مولانا مودودیؒ اور مولانا ہزارویؒ کے حوالے سے مباحثہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مولانا محمد چراغؒ کے حوالے سے کچھ عرصے سے ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر بحث جاری ہے اور چونکہ اب یہ بحث مکالمہ کے بجائے مورچہ بندی کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، اس لیے مزید تکرار سے بچنے کے لیے ہم نے اس کو یہیں ختم کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسا کہ کئی بار عرض کیا جا چکا ہے، ’’الشریعہ‘‘ کو علمی، فکری، تاریخی اور دیگر متعلقہ مسائل پر باہمی مباحثہ ومکالمہ کا فورم ضرور بنایا گیا ہے، لیکن ہم اسے صرف مکالمہ کی حد تک رکھنا چاہتے ہیں اور مناظرہ ومحاذ آرائی کا رنگ نہیں دینا چاہتے۔ کسی مسئلہ پر متعلقہ فریقوں کا موقف کیا ہے اور اس کے بنیادی دلائل کیا ہیں؟ یہ امور تو ضرور زیر بحث آنے چاہییں، لیکن طعن وتشنیع اور تحقیر واستہزا سے ہماے خیال میں خود دلیل کا وزن کم ہو جاتا ہے۔

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودویؒ کے بعض افکار ونظریات اور دینی تعبیرات سے جمہور علما کو اختلاف رہا ہے۔ اس کا اظہار شدت اور نرم روی کے دونوں لہجوں میں خاصا ہوا ہے اور اس کے دفاع میں بھی دونوں اسلوب یکساں کار فرما چلے آ رہے ہیں، جبکہ ہم اس معاملے میں موقف کے حوالے سے بہرحال جمہور اہل علم کے ساتھ ہیں۔ البتہ یہ حضرات چونکہ دنیا سے جا چکے ہیں اور ان کا معاملہ اب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے، اس لیے اگر کسی دینی ضرورت کے تحت ان کے باہمی مباحث کا اعادہ ناگزیر ہو تو ان کی معاصرانہ چشمک اور باہمی فقرہ بازی کو نظر انداز کرتے ہوئے موقف اور دلائل کا تذکرہ ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

مولانا محمد چراغ علیہ الرحمہ کے علم وفضل کی ایک دنیا معترف ہے۔ ہم خود بھی ان کے نیاز مندوں میں سے ہیں، اس لیے ان کے ایک معاصر مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے ان کے نام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک معروف اردو محاورے ’‘چراغ تلے اندھیرا‘‘ کا اپنے مخصوص لہجے میں مناسب یا نامناسب ترجمہ کر دیا تو اسے معاصرانہ چشمک کے دائرے میں ہی رکھنا بہتر تھا اور باقاعدہ کسی تحقیقی مضمون کا عنوان بنانے کی شاید ضرورت نہیں تھی۔ بہرحال، مولانا حافظ محمد عارف صاحب ہمارے محترم دوست ہیں۔ انھوں نے اپنے استاذ محترم کے دفاع میں جن جذبات کے ساتھ قلم اٹھایا ہے، وہ استاذ اور شاگرد کے رشتے کے حوالے سے قابل قدر ہیں۔ انھی جذبات کے احترام میں ان کا یہ مضمون مولانا محمد فیاض خان سواتی کے ایک وضاحتی نوٹ کے ساتھ شائع کر تے ہوئے ہم اس بحث کا باب بند کر رہے ہیں۔

آراء و افکار