اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

سولہویں صدی میں مارٹن لوتھر کی اصلاح مذہب کی تحریک مغربی دنیا میں انقلابات اور تبدیلیوں کا نکتہ آغاز ثابت ہوئی اور مغربی دنیا انقلاب ،تبدیلی ،جدیدیت،پرانے تصورات و مفروضات کی بیخ کنی،مذہب پرستی اور کسی مابعد الطبیعی طاقت کوماننے کی بجائے انسانیت پرستی اور عقل پرستی کی ایک ایسی شاہراہ پر گامزن ہوئی، جس نے حیاتِ انسانی کا ہر شعبہ مکمل طور پر تبدیل کیا۔مغربی مفکرین و فلاسفہ نے انسانیت پرستی،مساوات ،ترقی،آزادی اور عقل پرستی کا نعرہ کچھ اس انداز سے لگایا کہ مغربی دنیا کا ہر فرد اپنے ماضی سے لاتعلقی،مذہب سے بیزاری اور ان مفکرین کے طے کردہ خود ساختہ اصولوں کے مطابق اپنی زندگی کو مکمل طور پر تبدیل کرنے پر آمادہ ہوا۔

مخصوص اسباب اور پس منظر کی بنا پر اس نعرے کی تاثیر اور جاذبیت اتنی زیادہ تھی کہ بقیہ دنیا بھی آہستہ آہستہ مغرب کی ہم نوا بنتی گئی،چناچہ مغربی مفکرین کے خود ساختہ اصولوں کی آفاقیت اورجامعیت ایک طے شدہ اصول اور مسلمہ نظریہ بنتا گیا۔

مغربی دنیا نے اپنے خودساختہ اصولوں اور مسلمات کی بنیاد پر زندگی کا ہر شعبہ از سرنو مرتب کیا۔ آزادی، مساوات،ترقی،عقل پرستی اور انسان کی مکمل خود مختاری کی بنیاد پر حکومت و ریاست کے لیے جو نظام تجویز ہوا،وہ لبرل جمہوریت کا تصور تھا۔لبرل مغربی جمہوریت کی ظاہری ابتدا انقلاب فرانس سے ہو ئی ،لیکن تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ حیاتِ انسانی کے لیے مغرب کے بنائے ہوئے دیگر نظاموں کی بنسبت لبرل جمہوریت کی مقبولیت کی رفتار کافی سست رہی ۔ اور انقلاب فرانس 1789سے لیکر جنگ عظیم اول 1914تک صرف چند مغربی ممالک نے لبرل جمہوریت کو ریاست وحکومت کے لیے بطورِ نظام اختیار کیا تھا۔ البتہ جنگ عظیم اول کے نتیجے میں جب خلافت عثمانیہ شکست و ریخت کا شکار ہوئی اور خلافت عثمانیہ کے مختلف خطے نافرمان اولاد کی طرح اپنے مرکز سے سازشوں کا شکار ہو کر جدا ہوئے ،تو مغرب نے لبرل جمہوریت کو جدید دنیا کے لیئے بطورِ نظام متعارف کروانے کے لئے کو ششیں تیز ترکردیں۔ سفارتی ،سیاسی ، عسکری ، فکری ،غرض ہر سطح پر لبرل جمہو ریت کو عام کرنے پر کچھ اس انداز سے محنت ہوئی کہ چند عشروں میں آدھی سے زائد دنیا نے لبرل مغربی جمہوریت کو قبول کیا ۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے جہاں دیگر مغربی خود ساختہ اصولوں کو آفاقیت عطا کی ، وہاں ریاست وحکومت کے لئے لبرل جمہوریت کے نظام کو جدید دنیا کامتفقہ و مسلمہ نظریہ بنایااور آج اکیسویں صدی میں جمہوریت کو اتنا تقدس، عظمت اور احترام حاصل ہے کہ جمہوریت کے قیام کے لئے اقوام متحدہ دنیا کے ہر ملک میں مغربی اور امریکی جنگ کو قانونی جواز تک فراہم کرتا ہے ۔

لبرل مغربی جمہوریت کے بنیادی خدوخال اور اصول

اس سے پہلے کہ لبرل جمہوریت کی اسلام کاری اور اسلامی جمہوریت کے فلسفے پر بحث ہو لبرل مغربی جمہوریت کے بنیادی اصول ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ اس بات کا تجزیہ آسان ہو کہ اسلامی دنیا میں لبرل مغربی جمہوریت کے کن اصولوں کی اسلام کاری کس انداز سے کی گئی اور ان صولوں میں ترمیم و تبدیل سے جمہوریت کا نظام کس طرح اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت کے ہم آہنگ ہو گیا ۔

۱۔عوام کی حاکمیت

لبرل مغربی جمہوریت کا بنیادی اور اساسی رکن عوام کی کلی حاکمیت اور خود مختاری کا تصور ہے کہ کسی بھی ریاست کے عوام کو اپنی مرضی کے قوانین بنانے ،اپنی پسند کے نمائندے چننے اور اپنی چاہت و خواہشاات کے مطابق اپنے ملک کا نظام چلانے کا مکمل اختیار ہے ۔

۲ ۔عوامی نمائندوں کا تصور

لبرل مغربی جمہوریت میں عوامی نمائندگی پارلیمنٹ کی شکل میں ہوتی ہے کہ ریاست کے ہرہر فرد کو چونکہ ملکی معاملات میں شریک کرنا ایک ناممکن سی بات ہے اس لئے اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ ملکی عوام اپنے نمائندے کثرت کی بنیاد پر منتخب کریں گے اور پارلیمنٹ کی صورت میں یہ ارکان عوامی نمائندگی کا فریضہ سرانجام دیں گے۔

۳۔پارلیمنٹ کے لا محدود اختیارات

لبرل مغربی جمہوریت میں چونکہ پارلیمنٹ ریاست کے جملہ افراد کی نمائندگی کرتا ہے اس لئے پارلیمنٹ ملک کا سپریم اور طاقت ور ادارہ ہوتا ہے اور ملک میں ہر قسم کی قانون سازی ،تبدیلی اور اصلاحات کا اختیار پارلیمنٹ کے ارکان کے پاس ہوتا ہے اور ارکانِ پارلیمنٹ اکثریت کی بنیاد پر ہر قسم کا فیصلہ کرنے اور ہر قسم کی قانون سازی کا مجاز ہوتے ہیں۔

۴۔ آئین و دستور کی بالادستی اور تقدس

لبرل مغربی جمہوریت میں عوامی نمائندے قانون کا ایک مجموعہ مرتب کرتے ہیں جو اس ملک کا آئین اور دستور کہلاتا ہے ۔یہ ملکی دستور عوامی نمائندوں کی کثرت کی بنیاد پرمنظور ہوتاہے۔ آئین کو انتہائی تقدس اور عظمت کا درجہ ملتا ہے اور ملک کا کوئی بھی فرد خواہ وہ صدر ہو یا عام آدمی، دستور اور آئین کے خلاف کسی قسم کی لب کشائی نہیں کر سکتا اور نہ ہی ملکی عداتیں دستور اور آئین کے خلاف کسی قسم کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ ملک کے تمام جھگڑوں ،تنازعات اور اختلافات میں آئین کو مرجعیت اور فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ 

۵۔ بالغ رائے دہی کا تصور اور سیاسی مساوات

لبرل مغربی جمہوریت میں ملک کا ہر بالغ فرد رائے دہی اور ووٹنگ کا اہل ہوتا ہے تعلیم یافتہ ہو یا جاہل،مرد ہویا عورت،دیہی علاقے کا ہو یا شہری، اسی طرح ملک کے جملہ افراد کے ووٹ کی یکساں قیمت اور اہمیت ہوتی ہے اور ملک کے کسی بھی فرد کے ووٹ کو دوسرے فرد کے ووٹ پر برتری حاصل نہیں ہوتی ۔نیزملک کا ہر فرد پارلیمنٹ کا ممبر اور امیدوار بن سکتا ہے۔بعض ممالک میں مخصوص تعلیم کی اہلیت کی شرط ہے لیکن جمہوریت کی روح اور اس کا فلسفہ یہی کہتا ہے کہ ملک کے ہر فرد کو پارلیمنٹ کا ممبر بننے کا بنیادی حق حاصل ہے ۔جمہوریت کی اصطلاح میں اسے سیاسی مساوات کہتے ہیں۔

۶۔ کثرتِ رائے کا تصور

لبرل مغربی جمہوریت میں ووٹنگ کاعمل ہو یا پارلیمنٹ میں قانون سازی تمام فیصلے اکثریت کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور اکثریت کا فیصلہ حتمی شمار ہوتا ہے اکثریت کے فیصلے سے رو گردانی جمہوریت کی بنیادوں سے انحراف سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی کسی جمہوری نظام میں اکثریت کے فیصلے کو رد کرنے کا کسی کو اختیار ہوتا ہے ۔

۷۔سیاسی جماعتوں اور حزبِ اختلاف کا تصور

جمہوری نظام میں ملک کے افرادانفرادی حیثیت میں بھی پارلیمنٹ کا ممبر بننے کے لئے تگ و دو کر سکتے ہیں اور لسانی ،علاقائی،طبقاتی نظریاتی اور دیگر اشتراکات کی بنیاد پرایک جماعت بھی تشکیل دے سکتے ہیں ۔سیاسی جماعت بندی کی کوئی حد متعین نہیں ہوتی۔پھر انتخابات کے بعد اکثریت جماعت کو حکومت بنانے کا حق مل جاتا ہے اور وہ ملک کا نظم و نسق چلانے کا بیڑااٹھا لیتی ہے ۔جبکہ دیگر جماعتیں حزبِ اختلاف بن جاتی ہیں اور یوں ملک کی سیاسی جماعتیں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں تقسیم ہوجاتی ہیں ۔حزبِ اختلاف کا اصل تصور تو یہ ہے کہ اہلِ اقتدار کے لئے وہ پریشر گروپ کا کردار ادا کرتا رہے تاکہ اہلِ اقتدار حکومت و اختیار کے بل بوتے پر ملک وملت کے لئے نقصان دہ معاملات کرنے سے باز رہے لیکن عمومی طور پر جمہوری ملکوں میں حزبِ اختلاف کی وجہ سے پروپیگنڈے،بد اعتمادی اور حکومت کے خلاف افواہوں اور تبصروں کا ایک بازار گرم ہوتا ہے ۔نیز سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ملک کے عوام ایک دائمی تقسیم کا شکار ہوتے ہیں۔بعض ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں دو جماعتی نظام رائج ہے ایک حزبِ اقتدار میں ہوتی ہے جبکہ دوسری جماعت حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرتی ہے ۔

۸۔مساوات اور آزادی

جنسی ،سیاسی،مذہبی مساوات اور اپنے نظریات اور رائے کے اظہار کی مکمل آزادی جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ ریاست کی نظر میں تمام افراد برابر سمجھے جاتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل اور مذہب کی تبلیغ اور نشر واشاعت کا مکمل اختیار ہو تا ہے سب کو یکساں سیاسی حقوق حاصل ہو تے ہیں۔خلاصہ یہ کہ جمہوری نظام کا فلسفہ کہتا ہے کہ ریاست افراد کے درمیان مذہب، جنس یا کسی اور وجہ سے کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کرے گی۔ 

۹۔ مذہب اور ریاست کی علا حدگی یعنی لبرلزم وسیکولرزم

لبرل مغربی جمہوریت کی پوری عمارت سیکولرزم کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ سیکولرزم کا سادہ اور آسان مفہوم یہ ہے کہ مذہب خواہ کوئی بھی ہو ،ریاستی معاملات اور امور میں دخل انداز اور اثر انداز نہیں ہو گا۔مذہب افراد کا نجی معاملہ ہے ۔ ریاست کے تمام امور مذہب سے بالکل لا تعلق رہیں گے۔ریاست کے قوانین کے مذہب کی بنیاد پر نہیں بنائے جائیں گے۔

۱۰۔ اختیارات کی تقسیم اور حکومت کی مدت

لبرل مغربی جمہوریت میں اختیارات تقسیم ہو تے ہیں ۔ملک کا نظم ونسق چلانے کاکام انتظامیہ کے سپرد ہو تا ہے۔ قانون سازی کا فریضہ پارلیمنٹ کا ادارہ سر انجام دیتا ہے اور دستور کے مطابق فیصلے کرنے اور دستور کی تشریح عدالتوں کا کام ہو تا ہے۔یہ تینوں ادارے آپس میں بالکل مساوی ؔ حیثیت رکھتے ہیں۔ہر ایک کا اپنا دائرہ کار ہو تا ہے ، کوئی دوسرے پر حاکم اور بالادست نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ جمہوری نظام میں حکومت کی مدت مقرر ہو تی ہے ہر پانچ یا چار سال بعد دوبارہ انتخابات ہو تے ہیں اور ان انتخابات کے نتیجے میں ز سرِنو حکومت بنتی ہے۔

لبرل مغربی جمہوریت کی اسلام کاری کی بحث

لبرل مغربی جمہوریت کی اسلام کاری پر بحث کے لئے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ لبرل مغربی جمہوریت کے بنیادی اصولوں اور اسلامی تعلیمات میں کتنا تضاد ہے اور کتنی ہم آہنگی؟لبرل مغربی جمہوریت اور اسلامی تعلیمات میں خصوصاً وہ تعلیمات جو حکومت و ریاست سے متعلق ہیں ،مشترک اصول کتنے ہیں؟ ظاہر ہے اگر لبرل مغربی جمہوریت اور اسلامی تعلیمات میں موافقت زیادہ ہے تو اس نظام کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنا آسان ہو گا۔ البتہ یہ بات پھر بھی قابل بحث رہے گی کہ جمہوریت کو مکمل اسلامی بنانے کے بعد یہ نظامِِ حکو مت مقاصد شریعت سے کتنی مطابقت رکھتا ہے ؟ اور لبرل جمہوریت کی ’’اسلامی شکل ‘‘سے وہ مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں؟لیکن اگر جمہوریت کے سارے یا اکثر اصول اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں تو محض ایک یا دو چیزوں میں ترمیم کرنے سے لبرل جمہوریت اسلامی نہیں بن سکتی اور جزوی ترمیم سے اس پر اسلامی کا لیبل لگانا درست نہیں ہو گا ،کیونکہ یہ اصول ہے کہ اسلامی اور غیر اسلامی کا آمیزہ غیر اسلامی ہی کہلاتا ہے ۔اسی کو ٹھیٹھ علمی اصطلاح میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ کسی چیز کا اسلامی ہونا موجبہ کلیہ ہے ،جبکہ غیر اسلامی ہو نا سالبہ جزئیہ ہے ۔ 

اب ہم لبرل مغربی جمہوریت کے مذکورہ بنیادی اور اساسی اصولوں کا شریعت کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں ۔اسکے بعد اس پر بحث کریں گے کہ اسلامی ممالک نے جمہوریت کو کن ترمیمات کے ساتھ بطورِ نظام کے قبول کیا،خصوصا پاکستان میں رائج جمہوری نظام پر اسلامی نکتہ نظر سے بحث کریں گے۔

لبرل مغربی جمہوریت کے اصول شریعت کے روشنی میں عوام کی کلی حاکمیت کا تصور

عوام کی کلی حاکمیت اور خود مختاری کا اصول اسلامی تعلیمات سے کلی طور پر متصادم ہے ۔ نصوص اللہ کی کلی حاکمیت اور احکامِِ خداوندی کی ہر اعتبار سے بالا دستی پر دلالت کرتے ہیں، ان الحکم الا للہ ، الا لہ الخلق والامر، ان الدین عند اللہ الا الاسلام، ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلں یقبل منہ، اور اس جیسی آیتیں تقاضا کرتی ہیں کہ بالادستی صرف اور صرف اللہ کے نازل کردہ دین کے لئے ہے ۔ لہذا اسلامی ریاست میں قانون سازی اللہ کی منشاء اور چاہت کے مطابق ہوگی اور دنیا میں اللہ کی چاہت کا مظہر صرف دینِ اسلام ہے ، اس لئے لبرل مغربی جمہوریت کی اسلام کاری کرتے وقت عوام کی جزوی و کلی حاکمیت کے تصور کی بیخ کنی کرنی ہو گی اور ایسی ترمیم کرنی ہوگی کہ حکمران عوامی نمائندہ ہونے کی بجائے اللہ اوراس کے رسول کا نمائندہ ہو اور عوامی خواہشات کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور خوشی کو مد نظر رکھے۔

پالیمنٹ کو قانون سازی کے لامحدود اختیارات

یہ اصول بھی شریعت سے متصادم اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے ۔اسلامی ریاست میں قانون سازی صرف مباحات اور انتظامی امور میں ہو تی ہے ، مسائل منصوصہ اور متفق علیہامسائل بلا ترمیم و تبدیلی کے لاگو ہو تے ہیں ، البتہ مسائل اجتہادیہ میں اہل اجتہاد اور اسلامی علوم کے ماہرین یعنی فقہا اور علماء حالات کے مطابق مخصوص حدود کے اندر رہتے ہوئے قانون سازی کر سکتے ہیں ۔ لہذا جمہوریت کی اسلام کاری کرتے وقت پارلیمنٹ کے لا محدود اختیارات پر قد غن لگانا ہو گی ، اس کے لئے علاوہ پارلیمنٹ چونکہ قانون ساز مجلس ہے ،اس لئے اس کی اہلیت کے لئے وہی شرائط ہو ں گی جو مسائل و نصوص میں بحث کے لئے ہو تی ہیں ، کیو نکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے عوم اور شرعی علوم سے بے بہرہ افراد کے لئے تقلید و اتباع کا حکم ہے ۔ خلاصہ یہ کہ اسلامی جمہوریت میں پارلیمنٹ سے متعلق دو باتیں طے کرنی ہوں گی:

ایک، پارلیمنٹ کے اختیارات کے حدود و قیود طے کرنا

دوم، پارلیمنٹ کے ممبر بننے کے لئے مخصوص شرائط لگانا

آئین و دستور کی ہر صورت میں بالادستی اور تقدس

آئین و دستور کی بالا دستی ،تقدس اور کلی حاکمیت کا اصول بھی شریعت کے منافی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق ہر صورت میں بالا دستی صرف اور صرف اللہ کی نازل کردہ شریعت اور دین اسلام کی ہے ۔ ہر ایسا اصول ،قانون اور دستور جو شریعت کے متناقض ہو، دینِ اسلام کے مقابلے میں اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے ، خواہ ملک کے تمام افراد بلا کسی اختلاف کے اسے قانون بنائیں لہذا جمہوریت کی اسلام کاری کے وقت ایک تو آئین اور دستور کو مکمل اسلامی شکل میں ڈھالنا ہوگا اور اس کے بعد بھی ایسا نظام بنانا ہوگا جس کی رو سے آئین اور دستور اسی وقت تک محترم و مقدس سمجھا جائے گا جب تک وہ شرعی تعلیمات پر مشتمل ہو۔اگر آئین اوردستور کی کوئی بھی شق شریعت کے خلاف ہوتو اسے ہر صورت میں کالعدم سمجھا جائے گا۔اسے کالعدم قرار دینے کے لئے نہ کسی سفارش کی ضرورت ہو گی اور نہ پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کی۔نیز پارلیمنٹ کا ہر ایسا پاس کیا ہوا قانون نا قابلِ قبول ہو گا جو شریعت سے متصادم ہو۔

بالغ رائے دہی اور سیاسی مساوات کا تصور

اس اصول کا خلاصہ دو باتیں ہیں : 

نمبر ۱ ۔انتخابِ امیر کا حق ملک کے ہر بالغ فرد کو حاصل ہے ۔

نمبر ۲۔۔ تمام افراد کی رائے کلی طور پر مساوی ہے۔

اس اصول کے دوسرے حصے کے بطلان پر نقل کے ساتھ عقل بھی واضح دلالت کرتی ہے کہ ہر آدمی کی رائے اور ہر آدمی کا مشورہ یکساں نہیں ہے ۔کیا عالم اور جاہل کی رائے برابر ہے؟کیا عقل مند، صاحبِ حکمت اور فہم اور شعور رکھنے والے اور اجڈ ،گنوار اور عقل و خرد سے عاری ایک انسان کی رائے یکساں ہو سکتی ہے؟ نیز عقل کے ساتھ یہ اصول شریعت کے بھی خلاف ہے ۔قرآن پاک میں ہے: ’’ قل ہل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون، افمن کان مؤمناً کمن کان فاسقاً‘‘ اور اس جیسی آیتیں نیک و بد ، عالم و جاہل اور کافر و مومن کے فرق پر دلالت کرتی ہیں۔

اسی طرح آپ نے شیخین کے بارے میں فرمایا: ’’لو اجتمعتما ما خالفتکما‘‘ (مسند احمد)‘‘یعنی جب تم اتفاق کر لیتے ہو تو میں اس کی مخالفت نہیں کرتا‘‘۔

گویا اس حدیث میں شیخین کی رائے کو باقی تمام صحابہ کی رائے پر فضیلت دی ہے۔

اس اصول کے پہلے حصے کے بارے میں چند باتیں پیشِ خدمت ہیں :

نمبر ۱۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے انتخابِ امیر میں مشورہ ضروری ہے البتہ اسلامی سیاست پر لکھنے والے تقریباً تمام مفکرین کا اتفاق ہے کہ مشورہ ہرہر فرد سے لینے کی بجائے صرف اہلِ حل و عقد سے لیا جائے یعنی معاشرے کے وہ با اثر افراد جو دینی،دنیاوی اور علمی وجاہت رکھتے ہوں، لوگوں کی نظر میں محترم سمجھے جاتے ہوں اور لوگ ان کی بات اور رائے کو وقعت دیتے ہیں۔ اس بات پر تو بحث کی گنجائش ہے کہ اہلِ حل و عقد کو متعین کرنے کی صورتیں کیا کیا ہو سکتی ہیں ؟ویسے بھی معاشرے میں ذی وجاہت لوگ تقریباً ممتاز اور متعین ہوتے ہیں، تھوڑی سی چھان بین سے مزید ممتاز ہو سکتے ہیں۔البتہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ انتخابِ امیر اہلِ حل و عقد کریں گے اور بقیہ تمام امت اس منتخب شدہ امیر کی اطاعت کی بیعت کرے گی۔

علامہ ماوردی الاحکام السلطانیہ میں لکھتے ہیں:

فان اجاب الیھا بایعوہ علیھاوانعقدت ببیعتھم لہ الامامۃ فلزم کافۃ الامۃ الدخول فی بیعتہ والانقیاد لطاعتہ (صفحہ ۸)

اسی بات کو علامہ ابو یعلی نے الاحکام السلطانیہ میں(صفحہ 4 2 (علامہ جوینی نے غیاثی میں)صفحہ 46)ابنِ خلدون نے مقدمہ میں (صفحہ 161)او ردیگر فقہاء نے کتاب الا مارہ کے تحت ذکر کیا ہے۔

بلکہ مشہور محدث علامہ نووی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اہلِ حل وعد سے امامت منعقد ہو جائے گی ۔

چنانچہ شرح مسلم میں لکھتے ہیں:

واجمعواعلی انعقاد الخلافۃ باالاستخلاف وعلی انعقادھا بعقد اہلِ الحل والعقدلانسان اذالم یستخلف الخلیفۃ۔

نمبر ۲۔ فقھاء کی تصریحات کے ساتھ خلفاء راشدین کا طریقہ انتخاب بھی اس کی تائید کرتا ہے ،کیونکہ حضرت ابوبکر،حضرت عثمان اور حضرت علی کی خلافت اہلِ حل و عقد کی بیعت سے منعقد ہو گئی ،پھر بقیہ امت نے بیعتِ طاعت کی ۔بلکہ حضرت علی کو جب باغی ٹولے نے خلافت کی پیش کش کی تو حضرت علی نے فرمایا : 

لیس ذلک الیکم انما ہو لاہل الشوری و اہل بدر (الامامہ و السیاسہ لابن قتیبہ) 

خلفاء راشدین کے انتخاب میں اس وقت کے سرکردہ افراد کے علاوہ بقیہ تمام سلطنت میں سے کسی شخص کی رائے نہیں لی گئی ،اگر اسلامی تعلیمات کی رو سے انتخابِ امیر ہر شخص کا حق ہے ،تو خلفاء راشدین امت کے اس حق کو کیسے پامال کر سکتے تھے۔نیز اس زمانے میں پوری اسلامی قلم رو سے کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کا طرزِ عمل دلالت کرتا ہے ،کہ انتخاب امیر ہر شخص کا حق نہیں ہے ،بلکہ امت کے ذی شعور،عقل مند اور علم سے بہر ور افراد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خلیفہ کا انتخاب کریں گے۔

نمبر ۳۔۔بعض معاصرین نے اس بارے میں یہ رائے اختیار کی ہے کہ اہلِ حل و عقد کا فریضہ انتخاب کی بجائے محض نامزدگی ہے کہ وہ اپنے فہم سے خلافت کے لئے شخص کو نامزد کرتے ہیں ،پھر بقیہ امت کی بیعت سے اس کی امامت منعقد ہوتی ہے ۔لیکن یہ نظریہ محض نظریہ ہے۔خلفاء راشدین کا طریقہ انتخاب اور فقہاء کی تصریحات اس کی تائید نہیں کرتیں۔اگر واقعی بات ایسی ہے ،تو فقھاء اہلِ حل و عقد کی بیعت کو بیعتِ انعقاد اور بقیہ امت کی بیعت کو بیعتِ طاعت کیوں کہتے ہیں؟ نیزعلامہ ماوردی اور دیگر مفکرین کی عبارات واضح دلالت کرتی ہیں کہ اہلِ حل و عقد کی بیعت سے خلافت منعقد ہو جاتی ہے ،بلکہ امام جوینی نے باقا عدہ ان افراد کوالگ عنوان کے تحت ذکر کیا جو انتخابِ امام کے اہل نہیں ہیں(دیکھئے صفحہ46 تا صفحہ (50اور بقیہ امت پر اس امام کی اطاعت کی بیعت لازم ہو جاتی ہے۔

نمبر۵۔سیاسیاتِ اسلامیہ پر لکھنے والے کچھ معاصر مفکرین نے جو مذکورہ نظریہ اختیار کیا ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے ،کہ ان کے بقول انعقاد کا حق صرف اہلِ حل و عقد کو دینا اور بقیہ امت کے افراد کو محروم کرنا ایک قسم کا استبداد ہے اور یہ طریقہ کار عوام کی غلامی اور مقہوریت کی ایک شکل ہے۔حالانکہ اسلام ہر فرد کو اپنی رائے کے جائز اظہار میں مکمل آزادی فراہم کرتا ہے ،لیکن اس قسم کے شبھات محض نظری ہیں ۔کیونکہ اہلِ حل و عقد کوئی خاص طبقہ ،خاص جماعت اور خاص گروہ کا نام نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے زیرک ،باشعور اور دینی و دنیاوی وجاہت والے افراد کو اہلِ حل و عقد کہا جاتا ہے ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی خطے سے ہو ۔ہر فرد کو انتخاب کا حق دینے سے عام طور پر اہلیت رکھنے والا شخص منتخب نہیں ہوتا ،کیونکہ عوام کی اکثریت فہم و شعور ،علم وادراک اور صحیح افرادکی پہچان سے قاصر ہوتی ہے۔نیزمعاشرے کے ذی وجاہت لوگوں کی رائے عموماً پورے معاشرے کی رائے سمجھی جاتی ہے۔لہذا جب ہر علاقے ،ہر صوبے اور ہر خطے کے معاملہ فہم افراد انتخاب میں شریک ہیں تو یہ استبداد کے زمرے میں کیسے آتا ہے؟ اگر یہ استبداد ہے تو استبداد کی یہ شکل لبرل مغربی جمہوریت میں بھی پائی جا تی ہے کہ پارلیمانی نظام میں وزیرِ اعظم کے انتخاب کا فیصلہ ارکانِ پارلیمنٹ کرتے ہیں اور ملکی عوام براہِ راست اس انتخاب میں حصہ نہیں لیتے۔

خلاصہ یہ نکلا جمہوریت کی اسلام کاری میں اس اصول میں ایک تو یہ ترمیم کرنی ہو گی ،کہ انتخابِ امیر اور ملکی نظم و نسق اہلِ حل و عقد کے مشورے سے چلانا ہوگا۔البتہ اہلِ حل وعقد پر مبنی مجلسِ شوریٰ میں عوام سے مشورہ لیا جا سکتا ہے ،لیکن عوام کی رائے لازم نہیں ہو گی۔اس میں عوام کی رائے کے علاوہ دیگر شرائطِ اہلیت کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔نیز اسلامی تعلیمات کی رو سے چو نکہ اپنا تزکیہ ،اپنی اہلیت اور اپنی دین داری کا دعویٰ کرنا نہایت غیر مستحسن امر ہے۔اس لئے اہلِ حل و عقد کے مجلس شوریٰ کا رکن بننے کے لئے جو فرد مطالبہ کرے، اس پر اشتہاری مہم چلائے اور اپنی نامزدگی کے بارے میں پروپیگنڈہ کرے ،تو اس کی اہلیت محلِ نظر ہو گی۔اس کی مثال یوں ہے کہ لبرل مغربی جمہوریت میں جب نگران وزیرِ اعظم کا معاملہ آتا ہے، تو اگر کوئی خود نگران وزیرِ اعظم بننے کا مطالبہ کرے ،اس پر دلائل دے اور اپنی غیر جانبداری کا پروپیگنڈہ کرے، تو اس کو رد کیا جاتا ہے ،بلکہ ایک ایسے شخص کو نگران وزیرِ اعظم نامزد کیا جاتا ہے، جس کی غیر جانبداری کی گواہی دوسرے لوگ دیں ۔اس کے علاوہ مشورہ دینا چونکہ اہلِ حل و عقد کی ایک ذمہ داری اور ایک امانت ہے، اس لئے اس پر وہ بھاری بھرکم معاوضات کے مستحق بھی نہیں ہوں گے، اس لئے اسلامی جمہوریت میں اہلِ حل و عقد محض خیر خواہی اور امتِ مسلمہ کی بہتری کے لئے مشورہ اور رائے دیں گے۔جب یہ منصب مالی فوائد سے خالی ہو گا ،تو مقاصدِ شریعت مزید بہتر انداز میں حاصل ہوں گے ،کیونکہ مالی فوائد کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی طرف ہر کسی کی رغبت بھی نہیں ہو گی اور یوں درست افراد کے انتخاب تک رسائی زیادہ بہتر اور آسان ہو گی۔ 

خلاصہ یہ کہ جمہوریت کی اسلام کاری میں اس اصول میں درجہ ذیل ترمیمات کرنی ھوگی ۔

نمبر ۱۔ انتخاب امیر کا حق صرف اہل حل و عقد کو ہو گا ،ملک کا ہر شخص اس میں حصہ دار نہیں ہوگا۔

نمبر ۲۔ اہل حل و عقدصرف مشورہ اور رائے کا فریضہ سر انجام دیں گے ۔اس کام پر نہ تو ان کو معاوضہ دیا جائے گا اور نہ وہ اکثریت کے بل بوتے پر حکومت پر اثر انداز ہوں گے۔

نمبر ۳ ۔ایک مرتبہ جب اہل حل و عقد متعین ہو جائے تو مختلف عوامل کی بنیاد پر اس میں کمی بیشی تو ہو گی ،لیکن یہ اصول درست نہیں ہو گا کہ ایک مخصوص مدت تک تو وہ اہل حل و عقد ہوں ،ان کی عقل ، ان کا فہم ،مسلم ہو،پھر دوسری مدت میں ان کی عقل مندی کالعدم ہوجائے اور نئے اہل حل و عقد کی تلاش شروع ہو جائے۔باقی قانون سازی تو اہل حل و عقد میں سے صرف و ہی لو گ کریں گے جو دینی علوم کے ماہر ہوں ،اگرچہ دنیاوی معاملات میں ماہرین سے حقیقت حال معلوم کر کے ہی اس پر کوئی شرعی حکم لگایا جائے گا۔

یعنی جمہوریت کی اسلام کاری میں بالغ رائے دہی اور ہر رائے کی برابری کے اصول میں اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت کے مطابق مناسب ترمیمات کرنی ہو گی ۔

کثرتِ رائے کی حتمیت کا اصول

کثرتِ رائے نہ تو اتنی بری چیز ہے کہ کسی بھی اعتبار سے قابلِ التفات نہیں ہے اور نہ اتنی اچھی ہے کہ ہر حال میں، ہر صورت میں اس کو ماننا لازمی اور حتمی ہے۔ اسلام کا اصول تو یہ ہے کہ الحق احق ان یتبع کہ اختلافِ رائے کے وقت دلائل اور قرائن سے جو رائے حق کے قریب ہو ،اسی کو اختیار کیا جائے خواہ اقلیت کی رائے ہو یا اکثریت کی ۔کسی رائے کے حق میں کثرت کی موافقت بھی اگرچہ اس کے حق اور درست ہو نے کے قرائن میں سے ایک قرینہ ہے ،لیکن یہی آخری اور حتمی قرینہ نہیں ہے ۔ در حقیقت لبرل مغربی جمہوریت کا یہی وہ اصول ہے جس کی مدد سے ملک میں خلافِ عقل ، خلافِ تہذیب اور خلافِ انسانیت اور اغراض پر مبنی ہر قسم کی قانون سازی ہو سکتی ہے ۔ اسی اصول کا کرشمہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں افراد کے کردار ، فہم و شعور اور تعلیم و تربیت کی بجائے کثرت اور محض کثرت کے لئے کوشاں رہتی ہیں اور یوں ملک میں مفاد پرستوں کا ایک ایسا ٹولہ وجود میں آجاتا ہے جو اقتدار و حکومت کے لئے اپنی پارٹیاں اور وفاداریاں ہر مدت کے بعد تبدیل کرتا ہے ، کیونکہ جمہوریت کا نظام صرف اور صرف کثرت کی صورت میں سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی رائے کو وقعت دیتا ہے نہ کہ دلائل ، قرائن اور دیگر عوامل کی بنیاد بنا پر۔لہذا لبرل جمہوریت کی اسلام کاری کرتے وقت اس اصول میں یہ ترمیمات کرنی ہو گی ۔

۱۔مسائلِ منصوصہ اور متفقہ مسائل میں کثرتِ رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا ۔

۲۔مسائلِ اجتہادیہ اور انتظامی امور میں کثرتِ رائے کا اعتبار کیا جائے گا ،البتہ حالات اور دلائل کے اعتبار سے اقلیت کی رائے بھی اختیار کی جا سکے گی۔

۳۔کثرتِ رائے کو ماننا قانوناً لازمی اور حتمی نہیں ہو گا۔

غرض کوئی ایسا طریقہ اپنا یا جائے گا جس کی رو سے کثرتِ رائے کی حتمیت اور لزوم ختم ہو جائے ،کیو نکہ کثرتِ رائے کی ہر اعتبار سے حتمیت اسلامی تعلیمات اور مقاصد الشریعہ سے کسی طرح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

سیاسی جماعتوں اور حزبِ اختلاف کا تصور

لبرل مغربی جمہوریت میں حصولِ اقتدار کے لئے نسلی ، لسانی،علاقائی، ثقافتی اور نظریاتی بنیادوں پر مختلف سیاسی جماعتیں بنتی ہیں ۔ پھر جو جماعتیں دو تہائی اکثریت حاصل کرلیتی ہیں ۔وہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو جاتی ہیں اور بقیہ جماعتیں حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرتی ہیں ۔ جمہوریت کی اسلام کاری میں یہ سوال نہایت اہمیت رکھتا ہے کہ کیا اسلامی تعلیمات کی رو سے اسلامی ریاست میں مختلف سیاسی جماعتوں کی گنجائش ہے یا نہیں؟نیز اسلامی ریاست میں حزبِ اختلاف کا تصور کس حد تک درست ہے ؟ گویا یہاں دو باتیں قابلِ تنقیح ہیں ۔

نمبر ۱۔حصول ِ اقتدار کے لئے مختلف بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانا

نمبر ۲۔حزبِ اختلاف کاحکم

جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے ،تو لبرل مغربی جمہوریت میں سیاسی جماعتیں بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ پارلیمنٹ ایک مکمل خود مختار قانون ساز ادارہ ہو تا ہے اور عمومی طور پر جمہوری ملکوں میں جس قسم کے لوگوں کی کثرت ہوتی ہے ، وہ ایسی قانون سازی کی کوشش کرتے ہیں ،جن سے ان کے خاص مقاصد زیادہ سے زیادہ حاصل ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ اس سے ملک کے دیگر طبقات کے فوائد ، مقاصد اور اور نظریات پر منفی اثر پڑتا ہے ، اس لئے ہر زبان ، ہر نسل ، ہر علاقے اور ہر طبقے والوں کی کوشش ہو تی ہے کہ سیاسی جماعتیں بنا کر پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرے تا کہ ان کے مفادت متاثر نہ ہوں ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اعتبار سے مکمل خود مختاری اور کثرتِ رائے کا حتمی ہونا ہی دراصل ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کی بنیاد بنتا ہے۔ جبکہ صحیح اسلامی ریاست میں سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ، کیونکہ مجلسِ شوری کو مسائل منصوصہ اور متفقہ میں ترمیم کا اختیار نہیں ہو تا۔ مسائل اجتہادیہ اور انتظامی امور میں بھی قانون سازی شریعت کے مقرر کردہ حدود اور قیود کے اندر ہو تی ہے ، اس لئے عموماً ملک کے کسی طبقے کے فوائد پر خاص اثر نہیں پڑتا ، کیونکہ اسلامی قوانین اور اصول کسی خاص طبقے کی سوچ اور فکر کا نتیجہ نہیں ،بلکہ احکم الحاکمین کی طرف سے مقرر کردہ ہیں ۔ ان میں انسانیت کے ہر طبقے کی ضروریات و حوائج کا مکمل لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس لئے اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق ادارہ پارلیمنٹ اور کثرتِ رائے کا اصول کی اصلاح کی جائے تو سیاسی جماعتوں کی ضرورت خود بخود ختم ہو جاتی ہے ۔

لیکن یہ بحث پھر بھی رہ جاتی ہے کہ اسلامی نکتہ نظر سے ایک اسلامی ریاست میں مختلف بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانے کا کیا حکم ہے ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ نسلی ، علاقائی ، لسانی ثقافتی اور نظریاتی اعتبارات سے سیاسی جماعتیں بنانا اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت سے مختلف وجوہ سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔

۱۔ مسلمان بحیثیت امت ایک گروہ اور جماعت شمار ہوتے ہیں اور ان بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانااتحادِ امت کو پارہ پارہ کر دیتی ہے ، جبکہ امت کا اتحاد و اتفاق برقراررکھنا شریعت کے اعظم مقاصد میں سے ہے۔

۲۔مختلف بنیادوں پر سیاسی جماعتوں کی وجہ سے عصبیت اور قومیت کے جذ بات ابھرتے ہیں اور اسلام اس عصبیت ، رنگ و نسل کے اعتبار سے تفریق اور رنگ ونسل کی بنیاد پر گروہ بندی کا شدت کے ساتھ رد کرتا ہے ۔

۳۔سیاسی جماعتوں میں عام طور پر جذبہ رقابت کی بنیاد پر نفرت اور ایک دوسرے سے بغض و عناد ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے آپس میں گالی گلوچ،طعنہ زنی ،بہتان تراشی ،اورا یک دوسرے کی غیبت کا بازار گرم ہوتا ہے اور بسا اوقات قتل و غارت تک نوبت پہنچ جاتی ہے خصوصاً الیکشن کے قریب پورا معاشرہ ان برائیوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے جیسا کہ عام مشاہدہ ہے۔جبکہ مسلم معاشرے سے یہ مفاسد اور ان کو جنم دینے والے ذرائع کو جڑ سے اکھاڑنا شریعت کے اعظم مقاصد میں سے ہے۔

۴۔ جب ہر سیاسی جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طریقے سے اقتدار تک پہنچ جائے ،تو بسا اوقات کچھ جماعتیں اس مقصد کے حصول کی خاطر کفریہ طاقتوں اور عالمی استعمار کی آلہ کار بھی بن جاتی ہیں اور یوں اسلامی معاشرے کے اندر سے منافقین اور کفریہ طاقتوں کے مقاصد پورا کرنے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کی اسلامی ریاست اور مسلم معاشرہ طرح کی مشکلات اور سازشوں کا شکار رہتا ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلم ممالک میں پھیلے سازشوں کے جال در جال میں سیاسی شخصیات اور جماعتوں کا بڑا کردار ہے ۔

۵۔ ہماری پوری اسلامی تاریخ اس قسم کی سیاسی جماعتوں کے وجود سے خالی ہے اور اسلامی تاریخ اور اسلامی تہذیب بھی کسی چیز کے مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ ہونے یا نہ ہونے پر واضح قرینہ ہے۔ماضی میں اس کی کسی قسم کی نظیر نہ ملنا دلالت کرتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں مختلف بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانا مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگی نہیں رکھتا۔باقی ثقیفہ بنی ساعدہ کے مباحث، مہاجرین و انصار کے گروہ،جنگِ صفین اور جنگِ جمل کے واقعات اور واقعہ کربلا سے استشہاد دراصل سیاسی جماعتوں کے مفہوم ،مقصد اور ان تاریخی واقعات کے اصل پسِ منظر سے ناواقفیت پر مبنی ہے ۔عصرِ حاضر کی سیاسی جماعتوں اور ان تاریخی حوادث میں کسی طرح سے مماثلت نہیں ہے ۔

۶۔ بعض معاصرین کی رائے یہ ہے کہ امارت و حکومت تک پہنچنے کے لئے تو سیاسی جماعتوں کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ کام اہلِ حل و عقد سر انجام دیں گے، البتہ مختلف وزارتوں اور مختلف علاقوں کی ولایت اور سربراہی کے لئے سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے تاکہ امیر پوری ریاست میں صرف اپنی پسند کے لوگوں کو تعینات نہ کرے ،لیکن ظاہر ہے کہ جب سیاسی جماعتیں بنیں گی خواہ حکومت کے لئے ہو یا وزارت کے لئے، مذکورہ مفاسد اور برائیاں خود بخود پیدا ہوں گی اس لئے وزارت اورصوبوں کے سربراہ چننے کے لئے کوئی اور ایسا طریقہ کا راختیار کیا جا سکتا ہے ،جس میں مذکورہ مفاسد نہ ہوں مثلاً اہلِ حل و عقد جس طرح انتخابِ امیر کا کام کرتا ہے اسی طرح یہ کام بھی ان کے سپرد ہو۔اس میں بھی کوئی خلافِ شریعت بات نہیں وغیرہ۔غرض سیاسی جماعتوں سے مسلم معاشرے کو پاک کرنا مختلف وجوہ کی بناء پر اسلامی ریاست کے لئے بہت ضروری ہے ۔

اس کے بعدمرحلہ آتا ہے حزبِ اختلاف کا کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے حزبِ اختلاف کا تصور کیا ہے؟ تو اس بارے میں چند باتیں پیشِ خدمت ہیں۔

۱۔ لبرل جمہوری ملکوں میں حزبِ اختلاف کا کردار الیکشن میں ہاری ہوئی جماعتیں ادا کرتی ہیں۔ جب اسلامی ریاست میں اس قسم کی سیاسی جماعتوں کا تصور نہیں ہے تو حزبِ اختلاف بھی نہیں رہے گا۔

۲۔ امیر اور خلیفہ کی اطاعت اور اسلامی ریاست میں انار کی نہ پھیلانا شہریت کے بڑے مقاصد میں سے ہے۔اس پر امیر کی اطاعت پر دلالت کرنے والے نصوص اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے والی روایات شاہد ہیں۔جبکہ حزبِ اختلاف کا تصور ان مقاصد کے حصول میں رکاوٹ ہے ۔اس لئے حزبِ اختلاف اسلامی ریاست سے میل نہیں کھاتا۔

۳۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جب پریشر گروپ نہیں ہو گا تو حکمران مطلق العنان نہ بن جائیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں اس کا حل امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی صورت میں موجود ہے۔اور سلطانِ جائر کے سامنے کلمہ حق کہنا شریعت کی رو سے افضل جہاد ہے، اس لئے اسلامی معاشرے میں نیک،نڈر اور اسلامی غیرت سے سرشار لوگ یہ فریضہ اور جہاد خود بخود کرتے رہتے ہیں ،خواہ اس کے لئے ادارتی حد بندی نہ ہو۔ہماری تاریخ اس قسم کی مثالوں اور واقعات سے مزین ہے۔

۴۔ اسلامی ریاست میں فسق،غیر شرعی امور اور ظلم سے امیر مستحق عزل ہوتا ہے اور بعض حالات میں اہلِ حل و عقد اسے معزول بھی کر سکتے ہیں۔ تو عزل کی تلوار بھی حکمران کی مطلق العنانیت کے لئے مانع ہوتی ہے۔اس لئے الگ حزبِ اختلاف قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

۵۔ عام طور پر حزبِ اختلاف حکومت پر نکتہ چینی خیر خواہی کی بنیاد پر نہیں کرتابلکہ اگلی مدت میں اقتدارکے حصول کے لئے عوام کو حکمرانوں سے بد ظن کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لئے عام طور پر حزبِ اختلاف کے پروپیگنڈے اور افواہوں میں سچائی کا عنصر کافی کم ہوتا ہے ۔خلاصہ یہ کہ حزبِ اختلاف کی وجہ سے معاشرہ ہمیشہ اپنے حکمرانوں سے شاکی رہتا ہے اور پورے معاشرے میں بے یقینی کی کیفیت سی رہتی ہے، جیسا کہ ہمارے ملک میں اس کا عام مشاہدہ ہے۔

الغرض حزبِ اختلاف کا تصور خالص لبرل جمہوریت کی دین ہے۔ اسلامی تعلیمات میں اس کے مثالی متبادل موجود ہیں، اس لئے جمہوریت کی اسلام کاری کرتے وقت حزبِ اختلاف کے موجودہ تصور اور نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔

(جاری)

آراء و افکار

دسمبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۲

راولپنڈی کا الم ناک سانحہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شہید کون؟ کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہ
محمد عثمان فاروق

امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلک
مولانا عبد الرؤف ربانی

مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

مکاتیب
ادارہ

نسوانیت کا دشمن لیکوریا
حکیم محمد عمران مغل