فکرِ مغرب: بعض معاصر مسلم ناقدین کے افکار کا تجزیہ (۲)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

جہاں تک سائنس اور اخلاقی اقدار کے باہمی تعلق کا سوال ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی چیز جو حقیقتِ مطلقہ کے عرفان کااہم ذریعہ ہواسے لازماً اعلی اخلاقی اقدار کے حصول کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔لیکن حادثہ یہ ہوا کہ مغرب میں نشأۃِ ثانیہ کے دور میں جب مذہب اور سائنس میں جدائی واقع ہوئی تو اہلِ سائنس نے ردعمل میں جہاں مذہب کو سائنس کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتے ہوئے رد کردیا وہاں مذہبی اخلاقی اقدار سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی ۔جب سائنس کا مذہبی اخلاقیات سے کوئی علاقہ نہ رہا تو ظاہر ہے اس میں وہی اخلاقیات داخل ہونا تھیں جو اس سے متعلق لوگوں کی اخلاقیات تھیں ،یعنی غیر مذہبی اور آزادانہ اخلاقیات۔اب چونکہ سائنس پر غیر مذہبی لوگوں کا قبضہ تھا تو لامحالہ سائنس کو انہی کی اخلاقیات کا حامل ہونا تھا۔مگراس سے یہ کیسے طے ہو گیا کہ سائنس فی نفسہ غیر مذہبی اخلاقیات کی حامل ہے،جیسا کہ ہمارے سائنس مخالف دانشور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔واقعہ یہ ہے کہ سائنس میں غیر مذہبی اخلاقی اقدار اکے دخول کے اصل ذمہ دار اہلِ کلیسا ہیں۔کیا ہمارے سائنس مخالف دانشور بھی انہی کی روش اپنانے کے درپے ہیں۔اگر اہلِ مذہب سائنس کی زمامِ کار ملحددین ہی کے ہاتھوں میں دینے پر مصر ہوں تو انہیں کس طرح یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ سائنس اور اہلِ سائنس کی غیر مذہبی اخلاقیات کی شکایت کریں !

بلاشبہ عصر حاضر کی ایک نہایت اہم ضرورت سائنس کو مذہب و اخلاق سے مربوط کرنا ہے۔دورِ جدید کے بڑے بڑے مفکرین اس کا گہرا احساس رکھتے ہیں۔میں اس ضمن میں یہاں ڈاکٹر رفیع الدین کے توسط سے دو مفکرین کی آرا پیش کروں گا:پروفیسر سوادکن ۔ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کا سابق صدر۔ لکھتا ہے:’’ مذہب اور سائنس کا موجودہ تضاد خطرناک ہی نہیں بلکہ غیر ضروری بھی ہے۔ اگر خدا اور اخلاقی اقدار کا صحیح تصور میسر آ جائے تو اس کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مذہب اور سائنس دونوں ایک ہیں اور ایک ہی مقصد کی پیش برد کے لیے اپنا وجود رکھتے ہیں ۔یعنی یہ کہ تجربات کی اس قریبی دنیا میں خدائے مطلق کی قدرتوں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ انسان کی شرافت اور خدا کی عظمت دونوں کا اثبات عمل میں آئے۔‘‘؛ فیلڈ مارشل سمٹس۔ فلسفہ کی بلند پایہ کتاب ہولزم Holismکا مصنف ۔کہتا ہے:’’ صداقت کی مخلصانہ جستجو اور نظم او رحسن کے ذوق کے اعتبار سے سائنس مذہب اور فن کے اوصاف سے حصہ لیتی ہے ... اصل بات یہ ہے کہ یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ شائد سائنس ہمارے اس عہد کے لیے خدا کی ہستی کی واضح ترین نقاب کشائی ہے... سچی بات تو یہ ہے کہ نوعِ انسانی کو جو کارہائے نمایاں سر انجام دینے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہو گا کہ وہ سائنس کو اخلاقی قدروں کے ساتھ ملحق کرے گی اور اس طرح سے اس بڑے خطرے کا ازالہ کرے گی جو ہمارے مستقبل کو درپیش ہے۔‘‘ (۳۱)

راقم کی رائے میں آج کے دور میں سائنس کے مذہب اور اخلاق سے ربط کے سلسلے میں عامۃ الناس کی نفسیات کے تحت، غیر شعوری طور پر ہی سہی ، بہت کچھ کام جاری ہے۔وہ وقت ضرورآئے گاجب سائنس مذہبی اخلاقیات سے مربوط ہو کر کل شی یرجع الی اصلہ  کے مصداق اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے گی ۔

اگر ہم اپنی عملی زندگی میں سائنس اور سائنسی ایجادات و اکتشافات کے ناقابلِ انکار کردار اور ہمارے ممدوح دانشوروں کے اس سے متعلق عملی رویے کے تناظر میں دیکھیں تو ان کے نقطہ نظر کی غلطی اور سطحیت اور نمایاں ہوتی ہے اور وہ مذاق بن کر رہ جا تے ہیں۔ یہ اپنی تحریروں میں شد ومدسے سائنس اور سائنسی مظاہر کی برائیاں گنواتے اور مسلمانوں کو ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں،لیکن خود ان میں بری طرح ملوث ہوتے ہیں۔کیایہ تبلیغ و اصلاح کے تناظر میں اتنی سی بات سے بھی ناواقف ہیں کہ مبلغ کو پہلے خود اپنی دعوت پر عمل کر کے دکھانا چاہیے۔یہ موبائل فون اور انٹر نیٹ وغیرہ کو اہلِ اسلام کے لیے زہرِ قاتل بتاتے اور ان کے استعمال کو مغرب کی مادی تہذیب و اقدار کے فروغ میں حصہ ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہیں، لیکن خود ان چیزوں کو اس طرح بے دریغ استعمال کرتے ہیں ،جیسے انہیں اس معاملے میں کوئی خصوصی استثنا حاصل ہے۔بندہ پوچھے یہ پریس ،یہ چھاپہ خانے،یہ کمپیوٹراور اس کے ذریعے اپنے مافی الضمیر کی نشر واشاعت،یہ بڑی بڑی بلڈنگزاورٹاورز،یہ یونیورسٹیاں اور ان کے ادراوں میں خدمات،یہ کانفرنسز اور اور ان کے لوازمات،یہ ائر کنڈیشنڈ آفس،یہ کاروں اور ہوائی جہازوں کے سفر و علی ہذ القیاس اس ’’منحوس ‘‘سائنس کی کوئی ایک چیز بھی ہے جس سے جناب بے نیاز ہوں !ستم ظریفی دیکھیے کہ ہمارے یہ ممدوح سائنس اور اس کے مظاہر کی برائیاں سائنس اور اس کے مظاہر ہی کے ذریعے بیان کرتے ہیں،لیکن پھر بھی انہیں برا کہتے ہیں۔کیا ان احباب نے کبھی غور کیا کہ موبائل انٹر نیٹ اور ٹی وی وغیرہ چیزیں فی نفسہ بری ہیں توان کا انہی اشیا کو استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف واویلا کیسے نیکی و بھلائی قرار پاتا ہے۔انہیں دو میں سے ایک بات ماننی ہو گی ؛یا یہ کہ یہ چیزیں نفس الامر میں بری نہیں، اور یا یہ کہ ان چیزوں کو استعمال کرکے وہ بھی دوسروں کی طرح برائی کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔(بلکہ ان کا جرم اس وجہ سے شدید تر ہو جاتا ہے کہ دوسرے ان کو برائی سمجھ کر استعمال نہیں کر رہے جبکہ یہ انہیں برائی یقین کرکے استعمال کر رہے ہیں) اوروہ جس بات کو بھی مانیں گے ان کا مقدمہ باطل ہو جائے گا۔

تاریخ ،فطرت اور عقل بطور ماخذ اخلاق

تاریخ، فطرت اورعقل سے متعلق ہمارے زیر نظر دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ یہ اخلاقیات کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ان میں سے کسی میں بھی یہ اہلیت نہیں کہ وہ یہ بتا سکے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا؟حق کس چیز کا نام ہے اور باطل کس چیزکا؟کون سا کام آدمی کو کرنا چاہیے اور کون سا نہیں کرنا چاہیے؟ایسا ثابت کرنے کی کوشش کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ ان تمام چیزوں کو اخلاقیات کی بنیاداہلِ مغرب اور ان سے متاثر مسلمان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن نہ یہ مفروضہ کلی طور پرصحیح ہے اور نہ اس کی بنیاد پر حاصل کردہ مذکورہ نتیجہ،ہاں اس میں جزوی صداقت موجود ہے۔مفروضہ میں جزوی صداقت یہ ہے کہ عقل وفطرت وغیرہ سے درسِ اخلاق کے دہریہ اور مذہب بیزاراہلِ مغرب اور مغرب سے مرعوب مسلمان بھی قائل ہیں ۔لیکن اس میں غلطی یہ تسلیم نہ کرنا ہے کہ ان سے اخلاقی اسباق کے صرف یہی لوگ قائل نہیں بلکہ مذہبی لوگ حتی کہ خود مذہب بھی اس کا قائل ہے۔ اور نتیجے میں جزوی صداقت یہ ہے کہ مذکورہ اشیا یا ان میں سے بعض اخلاقیات کی تنہا بنیاد نہیں ۔لیکن اس میں غلطی یہ خیال کرنا ہے کہ ان میں سے کسی کااخلاق سے کچھ علاقہ ہی نہیں۔یہ حقیقت درج ذیل نکات سے نمایاں ہو کر سامنے آ جائے گی :

تاریخ اور اخلاق

ہمارے ان دوستوں کا کہنا ہے کہ تاریخ انسان کو اخلاقی سبق سکھانے سے قاصر ہے ۔ تاریخی عمل سے نتائج اخذ کرنے کا کوئی منہج متعین کرنا ناممکن ہے ۔مختلف فلسفی مطالعۂ تاریخ سے مختلف نتائج اخذ کرتے ہیں۔لیکن یہ نتیجہ بھی مذہباً اورعقلاً ہر دو لحاظ سے نادرست ہے۔مذہب باربار مطالعۂ تاریخ اور اس سے اخلاقی نتائج اخذ کرنے پر زور دیتا ہے۔قرآن کی بیسیوں آیا ت اس پر شاہد ہیں ۔تذکیر بایامِ اللہ قرآن کا ایک نہایت اہم مضمون ہے ۔ارشاد ہے : وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللّٰہِ (ابراہیم۱۴:۵)’’اور انہیں اللہ کے ایام یاد کراو۔‘‘اور یہ اقوامِ سابقہ کے حشر کے مطالعے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب ہی تو ہے۔ قرآن حکیم نے جس واحد تاریخی واقعہ کو سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ ایک ہی جگہ بیان کیا ہے وہ قصۂ یوسف علیہ السلام ہے ۔لیکن اس سے اس کا جو مقصود ہے وہ سورہ یوسف کی آخری آیت کہ ان الفاظ میں ملاحظہ فرمایے: لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ۔ (یوسف۱۲:۱۱۱) ’’ان کے قصے میں اہلِ عقل کے لیے(سامانِ)عبرت ہے۔‘‘ زمین میں چل پھر کر پہلوں کے انجام سے سبق سیکھنے کی تاکیداتنی زیادہ آیات میں کی گئی ہے کہ ان کا استقصا اس مضمون کی بساط سے باہر ہے۔چند آیات دیکھ لیجیے:

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ۔ (الروم۳۰:۴۲)’’کہو:زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کے پہلے لوگوں کا کیاانجام ہوا۔‘‘؛ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ۔(آل عمران۳:۱۳۷)’’تم سے پہلے لوگوں کے طور طریقے گزر چکے ہیں، سو زمین میں چل پھر کر دیکھ لوکہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔‘‘؛ فَھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلًا۔ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَکَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا۔ (فاطر۳۵:۴۳۔۴۴)’’کیا یہ اس چیز کے انتظار میں ہیں کہ ان کے ساتھ وہی کیا جائے جو پہلوں کے معاملے میں کیا گیا ؟سو تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاو گے،اور اس کی سنت کو بدلتا نہ دیکھو گے ۔کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے !حالانکہ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے،اللہ ایسا نہیں کہ زمین وآسمان کی کوئی چیز اسے عاجز کر سکے،وہ علم والا،قدرت والا ہے۔‘‘

مطالعۂ تاریخ ہی آپ کو بتاتا ہے کی مذہب کی فراہم کردہ اخلاقیات کا نتیجہ(Out put)کیا رہا۔اسی سے آپ غیر مذہبی اقدار پر مذہبی اقدار کی فوقیت ثابت کرتے ہیں ۔قرآن واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ جھوٹ ،فریب اور دغا چھوڑ دو اس لیے کہ اس کانتیجہ تباہی ہے اور یہ نتیجہ قرطاسِ تاریخ پر رقم ہے۔کیا اس میں کوئی ابہام ہے کہ قرآن کے نزدیک نہ صرف تاریخ سے اخلاقی سبق حاصل ہوتا ہے ، بلکہ اس سے اخلاقی سبق کا حصول قرآ ن کا نہایت اہم تقاضا ہے ۔آخر قرآن نے یہ کہنا کیوں کافی نہیں سمجھا کہ جھوٹ اور بد اخلاقی اس لیے چھوڑ دو کے اللہ نے اسے چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور اس کے نتیجے میں تمہیں جنت حاصل ہو گی۔اس کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ یوں کہنا اہلِ ایمان ہی کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے ۔اس سے ان لوگوں کو کچھ نفع حا صل نہیں ہو سکتا جو ذاتِ باری کو جانتے اور مانتے ہی نہیں ۔انہیں تو آپ کو انہی چیزوں سے اخلاقیات نکال کر دکھانی پڑے گی،جنہیں وہ جانتے اور مانتے ہیں،اور ان میں سے ایک نہایت اہم چیز تاریخ ہے۔

فطرت اور اخلاقیات

ہمارے ممدوح سکالریہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ فطرت بھی اخلاق کا ماخذ نہیں بن سکتی۔ دلیل وہی تاریخ والی دلیل جیسی ہے کہ یہ متعین ہی نہیں کیا جاسکتا کہ انسانی فطرت کیا ہے۔مختلف ادوار اور حالات سے گزرنے والے انسانوں کی فطرت مختلف ہوتی اور مختلف نتائج دیتی ہے۔لیکن یہ نظریہ بھی مذہب واخلاق کی کسوٹی پر پرکھنے سے باطل قرار پاتا ہے۔اولاً اس لے کہ قرآن میں فطرت کے خیر و شر معلوم کرنے کا پیمانہ ہونے کے واضح شواہد ہیں۔ ارشاد ہے : فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ۔ (الروم۳۰:۳۰)’’پس اپنا رخ پورے طور پر دینِ حنیف کی طرف رکھیے۔خدا کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پید کیا۔ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ،یہی صحیح دین ہے۔‘‘ایک اور جگہ فرمایا: وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰہَا۔ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا۔(الشمس۹۱:۸)’’اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اس کی تکمیل کی۔پھر اسے اس کی نیکی و بدی سمجھادی۔‘‘حدیث میں بھی واضح طور پر کہا گیا کہ : کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الُفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہٗ یُھَوِّدَانِہ اَوْ یُنَصِّرَانَہِ اَوْ یُمَجِّسَانِہِ ۔ (۳۲)’’ ہر بچہ فطرت پر پیداہوتا ہے،پھر اس کے والدین اس کو یہودی،نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘ان نصوص سے اس دعوے کی واضح تردید ہو رہی ہے کہ انسان کی’ اصلی حالت‘کے تعین کا کوئی پیمانہ نہیں،اور اس حقیقت کو واشگاف کر رہے ہیں کہ انسان کی اصلی حالت کا مسئلہ محض فلاسفہ اور مغربی مفکرین کا ڈھکوسلہ نہیں بلکہ خالص مذہبی تصور ہے۔مذکورہ نصوص کی شرح میں بہت سے شارحین نے لکھا ہے کہ اگر آدمی کو اس کی اصلی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ مشرک وکافر نہیں بلکہ موحد گاجبکہ ہمارے دانشور انسان کو سوسائٹی سے کاٹ کر دیکھنے کوسیکولر مفکرین کی’’لامتصور شے کو متصور کرنے کی لا حاصل کوشش‘‘سے تعبیر کرتے ہیں۔

اگر ہمارے ممدوح دانشوروں کو فطرت سے اس لیےَ بیر ہے کہ مختلف ماحول کے لوگوں کی فطرتیں مختلف ہوتی ہیں اورانسان کی فطرت مسخ ہوسکتی ہے، تو ہم ان کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسی چیز بتائیے جو مختلف فیہ نہ ہو اور مسخ نہ ہو سکتی ہو۔مسخ کرنے پر آئیں تو سیکولر ولبرل ہی نہیں خود اہلِ مذہب اللہ کی آخری کتاب کو اس کی تعبیر وتشریح کے نام پر مسخ کر ڈالیں۔اقبال نے اس کا جگہ جگہ رونا رویا ہے۔کہیں وہ کہتے ہیں:

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند 

کہیں شکوہ سنج ہیں:

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

اور کہیں نوحہ کناں ہیں:

زمن بر صوفی وُ ملا سلامے 
کہ پیغامِ خدا گفتند مارا
ولے تاویلِ شاں در حیرت انداخت
خداو جبرائیل ومصطفی را

پھر قرآن نے باربارتاکید کی کہ معروف کو اختیار کرو اور منکر سے بچو۔نیز اس نے انبیا کو حکم دیا اور داعیانِ حق کا فریضہ ٹھہرایاکہ وہ معروف کا حکم دیں اور منکر سے روکیں ۔یہ معروف ومنکر کیا ہے؟کوئی بھی معتبرلغت اور شرحِ الفاظِ ربانی اٹھا کر دیکھ لیںآپ کو نظر آئے گا کہ معروف سے قرآن کی مراد جانی بوجھی ہوئی اچھائی ہے۔یعنی معروف وہ ہے جس کو فطرت اچھا قرار دے ۔اسی طرح منکر جانی بوجھی ہوئی برائی ہے،جسے فطرت براٹھہراتی ہے۔مزید برآں قرآن نے متعدد جگہ مختلف قانونی امور کو عرف کے مطابق طے کرنے کا حکم دیا ہے،جس سے مراد متعلقہ مہذب معاشرے کے شرفا کا دستور ہوتا ہے۔ یہ دستو ر بھلائی کی فطری قوتِ تمیز ہی سے ترکیب پاتا ہے۔ اگر فطرت برائی بھلائی میں تمیز کی اہل نہ ہوتی تو قرآن اس کی بنیاد پر وجود پذیر ہونے والے دستور پر اعتماد نہ کرتا۔

اخلاقیات اور عقل

ہمارے ان اسکالرز کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ عقل بھی اخلاق کا ماخذ نہیں ۔لیکن یہ دعوی اس قدر بودا ہے کہ عقل پر تنقید کرنے والوں کے سارے دلائل ،تنقیدات اور داخلی محاکموں کو مہمل بنا دیتا ہے۔ ان سے اگر کوئی یہ کہے کہ جناب ہم آپ کی تمام تر تنقیدات کو من وعن مان لیتے ہیں ،آپ صرف اتنا بتا دیجیے کہ کس بنیاد پر؟تو ان کے پاس صرف ایک جواب ہو گا کہ عقلی دلائل کی بنیاد پر،اس لیے کہ نہ یہ وحی سے جواب دینے کے دعویدار ہیں اور نہ اُن لوگوں کو وحی سے جواب دیا سکتا ہے جن کے افکار کا یہ محاکمہ کر رہے ہیں۔ اور یہ جواب ان کے سارے دلائل کا قاتل ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز آپ کے نزدیک معتبر ہی نہیں اس سے آپ کسی چیز کو غیر معتبر کیسے ٹھہرا سکتے ہیں!گویا :

میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں (۳۳)

تاہم وحی کی بنیاد پرعقل کو نامعتبر ٹھہرانا بھی کچھ کم قابلِ گرفت نہیں،خاص طور پر وحئ قرآنی کی بنیاد پر۔ قرآن سے عقل کے حجت ہونے کے جواز پر دلائل لانا کیا معنی وہ توعقل وفکر سے کام لینے کی جگہ جگہ ترغیب دیتاہے۔ اس قبیل کی سینکڑوں آیات میں سے چند دیکھیے:

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَ الْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَ بَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ۔(البقرہ ۲:۱۶۳) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کی تبدیلی اور ان کشتیوں میں، جو لوگوں کے فائدے کی چیزوں کے ساتھ دریا میں چلتی ہیں اور آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو، اس کی موت کے بعد، زندہ کرنے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلانے اور ہواؤں کے چلنے ا ور بادلوں کے آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہنے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ؛ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌم بِاَمْرِہٖ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْن (النحل۱۶:۱۲)’’ اور اس نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو مسخر کیااور ستارے (بھی )اس کے حکم سے مسخر ہیں۔بلا شبہ اس میں عقل سے کام لینے والوں کے لیے (بہت سی )نشانیا ں ہیں۔‘‘وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ۔ وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ (الذریت ۵۱:۲۰۔۲۱) ’’اور زمین میں بھی نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے، اور تمہاری اپنی ذات میں بھی، تو کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔‘‘؛ اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْءٍ۔ (الاعراف۷:۱۸۵) ’’کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پر، اور ان اشیا پر، جو اللہ نے بنائیں، نگاہ نہیں ڈالی؟‘‘ ؛ قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِئُ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ۔(العنکبوت ۲۹:۲۰) ’’آپ فرمائیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو۔ اللہ کیونکر خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اسے دوسری اٹھان اٹھاتا ہے۔ ‘‘ ؛ اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۔(محمد۴۷:۲۴) ’’تو کیا وہ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ 

قرآن کے نزدیک صاحبانِ ایمان و تقوی کی نمایاں علامت یہ ہے کہ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا۔ (الفرقان۲۵:۷۳)’’جب انہیں ان کے رب کی آیات سے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے۔‘‘یہی نہیں بلکہ قرآن کے مطابقعقل سے کام نہ لینے والے بد ترین خلائق ہیں۔ (اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ۔الانفال۸:۲۲)اسی پر بس نہیں قرآن تو یہاں تک کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عقل و فکر سے کام نہ لینے والوں پر گندگی ڈال دیتا ہے۔(وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ۔یونس ۱۰:۱۰۰)

ہمارے دانشور کہتے ہیں کہ عقل میں خیر و شر میں تمیز کی اہلیت نہیں ۔سوال یہ ہے کہ پھر خالقِ کائنات نے اس کے ذریعے حقیقتِ کبری تک رسائی حاصل کرنے پر اتنی زیادہ آیات میں اس غیر معمولی انداز سے زور کیوں دیا ہے؟اس نے کیوں صرف اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیاکہ جب میں اور میرے نبی کہہ رہے ہیں کہ اللہ ہے ،اس نے تمہیں ایک خاص مدت تک لیے دنیا میں بھیجا ہے،تمہیں ایک روز اللہ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے،تو بس اور کیا دلیل چاہتے ہو،سرِ تسلیم خم کردو۔کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ اللہ اپنے سینکڑوں ارشادات میں نہایت غیر مبہم طریق سے عقل کو خیر و شر ہی نہیں خود خالقِ خیر وشر کی پہچان کا ذریعہ بتارہا ہے اور ہم اسی کے نام پر یہ باور کرانے پر زور لگا رہے ہیں کہ خوب وزشت کی معرفت عقل کا وظیفہ ہی نہیں۔ 

عقل کے خلاف آپ کی ساری سر پھٹول اس بنا پر ہے کہ ہمیں ایک ایسی چیز میسر ہے جو عقل سے بہت اعلی درجے کی ہے اور ہم ان امور سے متعلق خبر دیتی ہے جن کا ادراک عقل کی مجال نہیں۔یہ چیز ایمان ہے۔لیکن آپ نے کبھی غور فرمایا کہ یہ ایمان کہاں سے آیا ہے؟ ایک آدمی ہے جس پر نہ وحی آتی ہے اور نہ وہ وجودِ باری اوروحی ونبوت کا قائل ہے۔آپ اس کو کیسے سمجھائیں گے کہ اللہ تعالی موجود ہے،اس نے وحی و نبوت کا سلسلہ قائم فرمایا اور انسانوں کو تعلیم دی ہے کہ وہ وحی ونبوت اور اس کے پیش کردہ عقائد و تصورات پر ایمان لائیں۔ عقل کے سوا اس کا کوئی دوسراذریعہ نہیں۔ہمارے دانشوروں کو خبر ہو نہ ہو اللہ علیم وخبیر ہے،اسے تو پتہ ہے کہ بے ایمان عقل ہی کی بنیاد پر ایمان لا سکتا ہے،سو اس نے اپنی آخری کتاب میں اسی کے ذریعے ایمان لانے پر زور دیا۔اوپر درج اوران کی قبیل کی سینکڑوں دیگرآیا ت اس حقیقت کی ناطق شہادتیں ہیں۔اب ذرا ارشاداتِ باری اور ان کے بدیہی نتائج اورہمارے عقل مخالفین کے نظریے کو ملا کر دیکھیے :عقل اللہ کو پا سکتی ہے لیکن خیر وشر کو نہیں! 

ناطقہ سر بگریبا ں ہے اسے کیا کہیے
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے

بلاشبہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان عقل کا رہبر ہے۔بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم ایمان کے اعتماد پرمان لیتے ہیں ،حالانکہ وہ ہماری عقل میں نہیں آتیں۔لیکن ایمان کو عقل کی رہبری کا اختیار بھی تو عقل ہی نے دیا ہے۔بنابریں ایمان کے حاصلات فی الاصل عقل کے حاصلات ہیں ۔پھریہ بات بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ ایمان اورعقل میں باہم کوئی تسابق وتصادم نہیں،سمجھوتا وموافقت اور اپنائیت ہے۔بلکہ یوں کہیے کہ عقل عاشق ہے اور ایمان محبوب ۔ایمان جن چیزوں پر اعتقاد کا کہتا ہے عقل اس لیے مان لیتی ہے کہ وہ اس کے محبوب کی پسند ہیں۔ایمان بھی اس کو دھوکا نہیں دیتا اور اپنے سارے معاملات اس کو اعتماد میں لے کر طے کرتا ہے۔ا گر کہیں اختلاف ہو جائے تو ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور بالآ خر دونوں ایک متفقہ نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں۔ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ اختلاف برقرار رہے،تاہم اختلاف باقی رہے تو امرِ فیصل، جیسا کہ محبوب ومحب کے معاملے کا عام دستور ہے،محبوب ہی کا ہوتا ہے۔اور وہ بھی اس وجہ سے کہ عقل ایمان کے فیصلے کو مان لیتی ہے۔نہ مانے تو جیسے معاملۂ عشق میں عاشق عاشق نہیں رہتا اور محبوب محبوب نہیں ،عقل عقل نہیں رہتی اور ایمان ایمان نہیں رہتا۔

اس میں شبہ نہیں کہ مغرب کو معیارِ حق ٹھہراتے ہوئے دینی عقائد و نظریات کو کھینچ تان کر اس سے موافق کرنے کی کا رویہ گمراہی ہے ۔لیکن یہ بھی کوئی دلیلِ علم و ہدایت نہیں کہ مغرب کو معیارِ باطل سمجھتے ہوئے اس سے متعلق یا منسوب ہر چیز کوجہالت اور دین ومذہب اور اس کے پیروکاروں کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا جائے اور اس میں یہاں تک غلو ہوکہ شریعت کے بہت سے واضح نصوص کا انکار لازم آئے یاان کی دوراز کا ر تاویلات کرنا پڑیں۔ مغرب معیارِ حق نہیں تو معیارِ باطل بھی نہیں۔اسلام میں حق و باطل کو مشرق ومغرب کے خانوں میں بانٹ کر دیکھنے کا کوئی جواز نہیں۔حق مغرب کے اپنا لینے سے باطل ہوجاتاہے نہ باطل مشرق کے اختیار کر لینے سے حق۔


حوالہ جات وحواشی

۳۱۔ سیارہ ڈائجسٹ، قرآن نمبر(س۔ن)،۲/۸۲۔

۳۲۔ محمد بن اسماعیل البخاری،صحیح البخاری ،ت ۔محمد زہیر بن ناصر الناصر(دارطوق النجاۃ:۱۴۲۲ھ )،۲/۱۰۰،حدیث رقم۱۳۸۵،کتاب الجنائز،باب ماقیل فی اولاد المشرکین۔

۳۳۔ واضح رہے کہ میر کا ذکر کردہ شعردرست طور پر ایسے ہی ہے۔ جو لوگوں میں یوں مشہور ہے:میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب۔ اسی عطار کے لونڈے سے دوالیتے ہیں،وہ غلط ہے۔

آراء و افکار