غزالی اور ابن رشد کا قضیہ ۔ اصل عربی متون کی روشنی میں (۲)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

(۳)

آپ جان چکے ہیں کہ غزالی نے ’’مسلم‘‘ فلسفیو ں کی طرف جن ہفوات کی نسبت کی ہے، ابنِ رشد ان ہفوات کی ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کی طرف نسبت کو غلط ثابت نہیں کرپائے، بلکہ لگتا ہے کہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں تھا۔ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں سے منسوب جن دو ہفوات کا ہم نے حوالہ دیا ہے، ان کے ضمن میں ابن رشد کا رویہ سامنے آچکا ہے کہ وہ ان جیسے مسائل میں بوعلی سینا وغیرہ کو ناقل کی بجائے الٹا موجدِ اول نام زد کردیتے ہیں اور یوں بوعلی سینا وغیرہ کے خلاف غزالی کی ’’چارج شیٹ‘‘ کو اور بھی زیادہ مضبوط بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی آپ جان چکے ہیں کہ غزالی نے جہاں فلاسفہ کی الہیات کو غیر قطعی ثابت کرنے کے لیے اور محض فلاسفہ کے استدلالات میں تشکیکات دکھانے کے لیے مخالف استدلال کیے ہیں، ان سے ان کا مقصود اپنے استدلال کو قطعی ثابت کرنانہیں، بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ ایسے مسائل میں کسی ایک جانب کو ترجیح دینے کے لیے کوئی قطعی دلیل کسی کے پاس نہیں ہے۔ لہٰذا ابن رشد کا کوشش کرکے ایسے موقعوں پر غزالی کے استدلالات کو غیر حتمی ثابت کرنا غزالی کے لیے مضر نہیں، بلکہ ان کے موقف کو اور زیادہ مضبوط کرتا ہے۔

تیسری بات جو ہم یہاں عرض کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ مختلف مسائل میں یونانی فلاسفہ کے ہاں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ غزالی نے تہافت الفلاسفۃ میں اس اختلاف سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تردید کے لیے صرف ارسطو کے اقوال کو چنا ہے اور ایسا عمداً کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی اس کتاب کے ذریعہ بنیادی طور پر اعتقادی انحراف کا شکار مسلم فلسفیوں کو دعوتِ دین و دعوتِ توبہ دینا چاہتے ہیں اور مسلم فلسفیوں کے ہاں ارسطو کو ہی اپنا مرشد وسالار سمجھا جاتا تھا۔ اگلی بات یہ ہے کہ پھر اسی ارسطو کے کلام کو سمجھنے میں اس کے ’’مسلم‘‘ عقیدت مندوں کا خاصا اختلاف رہا ہے۔ غزالی نے اس اختلاف سے بھی صرفِ نظر کرتے ہوئے مسلم فلسفیوں میں سے صرف فارابی اور بوعلی سینا کی تشریحات وتفہیمات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انہی کی تردید کرتے ہیں اور یہ بھی انہوں نے عمداََ کیا ہے، وجہ یہ ہے کہ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں میں جو اثر ورسوخ فارابی اور بوعلی کی آراء کو حاصل تھا، وہ کسی اور کو نہ تھا اور غزالی کا مقصود فلسفیوں کی ہی ہدایت ہے۔ فی الواقع کون سے مسئلہ میں ارسطو کی رائے کو کون سے فلسفی نے زیادہ درست انداز میں بیان کیا ہے، یہ توضیح اور ’’کلامِ ارسطو‘‘ کی تشریح کے ضمن میں مسلم فلسفیوں کے مابین محاکمہ کرنا غزالی کا مقصود نہیں۔ 

غزالی خود اس بات کو جانتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’لیعلم ان الخوض فی حکایۃ اختلاف الفلاسفۃ تطویل، فان خبطہم طویل، ونزاعہم کثیر، وآراء ہم منتشرۃ وطرقہم متباعدۃ متدابرۃ، فلنقتصر علی اظہار التناقض فی رای مقدمہم الذی ہوالفیلسوف المطلق والمعلم الاول۔۔۔وہو ارسطاطالیس‘‘ مزید لکھتے ہیں: ’’ثم المترجمون لکلام ارسطاطالیس لم ینفک کلامہم عن تحریف وتبدیل محوج الی تفسیر وتاویل، حتی اثار ذالک ایضا نزاعا بینہم، واقومہم بالنقل والتحقیق من المتفلسفۃ فی الاسلام الفارابی ابو نصر وابن سینا۔۔۔فلیعلم انامقتصرون علی رد مذاہبہم بحسب نقل ہذین الرجلین ‘‘ (تہافت الفلاسفۃ۔ صفحہ۷۶۔۷۸) یعنی ’’فلاسفہ کا باہمی اختلاف اور نزاع بہت زیادہ ہے اور اس سب کا تعاقب کرنے سے بات طویل ہوجائے گی۔ ان کی آراء میں اتحاد نہیں اور نہ ہی ان کے دلائل میں کوئی یگانگت ہے۔ اس وجہ سے ہم نے یہاں صرف ارسطو کی آراء کو مو ضوع تنقید بنایا ہے جو ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کا مقتدا ہے اور ان کے ہاں اسے فلسفہ کے پہلے باضابطہ استاد کا درجہ حاصل ہے۔ پھر ارسطو کے شارحین اور ترجمانوں کے کلام میں بھی تحریف اور تبدیلی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ توجیہ وتاویل کی محتاج ہے اور جس کی وجہ سے ارسطو کے شارحین میں بھی اختلاف پھیل گیا ہے۔ ارسطو کے شارح ’’مسلم‘‘ فلسفیوں میں سب سے زیادہ بااثر اور معتمد فارابی اور بوعلی سینا سمجھے جاتے ہیں۔ لہٰذا واضح رہے کہ ہم ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کی تردید انہی دو آدمیوں کی نقول کی بنیاد پر ہی کریں گے اور بس۔ ‘‘

اب بڑی بدیہی سی بات ہے کہ اگر ابن رشد غزالی کا جواب لکھنا چاہتے تھے تو انہیں اپنے جواب میں بوعلی سینا اور فارابی کی طرف سے بھر پور صفائی دینا تھی، مگر معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ان کی گفتگو سے کہیں بھی یہ تاثر نہیں ملتا کہ وہ ابن سینا اور فارابی کے وکیل ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ابن رشد‘ ابن سینا اور فارابی ہی سے شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے حکماءِ یونان کے اصل مذہب کو بگاڑ دیاہے اور اس کی درست تشریح نہیں کی۔ انہوں نے ابن سینا کے موقف، استدلال اور اقوال کو سفسطائی (تہافت التہافت۔صفحہ۲۷۳)، خطاء (۲۹۸)، غلط (۳۲۶)اور غیر صادق (۴۰۷) لکھا۔ جی ہاں، یہ سب انہوں نے لکھا ہے۔ کچھ مسائل کے بارہ میں لکھا کہ حکماء میں کوئی بھی اس کا قائل نہیں، سوائے ابن سینا کے، لہٰذا حکماء کی طرف اس کی نسبت کرنا درست نہیں۔ (صفحہ۱۹۵) بعض مسائل کے بارہ میں لکھا کہ فارابی اور ابن سینا نے حکماءِ یونان کی طرف یہ مسائل غلط طور پر منسوب کیے ہیں۔ (صفحہ۸۹، ۱۲۱،۳۰۶، ۳۰۹)ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’فانظر ہذا الغلط ما اکثرہ علی الحکماء، فعلیک ان تتبین قولہم ہذا ۔۔۔فی کتب القدماء لا فی کتب ابن سینا وغیرہ الذین غیروا مذاہب القوم فی العلم الالہی حتی صار ظنیا‘‘ (صفحہ۳۰۱)یعنی ’’دیکھو، یہ غلط فکر کتنی کثرت سے حکماءِ یونان کی طرف منسوب کی گئی ہے، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ ان کے اقوال کو متقدمین کی کتابوں میں دیکھا کرو، ابن سینا وغیرہ کی کتابوں میں نہیں جنہوں نے علم الٰہی میں یونانی فلاسفہ کے مذہب کو بدل کراتنی تحریف کی کہ یہ قطعی کی بجائے ظنی ہوکر رہ گیا۔‘‘ اس عبارت میں کئی دلچسپ مگر غور طلب باتیں ہیں:

  • ارسطو کے افکار کی تشریح میں ابن سینا کے ساتھ ابن رشد کا یہ اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔ آپ جان چکے ہیں کہ غزالی شارحین ارسطو کے اس اختلاف سے پہلے ہی واقف ہیں۔ انہوں نے جان بوجھ کر فارابی اور بوعلی سینا کی تشریحات کو اپنی تنقید کا موضوع بنایا کیونکہ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں میں ان کو جو مقام حاصل تھا، وہ کسی اور کو نہ تھااور غزالی کا مقصد ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کو ہی دعوتِ اصلاح دینا ہے۔ فی الواقع ارسطو یا حکماءِ یونان کے افکار کیا ہیں اور کیا نہیں، یہ چیز ان کی بحث سے خارج ہے کیونکہ اب وہ ارسطو کی قبر میں جاکر اس کو دعوتِ دین دینے سے تو رہے۔
  • ابن رشد کا جواب واقعتا جواب کہلانے کا مستحق تب ہوتا جب ابن رشد نے ’’مسلم‘‘ فلسفیوں اور خصوصا بوعلی سینا وغیرہ کی طرف سے کوئی صفائی دی ہوتی اور ان کے داغوں کو دھودیا ہوتا کیونکہ غزالی کے اپنے الفاظ کے مطابق، غزالی کا مقدمہ انہی کے خلاف تھا۔ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ غزالی کا مقدمہ جن فلسفیوں کے خلاف ہے، ابن رشد ان کی طرف سے سرے سے صفائی ہی نہیں دیتے ، بلکہ انہیں الٹا دوہرا مجرم بناتے چلے جاتے ہیں، یہ کہہ کر کہ یہ مسائل ارسطو کی طرف غلط منسوب ہوئے ہیں اور یہ بوعلی سینا وغیرہ کی اپنی ایجاد ہیں۔ 
  • اس عبارت سے غزالی کے اس دعویٰ کی تائید بھی ہوگئی کہ فلسفی اپنی الہیات کو ریاضی کی طرح قطعی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ابن رشد بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ بوعلی سینا کی تشریحات نے فلاسفہ کے علم الہیات کو ظنی بنا چھوڑا ہے (ورنہ وہ فی الواقع تو قطعی تھا۔)

مزید سنئے، وہ غزالی پر غصہ نکالتے ہوئے بھی یہی کہتے ہیں کہ ’’لم ینظر الرجل الا فی کتب ابن سینا فلحقہ القصور فی الحکمۃ من ہذہ الجہۃ‘‘ (صفحہ ۴۰۹) یعنی ’’اس آدمی (غزالی) نے صرف ابن سینا کی کتب پر اکتفاء کیاجس کی وجہ سے فلسفہ کو سمجھنے میں وہ ناقص رہا ہے۔‘‘ یعنی قصور ان ’’مسلم ‘‘فلسفیوں کا نہیں جو ابن سینا کو ارسطو کا سب سے بڑا شارح سمجھتے ہیں اور نہ ہی ابن رشد کا ہے جو ان فلسفیوں کو سمجھانے کی بجائے اور ابن سینا کی تردید لکھنے کی بجائے غزالی کو کوس رہا ہے، قصور ہے تو غزالی کا ہے کہ انہوں نے بوعلی سینا کی بنیاد پر اس کے پیروکار فلسفیوں کے خلاف مقدمہ دائر کیوں کیا ہے؟ میں ان لوگوں پر حیران ہوں جو اب بھی ابن رشد کے جواب کو ’’جواب‘‘ کہتے ہیں۔ 

ابن رشدکے رویہ کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سلیمان دنیا لکھتے ہیں: ’’کنا ننتظرمن ابن رشد فی ہذا المقام الا یدخل علی ہذہ الادلۃ التی حکاہا الغزالی تعدیلا من عندہ۔۔۔ بل ان یشیر الی الادلۃ التی لابن سینا والفارابی فی ہذا المجال لانہما الذان ینقدہما الغزالی۔۔۔اما ان یغفل ابن رشد بیان ذالک ویحاول ہو ان یعرض ادلۃ الفلاسفۃ فی صورۃ اکثر قوۃ واشد حجیۃ فلیس یثبت بذالک ادانۃ الغزالی‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۸۳) ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’ابن رشد لاینصب نفسہ مدافعا عن ابن سینا والفارابی وحدہما۔۔۔ وارسطو اغلی علی ابن رشد من الفارابی وابن سینا ، ولذلک حین یختلف الفارابی او ابن سینا مع ارسطو نجد ابن رشد یناصر الغزالی علی الفارابی او ابن سینا لا حبا فی الغزالی، ولکن لان وجہہ وجہہ نظرہ فی ہذہ الحالۃ تتلقی مع ارسطو الذی ہو احب مخلوق الیہ فی عالم الفلسفۃ‘‘ یعنی ’’ہم اس انتظار میں تھے کہ ابن رشد کا جواب پڑھیں گے تو وہ اس میں اپنی جانب سے دلائل دینے کی بجائے بوعلی سینا اور فارابی کے دلائل کی طرف اشارہ کریں گے اور ان کو تقویت دیں گے کیونکہ غزالی کی تنقید انہی دو اشخاص پر ہے (لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے)، ابن رشد اس نکتہ سے غافل ہوکر مسلسل اس چکر میں رہتے ہیں کہ بوعلی سینا وغیرہ کے دلائل سے زیادہ قوی دلائل اپنی جانب سے دے کر غزالی کو نیچا دکھائیں، جبکہ یہ ممکن نہیں۔ ابن رشد اپنے جواب میں اپنے آپ کو صرف بوعلی سینا اور فارابی کا وکیل نہیں سمجھتے،ان کے نزدیک فارابی اور ابن سینا سے زیادہ قیمتی ارسطو ہے، لہٰذا جہاں ابن رشد کو فارابی اور ابن سینا کا ارسطو کے ساتھ اختلاف محسوس ہو (کہ انہوں نے اس کے مذہب کی صحیح توجیہ نہیں کی) تو ابن رشد بھی فارابی اور ابن سینا کے خلاف بیان دے کر غزالی کی مدد کرتے رہتے ہیں، اس وجہ سے نہیں کہ انہیں غزالی سے محبت ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ فلسفہ کے جہان میں ان کے لیے سب سے زیادہ محبوب مخلوق ارسطو ہی ہے۔‘‘

ابن رشد کا خواہ مخواہ کئی جگہوں پر یہ کہنا کہ یونانی فلاسفہ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں اور یہ بوعلی سینا وغیرہ کی غلطی ہے جس کی تردید کرکے غزالی مطمئن ہیں،اپنا مذاق بنوانے والی بات ہے۔ غزالی کو خود بھی معلوم ہے کہ یونانیوں کے ہاں ایسے مسائل میں اختلاف رہا ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ’’مرشد ارسطو‘‘ کے کلام کو سمجھنے میں ان کے ’’مسلم‘‘ عقیدت مندوں کا بھی شدید اختلاف ہے، انہوں نے جان بوجھ کر صرف بوعلی سینا اور فارابی کو مدنظر رکھا ہے کیونکہ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں میں ان کی آراء کا جو اثرورسوخ ہے، وہ کسی اور کو حاصل نہیں اور غزالی کا مقصود فلسفیوں ہی کی اصلاح اور انہیں رجوع الی اللہ کے لیے آمادہ کرناہے۔ فرض کرلیا جائے کہ اگر ابن رشد واقعی سچ کہتے ہیں اور جو ابن سینا نے ارسطو کے کلام سے سمجھا ،وہ غلط ہے تو یہ ان کا بوعلی سینا سے اختلاف ہے اور انہیں چاہیے کہ ابنِ سینا کی تصانیف ’’الاشارات‘‘ اور ’’الشفاء‘‘ کا رد لکھیں، اس کے لیے ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ کا جواب لکھنے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ یا پھر اپنے فلسفی بھائیوں کو سمجھائیں جو ابن رشد کی بجائے بوعلی سینا کو ارسطو کا جانشین سمجھتے ہیں۔ غزالی فلسفیوں کی فکری تدقیقات سے غافل نہیں، وہ ان سے واقف ہیں او رانہوں نے ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ سے پہلے ایک تمہیدی کتاب ’’مقاصد الفلاسفۃ‘‘ کے نام سے تحریر کرکے فلسفیوں سے بھی زیادہ اچھے انداز میں فلسفیوں کے مذہب اور فکر کو تفصیل سے اور بغیر کسی تنقید کے بیان کیا ہے۔

ابن رشد کے دلائل خواہ کتنے ہی قوی ہوں، دیکھنا یہ ہے کہ انہوں نے مسلم فلسفیوں اور بوعلی سینا وغیرہ کی طرف سے کتنی وکالت کی ہے اور کتنا کامیاب مقدمہ لڑا ہے؟ تب ہی ان کا جواب ’’جواب‘‘ کہلانے کا مستحق ہوگا۔ 

(۴)

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ غزالی کے برعکس ابن رشد کا لہجہ نرم ہوتا ہے اور اس نے کہیں بھی غزالی کے لیے ناشائستہ الفاظ استعمال نہیں کیے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ غزالی کے لہجہ میں کتنی تلخی ہے اور کیوں؟بس ان حضرات کی اطلاع کے لیے اتنا بتانا چاہتے ہیں کہ ابن رشد نے بھی ’’غزالی‘‘ (جو رشتہ میں شاید ابن رشد کے دادا استاد بھی ہیں)کے لیے شریر اور جاہل کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ (صفحہ۱۹۵، ۱۹۶) 

(۵)

غزالی کے اٹھائے گئے بعض جزوی نکات پر ابن رشد کی تنقید بجا بھی ہوسکتی ہے، لیکن فی الجملہ یہ سمجھنا کہ انہوں نے ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کے سارے داغ دور کر دیے ہیں، اس بات کی دلیل ہے کہ ابن رشد کے ہم نوا اس سے زیادہ اس کے وفادار بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ ساری بحث کو ایک طرف رکھ دیجئے ، مجھے اس صرف سوال کا جواب دے دیجئے کہ ابن رشد نے ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کی طرف منسوب ہفوات کو کیسے ان سے دور کیا ہے، جن میں سے دینی عقائد پر براہِ راست ضرب لگانے والی دو مثالوں کا ذکر مضمون کی ابتدائی سطور میں ہوچکا ہے؟

(۶)

غزالی کی حمایت سے شاید یہ محسوس ہو کہ انہوں نے فلاسفہ کی تکفیر کا جو فتوی دیا، ہم اس کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن واضح ہوجائے کہ ایسا نہیں۔ جب تک کسی کا کفر نکلے ہوئے دن کی طرح میرے اپنے سامنے روشن نہ جائے، میرے اندر کسی کے کفرو ایمان کے بارہ میں سوچنے کی بھی ہمت نہیں، مبادا کہ اونچ نیچ ہوجائے اور میری اپنی نجات خطرہ میں پڑ جائے۔ خصوصا فلسفیوں کے بارہ میں جو ہمیشہ گول مول کرکے بات کرتے ہیں، تاویلوں کے چکر میں رہتے ہیں اور خود کہتے ہیں کہ ہم ان باتوں کو کھل کر بیان کرنا درست نہیں سمجھتے۔ مجھے اپنا ایمان زیادہ عزیز ہے۔ میں ان کی ہفوات کو ہفوات محسوس کرتا ہوں، مگر ان کے لفظوں کی لاگ لپیٹ اور نیت کی خیانتوں کو اللہ کریم کے سپرد کرتا ہوں۔ ہاں، غزالی کے بارہ میں اتنا کہا جاسکتا ہے کہ انہیں اپنی ذات کی حد تک شرحِ صدر ہوا ہی ہوگا تو انہوں نے تکفیر کا حوصلہ کیا۔ واللہ اعلم

(۷)

’’تہافت التہافت‘‘ غزالی کی علمی وفکری زندگی کا مطالعہ کرنے کے لیے کوئی واحد آئینہ نہیں اور نہ ہی خود غزالی کی پیروی کا شوق رکھنے والوں کو صرف اس کی حد تک خود کومحدود رکھنا چاہیے۔ غزالی کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے جن کو انہوں نے خود غالبا ’’المنقذ من الضلال‘‘ میں بیان کیاہے۔ اسی دوران ان پہ ایک عرصہ مناظرانہ گرما گرمی کا بھی گزرا، تہافۃ الفلاسفۃ شاید اسی دور کی یادگار ہے۔ (تہافت الفلاسفہ۔ صفحہ۵۷) جبکہ ان کی زندگی کا آخری حصہ خانقاہ نشینوں کی صحبت میں ایمانی صفات کو اپنانے کی فکر کرتے ہوئے گذرا۔ ان کی سب سے گراں مایہ کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ اسی آخری دور سے تعلق رکھتی ہے۔ (اس نکتہ کی مزید وضاحت کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں)

ابن رشد سے پیار کیوں؟

مذکورہ بالا صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے، میں ابن رشد کے مریدوں سے پوچھتا ہوں کہ آخر کس امتیازی خوبی کی بناء پر وہ ابن رشد کے نام سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں؟ کیا محض اس وجہ سے کہ ’’تردیدِ غزالی‘‘ کا ’’سہرا‘‘ ان کے سر ہے؟ مجھے شک ہے کہ ابن رشد کوبطورِ مرشد پیش کرنے والے اس کے چالاک مرید اور غیر مسلم ’’لبرلز‘‘ اس کی جس خوبی سے متاثر ہیں وہ اس کی آزاد خیالی ہے جو تاریخی روایات میں اس سے منسوب کی گئی ہے۔ اگر ابن رشد کو راہ نما بنانا ہے اور اسی ابن رشد کو جو تاریخی روایات کے اندر نظر آتا ہے تو سنئے، وہ قومِ عاد کے وجود کا منکر تھا جس کا ذکر قرآنِ مجید میں ہے۔ (تاریخ فلاسفۃ الاسلام۔ صفحہ۱۴۸)میں نہیں کہتا کہ یہ بات ضرور سچ ہے جو اس سے منسوب کی گئی ہے، ہاں البتہ میں یہ سوچتا ہوں کہ اس کے تاریخی چہرے پر لگے ان جیسے ’’تاریخی داغوں‘‘ کو دھوئے بغیر اس کے تاریخی چہرہ کو مرشد وراہ نما بنانے کی کیا حکمت ہوسکتی ہے؟ ابن رشد کے مرید اس بات کا جواب نہیں دیتے۔ ابن رشد کی ذات ہماری نظر میں ایک معما ہے۔ اس کی زندگی میں بھی اس کی طرف بہت کچھ منسوب ہوا اور اس کی صفائیاں بھی ملتی رہیں۔ مسلم امراء کے ہاں اسے کبھی عزت اور کبھی ذلت نصیب ہوتی رہی۔ (دیکھئے: تاریخ فلاسفۃ الاسلام) اس معمہ کو حل کیے بغیر اس کو راہ نما بنانے سے کیا مقصود ہے؟

بتایا جاتا ہے کہ ابن رشد نے سائنس وفلسفہ کے لیے بہت سی قربانیاں دیں، اس نے جوتے کھائے اور اس پہ تھوکا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جس تاریخ میں اس کی یہ ’’قربانیاں‘‘ مذکور ہیں، کیا اسی تاریخ میں وہ ’’سائنسی انکشافات‘‘ مذکور نہیں ہیں جن کی وجہ سے اسے عام مسلمانوں کے غیظ وغضب کا شکار ہونا پڑا؟ یا تو دونوں کو سچ کہئے یا پھر دونوں کو غلط۔اگر بات قربانیوں کی ہے تو سنئے، مسلم معاشرہ سے فلسفہ کے برے اثرات کو رد کرنے کے لیے امام احمد ابن حنبل نے بھی بہت کوڑے کھائے تھے، کیا محض اس بناء پر آپ یونانی فلسفہ کے مضر اثرات کو تسلیم کریں گے؟ اگر ہاں تو پھر غزالی کا قصور کیا ہے؟ انہوں نے انہی مضر اثرات کو ہی تو نشان زد کیا ہے۔ مزید سنئے، خود غزالی کے بارہ میں منقول ہے کہ ان کی بعض کتابیں بعض علاقوں میں جلائی گئیں۔ (طبقات الشافعیۃ۔ جلد۶، صفحہ ۲۵۸) پس فرق کیا ہوا؟ اپنے موقف کے لیے قربانیاں تو سب نے دی ہیں۔ 

رہنے کا گھر آخرت ہے

اس دنیا کی خوشحالی کے لیے سائنس وٹیکنالوجی کو اختیار کرنا منع نہیں، بلکہ شاید کسی درجہ میں مفید بھی ہے۔ مگر یہ اس قیمت پر نہیں کہ ہم اسلام سے ہی دست بردار ہوجائیں۔قرآن کی نگاہ سے تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا رہنے کا اصل گھر نہیں، غیر مسلم کی کسی نیکی اور رفاہی کام پر اللہ پاک اسے اس دنیا میں ہی اس کا بدلہ دے دیتے ہیں کیونکہ آخرت کا ابدی گھر اس کے لیے نہیں۔ جبکہ مسلمان کی کسی بدعملی پر اسے دنیا میں ہی سزا دے دی جاتی ہے کہ یہ آخرت کی بڑی سزا سے بچ جائے۔ ایسی صورت میں غیر مسلم دنیا پاکر بھی ناکام اور مسلمان دنیا سے محروم ہوکر بھی اس سے بہتر ہوتے ہیں۔ مغرب کی ’’مادی عزت‘‘ اور مسلمانوں کی ’’مادی کم تری‘‘ اس لیے نہیں کہ اللہ ان سے راضی اور ہم سے ناراض ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف راضی ہوکر ہی نہیں، ناراض ہوکر بھی کچھ دے سکتے ہیں۔آج آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم غزالی کی بجائے ابن رشد کو اپنا راہ نما بناتے تو مغرب کی طرح سائنس میں ترقی کرتے اور ذلت کے یہ دن دیکھنے نہ پڑتے، اگر ہمیں یہ دنیا اور اس کی مادی چکا چوند اتنی ہی عزیز ہے تو خطرہ ہے کہ کل کوئی صاحب اٹھیں گے اور یہ بھی کہیں گے کہ اگر ہم مسلمان کی بجائے کچھ اور ہوتے تو ذلت کے یہ دن نہ دیکھتے۔ اگر ہمیں آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا کی حقیقی عزت بھی چاہیے تو اس کے لیے ہمیں اپنی غلطیوں کا تدارک کرنا ہوگا، جن کی وجہ سے ہم خدا کی مدد اور نیک سمجھ سے محروم ہیں۔ ان میں سے ایک غلطی دنیا پرستی بھی ہے۔ ہماری سب سے قیمتی متاع محمدِ عربی کا کلمہ ہے اور اسی کے ساتھ ہمارا رہنا مرنا ہے۔

استدراک

ہمارے ہاں ’’ماہنامہ ساحل‘‘ (مرحوم) کے وابستگان کا حلقہ سائنس اور سائنسی علوم کی مطلقاً تردید کے حوالہ سے خاصی شہرت رکھتا ہے۔ یہ حضرات اس معاملہ میں غزالی کو اپنا پیش رو اور خود کو ان کا متبع سمجھتے ہیں، ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اہل مغرب کی طرح یہ حضرات بھی غزالی کوسائنس کی مطلق تردید کے الزام سے ’’متہم‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں، حسنِ ظن یہی ہے کہ اس میں ان کے کچھ نیک مقاصد ہوں گے، مگر میں حیران ہوں کہ غزالی خود علومِ حکمیہ (سائنسیہ وفلسفیہ) کو تقسیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’میں ان علوم کے صرف چند مخصوص اجزا پر تنقید کا قائل ہوں جو دین سے متصادم ہیں، ان علوم پر مطلقاً تردید کرنا درست نہیں۔‘‘ ان کے بیان کے مطابق ’’پہلے نمبر پہ ان علوم میں کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے اور دین کے درمیان اختلاف صرف لفظی نوعیت کا ہے، دوسرے نمبر پہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو دین کی کسی اصولی بات سے متصادم نہیں ہیں، مثلا یہ کہ زمین گیند کی طرح گول ہے، آسمان نے اس کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، وغیرہ وغیرہ تو یہ بھی ہماری بحث سے خارج ہیں کیونکہ دین زمین اور آسمان کے بارہ میں صرف یہ تقاضا کرتا ہے کہ ان کو مخلوق سمجھا جائے، بعد ازاں فی الواقع یہ زمین گول ہو، چٹائی کی طرح بچھی ہوئی ہو، چھ کونوں والی ہو یا آٹھ کونوں والی، اس سے دینی عقائد اور دین کی کسی اصولی بات پہ بہرحال کوئی ضرب نہیں پڑتی، ان امور کی تردید بھی ہمیں مطلوب نہیں، بلکہ اس بارہ میں بعض اوقات سائنسی توجیہات اتنی قطعی ہوتی ہیں کہ ان کا انکار ہی ممکن نہیں ہوتا۔‘‘ ان کی رائے میں ’’ جو آدمی ایسی چیزوں کے اندر بھی ان کے ساتھ دینی جوش وخروش کے ساتھ مناظرہ کرے اور سمجھے کہ یہ دین ہے تو ’’فقد جنی علی الدین وضعف امرہ‘‘ یعنی اس آدمی نے دین کی دوستی میں دراصل دین کے خلاف ایک جرم کا رتکاب کیا ہے اور دین کے مقدمہ کو ہی اس نے کم زور کردیا ہے۔‘‘ مزید کہتے ہیں: ’’تیسرے نمبر پہ کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ دین کی کسی اصولی بات پہ ان کی زد پڑتی ہے، مثلا کائنات کے ابدی ہونے، خالق کی صفات کے تعین اور بعث بعد الموت کے جسمانی صورت میں ہونے کی باتیں جن کا انکار فلسفیوں نے کیا ہے، صرف اور صرف انہی مخصوص مسائل میں ان کے نظریات کی بیخ کنی تک خود کو محدود رکھنا چاہیے۔‘‘ (تہافت الفلاسفۃ۔ صفحہ۷۹۔۸۱) میں حیران ہوں کہ اتنی واضح تصریحات کے بعد سائنس کے ’’مطلق رد‘‘ کا گجرا غزالی کو کیسے پہنایا جاسکتا ہے اور ساحل کا حلقہ یا ابن رشد کے مرید کیسے ان کو دین وسائنس میں ہم آہنگی کے خلاف کہہ سکتے ہیں؟ اس نکتہ پہ کچھ گفتگو مضمون کی ابتداء میں بھی ہوچکی ہے۔ اللہم انی اسئلک حبک وحب من یحبک وحب عمل یقربنی الیک، آمین


مراجع

۱۔مقاصد الفلاسفۃ، امام غزالی، تحقیق: محمود بیجو۔ ط:مطبعۃ ایضاح، دمشق

۲۔تہافت الفلاسفۃ، امام غزالی، تحقیق: ڈاکٹر سلیمان دنیا۔ ط: دار المعارف، مصر

۳۔تہافت التہافت، ابن رشد، تحقیق: ڈاکٹر سلیمان دنیا۔ ط:دار المعارف، مصر

۴۔ہدایۃ الحکمۃ، اثیر الدین ابہری، حواشی:محمد عبیداللہ قندھاری وسعادت حسین، ط: مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ

۵۔طبقات الشافعیۃ، تاج الدین السبکی۔ ط:دار احیاء الکتب العربیۃ

۶۔تاریخ فلاسفۃ الاسلام، لطفی جمعہ، ترجمہ:ڈاکٹر میر ولی محمد۔ ط: نفیس اکیڈمی، کراچی

۷۔مقدمہ ابن خلدون، ترجمہ:مولانا عبدالرحمن دہلوی۔ ط: الفیصل لاہور

۸۔حکمائے اسلام، مولانا عبدالسلام ندوی۔ ط: نیشنل بک فاؤنڈیشن

۹۔علم الکلام، علامہ شبلی نعمانی۔ ط: نفیس اکیڈمی، کراچی

آراء و افکار

(مارچ ۲۰۱۴ء)

Flag Counter