قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

اپنے گذشتہ مضمون ’’تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل ۔۔۔‘‘ پر بالترتیب جناب عاصم بخشی اور ڈاکٹر شہباز منج کے دو ناقدانہ تبصرے ’’الشریعہ‘‘ کے شمارہ اگست ۲۰۱۴ء میں نظر سے گذرے۔ دونوں صاحبان نے میرے مضمون میں مذکور اصل علمی نکات سے ذرا بھی مس نہیں کیا اور نہ ہی میرے اصل موقف ومدعا کو موضوعِ بحث بنایا ہے جسے میں ان کی طرف سے نیم دلانہ ’’اعترافِ حقیقت‘‘ سمجھتا ہوں۔ تاہم کچھ مغالطے ہیں اور کچھ سوالات ہیں جو خصوصا اول الذکر ناقد نے اٹھائے ہیں اور ہماری گفتگو کے اصل منشاء سے غیر متعلق ہونے کے باوجود زیرِ بحث موضوع سے ہی کچھ کچھ متعلق ہیں اور ان کا جواب دینا بھی اس ضمن میں فائدہ سے خالی نہ ہوگا، اس لیے ہم ان پر بات کریں گے تاکہ بحث میں پیدا ہوجانے والا الجھاؤ اور بوجھل پن دور ہوسکے اور ہمارے ناقدین کی تشفی کا سامان بھی ہوسکے۔

گذشتہ تحریر میں میرا موقف:

گذشتہ تحریر میں ہمارا مقصد صرف یہ واضح کرنا تھا کہ دنیاوی مقاصد واغراض کے لیے اور مادی حقائق کو منکشف کرنے کے لیے کائنات میں کیا جانے والا تدبر جو کہ سائنس دان کرتے ہیں، یہ ہماری اصطلاح میں سائنسی تدبر ہے اور یہ جائز ہے، بلکہ اگر نیک نیتی کے ساتھ ہو تو ’’واعدوا لہم مااستطعتم من قوۃ‘‘جیسی آیات کی وجہ سے فی زمانہ امتِ مسلمہ کے لیے کسی درجہ مستحسن بھی ہوسکتا ہے۔مگر قرآن میں جس تدبرِ کائنات کی مکرر تلقین کی گئی ہے اور جس سے اعراض کرنے والوں کی سخت مذمت کی گئی ہے، اس سے مراد مذکورہ بالا سائنسی تدبر نہیں، بلکہ وہ تدبر ہے جس کا مقصدمعرفتِ الہی، توجہ الی اللہ کا حصول اور قلب ونظر کا تزکیہ ہو۔ اب ہوا یہ کہ ہمارے ’’مفکرین‘‘ کی ایک بڑی کثرت جو لاشعوری طور پر مادی اسباب ووسائل کو عروج وزوال کا فیصلہ کن معیار سمجھتی ہے ، ’’قرآنی حکم: تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد لینے لگی اور بقول ان کے، قرآن ہی کی رو سے عروج وزوال کا واحد سبب بھی یہی سائنسی تدبر ہے۔ بقول ان کے جو قوم اس تدبر کو اپنائے گی، قرآن کی رو سے وقت کی زمامِ کار اس کے ہاتھ میں ہوگی اور موجودہ دور میں زوالِ امت کا اصل سبب یہی ہے کہ سائنسی، مادی وتجربی تدبرِ کائنات کا جو حکم قرآن نے اسے دیا تھا، وہ ہمارے حلیف اپنا کر ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔ دور نہ جائیے، الشریعہ ہی کے شمارہ جولائی ۲۰۱۴ء میں ’کتاب العروج‘ نامی ایک کتاب پر ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی کا تبصرہ شائع ہوا ہے، اسے دیکھ لیجئے ۔ یہ مذکورہ طرزِ فکر کی بھر پور نمائندگی کرتا ہے۔ میرا مقصد اپنے مضمون میں یہ واضح کرنا تھا کہ قرآن میں دیے گئے ’’تدبرِ کائنات‘‘ کے حکم سے کسی غیر روحانی تدبر پر اکسانا بالکل مقصود نہیں ہے جس کا ایک ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے رویے ہیں، کجا یہ کہ اسے عروج وزوال کا اکلوتا اور حقیقی سبب قرار دینے کی تہمت بھی قرآن کے سر ڈالی جائے۔ بس اتنی سی بات واضح کرنا مقصود تھا، مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ناقدین نے اسے ’’مسئلہ کشمیر‘‘ بنا دیا۔

باقی رہی زوالِ امت کی بات تو شاید اس کا حقیقی سبب سائنسی تدبر کو کھو دینا نہیں، بلکہ ان عظیم الشان روحانی واخلاقی صفات کو کہیں کھو دینا ہے جن کی اہمیت کے پیشِ نظر قرآن میں بیسیوں بار ان کا تکرار ہوا، جن پر رب العلمین کی طرف سے جہاد میں نصرت ومعیت کا وعدہ تھا اور جس کے نتیجہ میں مومنوں کی تدبیروں نے کامیاب، جبکہ غیروں کی تدبیروں نے ناکام ہونا تھا۔ بے شک امت کو سائنسی تحقیقات سے تعرض کرنا چاہئے، مگر یقین جانئے کہ امت اِس وقت مادی تنزلی سے کہیں زیادہ روحانی واخلاقی تنزلی کا شکار ہے۔ حقیقی اورپائے دار عزت وشوکت خدا کی رضامندی سے حاصل ہوسکتی ہے اور اس کی سب سے پہلی شرط سائنسی تحقیق نہیں، تعلق مع اللہ (اللہ کے ساتھ قلبی تعلق) کا احیاء ہے۔ تعلق مع اللہ کے بغیر ممکن ہے کہ وقتی طور پر کسی کو کچھ عروج حاصل ہوجائے جس میں خدا کی کوئی حکمت مضمر ہوگی، مگر اس سے اللہ کے ہاں سرخروئی کا ملنا مشکل ہے اور ہر وہ عروج جس میں رضاءِ الہی شامل نہ ہو، وہ پانی کے بلبلے کی طرح ہے جو صرف نظر کا دھوکا ہے، تھوڑا وقت گذرنے کے بعد، یا تو اِس دنیا میں ہی یا پھر آخرت میں سب کچھ آشکار ہوجائے گا۔ 

*۔۔۔*

اب آتے ہیں پہلے اول الذکر ناقدکی طرف۔ ان کو سب سے پہلے میری ’’تمہید‘‘ پر اعتراض ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر کوئی چیز غلط ہو اور اس کی نادرستگی کو سمجھنے کے لئے بالکل معمولی سی توجہ کی ضرورت ہو تو اس کو غلط کہنے سے مکالمہ کا آغاز نہ کیا جائے اور نہ ہی یہ کہا جائے کہ لوگ اس حوالہ سے خواہ مخواہ کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے بقول ان کے، مکالمہ کی اور علمی تنقید کی ’’موت‘‘ واقع ہوجاتی ہے۔ خیر، تفنن بر طرف! فاضل ناقد کو ہمارے مضمون میں مذکور دو الفاظ ’روحانی تدبر‘ اور ’سائنسی تدبر‘ کا اطلاق سمجھنے میں مغالطہ لگا ہے اور اسی سے پھر انہوں نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ آئیے، اِن سوالات پر ذرا غور کرتے ہیں:

سائنسی تدبر کے دو مفہوم اور روحانی تدبر کی دو شکلیں:

(۱) تدبر کے ساتھ ’سائنسی‘ اور ’روحانی‘ کا سابقہ ہم نے تحقیق وتدبر کے مختلف اغراض ومقاصد کو واضح کرنے کے لیے لگایا تھا کہ اگر تدبر کرتے ہوئے مادی اغراض ومقاصد پیشِ نظر ہیں تو یہ تدبر ’سائنسی ومادی‘ ہے اور قرآنی تدبرِ کائنات کا مصداق نہیں، جبکہ اگر اس سے مقصود قلب ونظر کا تزکیہ، طاری غفلت کا ازالہ اور معرفت الٰہی کی تحصیل ہے تو یہ تدبر روحانی ہے اور یہ قرآنی تدبرِ کائنات کا مصداق بھی ہے۔ اس کی تصریح ہمارے مضمون میں ہی موجود تھی۔ فاضل ناقد اس معاملہ میں تو ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ قرآنی تدبر کا مقصود معرفت الٰہی ہے لیکن ان کو مغالطہ یہ لاحق ہوا ہے کہ ’سائنسی ومادی تدبر‘ سے اِس راقم کا مقصود کوئی مادی ، تجربی، حسی اور ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم باضابطہ اسلوبِ تحقیق تھا جو نہ تو بقول ان کے میرے نزدیک معرفتِ باری کا ذریعہ بننے کے قابل ہے اور نہ ہی قرآنی تدبرِ کائنات کے فضائل کا مصداق بن سکتا ہے، کیونکہ میرے نزدیک قرآنی تدبرِ کائنات کا مصداق ’روحانی تدبرِ کائنات‘ تھا، نہ کہ ’سائنسی تدبر‘ اور بقول ان کے اس روحانی تدبرسے میری مراد کوئی ایسا غیر حسی وغیر تجربی اسلوبِ تدبر تھا جو کبھی بھی ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم نہیں ہوتا اور نہ ہی دوسروں کے لیے قابلِ ابلاغ یا قابلِ تفہیم ہوتا ہے، بلکہ یہ کوئی ایسا باطنی تجربہ یا سری کیفیت ہے جو انسان کو خدا کی موجودگی کے ایک روحانی احساس سے سرشار کردے۔ مثلا ایک جگہ ان کے الفاظ ہیں:

’’یہ تصور کہ حضورِ حق کا ایک خاص قسم کا عارفانہ تجربہ ہر صورت میں ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم ایک سائنسی فکری تجربے سے متضاد کوئی الگ شے ہے، اتنا معقول معلوم نہیں ہوتا ۔۔۔ کسی بھی سائنسی یا فلسفیانہ رجحان کے تدبر کا مطلب ہرگز روحانی مقاصدواحوال کا انکار نہیں ہے۔‘‘ (صفحہ۴۵)

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موصوف میرے موقف کو کیا سے کیا سمجھ گئے ہیں۔ اطلاعا عرض ہے کہ مادی اور دنیاوی اغراض ومقاصد کے لئے کیا جانے والا ’سائنسی تدبر‘ جوکہ ہمارے علم کے مطابق سائنس دان کرتے ہیں اور جو ہماری مراد بھی تھا ، یہ واقعی نہ تو روحانی تدبر کی کوئی شکل ہے اور نہ ہی اسے قرآنی تدبرِکائنات کے فضائل کا مصداق ٹھہرانے کا کوئی جواز ہے۔ تاہم اگر ’سائنسی تدبر‘ کا وہ معنی لیا جائے جو آپ نے بیان کیا ہے تو وہ محض ایک اسلوبِ تدبر ہے، اگر اس اسلوبِ تدبر کو معرفتِ الہی تک پہنچنے کے لیے اختیار کیا جائے گا تو یہ روحانی تدبر ہوگا اور قرآنی فضائل کا مصداق بھی، (بلکہ شاید یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ خود قرآن معرفتِ الہی تک کامل رسائی کے لیے اسی واحد اسلوب کی طرف غالبا سب سے زیادہ متوجہ کرتا ہے)، لیکن اگر اسی اسلوبِ تدبر کو مادی اغراض کے لیے اختیار کیا جائے گا تو یہ ہماری اصطلاح میں غیر روحانی تدبر ہوگا اور قرآنی ترغیبات کا مصداق بھی نہیں ہوگا۔

’روحانی تدبر‘سے ہمارا مقصود ہر وہ ’تدبرِ کائنات‘ تھا جس کا مقصد رب العالمین کی معرفت اور اس کی یاد ہو، خواہ وہ تدبر اپنی ابتدائی شکل میں عرفانی ہو یا عقلی واستدلالی۔ (جی ہاں، عقلی بنیادوں کی بحث تبھی ہوگی کہ جب عقلی استدلال اور اس کے نتیجہ میں عقلی اطمینان مطلوب ہوگا۔) چنانچہ قرآن میں تدبرِ کائنات کا مطالبہ کافر اور مومن دونوں سے کیا گیا ہے، اب مومن کا تدبر از اول تا آخر عرفانی ہو تو ہو، مگر ایک کافر کو ابتداء استدلالی تدبر کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے اور چونکہ ان دونوں میں مقصود معرفتِ الہی ہی ہے اس لئے یہ دونوں ہی قرآنی تدبرِ کائنات کی شکلیں ہیں، معیاری شکلیں ہیں اور دونوں ہی ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم ہوں گی، بس فرق یہ ہے کہ پہلے میں جب عقلی اطمینان ابھی مطلوب ہے تو عقلی واستدلالی بنیادیں زیر غور بھی آسکتی ہیں ، جبکہ دوسرا چونکہ پہلے سے موجود عقلی اطمینان پر قائم ہوگا، اس لیے عقلی بنیادیں اس میں زیرِ غور لانے کی شاید ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ ’روحانی تدبر‘ کا سری کیفیت والا وہ معنی جو ہمارے ناقد نے بیان کیا ہے، یقین جانئے کہ ہماری مراد تو کیا ہوتا، ہمیں ابھی تک سمجھ بھی نہیں آیا۔

جی ہاں،’ عرفانی‘ اور ’عقلی واستدلالی‘ دونوں ہی روحانی تدبر کی شکلیں ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ استدلالی تدبر کا سفر اِس ضمن میں زیادہ طویل نہیں ہوگا کیونکہ اسلام کی مبادیات کچھ زیادہ گاڑھے، ثقیل اور ناقابلِ فہم ’’عقلی دلائل‘‘ کے سمجھنے پر موقوف نہیں، خدا نے اِن کا راستہ آسان کردیا ہے اور تبھی تو اِن پر ایمان نہ لانے پہ جہنم کی سخت ترین سزا مقرر فرمائی ہے۔ ان مبادیات کی صداقت کو سمجھنے کے لیے فلسفیانہ پیچ وتاب کھانے کی نہیں، سنجیدگی، ہوش مندی اور قبولِ حق کے جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے اور بس۔ مثلا دیکھئے، رب العالمین کا وجود کسی بھی بدیہی سے زیادہ بڑی بدیہی حقیقت ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فی الجملہ و اصولی صداقت کو ان کی نبوت کے منکر بھی ہر دور میں تسلیم کرتے رہے ہیں۔ دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ اِن دو باتوں کے بعد اسلام کے بارہ میں مزید کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ یوں تو دلائل اور بھی بہت ہیں، مگر کیا ابتداءً اسلام کی حقانیت کو سمجھنے کے لئے اتنی سی توضیح کافی نہیں اور کیا اِس توضیح کا کوئی بھی معقول جواب موجود ہے؟ میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ عقلی اطمینان کا سفر اس ضمن میں نسبتا مختصر ہوگا اور اس کے بعد کا سفر عرفانی ہی عرفانی ہوگا جو عقلی اطمینان کے ہی مطابق اس کے عمل اور کردار کو صحیح رخ پہ استوار کرے گا۔ یہ اس کے اندر تعلق مع اللہ کے ضمن میں خوف، محبت، ممنونیت، عبدیت، یکسوئی اور خشوع ورقت جیسی ایمانی کیفیات کو پختہ کرے گا۔ الا یہ کہ وہ خود بے سروپا شیطانی وساوس میں مشغول ہوکرعقلی اطمینان کو پنپنے نہ دے یا اس اطمینان کو پانے کے لیے ناقص فلسفیانہ استدلالات کی جوڑ توڑ میں مشغول رہے۔

اسی طرح ان کی گفتگو سے یہ تاثر لینا بھی درست نہیں ہوگا کہ میرے نزدیک روحانی تدبر اور مادی اغراض کے لیے ہونے والے ’’سائنسی تدبر‘‘ کی آمیزش ناممکن ہے کیونکہ ایک ہی تدبر میں روحانیت اور مادیت کی یوں آمیزش ہوسکتی ہے کہ اس کا جتنا حصہ ’’روحانی‘‘ ہوگا، وہ ’’قرآنی تدبرِ کائنات‘‘ کے فضائل کا مصداق ہوگا اور جو حصہ غیر روحانی ہوگا، اس کا حکم ’’سائنسی ومادی تدبر‘‘ والا ہی ہوگا۔ یہ عین ممکن ہے کہ سائنسی تدبر ہی کے دوران ایک صاحبِ تدبر اپنا کام بھی کررہا ہو اور ساتھ ہی ساتھ توجہ الی اللہ کو بھی اپنے دل میں سموئے ہوئے ہو، طبیعی عوامل پر غور کرتے ہوئے بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہو اور اس کے سامنے موجود سائنسی وتحقیقی منظر نامہ ’’حجاب‘‘ بننے کی بجائے معرفت الٰہی میں بڑھوتری ہی کا ایک ذریعہ ثابت ہورہا ہو۔ اب ظاہر ہے کہ اِس صورت میں روحانی وسائنسی تدبر یکجا ہیں، اس میں جتنا حصہ اللہ کے لیے ہوگا، اس کا اجر اسے اللہ کے ہاں ملے گااور جو حصہ غیر روحانی ہوگا، وہ قرآنی تدبرِ کائنات کے فضائل کا مصداق نہیں ہوگا۔

روحانی تدبر اور سائنسی ورلڈ ویو:

اسی سلسلہ کی ایک مزید کڑی ان کا یہ بیان ہے کہ چونکہ اس راقم کے نزدیک سائنسی اسلوبِ تدبر روحانی مقاصد کے لیے قابلِ استعمال نہیں، لہٰذا گویا ہمارے نزدیک موجودہ دور کا سائنسی تدبر کرنے والا یا سائنسی ورلڈ ویو رکھنے والا ایک انسان اس وقت تک قرآنی وروحانی تدبر کا حامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ سائنسی تدبر اور سائنسی ورلڈ ویو سے بالکل ہی تہی دامن نہ ہوجائے۔ گویا ہم (بالفاظِ ناقد) گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف دوڑانا چاہتے ہیں اور روحانی تدبر کے لیے ہزاروں سال پہلے کے تصورِ کائنات میں پہنچنا ضروری سمجھتے ہیں۔ میرے بارے میں یہ مغالطہ بھی شاید ان کو اصطلاحات ہی کے فرق کی وجہ سے اور مضمون میں مذکور اولین دور کے مسلمانوں کے کچھ حوالوں سے لاحق ہوا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:

’’اگر عصر حاضر کا انسان اِس قابل ہے کہ محض خلا میں گھورنے سے ازلی حقائق پر غور وخوض کرتے ہوئے حقیقتِ مطلقہ کا احاطہ کرسکے اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے آپ کو نورِ ربانی کی حضوری سے سرشار محسوس کرے تو اس میں ظاہر ہے کہ کچھ قابلِ اعتراض نہیں، مگر آج کے انسان کی ذہنی وفکری ساخت اور تجربہ کو قدیم اور قبل از دورِ وسطی کے انسان جن میں انبیاء وصالحین وصحابہ کرام وغیرہ بھی شامل ہیں، پر قیاس کرنا اور اس سے عمومی طور پر اس قسم کے تدبر کا مطالبہ ایک عجیب وغریب طرح کی سادہ لوحی ہے ۔۔۔ اب اگر پورا تجرباتی تناظر ہی بدل چکا ہے تو پھر یا تو گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف دوڑائیے اور یا پھر اپنی تدبرانہ نگاہ کو بدلیے۔۔۔ قرآن کوئی طبیعیات، کیمیا، حیاتیات یا نفسیات کی کتاب تو ہے نہیں، مگر چوں کہ قرآن ہدایت کی خاطر جابجا ہمیں مظاہر انفس وآفاق کی طرف متوجہ کرتا ہے، لہٰذا عصر حاضر کا قاری ان علوم کے دلائل کو استعمال کیے بغیر شاید تدبر کائنات کے مطالبے مکمل حق ادا نہیں کرسکتا ۔۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک بدو اور ایک ریاضی دان قرآن کے یکساں مخاطب ہیں۔ مگر تدبر کائنات کے پس منظر میں ان کی ذہنی واردات کا ایک دوسرے سے قطعا مختلف ہونا اس بات پر ہرگز دلیل نہیں کہ حضورِ حق کے احوال، انسانی قلب وذہن پر منکشف ہونے سے پہلے کسی ایک خاص ذریعہ علم ہی کے متقاضی ہیں اور اس پر اصرار کرتے ہیں۔‘‘ (صفحہ۴۸،۴۹، ۴۳)

ہمارا مقصد اپنے مضمون میں کہیں پر بھی یہ ثابت کرنا نہیں تھا کہ جدید دور کا سائنسی انسان جو سائنسی ورلڈ ویو رکھتا ہے، وہ روحانی تدبر کا اہل نہیں۔ آپ جان چکے ہیں کہ ہم نے سائنسی تدبر کو مباح بلکہ ایک لحاظ سے مستحسن بھی لکھا ہے، پس اگر یہ تدبر خدا نخواستہ مطلوب روحانی تدبر کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہو تا جوکہ حکمِ خداوندی ہے تو ہم سائنس کو آخر کیوں کر مباح ومستحسن کہتے، اِس صورت میں تو ایک خداوندی حکم کی تعمیل میں رکاوٹ ہونے کی وجہ سے اسے واجب الترک اور قابلِ نفرین ہونا چاہئے تھا۔( ضروری ہے کہ یہاں پر ہم ’’سائنسی ورلڈ ویو‘‘ کی بھی قدرے وضاحت کردیں۔ ہم ’’سائنسی ورلڈ ویو‘‘ سے اپنی گفتگو میں صرف وہ نیامنظرنامہ لے رہے ہیں جس میں عصرِ حاضر کا انسان ماضی کے انسان کے مقابلہ میں نظامِ کائنات کو سرسری آثار ووقائع کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے قدرے گہرائی سے دیکھتا ہے، مگر اس میں کوئی الحادی کیفیت نہیں ہوتی۔ )

روحانی تدبر اور کائنات کا بدویانہ تناظر:

تاہم بعینہ اسی طرح، دوسری طرف ہم یہ بات بھی درست نہیں سمجھتے کہ موجودہ دور کا کوئی انسان محض ’’خلاء میں گھورنے‘‘ سے یا بالفاظِ دیگر، کائنات کے بدویانہ تناظر سے اللہ تک رسائی اور حضورِ حق کی سری سرشاری حاصل نہیں کرسکتا اور یہ کہ اِس مقصد کے حصول کے لئے موجودہ دور میں اسے کیمیا، طبیعیات، حیاتیات یا نفسیات کے دلائل سے مدد لینا ہی ضروری ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آنکھوں کے سامنے موجود زمین وآسمان کے جن عظیم، محکم اور ہوش ربا آثار وتغیرات کو ہمارے داعی نظر انداز کردیتے ہیں، یقین جانئے کہ ان کو خود اپنی آنکھوں سے خواہ بدویانہ نگاہ کے ساتھ ہی دیکھنا آج بھی کسی وضعی علم کی نظامِ کائنات کو بیان کرنے والی پیچیدہ تحقیقات سے زیادہ عام فہم ، زیادہ دل نشین اور زیادہ پائیدار مشعلِ راہ ثابت ہوسکتا ہے، بس ہوا یہ کہ چونکہ ہم آسمان وزمین کو ہروقت دیکھتے ہیں، مسلسل دیکھتے چلے آرہے ہیں اور شروع ہی سے انہیں سطحی نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں، جبکہ ہمارے دل ودماغ پر چند سفلی خواہشات کا کل وقتی بسیرا ہوتا ہے، انہی کو ہم سوچتے ہیں اور انہی کے خواب دیکھتے ہیں، پھر کائنات میں آنکھوں کے سامنے موجود رب العلمین کی طرف متوجہ کرنے والی عظیم نشانیوں کو کوئی بیان نہیں کرتا تو ان وجوہات کی بناء پر زمین وآسمان میں آنکھوں کے سامنے موجود ’’آیات اللہ‘‘ کی خرد افروزی، ہوش ربائی اور ہیبت ناکی کی طرف ہمارا خیال ہی نہیں جاتا اور نہ ہی ہم ان سے اثر لیتے ہیں، ہاں! نئے سے نئے سائنسی انکشافات پھر بھی دل پہ کچھ اثر کر جاتے ہیں۔ 

انبیاء کی آمد کا ایک مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ بنی نوع انسان کو اِن ’’آیات اللہ‘‘ کی طرف متوجہ کریں اور خود اپنی آنکھوں سے ایک عاقلانہ، حقیقت پسندانہ وعارفانہ نگاہ کے ساتھ انہیں ان پہ غور کرنے کی تعلیم دیں تاکہ ان پر طاری غفلت جو مختلف شکلوں کی کفریات یا فسق وفجور کی شکل اختیار کرچکی ہے، اس کا ازالہ ہو۔ ہم لوگ ’’تدبر کائنات‘‘ کی تلقینات پڑھ کر بھی یہ کرتے ہیں کہ ان بعض کتابوں کو پڑھ لینا کافی سمجھتے ہیں جن میں چند مناظرِ کائنات کی نقشہ کشی کی گئی ہوتی ہے، یعنی عملا کچھ وقت فارغ کرکے خود اپنی نگاہوں کے ساتھ کائنات کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں اور ایسا ہم کریں بھی کیسے؟ ہمیں تو بند کمروں اور مصنوعی روشنیوں سے ہی نکلنے کی فرصت نہیں جو انسان کی خدمت اور نصیحت کے لیے طلوع وغروب ہوتے اجالوں، گھٹتے بڑھتے چاندوں، زمین سے ابلتے خزانوں، اڑتی پھدکتی، رینگتی، تیرتی اور قلانچیں بھرتی زندگی کی شکلوں، موسم کی بدلتی رتوں، دور تلک پھیلی کائناتوں یا خود اپنی صورت مورت پر ہی آئینہ سامنے رکھ کر کچھ غور کریں جو آج بھی انسان ہی کو دعوتِ فکر دینے کے لیے موجود ہیں، ہم تو خوب صورت قدرتی مناظر کو بھی اس لئے دیکھنے جاتے ہیں کہ محض اپنی جمالیاتی حس کی تسکین ہوجائے۔ اس لیے ہمیں یہ عجیب محسوس ہوتا ہے کہ وضعی علوم کے دلائل پر غور کیے بغیر ’’محض خلاء میں گھور لینے ‘‘ (یعنی کائنات کے بدویانہ مشاہداتی تناظر) سے جدید انسان کو کیسے معرفتِ حق حاصل ہوسکتی ہے؟ یقین جانئے کہ ’’گلشن میں علاجِ تنگیء داماں بھی ہے۔‘‘ نظامِ قدرت کے چند مخفی اصولوں اور پہلوؤں کو بیان کرنے والے وضعی علوم کے دلائل سے ناواقفیت کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔(بدویانہ اور غیر سائنسی تصورِ کائنات کے موجودہ دور میں کار آمد ہونے کی بحث ضمنا چھڑ گئی، ورنہ اصل مقصود تدبر ہے جو معرفتِ الٰہی کی خاطر ہو، خواہ وہ سائنسی ورلڈ ویو کے ساتھ ہو یا بدویانہ ورلڈ ویو کے ساتھ، جیساکہ ہم عرض کرچکے ہیں۔)

اسلام، عیسائیت اور ایک ناقابلِ ابلاغ سری کیفیت:

(۲) مذکورہ غلط فہمیوں کے نتیجہ میں ہی پھر ایک اور سنگین مغالطہ ناقد کو میرے موقف کے بارہ میں یہ لاحق ہوا ہے کہ شاید میں (بالفاظِ ناقد) عیسائیت کی طرح اسلام کے مابعد الطبیعی عنصر کو مذکورہ اس پیچیدہ، مخفی اور ناقابلِ ابلاغ عارفانہ تجربہ کا نتیجہ مانتا ہوں جسے انہوں نے ’روحانی تدبر‘ کا نام دے رکھا ہے اور حسی وعقلی تجربات کے خلاف ہوں یا مبادیاتِ اسلام کو ان کی بنیاد پر ثابت نہیں مانتا(دیکھئے ناقد کا عنوان اور متعلقہ شمارہ میں صفحہ ۴۵ و ۴۸پر ان کی گفتگو)، حالانکہ ایسی کوئی بات میرے حاشیہء خیال میں بھی نہیں تھی۔ وجہ اس مغالطہ کی بھی شاید وہی رہی ہے کہ میرے مضمون میں سائنسی تدبر اور روحانی تدبر کااطلاق سمجھنے میں انہیں مغالطہ لگا ہے۔ اب اس کے جواب میں پہلی عرض تو یہ ہے کہ خود ورحانی تدبر بھی ہمارے نزدیک تدبرِ کائنات کی ایک قسم ہونے کی وجہ سے حسی ومشاہداتی اور قابلِ تفہیم تدبر ہی ہے، جبکہ دوسری بات یہ کہ اس روحانی تدبر میں ہی ’عقلی واستدلالی‘ تدبر بھی شامل ہے۔ روحانی کیفیات کی سری سرشاری دلیل سے زیادہ نتیجہ ہے ملکوتی وآفاقی حقائق کے ادراک کا، نیز اسی کے ہم قائل ہیں۔ امید ہے کہ اتنی وضاحت کافی ہوگی۔

روحانی تدبر کی معراجی کیفیات اور سائنسی انہماک:

(۳) ایک جگہ ناقد موصوف کہتے ہیں کہ

’’یہ اس زمانہ کا خاصا تھا کہ ناقابلِ ابلاغ اور ناقابلِ فہم علل کو فوق الفطرت قوتوں سے منسوب کیا جائے ۔۔۔ ایک دس سالہ بچے کا ذہن بھی جدید درس گاہوں میں آج اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ فطرت کو مابعد الطبیعیاتی یا دینیاتی مقصد کے تابع سمجھنے کے بجائے اسے انسانی غرض کا مطیع سمجھا جائے ۔۔۔ سورۃ الملک کی وہ عظیم آیات جن میں دو بار افلاک کی طرف نطر دوڑانے کا ذکر ہے، کیا آج کا انسان ایک قدیم انسان کے ذہن سے پڑھ سکتا ہے؟ یا پھر وہ آخری آیت جس میں پانی کے بند ہوجانے کی تنبیہ ہے، کیا ہماری ہنسلی کی ہڈی میں بھی وہی سنسناہٹ دوڑا سکتی ہے جو ایک صحابی کو محسوس ہوتی ہوگی؟‘‘ (صفحہ۴۷، ۴۸)

میں ان کی اس مبینہ صورتِ حال سے شاید اتفاق کرتا ہوں، مگر میں سمجھ نہیں سکا کہ موصوف اس سے ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ بہر حال یاد رکھئے کہ جس طرح تدبرِ کائنات کا قرآنی حکم ہر زمانہ کے لیے ہے، خواہ اس زمانہ کا ورلڈ ویو سائنسی ہو یا بدویانہ، بالکل اسی طرح اس کی وہ آیات بھی ہر زمانہ کے لیے ہیں جن میں انسان کو خدا مستی، بے خودی، کائنات کے ہر ذرہ میں خدا کا نور تلاش کرنے اور نہ صرف ناقابلِ فہم وناقابلِ ابلاغ علل کو بلکہ عام فہم وقابلِ ابلاغ علل کو بھی ایک فوق الفطرت ذات سے منسوب کرنے کا سبق دیا گیا ہے۔ مثلا یہ کہ شجر وحجر اللہ سبحانہ وتعالی کی تسبیح وثناخوانی میں مشغول ہیں، جھکے ہوئے سائے در اصل خدا کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور پہاڑ کی اونچائی سے جو پتھر نیچے آگرتے ہیں، یہ در اصل اللہ کے خوف سے نیچے آگرتے ہیں۔ حالانکہ سایہ کے جھکنے اور پتھر کے نیچے آگرنے جیسے امور کی ’مادی علل‘ پردہء خفاء میں نہیں، بلکہ آنکھوں کے سامنے موجود ہیں جنہیں قدیم دور کا ایک بدو بھی دیکھ کر بتا سکتا ہے۔ یہ غیبی حقائق جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں، محض زیب داستان بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ مومن ہی کو ایک خاص زاویہ نگاہ عطا کرنے کے لیے ہیں کہ وہ شجر وحجر کو، جھکے ہوئے سایوں کو اور اوپر سے نیچے آگرنے والے پتھروں تک کو کس زاویہ سے دیکھے؟ اسی زاویہء نگاہ کی آبیاری کے نتیجہ میں ہی ایک مومن کسی مخلوق کے ہاتھوں پہنچنے والی بھلائی کو بھی پہلے خدا کی طرف منسوب کرتا اور اسی کا شکر بجا لاتا ہے۔ اِس زاویہء نگاہ کا خوگر بننے کے لیے تھوڑی سی نفسانی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ جو اللہ کو اللہ سمجھتا ہے، اس کے لئے یہ معمولی سی مشقت کوئی معنی نہیں رکھتی، لیکن جو اللہ کو اللہ نہیں سمجھتا، اپنے اندر احساسِ بندگی نہیں رکھتا اور ایسے عارفانہ زاویہء نگاہ کا مذاق اڑاتا ہے (میری مراد کافرہے) تو روزِ قیامت نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے اندر یہی زاویہء نگاہ از خود پیدا ہوجائے گا اور ہر چیز میں خدا کی بادشاہی صاف نظر آجائے گی، مگر تب کا عارف بننا کسی کام نہیں آئے گا، حقیقی عارف وہی ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہوئے اس دنیا میں ہی عارف بن جائے اور خدا کے امتحان میں پورا اتر آئے، یہ آدمی آخرت کی رسوائی سے بچ جائے گا۔ جس طرح تدبرِ کائنات کا قرآنی حکم ہر زمانہ کے لیے ہے، اسی طرح خدا کے خوف سے دل میں رقت پیدا ہونے، آنکھوں کے راستے بہہ پڑنے، اس کا نام سن کر دل لرز جانے، خدائی تنبیہات کو سرسری نہ لینے، آیاتِ الہی کو سن کر ایمان بڑھنے اور روتے ہوئے سجدہ میں جاگرنے جیسی قرآنی تعلیمات بھی ہر زمانہ کے لیے ہیں۔

باقی بعض آیات کے بارہ میں یہ کہنا کہ ان کو سن کر ایک صحابی ہی کی ہنسلی کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا ہوسکتی تھی اور آج یہ ممکن نہیں کیونکہ جدید درس گاہوں کی ذہن سازی اور طرح کی ہے، کہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ہم جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی درس گاہوں کی اس کم زوری پر سمجھوتہ کرلیں اور سائنسی انہماک کے مضر روحانی اثرات کو نظر انداز کردیں؟ میں نے گذشتہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ ’’سائنسی تدبر ایک مباح سرگرمی ہے بشرطیکہ اس کا انہماک انسان کو خدا پرستی کے تقاضوں سے غافل نہ کردے۔‘‘ مذکورہ شرط کو ذکر کرنے کا منشاء ہی یہی تھا کہ ہماری درس گاہوں میں، جیساکہ ناقد موصوف نے لکھا ہے، سائنسی منہجِ تدبر کی تعلیم وتربیت کا اہتمام تو بخوبی کیا جاتا ہے، مگر خدا پرستی کے تقاضوں کی تعلیم و تربیت کا ذرا بھی اہتمام نہیں ہوتا اور نہ ہی نبوی منہجِ تدبر کی کوئی تبلیغ وتفہیم ہوتی ہے جو کہ امرِ ربی ہے۔ ہاں، سارا زور اان سرگرمیوں پر صرف ہوتا ہے جن کا جواز بھی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ ان کا انہماک انسان کو خدا پرستی کے تقاضوں سے غافل نہ کردے۔ اب یہ چیز خدا پرستی کے تقاضوں میں سے ہی تو ہے کہ ایک مومن تدبرِ کائنات کے نبوی منہج کا حامل ہو، آیاتِ قرآنی اس کے وجود کو ہلا دیں، مطلوبہ خدا پرستی کی کیفیات کو ہر زمانہ سے متعلق سمجھتا ہو اور خدا پرستی کے اِن تقاضوں کی ادائیگی میں جو کوتاہی ہوجائے، اس پر فکرمند ونادم رہتا ہو۔ انبیاء کا منہجِ تدبر کوئی پیچیدہ منہج نہیں، بلکہ خود ساری کائنات کسی بھی اور منہج سے زیادہ انسان کو اسی منہجِ تدبر پر اکساتی ہے، مگر چونکہ ہم ایک مستقل غفلت کے عادی ہوچکے ہیں، اس لیے یہ منہج سیکھے بنا ہمیں آتا نہیں۔ ایک صحابی اور ایک جدید انسان کی کیفیات کا مذکورہ بالا فرق ہماری نظر میں بدویانہ قدامت اور سائنسی جدیدیت سے زیادہ ایمانی استعداد کم زور و نحیف ہوجانے کے بسبب ہے۔ اگرکسی ملک کے فانی اور ناقص الاختیار حکم ران یہ اعلان کردیں کہ ہم ہنگاہی صورتِ حال میں فلاں فلاں سہولیات کو اپنی مملکت سے ختم کرسکتے ہیں تو لوگوں کو واقعی اس بات پر یقیں آجاتا ہے، وہ سہولیات ان کو ڈوبتی ہوئی نظر آتی ہیں اور یہ سن کر ان کی ’’ہنسلی کی ہڈی میں سنسناہٹ‘‘ بھی پیدا ہوتی ہے، لیکن اگر یہی بات رب العلمین کہے کہ میں پانی کے خزانے خشک کرسکتا ہوں اور ایسا کرنے کی صورت میں تم اپنی زندگی کا سامان کہاں سے لاؤ گے تو ہمارے اوپر اس کا کوئی اثر ہی نہیں پڑتا، اس کا سبب تعلق مع اللہ کی کم زوری اور غیر سنجیدگی ہے۔ ہم گنہ گاروں کو اس کا جواز تلاش کرنے کی بجائے، اس پر شرمندہ ہونا چاہئے۔

آج کا کوئی کافر ہو یا نام کا مسلمان، اگر اسے یہ عظیم الشان کائنات معرفتِ حق کی طرف متوجہ نہیں کرتی یا تدبرِ کائنات والی قرآنی تنبیہات اس کی ’’ہنسلی کی ہڈی میں سنسناہٹ‘‘ نہیں دوڑاتیں تو اِس کا سبب سنجیدگی اور ہوش مندی کا فقدان ہے۔ اگر کوئی انسان سرکشی پر اترا ہوا ہے، نہ بدلنے کا اس نے فیصلہ کر رکھا ہے اور نورِ حق کی روشنی میں عارفانہ نگاہ کے ساتھ کائنات کو دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں تو ایسا انسان خواہ وہ چودہ سوسال پہلے پیدا ہوا ہو یا آج، وہ قرآنی آیات سن کر بھی جامد کا جامد اور پتھر کا پتھر رہے گا، چنانچہ قدیم انسان جو اللہ کے منادیوں کی سیدھی سادی عام فہم باتوں کو ہوش مندی سے نہیں سنتا تھا، سنجیدگی سے ان پہ غور نہیں کرتا تھا اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے میں اپنی عافیت سمجھتا تھا، وہ بھی طرح طرح کی کفریات میں مبتلا ہوتا تھااورمحض قدامت کی وجہ سے تدبرِ کائنات والی قرآنی آیات وتنبیہات اس کے لیے سامانِ ہدایت نہیں بن جاتی تھیں، کیا یہ سچ نہیں؟ جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی آدمی آج بھی پوری ہوش مندی کے ساتھ قرآنی آیات کو سنے گا تو یہ آیات اس کے لیے خاطر خواہ تاثیر کا موجب بنیں گی اور محض اس وجہ سے کہ یہ کوئی سائنسی دور کا انسان ہے، وہ ان کی برکت سے محروم نہیں رہے گا اور خدا کی کائنات بھی اس پر اپنی پرتیں کھولے گی۔ ہماری حالت تو یہ ہے کہ ہم اپنے اس سائنسی انہماک کی اصلاح تک کے لیے بھی آمادہ نہیں ہیں جس میں خدا پرستی کے تقاضوں کو مقدم تو کیا، شاید بعض اوقات ملحوظ بھی نہیں رکھا جاتا۔واضح یہ کرنا مقصود ہے کہ ایک صحابی میں اور ’’جدید‘‘ مسلمان میں اصل فرق ہوش مندی و سنجیدگی کا ہے، کچھ اور نہیں۔ ( باقی ’افلاک میں نظر دوڑانے والی آیت‘ کے بارہ میںیہ واضح کردوں کہ اس آیت میں افلاک کے اندر نہیں، بلکہ رحمن کی تخلیق میں نظر دوڑانے کی بات ہے، تاہم اگر کوئی قدیم یا جدید انسان سیاق وسباق میں افلاک کا ذکر ہونے کی وجہ سے اس ’تخلیق‘ سے مراد افلاک ہی لیتا ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن قرآن کے لفظ ’تخلیق‘ میں بے انتہا عموم اور توسع پایا جاتا ہے۔ نیز ہم عرض کر چکے ہیں کہ روحانی تدبر کرتے ہوئے انسان کی ذہنی سطح بدویانہ ہو یا جدید سائنسی، اس میں بھی کم از کم ہمیں تو کوئی اشکال نہیں ہے۔ )

’’نبوی منہجِ تدبر‘‘ کی تعلیم وتربیت:

محض کلمہ پڑھ لینے سے تو کوئی بھی آدمی قربِ الہی کے مدارج طے نہیں کرلیتا۔ اگر آج کا کوئی مسلمان بھی کسی کافر کی طرح تدبرِ کائنات کی عرفانی برکات سے محروم ہے تو اس کا سبب غیر سنجیدگی ہے، اپنی غیر سنجیدگی کو اولا سنجیدگی میں بدلنے کے لیے تو محض ایک دفعہ ہی نبوی وقرآنی دعوت کو بیدار مغزی سے سن لینا کافی ہے، لیکن اس سنجیدگی کو اچھی طرح جمانے، نبوی، ایمانی اور روحانی منہجِ تدبر کی تربیت پانے، قلب ونظر کا تزکیہ کرنے اور شیطانی غفلتوں کے مکمل انسداد کے لیے اسی نبوی وقرآنی دعوت کو بار بار سننے، سوچنے اور دوہراتے رہنے کا عمل کرنا ہوگا اور اس کو اپنے اہم ترین یومیہ مشاغل میں شامل کرنا ہوگا۔مذکورہ نبوی وقرآنی دعوت سے میری مراد ذکر و نصیحت کی وہ موٹی موٹی باتیں ہیں جن کو ابنیاء بار بار دوہراتے تھے، جن کا قرآن بھی بار بار تذکرہ کرتا ہے اور جو مسلم وغیر مسلم کے لیے یکساں مفید ہوتی ہیں، جن میں اللہ کا تعارف کرایا جاتا ہے، اس کی عظمت، قدرت اور رحمت کی تشریح کی جاتی ہے، اس کی تخلیقات میں تدبر کی دعوت دی جاتی ہے، کائناتی نقوش ومناظر کی عارفانہ نقشہ کشی کی جاتی ہے، آخرت کا تذکرہ ہوتا ہے، رسولوں کی صداقت کا بیان ہوتا ہے، حق وباطل اور نور وظلمت کا فرق بتایا جاتا ہے، پھر ان امورپر غور کرتے ہوئے اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے، جبینِ نیاز ٹیک دینے اور مومنین کی صفات اپنانے کو کہا جاتا ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ ’’نبوی دعوت‘‘ شاید صرف کفار کے لیے ہے اور مومن ایک دفعہ قبول کرلینے کے بعد اِس ’’دعوت وتذکیر‘‘ کو باربار سننے کا محتاج نہیں، مگر یہ سوچ یکسر غلط ہے۔ مثلا دیکھئے کہ قرآن سارا کا سارا ’’مذکورہ دعوت وتذکیر‘‘ پر ہی مشتمل ہے اورقرآن میں بے شک کفار کوبھی مخاطب کیا گیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ شب وروز اس کی تلاوت مومنین نے ہی کرنی ہے اور قرآن میں ان کی ہی یہ صفت بتلائی گئی ہے۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ ایک ایمان والا بھی ’’دعوت وتذکیر‘‘ پر مبنی مذکورہ مضامین کو بار بار سننے سنانے کا پورا پورا محتاج ہے اور یہی اس کی ایمانی ترقی کا راستہ ہے۔ یہ کرنے سے انسان میں غافلانہ جمودات کی برف پگھلتی ہے اور وہ بہت کچھ نظر آنے لگتا ہے جو پہلے نظر نہیں آرہا تھا۔ 

یہ تو رہا اِس تربیت کا ایک مرحلہ، اس کے بعد ایک دوسرا مرحلہ بھی ہے جس پر ہم بات کرتے ہیں، لیکن اس سے پہلے تھوڑی سی تمہید سن لیجئے۔ شاید اس کو موجودہ دور کے انسان کی بدقسمتی کہنا چاہئے کہ اس میں انسان مصنوعی چیزوں کے نرغے میں پیدا ہوتا، پلتا بڑھتا اور پھر مر جاتا ہے، جبکہ خدا کی نکھری ہوئی کائنات کو عاقلانہ نگاہ کے ساتھ دیکھنے کی اس کو فرصت ہی نہیں ملتی۔ انسان کا انسان ہی کی ’’ہاتھ لگی‘‘ مصنوعی چیزوں کو دیکھنا، دیکھتے رہنا، ہروقت انہی میں گھرے رہنا، بند کمروں ومصنوعی روشنیوں سے باہر قدم نہ رکھنا ، دنیا کے جھوٹے تفکرات میں جکڑے رہنا یا چند مادی وطبیعی عوامل کو دریافت کرکے انہی پہ قناعت کرلینااس کو کنوئیں کا مینڈک بنا دیتا ہے جو اپنے کنوئیں کو ہی کل کائنات سمجھتا ہے۔ آپ کو میری اس بات کی تصدیق کرنی چاہئے کہ مادی وطبیعی توجیہات اس کائنات کی کوئی بھی معقول اور مکمل توجیہ نہیں کرپاتے۔ ان توجیہات کی حیثیت زیادہ سے زیادہ فقط اتنی ہے کہ کوئی آدمی پہلی دفعہ پانی والی ٹونٹی کے پیچھے کوئی واٹر ٹینک تلاش کرلے اور یہ نہ سوچے کہ اس واٹر ٹینک کو بھی اپنے پیچھے کسی ’’سورس‘‘ کی ضرورت ہے اور جس نے یہ بجلی، موٹر پمپ، واٹرٹینک، پائپ اور ٹونٹی کا حسین جال ایک ترتیب اورا ہتمام سے بچھایا ہے، وہ بھی ضرور کوئی دانا، زندہ وموجود، تدبیر وحکمت کا مالک، ہمارا محسن اور قابلِ تعریف شخصیت ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ سائنسی ایجادات اور مصنوعی چیزوں کو دیکھ کر ہمارا رویہ ایسا ’’بھولا بھالا‘‘ نہیں ہوتا، وہاں ہم سیانے بن جاتے ہیں۔ چنانچہ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جو موبائل فون، ہوائی جہاز، برقی سیڑھی اور ٹیلی ویژن جیسے سائنسی کھلونوں کو بدویانہ نگاہ سے دیکھتے ہیں، میرا مطلب ہے کہ ان کھلونوں میں کارفرما وضعی علوم کی تفصیلی کدو کاوش سے مطلق آگاہی نہیں رکھتے، لیکن ان چیزوں کو دیکھ ان کی پہلی نگاہ ہی ان کے ’’تخلیق کار‘‘ کی طرف جاتی ہے،وہ سائنس کی، سائنسدانوں کی اور سائنسی علوم کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں اور سائنسی کھلونے انہیں حیران بھی کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ یہی نگاہ مبہوت کردینے والی خدائی تخلیقات کے معاملہ میں جاکر کیوں مردہ ہوجاتی ہے؟ کیوں اسے ان تخلیقات کے خالق کی طرف متوجہ نہیں کرتی؟ کیوں اس خالق کو قابلِ ذکر تک نہیں رہنے دیتی؟ کیوں دیکھنے والے کے دل میں ممنونیت ومرعوبیت کے احساسات پیدا نہیں کرتی؟ کیوں اسے حیران نہیں کرتی؟ کیوں اسے اللہ کے آگے جھکنے پر مجبور نہیں کرتی؟ یہاں آکر وہی نگاہ اتنی ’’بھولی بھالی‘‘ کیوں بن جاتی ہے؟

ہماری ان ایمانی کم زوریوں کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے شیطان کی طرف سے مسلط کردہ غفلت۔ اس غفلت کے ازالہ کے لیے اور قلب ونظر کا تزکیہ کرنے کے لیے ایک تو یہ ہے کہ انبیاء کے منہجِ تدبر کو سمجھنا ہوگا اور اس کے لیے ان کی دعوت وتذکیر کو بار بار سننا ہوگا، جبکہ دوسرا کام اور دوسرا مرحلہ (جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا)یہ ہے کہ خود کو ذرا مصنوعی ماحول اور مصنوعی روشنیوں کی فضاء سے نکالنا ہوگا، اپنے اپنے بنائے ہوئے کنؤں سے باہر آنا ہوگا، مادی تدبر کے انہماک کو ایک حد کا پابند بنانا ہوگا، خدا کو اس کائنات کا کوئی عضوِ معطل سمجھنے کی روش ترک کرکے کائنات کی ہی گواہی کے مطابق ایک عظیم وعلیم اور قادرِ مطلق ہستی سمجھنا ہوگا، پھر اس کے بعد جب آنکھوں کے سامنے موجود فطری مشاہدات ان شاء اللہ اس پہ اپنی اصل معنویت کھولیں گے اور جب ایک مرتبہ نگاہ نورِ حقیقت کو محسوس کرنے لگے گی تو مصنوعیت کے نام سے موجود خدا کی تخلیقات ( جی ہاں، سائنسی ایجادات بھی اللہ ہی کی تخلیق ہیں) بھی ا س کے لیے حجاب نہیں بنیں گی کیونکہ انسانی عقل اور سائنس بھی خدا ہی کی تخلیق کا ایک ادنی کرشمہ ہیں اور تزکیہ والی نگاہ انہیں اسی نگاہ سے دیکھے گی۔جب دل میں اللہ کی عظمت وہیبت ایک بار جم جائے تو طبیعی عوامل میں بھی خدا کا وجود تلاش کرنے کے لیے چالیس دن کا چلہ نہیں کاٹنا پڑتا۔

آج کل ہمارے بعض دانش وراصلاحِ تعلیم کے لیے کچھ خود ساختہ ’’اسلامی معیار‘‘ قائم کرنے میں مشغول ہیں، مثلا یہ کہ سات سال سے کم عمر کے بچے کے لیے دنیاوی تعلیم کا انتظام کرنا غیر اسلامی ہے، تعلیم کے میدان میں طلبہ سے فیس وصول کرنا غیر اسلامی ہے اور فیسیں وصول کرنے کی حد تک دنیاوی تعلیم کے سب ادارے غیر اسلامی حرکت کا ارتکاب کررہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہماری درس گاہیں ’’اصلاحِ تعلیم‘‘ کے لمبے چوڑے پروگرام بنانے اور اِن خود ساختہ اسلامی معیارات پر کان دھرنے سے پہلے صرف ایک سادہ سا کام کرلیں کہ قرآن جن ایمان افروز مضامین کو بار بار مومن کے کان میں ڈالنا چاہتا ہے، وہ مضامین کسی نصابی کتاب کے ضمن میں ایک دو بار پڑھا دینے کی بجائے، یومیہ بنیادوں پر پورے وقارا ور احترام کے ساتھ عام فہم زبان میں بچوں کے کانوں میں دیر تک ڈالیں اور بچوں کو دین کے نام پر چند وظائف کا ’’رٹو طوطا‘‘ بنا دینے کی بجائے انہیں سورۃ البروج والے واقعہ کے ’ ویرانہ نشین عابد کی طرح‘ اپنے رب کی معرفت کے حقیقی ومعنوی احساس سے ہم کنار کریں تو ایک ہزار ایک برائیاں ان شاء اللہ خود بخود دم توڑ جائیں گی اور خدا نے چاہا تو اسلامی اسکولوں کی یہ پریشانی بھی دور ہوجائے گی کہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی ان کے بچوں کا آئیڈیل ’’مغرب‘‘ کیوں ہوتا ہے۔ ہماری درس گاہوں میں بچوں کو سائنسی تحقیق کا سبق تو زور وشور سے دیا جاتا ہے، مگر یہ سبق بار بار نہیں دہرایا جاتا کہ ’’سائنس اور انسانی عقل بھی اللہ ہی کی تخلیق کا ایک ادنی کرشمہ ہیں، لہذا سائنس وانسانی عقل کی ہیبت ومرعوبیت سے زیادہ ہمیں اپنے باطن میں رب العلمین کی قوت وقدرت کا احساس راسخ کرنا ہے اور اسی کا ہر لمحہ وہر لحظہ استحضار پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے ۔‘‘

*۔۔۔*

قرآن سائنسی اسلوبِ تدبر کا مخالف نہیں، مگر:

رہے ہمارے دوسرے ناقد تو وہ ہمارے مضمون کو سمجھ کر بھی نہ جانے کیا سمجھے ہیں۔ انہوں نے میری طرف ایسا بہت کچھ منسوب کیا ہے، جسے پڑھ کر دلی افسوس ہوا۔ ان کی تنقید بعض ایسی وضاحتوں کی متقاضی ہے جو اگر کسی بچہ کے سامنے دینی ہوتیں تو حرج نہیں تھا، لیکن الشریعہ کے صفحات پر ایسا کرتے ہوئے دل میں گھٹن پید اہوتی ہے۔مثلا میں نے گذشتہ مضمون میں تفصیل سے لکھا تھا کہ ’’قرانی حکم: تدبرِ کائنات‘‘ سے اگر معروف سائنسی ومادی تدبر مراد ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس خداوندی حکم کی بجا آوری کی خاطر سائنسی تدبر کی کوئی سرگرمی ضرور نظر آتی، مگر ایسا نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا رویہ اس حوالہ سے الٹا عدمِ دلچسپی کا نظر آتا ہے۔ ناقد موصوف اس پر لکھتے ہیں کہ ’’کیا حضور اور آپ کے صحابہ ہماری طرح مضمون نگاری کیا کرتے تھے؟ (وغیرہ وغیرہ کی ایک لمبی داستان)‘‘ (صفحہ۵۴) یعنی سوال چنا، جواب گندم۔سوال کا منشاء تو یہ تھا کہ اگر ’’قرآنی حکم: تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی زندگی میں اس امرِ ربی کی تعمیل کیوں نظر نہیں آتی؟مگر وہ ثابت یہ کرنا شروع کردیتے ہیں کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مضمون نگاری نہیں فرمائی اور ہمارے لیے یہ جائز ہے، اسی طرح سائنسی تدبر بھی خواہ آپ نے نہ کیا ہو، مگر ہمارے لیے یہ کرنا جائز ہے ۔ حالانکہ سائنسی تدبر کی فی الجملہ اباحت میں ان کا اور میرا سرے سے کوئی اختلاف ہی نہیں، اس کے تو ہم بھی قائل ہیں۔اسی طرح بعض جگہ ناقد نے یوں لکھا ہے کہ گویا میں سائنسی تدبر کو (بلفظہ) نہ صرف ناجائز، بلکہ ملت کے ساتھ دشمنی کے مترادف اور خلافِ قرآن سمجھتا ہوں، (دیکھئے: صفحہ ۵۴) بلکہ میں بقول ان کے یہ بھی سمجھتا ہوں کہ سائنسی تدبر انسان کو ملحد بنادیتا ہے۔ (صفحہ ۵۱) اس الزام اور اتہام پر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ جناب ! اللہ کا نام لیجئے۔ کیا میں نے سائنسی ومادی تدبر کو اپنے مضمون میں جائز اور کسی درجہ مستحسن نہیں لکھا تھا اور کیا اسی سے متعلقہ سطور بیرونی صفحہ پر شائع نہیں ہوئی تھیں جن پر آپ نے مدیر الشریعہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا؟ تو پھر یہ سب کہنے کا جواز کیا ہے اور میرے بارہ میں یہ سب آپ نے کہاں سے سمجھ لیا ہے؟ 

ان کی ’’خلافِ قرآن‘‘ والی بات البتہ کچھ تنقیح کا تقاضا کرتی ہے۔ موصوف کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’قوم وملت کے مفاد میں ایسی سرگرمی جس کی قرآن وسنت میں ممانعت نہ ہو ثواب ہے یا گناہ؟ اگر گناہ ہے تو اس کی فضیلت نہیں، اگر ثواب ہے تو یہ خلافِ قرآن نہیں، موافقِ قرآن ہے اور موافقِ قرآن ہے تو آپ کا مقدمہ باطل۔‘‘ (صفحہ۵۲، ۵۳) یعنی ایک بار پھر وہی بات کہ سائنسی تدبر کو جائز اور مرغوب تسلیم کیا جائے جس میں میرا اور ان کا کوئی اختلاف نہیں۔ گذارش یہ ہے کہ جو چیز مباح اور کسی درجہ مستحسن ہو، وہ آپ ہی کے بقول خلافِ قرآن نہیں، بلکہ موافقِ قرآن ہے اور اسی کے ہم قائل ہیں۔ لیکن یاد رکھئے کہ کسی چیز کے موافقِ قرآن ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب اس پر قرآن کی کوئی بھی آیت منطبق کردینے کا کسی کو فری ہینڈ مل گیا ہے۔ مثلا جسمانی ورزش ایک مباح ومستحسن سرگرمی ہے اور اس لیے اسے خلافِ قرآن بھی نہیں کہا جاسکتا، مگر اب اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ’’اقیموا لصلوۃ‘‘ کے قرآنی حکم سے بھی یہی ورزش مراد لینا جائز ہے۔ یہی معاملہ اس سائنسی تدبر کا ہے جو مادی اغراض ومقاصد کے لیے اور مادی حقائق کو منکشف کرنے کے لیے سائنس دان کرتے ہیں، یہ جائز ہے اور خلافِ قرآن بھی نہیں۔ مگر قرآن جس تدبرِ کائنات کا مطالبہ کرتا ہے، یہ مادی تدبر اس کا ہرگز ہرگز مصداق نہیں، نہ تو اصولی طور پر اور نہ ہی ضمنی طور پر کیونکہ ضمنی مطالبہ ہونے کی صورت میں بھی پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کے اس ضمنی مطالبہ کو نبی اور اس کے شاگردوں نے پورا کیوں نہیں کیا اور جس ضمنی مطالبہ کی تکمیل کے لیے ہمیں عباسی خلفاء کے ہاں مخصوص ’’علمی سرگرمیاں‘‘ نظر آتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے شاگردوں نے موقع ملنے کے باوجود ان علمی سرگرمیوں میں بے رغبتی کیوں دکھائی اور خود قرآن میں بھی اس ضمنی مطالبہ کا کوئی قرینہ نطر کیوں نہیں آتا؟ ہاں، البتہ یہ ممکن ہے کہ کوئی سائنس دان مادی اغراض کے لیے ہونے والے اپنے مذکورہ تدبر کو قلب کی بیداری، ہوشیاری، ابدی وبدیہی صداقتوں کی بازیابی، ظلمتوں کی سرکوبی اور طاری غفلت کے ازالہ کے لیے استعمال کرے تو سائنسی تدبر کا یہ ملکوتی استعمال خدائی مطالبہء تدبر کی تکمیل کہلائے گا۔

حقیقت معاملہ فقط یہ ہے کہ قرآن مشاہداتی اور تجرباتی طرزِ استدلال کا مخالف نہیں جسے ’’سائنسی طرزِ استدلال‘‘ بھی کہا جاتا ہے، بلکہ قرآن خود اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لیے اسی طرزِ استدلال کو اختیار کرتا ہے ۔ اب اگر بعض مذاہب دنیا میں ایسے ہیں جو اس طرزِ استدلال کے مخالف ہیں اور یوں مروجہ سائنس کے ساتھ ان کی یک گونہ آویزش ہے تو ٹھیک ہے، ناواقف لوگوں کو بتائیے کہ اسلام کو ان مذاہب پر قیاس مت کرو، یہ اس طریقِ استدلال کا ہرگز ہرگز مخالف نہیں۔ یہاں تک تو معاملہ ٹھیک ہے، مگر یہ مت کہئے کہ قرآن جس تدبرِ کائنات کا مطالبہ کرتا ہے، سائنس دانوں کا کائنات پر مادی تدبر اسی خداوندی مطالبہ کی تکمیل ہے اور یہ مادی وسائنسی تدبر کیے بغیر امرِ ربی کی تکمیل نہیں ہوسکتی کیونکہ قرآن جس مقصد کے لیے تدبر کی تعلیم دیتا ہے وہ معرفتِ الہی ہے، مادی حقائق اور طبیعی عوامل کو منکشف کرنا نہیں۔

کفار کو ’’روحانی تدبر‘‘ کی دعوت دینا ’’چہ معنی دارد؟‘‘

موصوف کا صرف ایک سوال ایسا ہے جو ہمارے موقف سے براہِ راست متعلق ہے اور ہم اس کی وضاحت کیے دیتے ہیں۔ ان کا سوال ہے:

’’قرآن کے مخاطب تو وہ لوگ بھی ہیں جو روحانیت سے واقف ہیں اور نہ خدا ورسول سے۔ آپ مطمئن ہوں یا نہ ہوں، اسے معلوم تھا کہ ایسے لوگوں کو صرف تدبر کی ترغیب دی جاسکتی ہے، آپ کے وضع کردہ روحانی تدبر کی نہیں۔ جس شخص کو حقیقت وروحانیت تک پہنچنا ہی تدبر کے ذریعہ سے ہے، اسے آپ روحانی تدبر کی دعوت کیونکر دے سکتے ہیں؟ نتیجہ ہاتھ میں تھما کر تدبر کی دعوت ایک صاحبِ ایمان کو تو دی جاسکتی ہے اور اس کے لئے کارگر بھی ہوسکتی ہے، لیکن ایک خدا ناشناس کو نہ ایسی دعوت فائدہ مند ہوسکتی ہے اور نہ ہی ایسی دعوت پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوسکتا ہے۔‘‘

اطلاعاً عرض ہے کہ آپ بھی مطمئن ہوں یا نہ ہوں، لیکن قرآن نے جہاں بھی تدبرِ کائنات کی تعلیم دی ہے، وہیں اس کی غایت، اس کا مقصد، اس کا منہج اور اس کا مطلوبہ نتیجہ بھی ساتھ بیان کیا ہے کہ اے بنی نوع انسان! یہ ساری کائنات تمہیں اس نہج پر غوروفکر کی دعوت دے رہی ہے، مثلا یہ کہ خدا کی قدرت کو پہچانو اور اس کی ہیبت ومرعوبیت اپنے اوپر طاری کرو، اس کی لاتعداد نعمتوں کو دیکھو اور اس کے لیے ممنونیت وشکر گذاری کا کما حقہ احساس اپنے دل میں آباد کرو، اس کی عظمتوں کا احساس اپنے اندر راسخ کرو اور اس سے تعظیم واحترام کا قلبی تعلق قائم کرو، صرف اسی کی بندگی بجا لاؤ اور اس بجا آوری میں جو کوتاہی ہو جائے، اس پر استغفار کرو۔ یہ یا اس سے ملتا جلتا کوئی مضمون آپ کو تدبر والی ہر آیت کے آس پاس مل جائے گا۔ مطلق تدبر کہ خواہ دنیاوی غرض سے ہو یا روحانی غرض سے، اس کا حکم قرآن میں آپ نے کہیں پڑھا ہے؟ کافر کو جب تدبر کا کہا جائے گا تو مطلق تدبر مطلوب نہیں ہوگا، بلکہ مقصود یہ ہوگا کہ وہ مطلوبہ منہج پر غور کرکے اپنی کفریات سے توبہ کرے۔

جہاں تک میں ان کے مضمون سے سمجھا ہوں، وہ قرآنی تدبرِ کائنات سے معروف سائنسی ومادی تدبر مراد لینے کے معاملہ میں شش وپنج کے اندر مبتلا ہیں، تبھی تو وہ کبھی ہر دور کی اپنی ضروریات کا حوالہ دے کر محض اسے جائز ثابت کرنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں جس میں ان کا اور میرا کوئی جھگڑا ہی نہیں اور کبھی وہ اس کو تدبرِکائنات کے قرآنی مطالبہ کا مصداق قرار دے دیتے ہیں جو کہ امرِ ربی اور مطالبہء خداوندی ہے اور جس کا مخاطب ہر زمانہ میں ہر انسان رہا ہے۔ انہیں ایک فیصلہ کرلینا چاہئے۔ جلدی نہیں، ذرا ٹھہر کر سوچئے۔ اللہم انی اعوذ بک من الفتن ماظہر منہا وما بطن۔ آمین

آراء و افکار

اکتوبر ۲۰۱۴ء

جلد ۲۵ ۔ شمارہ ۱۰

’’دہشت گرد‘‘ کا موقف اس کی زبانی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دستور پاکستان اور عالمی لابیاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی ممالک میں مذہبی انتہا پسندی: اسباب اور حل
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

ڈاکٹر محمد شکیل اوج شہید
خورشید احمد ندیم

علماء دیوبند کا اجتماعی مزاج اور فکری رواداری
حافظ خرم شہزاد

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۲)
مولانا سمیع اللہ سعدی

قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)
مولانا محمد عبد اللہ شارق

تحریک انسداد سود کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا مسعود بیگ اور ڈاکٹر شکیل اوج کا المناک قتل
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

علماء دیوبند ۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کا مکتوب
ادارہ

الشریعہ اکادمی میں علمی و فکری نشستیں
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

انسانی صحت کے لیے حرارت کی اہمیت
حکیم محمد عمران مغل