روس کے خلاف افغانوں کا جہاد: ایک مغالطے کا ازالہ

اکرم تاشفین

روس کے خلاف افغانوں کا جہاد ، امریکا کا تعاون اور روس کی شکست۔یہ موضوع اب شاید مزید اس قابل نہیں کہ اس پر بحث ومباحثہ کا میدان گرم رکھا جائے کیوں کہ ’’اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘۔ دنیا بھر میں تیزی سے بدلتے حالات میں عالم اسلام کو اس وقت جن فکری اور نظریاتی چیلنجوں کا سامنا ہے، ایسے حالات میں روس کی شکست کے پارینہ قصے کو دہرا نا ضیاع وقت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ تاریخ کے اس حساس عصر میں مسلمان اہل فکر وقلم کو آگے بڑھتے رہنا چاہیے اور مسلمانوں خصوصاً نوجوان نسل کو جن فکری پیچیدگیوں کا سامنا ہے، ان گتھیوں کو سلجھاتے رہنا چاہیے۔ آج کی نشست میں روس کے خلاف افغانوں کی مزاحمت کا قصہ دہرانے کا مقصد ایک مغالطہ کا ازالہ کرنا ہے جو عموماً ہمارے نوجوانوں کو ہمارے اہل قلم کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک دانشوراور کالم نگار نے گذشتہ دنوں ایک معروف روزنامے میں یہی مغالطہ دہرایا۔ انہوں نے اس بات کا ایک بارپھر تکرار کیا کہ سوویت یونین کو شکست دراصل امریکا نے دی تھی اور افغان عوام اس جنگ کی بھٹی میں جلنے والے ایندھن کے طورپر استعمال کیے گئے۔ وہ اس بات پر نالاں تھے کہ ’’روس کا سوشل ازم دنیا بھر میں یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام میں نقب لگا چکا تھا اور ہر میدان میں سرمایہ داریت کو چیلنج کررہا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے سے امریکا کے لیے دنیا بھر میں میدان صاف ہو گیا اور وہ چند ارب ڈالر خرچ کرکے واحد سپر پاور بن بیٹھا اور مسلمان واحد سپر پاور کے پنجے میں آگئے۔ ‘‘

مذکورہ کالم نگار نے یہ بات ذرا طویل الفاظ میں کی ہے، ہم نے ان کا خلاصہ یہاں لکھا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیوں ایک اچھا تجزیہ کار حقائق سے نظریں پھیرتا ہے؟ کسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ہم ایک ہی جانب اور ایک ہی زاویے سے کیوں کسی معاملے کو دیکھتے ہیں؟ معاملے کا ایک پہلو بے شک یہی ہے کہ امریکا اور روس ایک دوسرے کے بڑے حریف تھے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ امریکا اور روس دونوں اپنے ساتھ ایک خاص نظام بھی لیے ہوئے دنیا پر چھا جانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اس میں بھی کوئی دورائیں نہیں کہ روس کی شکست امریکا کی فتح تھی اور امریکا کی شکست روس کی فتح، کیوں کہ اس وقت دونوں ممالک اور دونوں نظام دو مقابل قطب بن کر دنیا کے افق پر کھڑے تھے۔ گویا دونوں، ترازو کے الگ الگ دوپلڑوں میں تھے۔ ایک کا بھاری ہونا یقینی طورپر دوسرے کا ہلکاہونا تھا۔ یہ ایک بدیہی معاملہ تھا جس سے کوئی مفر بھی نہ تھا۔ اس زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ بات کسی حد تک ٹھیک لگتی ہے جو مذکورہ قلم کار نے کی مگر اس معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے اور یہی وہ پہلو ہے جس سے آج تک ہمارے مصنفین اور رائٹرز صرف نظر کرتے آرہے ہیں۔ وہ یہ کہ اشتراکیت اور سرمایہ داریت کی جنگ کو افغانستان میں ایک افغان کی نظر سے دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ 

۱۹۷۹ء میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس وقت افغانوں کے سامنے ایک ہی سوال تھا کہ روسی جارحیت کے مقابلے میں کیا کیا جائے ؟افغانوں میں کچھ تو وہ تھے جو روسی جارحیت سے قبل ہی اس کے اشتراکی نظریے کے حامی بن چکے تھے۔ ایسے لوگوں کے لیے روس کا افغانستان پر قبضہ کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہ تھا، کیوں کہ ایسے لوگوں کو اپنے مفادات کی تکمیل کا ایک بہترین موقع ہاتھ آگیا تھا۔ مسئلہ تو ان دیندار مسلمانوں کا تھا جنہوں نے کمیونزم کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ خلق وپرچم کے کمیونسٹوں کے علاوہ اکثر افغان عوام کے سامنے اب بس یہی سوال تھا کہ روسی جارحیت کے بعد کیا کیا جائے ؟ ان کے سامنے دو مسائل تھے جو بار بار انہیں اپنے آپ سے یہ سوال دہرانے پر مجبور کررہے تھے۔ پہلا مسئلہ تھا روسیوں اور ان کے کٹھ پتلی کمیونسٹوں کے بے انتہا مظالم کا۔ وحشیانہ مظالم کی یہ کہانیاں آج بھی لوگوں کو از بر ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ جن لوگوں نے روسیوں کے مظالم سہے، وہ نسلیں آج بھی زندہ ہیں۔ ایسے حالات میں جب محض اسلام پسندی کی بنا پر لوگوں کا قتل عام کیا جائے ، مال واملاک چھین لیے جائیں اور اشتراکی نظریے کے علاوہ کسی بھی عقیدے کا نام لینا جرم بن جائے ،انسان نما وحشی درندوں کے غول گھر کی دہلیز پار کرکے آپ کے حرم میں داخل ہو جائیں، بیٹی ، بہن اور بیوی کی عزت محفوظ نہ ہو۔ صبح اٹھیں تو شام تک یقین نہ ہو کہ کب یہ خون آشام درندے آئیں گے اور معصوم بیٹیوں کی عصمت کی چادر تار تار کرکے چلے جائیں گے۔ ایسے سینکڑوں واقعات ہوئے کہ روسی فوجی ہیلی کاپٹر میں آئے، چھاپہ مارکرچلے گئے اور جاتے جاتے گاؤں کی دوشیزاؤں کو ریوڑ کی طرح ہنکا کر لے گئے اور پھر جب ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہوا تو ان کے کپڑے ہوا میں لہراتے ہوئے نیچے گرے اور صحراؤں اور ریگستانوں میں بکھر گئے۔ قرآن کریم کی بے حرمتی، مساجد کی تباہی، کیا کیا مظالم ہیں جو میری مظلوم قوم نے نہ سہے؟ کتنے بے آسرا والدین کے جوان بیٹوں کی لاشیں ان کے کندھوں پر لادی گئیں۔ 

افغانوں کا دوسرا مسئلہ فکری اور نظریاتی تھا۔ دراصل اشتراکیت اور سرمایہ داریت کے نام سے دنیا میں جوجنگ چل رہی ہے جس میں روس کی شکست کے بعد آج بظاہر سرمایہ داریت ہی کا تسلط قائم ہے ، یہ جنگ دونظاموں کی نہیں، تین نظاموں کی جنگ ہے، یعنی اشتراکیت ، سرمایہ دارنہ نظام اور اسلام۔ اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کی جنگ تو ظاہر ہے کہ معاشی اور عسکری اعتبار سے دنیا کی دو طاقتور قوتیں ان نظاموں کے پشت پر ہیں، اس لیے ان کی قوت سب کے سامنے ہے۔ تیسرا فریق اسلام ہے۔ اگرچہ بظاہر اس کا علمبردار کوئی مضبوط معاشی یا عسکری ملک نہیں جس کی وجہ سے دنیا میں سرمایہ داری یا اشتراکیت کی طرح اسے بھی غلبہ ملے، مگر روس اور امریکا دونوں اس راز سے واقف ہیں کہ اسلام دنیا میں ایک تیسرے مضبوط نظام کی حیثیت سے ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابھرنے کی یہ صلاحیت اسے بیرونی عوامل نے اسے نہیں بخشی بلکہ فی ذاتہ یہ ایک مکمل نظام ہے جو دنیا کی کامیاب رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے بظاہر ’’رِنگ‘‘ میں نہ ہونے کے باوجود اشتراکیت اور سرمایہ داریت نے اسے اپنے لیے خطرہ سمجھا۔ روس کی شکست کے بعد امریکیوں نے کہا تھا کہ ’’اب ہمارے سامنے اسلام ہی واحد خطرہ ہے جو ہماری راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے‘‘ اور یہی بات روس کے لاشعور میں بھی کہیں موجود تھی، یعنی وہ امریکا کے بعداسلام ہی کو اپنا دشمن سمجھتا تھا۔ اس لیے روس کا اشتراکی نظریہ امریکا کے سرمایہ دارانہ نظام کے لیے جتنا بڑا خطرہ تھا، اپنے دوسرے حریف اسلام کو بھی وہ اتنا ہی بڑا دشمن سمجھتا تھا۔ 

عام طور پر ہمارے دانشورسرمایہ دارانہ نظام کی دشمنی کی بات تو کرتے ہیں، مگر روس کی اسلام دشمنی کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ افغانستان آنے سے قبل روس نے وسطی ایشیائی ممالک پر قبضہ کیا تھا۔ وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ روس نے جو کیا، اس کی تاریخ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کاش ہمارے دانشور افغانستان پر تبصرہ کرنے سے پہلے وسطی ایشیائی ممالک میں ہونے والے روسی مظالم کی بھیانک تاریخ پڑھ لیں۔ روس کی مزاحمت صرف افغانوں نے نہیں کی، وسطی ایشائی ممالک قفقاز اور چیچنیا وغیرہ میں روس کے خلاف بڑی مزاحمتی تحریکیں چلیں۔ قفقاز میں امام شامل اور چیچنیا میں شامل بسایوف نے بھی روس کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ ان کی جنگیں بھی سالہا سال پر محیط رہیں، مگر افسوس وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ سوویت یونین کی شکست وریخت افغانوں کے ہاتھوں لکھی تھی۔افغانستان میں سوویت یونین کو اشتراکیت کے علاوہ اور کوئی نظریہ قبول ہی نہ تھا۔ ماہنامہ ’’شریعت‘‘ میں شائع ہونے والے ہمارے ایک دوست کے مضمون کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے جنہوں نے اس صورتحال کا بہت جامع الفاظ میں نقشہ کھینچا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: 

’’افغان اتنے پاگل تھے اور نہ اس حد تک زندگی ان پر بوجھ تھی کہ کسی لایعنی مقصد کے لیے دوملین بھائیوں اوربیٹوں کی قربانی دیتے۔ کمیونسٹ یلغار کے بعد افغانوں کو بڑے اندرونی وبیرونی دشمن کا سامنا تھا۔ افغانوں کے وطن پر سیلاب بہہ نکلا تھا اور انہیں اپنے سب سے بڑے سرمایے یعنی اسلامی عقیدے کے خاتمے کا خطرہ درپیش تھا۔ افغانستان کا شمالی طاقتور پڑوسی یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ طوعاً وکرہاً ہر افغان بچے ،بڑے، مرد اورعورت کے ذہن کومارکس ازم کے دَہری عقیدے کا انجکشن لگایا جائے۔ نماز ،روزہ ، حج ، زکوٰۃ، مسواک، اذان، مسجد، قرآن، اللہ، رسول، مذہب اور تمام عربی اصطلاحات کو عقیدے اورعمل سے نکال دیا جائے۔ افغانوں کو روسی تعاون کے بدلے اپنا ڈیڑھ ہزارسالہ قبلہ لینن گراڈ کی جانب موڑلینا چاہیے، کیوں کہ نئے مارکسسٹ معاشرے کا یہی تقاضا ہے۔ بریگ نوف نے کہا ’’کمیونزم کے پڑوسیوں کو صرف کمیونسٹ ہی ہونا چاہیے اور بس‘‘۔ یہی واقعہ اور یہی یک طرفہ کفری یلغار تھی جس نے افغانوں کو دیوار سے لگادیا۔ کسی طرح کا استثنا،کوئی راستہ اور کوئی مصلحت افغان عوام کے لیے نہ چھوڑی گئی۔ بریگ نوف نے حفیظ اللہ امین کی زبانی اعلان کیا کہ’’ دو کروڑ مخالفین کو قتل کردینا چاہیے تاکہ61 ہزار افراد پر مشتمل معاشرے کے لیے راہ ہموار ہوجائے‘‘۔ افغان عوام مجبور تھے کہ یا تو عقیدے کی موت قبول کریں اور یا جسمانی موت۔ چونکہ جسمانی موت آسان ہے اور اس کا انجام بھی عقیدے کی موت کے بہ نسبت صرف ظاہری اور وقتی ہے، اس لیے ڈیڑھ ملین افغانوں نے جسمانی موت کوگلے لگالیا تاکہ اپنی قوم کو عقیدے کی موت سے بچاسکیں۔‘‘ 

افغانوں نے جب اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھائے تو کوئی بھی امریکی ان کے درمیان موجود نہیں تھا جو انہیں یہ راستہ دکھا رہا تھا۔ افغان حریت پسندوں نے اگر اس وقت ہتھیار اٹھائے تو وہ صرف روسی مظالم اور اسلام دشمنی تھی جس نے افغانوں کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ افغان مجاہد ین نے جہاد کا آغازسوکھے پیٹ اور پرانے ہتھیاروں سے کیا تھا۔ وہ بوتل سے گرنیڈ بناکرروسی لشکر کا ٹینک اڑانے کی کوشش کررہے تھے۔ کلہاڑی ، بیلچہ اور پتھر لے کر وہ روسی ٹینکوں کے سامنے سینہ سپر ہو رہے تھے، کیوں کہ نہتے عوام کے پاس اب صرف یہی راستہ بچا تھا۔ 

افغانوں کی مزاحمت کے آغاز کے بعد دنیا کے سامنے ایک نیا منظر نامہ بن رہاتھا۔ ایک جنگ چھڑگئی تھی جس میں ایک جانب دنیا کی طاقت ور ترین قوت سوویت یونین اور دوسری طرف نہتے افغان عوام تھے۔ جہاں دیگر حقائق قابل تسلیم ہیں، وہاں یہ بات بھی مان لینی چاہیے کہ دونوں فریق اپنی اپنی تاریخ ، مضافات و متعلقات ، دوست و دشمن ، اپنی اپنی ترجیحات اور اپنا اپنا بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ روس ایک عالمی سپر پاور تھا جس کی جنگ کے اثرات اس کے دوستوں اور دشمنوں سب پر پڑنے والے تھے۔ ایک جانب وسطی ایشائی ممالک تھے جو براہ راست روسی جارحیت کا شکار تھے۔ دوسری جانب پاکستان تھا جو افغانستان کے بعد روسی جارحیت کا شکار بننے والا تھا۔ پاکستان کے بلوچستان اور کراچی کے ساحلوں سے ٹکرانے والے بحیرہ عرب کے اس پارعرب ممالک پھیلے ہوئے ہیں جن کا خیال تھا کہ روس کی استعماری جد وجہد کا اصل ہدف عرب ممالک ہی ہیں جہاں سوشل ازم کے بڑے حریف مذہب ’’اسلام‘‘ کے روحانی مرکز کے ساتھ ساتھ تیلکے وسیع ذخائر بھی ہیں۔ دوسری طرف مغربی یورپی ممالک تھے جو سرمایہ دارانہ نظام کے حامی تھے اور روس کو اپنا فطری حریف سمجھتے تھے۔ادھرسوویت یونین تھا کہ پوری دنیا کو تاراج کرنے کا سودا سر میں لیے بے لگام ہوکر نکل پڑا تھا۔ 

’’دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے‘‘، اس لیے سوویت یونین کے ہر بدخواہ کی خواہش تھی کہ افغانوں کے ہاتھوں سوویت روس کی شکست ہوجائے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ روس کے عتاب اور قہر آلود نگاہوں کے سامنے کسی کا بس بھی نہ چلتا تھا۔ اس لیے افغانوں کی جنگ شروع ہونے کے بعد ایک عرصہ تک دنیا دم بخود کھڑی دیکھتی رہی۔ سوویت یونین کے رعب اور دبدبے کے سامنے کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ یوں علی الاعلان افغانوں کی مدد کے لیے آگے آتا۔ افغان مجاہدین کو امداد پہلے دن ہی سے ملنا شروع نہیں ہوئی۔ ساری دنیا اس انتظار میں تھی کہ یہ جنگ آگے جاکر کیا رخ اختیار کرے گی ؟ کسی کو یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ افغان اتنا مضبوط عزم لے کر اٹھے ہیں کہ روس اپنی تمام تردرندگی کے باوجود انہیں شکست نہیں دے سکے گا۔ آخر یہ انہونی بھی ہونی ہوگئی ، دنیا کو یقین آگیا کہ افغانوں کی مزاحمت کوئی وقتی وبال یا دو روزہ جذبہ انتقام نہیں۔ تب ہی افغانوں کی جانب عرب دنیا اور امریکا نے تعاون کا ہاتھ بڑھا یا۔فکری اعتبار سے یہ تعاون تین دشمنوں میں سے ایک طاقتور دشمن کے خلاف دو کا آپس کا اتحاد تھا جس میں ایک نے اپنا سر پیش کیا کیوں کہ اس کے پاس اس کے سوا کچھ تھا ہی نہیں۔ دوسرے نے اپنی ٹیکنالوجی پیش کی کیوں کہ سرجاتے ہوئے اس کی جان جاتی ہے۔ 

یہ تھا وہ باعث جس نے افغانوں کو ہاتھوں میں ہتھیار تھمادیے۔ شریف النفس افغانوں کے خلاف روس نے ہی سازشوں کے جال بنے تھے اور پھر خود ہی جارحیت ہی کی تھی۔ اس کے باوجود ہمارے دانشور وں کے پاس لعنت ملامت کے لیے افغان عوام ہی ہیں۔ روس کی تو جیسے معصومیت قسم کھانے کے قابل ہو۔ دنیا میں اگر کوئی اپنے حق کے لیے آواز یا ہتھیار اٹھائے تو ساری دنیا اس کی حمایت میں کھڑی ہوجاتی ہے۔ اس کو انصاف دلانے کی بات کی جاتی ہے، مگر ہم افغانوں نے اپنی آزادی اور حق کے لیے ہتھیار اٹھاکر ایسا کون سا بڑا گناہ کردیا کہ غیر تو غیر، اپنے مسلمان بھی مسلسل کوستے چلے جارہے ہیں؟ سرخ ریچھ کو موت کی گھاٹ اتارنا کیا اتنا بڑا جرم ہے کہ بیس سال بعد بھی قابل معافی نہیں؟ روس کی تباہی سے اگر امریکا کو فائدہ ہونا تھا تو یہ اس جنگ کا خود بخود حاصل ہونے والا ایک ناگزیر نتیجہ تھا، افغانوں کی جنگ ہرگز اس مقصد کے لیے نہیں تھی۔ افغانوں نے اس وقت بھی اسلام کے دفاع کی جنگ لڑی، اس وقت بھی کافروں کو اسلام کا دشمن سمجھا، آج بھی کفر کو اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ آج ہم اس بات پر نالاں ہیں کہ امریکا کا کوئی حریف نہیں جو اسے نکیل ڈالے! تو کیا روس جیسا وحشی مقابل ہونے کی صورت ہم مسلمان محفوظ اور پر امن رہ جاتے؟ دو عالمی طاقتوں کی رسہ کشی میں ہماری کمزور اقوام کیا پامال نہ ہوجاتیں؟ اسلام اور مسلمانوں کو آج جو پریشانیاں درپیش ہیں، کیا اشتراکیت کے وجود سے وہ دوگنی نہ ہوتیں؟ 

اوپر کی سطورکا مقصد صورت حال کی تھوڑی سی وضاحت تھی ۔ روس کے خلاف افغانوں کی جنگ میں افغانوں کو محض ایندھن یا مجاہدین رہنماؤں کو امریکی آلہ کار کہنے سے قبل اس جنگ کو ایک عام افغان کی نظر سے دیکھا جائے اور اس پہلو پر بھی سوچا جائے کہ اس وقت افغانوں کے پاس امریکا سے اسلحہ لے کر لڑنے کے سوا اور بچا بھی کون سا راستہ تھا!

آراء و افکار

(مئی ۲۰۱۴ء)

Flag Counter