بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر (۲)

مولانا مفتی محمد زاہد

بر صغیر میں فرقہ وارانہ تقسیم کا ایک اہم زاویہ حنفی اور اہلِ حدیث تقسیم ہے۔ اگرچہ دونوں طرف کے حضرات کے درمیان مناظرہ بازی اور کبھی کبھار دشنام بازی بھی ہوتی رہی ہے، لیکن دونوں طرف کے سنجیدہ اور راسخ علم رکھنے والی شخصیات نے ہمیشہ نہ صرف یہ کہ اس اختلاف کو اپنی حدود میں رکھنے کی کوشش کی بلکہ ایک دوسرے کے احترام کی مثالیں بھی قائم کیں۔ اس سلسلے میں چند واقعات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

حنفی، اہلِ حدیث اختلاف کا ایک اثر جو دینی مدارس میں درس و تدریس کے ماحول پرمرتب ہوا اور پھر عوامی ماحول بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، یہ تھا کہ درس و تدریس بالخصوص حدیث کی تدریس کا ایک بڑا حصہ نمازمیں رفع یدین ، آمین بالجہر جیسے چند ایسے مسائل پر صرف ہونے لگا کہ جن میں عہدِ صحابہ سے دونوں طرح کے عمل چلے آرہے ہیں اور دونوں طرف حدیثیں بھی موجود ہیں۔ ان مسائل پر بحث اس انداز ہونے لگی کہ ہر فریق یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگارہا کہ ذخیرۂ حدیث صرف اور صرف اسی کے موقف کی ترجمان ہے، دوسرے فریق کے پاس کچھ موجود نہیں۔ دوسرا فریق جن احادیث کو اپنی دلیل سمجھ رہا ہے، یہ محض اس کی خام خیالی ہے جبکہ یہ بات حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔ تاہم درس و تدریس کے حلقوں میں اصل حقیقت کا ادراک بھی موجود رہاہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ کا طرزِ تدریسِ حدیث بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’جب کوئی ایسی حدیث آجاتی جو بظاہر مفہوم کے لحاظ سے قطعی طور پر حنفی مذہب کے خلاف ہوتی اور پڑھنے والا طالب علم خود رک کر دریافت کرتایا دوسرے طلبہ پوچھتے ’’حضرت یہ حدیث تو امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے قطعاً خلاف ہے‘‘۔ جواب میں مسکراتے ہوئے بے ساختہ شیخ الہندؒ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکلتے ’’ خلاف تو ہے بھائی! میں کیا کروں ؟ہاں آگے چلیے‘‘(۲۵)۔

بظاہر کہنے کامقصدیہ تھاکہ یہ کوئی اچنھے کی بات نہیں ہے ۔اجتہادی اختلافی مسائل میں توایساہوتاہی ہے کرہرفریق کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے اورہرفریق کی دلیل بظاہر دوسرے فریق کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے ایسے مسائل میں یہ توقع رکھناکہ ہمارے خلاف کوئی دلیل نہ ہو، اس کامطلب یہ بنتاہے کہ دلیل صرف ہمارے پاس ہو، دوسرے فریق کے پاس نہ ہو۔ اگرایساہوتاتو اس مسئلے میں اختلاف ہی کیوں ہوتا۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ متصلب اور متبحر حنفی علما میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے فقہ حنفی کی تائید میں اعلاء السنن جیسی ضخیم کتاب بھی تالیف کروائی۔ اس کے باوجود بعض اہلِ حدیث حضرات ان کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے اور مولانا تھانوی کی طرف سے ان کی خانقاہ میں رفع یدین وغیرہ پرکوئی پابندی نہیں تھی ۔ اہلِ حدیث اور حنفی حضرات میں جن مسائل پر بحث مباحثے کا بازار گرم رہتاہے، یہ وہ مسائل ہیں جو عہدِ صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین کے دور ہی سے مختلف فیہ چلے آرہے ہیں۔ مولانا تھانوی ان مسائل کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، اس کے بارے میں ان کے ایک وعظ سے اقتباس ملاحظہ ہو : 

’’یہ بھی وجہ ہے ہندوستان میں تقلیدِ مذہبِ حنفی کے وجوب کی کہ یہاں رہ کر کسی دوسرے مذہب پر صحیح عمل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہندوستان کے اکثر علما حنفی ہیں، اور یہاں کتابیں بھی فقہِ حنفی کی زیادہ ملتی ہیں۔ اساتذہ بھی اسی فقہ کے میسر ہو سکتے ہیں، دوسرے فقہ کی نہ زیادہ کتابیں یہاں موجود ہیں ، نہ ان کے پڑھانے والے میسر آسکتے ہیں ، تو عمل کی کیا صورت ہو ۔ ہمارے ایک مہربان مکہ مکرمہ جاکر شافعی بن آئے ہیں۔ یہ تو کوئی ملامت و طعن کی بات نہیں تھی۔ اگر تحقیق کے ساتھ دوسرے مذہب کو اختیار کیا جائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ مذاہبِ اربعہ سب حق ہیں۔ ہاں، تلعب بالمذاہب البتہ حرام ہے کہ اس کو کھیل بنا لیا جائے‘‘ (۲۶)۔

اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ یہ بات مولانا تھانوی ہی کے ایک فیض یافتہ مولانا حبیب احمد کیرانوی نے انہی کی سرپرستی میں لکھی جانے والی کتاب ’’إعلاء السنن ‘‘ کے فقہی مقدمے میں لکھی ہے ۔ مولانا حبیب احمد کیرانوی نے پہلے تو مختلف فقہوں کے مقلدین کے اس دعوے اور دلیلوں کو ذکر کیا ہے کہ ان کے بقول ان کے امام کی فقہ سب سے افضل ہے۔ یہ باتیں نقل کرنے کے بعد مولانا نے بڑی وضاحت کے ساتھ ان کی تردید کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ بذاتِ کسی امام کی فقہ کو دسرے امام کی فقہ پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں وہ فرماتے ہیں : 

والحق أن الأئمۃ المقتدی بہم فی الدین کلّہم علی ہدی مستقیم ، فأیّ مذہب من مذاہبہم کان شائعا فی بلد من البلاد وفی العلماء بہ کثرۃ یجب علی العامی اتباعہ، ولا یجوز لہ تقلید إمام لیس مذہبہ شائعا فی بلدہ ولا فی العلماء بہ کثرۃ؛ لتعذر الوقوف علی مذہب ذلک الإمام فی جمیع الأحکام والحال ہذہ، فافہم، فإن الحق لایتجاوز عنہ إن شاء اللہ تعالی، ولو شاعت المذاہب کلّہا فی بلد من البلاد واشتہرت، وفیہ من العلماء بکل مذہب عدد کثیر جاز للعامی تقلید أیّ مذہب من المذاہب شاء، وکلُّہا فی حقہ سواء، ولہ أن لا یتمذہب بمذہب معین، ویستفتی من شاء من علماء المذاہب، ہذا مرۃ وذلک أخری، کما کان علیہ السلف الصالح رضی اللہ عنہم، بشرط أن لا یلفّق بین مذہبین فی عمل واحد، ولا یتتبع الرخص متبعا ہواہ، لأن ذلک من التلہی وہو حرام بالنصوص 
’’صحیح بات یہ ہے کہ جن ائمہ کی بھی اقتدا کی جاتی ہے، وہ سارے کے سارے سیدھے راستے پر ہیں ، لہٰذا ان کے مذاہب میں سے جس کا مذہب بھی کسی علاقے میں مروّج ہو اور وہاں اس مذہب کے جاننے والوں کی کثرت ہو تو عامی پر اس مذہب کی اتباع واجب ہے ، اور اس کے لیے ایسے امام کی تقلید درست نہیں ہے جس کا مذہب وہاں عام نہ ہو اور اس مذہب کے جاننے والے کثرت سے موجود نہ ہوں، اس لیے کہ ایسی حالت میں تمام احکام میں اس امام کے مذہب کو جاننا انتہائی دشوار ہوگا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو ، اس لیے کہ ان شاء اللہ حق اس سے متجاوز نہیں ہوگا ۔ اور اگر کسی علاقے میں تمام مذاہب رائج اور مشہور ہوں اور ہر مذہب کے جاننے والے علما بھی وہاں کثیر تعداد میں موجود ہوں تو عامی کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ ان مذاہب میں سے جس مذہب کی چاہے تقلید کرلے ، اور یہ سارے مذاہب اس کے حق میں برابر ہیں ، اور اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ کسی متعین مذہب کو اختیار نہ کرے ، بلکہ مختلف مذاہب کے علما میں سے جس سے چاہے مسئلہ دریافت کرلے ، کبھی اِ س سے ، کبھی اُس سے ، جیسا کہ سلفِ صالحین کا طریقہ تھا ، بشرطیکہ ایک ہی عمل میں دو مذہبوں کے درمیان تلفیق نہ کرے اور اپنی خواہشات کی پیروی کی خاطر رخصتوں کا متلاشی نہ بنے ، اس لیے کہ یہ دین کو کھلونا بنانا ہے، جو نصوص کی رو سے ناجائز ہے۔‘‘ (۲۷) 

یہاں ایک معروف حنفی عالم مولانا احمد علی لاہوریؒ اور ایک اہلِ حدیث عالم مولانا سید داؤد غزنویؒ کا واقعہ قابل ذکر معلوم ہوتا ہے۔ مولانا لاہوری کے جاری کردہ جریدے ’’خدام الدین‘‘ سے اسے بعینہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:

’’اہلِ حدیث عالم حضرت مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ نے ایک دفعہ اطلاع بھجوائی کہ فلاں روز وہ اپنے رفقا کے ساتھ شیرانوالا تشریف لائیں گے ۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ نے اپنے مریدین تلامذہ اور عقیدت مندوں کو حکم فرمایا کہ مولانا سید داؤد غزنوی صاحب اور ان کے ساتھی جس نماز میں ہمارے ساتھ شامل ہوں تو آپ سب لوگ ان کے مسلک کے احترام میں رفعِ یدین کریں اور آمین بالجہر کہیں تاکہ ہمارے مہمانوں کو یہاں کوئی اجنبیت محسوس نہ ہو۔ جبکہ مولانا سید داؤد غزنوی پہلے ہی اپنے ساتھیوں کو تاکید فرما چکے تھے کہ شیرانوالا میں میرے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے آپ لوگ نہ رفع یدین کریں، نہ اونچی آواز سے آمین کہیں، کیونکہ مولانا احمد علی حنفی مسلک ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس رواداری اور احترامِ مسلک کا یہ عجیب منظر دیکھا کہ حنفی مسلک نمازی رفع یدین کررہے ہیں اور آمین بلند آواز سے پڑھ رہے ہیں جبکہ اہلِ حدیث مہمانوں نے اپنے میزبان کے اکرام میں نہ رفعِ یدین کیا نہ آمین بالجہر پڑھی۔‘‘ (۲۸)

ایک معروف صاحبِ دل اہلِ حدیث عالم مولانا ابوبکر غزنوی کے جماعتِ اہلِ حدیث سے ایک خطاب کے کچھ اقتباسات نقل کرنا بھی مناسب معلوم ہوتاہے۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ اپنے مخاطبین سے وہی باتیں کی جاتی ہیں جو وہ سننا چاہیں تاکہ ان کی نظر میں مقبولیت میں کمی واقع نہ ہو، اس لیے عموماً دوسرے فرقے کی خامیاں زیادہ بیان کی جاتی ہیں۔ لیکن اس خطاب میں مولانا ابوبکر غزنوی نے دوسرا انداز اختیار کیا ہے۔ یہ اقتباس پیش کرکے دکھانا یہ مقصود ہے کہ ہر مکتبِ فکر میں ایسے سنجیدہ علما موجود رہے ہیں جو دوسروں پر طعن وتشنیع کرنے کی بجائے اپنے حلقوں میں پائی جانے والی کوتاہیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہ کام اگرچہ مشکل ہے لیکن اگر علما کی بڑی اکثریت وہ طرز اختیار کرلے جو مولانا غزنوی کی آنے والی دل سوز عبارتوں سے واضح ہوتا ہے تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں : 

’’دوستو! وعظ کیا ہے ، روحانی اور اخلاقی بیماریوں کی تشخیص کرنا اور دوا دینا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوا تلخ ہوتی ہے اور بیمار ناک بھوں چڑھاتا ہے، لیکن مشفق طبیب کو چاہیے کہ دوا کو حلق میں انڈیل دے۔ مریض کو جب شفا ہوجاتی ہے تو دعا دیتاہے۔ دوستو! اگر مریض کو زکام ہو اور طبیب اسے معدے کی دوا دے تو اس کی نااہلی میں شک وشبہ کی کیا گنجائش باقی رہتی ہے؟اپنی اور سامعین کی جو بیماریاں ہوں انہیں ڈھونڈھنا اور ان کی دوا دینا یہ وعظ ہے۔ ۔۔وہ واعظ دنیا دار ہے جس کا منتہائے نظر یہ ہو کہ دھواں دھار تقریر کی جائے، جذبات کو بھڑکا دیا جائے نہ اپنے کو فائدہ نہ دوسرے کو فائدہ۔آج کل تو سر دُھننا ، وجد میں آنا، نعرے لگانا، ہاؤ ہو کرناوعظ کے لوازمات بن کررہ گئے ہیں۔ میری نظر میں وعظ تو یہ ہے کہ بیماریوں کو چن چن کر بیان کیا جائے اور ان کا علاج کیا جائے۔‘‘ 

اپنے حلقۂ خطاب یعنی جماعتِ اہلِ حدیث کو توحید کے حقیقی تقاضوں کی طرف متوجہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں : 

’’ووسری بات یہ عرض کرتا ہوں کہ موحد ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی بے مہار ہوجائے ۔ رسیاں تڑوا بیٹھے۔ بے ادب اور گستاخ ہوجائے ۔ اہل اللہ کی شان میں گستاخیاں کرے ۔ محسنوں کا گریبان پھاڑے اور سمجھے کہ میں توحید کے تقاضے پورے کررہاہوں۔ دوستو! میرا کام مرض کی تشخیص اور اس کا علاج ہے۔ گو مریض چیخے ، چلائے ، ناک بھوں چڑھائے۔ مشفق ڈاکٹر وہ ہے جو حلق میں دوا انڈیل دے۔ آج تم کسمساؤگے ، مضطرب ہو گے، زانو بدلوگے۔ مگر کچھ عرصے کے بعد مجھے دعا دو گے اور کہوگے کہ بات ٹھیک کہہ گیا تھا۔ جب مریض شفا یاب ہوجاتا ہے تو کڑوی دوا دینے والے کو بھی دعا دیتا ہے۔
’’دوستو! کچھ حدیثیں ایک مسجد میں بیان ہوتی ہیں ، کچھ دوسری مسجد میں بیان ہوتی ہیں۔ اور کچھ ایسی ہیں جو کہیں بیان نہیں ہوتیں۔ اس لیے کہ ان کا بیان کرنا فرقہ وارانہ مصلحت کے خلاف سمجھتے ہیں۔‘‘ 

اس کے بعد مولانا غزنوی نے تفصیل سے وہ حدیثیں پیش کی ہیں جن سے صحابہ کرام کی ادب اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ لگاؤ کی شان سمجھ آتی ہے تاکہ اپنے مخاطبین کو اس طرف متوجہ فرمائیں۔ اس کے بعد ’’ارواحِ ثلثہ‘‘ اور دیگر کتب کے حوالے سے بڑوں اور بزرگانِ دین کے ادب کے حوالے سے اپنے اکابر کے واقعات بیان فرمائے ہیں۔ یاد رہے کہ ’’ارواح ثلاثہ‘‘ مولانا اشرف علی تھانوی کی تالیف ہے جس میں اولیائے امت بالخصوص برصغیر کے آخری دور کے بزرگوں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ اہلِ حدیث حضرات اس طرح کی کتابوں کا مذاق اڑاتے ہیں ، لیکن مولانا غزنوی کا مذکورہ بیان پورا پڑھنے سے اس تاثر کی بالکلیہ نفی ہوتی ہے۔

اس کے بعد مزید فرماتے ہیں : 

’’دوستو! یہ فقرہ غور سے سنیں۔ موحد ہوتے ہوئے مؤدب ہونا اور مؤدب ہوتے ہوئے موحد ہونا بہت بڑی سعادت ہے۔ کچھ لوگوں کو توحید کی شد بد ہوتی ہے تو ادب کی لطافتوں اور باریکیوں سے محروم ہوتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کو ادب کی شد بد ہوتی ہے تو توحید کے معارف سے محروم ہوتے ہیں۔ مؤدب ہوتے ہوئے موحد ہونا اور موحد ہوتے ہوئے مؤدب ہونا یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ دوستو! اور میں خدا سے اس سعادت کی بھیک مانگتاہوں۔‘‘

مزید فرماتے ہیں: 

’’اور ہم جو اتباعِ سنت پر زور دیتے ہیں تو کیا سچ مچ سنت کی پیروی ہمارا شعار ہے؟ کیا چند فروعی مسائل پر جھگڑا اتباعِ سنت ہے؟‘‘

اپنے حلقے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ، اس حوالے سے ہونے والی سستی اور کوتاہی کا شکوہ کرتے ہوئے اور اپنے بزرگوں کے اہتمامِ ذکر اور استغراق فی الذکر کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’یہ تھے ہمارے اسلاف۔ ہم تو دنگا فساد لڑائی جھگڑے میں پڑگئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی دوسرے کی کھِلّی اڑارہا تھا اور اس پر پھبتی کس رہا تھا کہ تمہارا درود غیر مسنون ہے او رتم بدعتی ہو۔ میں نے اسے کہا کہ بھائی آج جمعہ تھا۔ خود تم نے کتنا درود پڑھا؟ یہ تو تم نے کہا کہ اس نے غلط درود پڑھا، مگر تمہاری اپنی زبان بھی ساکت وصامت تھی۔ مسنون درود پڑھنے کی تمہیں ایک بار بھی توفیق نہیں ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اکثروا علی الصلاۃ یوم الجمعۃ (جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو‘‘ (۲۹)۔

اب آتے ہیں دوسری طرف۔ مولانا علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا قریب کے زمانے کے محدثین میں جو مقام ہے، وہ اسلامی علوم کے کسی بھی طالب علم سے مخفی نہیں۔علمِ حدیث کے علاوہ کے فقہ حنفی پر بھی ان کے احسانات محتاجِ بیان نہیں۔ دینی مدارس میں علمِ حدیث کی تدریس کے دوران عموماً زیادہ زور ائمہ مجتہدین کے درمیان مختلف فیہ مسائل پر دیا جاتا ہے۔انہی میں کچھ مسائل وہ ہیں جو حنفی اور اہلِ حدیث حضرات کے درمیان بحث مباحثے کا موضوع بنتے رہتے ہیں۔ یقیناًشاہ صاحب ؒ نے ان مسائل پر مفصل بحثیں کیں۔ اگرچہ شاہ صاحب نے کبھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، پھر بھی ان تمام بحثوں کے بارے میں ان کے احساسات کیا تھے، اس کا اندازہ انہی کے شاگردِ مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کے بیان سے ہوسکتاہے جو انہی کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جارہا ہے:

’’قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھااور سیدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال اسی جلسہ پر تشریف لائے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک صبح نمازِ فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا حضرت کیسا مزاج ہے۔ کہا ، ہاں ! ٹھیک ہی ہے۔ میاں مزاج کیا پوچھتے ہو۔عمر ضائع کردی۔
میں نے عرض کیا حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں دین کی اشاعت میں گذری ہے ، ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں، مشاہیر ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمتِ دین میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام لگی؟
فرمایا: میں تمہیں صحیح کہتا ہوں ، عمر ضائع کردی۔
میں نے عرض کیا : حضرت بات کیا ہے؟
فرمایا ہماری عمر ، ہماری تقریروں کا ، ہماری ساری کد وکاش خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں۔ امام ابو حنیفہ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا ، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔
اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی ۔ ابو حنیفہؒ ہماری ترجیح کے محتاج ہیں کہ ہم ان پر احسان کریں؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو مقام دیا ہے، وہ مقام لوگوں سے خود اپنا لوہا منوائے گا۔ وہ تو ہمارے محتاج نہیں۔۔۔
پھر فرمایا :
ارے میاں اس کا تو حشر میں راز نہیں کھلے گا کہ کونسا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا اجتہادی مسائل۔ صرف یہی نہیں کہ دنیا میں ان کا فیصلہ نہیں ہوسکتا ، دنیا میں بھی ہم تمام تر تتحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی صحیح یا یہ یہ صحیح ہے ، لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا ہو ۔ اور وہ خطا ہے کہ اس احتمال کے ساتھ کہ صواب ہو۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی ، قبر میں منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین حق تھا۔ آمین بالجہر حق تھی یا بالسرحق تھی۔ برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا۔
اللہ تعالی شافعی کو رسوا کرے گا نہ ابو حنیفہ کو نہ مالک کو نہ احمد بن حنبل کو۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے ، جن کے ساتھ اپنی مخلوق کا بہت بڑے حصے کو لگا دیا ہے ، جنہوں نے نورِ ہدایت چار سو پھیلایا ہے، جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں گزریں ، اللہ تعالی ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا۔ وہاں میدان محشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے کہ ابو حنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھایا اس کے بر عکس، ایسا نہیں ہو گا۔
تو جس چیز کو نہ دنیا میں نکھرنا ہے ، نہ برزخ میں ، نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی۔ اپنی قوت صرف کردی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی مجمع علیہ اور سبھی کے مابین جو مسائل متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیائے کرام لے کر آئے تھے ، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور وہ منکرات جن کو مٹانے کا کی کوشش ہم پر کی گئی تھی، آج یہ دعوت تو نہیں دی جارہی، یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہی ہیں، اور اپنے و اغیار ان کے چہرے کو مسخ کررہے ہیں، اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے ہونا چاہیے تھا، وہ پھیل رہے ہیں اور گمراہی پھیل رہی ہے ، الحاد آرہاہے، شرک وبت پرستی چل رہی ہے، حرام وحلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فروعی بحثوں میں۔
شاہ صاحب نے فرمایا: یوں میں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کررہاہوں کہ عمر ضائع کردی۔‘‘ (۳۰)

خود حنفی حضرات میں اختلاف کا ایک دائرہ دیوبندی بریلوی اختلاف ہے۔ اس اختلاف کے بنیادی طور پر تین محور ہیں۔ ایک یہ کہ بعض رسوم وعادات کو اکثر دیوبندی علما نے بدعت سمجھتے ہوئے اپنے پیرو کاروں کو ان سے منع کیا ہے، جبکہ بریلوی علما ان رسوم وعادات کو بدعت نہیں سمجھتے بلکہ متعدد مصالح کی بنیاد پر انہیں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جن علما نے ان کاموں کاموں کو بدعت قراردیا، اس کا مطلب بھی یہ تھا کہ جو لوگ ہماری تحقیق اور رائے پر عمل کرنا چاہیں، وہ ان سے گریز کریں نہ یہ کہ دوسروں کو بھی زبردستی ان سے روکنے کی کوشش کی جائے۔اس لیے کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ انہیں بدعت سمجھ کر نہیں کرتے اور شروع میں سلف کا یہ مزاج بیان کیا جاچکاہے کہ اپنی رائے کو دوسرے پر مسلط نہیں کیا جاتا۔ راقم الحروف نے بعض ثقہ راویوں سے سنا ہے کہ ایک دفعہ کچھ حضرات مولانا مفتی محمد حسنؒ بانی جامعہ اشرفیہ لاہورکے پاس ایک فتویٰ تصدیق کرانے کے لیے لائے جس کا حاصل یہ تھا کہ بارہ ربیع الاول کو نکالا جانے والا جلوس بدعت ہے۔ بظاہر وہ لوگ اس فتوے کی رو سے اس جلوس کو رکوانا چاہتے ہوں گے۔ مفتی صاحبؒ نے اس پر دستخط کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار فرمادیا کہ بھائی اس دور جو جس طریقے سے بھی اللہ رسول کا نام لیتا ہے، اسے لینے دو۔

دیوبندی اور بریلوی اختلاف کا دوسرا محور بعض نظریاتی مسائل ہیں ، جیسے حاضر و ناظر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کا مسئلہ۔ ان مسائل میں بھی اگر دونوں طرف کے جید علما کی تحریروں کو سامنے رکھا جائے تو شاید اختلاف اتنا گہرا نہیں ہوگا جتنا تاثر پیدا ہوگیاہے۔

اس اختلاف کا تیسرا محور تکفیر کا فتویٰ ہے۔ مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے علمائے دیوبند کی بعض عبارات کو بنیاد بنا کر ان پر کفر کا فتویٰ جاری کیا۔ دوسری طرف دیوبندیوں میں بھی بعض حضرات ایسے موجود رہے ہوں گے جو بریلویوں کو مشرک قرار دیتے ہوں گے۔ یہ یقیناًبڑا سنگین معاملہ ہے۔ اس لیے کہ ایک دوسرے کے ایمان پر شکوک وشبہات پیدا کردینا کوئی معمولی بات نہیں، لیکن اس کے باوجود یہ خوش گوار حیرت کی بات ہے کہ یہ اختلاف بھی دونوں طرف کے سنجیدہ علما کے تلخی اور کشیدگی کا باعث نہیں بنا۔ چنانچہ بریلوی علما مولانا احمد رضا خاں بریلوی کو اپنا مقتدا مانتے اور ان کی بہت زیادہ عزت وتوقیر کرتے ہیں ، اس کے باوجود عملی طور پر ان کے فتوی تکفیرسے متفق نظر نہیں آتے۔ اس لیے سنجیدہ بریلوی علما دیوبندیوں کے ساتھ کافروں والا برتاؤ اور معاملہ کبھی نہیں کرتے۔

اسی طرح جن کے خلاف تکفیر کے یہ فتوے جاری کیے گئے تھے، انہوں نے بھی اسے مناسب محمل پر محمول کرکے بات کو زیادہ بگڑنے نہیں دیا۔ مثال کے طور پر جن کے خلاف تکفیر کے فتوے دیے گئے، ان میں ایک نام مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ہے۔ راقم الحروف نے مولانا تھانویؒ کے متعدد خلفا سے سنا کہ مولانا تھانوی فرمایا کرتے تھے کہ جنہوں نے واقعی مجھے کستاخِ رسول سمجھ کر میرے خلاف فتوے دیے ہیں ، اگرچہ یہ بات امرِ واقعہ کے خلاف ہے لیکن ان کو بہر حال غلط فہمی ہوگئی، اس لیے میں انہیں اس میں معذور سمجھتاہوں ، نہ صرف معذور بلکہ ماجور سمجھتا ہوں۔ یعنی انہیں اس فتوے پر بھی اجر ملے گا۔ اس حوالے مولانا تھانوی کے دوخلفا مولانا مفتی محمد حسن ؒ اور حاجی محمد شریف ؒ کا مکالمہ پیش خدمت ہے۔ حاجی محمد شریف ؒ لکھتے ہیں:

’’ایک دفعہ میں لاہور میں حضرت مفتی صاحب ؒ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا ۔ عصر کی اذان ہوئی اور تمام حضرات اٹھ گئے۔ مجھے عصر کے بعد فیصل آباد جانا تھا۔ مصافحہ کے لیے آگے بڑھا، سلام کیااور عرض کیا نماز کے بعد مجھے جانا ہے ۔ اس پر حضرت مفتی صاحب نے میرا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے لیا اور دیر تک دباتے رہے اور فرمایا : دیکھو! میرے ایک سوال کا جواب دو۔ تم حضرت (تھانوی) کی خدمت میں بہت رہے ہو۔ یہ لوگ جو حضرت والا کی مخالفت کرتے ہیں، کیا حضرت کی زبان مبارک سے بھی تم نے ان کے متعلق کوئی بات سنی؟
میں نے عرض کیا کہ میں نے تو حضرت کی زبان مبارک سے ان کی کبھی بھی برائی نہیں سنی۔ بلکہ ایک دفعہ کسی صاحب کے سوال پر حضرت نے فرمایا تھا : دیکھنا یہ چاہیے کہ یہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں، اس مخالفت کا منشا کیا ہے۔اگر منشا حب رسول ہے تو میں نہ ان کو معذور بلکہ ماجور سمجھتا ہوں۔ یہ میری مخالفت کی وجہ سے ان کو اجر ملے گا۔اس پر حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ اورمیں تو حضرت کی خدمت میں بہت زیادہ رہاہوں ، مجھے ایک واقعہ بھی یاد نہیں کہ حضرت نے ان کو برائی سے یاد کیا ہو۔‘‘(۳۱) 

مولانا قاضی مظہر حسینؒ کے والد مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر نے جب باطنی استفادے کے سلسلے میں مولانا حسین احمد مدنیؒ سے رجوع کیا تو اس سے پہلے وہ سیال شریف کی گدی سے منسلک اور وابستہ تھے جہاں کا ذوق ظاہر ہے کہ علمائے دیوبند کے مزاج سے مکمل ہم آہنگ نہیں تھا۔ اس کے باوجود مولانا مدنی ؒ نے دبیر صاحبؒ کو اسی گدی سے منسلک رہنے کامشورہ دیتے ہوئے تحریر فرمایا :

’’تجدیدِ بیعت کی ضرورت نہیں، آپ اپنے سابق شیخ کے تلقین کردہ وظیفہ پر عمل کریں ، میں آپ کے لیے اور آپ کے عزیر کے لیے حسنِ خاتمہ کی دعا کرتا ہوں‘‘(۳۲) ۔

اس کے علاوہ علمائے دیوبند اور پنجاب سمیت بر صغیر کے مختلف علاقوں کی معروف خانقاہوں او رگدیوں کے درمیاں جو اچھے تعلقات رہے، وہ ایک مستقل تاریخ ہیں جس کا کچھ نمونہ سید نفیس شاہ صاحبؒ نے ’’حکایت مہر وفا‘‘ میں بیان کردیا ہے۔ معروف کالم نگار عطاء الحق قاسمی کے والد مولانا بہاؤ الحق قاسمی ؒ نے بھی مختلف فرقوں کی آویزش کم کرنے کے لیے ’’اسوۂ اکابر‘‘ کے نام سے اسی طرح کاایک رسالہ لکھا تھا۔ انہیں دو رسالوں سے یہاں ایک دو مثالیں نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

مولانا میاں شیر محمد شرق پوری کا نامِ نامی محتاجِ تعارف نہیں۔ شرق پور شریف کا شمارپنجاب کی چند اہم خانقاہوں اور گدیوں میں ہوتاہے۔ میاں شیرمحمد ؒ کے خلیفہ صوفی محمد ابراہیم قصوریؒ نے ان کے حالاتِ زندگی پر ایک کتاب ’’خزینۂ معرفت‘‘ لکھی ہے۔ اس میں انہوں نے میاں صاحبؒ اور مولانا انورشاہ کشمیریؒ کے تعلقات کا واقعہ لکھاہے جو سید نفیس شاہ صاحب نے بھی اسی کتاب کے حوالے سے لکھا ہے۔ مولانابہاؤ الحق قاسمی نے یہ واقعہ ذرا تفصیل سے لکھا ہے۔ یہاں سیدنفیس شاہ صاحب کی کتاب ’’حکایت مہر و وفا‘‘ سے صوفی محمد ابراہیم کے الفاظ میں نقل کیا جاتاہے:

’’مولانا انور علی شاہ صدر مدرسہ دیوبند ہمراہ مولوی احمد علی صاحب مہاجر لاہوری شرق پور شریف حاضر ہوئے اور حضرت میاں صاحبؒ کو بڑی ارادت سے ملے۔ آپ ان سے کچھ باتیں کرتے رہے اور شاہ صاحب خاموش رہے۔ پھر آپ نے مولانا انور شاہ صاحب کو بڑی عزت سے رخصت کیا۔ موٹر کے اڈے تک حضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود سوار کرانے کے لیے ساتھ تشریف لائے۔ شاہ صاحب (علامہ انور شاہ) نے میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کہا ’’آپ میر کمر پر ہاتھ پھیر دیں‘‘۔ آپ نے ایسا ہی کیا اور رخصت کرکے واپس مکان پر تشریف لائے۔ بعد ازاں آپ نے بندہ (صوفی محمد ابراہیم) سے فرمایا: شاہ صاحب بڑے عالم ہوکر میرے جیسے خاکسار سے فرمارہے تھے کہ میری کمر پر ہاتھ پھیردیں۔ اور میاں صاحب نے فرمایا کہ دیوبند میں چار نوری وجود ہیں۔ ان میں ایک شاہ صاحب بھی ہیں‘‘(۳۳)۔

پیر سید جماعت علی شاہ صاحب ؒ کا ایک واقعہ بھی ’’حکایت مہر و وفا‘‘ سے پیش کیا جاتا ہے:

’’حضرت مولانا سید محمد اسلم صاحب خطیب مسجد قادری لائل پور نے خود راقمِ سطور (سید نفیس شاہ صاحبؒ) سے بیان فرمایا کہ میں نے علی پور شریف میں اپنے استاذ محترم حضرت صاحبزادہ محمد حسین شاہ صاحب (خلف الرشید حضرت پیر حافظ سید جماعت علی شاہ صاحب علی پوری) سے دورہ حدیث سے پہلے کی کتابیں پڑھی تھیں۔ ایک روز میرے والد صاحب حضرت مولانا عبد الغنی شاہ صاحب (م: ۱۹۴۰) خلیفہ اعظم زبدۃ العارفین حضرت سید جماعت علی شاہ صاحب ثانی علی پوری رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے تم اپنی تعلیم مکمل کرلو۔ دورہ حدیث شریف کے لیے دو جگہیں ہیں۔ دارالعلوم دیوبند اور منظر اسلام بریلی۔ جہاں تمہارا جی چاہے وہاں چلے جاؤ اور تکمیل کرلو۔ میں نے عرض کیا میں کہ میں اپنے استاد حضرت صاحبزادہ محمد حسین شاہ صاحب کے مشورے سے کوئی فیصلہ کروں گا۔ ۔۔۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے دارالعلوم دیوبند کا مشورہ دیا۔۔۔اس زمانے میں مرشدی ومولائی حضرت اقدس ثانی صاحب علی پوری ابھی حیات تھے۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا کی درخواست کی ، انہوں نے دارالعلوم دیوبند جانے پر بشاشت ظاہر فرمائی اور دعواتِ صالحہ سے مجھے رخصت کیا۔‘‘

خط کشیدہ عبارت سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کی نظر میں اصل مقصود حدیث پڑھنا تھا، اس کے لیے دیوبند اور بریلی برابر تھے، بلکہ اختلافِ مشرب کے باوجود دیوبند کے انتخاب پر خوشی کا اظہار فرمایا جارہا ہے۔

ایک آخری واقعہ عرض کرکے اس بات کو ختم کیا جاتاہے۔ راقم الحروف نے خود مولانا مجاہد الحسینی حفظہ اللہ سے جو سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے رفیق و خادم تھے، متعدد بار سنا کہ جب ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں تحریک کی مرکزی قیادت لاہور جیل میں تھی ، ان میں سید عطاء اللہ شاہ صاحب بھی تھے اور بریلوی مکتبِ فکر کے مولانا ابو الحسنات بدایونی بھی تھے۔مولانا مجاہد الحسینی بتلاتے ہیں کہ میں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ مولانا ابو الحسنات قضائے حاجت کے تشریف لے گئے ہیں اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری ان کی خدمت کے لیے وضو کے پانی کا لوٹالے کر باہر کھڑے ہیں۔ 

فرقہ وارانہ بنیادوں کے علاوہ بر صغیر فکری اختلافات کا وجود بھی رہاہے۔ خاص طور پر دو حوالوں سے ، ایک تو تعلیمی نظام کے حوالے سے ، اس سلسلے میں دیوبند اور علی گڑھ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ دوسرے سیاسی پالیسی کے حوالے سے ، خاص طور انگریزوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے اعتبارسے۔ دونوں سطحوں پر سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کو وہ مشورے دیے جو عام علما بالخصوص علمائے دیوبند کی سوچ سے مختلف تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان مختلف حلقہ ہائے فکر میں منافرت کی وہ فضا نہیں تھی جس کا تأثر آج کل بعض تحریروں یا بیانات سے ملتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سرسید احمد کی دین کی تعبیر وتشریح کے سلسلے کی کاوشیں اور ان کی تعلیمی اور سیاسی فکر دو الگ چیزیں ہیں۔ جہاں تک اول الذکر کا تعلق ہے، وہ سرسید احمد خاں کی خالص ذاتی آرا ہیں جن سے خود ان اپنے حلقۂ فکر میں بہت کم اتفاق کیا گیاہے، تاہم تعلیمی اور سیاسی سوچ کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ فکری سطح کے اختلاف کے باوجود دونوں طرف سے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ احترام کا رشتہ برقرار رہاہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے امداد الفتاویٰ میں سرسید احمد خاں کی دینی فکر پر شدید تنقید کی ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مولانا تھانویؒ ہی نے اپنے مواعظ و ملفوظات میں نہ صرف سرسید احمد خاں کی ذاتی خوبیوں کا اعتراف کیا ہے بلکہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے حسن نیت کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق اور مروّت کے واقعات تفصیل سے بیان فرمائے ہیں جنہیں اگر مولاناتھانویؒ کے مواعظ و ملفوظات وغیرہ سے یکجا کیا جائے تو شاید ایک کتابچہ تیار ہوجائے۔

دیوبند اور علی گڑھ دو الگ نظام ہائے تعلیم تھے جو اپنی سمجھ کے مطابق مسلمانوں کی مختلف نوعیت کے ضروریات کو پورا کر رہے تھے،لیکن دونوں جگہوں کے نہ صرف یہ کہ بہت اچھے مراسم اور روابط تھے بلکہ ایک دوسرے سے استفادے کی ضرورت کا احساس بھی موجود تھا۔ چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی جلسہ ہائے تقسیم اسناد میں سے ایک میں علی گڑھ کالج کی طرف سے نمائندگی کے طور پر صاحبزادہ آفتاب احمد شریک ہوئے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ دارالعلوم کے تعلیم یافتہ علی گڑھ کالج انگریزی پڑھنے جایا کریں۔ (۳۵)اسی طرح اسی جلسے میں اپنے خطاب کے دوران مولانا نانوتویؒ نے دارالعلوم کے نصاب کی خصوصیات اور اس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا :

’’اس کے بعد (یعنی دارالعلوم کے تعلیمی نصاب سے فارغ ہونے کے بعد) اگر طلبہ مدسہ ہذا، مدارس سرکاری میں جاکر علومِ جدیدہ حاصل کریں تو ان کے کمال میں یہ بات زیادہ مؤید ثابت ہوگی‘‘ (۳۶)۔

اسی طرح انگریزحکومت کے ساتھ تعلقات یا ان کے بارے میں رویہ کیا ہونا چاہیے، یہ عام طور پر بڑا حساس موضوع رہاہے۔ لیکن آزادی سے پہلے کی تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے اختلاف افکار کی موجودگی کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کی روایت موجود تھی ، یہ نہیں تھا کہ پالیسی معاملات میں جس کی رائے مختلف ہو وہ غدار اور نہ معلوم کن کن القاب کا مستحق ٹھہرے۔

اس سلسلے میں ایک مثال راقم الحروف اپنے ہی ایک سابقہ مضمون سے بعینہ نقل کرنا مناسب سمجھتا ہے۔ 

جب شیخ الہند مولانامحمودحسن ؒ مالٹا کی اسارت سے واپس آئے توان سے ملاقات کرنے والوں اورانہیں انگریز کے خلاف جدوجہد سے الگ ہونے کامشورہ دینے والوں میں ایک نام مولانارحیم بخش ؒ کابھی ہے۔ مولاناسید حسین احمد مدنیؒ کے سوانح نگارمولانافریدالوحیدی ان کے تعارف میں لکھتے ہیں:’’ریاست بہاولپورکے مدارالمہام تھے ،حضرت گنگوہی کے متوسلین میں اورعلماء کرام کے بڑے معتقدتھے ، تاہم حکومتِ برطانیہ کے خیرخواہ اورمعتمد تھے‘‘(۳۷)۔انہی مولانارحیم بخش کے بارے میں مولانا مدنی کے والد ماجد مولوی سید حبیب اللہ صاحبؒ کے حالات میں لکھا ہے:

’’اتفاق سے اسی زمانے میں نواب صاحب بہاولپور بھی حج وزیارت کے لیے حاضر ہوئے ۔ان کے وزیراعظم مولانارحیم بخش صاحب بڑے عالم،متقی اورباخداشخص تھے اورحضرت قطب عالم گنگوہی ؒ کے متوسلین میں سے تھے۔ انتظامات کے لیے وہ نواب صاحب کی آمد سے پہلے ہی مدینہ طیبہ حاضر ہوئے۔ قدرتی طورپران کومولوی صاحب (مولوی حبیب اللہ) اوران کے حضرت گنگوہی کے خلفا صاحبزادگا ن سے خصوصی تعلق اورعقیدت ہوگئی اورنواب صاحب آئے توموصوف نے ان کی جانب سے دس روپیہ ماہوار کاوظیفہ مقررکرا دیا،یہ ساری مستقل آمدنیاں تھیں‘‘۔ (۳۸)

گویاایک طرف تو مولانا رحیم بخش حکومتِ برطانیہ کے’’ خیر خواہ اور معتمد ‘‘تھے، دوسری طرف وہ ’’بڑے عالم، متقی اورباخداشخص‘‘ تھے اور ان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت وہ ہے جواقتباس بالاسے سمجھ میں آرہی ہے ۔

مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنی آپ بیتی India Wins Freedom کے آغاز ہی میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے اپنے ’’آزاد‘‘ تخلص کا انتخاب سرسید احمد خاں کی تحریروں سے متاثر ہوکر کیا ۔ مولانا نے غبارِ خاطر میں موسیقی کے بارے میں اپنی بہت نرم رائے کا اظہار کیا ہے۔ اتاترک کے اصلاحات کے بارے میں مولانا کا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے اصغر علی انجینئر صاحب لکھتے ہیں : 

’’جب کمال پاشا نے ترکی میں بغاوت کی اور خلافت کو اقتدار سے بے دخل کردیا اور خلافت کے ادارے کو فرسودہ قرار دیا تھا مولانا (ابو الکلام آزاد) نے اتاترک کی جدید اصلاحات کا استقبال کیا تھااور مسلمانوں کو خلافت کے ادارے کی حفاظت کی کوششوں کو ترک کردینے کا مشورہ دیا تھاجس سے ترکی لیڈران خود دست بردار ہوگئے تھے۔‘‘ (۳۹)

مولانا آزاد کی اس رائے سے اتفاق یا اختلاف تو الگ معاملہ ہے، لیکن یہ ظاہر ہے کہ یہ رائے علماء کے عام حلقوں میں مروجہ رائے سے بالکل ہٹ کر ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں کے باوجود ان حلقوں میں مولانا آزاد کے لیے پائے جانے احترام میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔


حواشی

(۲۵) مولانا مناظر احسن گیلانی : ص ۱۱۸مکتبہ عمر فاروق کراچی

(۲۶) وعظ الہدی و المغفرۃ ص ۵۰ مطبوعہ مکتبہ تھانوی کراچی در مجموعہ مواعظ اشرفیہ

(۲۷) کیرانوی ، حبیب احمد ، مقدمۃ إعلاء السنن ( قواعد فی علوم الفقہ ) إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ ، ص ۲۲۴ .

(۲۸) مولانا احمد علی لاہوری کے حیرت انگیز واقعات ص ۲۵۶ ماخوذ از خدام الدین ۲۴ مئی ۱۹۹۶ء

(۲۹) خطبات و مقالات سید ابوبکر غزنوی رحمہ اللہ ، ترتیب و تخریج میاں طاہر ناشر طارق اکیڈمی فیصل آباد ص ۲۴۵۔ ۲۶۲

(۳۰) مفتی محمد شفیع : وحدتِ امت ، دار الاشاعت کراچی ص ۱۵

(۳۱) حاجی محمد شریف ملتان : اصلاحِ دل ، ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان ص ۲۵۴

(۳۲) عبد الجبار سلفی : احوال دبیر ، قاضی کرم الدین دبیر اکیڈمی پاکستان ص ۶۲

(۳۳) سید نفیس شاہ الحسینی : حکایت مہر ووفا ، دار النفائس لاہور ص۱۹

(۳۴) حوالہ بالا ص ۲۷ 

(۳۵) مولانا مناظر احسن گیلانی : سوانح قاسمی ، مکتبہ رحمانیہ لاہو۲/۲۹۶

(۳۶) حوالہ بالا ص ۲۸۱

(۳۷) فرید الوحیدی،مولانا،شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنی :ایک تاریخی وسوانحی مطالعہ ص۲۱۷مکتبہ محمودیہ لاہور۱۹۹۵ء۔ 

(۳۸) حوالہ بالاص۵۵۔

(۳۹) http://newageislam.com/urdu-section

آراء و افکار