مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

مشرکین مکہ پر قیاس 

جناب عما ر صاحب نے حقِ تولیت کے ’’مزعومہ شرعی دلائل ‘‘کا ذکر کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر یہ ’’دلیل ‘‘ذکر کی ہے اور یہ’’دعوی ‘‘کیا ہے کہ مسلم مفکرین یہود کی تولیت کی منسوخی کے لئے مسجدِ اقصی کو مسجدِ حرام پر اور یہود کو مشرکینِ مکہ پر ’’قیاس ‘‘کرتے ہیں۔کہ جس طرح مشرکینِ مکہ اللہ کی نافرمانی کے نتیجے میں مسجدِ حرام کی تولیت سے محروم کئے گئے ،اسی طرح یہود بھی اپنی نافرمانیوں کی بدولت مسجدِ اقصی کی تولیت سے محروم ہونگے۔

آنجناب نے یہ استدلال حضرت قاری طیب صاحب ؒ کی مایہ ناز کتاب ’’مقاماتِ مقدسہ اور ان کا اجتماعی نظام ‘‘کے ایک اقتباس سے اخذ کیا ہے ،ہم سب سے پہلے حضرت قاری صاحبؒ کی وہ عبارت قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں ،پھر آنجناب کے ’’حسنِ استنباط ‘‘سے متعلق چند باتیں عرض کریں گے ۔حضرت قاری صاحب لکھتے ہیں :

’’یہ تینوں مرکز اسلام کی جامعیت کی وجہ سے مسلمانوں کو کسی کے دیے سے نہیں ملے ،بلکہ خدا کی طرف سے عطا ہوئے ا ور انہی کے قبضہ و تصرف میں دیے گئے ہیں ، جن میں کسی غیر کے دخل یا قبضے کا از روئے اصول سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حجاز میں مشرکین ملتِ ابراہیم کے نام سے عرب پر قابض و متصرف تھے ،لیکن جب انہوں نے شعائر اللہ کی جگہ بے جان مورتیوں اور پتھر کے سنگ دل خداؤں کو جگہ دی،تو سنت اللہ کے مطابق ان کا قبضہ تبدیل کر دیا گیا ۔شام کی مقدس سرزمین بلا شبہ اولاً یہودکو دی گئی اور فلسطین ان کے قبضے میں لگا دیاگیا ،جیسا کہ قرآن ’’کتب اللہ لکم‘‘ سے اس کا انہیں دے دیا جانا ظاہر کیا ہے،لیکن انہوں نے عہد شکنی کی اور الٰہی میثاق کو توڑ ڈالا ۔ان حرکات کے انتہاء پہنچ جانے پر حق تعالی نے انہیں بیت المقدس کی تولیت اوراس ملک کی ملکیت سے محروم کرکے ان پر نصاری کو مسلط کر دیا ،چنانچہ بعثتِ نبوی سے تین سو سال پہلے نصاری شام اور فلسطین کی ارضِ مقدس پر قابض ہو گئے ،لیکن اقتدار جم جانے کے بعد ردِ عمل شروع ہوااور با لا خر وہ بھی قومی اور طبقاتی رقابتوں میں مبتلا ہو کر اسی راہ پر چل پڑے تھے ،جس پر یہود چلے تھے ،صخرہ معلقہ کو جو یہود کا قبلہ تھا ،غلاظت کی جگہ قرار دیا اور اس کی انتہائی توہین شروع کر دی ،محض اس لئے کہ وہ یہود کا قبلہ تھا،اس پر پلیدی ڈالی اور اسے مزبلہ (کوڑی)بناکر چھوڑا۔ظاہر ہے کہ شعائر الہیہ اور نشاناتِ خداوندی کے بعد کوئی قوم بھی پنپ نہیں سکتی ،اس لئے بالا خر نصاری کا بھی وقت آگیا،ان کا اقتدار یہاں ختم ہوا اور حق تعالی نے مسلمانوں کو غلبہ دے کر انہیں بیت المقدس کا متولی بنا یا۔‘‘ (بحوالہ مذکورہ مضمون)

آنجناب نے اس عبارت سے یہ نتیجہ اخذ کیاہے :

’’اس میں اہلِ کتاب کو مشرکینِ مکہ پر اور اس کے نتیجے میں مسجدِ اقصی کی تولیت کے معاملے کو مسجدِ حرام کی تولیت کے معاملے پر قیاس کیا گیا ہے‘‘

قارئین سے درخواست ہے کہ وہ حضرت قاری صاحب کی عبارت کو دوبارہ غور سے پڑھیں اور خصوصاً تحریر میں نمایاں کردہ جملوں اور الفاظ کو توجہ سے دیکھیں ،ہھر جناب عمار صاحب کے اخذ کردہ نتیجے کو دیکھیں اور انصاف سے فیصلہ کریں کہ کیا واقعی حضرت کا مقصد ایک’’ عقلی قیاس ‘‘پیش کرنا ہے ،جیسا کہ آنجناب نے ’’دعوی ‘‘کیا ہے یا حضرت قاری صاحب اس عبارت میں اس ’’سنت اللہ ‘‘اور’’ خداوندی ضابطے‘‘ کو بیان کرنا چاہتے ہیں ،جس کو ہم نے اس تحریر میں بار بار بیان کیا ہے۔

حضرت نے اس اس عبارت میں سب سے پہلے ان عبادتگاہوں کے لئے ’’مرکز ‘‘کا لفظ استعمال کیا ،اس سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جن مقامات کی ہم بات کر رہے ہیں ،وہ کسی مخصوص قوم ،ملت اور مذہب کی’’جاگیر ‘‘نہیں ہیں ،بلکہ یہ مقامات اللہ کے منتخب کردہ مراکز ہیں ۔اس سے آنجناب کے اس نظریے کی تردید ہو گئی کہ مسجدِ اقصی کی حیثیت محض بنی اسرائیل کے قومی قبلہ اور مرکزِ عبادت کی ہے ،چنانچہ آنجناب لکھتے ہیں :

’’اس کے برعکس مسجدِ اقصی کی حیثیت محض بنی اسرائیل کے قومی قبلہ اور مرکزِ عبادت کی تھی ‘‘

اس کے بعد حضرت نے مشرکین کے حقِ تولیت کے ختم ہونے کو یوں بیان کیا :

’’تو سنت اللہ کے مطابق ان کا قبضہ تبدیل کیا گیا ‘‘

کیا جناب عمار صاحب بتائیں گے کہ ’’سنت اللہ ‘‘سے کیا مراد ہے اور حضرت اس لفظ سے ان مراکز عبادت کے لئے اللہ کی کونسی سنت اور ضابطے کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں ۔

پھر حضرت نے مسجدِ اقصی کی تولیت یہود سے نصاری کی طرف منتقل ہونے کو یوں بیان کیا:

’’انہوں نے عہد شکنی کی اور الٰہی میثاق کو توڑ ڈالا ،ان حرکات کے انتہا کو پہنچ جانے کی بنا پر حق تعالیٰ نے انہیں بیت المقدس کی تولیت اور اس ملک کی ملکیت سے محروم کر دیا‘‘۔

اس عبارت میں قاری صاحب نے پھر اس سنت اللہ کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالی نے خود انہیں ان کی مذکورہ حرکات کی بنا پر مسجدِ اقصی کی تولیت سے محروم کر دیا۔

اس کے بعد اس مقدس مقام کی تولیت مسلمانوں کی طرف منتقل ہونے کو کچھ یوں بیان کیا:

’’ظاہر ہے کہ شعائر الہیہ اور نشات خداوندی کے بعد کوئی قوم پنپ نہیں سکتی ،اس لئے با لا خر نصاری کا وقت آگیا، ان کا اقتدار ختم ہوا اور حق تعالی نے مسلمانوں کو غلبہ دے کر انہیں بیت المقدس کا متولی بنا دیا ۔‘‘

اس پوری عبارت کا تجزیہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت قاری صاحب مسجدِ اقصی اور مسجدِ حرا م دونوں کو شعائر اللہ ،نشاناتِ خداوندی ،مراکزِ عبادت اور مقدس مقام مانتے ہیں ۔پھر ان مقاماتِ مقدسہ کے بارے میں اس سنت اللہ اور خدائی ضابطے کو بیان کیا ،جس کی طرف ہم کئی بار اس تحریر میں اشارہ کر چکے ہیں ،چنانچہ حضرت قاری صاحب مشرکین سے بیت اللہ کی تولیت چھیننے ،یہود کے مسجدِ اقصی کی تولیت سے محروم ہونے ،نصاری کے مسجدِ اقصی کی تولیت سے معزولی اور آخر میں مسلمانوں کا ان مقدس مقامات کی تولیت سنبھالنے کو سنت اللہ اور اسی خداوندی ضابطے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔لیکن آنجناب کا ’’حسنِ استنباط ‘‘ ہے کہ اس عبارت سے ایک ’’عقلی قیاس ‘‘ ثابت کر رہے ہیں ۔

اس کے بعد آنجناب نے اپنے ’’غلط نتیجے ‘‘ کی بنیا د پر بحث کی پوری عمارت کھڑی کردی اور اس ’مزعومہ قیاس ‘‘ کے رد میں درجہ ذیل نکات اٹھائے :

۱۔حقِ تولیت کے لئے ’’صریح دلیل ‘‘ کی ضرورت ہے ،اسے صرف قیاس سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

۲۔مشرکینِ مکہ اور اہلِ کتاب کے جرائم ،احکامات اور ان دو مسجدوں کی نوعیت میں خاصا فرق ہے ،اس لئے ان کے حقِ تولیت کے احکام الگ ہونگے،چنانچہ مفصل بحث کر کے آ خر میں لکھتے ہیں :

’’دونوں عبادت گاہوں کے درجے ،اور احکام میں پائے جانے والے ان اصولی و فروعی فرق کو حقِ تولیت کے معاملے میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتابلکہ اس پر بھی گہرے طور پر اثر انداز ہوتے ہیں ‘‘

تعجب ہے کہ مسلم مفکرین کو تو حقِ تولیت قیاس سے ثابت کرنے پر کوس رہے ہیں ،لیکن خود یہ فرق بھی قیاس سے نکال رہے ہیں کہ ان دونوں گروہوں کے نام الگ الگ رکھنا ،جزیہ کے حکم میں فرق،عبادت گاہوں کی بقا و ہدم میں فرق اور اس جیسے دیگر فروق ’’دلالت ‘‘ کرتے ہیں کہ حقِ تولیت میں بھی فرق ہے ،اگر قاری صاحب با لفرض اپنی عبارت میں ’’اشتراک العلۃیدل علی اشتراک الحکم‘‘والا ’’قیاس ‘‘ پیش کر رہے تھے ،تو آنجناب ’’افتراق العلۃ یدل علی افتراق الحکم ‘‘ والا قیاس پیش نہیں کر رہے ہیںیا للعجب ۔

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی 
وہ تیرگی جو میرے نامہ اعمال میں تھی 

اس پوی مفصل بحث میں آنجناب نے اپنے اس ’’قیاس ‘‘ پر پورا زور صرف کرنے کے علاوہ حقِ تولیت کے حوالے سے اپنے موقف پر ایک بھی ’’صریح دلیل ‘‘ نہیں دی ۔

۳۔ آنجناب نے اپنا سارا زور اس پر صرف کیا کہ مشرکینِ مکہ کی تولیت سے محرومی کی واحد وجہ ’’شرک ‘‘ ہے اور اہلِ کتاب چونکہ قرآنی اصطلاح کے اعتبار سے مشرکین نہیں ہیں اس لئے یہ ’’قیاس ‘‘ غلط ہے۔ہم آنجناب سے پوچھتے ہیں کہ پھر مسجدِ حرام کی تولیت کے معاملے میں اہلِ کتاب کا کیا حکم ہے ؟ کیونکہ وہ مشرکین نہیں ہیں !ظاہر ہے کہ اللہ نے مسجدِ حرام سے صرف مشرکین کی بے دخلی کے بارے میں’’صریح نص‘‘ نازل کی ہے ؟کیا آنجناب کے پاس اس حوالے سے ایک بھی ’’صریح نص‘‘ ہے کہ اہلِ کتاب مسجدِ حرام کی تولیت کے حق دار نہیں ہیں ۔آنجناب ’’اخرجوا الیہود و النصاری من جریرۃ العرب‘‘ جیسی نصوص پیش کریں گے، لیکن عرض یہ ہے کہ جب حضرت عمر کی بیت المقدس کے بارے میں یہود کے حوالے سے لگائی جانے والی ایک شرط ’’ولا یسکن بایلیا معہم احد من الیہود‘‘ مسجد اقصی پریہود کی تولیت سے آنجناب کے بقول مانع نہیں بنتی تو ’’اخرجو الیہود و النصاری ‘‘ والی نص اہلِ کتاب کی تولیت سے مانع کیسے بنے گی؟ نیز اگر اہلِ کتاب اس پر اپنے ’’مذہبی حق‘‘ کایوں دعوی کریں کہ یہ گھر ’’بنی اسرائیل کے جد امجد حضرت ابرایہم علیہ السلام نے تعمیر کیا ہے اور جب بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو گھر بنا یا ،آپ اس پر ہمارا ’’تاریخی و مذہبی حق ‘‘تسلیم کرتے ہیں، تو جو اس گھر پر ہمارا حق کیونکر نہیں ہوگا ،جو سب بنی اسرائیل کے جد امجد نے تعمیر کیا ہے ؟آنجناب اس حوالے سے کیا ’’تحقیق‘‘ پیش فرمائیں گے؟

۴۔اصل بات یہ ہے کہ نصوص میں بطورِ علت شرک کا جو بیان ہوا ہے ،اس میں مقصود اہلِ کتاب سے احتراز ہے ہی نہیں ،جیسا کہ آنجناب کا گمان ہے ،بلکہ وہ علت ایمان کے مقابلے میں بیان ہوئی ہے ۔گویا اس میں مشرکین کا تقابل مومنین کے ساتھ کیا گیا ہے نہ کہ اہلِ کتاب کے ساتھ،یعنی مشرکینِ مکہ کو اس لئے مسجدِ حرام کی تولیت نہیں مل سکتی ، کیونکہ وہ مشرک ہیں یعنی مومن نہیں ہیں ۔علمی اصطلاح میں اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ حصر اضافی ہے نہ کہ حقیقی،چنانچہ علامہ آلوسی ؒ سورہ الانفال کی آیت ’’ان اولیاء ہ الا لمتقون ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

وما اولیا ء المسجد الحرام الا المتقون من الشرک الذی لا یعبدون فیہ غیر ہ تعالی وا لمراد بہم المسلمون وہذہ المرتبۃ الا ولی من التقوی (۴۰)

اسی طرح مفسرین نے سورہ براۃ کی آیت ’’شاہدین علی انفسہم بالکفر‘‘ میں صرف مشرکین کا ذکر نہیں کیا ،بلکہ اہلِ کتاب کا بھی ذکر کیا ،چنانچہ امام ابنِ کثیر ؒ کی جو عبارت آنجناب نقل کی ہے ،اس سے آگے عبارت یوں ہے :(جو آنجناب کو شاید’’نظر ‘‘ نہیں آئی )

وہم شاہدون علی انفسہم بالکفر ای بحالہم و قالہم کما قال الذی لو سالت النصرانی ما دینک ؟لقال نصرانی ،والیہودی ما دینک ،لقال یہودی ،والصائبین و المشرک لقال مشرک (۴۱)

نیز اس بات کی تائید اگلی آیت سے بھی ہوتی ہے اس میں ’’مساجد اللہ ‘‘ کی تولیت صرف غیر مشرکین یعنی مومنین کا حق بتلایا گیا ہے:

إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّٰہَ (البراء ۃ ۹: ۱۸) 
’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں ۔‘‘

۵۔ اس موقع پر آنجانب نے مسجدِ اقصی و مسجدِ حرام اور مشرکین و اہل کتاب کے درمیان جتنے ’’فروق‘‘ بیان کیے ہیں اور دونوں کے جد ا جدا احکامات پر جتنا ’’زور ‘‘ صرف کیا ہے ، ان کو یہاں زیرِ بحث لانا بے فائدہ ہے ،کیونکہ ان فروق کی وجہ سے ان دو مقدس مقامات کی تولیت میں فرق نکالنا آنجناب کا ’’قیاس ‘‘ہے ،جس پر آنجناب نے پوری بحث میں کوئی ’’دلیل‘‘نہیں دی ۔اس کے علاوہ یہ سارے فروق واقعی حق تولیت میں بھی ’’علتِ موثرہ ‘‘ کا کردار ادا کرتے ہیں ،اس پر بھی ’’دلیل‘‘ کی ضرورت ہے ،کیونکہ مقیس و مقیس علیہ کا تمام اوصاف میں کلی ’’اشتراک ‘‘ صحتِ قیاس کے لئے کسی کے نزدیک بھی شرط نہیں ہے ۔ 

۶۔آنجناب نے مسجدِ حرام کی تولیت سے مشرکین کی محرومی کی علت ’’شرک ‘‘ نکالی ہے ،اس پر سوال یہ ہے کہ اس حکم کی علۃ العلۃ کیا ہے ؟یعنی شرک کیوں ایک مقدس گھر کی تولیت سے بے دخلی کی علت ہے؟تو اس بارے میں گزارش یہ ہے اس حکم کی اصل علت ’’اللہ کی نافرمانی اور تکذیبِ پیغمبر‘‘ہے کہ مشرکین چونکہ اپنے شرک کی آڑ میں اللہ کی نافرمانی اور اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر کی تکذیب کر رہے تھے ،تو اللہ نے انہیں اس گھر کی تولیت سے محروم کردیااور یہی علت اہلِ کتاب میں بھی پائی جاتی ہے، اس لئے وہ بھی ایک مقدس گھر کی تولیت سے محروم ہونگے۔اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ یہود کی بیت المقدس سے دو مرتبہ جلاوطنی کی وجہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے جلیل القدر پیغمبروں کی تکذیب اور ان کی اطاعت سے انکار کی وجہ سے ہوئی تھی ۔سورہ اسراء کی ابتدائی آیات اس پر شاہد ہیں ۔اور یہی علت آج کے یہودیوں میں موجود ہے ،اس لئے وہ اس مقدس گھر کی تولیت کے قطعاً حقدار نہیں ہونگے۔

۷۔اس بحث کے آخرمیں آنجناب نے ایک ’’تضاد ‘‘کا دعوی بھی کیا ہے ،چنانچہ لکھتے ہیں :

’’علاوہ ازیں اس تضاد کا کیا حل ہے کہ جب اسلام میں اہلِ کتاب کی عام عبادت گاہوں کو تحفظ دیا گیا اور ان پر اہلِ مذہب کی تولیت و رصرف کا حق تسلیم کیا گیا ،تو ان کے قبلہ اور مرکزِ عبادت کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں کیا گیا کہ وہ اس پر تولیت ، تصرف اور اس میں عبادت کا حق نہیں رکھتے۔‘‘

آنجناب کو یہ تضاد اس لیے نظر آرہا ہے ،کہ آنجناب کے نزدیک مسجدِ اقصی کی حیثیت محض یہود کے ایک قومی عبادت گاہ اور مرکزِ عبادت کی ہے اور آنجناب اس کو صرف یہود کا مرکزِ عبادت ’’فرض‘‘ کر کے ساری بحث کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہم اس کی وضاحت بار بار کر چکے ہیں کہ مسجدِ اقصی صرف یہود کا قبلہ و مرکز نہیں ہے ،بلکہ وہ دنیا کے ان چند مقدس مقامات میں سے ایک مقدس مقام ہے جس کی بنیاد،تعمیر ،اور تجدید اللہ کے حکم سے اللہ کے جلیل القدر انبیاء نے کی ہے اور ایسے مقدس مقامات کے بارے میں ’’سنت اللہ ‘‘یہی ہے کہ وہ ہر زمانے کے اہلِ حق کو ملتے ہیں ۔یہود کو بھی ایک زمانے میں یہ مقام اسی لئے ملا تھا کہ وہ اس وقت اہلِ حق تھے ۔اگر آنجناب اپنا زاویہ نظر تبدیل کر لیں ،تو اس میں ایک رتی کے برابر تضاد نہیں ہے۔اپنے ذہن سے ’’غلط مقدمات ‘‘ فرض کر کے جب احکاما تِ شریعت پر نظر ڈالیں گے ،تو تضادات کے سوا کیا نظر آئے گا؟

فتحِ بیت المقدس کی بشارت

جناب عمار صاحب نے ’’دلائلِ شرعیہ ‘‘ پر نقد کرتے ہوئے ایک ’’دلیل ‘‘ یہ بھی بیان کی ہے کہ بعض حضرات احا دیث میں بیت المقدس کی فتح کی بشارت کو بھی مسجدِ اقصی کی تولیت کی دلیل بناتے ہیں ۔ آنجناب نے اس پر اعتراض یہ کیا ہے کہ بیت المقدس شہر کی فتح کی بشارت سے وہاں پر موجود عبادت گاہوں پر تولیت کاحق کہاں سے لازم آیا؟کیونکہ کسی شہر کا فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضے میں آنا اور بات ہے ، جبکہ ہاں پر موجود عبادت گاہوں پر تولیت ایک اور بحث ہے ۔

آنجناب سے گزارش ہے کہ نصوص شرعیہ میں بیت المقدس کا لفظ مسجدِ اقصی کے لیے ہی استعمال ہوا ہے، اس لفظ کا بلد اقدس کے لیے استعمال کا رواج محققین کے نزدیک خلافت عباسیہ کے دور میں خصوصاً ہارون الرشید کے دور میں شروع ہوا (۴۲) لہٰذا جب اس سے مراد ہی مسجدِ اقصی ہے ،تو پھر ان احادیث کو تولیت کی دلیل کیوں نہیں بنا یا جاسکتا؟ ذیل میں چند نصوص ذکر کرتے ہیں جن میں مسجدِ اقصی کے لئے بیت المقدس کا لفظ استعمال ہوا ہے:

۱۔نسائی شریف میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں مسجدِ اقصی کی تعمیر کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:

لما فرغ سلیمان من بناء بیت المقدس سال اللہ ثلاثاً (۴۳)

۲۔معراج کی رات آپ ﷺ مسجدِ اقصی میں داخل ہوئے اور آپﷺ کے اعزاز کے لیے انبیاء کو جمع کیا گیا ،اس کا ذکر یوں ہے :

ثم دخلت بیت المقدس ،فجمع لی الانبیاء (۴۴)

۳۔ جب آپ ﷺ معراج سے واپس تشریف لائے اور علی الصباح یہ واقعہ بیان کیا،تو مشرکین نے امتحاناً مسجدِ اقصی کے بارے میں سوالات شروع کر دیے ،تو اللہ نے مسجدِ اقصی کو آپ کے سامنے ظاہر کر دیا ،اس کا ذکر یوں ہوا ہے :

فجلا اللہ لی البیت المقدس (۴۵)

۴۔امام ابو داؤد ؒ نے باب باندھا ہے :

باب من نذر ان یصلی فی بیت المقدس (۴۶)

۵۔امام ابنِ ماجہ ؒ نے باب باندھا ہے :

باب من اہل من بیت المقدس (۴۷)

۶۔ترمذی شریف میں حضرت یحیی اور حضرت عیسی علیہما السلام کا ایک لمبا واقعہ مذکور ہے ،اس میں حضرت یحیی علیہ السلام نے مسجدِ اقصی میں بنی اسرائیل کو جمع کیا ،اس کا تذکرہ یوں آیا ہے :

فجمع الناس فی بیت المقدس فامتلاء المسجد (۴۸)

۷۔حضرتِ حذیفہ بن یمانؓ کی روایت میں ہے :

اصلی رسول اللہ ﷺ فی بیت المقدس؟ (۴۹)

۸۔امام رازیؒ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں :

وقولہ(الی المسجد الااقصی) اتفقواعلی ان المرادمنہ بیت المقدس(۵۰)

۹۔روح المعانی میں علامہ آلوسی ؒ لکھتے ہیں :

( الی المسجد الاقصی) وھو بیت المقدس (۵۱)

۱۰۔امام ابنَ کثیر ؒ لکھتے ہیں :

(الی المسجد الا اقصی ) وھو بیت المقدس (۵۲)

ان نصوص سے یہ بات واضح طورپرثابت ہوتی ہے ،کہ بیت المقدس کا لفظ قرآن و حدیث میں مسجدِ اقصی کے لئے ہی بولا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ آنجناب نے شاید ’’قصداً‘‘اس بشارت اور پیش گوئی پر اکتفاء کیا ،حالانکہ اس حوالے سے مزید نصوص بھی آئی ہیں ،کاش آنجناب ان پر بھی ’’خامہ فر سائی ‘‘ فرماتے۔اب ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے:

۱۔مسجدِ اقصی میں دجال (یہود کا سربراہ)داخل نہیں ہو سکے گا(۵۳)

۲۔ بیت المقدس میں مسلمان قربِ قیامت میں محصور ہونگے(۵۴)

۳۔بیت المقدس کی خرابی و بربادی کے ساتھ مدینہ منورہ کی خرابی و بربادی کا بڑا گہرا تعلق ہے(۵۶)

۴۔ابوابِ بیت المقدس پر جو لشکر جہاد کرے گا وہ حق لشکر ہو گا(۵۷)

تکوینی مشیت اور تشریعی حکم میں فرق

جناب عمارصاحب نے مسجدِ اقصی سے یہود کی بے دخلی کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے ،کہ یہود پر ان کی نافرمانی کے نتیجے میں بخت نصر اور دوسرے فاتحین کا مسلط ہونا خالص ایک تکوینی معاملہ ہے ،اس لئے اسے اپنے حق میں دلیل نہیں بنایاجاسکتا ۔آنجناب نے یہاں بھی ’’خلطِ مبحث ‘‘ سے کام لیا ،حالانکہ سورہ اسراء میں مذکور واقعات تشریعی اور تکوینی دونوں قسم کے احکام پر مشتمل ہیں :

۱۔حکمِ تشریعی تو یہ ہے کہ نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے یہود سے مسجدِ اقصی کی تولیت چھین لی گئی ،یہ وہی ضابطہ ہے ،جو کتب سماویہ میں بار بار بیان ہواہے۔لہذا آئندہ جو بھی گروہ اور جماعت اس طرح نافرمانی کا ارتکاب کرے گی وہ اس گھر کی تولیت سے یہود کی طرح محروم ہو گی۔

۲۔اس نافرمانی کے نتیجے میں ان پر ایسے فاتحین مسلط ہونا ،جنہوں نے بیت المقدس کو ویراں و برباد کیا ،یہ ایک خالص تکوینی معاملہ ہے اور اللہ تعا لی نے اسی کی مذمت ’’ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ‘‘ میں بیان کی ہے ۔اس لئے اگر اب کوئی ان واقعات سے استدلال کرتے ہوئے اس مقدس مقام کی بے حرمتی روا رکھے گا ،تو وہ یقیناً مذمت کا مستحق ہو گا۔اب امتِ مسلمہ کے مفکرین اس تکوینی معاملے سے استدلال کرتے ہوئے مسجدِ اقصی کی حرمت کو پامال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا وہ اس میں بیان کیا ہوا حکم اور اللہ کی سنت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں ،کہ یہ مقدس گھر اس مغضوبِ علیہم قوم کو نہ دیا جائے۔آنجناب خود فیصلہ کر لیں ۔

’’ما کان للمشرکینِ ان یعمروا مساجد اللہ‘‘ کی تعمیم 

آنجناب نے لکھا ہے کہ اس آیت کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے تمام مساجد اور تمام کفار کو اس حکم میں شامل کرنا درست نہیں ہے ،کیونکہ یہ صرف مسجدِ حرام کے بارے میں ہے اور یہ حکم صرف مشرکین کے ساتھ خاص ہے ۔آنجناب سے گزارش ہے کہ اگر استدلال کرنا بھی ہے، تو وہ اس آیت کی بجائے اگلی آیت سے ہوتا ہے ،وہ اس میں اللہ نے اپنے گھروں کے بارے میں ایک عمومی ضابطہ بیان کیا ہے ،اللہ تعالی فرماتے ہیں :

إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّٰہَ (البراء ۃ ۹: ۱۸) 
’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں ،جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔‘‘

اس کی تفسیر میں اما مِ اہل سنت اما م ماتریدی ؒ لکھتے ہیں:

فذلک کلہ علی المسلمین ای علیہم عمارۃ المساجد و بہم تعمر المساجد ولہم ینبغی ان یعمروھا (۵۸)
یہ سارے کام مسلمانوں کا فریضہ ہیں ،یعنی ان کی ذمہ د اری مساجد کو آباد کرنا ہے ،اور انہی سے مساجد حقیقت میں آباد ہوتے ہیں اور انہی کا حق ہے کہ وہ مساجد کو آباد کریں ۔

بیت المقدس میں یہود کا قیام 

حضرت عمرؓ نے بیت المقدس کی فتح کے وقت جو شرائط لگائیں تھیں ،ان میں ایک شرط یہ بھی شامل تھی کہ یہود میں سے کوئی بھی بیت المقدس میں قیام نہیں کر سکے گا ۔اب یہ شرط کتنی صراحت کے ساتھ یہود کی تولیت کی نفی کر رہی ہے ،کیونکہ اگر واقعی از روئے ’’شریعت ‘‘مسجدِ اقصی پر یہود کا حق ہو تا ،تو حضرت عمرؓ اس میں ضرور کوئی ایسا استثناء کرتے ،جس سے ان کا یہ ’’شرعی حق ‘‘ پامال نہ ہوتا۔یہ کونسی ’’عدالت‘‘ ہے کہ عیسائیوں کی عام عبادت گاہ کا تو اتنا خیال رکھ رہے ہیں ،کہ ان میں نماز بھی پڑھنا گوارا نہیں کر رہے ہیں ،لیکن یہود کو نہ صرف ان کی ’’مرکزی عبادت گاہ‘‘ سے محروم رکھ رہے ہیں ،بلکہ انہیں اس شہر میں قیام کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ،کہ وہ کم از کم اسے دیکھ ہی لیا کریں ۔

آنجناب نے جو اس کا ’’شاہکار جواب ‘‘ دیا ہے ،قارئین بھی اس سے لطف اندوز ہوں ،آنجناب نے لکھا ہے کہ یہ شرط اصل میں عیسائیوں کی درخواست پر لگائی گئی،جو پرانے زمانے میں ایک رومی بادشاہ نے لگائی تھی اور عیسائی اسی شرط کو برقرار رکھناچاہ رہے تھے ۔اب جناب عمار صاحب کو کون بتائے کہ کیا اس شرط کا پسِ منظر اور سبب بتانے سے کیا یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت عمرؓ کی نظر میں ان کا حقِ تولیت باقی ہے ؟نیز مسلمان فاتح تھے یا مفتوح ،کہ عیسائیوں کی درخواست پر ایک ’’غیر شرعی ‘‘شرط لگانے پر آمادہ ہو گئے ؟حقیقت یہ ہے کہ یہ شرط اور مسجدِ اقصی پر یہود کی تولیت ایک دوسرے کے بالکل معارض ہے ۔اگر آنجناب کا موقف تسلیم کرلیں کہ مسجدِ اقصی پر یہود کا تاریخی و مذہبی حق باقی ہے اور از روئے شریعت ان کا یہ حق منسوخ نہیں ہوا ،تو حضرت عمرؓ کی عدالت پر ایسا دھبہ لگتاہے ،جس کی امت کے تمام مفکرین مل کر بھی مناسب توجیہ نہیں کر سکتے ، کیونکہ مسجدِ اقصی پر یہود کا حق تسلیم کرتے ہوئے اس شرط کی اس کے سوا کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے یہ شرط لگا کر یہود کا یہ حق ’’غصب ‘‘کر لیاجو شریعت کی رو سے انہیں عطا ہوا تھا۔ 

فتح بیت المقدس کے موقع پر حضرت عمرؓ کا طرزِ عمل 

حضرت عمرؓ نے جب بیت المقدس کو فتح کیا ،تو مسجد ااقصی میں حاضر ہو ئے ،عیسائیوں نے صخرہ کو یہود کی نفرت میں مزبلہ یعنی کوڑا دان بنایا تھا،حضرت عمرؓ نے خود اسے صاف کیااور اذان کا حکم دیا ،چنانچہ وہاں اذان دی گئی اور حضرت عمرؓ نے اسی احاطے میں ایک خاص جگہ پر نماز ادا کی ،حضرت عمرؓ کے اس طرز عمل میں یہ پس منظر بھی پیش نظر ہونا چاہیئے کہ آپؓ نے بیت المقدس میں اہلِ کتاب کی عبادت گاہوں میں ان کی درخواست کے باوجود نماز ادا نہیں کی ،کہ کل کہیں مسلمان میرے اس فعل کی آڑ میں ان عبادت گاہوں پر مستقل قبضہ نہ کر لیں ،لیکن آپ نے نہ صرف مسجدِ اقصی میں نماز ادا کی ،بلکہ وہاں پر مسجد کی تعمیر کا بھی حکم بھی دے دیا ۔ اب اس طرز عمل کی اس کے سوا کیا توجیہ ہوسکتی ہے کہ یہ مقدس مقام اب یہود کی بجائے مسلمانوں کی عبادت گاہ بن چکا ہے ،آنجناب نے اس عمل کی توجیہ تین نکات کی شکل میں کی ہے اور لکھا ہے کہ ان نکات کی بنا پر حضرت عمرؓ کا یہ طرزِ عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہود کا اس پر حق باقی ہے ،قارئین بھی یہ ’’نکات ‘‘ ملاحظہ کریں : 

۱۔حضرت عمرؓ نے مسجدِ اقصی کی اصل بنیادوں کو تلاش نہیں کیا ،معلوم ہوا کہ امتِ مسلمہ کی طرف اس کی تولیت منتقل نہیں ہوئی ،چنانچہ لکھتے ہیں:

’’اب اگر یہود کے حقِ تولیت کے امتِ مسلمہ کو منتقل ہونے کے تصور کو درست مان لیا جائے،تو سیدنا عمرؓ کو اس عبادت گاہ پر تصرف حاصل کرنے کے بعداس بات کا اہتمام کرنا چاہیئے تھا کہ جس طرح انہوں نے کعب احبار کی رہنمائی میں صخرہ بیت المقدس کو کوڑا کرکٹ اور ملبے کے نیچے سے دریافت کیا ،اسی طرح مسجد کی اصل بنیادوں کو تلاش کر کے ان کو محفوظ کرنے کا اہتمام فرماتے ،لیکن اس طرح کی کوئی کوشش انہوں نے نہیں کی ،چنانچہ اصل مسجد کا رقبہ اور بنیادیں متعین طور پر آج بھی معلوم نہیں ہے ۔‘‘

آنجناب کی اس’’ توجیہ‘‘ اور یہود کے حقِ تولیت میں کیا ’’تعلق ‘‘اور کونسی ’’نسبت ‘‘ ہے ؟مسجدِ اقصی کی اصل بنیادوں کو تلاش نہ کرنے سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ حضرت عمرؓ اس پر یہود کا حق تسلیم کرتے ہیں؟آنجناب حضرت عمرؓ کے اس فعل سے دلالت کی کونسی قسم کے تحت یہ ثابت کر رہے ہیں کہ آپؓ اس پر امتِ مسلمہ کا حق نہیں مانتے؟نیز جب آنجناب نے خود لکھا ہے کہ بار بار انہدام اور تعمیر کی بنا پر مسجدِ اقصی کی اصل بنیادوں کو گہری کھدائی اور اثریاتی تحقیق کے بغیر معلوم کرنا ممکن نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ آنجناب کے بقول اس کی اصل بنیادیں آج تک معلوم نہیں ہوسکیں،تو حضرت عمرؓ اسے ایک مجلس میں کیسے معلوم کرتے ؟ْقبۃ الصخرہ کو حضرت عمرؓ نے باقاعدہ معلوم کیا ،اس پر آنجناب اپنے ’’اصول ‘‘ کے مطابق امتِ مسلمہ کی تولیت کا حق تو تسلیم کریں۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنا اہم معاملہ اور مسئلہ ہے ،لیکن حضرت عمرؓ جیسا مدبر اور صاحبِ فراست آدمی ’’زبان ‘‘ سے کچھ فرمانے کی بجائے اپنے ’’مبہم افعال ‘‘ سے اس کا ’’فیصلہ ‘‘ کر رہے ہیں کہ اس مقدس مقام پر امتِ مسلمہ اور یہود میں سے کس کا حق ہے ؟

۲۔آنجناب نے حضرت عمرؓ کے فعل کی توجیہ میں دوسرا نکتہ یہ لکھا ہے کہ آپ مسجدِ اقصی کے اس پورے احاطے میں ایک جگہ کو عبادت کے لئے مخصوص کیوں کیا؟خاص جگہ کو متعین کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ اس پر یہود کا حق بھی مانتے تھے۔

۳۔ آنجناب نے مزید لکھا ہے کہ قبۃ الصخرہ جب حضرت عمرؓ نے دریافت کیا تو اس سے اصل مسجد کے محلِ وقوع کا علم بھی تقریباً ہوگیا ،تو حضرت عمرؓ پھر اس صخرہ سے ہٹ کر کسی اور جگہ کو کیوں عبادت کے لئے مخصوص کیا ؟معلوم ہوا وہ اس پر یہود کا حق بھی تسلیم کر تے تھے ۔(اگرچہ اس کی اصل وجہ تمام توریخ میں منقول ہے(۵۹) 

آنجناب نے حضرت عمرؓ کے فعل کی جو ’’تو جیہات ‘‘ کی ہیں اور اس سے جو ’’نتیجہ ‘‘ نکالا ہے وہ قارئین نے ملاحظہ کر لیا ،کہ آنجناب اس پر یہود کا مذہبی و تاریخی حق ثابت کرنے کے لئے ’’کتنی تگ و دو ‘‘ کر رہے ہیں ۔’’استدلال ‘‘کی دنیا میں قارئین نے کبھی اس طرح کے ’’عجوبے ‘‘ملاحظہ نہیں کئے ہونگے ۔

آنجناب اس پر موقع پر صرف ایک سوال کا جواب دیں کہ جب آپ کے بقول امتِ مسلمہ کا مسجدِ اقصی پر کوئی حق نہیں ہے اور از روئے شریعت اس پر یہود کا حق ہے ،تو حضرت عمرؓ سے اس بارے میں کوئی ایک ایسا قول نقل کر دیں جس سے صراحۃ، دلالۃ یا اشارۃً یہ ثابت ہوتا ہو کہ اس جگہ پر یہود کا حق باقی ہے ؟

قانونی اور اخلاقی حق میں فرق

آنجناب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ مسجدِ اقصی یہودیوں کے حوالے کی جائے ،کیونکہ دوسرے فریق کے احساسات اور جذبات کی رعایت رکھنا اخلاقیات کا اعلی اور بلند مقام ہے ۔ 

آنجناب کے اس ’’شگوفے ‘‘ پر ہم تبصرہ نہیں کرتے ،کیونکہ اس کی زد میں حضرت عمرؓ سے لیکر عصرِ حاضر تک پوری امتِ مسلمہ آتی ہے۔کہ چودہ صدیوں میں حضرت عمرؓ سمیت اس ’’خیر امت ‘‘ میں کوئی ایک ایسا شخص پیدا نہیں ہو ا ،جو اعلی اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجدِ اقصی یہود کے حوالے کرتا ۔البتہ اس موقع پر آنجناب ’’یہود کی خیر خواہی ‘‘کے جذبے سے کچھ اتنا مغلوب ہوگئے ،کہ’’ جوش‘‘ میں آنجناب کے قلم سے یہ عبارت نکلی ،چنانچہ لکھتے ہیں :

’’اس لئے کسی گروہ کو ان کی عبادت گاہ میں جو اس کے روحانی اور قلبی جذبات کا مرکز ہے ،عبادت کرنے سے نہ روکا جائے ،بالخصوص جبکہ وہاں سے اس کی بے دخلی ’’ظلماًو قہراً‘‘اور ’’مذہبی و اخلاقی اصولوں کی پامالی ‘‘ کے نتیجے میں عمل میں آئی ہو‘‘۔

آنجناب بتائیں کہ یہود کو اپنی عبادت گاہ سے بے دخل کس نے کیا ؟کیا اللہ تعالی جس قوم کو کسی عبادت گاہ سے بے دخل کردے اسے ظلم کہا جا سکتا ہے ؟اور کیا اس بے دخلی کو مذہبی و اخلاقی اصولوں کی پا مالی کہنا درست ہے؟آنجناب ’’توجیہ ‘‘ کریں گے کہ میں نے بخت نصر اور دوسرے فاتحین کے افعال کو ظلم کہا ،لیکن یہاں تو آنجناب نے ان فاتحین کے افعال اور مظالم کو ظلم کہنے کی بجائے یہود کی بے دخلی کو ظلم کہا ،حا لانکہ ان کی اس مقدس مقام سے بے دخلی ظلم نہیں ،بلکہ عینِ انصاف کا تقاضا تھا ،کیونکہ اس بے دخلی کو اللہ تعالی نے سورہ بنی اسرائیل میں اپنا فیصلہ قرار دیا ہے ،کہ یہود کو ان کے برے افعال کی بنا پر ہم نے انہیں اس مقام سے نکال دیا ۔آنجناب سے گزارش ہے کہ وہ یا تو اس عبارت پر نظر ثانی فرمائیں یا اس کی مناسب توجیہ سے قارئین کو آگاہ فرمائیں۔

مذکورہ تحریرات پر ایک اجمالی نظر 

جناب عمار صاحب کے لکھے گئے ہر دو مضامین کا تفصیلی جائزہ قارئین کے سامنے آچکا ہے ،اب قارئین فیصلہ کریں کہ آنجناب کے اس ’’موقف ‘‘ میں استدلال کی کتنی ’’مضبوطی ‘‘ ہے، ان تحریرات میں آنجناب نے تاویل اور توجیہ کی کیسی ’’عمدہ ‘‘مثالیں قائم کی ہیں اور اس ’’غیر جانبدارانہ تحقیق ‘‘ میں آنجناب نے کتنی ’’جانبداری ‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے ۔یہ تفصیلی جائزہ سردست ہم نے صرف آنجناب کے اہم ’’مزعومہ شرعی دلائل ‘‘ پر’’ نقد‘‘ تک محدود رکھا اور اس حوالے سے آنجناب نے جو مزید ابحاث کی ہیں ، ان کوچھوڑ دیا۔اب ان مضامین کے بارے میں چند متفرق باتیں اجمالی جائزے کے عنوان سے پیشِ خدمت ہیں :

۱۔آنجناب نے مسجدِ اقصی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو عبادت گاہ تعمیر کی ،وہ ’’تاریخ ‘‘ میں ہیکلِ سلیمانی کے نام سے معروف ہے ۔آنجناب سے گزارش ہے کہ تاریخ سے کونسی تاریخ مراد ہے ؟اسلامی تاریخ میں تو اسے مسجدِ اقصی اور بیت المقدس کہا جاتا ہے ۔جبکہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں اسے ’’بیت یہوہ‘‘اور ’’بیت المقدس ‘‘ کہتے ہیں(۶۰)نیز آنجناب سے عرض ہے کہ ایک تو ’’ہیکل ‘‘ کی لغوی و تاریخی تحقیق سے ہمیں آگاہ کریں،دوسرا ہیکل کے ساتھ ’’سلیمانی ‘‘کا لفظ کیوں اور کیسے لگا اور کن قدیم مصادر میں یہ لفظ آیا ہے؟

۲۔آنجناب نے لکھا ہے کہ مسجدِ اقصی سے یہود کے حقِ تولیت کی منسوخی کا نظریہ مولانا امین احسن اصلاحی ،مولانا سید سلیمان ندوی اور قاری طیب صاحب ؒ نے اختیار کیا ہے اور یہ نظریہ ہماری تاریخ میں پہلے کسی نے ظاہر نہیں کیا ،تو گویا آنجناب کے نزدیک تاریخ میں یہود کے حقِ تولیت کی عدمِ نسخ کی شہادتیں موجود ہیں ،گزارش ہے کہ کوئی ایک حوالہ پیش فرمادیں ،جس میں تصریح ہو کہ یہود کا حق منسوخ نہیں ہوا۔تعجب ہے کہ جس نظریے پر امت چودہ سو سال سے متفق ہے ،آنجناب اس کو صرف تین علماء کی رائے کہہ رہے ہیں ۔نیز خود آنجناب نے اپنے موقف کو عام موقف سے بالکل مختلف موقف کہا ہے (۶۱)کیا صرف تین علماء کی رائے کو ’’عام موقف ‘‘کہنا درست ہے ؟اس کے علاوہ آنجناب نے یہود کے حق کی نفی والے موقف کو ’’امت مسلمہ کی نمائندگی کرنے والے کم و بیش تمام مقتدر اہلِ علم اور علمی سیاسی ادراوں‘‘ کاموقف کہا ہے ۔(۶۲)تعجب ہے کہ ایک طرف اسے صرف تین علماء کا موقف کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف اسے’’تمام مقتدر علماء‘‘ اور’’ عمومی نظریہ‘‘بھی کہتے ہیں !

۳۔آنجناب نے اس مضمون میں بھر پور کوشش کی ہے کہ مسجدِ اقصی کو صرف یہود کی ایک عبادت گاہ،مرکزِ عبادت اور قبلہ کے طور پر متعارف کروائے،چنانچہ لکھتے ہیں:

’’اس کے برعکس مسجدِ اقصی کی حیثیت محض بنی اسرائیل کے قومی قبلہ اور مرکزِ عبادت کی تھی‘‘

حالانکہ قرآن و حدیث کے مطابق اس کی’’ محض‘‘ یہ حیثیت بالکل نہیں ہے ۔ بخاری کی حدیث کے مطابق دنیا میں بیت اللہ کے چالیس سال بعد اس کی بنیاد رکھی گئی ،اس طرح سے اس کے بانی حضرت آدم علیہ السلام یاحضرت ابراہیم علیہ السلام قرار پاتے ہیں نیز ایک قول کے مطابق حضرت یعقوب علیہ السلام اس کے موسس ہیں ،جو بھی قول مان لیں (اگرچہ دلائل کے اعتبار سے پہلے دونوں قول اصح ترین ہیں ) اتنی بات تو ثابت ہوتی ہے ،اس عبادت گاہ کے ساتھ صرف یہود کا تعلق نہیں ہے ،کیونکہ یہود حضرت موسی علیہ السلام کی اتباع کا دعوی کرنے والوں کو کہتے ہیں اور یہ تینوں حضراتِ انبیاء حضرت موسی علیہ السلام سے قطعی طور پر پہلے مبعوث ہوئے تھے ۔یہود کو بھی یہ عبادت گاہ اس لئے ملی تھی کہ وہ زمانے کے اہلِ حق تھے اورمقدس مقامات کے بارے میں خداوندی اصول یہی ہے کہ وہ زمانے کے اہلِ حق کوملتے ہیں ۔

اب ظاہر ہے کہ اسے ایک مقدس مقام ماننے کی صورت میں بحث کا انداز اور ہوگا ،جبکہ اسے صرف اہلِ کتاب کی عبادت گاہ ماننے کی صورت میں بحث کا طرز مختلف ہوگا۔چونکہ دوسرا طرز(جو اصل میں یہودی مراجع کا طرز ہے)آنجناب کے ’’موقف ‘‘ کے لئے مفید تھا ،اس لئے آنجناب نے اس پر بہت زیادہ زور لگایااور مسجدِ اقصی کے دوسرے پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ آنجناب بار بار اہلِ کتاب کی عبادت گاہوں سے متعلقہ نصوص سے ذکر کرتے ہیں اور ان کے ’’عموم‘‘میں مسجدِ اقصی کو شامل کر کے بحث کی پوری عمارت کھڑی کر دیتے ہیں ۔

۴۔آنجناب نے یہ بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں نے اس کی تولیت امانتاًاٹھائی تھی ۔اتنے ’’بڑے دعوے‘‘ پر آنجناب نے کوئی ایک دلیل بھی نہیں دی ۔کیا کسی اور مذہب کی ’’عبادت گاہ‘‘کو امانتاًلینے کا تصور اور اس کے احکامات فقہ اسلامی میں ملتے ہیں؟نیز ہماری تاریخ میں کیامسجدِ اقصی کے علاوہ اور بھی کسی عبادت گاہ کو امانتاً تولیت میں لیا گیا؟یہود جب خود روئے زمین پر موجود تھے ،تو ان کی سب سے ’’مرکزی عبادت گاہ‘‘کو کیوں امانتاًلیا گیا ،جبکہ ان کی باقی عام عبادت گاہوں سے کسی حوالے سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا؟

۵۔آنجناب نے اس پوری بحث میں امتِ مسلمہ کے حقِ تولیت کے ’’دلائل ‘‘پر تو بے شمار ’’اعتراضات ‘‘کئے ، لیکن خود اپنے ’’مدعا‘‘کہ اس پر یہود کا مذہبی وتاریخی حق ہے اور ان کی تولیت بالکل منسوخ نہیں ہوئی،اس پر کوئی ایک دلیل بھی نہیں دی ۔آنجناب سے گزارش ہے کہ اپنے موقف پر قرآن پاک کی کوئی آیت،کسی حدیث کا حوالہ ؛کسی فقہی کتاب سے اقتباس یا کسی ایک عالم کا کوئی قول پیش فرمادیں،تا کہ ہمیں اندازہ ہو کہ آنجناب کے دلائل کتنے قوی ہیں ؟فریق مخالف کے استدلالات پر نقد سے تو مسئلے کا اثبات نہیں ہوتا ،جب تک اپنے دلائل پیش نہ کئے جائیں۔

۶۔آنجناب نے اس مضمون کے آخر میں اس موضوع پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کے فقدان کا بھی شکوہ کیا ہے ،لیکن کیاآنجناب کی تحقیق غیر جانبدارانہ ہے؟کیا یہ انصاف ہے کہ اگر کوئی محقق اس پر امتِ مسلمہ کا حقِ تولیت ثابت کرے تو آنجناب کی نظر میں وہ ’’جانبدارانہ تحقیق ‘‘ ہے اور اگر خود یہود کو اس کا حق دار ٹھہرائیں ،تو وہ ایک ’’غیر جانبدارانہ تحقیق‘‘ ہے؟کیا صرف ایک فریق کے ماخذ سے تعارف،تاریخ وغیرہ نقل کر کے دوسرے فریق کے دلائل پر ’’محض نقد کرنا ‘‘غیر جانبدارانہ رویہ ہے ؟آنجناب کا فرض بنتا تھا کہ امت مسلمہ کے بالغ نظر محقیقین نے یہود کے مذکورہ دعاوی پر جو تعقبات کئے ہیں ،ان کو بھی ذکر کرتے ،پھر موازنہ کر کے کوئی فیصلہ کرتے،لیکن آنجناب نے اس قسم کی تمام تحقیقات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔پوری امت کو ’’انصاف و اخلاق کی تاکید کرنے والا‘‘خود اتنی بڑی ناانصافی کرے گا ،اس کی توقع نہیں تھی۔

۷۔آنجناب نے اس پورے مضمون میں اس بات پر تو خوب زور لگایا کہ امتِ مسلمہ استحقاق کی نفسیات سے مغلوب ہوگئی ہے،تاریخی حوادث کے نتیجے میں مسجدِ اقصی کو سنبھالنے کے نتیجے میں اب انہوں نے مستقل طور پر یہودیوں کے اس حق کو غصب کیا ،فریقِ مخالف کی مرکزی عباد ت گاہ پر یوں قبضہ کرلینا اعلی اخلاق کے منافی ہے ،لیکن اس پورے مضمون میں کسی جگہ اشارۃً تک اس کا ذکر نہیں کیا کہ یہود نے اپنا ’’مزعومہ حق ‘‘لینے کے لئے فلسطین کے مسلمانوں پر کیا دردناک مظالم ڈھائے؟ہزاروں فلسطینیوں کو بلا کسی جرم کے کس طرح بے دردی سے شیہد کیا؟اپنے مزعومہ حق کو لینے کے لئے کونسے غیر اخلاقی اور غیر انسانی کام کئے؟بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا مخالفت کر کے فلسطینیوں کے ساتھ کون سا سلوک روا رکھا؟آنجناب نے امتِ مسلمہ کی ’’بداخلاقی ‘‘ کا تو شکوہ کیا ،لیکن یہود کے مظالم سے چشم پوشی اختیار کی ۔ گزشتہ نصف صدی سے اسرائیل نے تمام بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ انسانی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر تے ہوئے مظلوم و نہتے فلسطینیوں پر جو ظلم کشی روا رکھی ہے ،کاش اس ’’غیر جانبدارانہ تحقیق ‘‘میں اس کا بھی کچھ ذکر آجاتااور آنجناب امتِ مسلمہ کے ساتھ یہود کو بھی کچھ اخلاق کی تلقین فرمادیتے۔آنجناب نے ’’مسجدِ اقصی میں سلسلہ عبادات کے احیا ء کے حوالے سے یہود کے سینوں میں صدیوں کی تڑپ‘‘تومحسوس کر لی ،لیکن مظلوم فلسطینیوں کی دلدوز چیخیں آنجناب کے کانوں تک نہیں پہنچ سکیں(واوین کے الفاظ مذکورہ مضمون سے لئے گئے)

۸۔آنجناب نے اس مضمون میں عرب علماء کے اس موقف پر بھی کڑی تنقید کی ہے ،جو ہیکلِ سلیمانی کے وجود سے انکار کرتے ہیں ۔آنجناب نے اس موقف کو ’’کتمانِ حق‘‘اور ’’تکذیبِ آیات اللہ ‘‘سے تعبیر کیا،ہم آنجناب سے پوچھتے ہیں ،کہ یہاں پر ’’حق ‘‘اور ’’آیات اللہ‘‘سے آنجناب کیا مراد لیتے ہیں ؟اگر اس سے قرآن و حدیث کے نصوص مرادہیں ،اور ایک مسلمان کے شایانِ شان بھی یہی ہے کہ اس کے نزدیک حق اور آیات اللہ سے قرآن و حدیث مراد ہوں ،تو کس نص میں یہ بات آئی ہے کہ یہودی جس ہیکل کا دعوی کرتے ہیں ،اس سے مراد مسجدِ اقصی ہے؟مسجدِ اقصی کے بارے میں جو تفصیلات نصوص میں آئی ہیں ،ان کے مطابق یہ مسجد ،بیت اللہ کے بعد دنیا کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے بیت اللہ کے چالیس سال بعد اس کی تعمیر ہوئی ،اس طرح سے اس کے موسس اول حضرت آدم علیہ السلام ،یا حضرت ابراہیم علیہ السلام یا حضرت یعقوب علیہ السلام قرار پاتے ہیں ،اور پھر سلیمان علیہ السلام نے اس کی تجدید کی اور اسے دوبارہ تعمیر کیا ،حضرت زکریا علیہ السلام ،حضرت یحییٰ علیہ السلام ،حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام اسی کو اپنی عبادت کا مرکز بنایا(یاد رہے یہ سارے پیغمبر وہ ہیں جنہوں نے یہود کے ہاتھوں سخت تکالیف اٹھائیں اور بعض کو یہود نے بے دردی سے شہید کیا )اورآخر میں آپﷺ نے اسراء کے موقع پر اس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔

جبکہ ہیکلِ سلیمانی اور اس کے بانی حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں اسفارِ یہو د اور ان کی دیگر کتب میں یہ تفصیلات ہیں :

۱۔ سلیمان علیہ السلام کے بارے میں صحفِ یہود میں متعارض روایتیں ہیں،اکثر کے ہاں آپ پیغمبر کی بجائے ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

۲۔آپ نے اس وقت کے فرعون کی بیٹی سے نکاح کیا اور آپ کی بہت ساری بیبیاں تھیں ،ان میں سے کچھ مشرک تھیں اور ان کی وجہ سے آپ بھی نعوذ باللہ شرک کی طرف مائل تھے۔

۳۔آپ نے سات سال کے عرصے میں ایک عظیم الشان عبادت گاہ تعمیر کی ،اور آپ ہی اس کے بانی و موسس ہیںآپ سے پہلے اس کا نام و نشان تک نہیں تھا،اس عبادت گاہ کے رقبے ،حجم،اس میں استعمال ہونے والے سامان اور اس کی دیگر تفصیلات کے بارے میں بیشمار متعارض روایتں ان کی صحف میں بکھری ہوئی ہیں ،جن میں تطبیق کسی طرح ممکن نہیں ہے۔

۴ ۔یہ ہیکل کس جگہ پر بنایا گیا، اس بارے میں ان کے صحف میں چھ روایتیں ہیں ۔

۵۔فلسطین میں کس جگہ پر اس کی تعمیر ہوئی ،اس بارے میں پانچ روایتیں ہیں ،جن میں سے ایک روایت موجودہ مسجدِ اقصی کے عین نیچے کی ہے ۔

۶۔یہ عبادت گاہ ہمیشہ سے یہود کا مرکز رہا ہے (یاد رہے اگر دونوں کو ایک مان لیں تو لازم آئے گاکہ اس مرکز کو ان کے دشمن انبیاء یعنی حضرت زکریا،حضرت یحیی،اور حضرت عیسی و ان کی والدہ ، نے بھی ’’مرکزِ عبادت ‘‘ بنایا تھا ،آنجناب ان دونوں باتوں کی تطبیق فرمائیں)

۷۔اس عبادت گاہ کی تیسری مرتبہ تعمیر ہوگی ،اور اس کی تعمیرہوتے ہی یہود کی نشاۃ ثانیہ کا آغازہو جائیگا۔(اور مسجدِ اقصی تو کب سے تعمیر ہے ،تو ان کی نشاۃثانیہ کیوں نہیں ہورہی ہے،نیز جب وہ پہلے سے تعمیر ہے تو دوبارہ تعمیر کا کیا مطلب؟آنجناب سے ان کے جوابات مطلوب ہیں ،کیونکہ آنجناب مسجدِ اقصی اور مزعومہ ہیکل کو ایک قرار دیتے ہیں )

۸۔اس کے مقام کے بارے میں چونکہ متعارض روایتیں ہیں ،اس لئے یہود اپنے تمام وسائل کے ساتھ جدید ترین مشنریوں اور ماہرین کے ساتھ اس کے آثار ڈھونڈ رہے ہیں (اگر جگہ متعین ہوتی تو آثار ڈھونڈنے کا کیا مطلب؟ آنجناب سے سوال ہے )

۹۔اس تلاش میں انہوں نے مختلف طریقوں سے مسجدِ اقصی کے نیچے بھی مختلف تحقیقات کی ہیں ۔

۱۰۔ان تمام تحقیقات میں اب تک مسجدِ اقصی اور اس کے گرد اب تک ایک نشان اور کسی قسم کی کوئی تائید نہیں مل سکی اور اس کا اقرارمتعدد یہودی اور امریکی ماہرین کر چکے ہیں ،یہاں تک کہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔

ہیکلِ سلیمانی کے بارے میں ان تفصیلات کو دیکھتے ہوئے کیا یہ موقف زیادہ درست ہے ،کہ ہیکل اور مسجدِ اقصی دونوں ایک عبادت گاہ کے نام ہیں ،یا یہ موقف زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے ،کہ دونوں مختلف عمارتوں کے نام ہیں؟ فیصلہ آنجناب فرمائیں ۔

اب جن عرب علماء نے مذکورہ بالا حقائق کے نتیجے میں یہ بات کہی ہے کہ ہیکل کا وجود محض انکا مفروضہ ہے ،خصوصاً مسجدِ اقصی کے نیچے تو اس کا وجود تو کا فی محلِ نظر ہے ،تو اس میں کونسے حق کا کتمان اور کونسی آیتوں کی تکذیب لازم آتی ہے؟ مذکورہ تفاصیل کی بنا پر تو دونوں کے ایک ہونے کا نظریہ کتمانِ حق اور تکذیب آیات اللہ کے زیادہ قریب نظر آتا ہے، کیونکہ ہیکل کے بارے میں یہود کے محرف صحف میں منقول تفصیلات اور مسجدِ اقصی کے بارے میں نصوص میں واضح تباین ہے اور دونوں کو ایک ماننے سے متعدد اشکالات اور تضادات کا لزوم ہوتا ہے ،جبکہ الگ الگ ماننے سے کوئی ایک اشکال لازم نہیں آتا۔ سمجھ نہیں آتا کہ آنجناب نے ہیکل کے بارے میں مکمل تفصیلات کا مطالعہ کیے بغیر عالمِ اسلام کے چوٹی کے محققین پر آیات اللہ کی تکذیب جیسا سخت ’’فتوی ‘‘ کیونکر لگایا؟جس کو دوسرے لفظوں میں ’کفر کا فتوی ‘‘ کہہ سکتے ہیں،کیونکہ آیات اللہ کی تکذیب کا دوسرا نام کفر ہے۔ علمی و تاریخی بحث پر ’’کفر کا فتوی ‘‘لگانا کیا ’’متوازن و معتدل رویہ ‘‘ہے؟(۶۳)

۹۔آنجناب کے اس مضمون میں ایک ’’المیہ ‘‘یہ بھی ہے کہ آنجناب یہود کے ’’دعاوی‘‘اور ’’مطالبات‘‘کو ’’تاریخی حقیقت‘‘اور ’’مسلمہ تحقیق‘‘تسلیم کر کے امتِ مسلمہ کی اخلاقی و علمی حیثیت پر ماتم شروع کر دیتے ہیں ۔چنانچہ مسجدِ اقصی کے بارے میں تھوڑی سی معلومات رکھنے والے کے علم میں بھی یہ بات ہے ،کہ دیوارِ براق ،جسے یہود دیوارِ گریہ کہتے ہیں ،کا پس منظر کیا ہے ،ہم پہلے اس دیوار اوراس کے بارے میں پیدا شدہ تنازع کے حوالے سے کچھ مختصراً عرض کرتے ہیں ،پھر اس بارے میں آنجناب کی ’’تحقیق ‘‘پر ایک نظر ڈالتے ہیں :

آپﷺ نے معراج کے موقع پر بیت المقدس تک سفر براق پر کیا اور جب مسجدِ اقصی میں آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے انبیاء کرام کو نماز پڑھائی، تو صحیح مسلم کی روایت (۶۴)کے مطابق آپﷺ نے براق ایک حلقے کے ساتھ باندھا،امام نووی نے حلقے کی تشریح دروازے کے حلقے سے کی ہے کہ مسجدِ اقصی کے کسی دروازے کے حلقے سے براق آپﷺ نے باندھا ،علامہ مجیری ؒ نے الانس الجلیل میں مسجدِ اقصی کے مختلف دروازوں کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جس دروازے کے حلقے سے براق باندھا گیا ،اس کا نام باب الجنائز اور باب الا سباط ہے(۶۵)اور مزید یہ لکھا ہے کہ یہ دروازہ مسجدِ اقصی کی مغربی جانب میں ہے اور اسی مناسبت سے اسے ’’باب المغاربہ ‘‘بھی کہتے ہیں(۶۶)اس طرح سے مسجدِ اقصی کی مغربی جانب کے بارے میںیہ بات اسلامی تاریخ میں طے تھی کہ اس میں وہ حلقہ بھی تھا ،جس سے براق باندھا گیا،اور اسی کی یاد میں مسجدِ اقصی کی مغربی جانب میں ایک مسجد ’’مسجدِ براق ‘‘کے نام سے امویوں کے دور میں تعمیر کی گئی ،اور بعد میں مختلف ادورا میں اس مسجد کی تجدید بھی ہوتی گئی (۶۷)پھر سقوط ہسپانیہ کے بعد جب اسپین میں عیسائیوں کی حکومت آئی ،تو انہوں نے سارے یہودیوں کو اسپین سے جلا وطن کر دیا ،اس وقت کے مشہور عثمانی خلیفہ سلیمان قانونی نے یہود کو پناہ دی اور انہیں مسجدِ اقصی کی مغربی دیوار کے ساتھ ایک جگہ دی اور انہیں یہاں اپنی عبادات اور دینی مشاغل کی اجازت دی ،لیکن چونکہ دھوکہ و فراڈ اس قوم کی سرشت میں داخل ہے ،اس لئے انہوں نے آہستہ آہستہ یہ بات مشہور کردی ،کہ جس دیوار کے ساتھ ہم عبادت کر رہے ہیں ،یہ اصل میں مفروضہ ہیکل کی وہ دیوار ہے جو محفوظ رہ گئی ہے۔ ابتدا میں تو مسلمانوں نے اپنی روایتی تسامح کی بنا پر اس بات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا ،لیکن جب یہود کی چیرہ دستیاں حد سے بڑھ گئیں ،تومسلمانوں کا اشتعال میں آنا ایک لازمی بات تھی ،اس طرح سے اس بات نے ایک سنگین تنازع کی حیثیت اختیار کرلی۔ آخرکار ۱۹۳۰ء  میں اس تنازع کو حل کرنے کے لئے برطانوی حکومت نے ایک کمیشن تشکیل دیا جس میں دونوں فریقوں کے منتخب نمائندوں کے علاوہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین شامل تھے۔ اس کمیشن نے کئی دن فریقین کا موقف سنااور اپنے ذرائع سے تحقیقات کیں اور آخر میں اس نے دیوار سے متعلق ان الفاظ میں فیصلہ سنایا:

’’مغربی دیوار کی ملکیت صرف مسلمانوں کی ہے، کیونکہ یہ بھی بقیہ دیواروں کی طرح مسجدِ اقصی کی ایک دیوار ہے اور مسجد کے باقی حصوں کی طرح وقف مال ہے ،نیز اس دیوار کے سامنے کا پورا حصہ بھی مسلم وقف میں شامل ہے۔‘‘(۶۸)

لیکن یہود نے متفقہ کمیشن کا یہ فیصلہ بھی نہیں مانا اور آج تک اپنے اس ’’باطل موقف ‘‘پر قائم ہیں ۔اس کے علاوہ اس موقف کے بطلان پر مزید شواہد بھی ہیں :

۱۔پورے اسلامی ذخیرے میں یہ بات کسی جگہ نہیں ملتی کہ مسجدِ اقصی کی یہ دیوار زمانہ اسلام سے پہلے کی ہے ،اور اس کی پرنی تعمیرات میں سے ہے ،حالانکہ اگر واقعی یہ دیوار اسلامی تعمیر سے پہلے بھی قائم تھی ،تو اس کا ذکر اسلامی ماخذ میں واضح طور پر ہونا چاہئے تھا۔

۲۔سلیمان قانونی کے زمانے سے پہلے تاریخ میں یہ بات ثابت نہیں ہے ،کہ کبھی یہودیوں نے اس جگہ پر باقاعدہ عبادت کا اہتمام کیا ہو۔

۳۔یہودیوں کے پرانے ماخذ میں دیوارِ گریہ یا حائط المبکی کے نام سے کسی دیوار کا ذکر نہیں ملتا ،حالانکہ اگر واقعی یہ مفروضہ ہیکل کی باقیات ہوتی ،تو ان کے ہیکل کی اہمیت کی بنا پر اس کا ذکر سرِ فہرست ہونا چاہئے تھا۔

۴۔خود یہود کے انصاف پسند محققین نے اس کا اعتراف کیا ہے ،کہ جب پرانے اور بنیادی ماخذ میں یہ بات نہیں ملتی ،تو یہ دعوی محلِ نظر ہے ۔

۵۔آج تک آثارِ قدیمہ کی تحقیق میں یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ یہ دیوار مفروضہ ہیکل کی باقیات میں سے ہے۔ (۶۹)

آنجناب کی رائے

آنجناب نے اپنے مضمون میں اس پر یہ خامہ فرسائی کی ہے :

۱۔آنجناب نے ایک تو تاریخ بیان کرتے ہوئے بلا کسی حوالہ کے یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی ،کہ اس کی مغربی دیوار بالکل محفوظ رہ گئی اور اس حوالے سے مذکور ہ مباحث اور اس کے حوالے سے مشہور تنازع کا اشارۃً تک ذکر نہیں کیا ،یقیناً یہ آنجناب کی ’’دیانت ‘‘اور ’’غیر جانبداری ‘‘کی ’’اعلی مثال ‘‘ ہے۔ (براہین ص۲۴۲)

۲۔آنجناب نے مزید لکھا ہے کہ عرب علماء کا اس کو دیوار براق کہنا اور اس بات کا انکار کرنا کہ یہ ہیکل کی باقیات میں ہے، یہ ایک ایسا موقف اور رویہ ہے ،کہ اس کی علمی اور اخلاقی حیثیت ناقابلِ فہم ہے اور یہ امتِ مسلمہ کی اخلاقی حیثیت پر بہت بڑا سوال ہے کہ وہ ایک متفقہ بات کا انکار کر ہے ہیں (اب قارئین انصاف کریں کہ اس حوالے سے یہودیوں کا موقف ناقابلِ فہم ہے یا امتِ مسلمہ کا ،نیزآنجناب کا یہود کے موقف کو متفقہ کہنا، کس قدر حقائق کو چھپانے اور یہود کی بے جا وکالت کرنے کی دلیل ہے ۔آنجناب سے سوال ہے کہ ایک متنازعہ مسئلے کو متفقہ ظاہر کرنے کی اخلاقی و علمی حیثیت کتنی ناقابلِ فہم ہے ؟)

۳۔آنجناب نے یہ بات بھی لکھی ہے کہ بیسویں صدی سے پہلے اس بنیاد پر اس دیوار کے تقدس کا کوئی تصور مسلمانوں کے ہاں نہیں پایا جاتا تھا کہ یہاں آپﷺ نے براق باندھا تھا (اس سے پہلے الانس الجلیل کے حوالے سے یہ بات گزر چکی ہے کہ انہوں نے مغربی جانب کو براق کے باندھنے کی جگہ قرار دیا ہے ،اب اسے عمار صاحب کا تجاہلِ عارفانہ کہیں یا اسلامی ماخذ سے بے خبری ،نیز اس جانب میں مسجدِ براق تعمیر کرنے کی بات بھی گزر چکی ہے ،اب قارئین ہی آنجناب کی اس ’’عمدہ تحقیق‘‘پر کوئی تبصرہ کریں ۔)

۴۔آنجناب نے ایک بے بنیاد بات یہ بھی کہی ہے کہ اس دیوار کی دریافت کا سہرا عثمانی خلیفہ سلطان سلیم کے سر ہے کہ انہوں نے سولہویں صدی میں ملبے کے نیچے سے اسے دریافت کیا (اب آنجناب سے کون پوچھے کہ جب آ پ کے بقول یہ ہیکل کی باقیات میں سے ہے ،تو یہودیوں کو پندرہ صدیوں تک اس کا علم کیوں نہیں ہو سکا؟نیز کیا یہ صدیوں پرانی دیوار ملبے کے ہٹانے سے ہی برآمد ہوگئی اور اس موقع پر سلطان سلیم نے بھی اس کو ہیکل کی باقیات تسلیم کیا؟اس کے دریافت والی بات کس معتبر تاریخ میں لکھی ہے ؟آنجناب نے اس کے لئے مودودی صاحب کی ایک تقریر کا حوالہ دیا ،کیا اتنی بڑی اور تاریخی تحقیق کے لئے صرف تقریر کا حوالہ کافی ہے؟

۱۰۔آنجناب نے اس مضمون میں مکمل طور پر یہود کے موقف کی وکالت کی ہے ،اس طرح سے اسے ایک غیر جانبدارانہ تحقیق کہنا محلِ نظر ہے ،حا لانکہ آنجناب نے اپنے مضمون کو تعصبات و جذبات سے بالاتر تجزیہ کہا ہے ۔آنجناب کا ’’اخلاقی فرض ‘‘بنتا تھا کہ جب آنجناب کے نزدیک یہود کا موقف درست ہے اور آنجناب انہیں کے لئے اس مضمون میں مواد اکٹھا کر رہے تھے تو اسے غیر جانبدارانہ تحقیق کہنے سے گریز کرتے۔

۱۱۔آنجناب نے اس مضمون میں بار بار امتِ مسلمہ کی اخلاقی کمزوری کا رونا تو رویا ،لیکن اس پہلو کا ذکر نہیں کیا کہ امتِ مسلمہ نے انبیاء کے اس مقدس مقام کا کس طرح غیر جانبداری سے کما حقہ تحفظ کیا،اس کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں دیں اور آج تک دے رہے ہیں اور محض یہود کے بغض میں آکر اس مقدس مقام کا تقدس پامال نہیں کیا۔یہ یقیناً اس امت کی وہ اخلاقی فتح ہے جو اس سے پہلے یہود و نصاری کی پوری تاریخ میں معدوم ہے ،کہ ان دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کا کیا حشر کیا۔

۱۲۔آنجناب نے اس پورے مضمون میںیہود کی مظلومیت اور ان کی بے چارگی کا عنصر تو خوب نمایاں ہے،لیکن اس میں ان کی کرتوتوں ،انبیاء ساتھ اس قوم کے ناروا سلوک ،نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف ان کی گھناونی سازشوں اور اللہ کی نظر میں اس قوم کی حیثیت اور مقام کا بالکل ذکر نہیں کیا ،آنجناب کا یہ طرز انتہائی قابلِ افسوس ہے ۔

۱۳۔آنجناب نے اس مضمون میں انصاف کی بہت تلقین کی ہے ،لیکن خود نصوص اور تاریخی واقعات میں جو واضح ناانصافیاں کی ہیں (جن میں سے کچھ کا ذکر اس مضمون میں آچکا) جو دور دراز کی بے جا تاویلات کی ہیں اور ’’یحرفون الکلم عن مواضعہ‘‘ کا جو مظاہرہ کیا ہے ،کیا وہ انصاف کے زمرے میں آتا ہے ؟ 

۱۴۔آنجناب نے اس مضمون میں مسجدِ اقصی کی تولیت پر تو ’’پر زور بحثیں ‘‘کی ہیں ،لیکن اسرائیل کے ناجائز وجود اور ایک قوم کو زبردستی جلاوطن کر کے ان کی سرزمین پر بلا جواز قبضہ پر کسی قسم کے تبصرے سے ’’گریز‘‘کیا ہے ۔حالانکہ ان دونوں مسئلوں میں کافی مضبوط ربط واور گہرا تعلق ہے ۔

آخری گزارش ،کرنے کا اصل کام 

علمی و فکری مسائل پر تحقیق کرنا اور کسی مسئلے کے تمام جوانب و پہلو ؤ ں پر بحث کرنا یقیناًایک مستحسن امر ہے ،لیکن کسی بھی علمی و فکری مسئلے پر بحث سے پہلے اپنے گرد و پیش کے ماحول اور خارجی احوال کو پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہو تاہے اور یہ بھی دیکھنا بہت ضروری ہے کہ اس ’’تحقیق ‘‘ کے اظہار میں نفع و نقصان کا تناسب کیا ہے ؟خصوصاً امتِ مسلمہ آج داخلی اعتبار سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہے ،اس پر مستزاد مغربی دنیا نے عسکری،سیاسی ،اور فکری و ثقافتی طور پر پوری امت پر یلغار کر رکھی ہے ۔ ان حالات میں کیا یہ مناسب ہے کہ امتِ مسلمہ کے متفقہ مسائل کو ’’تحقیق ‘‘کے نام پر از سر نو چھیڑا جائے ،اسلاف کے فہمِ دین اور ان پر قائم اعتماد کی اس مبارک فصیل میں دراڑیں ڈالی جائیں اور امت کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر مفکرین کو ایک لا یعنی بحث میں الجھایا جائے؟پہلے سے فرقوں ،جماعتوں اور گروہوں میں بٹی امت کو مزید تقسیم کرنے کا ’’سنہرا کارنامہ ‘‘سر انجام دیا جائے ۔

اس دور میں یہ ’’کمال ‘‘کی بات نہیں ہے کہ ’’محقق‘‘بن کر جمہور امت سے ہر مسئلے میں اختلاف کو اپنا وطیرہ بنا لیا جائے، کیو نکہ اب ان ’’شواذ ‘‘آراء کے بارے میں پچھلی دو صدیوں میں کثرت سے ’’مواد‘‘‘ متجدیدین اور مستشرقین تیار کر چکے ہیں تو اسی مواد کی جگالی کرنا اسلام کی کونسی خدمت ہے؟اور اسی مواد کو دوبارہ نئے انداز میں پیش کرنا کونسی ’’تحقیق‘‘ ہے ؟جناب عمار صاحب سے مقتدر علمی حلقوں کو یہی گلہ ہے کہ آنجناب کی ہر تحریر منفی و تنقیدی مواد پر مشتمل ہوتی ہے اور تعمیری پہلو کی بجائے اس میں تخریب کا عنصر نمایاں ہوتا ہے ۔اس لئے آنجناب سے گزارش ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو ان لایعنی اور لا حاصل بحثوں پر صرف کرنے کی بجائے عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کے حقیقی مسائل کو حل کرنے پر صرف کرے۔امتِ مسلمہ مغرب کا مقابلہ کیسے کرے ؟مغرب کی فکری یلغار کو کیسے روکے ؟امتِ مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کا ایمان شریعت کی ابدیت و کاملیت سے تقریباً اٹھ چکا ہے اور یہ طبقہ مکمل طور پر لبرل بن چکاہے ،اس طبقے کو دوبارہ’’ اسلام‘‘ کے قریب کیسے لایا جائے ؟دنیاوی تعلیم کے اعتبار سے کالجو ں اور یونیورسٹیوں میں جو مسترد شدہ اور مغرب سے مرعوب کرنے والا نصاب پڑھایا جا رہا ہے ،اس کی اصلاح کیسے کی جائے ؟خود علماء اور دینی طبقات اس بات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ وہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید نصاب کا خاکہ تیار کریں ،اس میں صاحبِ صلا حیت افراد کی ضرورت ہے کہ وہ اس میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے ۔امتِ مسلمہ کو دوبارہ عروج دلانے کی ان’’ مثبت کوششوں‘‘ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے ۔کاش آنجناب کے قلم سے ان مثبت و تعمیری موضوعات پر بھی ’’تحقیق ‘‘ نکلے۔

آخر میں آنجناب سے گزارش ہے کہ اس پورے مضمون میں کوئی واقعی کمزوری آنجناب کو نظر آئے، تو ہمیں اس پر مطلع فرمائیں ،ہم آنجناب کے ممنون ہوں گے اور اسے کھلے دل سے تسلیم بھی کریں گے اور ساتھ یہ عرض ہے کہ اگر ہمارا تبصرہ آنجناب کے دل کو لگے ،تو اپنی اجتہادی خطا کو تسلیم کریں ،کیونکہ اجتہاد کی غلطی واضح ہوجانے کے بعد اس پر ڈٹے رہنا اہلِ علم کے شایانِ شان نہیں ہے ۔اللہ تعا لی ہم سب کو اپنے دین کی صحیح خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید الرسلینﷺ۔


حوالہ جات

۴۰۔روح المعانی ،۹؍ ۲۰۲

۴۱۔ابنِ کثیر ،۷؍۱۵۸

۴۲۔المدخل الی دراسۃ المسجد الا قصی ص۳۱

۴۳۔سنن نسائی ،فضل المسجد الاقصی ،رقم الحدیث ۶۹۲

۴۴۔نسائی ،فرض الصلاۃ،رقم الحدیث۴۴۹

۴۵۔بخاری، حدیث الاسراء ،رقم الحدیث ۳۸۸۶

۴۶۔ابو داؤد ،ص۳۷۱

۴۷۔ابنِ ماجہ ،۲؍۹۹۸

۴۸۔ترمذی ،مثل الصلوۃوالصیام والصدقۃ،رقم الحدیث۲۸۶۳

۴۹۔ترمذی ،کتا ب التفسیر ،رقم ۳۱۴۷

۵۰۔تفسیرِ کبیر،۲۰؍۱۴۷

۵۱۔روح المعانی ،۱۵؍۹

۵۲۔ابن کثیر ،۸؍۳۷۳

۵۳۔مسند احمد ،۳۲؍۳۴۹

۵۴۔ایضاً

۵۵۔ابو داؤد ،باب فی اماراتِ الملاحم،۴۲۹۴

۵۶۔مسندِ احمد ،۳۶؍۶۵۷

۵۷۔ایضاً

۵۸۔تاویلات ،۵؍۳۱۷

۵۹۔البدایہ و النہایہ ،۹؍۶۵۵

۶۰۔المدخل الی دراسۃ المسجد لاقصی ص۱۴۰

۶۱۔ملاحظہ ہو ،آنجناب کا مضمون :مسجدِ اقصی ،یہود اور امتِ مسلمہ تنقیدی آراء کا جائزہ ص۱

۶۲۔براہین ص۲۳۳

۶۳۔ان تمام نکات کے لئے ملاحظہ ہو:

۱۔ نقض المزاعم الیہودیہ فی الہیکل السلیمانی از ڈاکٹر صالح راقب

۲۔المسجد الاقصی و الہیکل الثالث ،تاریخ،عمارہ ،ادعاء ات ازمصطفی احمد

۳۔الہیکل المزعوم بین الوہم و الحقیقۃاز ڈاکٹر عبدالقاسم فرا

۴۔http://www.almoslim.net/node/109235

۵۔http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=53612

۶۔http://www.ahewar.org/debat/show.art.asp?aid=105719

۷۔http://www.almoslim.net/node/10923

۸۔ہیکل السلیمان و عبادۃ اشیطان

۶۴۔صحیح مسلم،باب الاسراء ،رقم الحدیث ۱۶۲

۶۵۔الانس الجلیل،۲؍۲۶

۶۶۔ایضاً،۲؍۲۸

۶۷۔بیت المقدس اور اس کے مضافات ص۶۱

۶۸۔ حائط البراق ام الحائط المبکی از ڈاکٹر غنیم حسن 

۶۹۔ حائط براق کے بارے میں ملاحظہ ہو:

۱۔ ڈاکٹر غنیم حسن کا مذکورہ تحقیقی مقالہ 

۲۔ حائط البراق وکی پیڈیا ،

۳۔ http://forum.sh3bwah.maktoob.com/t448675.html

۴۔ http://forum.sh3bwah.maktoob.com/t448675.html

آراء و افکار

اکتوبر ۲۰۱۴ء

جلد ۲۵ ۔ شمارہ ۱۰

’’دہشت گرد‘‘ کا موقف اس کی زبانی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دستور پاکستان اور عالمی لابیاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی ممالک میں مذہبی انتہا پسندی: اسباب اور حل
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

ڈاکٹر محمد شکیل اوج شہید
خورشید احمد ندیم

علماء دیوبند کا اجتماعی مزاج اور فکری رواداری
حافظ خرم شہزاد

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۲)
مولانا سمیع اللہ سعدی

قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)
مولانا محمد عبد اللہ شارق

تحریک انسداد سود کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا مسعود بیگ اور ڈاکٹر شکیل اوج کا المناک قتل
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

علماء دیوبند ۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کا مکتوب
ادارہ

الشریعہ اکادمی میں علمی و فکری نشستیں
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

انسانی صحت کے لیے حرارت کی اہمیت
حکیم محمد عمران مغل