کیا مرزا قادیانی ہوش مند اور ذی فہم شخص تھا؟

مولانا محمد یوسف لدھیانوی

مولانا عبد الماجد دریاآبادیؒ مرزا قادیانی کو غیر معمولی عقل و علم کا شخص اور فہیم و ذی ہوش کا لقب پوری سادگی کے ساتھ دیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی شخصی زندگی کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے، اس کی طفلی، شباب اور پیری کے واقعات اور احوال پر نظر غائر رکھنے، اس کے تمام معاملات پر غور کرنے، اور اس کی تحریرات کو بنظر صحیح دیکھ جانے کے بعد میرا خیال تھا کہ کوئی شخص بشرطِ عقل سلیم اس کو زیرک، دانا، عاقل، عالم، ذی فہم اور ہوش مند قرار نہیں دے سکتا، الّا یہ کہ خود اسی کے حواس ماؤف ہوگئے ہوں۔ پہلی دفعہ مولانا کی تحریر پڑھ کر یہ جدید انکشاف ہوا کہ مرزا صاحب کے ثناخوانوں اور اس کو فہیم و ذی ہوش قرار دینے والوں میں مولانا دریا آبادی جیسے فہیم اور ذی علم لوگ بھی شامل ہیں:

سوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بو العجبی است

خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ مولانا کے ذہن میں فہیم اور ذی ہوش کا مفہوم کیا ہے؟ اور وہ کن بنیادوں پر مرزا صاحب کو فہیم اور ذی ہوش لکھ ڈالنے پر اپنے کو بے بس پاتے ہیں؟

کسے نکشو دونکشاید بحکمت ایں معمارا !

شواہد فہم مرزا !

مرزا غلام احمد قادیانی جن کے نزدیک ۔۔۔ بقول مرزا محمود ۔۔۔ ہر شخص بڑے سے بڑا مرتبہ حاصل کر سکتا ہے، حتیٰ کہ ۔۔۔ خاک بدہن گستاخ ۔۔۔ محمد رسول اللہ ۔۔۔ بآبائنا و أمہاتنا ۔۔۔ سے بھی بڑھ سکتا ہو۔ ان کے فہم و ہوش اور غیر معمولی عقل و علم کا اندازہ لگانے میں مولانا دریا آبادی اب تک قاصر ہیں۔

جس کے نزدیک مسیح علیہ السلام کو ’’کنجریوں سے میلان اور صحبت رہی ہو‘‘۔ ایک متقی انسان کی صفات سے وہ عاری ہوں‘‘، ’’زنا کار کسبیاں زنا کاری کا پلید عطر ان کے سر پر اور اپنے بالوں کو ان کے پاؤں پر ملتی ہوں‘‘، مولانا دریا آبادی مصر ہیں کہ وہ ذی علم اور ہوش مند تھا ۔۔۔!

جو گستاخ، سیدنا مسیح علیہ السلام کے پورے خاندان کو بطور تعریض و تہکم ’’پاک اور مطہر‘‘ بتلاتا ہو، ان کی تین دادیوں اور نانیوں کو ۔۔۔ العیاذ باللہ ۔۔۔ ’’زنا کار اور کسبی‘‘ بتلاتے ہوئے شرم نہیں کرتا، اور زنا کار خانوادے سے آپ کے وجود کے ظہور پذیر ہونے کو انکشاف کرتا ہو، وہ مولانا کے نزدیک غیر معمولی عقل مند تھا ۔۔۔!

جو بد زبان، حضرت مسیح علیہ السلام کو شرابی، یوسف نجار کا بیٹا، ان کے قرآن میں ذکر کردہ معجزات کو مکروہ عمل، قابل نفرت، اعجوبۂ نمایاں قرار دیتا ہو، اور ان کے معجزات کو مٹی کے کھیل سے زیادہ وقعت نہ دیتا ہو، مولانا چند آزاد ذہنوں سے مرعوب ہو کر اسے ’’فہیم اور ذی ہوش‘‘ مانتے ہیں ۔۔۔ !

جو ’’ہوش مند‘‘ اعلان کرتا ہو کہ ’’مسیح علیہ السلام ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں اتارنے سے قریب قریب ناکام رہے‘‘ اور ان سے کوئی معجزہ نہ ہوا‘‘، حیف ہے کہ وہ مولانا دریا آبادی کے نزدیک ’’غیر معمولی عقل و علم کا شخص‘‘ تھا ۔۔۔!

جو فرعون صفت بار بار قسم کھا کھا کر مسیح علیہ السلام سے افضلیت کا دعویٰ رکھتا ہو، اور جو یہ اعتقاد نہ رکھے، اسے ’’مبتلائے وسوسۂ شیطانی‘‘ قرار دیتا ہو، کون دانش مند اس کے حق میں مولانا دریا آبادی کا یہ خطاب تسلیم کرے گا کہ وہ فہم و ہوش اور عقل و علم کا تھا‘‘ ۔۔۔!

جس غیر معمولی عقل و علم کے شخص نے اپنی تصنیفات میں بار بار یہ لکھا ہو کہ ’’مریم بتول نے ایک مدت تک بے نکاح رہ کر اور حاملہ ہو جانے کے بعد بزرگان قوم کی ہدایت اور اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر کے تعلیم توراۃ کی خلاف ورزی کی، بتول ہونے کے عہد کو توڑا، تعدد ازواج کی قبیح رسم ڈالی‘‘، اس کو ’’فہیم اور ذ ی ہوش‘‘ تسلیم کرنا، اور پورے ’’شرح صدر‘‘ کے ساتھ تسلیم کرنا، مولانا دریا آبادی ہی کی ہمت ہے ۔۔۔!

(مرسلہ: مولانا اللہ وسایا صاحب، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان)

آراء و افکار