مفتی محمد زاہد صاحب کے موقف پر ایک تحقیقی نظر (۲)

مولانا عبد الجبار سلفی

فاضل مضمون نگار نے مولانا عبدالحئی فرنگی محلی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ لکھنؤ کے باسی تھے جو اہل تشیع کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مولانا عبدالحئی کا کثرتِ مطالعہ بھی ضرب المثل ہے، اس لیے یہ بات بعید سی ہے کہ لکھنؤ جیسے شہر میں رہتے ہوئے وہ شیعہ مذہب سے ناواقف ہوں۔ مولانا لکھنوی کے مجموعۃ الفتاوی میں بڑی تعداد میں ایسے فتاوی موجود ہیں، جن میں انہوں نے عام اہل تشیع کی تکفیر کا فتویٰ نہیں دیا۔ الخ

تبصرہ

مبالغہ آرائی اہلِ علم کے وقار کو بہت دھچکا لگاتی ہے۔ عدم تکفیر پر مولانا عبدالحئی لکھنوی کے ’’بڑی تعداد‘‘ کے فتاویٰ میں سے کوئی تھوڑی سی تعداد اگر پیش کر دی جاتی تو ماہ نامہ الشریعہ کے صفحات یقیناًیہ بوجھ اُٹھا ہی لیتے اور جو عبارات دی گئی ہیں، ہم سمجھتے ہیں ان کا فاضل مضمون نگار کے موقف سے کوئی تعلق نہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ لکھنؤ کے مولانا عبدالحئی لکھنوی پر سو فیصد اعتماد ہے، مگر انہی کے قابل فخر شاگرد مولانا سید عین القضاۃ رد شیعیت کے لیے اپنے محبوب شاگرد مولانا علامہ عبدالشکور لکھنوی کو اس میدان میں نہ صرف اتارتے ہیں بلکہ ان کی استعدادِ علمی، اور کمالِ فن مناظرہ سے متاثر ہو کر انہیں ’‘امام اہل سنت‘‘ کا خطاب بھی دیتے ہیں۔ تو نہ مولانا عین القضاۃ کا تذکرہ اور نہ علامہ عبدالشکور لکھنوی کا ذکر، جن کی پوری زندگی اسی محاذ پر صرف ہوئی۔ مولانا عبدالحئی لکھنوی اگرچہ کثیر المطالعہ تھے مگر مطالعے کے لیے بھی تو کتابیں چاہئیں؟ اور یہ بات تاریخ کے ماتھے پہ درج ہے کہ ردِ رفض پر کام کرنے کے لیے علماء اہل سنت نے جب قلم اُٹھانا چاہا ، کتابوں کی عدم دستیابی آڑے آ گئی۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی کی ’’ہدیۃ الشیعہ‘‘ کا ابتدائیہ پڑھ لیجیے۔ آپ نے لکھا ہے کہ کتبِ شیعہ ہاتھ نہ آسکیں، آخر کار ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ میں لکھے گئے شیعی عقائد کا عقلی و نقلی انداز میں ردْ لکھا گیاہے۔ کسی شہر کے باسی کا وہاں کے جملہ افکار و نظریات کے حامل افراد یا ان کی فکر سے مطلع نہ ہونا فاضل مضمون نگار کو ’’بعیدسی‘‘ بات محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ کوئی ایسی کباب کی ہڈی نہیں جو گلے سے نہ اُتر سکے۔ ہر شخص کا ’’ہر فن مولا‘‘ ہونا تو نظامِ فطرت کے بھی خلاف ہے۔ چلیں سو سنار کی ایک لوہار کی، علامہ عبدالشکور لکھنوی بھی تو لکھنؤ کے باسی تھے اور رات دن ان کا مشغلہ ہی تردیدِ رفض تھا۔ ماہ نامہ ’’النجم‘‘ کی فائلیں، چھوٹی بڑی درجنوں کتابیں صرف اسی موضوع پر لکھی گئیں، ہر تقریر، ہر مباحثہ اور ہر نجی محفل میں شیعیت ہی موضوعِ سخن ہوتی۔ آپ علی الاطلاق تکفیر شیعہ کے قائل تھے تو کیوں نہ علمِ حدیث، فنِ اسماء الرجال اور تاریخی معلومات کے اعتبار سے ہم مولانا عبدالحئی لکھنوی پر اعتماد کر لیتے ہیں اور تکفیر شیعہ کے مسئلے پر امام اہل سنت علامہ عبدالشکور لکھنوی کی تحقیق پر اعتماد کر لیتے ہیں اور اعتماد کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مزید تحقیق کے دروازے بندکر دیے جائیں۔

شیعیت ہمیشہ سے نشۂ قوت کی بدمستی کا شکار رہی ہے

فاضل مضمون نگار نے مندرجہ بالا بحث کے ضمن میں یہ بھی لکھا ہے کہ :

’’یہ کہنا تو شاید خالی از مبالغہ نہ ہو کہ برصغیر میں اہل السنۃ اور اہل تشیع کے تعلقات بہت مثالی اور قابل رشک رہے ہیں لیکن یہ کہنا ضرور درست ہوگا کہ ان میں کبھی اتنا زیادہ اور اتنے طویل عرصے کا تناؤ نہیں رہا، جتنا ہمارے ہاں اسّی کی دہائی کے بعد سے نظر آرہا ہے‘‘۔

تبصرہ

ہمیں خوشی ہے کہ یہاں آکر فاضل مضمون نگار کو ’’مبالغہ آرائی‘‘ کے مُضر اثرات کا ادراک ہوا ہے۔ مگر یہ المیہ بہرحال ہے کہ وہ ہوا میں چلائے ہوئے فائر کو ’’یہ کہنا ضرور درست ہوگا‘‘ کہہ کر خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ چڑیا کیا، عقاب شکار ہوچکا ہوگا۔

جناب من! شیعیت کی خون آشامیوں سے تو ہزاروں آبادیاں کھنڈرات بن کر لٹی عظمتوں کے زندہ مرثیے بن چکی ہیں۔ علامہ سید انور شاہ کشمیری سے ہی سُن لیجیے۔ رقمطراز ہیں:

’’واکثر تخریب السلطنت الاسلامیۃ کان علی ایدی الروافض خذلھم اللہ تعالیٰ۔ (فیض الباری جلد اوّل صفحہ نمبر ۱۷۲)
’’اور اسلامی سلطنت کی زیادہ تر بربادی روافض کے ہاتھوں سے ہوئی ہے۔ خدا انہیں رسوا کرے‘‘

شیعیت نے ہمیشہ اہل اقتدار کے زیر سایہ پروان چڑھ کر آگ و خون کا کھیل کھیلا ہے خلیفہ معتصم باللہ کے وزیر ابن علقمی نے بغاوت کر کے بغداد میں تقریباً سولہ لاکھ افراد قتل کروا دئیے۔ تاتاریوں کا یہ ظلم ایک جگر گداز سانحہ ہے جس کے متعلق حضرت شیخ سعدی نے گلستان کے اندر کہا ہے۔

آسماں را حق رَسد کہ خوں ببارد بر زمیں
بر زوال ملک معتصم امیرالمومنین

علاوہ ازیں شام، خراسان، عراق، الجزائر وغیرہ میں شیعیت نے کیا کیا مظالم ڈھائے، علامہ ابن تیمیہ کی منہاج السنۃ پڑھ لیجیے جس میں انہوں نے ان دلگداز سانحات کا تذکرہ کیا ہے۔ آج بھی ملک شام میں نصیری شیعوں کے ہاتھوں ظلم کا بازار گرم ہے۔ بشارالاسد نُصیری شیعہ حکمران ہے اور اہل تشیع کا یہ فرقہ حضرت علی کی الوہیت کاقائل ہے۔ اب پاکستان میں بھی اس فرقہ کے لوگ سراُٹھا رہے ہیں۔ ان کے باقاعدہ مقررین ہیں اور مجلسیں بھی ہورہی ہیں۔ اس فرقہ کے ایک مقرر علامہ غضنفر عباس کی تقریرمیں علانیہ ’’علی اللہ ، علی اللہ، کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔

اور اگر عالمی حالات سے قطع نظر ۸۰ء کے بعد پاکستان کے حالات کا تجزیہ مقصود ہے تو پھر فاضل مضمون نگار بتائیں کہ ۸۰ء کے بعد کی بدامنی کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر تو یہ خیال ہے کہ ۷۹ء میں ایرانی انقلاب کے بعد پاکستان میں حالات خراب کیے گئے۔ صحابہ کرام کے خلاف گھٹیا لٹریچر دھڑا دھڑ تقسیم ہوا۔ اور ایرانی اشیر باد پر پاکستانی شیعیت نے اہل سنت کا قتلِ عام کیا، ردعمل میں پھر سُنی نوجوان بھی کنٹرول میں نہ رہے اور نتیجتاً شیعہ، سنی خطرناک تصادم سامنے آیا یہ تو درست ہے اور حقیقت بھی یہی ہے لیکن فاضل مضمون نگار کا غالباً یہ خیال نہیں ہے کیونکہ وہ تو پہلے کہہ آئے ہیں کہ فریقین کے مابین جنگ و جدل کے واقعات پیش نہیں آئے اور ان میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ ظنِ غالب یہ ہے کہ اُن کا اشارہ مولانا حق نواز جھنگوی کی جانب ہے۔ اس لیے ہم عرض کریں گے کہ جہاں تک سنی شیعہ قتل و غارت کا تعلق ہے، جب کبھی اس میں ریاستی طاقتیں اثر انداز ہوتی ہیں تو یہ مناظر سامنے آتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے بھی لڑائی جھگڑے اور سرپھٹول کے واقعات بے شمار پیش آئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جب یہ نزاعی مسائل پہ لڑتے تھے تو سر پھٹتے تھے اور جب ریاستی طاقتیں مدخل ہوئیں تو سرکٹنے لگ گئے۔ کیونکہ تحمل و رواداری قیادت اور اہل علم میں ہوتی ہے۔ عوام کا کوئی اسٹیشن نہیں ہوتا۔ اس لیے فاضل مضمون نگار اگر شیعہ ، سنی مناظروں کی رودادیں مطالعہ فرمائیں تو انہیں نظر آئے گا کہ ہلکے پھلکے تصادم ہر دور میں کہیں نہ کہیں رہے ہیں۔

مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے طریقۂ کار سے اتفاق نہیں ہوسکتا اور ان کی جاری کردہ تحریک کا فلسفۂ تشدد بھی ہمیشہ زیر بحث رہا۔ مگر ۸۰ء کے بعد کے ناگفتہ بہ حالات کی ذمہ داری اُن پر ڈال دینا بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ اُن کے خلوص اور عظمتِ صحابہ کے لیے مثالی جدوجہد کا انکار کسی زندہ ضمیر مسلمان سے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اپنے خون سے منقبتِ صحابہ کا قصیدہ لکھا اور مکروفریب کے چلمنی پردوں سے رفض و بدعت کے خائن دلوں کی دھڑکنوں کو بھانپ کر اُنہیں دبوچا اور اس حال میں مست ہو کر اپنی جان تک کی بازی لگا دی۔

راہ الفت میں جو مرتے ہیں فنا ہوتے نہیں
کشتگانِ عشق کا ، عمرِ ابد ہے خون بہا

ہاں سپاہ صحابہ کی جذباتی نوجوانوں کی وہ پالیسیاں جو اپنوں سے منافرت ، شدت اور انتہا پسندی پر مشتمل ہیں۔ان سے یقیناًاتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ اصل میں فاضل مضمون نگار نے اپنے خیالات کا بالکل آٹا گوندھ دیا ہے نہ صرف یہ کہ ان کے دعاوی اور دلائل میں مطابقت نظر نہیں آتی بلکہ سطر بہ سطر تفاوت اور تضادات بھی نظر آتے ہیں۔

مسئلہ تحریفِ قرآن

فاضل مضمون نگار لکھتے ہیں:

’’عام طور پر تکفیر شیعہ کی ایک بنیاد تحریفِ قرآن کو قرار دیا جاتا ہے جب کہ علامہ شمس الحق افغانی نے علوم القرآن میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ شیعہ بھی تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں۔ یہی بات اس سے بہت پہلے مولانا رحمت اللہ کیرانوی ردِّ عیسائیت پر اپنی معروف کتاب ’’اظہار الحق‘‘ میں فرما چکے ہیں۔۔۔ یہ جو مشہور ہوگیا ہے کہ بطور فرقہ شیعہ کو کافر کہنا اہل سنت کا متفقہ موقف ہے۔ یہ درست نہیں۔‘‘

تبصرہ

اگر فاضل مضمون نگار کو علامہ افغانی اور علامہ کیرانوی کے پائے کے ہی اہل علم ایسے لاتعداد مل جائیں جو شیعوں کو محرفِ قرآن مانتے ہیں تو پھر فاضل موصوف کس کا موقف اختیار کریں گے؟ ہمیں اسی بات پر بار بار حیرت ہورہی ہے کہ دل تو تکفیر و عدم تکفیر جیسے مسائل پر بحث کو بے تاب ہورہا ہے اور پاؤں کے نیچے محض ریت ہی نہیں، پورا صحرا ہے۔

فاضل مضمون نگار کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے شیعہ علماء کی ان کتب اور روایات کا مطالعہ کرتے جن میں تحریف قرآن کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پھر ان شیعہ علماء کی عبارات پڑھتے جنہوں نے اپنے علماء سے اختلاف کیا، اس تقابلی مطالعے کے بعد وہ متقدمین اہل سنت کا نظریہ پیش نظر رکھتے ، پھر متاخرین کے دعاؤی و ثبوت کا متقدمین کی آراء سے تقابل کرتے، اس دوران زمینی حقائق، روزمرہ کے مشاہدات، اور قائلین کی مراد کا بھی تجزیہ ہوتا، تب کہیں جا کر وہ کوئی بڑا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں آتے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ فاضل مضمون نگار کی یہ محنت روح افزاء ثابت ہوگی، اتنی بے باکی اور عجلت سے تو اہل تشیع بھی خود کو قرآن کے ماننے والوں کی صف میں کھڑا نہیں کر سکتے، جتنی جلدی فاضل موصوف نے ان پر احسان کر دیا ہے۔ علامہ رحمت اللہ کیرانوی کا میدان تردید عیسائیت تھا۔ اظہار الحق میں وہ عیسائیوں کو الزامی و تحقیقی جوابات دے رہے تھے۔ موقع اور محل کے تقاضوں کو وہی سمجھ سکتا ہے جو میدان میں کھڑا ہو۔ عافیت کدوں میں بیٹھ کر پَر تلاش کرنا اور پھر خود ہی ان پَروں میں طوطے، کوے لگا کر خیالی فضاؤں میں چھوڑتے رہنا اہلِ تحقیق کے مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ اگر کسی ایسے ماحول میں انسان چلا جائے جہاں سارے ہندو یا عیسائی ہوں، اور عیسائی ہم سے تکفیر شیعہ کی بحث چھیڑ دیں تو ظاہری بات ہے اس ماحول میں ہم نے بچھو کو چھوڑ کر سانپ کا ہی تعاقب کرنا ہے۔

علامہ شمس الحق افغانی کی علوم القرآن والی عبارت پر ہمارے حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین نے انہیں تفصیلی خط لکھا تھا جس میں اہل تشیع کے عقیدۂ تحریفِ قرآن کے دلائل اُنہی کی کتب سے پیش کیے تھے۔ اس پر علامہ افغانی نے رجوع فرما لیا تھا اور اس بات کا اعتراف فرمایا کہ چیزیں میرے علم میں پہلی بار آئی ہیں۔ وہ تفصیلی مضامین اور مکتوب عنقریب کتابی شکل میں شائع ہونے والے ہیں۔

علامہ تونسوی کا مکتوب اور علامہ افغانی کا رجوع 

مولانا رحمت اللہ ارشد (بہاولپور) علامہ شمس الحق افغانی کے شاگرد تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ مولانا عبدالستار تونسوی سے کہا تھا کہ ہمارے استاذ محترم فرمایا کرتے تھے کہ شیعوں کے سنجیدہ لوگ تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟ تو علامہ تونسوی نے فرمایا شیعہ کے ائمہ معصومین، جمہور، محدثین اور مجتہدین سے زیادہ سنجیدہ کون ہوسکتا ہے؟ وہ سب کے سب اس پر متفق ہیں کہ موجودہ قرآن محرّ ف و مبدّل ہے۔ شیعہ کتب میں دو ہزار سے زائد روایات اس پر صراحتاً دال ہیں۔ البتہ صرف چار آدمیوں نے شیعہ فرقہ میں سے تحریف کا انکار کیا ہے، ان چار کے نام یہ ہیں۔

شریف المرتضیٰ، علامہ ابوجعفر طوسی، شیخ ابوعلی طبرسی، شیخ صدوق۔ اور یہ ان کی ذاتی رائے ہیں۔ آئمہ معصومین کی روایات کے مقابلہ میں ان کی کیا اہمیت ہے؟ اس لیے جمہور شیعہ علماء نے ان چار کی رائے کو کوئی اہمیت نہ دی۔ چنانچہ اس کے بعد علامہ عبدالستار تونسوی نے مولانا شمس الحق افغانی کو خط لکھ کر اس ساری تفصیل سے آگاہ فرمایا۔ علامہ افغانی نے علامہ تونسوی کے نام جوابی خط میں لکھا۔

’’مجھے آپ کی تحقیق پر پورا اعتماد ہے، میں ان شاء اللہ اپنی کتاب کے نئے اڈیشن میں اس بات کی تصحیح کر دوں گا‘‘ (بحوالہ، نقوش زندگی، صفحہ نمبر ۳۱۹)

نوٹ: یاد رہے کہ ’’نقوشِ زندگی‘‘ مولانا عبدالستار تونسوی کی سوانح حیات ہے جواُن کے نواسہ مولانا عبدالحمید تونسوی مدظلہ نے لکھی ہے اور یہ سوانح علامہ تونسوی کی نگرانی میں لکھی گئی اور اُن کی زندگی میں ہی طبع ہوگئی تھی۔ اس کتاب کی طباعت کے دس بارہ سال بعد علامہ تونسوی کا انتقال ہوا، اس لحاظ سے یہ بات دستارِ اعتبار کا پورا حق رکھتی ہے۔ حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین اور علامہ عبدالستار تونسوی کے آگاہ کرنے پر علامہ شمس الحق افغانی نے اپنے موقف سے رجوع فرما کر یہ ثابت کر دیا کہ جو جس شعبے میں ماہر ہو، اسی کی بات معتبر ہوتی ہے مگر ہمارے فاضل مضمون نگار کمر کے مُہروں کا علاج سُنار سے کروانے چلے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ اپنے اس فیصلے پر پوری طرح مطمئن ہیں۔

سر کاٹ کے ڈلوا دئیے، انداز تو دیکھو
پامال ہے سب خلقِ جہاں، ناز تو دیکھو

تفسیر قمی شیعہ مذہب کی معتبر تفسیر ہے۔ الجزائر کے معروف شیعہ عالم علامہ طیب موسوی الجزائری کے مقدمہ کے ساتھ یہ تفسیر اس وقت ہمارے پیش نظر ہے مقدمہ میں طیب الجزائری نے کلینی، برقی، عیاشی، احمد بن ابی طالب، باقر مجلسی، نعمت اللہ الجزائری، حرعاملی، علامہ فتونی اور سید بحرانی جیسے بڑے نام لکھے ہیں کہ یہ سب علماءِ شیعہ تحریف قرآن کے قائل تھے اور لکھا ہے کہ ان حضرات نے تحریف قرآن پر ایسی ایسی روایات اور ثبوت پیش کر دیے ہیں کہ ’’لا یمکن الاغماض منہا‘‘ اُن سے چشم پوشی ناممکن ہے۔ (مقدمہ تفسیر قمی جلد اول صفحہ نمبر ۲۴، مطبوعہ قُم۔ایران)

علاوہ ازیں حسین بن محمد النوری الطبرسی نے تو تحریف قرآن پر باقاعدہ کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب‘‘ ہے یہ کتاب ۱۲۹۸ھ میں لکھی گئی تھی اور اس لیے اہل تشیع نے اس کتاب کے مصنف کو بعد از وفات مشہدِ مرتضوی میں دفن کر کے اعزاز بخشا تھا۔ یہ کتاب دو کم ۴۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔

اس لیے ہم ایک بار پھر معذرت کے ساتھ عرض کریں گے کہ ہمارے مخاطب فاضل مضمون نگار تحقیقی و علمی براہین سے محروم ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے گرد و پیش کے کسی ماحول سے منفی اثر لے کر بلاوجہ نفسِ موضوع کو نشانہ بنا لیا ہے۔ اُن کا فقط یہی اعزاز نظر آرہا ہے کہ یہ مضمون ماہ نامہ الشریعہ میں شائع ہوگیا ہے۔

دینی تحریکوں میں اہل تشیع کی شمولیت

فاضل مضمون نگار نے بڑا عامیانہ تاثر لے کر یہ رائے قائم کی ہے کہ ہمارے ہاں دینی تحریکوں میں اہل تشیع کی شمولیت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی امت مسلمہ کا حصہ ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے مفتی جعفر حسین، سید مظفر حسین شمسی اور تحریک ختم نبوت کا حوالہ دیا ہے۔ جس میں بقدرِ اشکِ بُلبل اہل تشیع نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملی یکجہتی کونسل اور ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

تبصرہ

کفار مجاہرین اور کفار منافقین ، یہ کفار کی دو قسمیں ہیں، کھلے طور پر اسلام کی صفوں میں داخل نہ ہونے والوں کو کفار مجاہرین کہا جاتا ہے اور جو دائرہ اسلام میں گھس کر اسلام کے آفاقی اور اصولی فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے، انہیں کفار منافقین کہا جاتا ہے۔ دوسری قسم کے کفار کو حسبِ مصلحت وقتی طور پر شاملِ اتحاد کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ امت کے وسیع تر نظریاتی عقائد کی حفاظت کے لیے حساس اہلِ علم اس کے بھی قائل نہیں ہیں۔ ہمارے حضرت اقدس قاضی صاحب کا شمار انہی علماءِ کرام میں ہوتا تھا اور آج بھی تحریک خدام اہل سنت اہلِ کفر و الحاد سے کسی قسم کا کوئی اشتراک برداشت نہیں کرتی۔

ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی حکمت صرف یہ ہوتی ہے کہ یہ کہیں علانیہ کفر کرنے والے لوگوں سے نہ جاملیں۔ یہ ایک سیاسی حکمت عملی ہے جو کبھی کامیاب رہتی ہے کبھی ناکام۔ مظفر علی شمسی جیسے شیعہ تو ہمارے اکابر کے ساتھ رہ کر شیعیت سے تقریباً دور ہوچکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مولانا عبیداللہ انور سے جنازہ پڑھوانے کی وصیّت کی تھی۔ 

مولانا مظہر علی اظہر تو اس حد تک اہل سنت کے ساتھ گُھل مل گئے تھے کہ اہل تشیع ان کو بطور طنز ’’مولانا اِدھر علی اُدھر‘‘ کہا کرتے تھے۔ فاضل مضمون نگار بتائیں کہ اہل تشیع کو اتحادوں میں شامل کرنے سے آج تک کسی شیعہ کو اپنے مذہب کی ترویج کے لیے سنی اسٹیج استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ اور یہ بھی ہمارے بزرگوں کی مصلحت کے تحت ایک وقتی پالیسی تھی۔ وگرنہ بٹالہ ضلع گورداسپور میں حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین کے والد گرامی ایک جلسۂ عام میں اہل تشیع کی کتب اٹھا اٹھا کر اُن کے کفریہ عقائد پیش کر رہے تھے اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری بھی تشریف فرما تھے۔ امیر شریعت کی تقریر بعد میں تھی۔ آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ جب مولانا کرم الدین دبیر شیعوں کے عقائد بیان کر رہے تھے تو میرے سینے پر گویا ہتھوڑے برس رہے تھے کہ جن کے ایسے ایسے عقائد ہوں، تو انہیں اپنے ساتھ ملاتا ہے، یہ واقعہ مولانا کرم الدین دبیر نے خود اپنے فرزندِ سعادت مند کو سنایا تھا۔ (بحوالہ، کشفِ خارجیت طبع اول صفحہ نمبر ۱۰۴، مصنفہ حضرت اقدس قاضی صاحب)

اور یہ بھی یاد رہے کہ مولانا کرم الدین کی ردِّ شیعیت پر بے مثال تصنیف ’’آفتابِ ہدایت‘‘ امیر شریعت نے اپنی صاحبزادی کو جہیز میں دی تھی۔ کہاں اکابر کی خلوص بھری مصلحتیں اور کہاں نفرت آمیز غیر مستند اور ہوائی باتیں؟ ہم اپنے مخاطب کے کون کون سے ’’فکری شگوفوں‘‘ کو موضوعِ بحث بنائیں؟ کیونکہ

مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

اکابرین عالمی مجلس اور فتنۂ رفض

۱۹۵۷ء میں مولانا محمد علی جالندھری نے مولانا لعل حسین اختر اور مولانا محمد حیات جیسے حضرات کو چوکیرہ ضلع سرگودھا میں امام پاکستان علامہ احمد شاہ چوکیروی کے پاس بھیجا تھا اور علامہ چوکیروی سے کہا کہ یہ علماء آپ کے طلبہ کو فتنۂ مرزائیت کے خلاف تیاری کروائیں گے اور آپ ان علماء کرام کو ردِّشیعیت پر تیاری کروائیں۔ اس واقعہ کے راوی اور عینی گواہ علامہ چوکیروی کے فرزند مولانا سید قاسم شاہ صاحب بقیدِ حیات ہیں۔ ان سے تحقیق کی جاسکتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کو مرزائیت کے ساتھ ساتھ فتنۂ رفض کی سرکوبی کا کتنا درد اور احساس تھا۔ ختم نبوت کے تاج و تخت کا تحفظ بھی ہم نے کرنا ہے اور ان شاء اللہ صحابہؓ کے جُوتے اپنے رخساروں پر بھی ہم ہی مَلیں گے۔

مسئلہ تکفیر، مولانا کرم الدین دبیر کی عبارت اور مفتی زاہد صاحب کی کم شعوری

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ حضرت مولانا کرم الدین دبیر اور ان کے فرزند سعادت مند حضرت اقدس قاضی صاحب نے اعتدال، ملائمت اور حکمت و بصیرت سے سُنی مذہب کی خدمت کی ہے لیکن اس سے یہ مفہوم اَخذ کرنا کہ وہ کسی لامذہب فرقے کی تکفیر کے قائل نہیں تھے، عدم معلومات کا نتیجہ ہے۔ فاضل مضمون نگار نے مولانا کرم الدین دبیر کی کتاب ’’السیف المسلول لاعداء خلفاءِ الرسول‘‘ کی مذکورہ عبارت سے اپنا من چاہا مطلب نکالنے کی غیر سنجیدہ اور بعید از علم حرکت کی ہے۔

’’شیعہ و سنی دونوں فرقے ایک خدا کی پرستش کرنے والے ایک نبی، ایک قرآن پر ایمان لانے والے اور ایک قبلہ کی طرف سرجھکانے والے ہیں۔ پھر افسوس ان دو متحد المقا صد فرقوں میں احمد شاہ شیعی جیسے ریکروٹ نئے بھرتی ہونے والے حضرات اتحاد قائم نہیں رہنے دیتے‘‘ (الشریعہ ۱۷)

تبصرہ

ابوالفضل مولانا کرم الدین دبیر کی یہ کتاب ۱۸۹۹ء میں پہلی بار چھپی تھی۔ جس میں احمد شاہ شیعہ کے اعتراضات کا جواب اور خلفاءِ راشدین کا قرآن مجید کی چالیس آیات کی روشنی میں دفاع کیا گیا ہے۔ دوسری بار یہ کتاب ۱۹۲۹ء میں مصنف نے اپنی نگرانی میں طبع کروائی۔ اور پھر تیسری مرتبہ تقریباً بیاسی سال کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قاضی کرم الدین دبیر اکیڈمی کی جانب سے یہ اکتوبر ۲۰۱۱ء میں راقم الحروف کے مقدمہ و حواشی کے ساتھ نہایت خوبصورت انداز میں شائع ہوئی ہے۔ ۱۹۲۹ء میں جب یہ چھپی تو مولانا کرم الدین دبیر نے مذکورہ عبارت کے نیچے یہ حاشیہ اضافی لگایا۔

’’یہ اس وقت کا خیال ہے، جب بوقتِ تصنیف رسالہ ھذا، کتب شیعہ اور ان کے عقائد و مسائل پر پورا عبور نہ تھا۔ لیکن بعد مطالعہ کتبِ اصول و فروعِ شیعہ، اب معلوم ہوا کہ شیعوں کا قرآن پاک پر بھی ایمان نہیں ہے۔ ایسی حالت میں اسلام سے ان کو کچھ واسطہ اور تعلق ہی نہیں ہوسکتا‘‘۔

ہم حیران ہیں کہ فاضل مضمون نگار یہ حاشیہ اتنی آسانی سے کیسے ہضم کر گئے؟ یہ دانستہ کیا گیا ہے یا نادانستہ؟ اگر دانستہ ہے تو پھر نیتوں کے کھوٹ سے تحقیقی کام کبھی پروان نہیں چڑھتے۔ اور اگر نادانستہ ہے تو بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ہی صفحے پر اتنا واضح حاشیہ نظر کیوں نہیں آیا؟ ہمیں سو فیصد یقین ہے کہ مضمون نگار کے پیش نظر یہی تیسرا اڈیشن ہے اور یہ تو اتنا صاف سُتھرا اور نفیس و جلی کمپوزنگ سے لکھا ہے کہ دماغی فتور کے علاوہ اس سے صَرف نظر ناممکن ہے اور ہم نے باقاعدہ اس توضیحی حاشیہ کے آگے مصنف کا نام بریکٹ میں لکھا ہے تاکہ ہمارے حواشی سے التباس نہ ہوسکے۔ اور فاضل مضمون نگار اگر مولانا کرم الدین کی دیگر کتب بھی پڑھ لیتے تو شک و شبے کی کوئی گنجائش نہ رہتی۔ ’’آفتابِ ہدایت‘‘ میں تکفیر روافض پر باقاعدہ فتوی شامل اشاعت ہے اور جابجا ابحاث میں مصنف ان کی تکفیر کرتے ہیں۔ جولائی ۱۹۱۱ء میں مولانا کرم الدین کی ایک یادگار تصنیف ’’تازیانۂ سنت‘‘ ردِّاہل رفض و بدعت‘‘ شائع ہوئی تھی۔ اب ٹھیک ایک سو سال کے بعد محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی جدید طباعت کروائی گئی ہے۔ اس میں بھی صراحتاً تکفیر شیعہ ثابت ہے۔ مولانا دبیر اور آپ کے فرزند سعادت مند حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین نے کبھی رفض و بدعت کے خلاف لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔۔۔ ہمیں اس پر بھی حیرت ہے کہ مصنف نے اہل تشیع کا دفاع کرتے ہوئے ہمارے ان بزرگوں کو موضوعِ سخن کیوں بنایا ہے؟ جبکہ ان حضرات کی زندگی کا ایک ایک پل عظمتِ صحابہ کے دفاع اور رفض وبدعت کی بیخ کنی میں گذرا ہے۔ یہ دونوں باپ بیٹا عظمتوں کے تاج سر پر سجا کر عقبیٰ میں حضراتِ ابوبکرؓ و عمرؓ کے جلوؤں کے مزے لوٹ رہے ہیں اور ان کی قبر کاایک ایک ذرہ چراغ نہیں بلکہ سورج بن کر گم گشتگان وادئ ضلالت کی راہنمائی کر کے انہیں صحابہ کا سچا سپاہی بنا رہا ہے۔ اور ان شاء اللہ قیامت تک ان کا فیضانِ جاری رہے گا۔ آپ اپنے خیالات اور جذبات کا علمی اصولوں کے مطابق ضرور اظہار کیجیے۔ مگر یاد رکھیے ان حضرات کی محنتوں کو اپنے خود ساختہ اور کچے نظریات سے تخت و تاراج کرنے کی ہر سازش بے نقاب کر دی جائے گی۔ ہم جگنو نہیں ہیں کہ روشنی دے سکیں، مگر پروانے ضرور ہیں جو روشنی پہ مرسکیں۔

پروانہ اک پتنگا، جنگو بھی اک پتنگا 
وہ روشنی کا طالب ، یہ روشنی سراپا

آخری گزارش 

فاضل مضمون نگار اور ماہ نامہ الشریعہ کی مجلس منتظمہ سے ہماری آخری گزارش یہ ہے کہ فتوے کی زبان سے ہٹ کر اور تکفیر و عدم تکفیر کی بحثوں میں الجھے بغیر ہمیں یہ بتایا جائے کہ شیعہ مذہب ایک گمراہ ترین مذہب ہے یا نہیں؟ کیونکہ کفر پر دستاویزی ثبوت ہیں جو اس میدان کے لوگ ہی جانتے ہیں مگر گمراہ ترین ہونے پر تو واقعاتی اور مشاہداتی دستاویزات سب کے سامنے ہیں جب آپ بلاوجہ اس عنوان کو نرم کر کے اور ان کے دفاع میں گفتگو کریں گے تو کیا اہل سنت والجماعت کے سادہ لوح لوگ آپ کی ان باتوں سے تاثر لے کر شیعیت کا شکار نہیں ہوں گے؟ کیا آپ کی اس پالیسی سے عظمتِ صحابہ کا ایمانی مسئلہ مجروح نہیں ہوگا؟ کیا اس قسم کے مضامین ایک عام قاری کو ایک ہزار سال کے محققینِ اہل سنت کی کاوشوں سے برگشتہ نہیں کریں گے؟

اگر غیروں کو قریب کرنے کے غیر فطری عمل سے آپ کے فطری متعلقین آپ سے کٹ گئے تو کیا یہ دین کی خدمت ہے؟ اگر اڑتی چڑیوں کو پکڑنے کی چاہ میں آپ ہاتھوں کی چڑیاں اڑا بیٹھیں تو کیا یہ دانش مندی ہے؟ اور اگر آپ واقعی مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کی خواہش رکھتے ہیں تو اس کے لیے بڑے بڑے معرکے گرم ہیں، جہاں آپ خدمات پیش کر کے کوئی مثبت خدمت کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں۔ اور بطور باشندگانِ وطن اگر آپ شیعہ، سنی تصادم ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ آپ ان کی وکالت کرنے بیٹھ جائیں، کیونکہ تصادم ختم کیا جاسکتا ہے، اختلاف نہیں۔ معاف کیجیے گا، آپ حضرات کی انہی لایعنی اور بے روح باتوں نے اہل سنت کو ’’سپاہ صحابہ‘‘ جیسی جماعتیں بنوا کر تشدد کے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ ہم اس وقت ایک خطرناک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ اب ہم نے دشمنوں کا تعاقب بھی کرنا ہے اور اپنوں کی جان و آبرو کی حفاظت بھی کر نی ہے۔

ہم آپ کو دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ آئیے! سب مل کر دفاعِ اسلام اور دفاع صحابہ کے محاذ پر بذریعہ تقریر، تحریر، تدریس یا ہر مثبت ذریعہ بروئے کار لاکر یہ مقدس فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور اگر آپ کے شکم مبارک کے مروڑ صرف اسی صورت میں ختم ہوسکتے ہیں کہ آپ نے رفض کو مسلمانوں کی قطاروں میں ہی دیکھنا ہے تو پھر سرکردہ علماء کرام کا ایک ثالثی بورڈ تشکیل دیجیے اور اس موضوع پر یعنی اہل تشیع کے خلاف گرم و نرم رویہ رکھنے والے فریقین کا باحوالہ موقف سُنیے۔۔۔ اور اس کے بعد کوئی رائے قائم کیجیے اور معذرت کے ساتھ، اگر آپ نے محض ’’دماغی عیاشی‘‘ کرنی ہے اور بغیر کسی تحقیق و تفہیم کے پانی میں ہی مدھانی چلانی ہے تو پھر ماہ نامہ ’’الشریعہ‘‘ حاضر ہے۔ آپ جیسے حضرات کے دم قدم سے ہی ہمارے اس اکلوتے ماہ نامہ کی رونقیں ہیں۔ فکرِ آخرت یا خدا خوفی کی دعوت ہم آپ کو دے نہیں سکتے کہ آپ خود علماء دین ہیں۔ وقال اللہ تعالیٰ ۔ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَآء ۔

البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ عالم دین کی فکری و اصولی لغزش بانجھ پن کی مریض نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ غلطیوں پر غلطیاں جنم دیتی چلی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ وطن عزیز میں نظام خلفاءِ راشدین کے عملی نفاذ کے جذبے کے ساتھ دفاعِ صحابہ کا جذبہ نصیب ہو۔ اور دین اسلام کے آفاقی دستور کی حفاظت کے لیے ہر فتنے کے سامنے سرسکندری بننے کا من جانب اللہ اعزاز حاصل ہوجائے۔آمین ثم آمین

ٹپک اے شمع! آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں میں
سراپا درد ہوں، حسرت بھری ہے داستاں میری

آراء و افکار