مغربی اجتماعیت : اعلیٰ اخلاق یا سرمایہ دارانہ ڈسپلن کا مظہر؟ (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

غربت اور افلاس کا فروغ اور اس کے مجوزہ حل

ذرائع پیداوار پر مارکیٹ ڈسپلن کے غلبے کے نتیجے میں غربت و افلاس ،معاشی و سماجی ناہمواریوں اور استحصال نے جنم لیا۔ (یہاں اس بات کا دھیان رہے کہ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام میں لوگوں کی مطلق آمدن (absolute income) میں اضافہ ہونے کی بنا پر مطلق (absolute) غربت تو کم ہوجاتی ہے، البتہ اضافی (relative) آمدنیوں کا تفاوت اور اضافی غربت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سرمایہ دارانہ معاشرے میں لوگوں کی آمدنیوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ۹۸ فیصد لوگ خود کو محروم اور ناخوش محسوس کرتے ہیں)۔ اس کی بنیادی طور پر چند وجوہات ہیں: 

  • روایتی معاشروں میں عمل صرف اجتماعی (shared) ہوا کرتا تھا، یعنی خاندان یا قبیلہ جتنی دولت پیدا کرتا، سب لوگ اس میں یکساں حصہ دار سمجھے جاتے (اس کی جھلک ہمارے موجودہ خاندانی نظام میں بھی دیکھی جاسکتی ہے)، لہٰذا کوئی شخص نہ تو غریب ہوتا اور نہ ہی افلاس کی وجہ سے بنیادی ضروریات زندگی سے محروم رہتا۔ ان معاشروں میں ایک شخص کا عمل صرف اس کی پیداواری صلاحیت سے منسلک نہ تھا۔ لیکن مارکیٹ نظم کے بعد جب یہ نظام منتشر ہوا اور انفرادیت پسندانہ نظم غالب آنے لگا تو عمل صرف فر دکی پیدواری صلاحیت کے ساتھ براہ راست منسلک ہوگیا۔ مارکیٹ نظم میں ایک شخص کا کل پیداوار میں حصہ اس اصول سے متعین ہوتا ہے کہ وہ نفع خوری پر مبنی پیداواری عمل میں کتنا اضافہ کرنے (نیز اس پر سودے بازی کی کتنی )صلاحیت رکھتا ہے، جو شخص زیادہ efficient ہوگا مارکیٹ اس کی صلاحیتوں کی اسی قدر زیادہ قدر متعین کرے گی اور مجموعی پیداوار میں اس کاحصہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ چنانچہ آبادی کی وہ عظیم اکثریت جو سرمایے میں اضافے کے لائق نہ تھی ان کے روز گار کے مواقع ناپید ہوتے چلے گئے اور خاندانی و قبائلی حفاظت نہ ہونے کی بنا پر وہ افلاس کی چکی میں پسنے لگے ۔
  • چونکہ لوگوں کی پیداواری اور سودے بازی کی صلاحیتوں میں تفاوت پایا جاتا ہے، لہٰذا ایک سرمایہ دارانہ معاشرے میں تقسیم وسائل لازماً غیر مساویانہ ہوتی ہے (ایک نہایت قلیل اقلیت بہت امیر ہوتی ہے اور غالب اکثریت غربت و افلاس کا شکار ہوتی ہے)۔ درحقیقت سرمایے کی بڑھوتری و گردش کا چکر سرمایے کے ارتکاز (concentration of capital) کا عمل ہے، یعنی سرمایہ بے شمار جگہوں اور ملکیتوں سے کھنچ کھنچ کر مستقلاً چند مقامات اور چند کارپوریشنوں کے زیر تسلط جمع ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام فروغ پاتا ہے معاشرتی، معاشی و سیاسی نامساویت (inequality) بڑھتی چلی جاتی ہے، بے روز گار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے 
  • درحقیقت مارکیٹ میں قیمتوں اور اجرتوں کا تعین اجتماعی سودے بازی کی صلاحیت اور طبقاتی کشمکش کی قوتوں سے ہوتا ہے۔ چونکہ سرمایہ دارانہ پیداواری عمل سرمایے کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیتا ہے لہٰذا ان معاشروں میں سیاسی و سماجی قوت بھی انہی چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے۔ نتیجتاً کارپوریشنوں اور بڑے کاروبار مالکان کو لاکھوں مزدوروں کے استحصال کا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ انڈسٹریل انقلاب کے ابتدائی ایام کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یورپ و امریکہ کے حالات کچھ ایسے تھے: ورکنگ ڈے سولہ گھنٹے طویل ہوتا ، فیکٹریوں میں بچوں اور عورتوں سے کام کروایا جاتا، افریقی غلاموں کو روٹی اور کپڑے کے عوض تمام عمر کے لیے ان فیکٹریوں میں جھونک دیا جاتا (مگر بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ یورپی مفکرین ہم سے پوچھتے ہیں کہ اسلام میں غلامی کیوں روا رکھی گئی)، مزدوروں کے کوئی سوشل حقوق نہ ہوتے (مثلاً اگر دوران کام کسی مزدور کا ہاتھ کٹ گیا تو مل مالک اس کی کفالت کا ذمہ دار نہیں)، فیکٹریوں میں کام کا ماحول اتنا خراب ہوتا کہ مزدور دمے کے مرض سے مر جاتے۔

یہ وہ مظالم تھے جو سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ اور استحکام کے منطقی نتیجے کے طور پر سامنے آئے۔ ظاہر بات ہے کہ مارکیٹ نظم کے اندر ان مظالم (غربت، افلاس، استحصال، معاشی ناہمواریوں، سماجی اخراج) کے حل کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں، کیونکہ مارکیٹ ذاتی نفع خوری (private profit maximization) کے تحت کام کرتی ہے۔ اس اصول کے تحت سرمایہ وہیں جائے گا جہاں اس میں مزید اضافے کا امکان ہو۔ ان مظالم کو کم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ اشتراکی اور سوشل ڈیموکریٹ ریاستوں نے سوشل رائٹس (social rights) کا تصور پیش کیا۔ اہم ترین سوشل رائٹس یہ ہیں: 

الف) اجتماعی سودے بازی (collective bargaining) کا حق۔ اشتراکی اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سب سے نمایاں نا مساویت مزدور اور مینجمنٹ (management) کے درمیان تقسیم اختیار اور قوت کے ضمن میں پائی جاتی ہے (مثلاً ایک عام مزدور کمپنی مینجمنٹ کے سامنے بالکل بے بس ہوتا ہے)، لہٰذا مزدور یونیوں کو مینجمنٹ کے عمل میں شرکت اور اجرتوں کے تعین میں اختیارات کے مواقع ملنا چاہیے (تاکہ وہ فیکٹری کے ورکنگ ماحول کو بہتر بنانے نیز مزدوروں کے سوشل حقوق وغیرہ منوانے کے لیے مزدوروں کی پر زور نمائندگی کرسکیں) ۔

ب) غربت، افلاس اور سماجی اخراج ذدہ طبقے کے لیے دوسرا اہم سوشل رائٹ سرمایہ دارانہ ریاستوں سے یہ مطالبہ تھا کہ وہ عوام کو ویلفئیر حقوق کی فراہمی یقینی بنائے، جن کے ذریعے ہر سٹیزن مسلسل بڑھتی ہوئی آمدنی، صحت، تعلیم اور رہائش حاصل کر سکے (غور کیجیے روایتی نظم معاشرت میں یا تو یہ مظالم سرے سے تھے ہی نہیں اور اس قسم کی ضروریات کے حصول کے لیے فرد ریاست کا محتاج نہیں تھا، جو مفکرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’یورپی ریاستوں نے جو ویلفیئر رائٹس اپنی عوام کو دیے وہ مغل سلطنت کیوں نہ دیتی تھی ‘ وہ درحقیقت سرمایہ دارانہ اور غیر سرمایہ دارانہ نظم معاشرت و ریاست کے فرق سے نا واقف ہیں)۔ ان سوشل رائٹس کا مقصد فرد کو مارکیٹ نظم میں شرکت کے لائق بنانا تھا، مارکیٹ سوسائٹی میں ایک شخص یا تو صارف اور یا پھر سرمایہ کار کی حیثیت سے شرکت کرتا ہے، جس شخص کے پاس نہ سرمایہ دارانہ علم ہو، نہ صحت ہو اور نہ خرچ کرنے کے لیے آمدن ہو تو ظاہر بات ہے اس میں مارکیٹ (یعنی سوسائٹی) میں شرکت کرنے کی صلاحیت (capability) ہی نہیں۔ لہٰذا یہ ضروری سمجھا گیا کہ سرمایہ دارانہ ریاست بڑھوتری سرمایے کے عمل کو اس طرح ترتیب دے کہ اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ لوگ سرمایے میں اضافے سے مستفیذ ہو سکیں۔ 

مذہب کی مارکیٹ کاری اور اس کے ثمرات 

سرمایہ دارانہ معاشرہ ہر اس شے کو اپنے اندر سمونے کی خواہش اور صلاحیت رکھتا ہے جس کے ذریعے سرمایے میں اضافہ کرنا ممکن ہو، اور مذہبی شعائر بھی اس اصول سے مستثنی نہیں۔ سرمایہ داری کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ہر معاشرے میں وہاں کے عمومی غالب نظریات کے ذریعے اپنا راستہ بناتی ہے۔ یورپ میں اس کا راستہ ہموار کرنے کے لیے پروٹسٹنٹ ازم نے خاص کردار ادا کیا جس نے پوپ کی اجتماعیت کو رد کرکے مذہب کی انفرادیت پسندانہ تشریحات کا علمی جواز پیش کیا۔ چونکہ یہ بالکل ظاہر ہے کہ علوم لدنی سے بے بہرہ شخص کی عقل نفسانی خواہشات ہی کی غلام ہوتی ہے، لہٰذا ہر شخص کو کتاب الٰہی کی تشریح کا حق دینے کا لازمی مطلب وحی الٰہی کو نفسانی خواہشات کے تابع کردینا ہے، یعنی یہ وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک فرد کتاب الہی سے محض اپنی خواہشات کا جواز حاصل کرنے کے لیے رجوع کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پروٹسٹنٹ ازم نے سرمایہ دارانہ ورک ایتھکس (work-ethics) (مثلاً جو دنیا میں زیادہ کامیاب ہے وہی آخرت میں کامیاب ہے، حصول دولت حصول آخرت کا ذریعہ ہے، اصل عبادت چرچ جانا یا ذکر و ازکار کرنا نہیں بلکہ دنیا کے کام زیادہ انہماک سے کرنا ہے، نیز فطرت کا مطا لعہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ جتنا بائبل کا وغیرہ) کا مذہبی جواز بھی فراہم کیا۔ سرمایہ دارانہ ریاست روایتی معاشروں میں مذہب کی ایسی تشریحات کو بھر پور فروغ دیتی ہے جن کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ اداروں کا جواز اور ورک ڈسپلن مستحکم ہوسکے۔ موجودہ دور میں اسلامی بینکاری ، اسلامی جمہوریت و اسلامی سائنس کے فکری منہج کی یہی وہ نظریاتی خدمت ہے جس کی بنا پر انہیں سرمایہ دارانہ استعمار کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اسی طرح سرمایہ داری سے ہم آہنگ انفرادی مذہبی اخلاقیات (مثلاً سچ بولنا، ایمانداری، وقت کی پابندی وغیرہ) کی اہمیت بھی خوب اجاگر کی جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر ایسے مذہبی اخلاقیات کے پابند شخص کی نگرانی (survelience) کرنے کی ضرورت نسبتاً کم ہوتی ہے ( کیونکہ وہ اپنے ایمانی تقاضے کی بنا پر اپنا کام پوری مستعدی یعنی efficiency سے کرتا ہے)، ایسا شخص بالعموم ہڑتال وغیرہ کے ذریعے کمپنی مینیجنٹ کے لیے مسائل پیدا نہیں کرتا نیز سرمایہ دارانہ وظائف (وقت پر آنا جانا، کام کے اوقات میں کام کرنا، قرض کی وقت پر ادائیگی وغیرہ) کو بخوبی سر انجام دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت و ریاست کے استحکام کے لیے ان مذہبی اخلاقیات کے فروغ کی ضرورت کو جدید ماہرین معاشیات نے خوب اچھی طرح بھانپ لیا ہے اور اسی کے زیر اثر آجکل economics and ethics, economics and religioin جیسی شاخیں وجود میں آرہی ہیں۔ مذہب کی اس مارکیٹ سازی کا مقصد سرمایہ دارانہ مظالم کم کرنا بھی ہوتاہے۔ چنانچہ دنیا کی ایسی کوئی سرمایہ دارانہ ریاست نہیں جو تمام سٹیزنز کو مارکیٹ کے مظالم سے چھٹکارا دلانے کی صلاحیت رکھتی ہو، اسی لیے ایسے انفرادی مذہبی اخلاقیات کو اپنانے کی ترغیب دلائی جاتی ہے جو ذاتی نفع خوری پر مبنی عمومی نظم اجتماعی کے ظلم و جبر کو نسبتاً کم کرسکیں (مثلاً خیرات کرنے کا جذبہ اس لیے اجاگر کیا جاتا ہے تاکہ افلاس کے شکار لوگوں کا بندوبست ہوسکے وغیرہ)۔ مذہب کی مارکیٹ سازی میں سب سے اہم کردار ٹی وی ادا کرتا ہے جس کی ایک مثال امریکہ میں اونجلیکل (evangelical) عیسائیت کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے (اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے ہمارا مضمون ’ٹی وی اور تبلیغ اسلام‘ ماہنامہ محدث لاہور، شمارہ اگست ۲۰۰۸)۔ 

علم کی مارکیٹ کاری

مذہبی تہذیبوں میں علم سے مراد خدا کی مرضی جان کر اس کے مطابق عمل کرنا سمجھا جاتاہے، اس کے مقابلے میں لذت پرستانہ تصور زندگی کے مطابق علم سے مراد ایسی بات جاننا ہے جس کے ذریعے انسان اس چیز پر قادر ہو جا ئے کہ اس کے ارادے کی تکمیل کیسے ہوسکتی ہے۔ وہ علم جو انسان کو یہ بتا تا ہے کہ کائنات پر اس کے ارادے کا تسلط کیسے ممکن ہے اسے ’سائنس ‘ کہتے ہیں ۔ لہٰذا لذت پرستی و ترقی کا اصل معنی علم کو سائنس کے ہم معنی قرار دینا ہے، یعنی ترقی سے مراد ان معلومات میں اضافہ ہے جو انسانی ارادے کی تکمیل کو ممکن بناتی ہوں ۔ گویا مغربی تہذیب میں ’ارادے و خواہشات کی تکمیل ‘ ہی معلومات کے مجموعے اور عالم (knower)کے درمیان تعلق کی بنیاد ٹھہر ا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب میں علم وہ چیز جاننا نہیں ہے کہ جس سے انسان اپنے رب کی رضا جان لے ( یعنی علم یہ نہیں کہ مجھے وضو یا غسل وغیرہ کرنے کا طریقہ اور مسائل معلوم ہو جائیں) بلکہ علم تو یہ ہے کہ میں یہ جان لوں کہ پنکھا کیسے چلتا ہے، بجلی کیسے دوڑتی ہے، جہاز کیسے اڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گویا اب علم رضا ئے الہی کے حصول کا طریقہ جان لینا نہیں، بلکہ تسخیر کا ئنا ت یا با الفاظ دیگر انسانی ارادے کے کائناتی قوتوں پر تسلط قائم کرنے کا طریقہ جان لینے کے ہم معنی بن گیا ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں علم اللہ تعالی کی رضا نہیں بلکہ نفس انسانی کی رضا اور اس کی تکمیل کا سامان فراہم کرنے والی معلومات کا نام پڑ گیا۔ تصور علم کی یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی تبدیلی تھی جس نے انسان کی کامیابی کو کسی خدا کی اطا عت (obedience) کے ساتھ نہیں بلکہ لا متناہی خواہشات انسانی کی تکمیل و ارادہ انسانی کے تسلط (dominance) کے ساتھ مشروط کر دیا۔ اس تصور علم میں فطرت ان معنوں میں انسا ن کی حریف ٹھہری کہ یہ انسانی ارادے کی تکمیل پر حد بندی کرتی ہے اور اسے تسخیر کرکے انسا نی ارادے و خوا ہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا ضروری ٹھہرا۔ آج بھی مو جودہ سائنسی علمیت کا یہ جنون ہے کہ انسانی عقل کو استعمال کر کے فطرت کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا نا نیز انسانی ارادے کو خود اس کے اپنے سواء ہر بالا تر قوت سے آزاد کرنا عین ممکن ہے ۔ 

پس جدیدی فلسفیوں کے بقول سرمایہ دارانہ (یا سائنسی علمیت ) کی اقداری حقیقت ’خرید وفروخت‘ کے معنی خیز الفاظ میں بیان کی جا سکتی ہے۔ چونکہ آزادی کا مطلب سرمایے میں اضافہ ہے، لہٰذا علم بھی اسی کے ہم معنی ٹھرا۔ سرمایے کی بڑھوتری کا عمل اسی وقت ظہور پزیر اور قوی ہوتا ہے جب علم بذات خود نفع خوری (profit-maximization) کے نظم (Discipline) کا پابند اور اس کے تابع ہوجائے ، یعنی علم تعمیر کیا جائے ’بیچنے‘ کے لیے اور اسے ’خریدا ‘ جائے صرف (consumption) کرنے کے لیے [knowledge is produced for sale, and purchased for consumption]۔ دوسرے لفظوں میں لذت پرستی کی ذہنیت علم کو خریدوفروخت میں تبدیل کردیتی ہے اور خرید و فروخت کی یہ ذہنیت ہی سرمایہ دارانہ علمیت (طبعی و عمرانی سائنسز) کا اصل جوہر (essence) ہے۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ معاشروں میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ایجادات سے لیکر سوشل و بزنس سائنسز کی تحقیقات تک خرید وفروخت کے اسی عمل کے اظہار کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ مثلاً جب ایک یونیورسٹی میں کمپیوٹر یا بزنس سائنس کا طالب علم چار سال کی محنت شاقہ کے بعد اپنے تعلیمی کیرئیر کے آخری سال میں اپنا تحقیقی کام (Research project) کرنے لگتا ہے تو اس کے اساتذہ اس کے پلے یہ ہدایت نامہ باندھتے ہیں: ’بیٹا ایسا کام کرو جس کی کوئی مارکیٹ میں مانگ (Market value) ہو ، فضول کاموں میں وقت برباد مت کرو‘۔ درحقیقت یہی نصیحت تمام تر علم اور ٹیکنالوجی کا نقطہ آغاز و انتہا ہوتا ہے۔ تعلیم، تحقیق اور کنسلٹنسی (consultancy) کے تمام تر ادارے اسی اصول پر اور ایسا ہی علم تعمیر کرتے ہیں جسے زیادہ متوقع منافع و آمدنی کے ساتھ کمپنیوں کو بیچنا ممکن ہو، اور کمپنیاں ایسے ہی علم کو خریدتی ہیں جسے وہ اپنے پیداواری عمل میں استعمال کرکے مزید اشیاء بیچ کر زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔ خرید و فروخت کے اس علم کی پروان کے ساتھ معاشروں کی ’مارکیٹ کاری ‘ مستحکم تر ہوجاتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی معاشرے میں سائنسی علوم عام ہوں اور افراد میں ذاتی اغراض اور حرص و حسد نیز دیگر اخلاق رزیلہ پروان نہ چڑھیں۔ یہ تعلق بالکل ایسا ہی ہے جیسے مذہبی علوم کا مقصد افراد میں زہد، تقوی ، عزیمت ، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم وفنا جیسی صفات عام کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ علوم کی بالا دستی کا مطلب در حقیقت افراد کی ذہنیت اور معاشروں کو خرید وفروخت کے نظم میں شامل اور تابع کرنے کا دوسرا نام ہے۔ ایسے علوم (مثلاًمذہبی علم) جو خریدوفروخت کی کسوٹی پر پورا نہ اترتے ہوں یعنی جنہیں خریدنے اور بیچنے کے نتیجے میں سرمایے کی بڑہوتری کے مواقع کم ہوں ان کے پنپنے کے مواقع بھی اتنے ہی کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ 

سرمایہ دارانہ علم کے اس جا ہلانہ تصور کو عوام الناس میں رائج کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس وقت کے معاشروں میں پائے جانے والے مقبول عام تصور علم کو غیر معتبر اور لا یعنی ثا بت کیا جائے۔ قرون وسطی میں موجود علمیت کوئی اور نہیں بلکہ عیسائی علمیت تھی جسے ہر طرح کے جھوٹے پروپیگنڈوں اور نام نہاد عقل پرستی کے دعووں کی آڑ میں حقارت سے دیکھا جا نے لگا۔ اس ضمن میں اہم بات یہ کہ عوام الناس کا عیسائی علمیت سے ایمان کمزور کرنے کے لیے سب سے ضروری یہ تھا کہ اس علمیت کے حا مل فرد یعنی پوپ (اور ہمارے معاشروں میں مولوی) کی شخصیت کو متنازع اور مشکوک بنا یا جائے۔ اس کامقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام الناس کا رابطہ ان مذہبی پیشواوں سے ٹوٹ جائے جہاں سے انہیں دنیا کے دارا لا متحان ہونے اور آخرت کی تیاری کا سبق ملتا ہے تاکہ جدیدیت کے حامی ان کے قلوب میں دنیا داری کے بیج بو سکیں۔ جدیدیت دنیا کے جس ملک میں بھی گئی اس نے مذہبی پیشواؤں کے عوامی اثر و رسوخ کم کرنے کے تمام حربے استعمال کیے ۔ 

دھیان رہے یہ تمام تر تبدیلیاں سرمایہ دارانہ پیداواری عمل میں زیادہ سے زیادہ افراد کو سمونے کے لیے سرمایہ دارانہ بنیادوں (for-profit business enterprise) کے تحت رونما ہوئیں۔ تنویری مفکرین (اور ان کے زیر اثر لبرل مسلم مفکرین) یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ سرما یہ دارانہ نظام فرد کو یہ آزادی دیتا ہے کہ وہ جیسی زندگی گزارنا چاہے گزار سکتا ہے، مگر یہ سراسر جھوٹ ہے۔ درج بالا تجزئیے کی روشنی میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح سرمایہ دارانہ پیداواری عمل نے انسانی زندگی کے انتہائی پاکیزہ ترین اداروں کو تباہ و برباد کرکے فرد کو مارکیٹ ڈسپلن اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ سرمایہ دارانہ نظام اس حد تک فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرتا ہے کہ ’اس کے بچوں کی تعداد‘ اور ’ان کی تربیت کے پیمانوں ‘ تک کے فیصلے مارکیٹ نظم کے تابع ہوکر رہ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام فرد کو ایک ایسی زندگی گذارنے پر مجبور کردیتا ہے جس میں وہ سرمایے کی غلامی کے سواء کچھ اور کرنے کے لائق نہیں رہتا۔ اس حقیقت کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ Market is a totalizer (یعنی مارکیٹ فردکی ذاتی و اجتماعی زندگی پر پوری طرح حاوی ہوجاتی ہے)۔ 

نتائج

درج بالا تفصیلات سے ہم ان نتائج پر پہنچتے ہیں کہ: 

۱) مغربی نظم اجتماعی اور ادارے اس مارکیٹ ڈسپلن کا اظہار ہے جو ذاتی اغراض پر مبنی سرمایہ دارانہ پیدواری عمل کے قیام، تشکیل و استحکام کے لیے لازمی حیثیت رکھتا تھا۔ مغربی معاشروں میں سڑکوں پرٹریفک سگنلز کی پابندی، ہسپتالوں میں مریضوں کے خیال کا نظام، قطاروں میں اپنی باری کا انتظار وغیرہ اخلاقیات نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظم ڈسپلن کی پابندی اورsurvelience کا نتیجہ ہے (یہ ایسی چیزیں ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کے قیام کے لوازمات ہیں اور ایک سٹیزن کے اس ذمہ دارانہ سرمایہ دارانہ شعور (mature capitalist subjectivity) کا اظہار ہے جو سٹیزن کے اندر ایک سرمایہ دارانہ نظم میں زندگی گزارنے کے بعد ارتقاء پزیر ہوتا ہے)۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ پیداواری نظام ہمارے معاشروں کو اپنی جکڑ میں لیتا جا رہا ہے (جیسے شہروں کو) ویسے ویسے ہماری عوام بھی سرمایہ دارانہ ایتھکس (ethics) کے پابند ہوتے چلے جارہے (مثلاً اب ہمارے ہاں بھی لوگ اطمینان کے ساتھ گھنٹوں قطار میں CNG کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں)۔ یہیں سے ایتھکس (ethics) اور اخلاقیات (morality) کا فرق سمجھا جا سکتا ہے۔ ایتھکس (ethics) کا مطلب کسی بھی کام کو اس کے منطقی لوازمات و مضمرات کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ اس بات کو اس دلچسپ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ ہماری نظر سے ایک کتاب گزری جس کا عنوان تھا Ethical guide for call girls (جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جسم فروشی کے پروفیشن سے منسلک خواتین کی procedural ذمہ داریاں کیا ہیں)۔ اس کے برعکس اخلاقیات (morality) کا مطلب یہ ہے کہ فرد خواہشات میں ترجیحات کا پیمانہ قائم کرسکے، یعنی یہ سوال اٹھائے کہ قدر ( اچھا اور برا) کیا ہے۔ یہ سوال کہ انسا ن کو کس چیز کی خواہش کرنا چاہیے تنویری یا سرمایہ دارانہ نقطہ نگاہ سے ایک ناقابل تفہیم سوال ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ تنویری مفکرین کے مطابق حصول آزادی واحد مقصد حیات ہے اور چونکہ وہ ہر انسان کو اس حق کا مکلف گردانتے ہیں، لہٰذا ان کے نزدیک ہر شخص کو مساوی حق ہے کہ وہ جو چاہنا چاہتا ہے چاہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنویری فکر کسی ابدی اخلاقیات کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہے، اس کا مقصد حصول آزادی کی جستجو ہے اور چونکہ آزادی لا حاصل (درحقیقت کچھ نہیں محض خلا ) ہے، لہٰذا قدر کا اثبات کرنے سے قاصر ہے۔ چنانچہ ایتھکس (ethics) کا تعلق کسی فعل کی ادائیگی و تنفیذ کے لیے اس کی داخلی prodecural consistency (عملی ہم آہنگی) سے ہوتا ہے، جبکہ اخلاقیات کا تعلق کسی فعل کی قدر سے متعلق سوال اٹھانا ہے۔ قدر کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ سوال اٹھاس کے کہ اسے کیا چاہنا چاہیے اور کیا نہیں، کیا اہم ہے اور کیا غیر اہم۔ چونکہ تنویری فکر میں اخلاقیات کی بنیاد صرف انسانی خواہشات ہیں، لہٰذا اخلاقی قدروں کا تعین وہاں ناممکن ہے کیونکہ یہ بالکل واضح ہے کہ نفس لوامہ خواہشات کو صرف احکام الہی کے سامنے تول کر ہی پرکھ سکتا ہے اور اگر احکامات الہی سے انکار کرکے انسان خدا بن بیٹھے تو نفس امارہ نفس لوامہ پر غالب آجاتا ہے۔ ہائیڈیگر کہتا ہے کہ مغربی علمی تناظر میں ’نفس لوامہ کی بحث صرف خاموشی ہے‘ (discourse of discriminatury self is pure silence)۔ وہ نفس جس کے احکام کی بنیاد خواہشات ہوں، قدر کی پہچان اور علم و عرفان کے حصول سے قاصر رہتا ہے۔ قدر کا تعین صرف احکام الہی کی بنیاد پر ممکن ہے۔ یہی وہ بات ہے جسے امام اشعری و غزالی نے صدیوں پہلے بیان فرما دیا تھا کہ خیر و شر اعمال کے ذاتی نہیں بلکہ شرعی اوصاف ہیں، انسانی عقل، وجدان یا فطرت میں صلاحیت نہیں کہ انکا ادراک کر سکے۔ 

ایتھکس (ethics) اور اخلاق کا فرق ایک اور مثال سے سمجھا جا سکتا ہے، اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ کھانا کس طرح کھایا جائے تو ظاہر بات ہے اس فعل کو سر انجام دینے کے بے شمار ممکنہ طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں ( مثلاً کھڑے ہوکر، چلتے ہوئے، بیٹھ کر، لیٹ کر، جانور کی طرح کھانے میں منہ مار کر، رکابی میں ڈال کر، ہاتھ سے، چمچ کانٹے سے، زمین پر بیٹھ کر، کرسی پر بیٹھ کر وغیرہ)۔ ان میں سے جو بھی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا ہر طریقہ کار کی ادائیگی کے چند جداگانہ عملی لوازمات ہوں گے جن کے بغیر اس کی ادائیگی نامکمل تصور کی جائے گی، چنانچہ ان بے شمار ممکنہ طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کار کو اپنا کر اسے اس کے منطقی لوازمات کے ساتھ ادا کرنا ایتھکس (ethics) ہے (انہی معنی میں کرسی میز پر بیٹھ کر کھانے کی ایتھکس (ethics) چلتے پھرتے یا بیٹھ کر کھانے کی ایتھکس سے مختلف ہوگی)۔ اس کے مقابلے میں اخلاقیات کا مطلب یہ سوال اٹھانا ہے کہ ان بے شمار ممکنہ طریقوں میں سے کون سا طریقہ بہتر و افضل ہے، ظاہر بات ہے عقل یا وجدان کی روشنی میں اس کاکوئی جواب دینا ممکن نہیں اور یہاں قول فیصل یہی ہوگا کہ حضور پر نور ﷺ نے کس طرح کھانا کھایا اور درحقیقت یہی طریقہ اخلاقیات کا مظہر ہے (حدیث شریف انما بعثت لا تمم مکارم الاخلاق یعنی ’مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے‘ کا معنی یہی ہے)۔ اس طریقہ کار کے سواء دیگر طریقے ethical تو ہو سکتے ہیں مگر moral نہیں۔ اسی طرح بدکاری کو فروغ دینے کے بہت سے ethical طریقے تجویز کیے جا سکتے ہیں لیکن حقیقتاً یہ سب غیر اخلاقی (immoral) ہوں گے۔ انہی معنوں میں مغربی اجتماعیت ethical تو ہے (کہ وہاں سرمایہ دارانہ نظم ڈسپلن داخلی ہم آہنگی کے ساتھ ہمارے معاشروں کے مقابلے میں قدرے بہتر طور پر نافذ ہے)، البتہ یہ کسی طور اخلاقی نہیں (بلکہ اخلاق بد کا مظہر ہے) ۔ اسی لیے ہم پورے شرح صدر کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ’مغرب کا اجتماعی نظم اعلی اخلاق نہیں بلکہ انتہائی رزیل انسانی احساسات پر مبنی عقلیت (حرص، حسد، شہوت، غضب، طول امل، حب جاہ دنیا و مال) اور اس پر قائم ہونے والی ادارتی صف بندی (مارکیٹ و ریاست) کے قیام کے لیے مطلوب نظم کی پابندی کا غماز ہے‘۔ یہی وجہ ہے کہ کسی سرمایہ دارانہ معاشرے میں اعلی اخلاق (مثلاً للہیت، عشق رسول، شوق عبادت، خوف آخرت ،طہارت، تقوی، عفت، حیا، ایثار، محبت، شوق شہادت، توکل، صبر، شکر، زہد، فقر، قناعت ، عزیمت وغیرہ) نہیں پنپتے۔ جو مسلم مفکرین ethics اور morality کے اس فرق سے واقف نہیں اور مغربی اجتماعیت کو اسلامی اقدار کا غماز قرار دینے کی غلط فہمی کا شکار ہیں وہ اس بات کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں دے سکتے کہ آخر مغرب میں (اور جہاں کہیں یہ نظام پروان چڑھتا ہے وہاں) درج بالا اخلاقی قدریں کیوں نا پید ہوجاتی ہیں۔ 

۲) مغرب میں جسے rule of law اور سوشل رائٹس کہا جاتا ہے ان کی فراہمی کا مقصد سٹیزن کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ مارکیٹ نظم میں شامل ہو کر سرمایے کی بڑھوتری کے عمل میں اپنا کردار ادا کرسکے اور اس عمل میں شرکت کے ذریعے اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل کرسکے (یعنی لذات کو فروغ دینے کا مکلف بن سکے)۔ یہی سرمایہ دارانہ عدل ہے اور سرمایہ داری کی تاریخ اسی عدل کے حصول کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ اس سرمایہ دارانہ عدل (جو درحقیقت ظلم ہے) کی فراہمی کو خلافت کا مظہر سمجھنا ناسمجھی کے سواء اور کچھ نہیں کیونکہ نفس پرستی کے فروغ کے نتیجے میں عبدیت ہرگز پروان نہیں چڑھتی۔

۳) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’مغرب ہم سے بہتر مسلمان ہے‘ وہ درحقیقت سرمایہ داری کو بطور نظام زندگی نہیں پہچانتے اور نہ ہی انہیں مغرب میں اس کے معاشرتی ارتقا و لوازمات کا ادراک ہے۔ حقیقت یہ نہیں کہ مغرب ہم سے بہتر مسلمان ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے یعنی ’ہم مغرب سے برے سرمایہ دار ہیں‘۔ مغرب میں چونکہ سرمایہ دارانہ نظام دو صدیاں قبل مستحکم ہونا شروع ہوگیا تھا لہٰذا ان کے ہاں سرمایہ دارانہ ڈسپلن اور ادارے پختہ ہو چکے ہیں، ان کی معاشرت و ریاست خاندانی تعلقات کے تانے بانے (web of relationships) سے نکل کر مارکیٹ نظم میں پوری طرح سمو چکی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے یہاں دو نظاموں کے درمیان کشمکش کا دور ہے، تہذیبی تبدیلیوں کے معاملے میں ایسے دور کو عبوری دور (transitionary phase) کہا جاتا ہے۔ اس دور کی خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ ایک نظام تحلیل ہورہا ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا نظام اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے توڑ پھوڑ کے عمل کا شکار ہوتے ہیں اور نتیجتاً فرد کو نہ تو پرانے نظام کا عدل اور نہ ہی نئے نظام کا عدل پوری طرح میسر ہو پاتا ہے اور وہ گونا گوں نفاق کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے (یعنی جسے پسند نہیں کرتا کرسکتا وہی ہے ، اور جسے پسند کرتا ہے اسے کرنے کے مواقع نہیں پاتا)۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں سرمایہ دارانہ ڈسپلن کی پابندی اور اداروں کی کارکردگی نسبتاً خراب ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مغرب میں سرمایہ دارانہ مظالم ہمارے معاشروں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہیں اور وہاں سٹیزن کے لیے سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی نسبتاً بہتر ہے ]حضرت علیؓ کی طرف ایک مشہور قول منسوب ہے کہ ’کفر کے ساتھ حکومت کی جاسکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں‘۔ اگر واقعی یہ نسبت درست ہے تو ہمارے نزدیک اس قول میں ظلم کفر کے مقابلے میں استعمال نہیں ہوا کیونکہ کفر بذات خود ظلم ہے اور حضرت علیؓ جیسی علمی شخصیت سے بعید ہے کہ وہ کفر کو ظلم سے علیحدہ قرار دیں گے، اس قول کا معنی یہ ہیں کہ اگر کفر بھی اپنا تصور عدل( جو درحقیقت ظلم ہی ہوتا ہے) پیہم فراہم کرنا شروع کردے تو اس کی حکومت بھی قائم رہ سکتی ہے (جیسے سرمایہ دارانہ حکومتیں قائم ہیں) اور اگر اہل حق اپنے تصور عدل کی تنفیذ سے پھر جائیں (یعنی اس کے ساتھ ظلم کریں) تو ان کی حکومت بھی قائم نہ رہے گی۔ دوسرے لفظوں میں ایک ظالمانہ نظام عدل (مثلاً سرمایہ دارانہ عدل) اگر بھر پور طریقے سے فراہم کیا جائے تو وہ بھی قائم رہ سکتا ہے اور اگر ایک منصفانہ نظام عدل کے ساتھ ظلم کیا جائے (یعنی اسے فراہم نہ کیا جائے) تو وہ بھی دنیاوی اعتبار سے مغلوب ہو جائے گا، گویا حضرت علیؓ اس قول میں اہل ایمان کو یہ تلقین فرما رہے ہیں کہ اسلامی تصور عدل کی محض تبلیغ ہی کافی نہیں بلکہ اس کانفاذ بھی ضروری ہے کیونکہ اگر تم اپنے عدل کی تنفیذ نہ کرکے اس کے ساتھ ظلم کرو گے تو کافر اپنے ظلم کی تنفیذ کرکے تمہیں زیر کر سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی تشریح حضرت علیؓ جیسی بالغ النظر شخصیت کے شایا ن شان ہے نہ کہ وہ غلط تشریح جو عام طور پر بیان کی جاتی ہے[۔ 

۴) جیسا کہ عرض کیا گیا کہ سرمایہ دارانہ عدل ظلم ہے کیونکہ یہ عبدیت نہیں بلکہ آزادی یعنی لذت پرستی کے فروغ کا دوسرا نام ہے۔ جب اسلامی تحریکات مغربی اجتماعی نظم کو اسلامی اقدار کا عکاس فرض کرکے اسلامی معاشروں کو مغربی آدرشوں (آزادی، مساوات، ترقی، ہیومن رائٹس، سوشل رائٹس) اور ادارتی صف بندی (سائنس، جمہوریت، مارکیٹ، بینکاری، سول سوسائٹی) پر استوار کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں تو درحقیقت وہ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کا اسلامی جواز فراہم کرتی ہیں (جو ایک انتہائی فاسد فکری رویہ اور خطرناک حکمت عملی ہے)۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بیشتر سیاسی اسلامی تحریکات نے سرمایہ دارانہ نظم ڈسپلن کو ٹیکنیکل اور غیر اقداری ڈھانچہ فرض کرکے اسے مقاصد شریعت کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیا ہے اور ان کے خیال میں اس ملحدانہ ڈھانچے کے نفاذ کے ذریعے ضروریات دین کی تکمیل کرنا ممکن ہے۔ یہی وہ فاسد خیال ہے جس کی وجہ سے ہمیں سکینڈنیوین (scandinavian) ممالک کی سرمایہ دارانہ ویلفیئر ریاستوں میں خلافت راشدہ کی جھلک دکھا ئی دیتی ہے، فیا للعجب (گویا یا تو ان حضرات کا یہ مفروضہ ہے کہ ان مما لک میں بسنے والے لوگ مانند صحابہ ایمان و کردار کے حامل ہیں اور یا پھر ان کے خیال میں خلافت راشدہ کے قیام کے لیے صحابہ جیسا ایمان و کردار سرے سے درکار ہی نہیں)۔ 

۵) اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ مغربی معاشروں میں بھلائی (مثلاً خیرات کرنا، چرچ جانا وغیرہ) کے جو چند شعائر ہمیں دکھائی دیتے ہیں ان کی کیا توجیہ کی جائے، تو اس کاجواب یہ ہے کہ ایک فرد بیک وقت دو مختلف اور متضاد عقلیتوں (rationalities) کا شکار ہو سکتا ہے اور ایسا اکثر ہوتا ہے کہ زندگی کے کسی ایک گوشے میں وہ ایک عقلیت سے اور دوسرے حصے میں دوسری عقلیت سے متاثر ہوکر فیصلے کرتا ہے۔ مغربی فرد بھی کسی حد تک اسی مخمصے کا شکار ہے، چنانچہ ایک طرف وہ قدیم عیسائی شناخت کا وارث ہے (یہ اور بات ہے کہ اس کی شناخت کا یہ شعور اس کی زندگی کے بیشتر معاملات میں لایعنی ہو چکا ہے) مگر ساتھ ہی ساتھ وہ ایک غالب ملحدانہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے قالب میں خود کو ڈھال چکا ہے۔ گو کہ عیسائی انفرادیت اور عصبیت مغربی ممالک میں نہایت کمزور ہو چکی ہے البتہ یہ پوری طرح ختم نہیں ہوگئی (ظاہر بات ہے انسان کبھی بھی پوری طرح شیطان کی مانند شر محض نہیں بن جاتا بلکہ بد سے بد تر انسان میں بھی خیر کا کوئی نہ کوئی پہلو بہرحال موجود رہتا ہے)۔ پس مغربی فرد کے شعور پر جس حد تک ایک محدود عیسائی انفرادیت و شناخت کے اثرات باقی ہیں اسی قدر ان معاشروں میں خیر کے چند مظاہر ابھی تک باقی ہیں۔ یہ بات بھی دھیان میں رہنی چاہیے کہ سرمایہ داری مذہب کو مکمل طور پر نیست و نابود نہیں کردیتی بلکہ فرد کو اس کی ایک ایسی تشریح قبول کرنے پر راضی کرتی ہے جس کے ذریعے وہ بارضا ورغبت سرمایہ دارانہ ڈسپلن اختیار کرلے نیز سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم کا مداوا کیا جا سکے (جیسا کہ اوپر بتایا گیا)۔ 

۶) سرمایہ دارانہ خطوط پر معاشروں کی مارکیٹ کاری خود بخو دکسی فطری قانون کے تحت رونما نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے لیے بھرپور سرمایہ دارانہ ریاستی جبر درکار ہوتا ہے (یعنی سرمایہ داری evolution نہیں بلکہ engineering کے نتیجہ میں بر آمد ہوتی ہے)۔ اس ضمن میں سرمایہ دارانہ ریاست کی ذمہ داریوں کا خلاصہ ذیل میں دیا گیا ہے۔ 


اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں چیزیں جیسی کہ وہ ہیں سمجھنے کی صلاحیت عطا فرما دے، آمین۔ 

آراء و افکار