اس کے جو اثرات اس خطے کی اجتماعی نفسیات پر بھی پڑے ہیں وہ ایک مستقل مطالعے کا موضوع ہوسکتے ہیں، یہاں بر صغیر میں صرف مسلمانوں کی دینی روایت کے حوالے سے بات کرنا مقصود ہے۔ 

بر صغیر میں مسلمانوں کی دینی روایت کو اگر دیکھا جائے تو اس میں فرقہ وارانہ تقسیم ، عدمِ برداشت کے بھی بہت سے مناظر نظر آتے ہیں جن کی متعدد تاریخی وجوہ بھی ہوسکتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہاں کے مسلمانوں کو یہاں کے مقامی مذاہب اور تہذبیوں میں خودکو مدغم ہونے سے بچانے کے لیے بہت زیادہ تگ ود کرنا پڑی۔ اس چیز نے انہیں اپنی شناخت اور پہچان کے حوالے سے حساس بنادیا اور اسی کے اثرات ان کی اندر کی فرقہ وارانہ تقسیم پر بھی پڑے ہوں۔ نیز بر صغیر میں شخصیات اور مقامات کے ساتھ الحاق اور تعلق کی خاص روایت رہی ہے۔یہ چیز بھی ۔اگر اسے اعتدال پر نہ رکھا جائے۔ اختلاف آراء کو تقسیم کا باعث بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری بھی غلو اور جذباتیت کو یہاں کے عمومی مزاج کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں۔ خلیق ابراہیم ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں 

’’مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری تین چار بار ہمارے ہاں آئے۔ وہ بڑی دلچسپ باتیں کرتے تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے قومی مزاج کی بات ہورہی تھی ، کہنے لگے : ’’ اس سے زیادہ جذباتی قوم دنیا کے پردے پر نہیں ہوگی ۔اس کے دین نے اسے اعتدال اور حقیقت پسندی کا راستہ دکھایا ہے ، اور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دین میں غلو نہ کرو۔ مگر اس نے [ہندوستان کی مسلمان قوم نے] دین کو مشعلِ راہ بنانے کی بجائے [اسے] اپنے اعصاب پر سوار کرلیاہے۔اس کے جذبات میں کنکری ڈالو تو لہریں پیدا نہیں ہوں گی بلکہ ایک دم ابال آجائے گا‘‘۔ (۱) 

یعنی مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری دین کے بارے میں حد سے بڑھی ہوئی اور اعتدال سے نکلی ہوئی حساسیت کو اعصاب پر سوارکرنے سے تعبیر کرتے ہوئے اسے غلو اور جذباتیت کا سبب قرار دے رہے ہیں۔اس کی وجہ بھی شاید وہی خطرے کا احساس ہو جو اتنی بڑی غیر مسلم آبادی کے درمیان موجود ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا اور پھر تاریخی طور پر ہمارے جینیاتی نظام کا حصہ بن گیا اور شاہ صاحب کے الفاظ میں ہم نے دین سے اپنی زندگیوں میں راہ نمائی اور روشنی حاصل کرنے کی بجائے اسے اپنے اعصاب پر سوار کرلیا۔

خیر! تاریخی توجیہ جو بھی ہو بر صغیر میں مسلمانوں کی دینی روایت میں تقسیم و تفریق کا عنصر موجود ضرور رہاہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس خطے میں مسلمانوں کی دینی روایت میں برداشت اور تنوع کو قبول کرنے کے مظاہر بھی کم نہیں ہیں۔ پاکستان کے حالیہ کچھ عرصے کے مخصوص دینی ماحول نے اس روایت کے اس عنصر اور پہلو کو گہنا سا دیا ہے اور موجودہ حالات کو دیکھ کر بادی النظر میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہاں کے دینی حلقے اور ان کے اکابر ہمیشہ سے ایک دوسرے سے برسرِ پیکار رہے ہیں۔ اس تاثر کے ازالے اور تصویر کا دوسرا رخ سامنے لانے کے لیے یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں۔

برصغیر میں اہل السنۃ والجماعۃ ہمیشہ اکثریت میں رہے ہیں۔ تاہم اہلِ تشیع کا بھی ہمیشہ قابلِ ذکر وجود رہا ہے۔ بعض علاقوں میں ان کی تعداد خاصی زیادہ رہی ہے۔ بعض جگہوں پرمقامی حکمران یا نواب وغیرہ اہل تشیع میں سے رہے ہیں۔نظریاتی طور پراہل السنۃ اور اہل تشیع کے درمیان بڑے نازک مسائل میں اختلاف موجود رہا ہے۔ ان مسائل پر بحث مباحثہ اور کتابیں لکھنے کا سلسلہ بھی رہاہے۔لیکن سوائے چند استثنائی مثالوں کے یہ اختلاف کبھی ایک دوسرے کے لیے جانی خطرات کا باعث نہیں بنا۔جن مسائل میں فریقین کے درمیان اختلاف رہا ہے وہ بنیادی طور پر تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد کی تاریخ کے پیدا کردہ ہیں ، تاہم ان کے ساتھ چونکہ کئی مقدس اور محترم شخصیات کے ساتھ عقیدت کا معاملہ آگیا ہے اس لیے انہوں نے بہت زیادہ نزاکت اور حساسیت اختیار کرلی اور اس اختلاف کی حیثیت اصولی اختلاف کی بن گئی۔ اگرچہ اب بھی فریقین کے درمیان بہت سے مشترکات موجود ہیں ، دین کے اصل الاصول امور میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بر صغیر کی درس و تدریس کی روایت میں اہلِ سنت کے ہاں اہلِ تشیع کی کئی کتابیں پڑھی پڑھائی جاتی رہی ہیں۔نحو میں کافیہ پر رضی کی شرح کسی زمانے میں یہاں داخلِ درس رہی ہے۔ کافیہ کے مصنف معروف سنی مالکی فقیہ و اصولی اور نحوی ہیں اس کے شارح رضی شیعہ ہیں۔ لیکن متن اور شرح دونوں کہیں نہ کہیں اہل سنت اور اہل تشیع دونوں کے ہاں داخلِ درس نظر آتی ہیں۔ درس نظامی میں شامل منطق کی ایک معروف کتاب شرح تہذیب کے مصنف شیعہ ہیں۔ جبکہ خود تہذیب کے مصنف علامہ تفتازانی سنی ہیں۔ اور متن اور شرح دونوں حلقہ ہائے درس میں پڑھی پڑھائی جاتی رہی ہیں۔

اور تو اور برِ صغیر میں غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اور اچھے میل جول کی جو مثالیں ملتی ہیں ہو وہ ہماری تاریخ کا سنہری حصہ ہیں۔ برصغیر میں مسلمانوں کو چونکہ غیر مسلموں سے واسطہ زیادہ پڑتا رہا ہے اس لیے یہاں اس کی مثالیں زیادہ ملتی ہیں اس پر مواد اگر جمع کیا جائے تو وہ پوری ایک کتاب کا مواد بن سکتاہے۔ یہ بات تو بر صغیر کی تاریخ کا ادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ یہاں صوفیائے کرام کے دروازے ہر ایک کے لیے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ہو کھلے ہوتے تھے۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپنے ایک مکتوب (مکتوب نمبر : ۶۳ ) میں اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے کہ مسلمانوں کی ہندوستان جب آمد ہوئی تو یہاں باہمی اختلاط کا جو ماحول تھا اس سے اسلام اور مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا ، اور یہ کہ عموماً مسلمان بادشاہوں کی طرف سے ہر مسئلے کا حل طاقت سے کرنے کی پالیسی سے کیسے نقصان پہنچا۔ دیگر مذاہب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اکبر کی پالیسی پر اگرچہ عام طور پر دینی حلقوں میں تنقید کی جاتی ہے اور اس تنقید کی جائز وجوہ اپنی جگہ موجود ہیں تاہم مولانا مدنی کا نقطۂ نظر اس سے قدرے مختلف ہے۔ وہ اکبر کی پالیسی کو بعض پہلوؤں سے فائدہ مند قرار دیتے ہیں۔ مولانا مدنی کا یہ مکتوب اگرچہ طویل ہے تاہم اس کے چند اقتباسات نقل کرنا مناسب معلوم ہوتاہے۔مولانا لکھتے ہیں : 

’’پادشاہانِ اسلام نے اولا تو اس طرف توجہ ہی نہیں کی۔ بلکہ وہ تمام باتوں کا قوت سے مقابلہ کرتے رہے۔ مگر شاہانِ مغلیہ کو ضرور اس طرف التفات ہوا۔ خصوصاً اکبرنے ۔۔۔ اگر اس [اکبر] کے جیسے چند بادشاہ اور بھی ہو جاتے یا کم ازکم اس کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال[کہ نفرت کی فضا پیدا کرکے لوگوں کو اسلام سے روکا جائے] مدفون ہوجاتی اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے ، اکبر نے نہ صرف اشخاص پرقبضہ کیا تھا ، بلکہ عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا تھا ، مگر ادھر تو اکبر نے نفسِ دینِ اسلام میں کچھ غلطیاں کیں جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بدظنی ہوئی ، اگرچہ بہت سے بد ظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے ، ادھر برہمنوں کے غیظ وغضب میں اپنی ناکامیاں دیکھ کر اشتعال پیدا ہوا، ادھر یورپین قومیں خصوصاً انگلستان کو اپنے مقاصد میں کامیابی کا ذریعہ تلاش کرنا پڑا اور سب سے بڑا ذریعہ اس کے لیے منافرت بین الاقوام تھا اور ہے‘‘۔

آگے چل کر اسی پالیسی کی تائید میں دلائل دیتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں : 

’’آپ کو معلوم ہے کہ صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتحِ عرب کا پیش خیمہ ہے۔اور جس روز صلح حدیبیہ تمام وکمال کو پہنچی ہے اسی روز إنا فتحنا الآیہ نازل ہوتی ہے جس پر حضرت عمر تعجب کرتے ہوئے استفسار فرماتے ہیں أوفتح ہو یا رسول اللہ؟ آپس میں اختلاط ہونا ، نفرت میں کمی آنا ، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معائنہ کرنا ، دلوں سے ہٹ اور ضد کا اٹھ جانا ، یہی امور تھے جنہوں نے افلاذ اکباد قریش کو کھینچ [کر ] صلحِ حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینے کو پہنچا دیا ، حضرت خالدبن ولید ، عمرو بن العاص اس طرح حلقہ بگوش اسلام بن گئے کہ قریش کی ہستی فنا ہو گئی۔
’’الغرض اختلاط باعثِ عدمِ تنافر ہے ، اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا اور تنافر باعثِ ضد اور ہٹ اور عدمِ اطلاع علی المحاسن ہے اور وہ [تنافر] اسلامی ترقی میں سدِّ راہ ہونے والا، اور چونکہ اسلام تبلیغی مذہب ہے اس لیے اس کا فریضہ ہے کہ جس قدر ہوسکے غیر کو اپنے میں ہضم کرے نہ یہ کہ ان کو دور کرے ، اس لیے اگر ہمسایہ قومیں ہم سے نفرت کریں تو ہم کو ان کے ساتھ نفرت نہ کرناچاہیے ، اگر وہ ہم کو نجس اور ملچھ کہیں تو ہم کو ان کو یہ نہ کہنا چاہیے ، اگر وہ ہم سے چھوت چھات کریں ہم کو ان سے ایسا نہ کرنا چاہیے، وہ ہم سے ظالمانہ برتاؤ کریں ہم کو ان سے ظالمانہ غیر منصفانہ برتاؤ نہ کرنا چاہیے، اسلام پدرِ شفیق ہے ، اسلام مادرِ مہربان ہے ، اسلام ناصحِ خیر خواہ ہے ، اسلام جالبِ اقوام ہے ، اسلام ہمدردِ نوعِ بنی انسان ہے ، اس کو غیروں سے جزاء سیءۃ سیءۃ مثلہا پر کار بند ہونا شایاں نہیں ، بلکہ اس کی غرض [ تبلیغ] کے لیے سدّ یاجوج ہے ، کفر نے کبھی اسلام سے عدل وانصاف نہیں کیا ، [کیف و]إن یظہروا علیکم لا یرقبوا فیکم إلا ولا ذمۃ الخ وغیرہ شاہدِ عدل ہیں ، مگر اسلام نے انصاف عدل واحسان کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اور نہ چھوڑنا مناسب تھا ، اگرچہ جذباتِ انتقامیہ بہت کچھ چاہتے تھے‘‘۔

اسی مکتوب کے حاشیے میں مرتبِ مکتوبات مولانا نجم الدین اصلاحی ؒ وصیت نامہ شہنشاہ بابر بنام شہزادہ نصیر الدین ہمایوں کا اقتباس نقل کرتے ہیں ۔ یہ ایک اقتباس محض ایک بادشاہ کی وصیت کے طور پر یہاں پیش نہیں کیا جارہا بلکہ اس لیے بھی کہ ایک مستند عالم اسے بنظر استحسان نقل کر رہے ہیں: 

’’اے پسر! ہندوستان مختلف مذاہب سے پُر ہے ۔ الحمد للہ اس نے بادشاہت تمہیں عطا فرمائی ہے۔تمہیں لازم ہے کہ تم تعصبات مذہبی کو لوحِ دل سے دھو ڈالواور عدل وانصاف کرنے میں ہر مذہب وملت کے طریق کار کا لحاظ رکھو ۔۔۔ عدل و انصاف ایسا کرو کہ رعایا بادشاہ سے خوش رہے ، ظلم وستم کی نسبت احسان اور اور لطف کی تلوار سے اسلام زیادہ ترقی پاتاہے۔ شیعہ سنی کے جھگڑوں سے چشم پوشی کرو ، ورنہ اسلام کمزور ہوجائے گا۔‘‘

مولانا میاں اصغر حسین صاحب دیوبند کے بڑے اساتذۂ حدیث میں شمار ہوتے ہیں۔ صاحبِ دل اور صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔ ان کے ہاں غیر مسلموں کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا تھا اسے ایک اور صاحبِ باطن بزرگ مولانا احمدعلی لاہوریؒ بیان کرتے ہیں۔ یہاں پورا اقتباس نقل کرنا مناسب معلوم ہوتاہے تاکہ اصل بات کے ساتھ ان کے باطنی مرتبے کابھی اندازہ ہو اور آخر میں ذکر کی جانے والی بات کی اہمیت سامنے آئے۔ مولانا عبید اللہ انورؒ اپنے والد مولانا احمد علی لاہوریؒ سے نقل کرتے ہیں کہ میاں صاحب نے انہیں اپنے ہاں دیوبند میں تین دن قیام کے لیے بلایا:

’’تین دن میں جو وہاں رہا ہوں تو دن رات ایک لمحہ نہیں سویا ، ہر وقت ذکر میں مشغول رہا۔ ایک لمحہ بے وضو نہیں ہوا ، اور ایک لمحہ بھی غافل نہیں ہوا۔ حضرت میاں صاحبؒ نے فرمایا کہ آپ جیسے مہمان کے آنے سے دل کو راحت ہوتی ہے۔ او ر فرمایا کہ اب میں دنیا سے جارہاہوں ۔ جو اللہ نے تعالی نے مجھے دے رکھا ہے کچھ تحفے میں چاہتاہوں کہ ساتھ نہ لے جاؤں بلکہ یہ فیض جاری رہے۔ جو مانگتے ہیں وہ اہل نہیں اور جو اہل ہیں وہ مانگتے نہیں۔ ۔۔۔حضرت میاں اصغر حسین ؒ اس قدر عبادت کرتے تھے کہ جس کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ ایسے ایسے واقعات ہیں کہ سنیں تو رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ ہر وقت ان کے پاس ہندو ، عیسائی ، مسلمان غرض مندوں کا ہجوم رہتاتھا۔ گھر کا ایک کمرہ غیر مسلموں کے لیے عبادت گاہ کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔‘‘ (۲)

یہ کہنا تو شاید خالی از مبالغہ نہ ہو کہ بر صغیر میں اہل السنۃ اور اہل تشیع کے تعلقات بہت مثالی اورقابلِ رشک رہے ہیں ، لیکن یہ کہنا ضرور درست ہوگا کہ ان میں کبھی اتنا زیادہ اور اتنے طویل عرصے کا تناؤ نہیں رہا جتنا ہمارے ہاں اسّی کی دہائی کے بعد سے نظر آرہاہے۔

کچھ عرصے سے یہ تاثر عام سا ہوگیا ہے کہ اہلِ تشیع کو تمام علمائے اہل السنۃ کافر قرار دیتے ہیں اور یہ کہ یہ ان کا متفقہ فتویٰ ہے۔ یہاں فتاوی کی تفصیل میں جانے کا تو موقع نہیں ہے لیکن یہ غلط فہمی ضرور دور ہوجانی چاہیے اور یہ بات سامنے آنی چاہیے کہ تکفیرِِ شیعہ کا کوئی متفقہ فتویٰ موجود نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ اہل السنۃ والجماعہ کے نزدیک ہمیشہ مختلف فیہ رہاہے۔ اگرچہ متاخر زمانے میں اہلِ تشیع کی بطور فرقہ عمومی تکفیر کوبعض حلقوں کی طرف سے بہت زیادہ شد و مد سے بیان کیا گیاہے، لیکن اس رائے سے اختلاف رکھنے والے بھی خاصی تعداد میں موجود رہے ہیں۔ جن حضرات نے تکفیر کی ہے ان کی ایک بڑی تعداد نے بھی درحقیقت بطور فرقہ تمام اہلِ تشیع کی تکفیر کرنے کی بجائے بعض عقائد کی تکفیر کی ہے ، جس جس کے یہ عقائد ہوں وہ مسلمان نہیں ہے ، مثلاً یہ کہ وہ حضرت علی رضی اللہ کو نعوذ باللہ خدا مانتا ہو ، قرآن کو نہ مانتا ہووغیرہ وغیرہ۔ یہ درحقیقت کسی فرقے کی تکفیر نہیں ہے ، اس لیے کہ یہی عقیدہ شیعہ کے علاوہ کسی بھی فرقے کا شخص اختیار کرے، اس پر یہی حکم لاگو ہوگا۔ فقہ حنفی کی متاخرین کی کتب میں ان کفریہ عقائد کے حاملین کے لیے غالی شیعہ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ غالی شیعہ کے حوالے سے جو عقائد ذکر کیے گئے ہیں، آج کل کے عام شیعہ حضرات انہیں اپنے عقائد تسلیم نہیں کرتے۔ مثلاً حضرت علی کا خدا ہونا ، حضرت جبریل علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی ہونا کہ اصل میں حضرت علی کے پاس وحی لانی تھی، لیکن غلطی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، تحریفِ قرآن کا قائل ہونا۔ آج شیعہ حضرات ان عقائد کی اپنی طرف نسبت کو غلط قراردیتے ہیں۔ گویا کہ آج کے مین سٹریم کے بہت سے شیعہ حضرات پر فقہاء کی اصطلاح ’’ غالی شیعہ ‘‘ صادق نہیں آتی۔ 

مولانا عبد الحی لکھنوی فرنگی محلی متاخرین میں فقہ حنفی کا بہت معروف نام ہیں۔ وہ لکھنو کے رہنے والے تھے جو اہلِ تشیع کا گڑھ سمجھا جاتاتھا، مولانا عبد الحی کا کثرتِ مطالعہ بھی ضرب المثل ہے، اس لیے یہ بات بعید سی ہے کہ لکھنو جیسے شہر میں رہتے ہوئے وہ شیعہ مذہب سے ناواقف ہوں۔ مولانا لکھنوی کے مجموعۃ الفتاوی میں بڑی تعداد میں ایسے فتاوی میں موجود ہیں جن میں انہوں نے عام اہلِ تشیع کی تکفیر کا فتوی نہیں دیا۔ بلکہ جو شیعہ سبّ صحابہ کا مرتکب ہو یعنی صحابہ کے بارے میں نامناسب باتیں کہے یا حضرات شیخین (حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ )کی خلافت کونہ مانتا ہو اس کے بارے میں بھی محققین کا قول عدمِ تکفیر کا قرار دیا ہے اور عدمِ تکفیر ہی کو اصح اور مفتی بہ قرار دیا ہے، اور جن حضرات نے ایسے شیعہ حضرات کی تکفیر کی ہے ان سے مفصل دلائل کے ساتھ اختلاف کیا ہے۔ 

مثلاً ایک استفتا میں امت کے تہتر فرقوں میں بٹنے والی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا گیا کہ ’’بعضے صاحب فرماتے ہیں کہ رافضی کہ شیخین کی شان میں بے ادبی کرتے ہیں کافر ہوگئے ، بعضے کہتے کہ سب اہل اہوا [اہلِ سنت کے علاوہ دیگر فرقے] کافر ہیں ، ایک فرقہ مسلمان ہے جس کو اہلِ سنت وجماعت کہتے ہیں اور بعضے صاحب فرماتے ہیں کہ رافضی کی توبہ قبول نہیں بلکہ اس کو قتل کرنا واجب ہے، جو شرع شریف میں لکھا ہو ارقام فرمائیں‘‘۔ اس کے جواب میں مولانا عبد الحی لکھنوی نے لکھا (ان فتاوی کی زبان اگرچہ پرانی ہے ، لیکن زبان کو آسان بنانے کی بجائے مولانا کی عبارات کو بعینہ نقل کیا گیا ہے):

’’کتابوں عقائد اور فقہ میں اس طرح لکھا ہے کہ بہتّرفرقہ جو اہلِ اہوا ہیں ایک بھی کافر نہیں ہے، چنانچہ عبارت ان کتابوں جو یہاں موجود ہیں بعینہ مفصلہ ذیل میں لکھی جاتی ہیں، اور عبارت فتاوی کی کہ سب الشیخین کفر ہے اس کا جواب بھی لکھا جاتا ہے بغور ملاحظہ فرمائیں۔ بلکہ اعتقاد کفر کا اہلِ اہوا جو بدعتی ہیں ان کی طرف رکھنا بھی کفر ہے‘‘۔ (۳)

مولانا لکھنویؒ سے پوچھا گیا کہ ہندہ ایک سنی خاتون ہے ، اس کا نکاح زید کے ساتھ ہوا جو شیعہ ہے ۔ نکاح بھی شیعہ طریقے کے مطابق ہوا۔ ایک دفعہ رخصتی بھی ہوچکی ہے۔ لیکن اب ہندہ اپنے خاوندکے گھر دوبارہ جانے سے انکاری ہے اور اس کا مطالبہ ہے پہلے مہر معجل ادا کیا جائے پھر جاؤں گی۔ جبکہ شیعہ مذہب میں خاوند مہر معجل کی ادائیگی کے بغیر بھی اسے لے جاسکتا ہے ، جبکہ فقہ حنفی کی عبارات مختلف ہیں۔ اب کیا کیا جائے۔ اس کے جواب مولانا عبد الحی لکھنویؒ نے لکھا ’’ اس صورت میں شوہر ہندہ کو قبل ادا کرنے مہر معجل کے لاسکتا ہے ، موافق قول صاحب بحر رائق کے‘‘(۴)۔

اسی طرح ان سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک حنفی شخص کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس کی ایک بیٹی مذہب امامیہ اختیارکیے ہوئے ہے۔کیا اس بیٹی کو وراثت میں حصہ ملے گا تو مولانا لکھنویؒ نے جواب میں لکھا ہے اس لڑکی کو بھی وراثت میں اپنا حصہ ملے گا۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ سے سوال کیا گیاکہ ایک شیعہ لڑکے نے سنی لڑکی کو دھوکا دے کر نکاح کرلیا۔ اسے اس نے یہ باور کرایا کہ میں سنی ہوں جبکہ حقیقت میں وہ شیعہ تھا۔ حقیقتِ حال واضح ہونے کے بعد نکاح کے حکم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس نکاح کو نافذ قرار دیا ، البتہ یہ قرار دیا کہ شیعہ سنی چونکہ ایک دوسرے کے کفو نہیں ہیں ، اور نکاح کے وقت غیر کفو ہونے کا علم نہیں تھا اس لیے اس نکاح کو عدمِ کفاء ت کی بنیاد پر فسخ کرایا جاسکتا ہے۔ گویا محض لڑکے کے شیعہ ہونے کی وجہ سے نکاح کو باطل قرار نہیں دیا۔ مولانا تھانویؒ چند فقہی عبارات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

ان روایات سے معلوم ہواکہ صورتِ مسؤلہ میں ولی منکوحہ اور اسی طرح بعد بلوغ خود منکوحہ کو بھی اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیار حاصل ہے۔ اور یہ فسخ بحکم حاکم ہوگا [یعنی اپنے طور پر میاں بیوی جدائی اختیار کرکے عورت دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی] جو کہ علاقہ حیدرآ باد میں آسان ہے(۵)۔

اسی طرح کا ایک فتوی مفتی محمد شفیعؒ کا بحیثیت مفتی دارالعلوم دیوبند موجود ہے ،یہاں بھی مفتی صاحب نے شیعہ کے کافر ہونے کو بنیاد بناکر نکاح از ابتدا باطل قرار نہیں دیا بلکہ دھوکا دہی کی وجہ سے دوسرے فریق کو فسخ کرانے کا اختیار دیا ہے۔ سوال وجواب دونوں ملاحظہ ہوں :

سوال : زیدسنی کی لڑکی کو دھوکا سے عمر شیعہ اپنے نکاح میں لایا، یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اور عمرشیعہ زید کو کندھا دے سکتا ہے یا نہیں؟ عمر کو زید کے قبرستان میں مردہ دفن کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب : اگر عمر نے اپنے آپ کو مثلاً سنی حنفی ظاہر کرکے زید کو دھوکا دے کر اپنا نکاح زید کی لڑکی سے کرلیا اور واقعۃً عمر شیعہ ہے تو اس صورت میں عورت اور اس کے اولیاء کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہے ۔۔۔ اور عمر زید کے جنازے کو کندھا دے سکتا ہے اور عمر کو زید کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز ہے۔ اس طرح کے امور میں جھگڑا فساد کرنا نہیں چاہیے۔‘‘ (۶)

دارالعلوم دیوبند کے مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ سے پوچھا گیا کہ لداخ کے علاقے میں اکثر شیعہ ہوتے ہیں اور اکثر ہوٹل بھی انہی کے ہوتے ہیں ، ان کے ذبیحہ کا کیا حکم ہوگا ، تو انہوں جواب میں لکھا:

’’اگر ان کے متعلق یہ تحقیق نہیں کہ ان کے عقائد قرآن کریم کے خلاف ہیں تو ان کے ہوٹل میں اور ان کا ذبیحہ کھانے کی گنجائش ہے۔‘‘ (۷)

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مفتی محمود الحسن گنگوہی ؒ کے خیال میں ایسے شیعہ بھی ہوتے ہیں جن کے عقائد قرآن کریم کے خلاف نہ ہوں۔

مولانا میاں اصغر حسین ؒ جو دار العلوم دیوبند کے بڑے اساتذہ میں سے اور صاحبِ کشف و کرامت بزرگ تھے، جن کا ذکر پہلے بھی گذر چکا ، انہوں نے میراث کے احکام پر عام مسلمانوں کے لیے ایک کتاب لکھی ، جس کا نام ’’مفید الوارثین‘‘ ہے۔ اس کے مقدمے میں وہ فرماتے ہیں : 

’’اثنائے تحریرِ رسالہ ایک معتبر کتاب مذہبِ شیعہ کی مل گئی تھی۔ ارادہ تھا کہ حاشیہ پر جا بجا اہل سنت اور شیعوں کا اختلاف ظاہر کردوں ، تاکہ ساتھ ساتھ دو فرقوں کے فرائض [احکامِ میراث] کا بیان ہوجائے، لیکن چونکہ رسالہ پہلے ہی سے بہت طویل ہوگیا تھااس لیے کچھ ارادہ ڈھیلا ہوا۔ پھر اس خیال نے بالکل ہی ارادہ فسخ کرادیا کہ اہلِ سنت کو اس کی ضرورت نہیں اور شیعہ صاحب میرے لکھے ہوئے کا کیوں اعتبار کریں گے‘‘۔ (۸)

اسی کتاب میں جہاں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم شرعاً ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے اور مسلمان رشتہ دار ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں ، وہاں لکھتے ہیں: 

’’شیعہ وسنی میں اکثر علما کے نزدیک میراث جاری ہوتی ہے۔یعنی سنی میت کے شیعہ وارث میراث سے محروم نہ ہوں گے ، اسی طرح شیعہ کے ترکہ میں اہلِ سنت حسبِ قاعدہ میراث اور حصہ پائیں گے۔‘‘(۹)

اسی کے حاشیے میں لکھتے ہیں: 

’’میراث المسلمین میں یہ مسئلہ دیکھ کر ایک صاحب بہت خفا ہوئے تھے۔ پھر کسی کو اگر شک ہو تو در مختار و شامی و فتح القدیر کی وہ عبارتیں دیکھ لیں جو مولانا عبد العلی بحر العلوم نے مسلم الثبوت کی شرح میں نقل فرمائیں ہیں۔ یا شامی نے جو باب المرتدین میں تحقیق و تفصیل فرمائی ہے ملاحظہ فرمالیں۔ البتہ وہ شیعہ جو بالکل کفریہ عقائد رکھتا ہو تو اس کا حال مثل کافروں کے سمجھا جائے گا۔‘‘

اب آخری زمانے میں مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بارے میں ماہنامہ الشریعہ کی متعدد اشاعتوں میں یہ بات آچکی ہے وہ بھی تکفیرِ شیعہ کے قائل نہیں تھے۔ عام طور پر تکفیرِ شیعہ کی ایک بنیاد تحریفِ قرآن کو قرار دیا جاتا ہے جبکہ علامہ شمس الحق افغانیؒ نے علوم القرآن میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ شیعہ بھی تحریفِ قرآن کے قائل نہیں ہیں ، یہی بات اس سے بہت پہلے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ ردِ عیسائیت پر اپنی معروف کتاب ’’اظہار الحق ‘‘ میں فرما چکے ہیں۔

یہاں مقصود فتاوی جات کا احاطہ یا ان میں راجح مرجوح کا فیصلہ کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اصل مقصود یہ دکھانا ہے کہ یہ جو مشہور ہوگیا ہے کہ بطور فرقہ شیعہ کو کافر کہنا اہلِ سنت کا متفقہ موقف ہے یہ درست نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر میں جب بھی مسلمان طبقات اور فرقوں کو یکجا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہاں اہلِ تشیع کو بھی مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ سمجھ کر ساتھ شامل کیا گیا۔مولانا سید فرید الوحیدی مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی سوانح حیات میں لکھتے ہیں : 

’’۱۹۲۹ء میں مولانا ابو الکلام آزاد نے تیس دوسرے قوم پر ور مسلمان لیڈروں کے ساتھ ’’نیشنلسٹ مسلم کانفرنس‘‘ قائم کی ۔ اگرچہ ان کی سرگرمیوں کا اصل مرکز بدستور کانگریس کا کام رہا۔ نیشنلسٹ مسلم کانفرنس اپنی کوئی مستقل جداگانہ تنظیم قائم نہیں کرسکی ، لیکن قوم پرور مسلمانوں کی مختلف جماعتوں جمعیت علماء ، شیعہ پولیٹکل کانفرنس، مجلس احرار ور خاں عبد الغفار خاں کی تنظیم کے لیے مشترک پلیٹ فارم کا کام دیتی رہی۔‘‘(۱۰)

یہاں شیعہ پولیٹیکل کانفرنس کو مسلمانوں ہی کی ایک تنظیم کے طور پر لیا جارہاہے۔

پاکستان بن جانے کے بعد یہ سوال اٹھا کہ ملک میں اگر اسلام نافذ کیا جائے تو کون سے فرقے کا۔ اس چیز کو نفاذِ اسلام سے گریز کا ایک بہانہ بنا لیا گیا تو ضرورت محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علما حکومتِ وقت اور ریاستی اداروں کو اپنے کچھ مشترکہ اور متفقہ اصول بتادیں۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ایک مشاورت کے نتیجے میں علما نے دستور سازی میں راہ نمائی کے لیے بائیس متفقہ نکات پیش کیے ۔ ان نکات کی تیاری اور ان پر دستخط کرنے والوں میں تمام مکاتبِ فکر کے علما شامل تھے۔ شیعہ حضرات کی طرف سے دو نام یہاں قابلِ ذکر ہیں ، مفتی جعفر حسین مجتہد رکن بورڈ تعلیمات اسلام اور مفتی کفایت حسین مجتہد ادارہ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان۔ گویا اس سارے معاملے میں اہل تشیع باقی مکاتبِ فکر کے ساتھ چل رہے ہیں اور باقی مکاتب فکر بھی انہیں مسلمانوں کا ہی ایک طبقہ اور مکتبِ فکر سمجھ کر معاملہ کررہے ہیں۔

ختمِ نبوت کی تمام تحریکوں میں شیعہ حضرات باقی مکاتبِ فکر کے ساتھ شریک رہے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی مجلس عمل تحفظِ ختم نبوت جس کے صدر مولانا محمد یوسف بنوریؒ تھے اس کے دو نائب صدر مولانا عبد الستار نیازی اور اور سید مظفر علی شمسی (شیعہ) تھے(۱۱)۔ نوے کی دہائی میں جب ملی یک جہتی کونسل بنی تو اس میں بھی شیعہ حضرات شامل تھے۔ اسی طرح اب پاکستان کے دینی مدارس کی تنظیموں کا ایک اتحاد ’’اتحاد تنظیماتِ مدارسِ دینیہ‘‘ موجود اور فعال ہے ، جس میں شیعہ حضرات کا وفاق المدارس بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ یہ محض مذہبی تعلیمی اداروں کا اتحاد نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے دینی تعلیم کے اداروں کا اتحاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسیحی یا قادیانی دینی درس گاہ کے اس اتحادمیں شامل ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

پھر ان دونوں فرقوں میں بحث مباحثوں اور مناظروں کا بازار بھی اگرچہ گرم رہا ، لیکن خود ان مباحثوں میں حصہ لینے والے حضرات میں کئی سنجیدہ شخصیات کا یہ احساس رہا کہ یہ مباحثے شائستگی کی حدود سے باہر نہیں نکلنے چاہئیں اور انہیں ماحول میں تلخی اور افتراق و انتشار کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان میں مولانا قاضی مظہر حسین چکوالویؒ کا نام اہل تشیع کی تردید میں لکھنے کے حوالے سے بہت معروف ہے۔ ان کے والد مولانا قاضی کرم الدین دبیرؒ بھی اسی میدان کے شہسوار تھے۔ لیکن ان کے احساسات ان کے چند اقتباسات کی شکل میں پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ اندازہ ہو کہ ہر مکتبِ فکرمیں ہمیشہ ایسے حضرات موجود رہے ہیں جو ماحول کو تلخی تک پہنچانے سے گریزاں رہتے تھے۔ آگے ذکر کردہ اقتباسات کا پس منظر یہ ہے کہ ان کے زمانے کے احمد شاہ نامی ایک شیعہ عالم جو پہلے سنی تھے نے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں خلفاء ثلاثہ ( حضرت صدیق اکبرؓ ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ ) پر اعتراضات کیے گئے اورنامناسب زبان استعمال کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں مولانا کرم الدین دبیر (والد مولانا قاضی مظہر حسینؒ ) نے السیف المسلول کے نام سے ایک رسالہ لکھا۔ یہ ذہن میں رہے کہ احمد شاہ ہی کے نام کے ایک عیسائی ہوجانے والے شخص نے نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے بارے میں ایک تکلیف رسالہ لکھا تھا ، جس کا ذکر دبیر صاحب کی بعض عبارات میں موجود ہے۔دبیر صاحب اپنی کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں :

’’مشتہر صاحب [احمد شاہ] نے محض فرقہ اہل سنت والجماعت کا دل دکھانے اور دونوں فرقوں (شیعہ وسنی) کے مابین تخم نفاق بونے کی غرض سے یہ اشتہار لکھ دیا ہے۔۔۔ افسوس کہ آج کل انقلاب زمانہ سے ایسا تو کوئی مردِ خدا دنیا میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتا جو بنی نوع انسان میں اتفاق اور اتحاد بڑھانے کی سبیل پیدا کرنے کی سعی کرے۔لیکن اختلاف ڈالنے اور تفرقہ پیدا کرنے والے ہزاروں پہلوان ہر طرف گونجتے پھرتے ہیں ‘‘۔

یہ کسی سیاسی مصلح یا یکسو مدرس کے الفاظ نہیں بلکہ ایک میدانِ مناظرہ کے شہسوار کے احساسات ہیں ۔ مزید لکھتے ہیں : 

’’چاہیے تو یہ تھاکہ ہمارے دوست احمد شاہ جو فرقہ اہل سنت والجماعت کے گھر میں پیدا ہوئے اور انہی کے گھر میں پرورش پاکر علم سیکھا ہے اب اگر کسی مصلحت یا اتفاق سے وہ فرقہ شیعہ میں جاملے ہیں، وہ اس بات کی کوشش کرتے کہ دونوں فرقوں میں رابطہ اتحاد پیدا ہو اور باہمی اتفاق و محبت کی صورت قائم ہو۔‘‘

احمد شاہ عیسائی کے ساتھ ان شیعہ صاحب کا تقابل کرتے ہوئے موخر الذکر سے شکوہ کناں ہیں کہ انہیں مسلمان ہوکر ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے تھا، اس کے بعد لکھتے ہیں:

’’شیعہ وسنی دونوں فرقے ایک خدا کی پرستش کرنے والے ایک نبی ، ایک قرآن پر ایمان لانے والے اور ایک قبلہ کی طرف سر جھکانے والے ہیں ۔ پھر افسوس ان دو متحد المقاصد فرقوں میں احمد شاہ شیعی جیسے ریکروٹ نئے بھرتی ہونے والے حضرات اتحاد قائم نہیں رہنے دیتے ۔‘‘

پھر اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ہر فرقے میں اس طرح کے جذباتی لوگ ہوتے ہیں جو ماحول کی خرابی کا باعث بنتے ہیں ، لکھتے ہیں :

’’صاحبان! جب تک دونوں فرقوں میں ایسے مجذوب الخیال اور مسلوب الحواس لوگ چن چن کر ’’کالا پانی‘‘ نہ بھیج دیے جائیں ان دونوں فرقوں میں یکجہتی اور اتحاد قائم ہونا مشکل ہے‘‘۔ 

کالا پانی یا جزائر انڈمین وہ جگہ تھی جہاں انگریزی دور میں مجرموں بالخصوص ’’باغیوں‘‘ کو سزا بھگتنے کے لیے بھیجاجاتا تھا۔یہ پھر ذہن میں رہے یہ ایک ایسی شخصیت کی تحریر ہے جو خود اہلِ تشیع کی تردید کے حوالے سے معروف ومشہور ہیں۔ مقصد ذکر کرنے کا یہ ہے کہ فرقہ وارانہ مباحثوں میں دلچسپی لینے والی شخصیات میں بھی ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اختلاف کو اختلاف ہی رکھنا چاہتے تھے ، جھگڑا نہیں بنانا چاہتے تھے۔ 

اپنی اس کتاب کے مقدمے میں صرف خود کو ہی امن کے خواہش مند کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ دوسری طرف بھی اسی طرح کے جذبات رکھنے والے لوگ موجود ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں :

’’میں کبھی باور نہیں کرسکتا کہ کہ دونوں فرقوں کے مہذب اور اولی الابصار لوگ ایسی نفاق انگیز تحریروں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔ بلکہ وہ تو ایسی مفسدہ تحریریں پڑھ کر جل بھُن جاتے ہوں گے۔ مگر کیا کریں یہ لوگ کسی کے قابو میں نہیں کہ اپنے یا بیگانے کسی کی سنیں۔
’’مجھے یاد ہے کہ اسی اشتہار کی نسبت پچھلے دنوں ایک شیعہ بزرگ مولوی مہر محمد شاہ خوش نویس جہلم نے ’’سراج الاخبار‘‘ میں ایک مضمون شائع کروایا تھا جس میں انہوں نے مُشتہر (احمد شاہ)صاحب کو بہت کچھ پھٹکار کی۔ اور ایسے شرمناک اشتہار کی اشاعت پر بہت افسوس ظاہر کیااور اصحاب ثلاثہؓ کا ایمان بروئے آیاتِ قرآنی ثابت کرکے مشتہر صاحب کو نادم کیا اور بڑے زور سے دعوت دی کہ اگر اس کو اس بارہ میں کچھ شک ہے تو ان سے زبانی مباحثہ کرکے اپنا اطمینان کرلیں۔‘‘

اس اقتباس میں ایک قابل توجہ بات تو یہ ہے کہ دوسرے فرقے کے پیشوا کو بھی ’’بزرگ‘‘ کے لقب سے یاد کیا جارہاہے۔ دوسرے اس بیان سے اس تاثر کی بھی نفی ہوگئی کہ ہر ہر شیعہ حضراتِ خلفاء ثلاثہ کو برا بھلا کہتا یا اسے استحسان کی نظر سے دیکھتاہے۔ بلکہ اس کے بر عکس معلوم ہوا کہ اہلِ تشیع میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے بعض لوگوں کے غلو کی اصلاح کرتے ہیں اور خلفاء ثلاثہ کا ایک ایمان قرآن سے ثابت کرتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال یہ ہے کہ جب کویت کے یاسر نامی ایک عرب نے نعوذ باللہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بعض افترا پردازیاں کیں تو ایران کی اعلی ترین قیادت نے بھی اس کی سختی سے تردید کی اور صراحتاً یہ کہا کہ اس طرح کا الزام نہ صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگانا غلط ہے بلکہ کسی بھی نبی کی بیوی کے بارے میں اس طرح کی لب کشائی جائز نہیں ہے۔ 

(جاری)


حواشی

(۱)ماہ نامہ ’’ نقیبِ ختمِ نبوت‘‘ جون ۲۰۱۱ء ماخوذ از : خلیق ابراہیم خلیق : منزلیں گرد کی مانند ص ۲۷۳

(۲)حاکم علی : مولانا احمد علی لاہویؒ کے حیرت انگیز واقعات بیت العلم کراچی ص ۲۵۴

(۳)مجموعۃ الفتاوی ، عمر فاروق اکیڈمی لاہور ۱/۸۹ استفتاء نمبر ۱۰۲۔ آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ تمام اہل اہوء (غیر سنی فرقوں) کو کافر قرار دینے سے خود اپنے کفر کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے ، غالبا اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کو کسی کو کافر کہتا ہے تو یہ بات دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور لگتی ہے۔

(۴) مجموعۃ الفتاوی عمر فاروق اکیڈمی لاہور ۱/۲۴۰ استفتاء نمبر ۱۹۷

(۵)امداد الفتاوی ۲/ ۲۲۹ مکتبہ دار العلوم کراچی]

(۶)فتاوی دارالعلوم دیوبند (امداد المفتین) ص ۵۰۶

(۷)فتاوی محمودیہ ۱۷/ ۲۳۶ فتوی نمبر : ۸۳۳۴مطبوعہ جامعہ فاروقیہ کراچی]

(۸)مفید الوارثین ص ۳

(۹)مفید الوارثین ص ۶۸

(۱۰)شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی : ایک تاریخی وسوانحی مطالعہ ص ۳۳۵

(۱۱) طاہر رزاق : مرگِ مرزائیت ص

آراء و افکار