جمہوری و مزاحمتی جدوجہد ۔ محمد رشید کے جواب میں

ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

الشریعہ اپریل ۲۰۱۴ء کے شمارے میں محمد رشید صاحب کا مضمون ’ جمہوری و مزاحمتی جدوجہد‘ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے اس میں انتہائی وضاحت سے اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا اور دوسرے جہادی و انقلابی لوگوں کا نقطہ نظر بیان کردیا ہے۔ ہم اس نقطہ نظر کو اول تا آخر غلط سمجھتے ہیں اور اس غلطی کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ 

فاضل مضمون نگار کی تحریر میں جہادی و انقلابی نقطہ نظر انتہائی وضاحت سے بیان کر دیے جانے کے باوجود پوری تحریر قرآن و حدیث کے دلائل سے مکمل طور پر تہی دامن نظر آتی ہے۔ پوری تحریر واضح طور پر محض جذبات کی شاعری کا اظہار ہے۔ اس بات کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ یہ پورا نقطہ نظر اصلاً قرآن و حدیث کی تعلیمات پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس نقطہ نظر کے حاملین کی اپنی خواہشات، پر جوش ذہنیت، رد عمل کی نفسیات ، نام نہاد غیرت اور اسی طرح کے کچھ دوسرے جذبات پر مبنی ہے۔ فاضل مضمون نگار بھی بس علامہ اقبالؒ کے کچھ زبان زد عام اشعار ہی کو استدلال کے طور پر پیش کرسکے ہیں۔ ہماری نظر میں دور حاضر کی اس جہادی اور انقلابی فکر کی اصل خامی ہی یہی ہے کہ یہ فکر قرآن و سنت پر مبنی نہیں ہے بلکہ رد عمل کی نفسیات کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔ استعماری طاقتوں کے ظلم و ناانصافی پر مبنی اقدامات کو بنیاد بنا کر ہوش و حواس سے عاری اور قید شریعت سے آزاد جذبات پر مبنی تباہ کن تشدد اور دہشت گردی کو ’مزاحمت‘ اور ’جہاد‘ کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ 

اس پر مستزاد یہ کہ خود فاضل مضمون نگار کے اعتراف کے مطابق اسلام کے پیروکاروں کی عظیم اکثریت اوربہت سے مذہبی قائدین اور محترم علمائے دین جمہوریت اور پر امن جدو جہد کے قائل ہیں تو پھر آپ آخر کس کا اتباع کر رہے ہیں ؟ خود علامہ اقبالؒ جن کے اشعار بہت دہرائے جاتے ہیں ، ان کی پوری زندگی برطانوی استعمار کے خلاف پر امن اور آئنی اور قانونی جدوجہد کی آئینہ دار ہے۔ علامہ اقبال ؒ کی پوری زندگی میں مسلح جدوجہد اور مزاحمت کانام و نشان نہیں ملتا۔ ۱۹۲۰ء کے بعد سے بر صغیر پاک و ہند کے ہرمکتب فکر کے تما م قابل ذکر علما ئے کرام بھی اسی پر امن اور قانونی جدو جہد کے علم بردار رہے ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند میں ’اسلامی انقلاب‘ کے ایک بہت بڑے داعی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’ غلطی سے تاریخ نگاروں نے غزوات کو اتنا نمایاں کر دیا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں عرب کا یہ انقلاب لڑائیوں سے ہوا۔ حالانکہ آٹھ سال کی تمام لڑائیوں میں جن سے عرب جیسی جنگجو قوم مسخر ہوئی ، طرفین کے جانی نقصان کی تعداد ہزار بارہ سو سے زیادہ نہیں ہے۔ انقلابات کی تاریخ اگر آپ کے پیش نظر ہے تو آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ انقلاب غیرخونی انقلا ب(bloodless revolution) کہے جانے کا مستحق ہے۔‘‘ (تحریک آزاد ی ہند اور مسلمان۲:۱۸۷) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جہادی و انقلابی فکر جس طرح قرآن و سنت کے دلائل سے محروم ہے اسی طرح اسلاف و اکابرین علما کی اجماعی حمایت سے بھی بڑی حدتک خالی ہے۔ 

فاضل مضمون نگار ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ : ’’ پہاڑوں پر رہنے والے آزاد اور بہادر مسلم قبائل ابلیسی قوتوں کے اس بہکاوے اور لالچ میں آنے سے جب انکار کرتے ہیں اور مغربی ابلیسیت کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان پر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے۔‘‘ دوسری طرف وہ عالمی ابلیسی قوتوں کو یہ الزام دیتے ہیں کہ وہ جعلی جہاد اور جعلی مجاہدین کے ذریعے اصلی جہاد اور اصلی مجاہدین کو بدنام کر رہے ہیں ۔ اب یہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ کون جعلی مجاہد ہے اور کون اصلی؟ کون سی کاروائی جعلی مجاہدین کر رہے ہیں اور کون سی اصلی مجاہدین؟ ہماری رائے میں یہ بات صرف اس لیے کی جاتی ہے تاکہ شریعت کی قید سے آزاد اور نقل و عقل کے دلائل سے عاری اس مسلح جدو جہد کے اگر بظاہر کچھ اچھے پہلو اور مثبت نتائج ہوں تو ان کا کریڈٹ لے لیا جائے اور برے پہلوؤں اور منفی نتائج کو عالمی ابلیسی قوتوں اور جعلی مجاہدین کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ آج تک اس طرح کی کسی جہادی کاروائی کے متعلق متعین طور پر یہ نہیں بتایا جا سکا ہے کہ یہ کس ابلیسی قوت یا جعلی مجاہدین یا بیرونی طاقتوں کی کارستانی ہے۔ دہشت گردی کی کاروائیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے خیبر پختونخواہ میں پہلے پانچ سال ایم ایم اے کی حکومت رہی جو جہادیوں کی حامی سمجھی جاتی تھی اور آج بھی صوبے کی مخلوط حکومت جہادیوں کی کھلم کھلا حامی ہے۔ کیا اس دوران کبھی ایسا ہوا کہ کسی خود کش دھماکے یا دہشت گردی کے الزام میں ایسے لوگوں کو پکڑا گیا ہو جو ان ابلیسی قوتوں یا غیر ملکی ایجنسیوں کے ایما پر یہ کام کر رہے ہوں ۔ اس کے برعکس کم و بیش ہر کاروائی کی ذمہ داری جہاد ی گروہ کھلم کھلا قبول کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود جعلی مجاہدین، تیسرے ہاتھ اور بیرونی دشمنوں کا واویلا کیا کھلے جھوٹ کا درجہ نہیں رکھتا؟ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب مرکزی حکومت اور جہادیوں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات شروع ہوئے اور جہادیوں نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا توایسی تمام کاروائیاں مکمل طور پر بند رہیں۔ کہاں گئے جعلی مجاہدین اور کہاں گئیں ابلیسی قوتیں؟ 

انسانیت کی تاریخ میں جنگ و قتال بجا طور پر ہمیشہ ایک غیر مطلوب، اضطراری اور ہنگامی حالت رہی ہے اورامن و سکون کا زمانہ بالکل فطری، مطلوب اور مستقل چیز سمجھا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی تبدیلی کی جدوجہد کے لیے بھی یہی اصول فطری اور عین مطلوب ہے۔ مگر فاضل مضمون نگار نے جوش جذبات میں یہ ترتیب بالکل الٹ دی ہے۔ ان کے نزدیک اب جنگ و قتال اور مسلح جدو جہد عین فطری اور مستقل حالت قرار پائی ہے جبکہ پر امن دور اور پر امن جدو جہد اضطراری اور وقتی ’ٹول‘ قرار پایا ہے۔ 

جنگ کے اصلاً ایک غیر مطلوب حالت ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان دلیل ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جن ایام میں دشمنوں سے ملاقات ہوئی تو آپ نے انتظار کیا ، یہاں تک کہ آفتاب ڈھل گیا تو آپ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا، اے لوگو! دشمنوں سے ملاقات کی تمنا مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے سلامتی مانگو ، لیکن جب دشمن سے سامنا ہوجائے تو پھر ثابت قدم رہو ، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا! الٰہی،کتاب کے نازل کرنے والے، بادل کے چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے، ان کو شکست دے اور ہمیں ان پر غالب کر۔‘‘ (مسلم۲: ۲۰۳۶)

فاضل مضمون نگار فرماتے ہیں: ’’ ازل سے ایسا ہوتا رہا ہے کہ انسان کی انانیت، تکبر اور اس میں چھپا ہوا ابلیس اسے اپنے سے کمزوروں کا استحصال اور ان کا دائرہ حیات تنگ کرنے پر آمادہء پیکار کرتا رہا ہے۔ جس کا نہایت مسکت جواب قوانین فطرت کے عین مطابق ’مسلح بغاوت یا مسلح مزاحمت‘ کی صورت میں ہر دور کے نمرودوں اور فرعونوں کو ملتا رہا ہے۔‘‘ اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے، اور یہی تاثر دینا غالباَمقصود بھی ہے ، گویا نمروداور فرعون کے خلاف ان کی طرف بھیجے جانے والے رسولوں نے مسلح جدوجہد کی تھی اور جہاد و قتال کے ذریعے ان پر غلبہ پایا تھا۔ اور یہی وہ واحد منہاج ہے جو ہر دور کے ’نمرودوں‘ اور ’فرعونوں‘ کے خلاف اختیار کیا جانا چاہیے۔ قرآن مجید اس تاثر سے بالکل خالی ہے۔ نمرود کی طرف بھیجے جانے والے جلیل القدر رسول سیدنا ابراہیمؑ تھے۔ آپؑ کا تذکرہ قرآن کی کم و بیش ۲۵ سورتوں میں کیا گیا ہے مگر اشارۃََ بھی کہیںیہ ذکر نہیں کیا گیا کہ آپؑ نے نمرود کے خلاف کوئی مسلح جدوجہد کی تھی۔ اس کے برعکس آپؑ کی پوری جدوجہد واضح طور پر اول تا آخر دعوت و تبلیغ اور ہجرت پر مشتمل ہے۔ مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب سیوہارویؒ لکھتے ہیں: ’’ غرض حضرت ابراہیم ؑ نے سب سے پہلے اپنے والد آذرکو اسلام کی تلقین کی ،پیغام حق سنایا اور راہ مستقیم دکھائی۔اس کے بعد عوام اور جمہور کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور سب کو امر حق تسلیم کرانے کے لیے فطرت کے بہترین اصول و دلائل کو پیش فرمایا اور نرمی، شیریں کلامی مگر مضبوط و محکم اور روشن حجت و دلیل کے ساتھ ان پر حق کو واضح کیا اور سب سے آخر میں بادشاہ نمرود سے مناظرہ کیااور اس پرروشن کردیا کہ ربوبیت والوہیت کا حق صرف خدائے واحد ہی کے لیے سزاوار ہے اور بڑے سے بڑے شاہنشاہ کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس کی ہمسری کا دعویٰ کرے کیونکہ وہ اور کل دنیا اسی کی مخلوق ہے اور وجود و عدم کی قید و بند میں گرفتار ۔ مگر اس کے باوجود کہ بادشاہ آذر اور جمہور حضرت ابراہیم ؑ کے دلائل سے لاجواب تھے اور دلوں میں قائل بلکہ بتوں کے واقعہ میں تو زبان سے بھی اقرار کرنا پڑا کہ ابراہیم ؑ جو کچھ کہتا ہے وہی حق ہے اور صحیح و درست، تاہم ان میں سے کسی نے راہ مستقیم کو اختیار نہ کیا اور قبول حق سے منحرف ہی رہے۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے برعکس اپنی ندامت و ذلت سے متاثر ہو کر بہت زیادہ غیض و غضب میں آگئے اور بادشاہ سے رعایا تک سب نے متفقہ فیصلہ کر لیا کہ دیوتاؤں کی توہین اور باپ دادا کے دین کی مخالفت میں ابراہیم ؑ کو دہکتی آگ میں جلا دینا چاہیے کیونکہ ایسے سخت مجرم کی سزا یہی ہو سکتی ہے اور دیوتاؤں کی تحقیر کا انتقام اسی طرح لیا جاسکتا ہے ..... اس مرحلہ پر پہنچ کر ابراہیم ؑ کی جدوجہد کا معاملہ [نمرود کی حد تک ] ختم ہوگیا۔‘‘(قصص القرآن۱: ۱۵۰)

یہی معاملہ فرعون کی طرف بھیجے جانے والے جلیل القدر رسول سیدنا موسی ؑ کا ہے۔ آپؑ کا تذکرہ قرآن کی کم و بیش ۳۷ سورتوں کی سیکڑوں آیات میں کیا گیا ہے۔ فرعون کے تمام تر مظالم اور زیادتیوں کے باوجود اس کے خلاف کسی قسم کی مسلح جدو جہد کا سراغ نہیں ملتا۔ قرآن سے واضح ہے کہ سیدنا موسی ؑ فرعون کے خلاف ’مسلح بغاوت‘ کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ اسے اللہ کی بندگی کی دعوت پہنچانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کا مطالبہ کرنے پر مامور تھے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہے کہ فرعون کا عبرت ناک انجام کسی ’مسلح مزاحمت‘ کے نتیجے میں نہیں بلکہ اس دعوت کو ٹھکرانے اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرنے کے نتیجے میں براہ راست اللہ کی جانب سے عذاب مسلط کرنے سے ہوا تھا۔ہم اس حوالے سے صرف دو آیات پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: ’’ جا، تو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ۔ اور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہکرنا۔ جاؤ تم دونوں فرعون کے پا س کہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا۔شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔‘‘ (طٰہٰ ۲۰: ۴۴۔۴۲) ’’ہم ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں ۔ ان کے پاس ایک نہایت شریف رسول آیا ، اور اس نے کہا، اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو۔ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے (اپنی ماموریت کی ) صریح سند پیش کرتا ہوں۔ اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو۔ اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو۔ آخرکار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں ۔(جواب دیا گیا) اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑو۔ تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا۔ سمندر کو اس کے حال پر کھلا چھوڑ دے۔ یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے۔‘‘ (الدخان ۴۴: ۲۴۔۱۷)قرآن کی اس واضح شہادت کے بعد فاضل مضمون نگار کا مندرجہ بالا بیا ن کس زمرے میں آتا ہے اس کا فیصلہ قارئین خود کرسکتے ہیں۔ اس پر اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ ’ خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں‘ کے ساتھ ساتھ رسولوں کی سیرت کو بھی ہم اپنے ہی خیالات کے آئینے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ 

ہم چاہتے ہیں کہ جہاد و قتال کا قرآنی و نبوی اسلوب بھی مختصراً یہاں بیان کردیں ۔ ’جہاد‘ ظلم و عدوان کے خلاف مسلمان ریاست کے مسلح اقدام کو کہتے ہیں۔ اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ جہاد کے اس حکم کے مخاطب مسلمان اپنی انفرادی حیثیت میں نہیں ہیں بلکہ ، جہاد قتال سے متعلق قرآن کی آیات کے اسلوب سے واضح ہے کہ، جہاد کا یہ حکم ان کو بحیثیت جماعت کے دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاد کا حق اور اختیار صرف مسلمانوں کے نظم اجتماعی(ریاست) کو حاصل ہے ۔کوئی فرد یا غیر ریاستی گروہ کسی حال میں بھی اس کا حق نہیں رکھتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پرارشاد فرمایا ہے کہ’’ مسلمانوں کا حکمران ان کی سپر ہے، قتال اسی کے پیچھے رہ کرکیا جاتاہے اور لوگ اپنے لیے اسی کی آڑ پکڑتے ہیں۔‘‘(بخاری، ۲۹۵۷)۔ دوسری بات یہ کہ یہ جہاد نہ خواہشات نفسانی کے لیے ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قومی عصبیت و عداوت کے جذبے کے تحت۔ بلکہ یہ جہاد، فی سبیل اللہ  کی قید سے واضح ہے کہ، محض اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ اللہ کی راہ میں یہ قتال اخلاقی حدود سے بے پروا ہو کر نہیں کیا جاسکتا۔کسی قسم کی زیادتی، عہد شکنی، تکبر و نمائش، غیر مقاتلین اور عورتوں اور بچوں کا قتل ،آگ میں جلانا، لوٹ مار، مثلہ، راستوں کو تنگ کرنا وہ چیزیں ہیں جن کا ارتکاب کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،’’ جو تم پر زیادتی کریں ، تم بھی ا ن کی اس زیادتی کے برابر ہی انہیں جواب دواور اللہ سے ڈرتے رہواور جان لو کہ اللہ ان کے ساتھ ہے جو اس کی حدود کی پابندی کرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ ۲: ۱۹۴) یہ جہاد ہے اور جب یہ صبر وثبات، ایک خاص حد تک مادی طاقت اور بھرپور ایمانی قوت کے ساتھ کیا جائے تو اللہ کی نصرت بھی شامل حال ہو جاتی ہے۔ اب ہر شخص بچشم سر دیکھ سکتا ہے کہ آج کی ’جہادی‘ اور ’مزاحمتی‘ سرگرمیوں میں کس حدتک ان آداب و شرائط کی پابندی کی جاتی ہے۔ یہاں تو عملاً حال یہ ہے کہ ،

بادۂ عصیاں سے دامن تر بہ تر ہے شیخ کا
اس پہ دعویٰ ہے کہ اصلاحِ دو عالم ہم سے ہے

ہم فلسفیانہ اور پیچیدہ مباحث سے بچتے ہوئے ’جمہوریت‘ کے بارے میں بھی سادہ انداز میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جمہوریت کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ عوام کے اجتماعی معاملات کو چلانے کے لیے عوام کی اکثریت کی رائے پر عمل کیا جائے۔ ہماری نظر میں یہ نہ صرف انتہائی فطری اور واحد قابل عمل طریقہ ہے بلکہ دین کے تقاضوں کے بھی عین مطابق ہے۔ قرآن کا حکم امرھم شوریٰ بینھم  اسی کا بیان ہے۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ مسلمانوں کے معاملات انکے مشورے /رائے سے چلائے جانے چاہییں ۔اس حکم کا تقاضہ محض یہ نہیں ہے کہ ان سے رسمی طور پر مشورہ کر لیا جائے بلکہ ان کے مشورہ کے مطابق ہی فیصلہ بھی کیا جائے۔ اور یہ مشورہ بھی کسی خاص طبقے یا گروہ تک محدود نہ ہو بلکہ تمام لوگوں کو مشورے/رائے کا یکساں حق دیا جائے۔ اسی کا نام جمہوریت ہے۔ یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ ایسا نہیں ہے کہ اسلام نے ’خلافت‘ کے نام سے کوئی مخصوص سیاسی نظام قائم کیا ہے۔ اسلام نے تو امرھم شوریٰ بینھم  کا اصول دیا ہے جس میں حکمرانوں کا نصب و عزل بھی اور باقی اجتماعی معاملات بھی لوگوں کی مرضی سے طے کیے جاتے ہیں۔ خلافت راشدہ میں بھی یہی اصول کارفرما رہا اور تمام خلفائے راشدین اصلاََ لوگوں کی مرضی سے ہی حکمران بنے،چاہے اس اصول پر عمل درآمد کا عملی طریقہ ہر دفعہ مختلف ہی رہا ہو۔ حتی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے بھی اپنی نامزدگی کے باوجود لوگوں کی آزاد مرضی کے بعد ہی اس ذمہ داری کو قبول کیا تھا۔ لہٰذا یہ سمجھنا کسی صورت درست نہیں ہے کہ جمہوریت، خلافت کا متبادل یا اس کے بالمقابل کوئی نظام ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہی دین کا عین تقاضا ہے۔

جمہوریت کا متبادل صرف اور صرف آمریت ہے۔ یعنی محض طاقت کے بل بوتے پرعوام کے حق حکمرانی کو غصب کر لینا۔ اگر اس اصول کو مان لیا جائے تو جس طرح آج ’خلافت‘ کے مدعی اقلیت میں ہونے کے باوجود طاقت اور جبر کی بنیاد پر اپنا غلبہ حق بجانب سمجھتے ہیں ،اسی طرح کل کوئی مغرب زدہ یا کمیونسٹ اقلیت یا کسی اقلیتی مسلک کے ماننے والے بھی اگر طاقت حاصل کرلیتے ہیں تو کیا آپ انہیں یہ حق دینے کے لیے تیار ہیں کہ و ہ بالجبر آپ پر مسلط ہوجائیں۔ طاقت کے قانون کے اس اصول کو اگر مان لیا جائے تو اس کا نتیجہ مستقل انتشار اور انارکی کے سوا اور کیا نکل سکتا ہے۔ 

جمہوریت کو خلاف اسلام سمجھنے والے قرآن کی چند آیات سے استدلال کرتے ہیں۔ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اکثریت کی پیروی نہ کرو کیونکہ اکثریت گمراہ ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ایک آیت یہ ہے، ’’ اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہنا مان لو گے تو وہ تمہیں خد اکا رستہ بھلا دیں گے ۔ یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔‘‘ ( الانعام ۶: ۱۱۶) اس آیت اور اس مفہوم کی دوسری آیات سے واضح ہے کہ یہاں ا ن لوگوں کا ذکر ہورہا ہے جو رسول کے منکرین ہیں اور جانتے بوجھتے رسول کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ رسولوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لوگ عموماََ اکثریت میں رہے ہیں اور رسولوں پر ایک قلیل تعداد ہی ایمان لاتی ہے۔ رسولوں اور ان کے ماننے والوں کو منکرین اور معاندین کی اس اکثریت کی پیروی سے منع کیا جارہا ہے۔ اس بات کا اس سے کیا تعلق ہے کہ جب رسول کے ماننے والے ایک معاشرہ منظم کر لیں تو اب کے معاملات ان ہی کی اکثریت کی رائے سے چلائے جائیں۔ 

یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اکثریت کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اکثریت حق و باطل کا معیار بن گئی ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اکثریت کی رائے ہمیشہ صحیح ہوتی ہے۔ صحیح اور غلط کا معیار تو صرف دلیل ہے۔ اکثریت کی رائے تو اصل میں فصلِ نزاعات کا ایک طریقہ ہے۔ بلکہ صحیح تر الفاظ میں واحد قابل عمل او ر دوسرے تمام ممکنہ طریقوں کے مقابلے میں سب سے بہتر اور کم نقصان دہ طریقہ ہے۔ اگر فیصلہ سازوں کے درمیا ن رائے کا اختلاف ہو جائے تو فیصلہ کرنے کا اس کے سوا کیا مہذب راستہ باقی بچتا ہے کہ اکثریت کی رائے کے مطابق فیصلہ کر لیا جائے۔ اس کے سوا تمام طریقے انتشار اور انارکی پر منتج ہوتے ہیں۔ اس بات کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

فرض کیجیے فیصلہ سازوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے میں مخلوط تعلیم کا انتظام کیا جائے یا لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ انتظام کیا جائے۔ فیصلہ ساز دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں ۔ قلیل گروہ کی رائے یہ ہے کہ دین کی تعلیمات کسی صورت مخلوط نظام کی اجازت نہیں دیتیں۔ کثیر گروہ کی رائے میں دین ہی کی تعلیمات کی روشنی میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ شائستگی اور وقار کے ساتھ حدود کے اندر رہتے ہوئے مخلوط نظام کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ اب قطع نظر اس سے کہ صحیح رائے کس گروہ کی ہے ، فیصلہ کی فطری بنیاد اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ اکثریت کی رائے کے مطابق فیصلہ کرلیا جائے۔ یہ کسی صورت باطل کی پیروی نہیں ہے۔ اس طریقے میں یہ امکان بہرحال موجود ہے کہ غلط فیصلہ عمل میں آجائے۔ لیکن ساتھ ہی یہ راستہ بھی کھلا ہے کہ قلیل گروہ دلائل سے کثیر گروہ کو اپنی رائے کے حق میں قائل کرلے اور فیصلہ ا س رائے کے حق میں تبدیل ہوجائے۔ 

غلط فیصلہ ہو جانے کا امکان اگر کوئی نقص ہے تو یہ نقص آپ کے مفروضہ ’خلافت‘ کے نظام میں بھی بعینہِ موجود ہے۔ خلیفہ یا اس کی شوریٰ پر وحی تو نازل ہوگی نہیں۔ تمام تر تقویٰ اور تدین کے باوجود وہ ہونگے تو بہرحال انسان ہی، جن سے ہر وقت خطا کا وقوع ممکن ہے۔ یہ خطا فیصلوں میں بھی ممکن ہے اور بالکل اسی طرح ممکن ہے جس طرح جمہوریت میں ۔ سیدناعمرؓ نے ایک موقع پر مہر کی تحدید کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن ایک خاتون کے توجہ دلانے پرآپؓ نے اس فیصلہ کو غلط مانتے ہوئے واپس لے لیا۔ بہت ممکن تھا کہ بعد میں کسی دوسرے فرد کے توجہ دلانے پریا خود ہی اپنی رائے تبدیل ہوجانے پر سیدنا عمرؓ پھر پہلی رائے کے قائل ہوجاتے۔ کیونکہ یہ رائے تو بہر حال موجود ہے کہ حکمران مخصو ص حالات میں مہر کی تحدید کا اختیار رکھتا ہے۔ مختصراً یہ کہ جب ’خلافت‘ کے نظام میں بھی غلط فیصلے ہو سکتے ہیں اور ان کی اصلاح کے لیے کوئی انتظام بنانا پڑ سکتا ہے تو یہی انتظام ’جمہوریت ‘ میں بھی ہو سکتا ہے۔

جمہوریت کا ایک اور نقص یہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں ایک فرد ایک ووٹ کا نظام ہوتا ہے جو انتہائی غیر فطری، غیرمنصفانہ اور بیہودہ طریقہ ہے۔ آخر ایک جاہل ، گنوار، غیر متقی فرد کی رائے ایک عالم، متقی ،ذہین اور قابل فرد کی رائے کے برابر کیسے ہو سکتی ہے؟ ہماری رائے میں یہ نقطہ نظر بھی مغالطوں پر مبنی ہے۔شریعت اور فقہ دونوں کی نظر میں قانونی طور پر ہر مسلمان برابر ہے۔ اللہ کی نظر میں اور آخرت میں اجرکے لحاظ سے لوگوں کے درجات جو بھی ہوں، قانونی حقوق و فرائض کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔لہٰذا سب کا ووٹ/مشورہ/رائے بھی برابر ہے۔ قرآن مجید کے حکم امرھم شوریٰ بینھم کا لازمی تقاضہ ہے کہ جن لوگوں کے معاملات ہوں ان سب کی رائے فیصلہ میں شامل ہو۔ اگر مثلاََ پاکستان کا حکمران بنانے کا معاملہ ۱۸ کروڑ لوگوں سے متعلق ہے تو لازماً ۱۸ کروڑ لوگوں کی رائے سے ہی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ آخر کسی محدود طبقے یا گروہ کو یہ حق کیسے اور کس اصول کے تحت دیا جائے کہ وہ ۱۸ کروڑ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ خود کردیں؟ یہ یقینی طور پر امرھم شوریٰ بینھم  کے اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔ اور فرض کریں آپ یہ حق،مثال کے طور پر، علما کے طبقے کو دیتے ہیں کہ وہ ۱۸ کروڑ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ محض اپنی رائے سے کریں تو یہ اعتراض پھر اٹھتا ہے کہ علما بھی عمر، علم، تقویٰ اور اہلیت کے لحاظ سے مختلف درجوں کے ہونگے تو ان سب کی رائے یا ووٹ کیوں برابر ہو؟ ایک عالم آج درس نظامی کی تکمیل کر کے فارغ ہوا ہے اور دوسرا عالم ۳۰ سال پہلے عالم بنا تھا اور تخصص کر کے آج شیخ القرآن، شیخ الحدیث یا مفتی کے درجے پر فائز ہے ۔ ان دونوں کو رائے یا ووٹ کا یکساں حق کس اصول کی بنیاد پر دیا جائے؟ اسی طرح ایک ڈاکٹر آج ڈاکٹر بنا ہے اور دو سرا ۳۰ سال کا تجربہ رکھنے والا اسپیشلسٹ ہے۔ ان دونوں کو رائے یا ووٹ کا یکساں حق کیوں دیا جائے؟ علیٰ ھذہ القیاس۔ مختصراََ یہ کہ آپ ووٹ دینے کے لیے جو بھی تحدید کر دیں آپ کو بہر حال ووٹ کے حقدار طبقے یا گروہ کے معاملے میں یہ سمجھوتہ کرنا پڑے گا کہ بلا لحاظ علم ،تقویٰ و تدین، تجربہ اور مہارت اس طبقہ کے ہر فرد کا ووٹ برابر تسلیم کریں۔ تو آخر یہ سمجھوتہ ۸ ۱ کروڑ عوام کے بارے میں کرنے میں کیا قباحت ہے ، جبکہ معاملات بھی ان تمام کے تمام ۱۸ کروڑ عوام سے متعلق ہوں۔

سیاسی نظام کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کے اشعار تو بہت دہرائے جاتے ہیں ۔ آئیے تصویرکا دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں۔ علامہ اقبال ؒ اپنے خطبات ’تجدید فکریات اسلام‘ (The Reconstruction of religious thought in Islam) میں فرماتے ہیں:

’’ گزشتہ پانچ سو برس سے اسلامی فکر عملی طور پر ساکت و جامد چلی آرہی ہے۔ ایک وقت تھا جب مغربی فکر اسلامی دنیا سے روشنی اور تحریک پاتا تھا۔ تاریخ کا یہ عجب طرفہ تماشہ ہے کہ اب دنیائے اسلام ذہنی طور پر نہایت تیزی سے مغرب کی طرف بڑھ رہی ہے ، گو یہ بات اتنی معیوب نہیں کیونکہ جہاں تک یورپی ثقافت کے فکری پہلو کا تعلق ہے ، یہ اسلام ہی کے چند نہایت اہم ثقافتی پہلوؤں کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ ڈر ہے تو صرف یہ کہ یورپی ثقافت کی ظاہری چمک کہیں ہماری اس پیش قدمی میں حارج نہ ہو جائے اور ہم اس ثقافت کی اصل روح تک رسائی میں ناکام نہ ہو جائیں۔ہماری ذہنی غفلت کی ان کئی صدیوں میں یورپ نے ان اہم مسائل پر سنجیدگی سے سوچا ہے جن سے مسلمان فلاسفہ اور سائنس دانوں کو گہری دلچسپی رہی تھی۔‘‘ 
’’توحید کا جوہر اپنے عملی تصور میں مساوات ، یکجہتی اور آزادی ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے ریاست ان اعلیٰ اصولوں کو زمانی اور مکانی قوتوں میں تبدیل کرنے کی جدوجہد سے عبارت ہے یعنی اسے ایک مخصوص انسانی ادارے میں عملی صورت دینے کی خواہش کا نام ہے۔ صرف اسی اکیلے مفہوم میں اسلام میں ریاست تھیاکریسی ہے، اس مفہوم میں ہرگز نہیں کہ ریاست کا سربراہ زمین پر خدا کاکوئی نائب یا نمائندہ ہوگاجو اپنی مطلق العنان استبدادیت پر اپنی مٖفروضہ معصومیت کا پردہ ڈال دے ۔‘‘ 
’’ آئیے اب دیکھیں کہ [ترکی کی] قومی اسمبلی نے خلافت کے ادارے کے بارے میں اجتہاد کے اختیار کا کس طرح استعمال کیا ہے۔ اہل سنت کے قوانین(فقہ) کی رو سے امام یا خلیفہ کا تقرر ناگزیرہے۔اس سلسلے میں جو پہلا سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا خلافت فرد واحد تک محدود رہنی چاہیے۔ ترکوں کے اجتہادکی رو سے یہ اسلام کی روح کے بالکل مطابق ہے کہ خلافت یا امامت افراد کی ایک جماعت یا منتخب اسمبلی کو سونپ دی جائے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں مصراور ہندوستان کے علمائے اسلام اس مسئلے پر ابھی تک خاموش ہیں ۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ ترکوں کا موقف بالکل درست ہے اور اس کے بارے میں بحث کی بہت کم گنجائش ہے۔ جمہوری طرز حکومت نہ صرف یہ کہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے بلکہ یہ عالم اسلام میں ابھرنے والی نئی طاقتوں کے لحاظ سے بہت ضروری ہے۔‘‘ 
’’ آج کے مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنی اس اہمیت کو سمجھیں،بنیادی اصولوں کی روشنی میں اپنی عمرانی زندگی کی از سر نو تشکیل کریں،اور اسلام کے اس مقصد حقیقی کوحاصل کریں جس کی تفصیلات تا حال ہم پر پوری طرح واضح نہیں ہیں یعنی روحانی جمہوریت (Spiritual Democracy) کا قیام۔‘‘ 

ضروری نہیں ہے کہ اقبالؒ کی ہر بات آنکھ بند کرکے مان لی جائے لیکن بہرحال تصویر کا یہ رخ بھی سامنے رہنا چاہیے۔

جمہوریت پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت بدعنوان، بدکردار اور کم علم لوگوں پر مشتمل ہے لہذا وہ اپنے ہی جیسے لوگوں کو منتخب کریں گے۔ یہ تو بہر حال حقیقت ہے کہ جیسا معاشرہ ہوتا ہے عموماََ ویسے ہی اس کے حکمران ہوتے یں۔ اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ غیر فطری اور مصنوعی طریقہ سے طاقت کے زور پر کسی دیندار فرد کو ’خلیفہ‘ بنا دیا جائے۔ایسا حکمران یا تو معاشرے کی طرف سے مسترد کر دیا جائے گا یا معاشرے جیسا ہی بن جائے گا۔ صحیح اور فطری طریقہ صرف یہ ہے کہ معاشرے کے اخلاق و کردار کی تربیت کی جائے ۔ جس حد تک معاشرہ بہتر ہوگا اسی کے بقدر اجتماعی نظام بھی بہتر ہوتا جائے گا۔ یہی بات علامہ اقبال ؒ اپنے خطبات میں ان الفاظ میں کہتے ہیں،’’ جدید مسلم اسمبلی کی قانونی کارکردگی کے بارے میں ایک اور سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے۔ کم از کم موجودہ صورت حال میں اسمبلی کے زیادہ تر ممبران مسلم فقہ(قانون) کی باریکیوں کے بارے میں مناسب علم نہیں رکھتے۔ ایسی اسمبلی قانون کی تعبیرات میں کوئی بہت بڑی غلطی کر سکتی ہے۔ قانون کی تشریح و تعبیر میں ہونے والی ان غلطیوں کے امکانات کو ہم کس طرح ختم یا کم سے کم کر سکتے ہیں ......... غلطیوں سے پاک تعبیرات کے امکانات کی واحد صورت یہ ہے کہ مسلمان ممالک موجودہ تعلیم قانون کے نظام کو بہتر بنائیں، اس میں وسعت پیدا کریں اور اس کو جدید فلسفہ قانون کے گہرے مطالعے کے ساتھ وابستہ رکھا جائے۔‘‘

اپنے نظریات و خیالات پر مبنی نظام کو اقلیت میں ہونے کے باوجود طاقت کے زور پر اکثریت پر مسلط کرنے کی خواہش نہ صرف صبر و استقامت جیسی اعلیٰ قدر کے فقدان کا ثبوت ہے بلکہ اس خوف کا اظہار بھی ہے کہ آپ کے نظریات اتنے بے وزن ہیں کہ دلائل کی بنیاد پر کسی کو ان کا قائل ہی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دوسرے نظریات کے مقابلے میں کھلا اعتراف شکست نہیں تو اور کیا ہے؟ 

اس نظریے نے سو ڈیڑھ سو سال پہلے ہی جنم لیا ہے کہ اسلام کی اصل دعوت اور منتہائے مقصود ہی یہ ہے کہ اقتدار پر قبضہ کر کے ایک’اسلامی ریاست‘ قائم کی جائے۔اور یہ کہ دین ریاست کے ہم معنی ہے۔ اور یہ کہ یہ صالح اقلیت ہے جو اکثریت پر حکمرانی اور ان پر اپنے خودساختہ تصورات بالجبر مسلط کرنے کا حق اور اختیار رکھتی ہے،بلکہ یہ اس کا فریضہ ہے کہ وہ ایسا کرے۔ دین میں اس نظریے کی اجنبیت،فکر کے اس انحراف اور تعبیر کی اس غلطی کو آج کے دور میں اس حد تک واضح کیا جاچکا ہے کہ اب اس باطل نظریے کے حق میں عقل اور نقل کی شاید ہی کوئی دلیل باقی بچی ہو۔

آخر میں ہم فاضل مضمون نگار کویہ مخلصانہ مشورہ دیں گے کہ وہ ایک دفعہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ قرآن و سنت کی روشنی میں اس جہادی و انقلابی فکر کا جائزہ لیں۔ انہوں نے اپنے مضمون کا اختتام جس شعر پر کیا ہے (گفتار کے اسلوب پر قابو نہیں رہتا ، جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات) اس میں جہاں ان کے گفتار کے اسلوب کے بے قابو ہونے کی وجہ بیان ہوئی ہے وہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ، ان کی فکر کے عدم توازن اور انحراف کی اصل وجہ بھی پوشیدہ ہے۔ اور وہ وجہ ہے جذبات اور خیالات کا تلاطم ، طوفان خیزی اور حدود سے متجاوز ہونا۔ ظاہر ہے کہ جب جذبات کا یہ تلاطم گفتار کے اسلوب کو قابو میں نہیں رہنے دیتا تو فکر اور نظریات کو کس طرح صراط مستقیم پر باقی رہنے دے سکتا ہے۔ استعماری اور طاغوتی طاقتوں کا ظلم اور ناانصافی اپنی جگہ، لیکن اس کا مقابلہ کس طرح کیا جائے اگر اس کا فیصلہ غصے، بے قید جوش و جذبات اور تلاطم کی اس نفسیات میں کیا جائے گا تو اسلام کی صراط مستقیم کبھی ہاتھ نہیں آسکتی اور انسان فکر اور تعبیر کی غلطیوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہے گا۔ مومن کی تو صفت یہ بیا ن ہوئی ہے کہ وہ الکظمین الغیظ  ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ،’’ قوی وہ نہیں کہ جو (کشتی میں کسی کو) پچھاڑے بلکہ قوی وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔‘‘ (بخاری ۳: ۱۰۴۷) قرآن کا یہ ارشاد بھی ہر وقت یاد رہنا چاہیے کہ ،’’ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس پر نہ ابھارے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ انصاف کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔بے شک اللہ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔‘‘ (المائدہ ۵:۸)

آراء و افکار

Flag Counter