تحفظ ناموس رسالت

ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا زاہد الراشدی بہت بالغ نظر عالم ہیں۔ ان کی نظر میں بلوغت ہی نہیں بلکہ گہرائی و گیرائی بھی ہے۔ حالات کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔ بین السطور معاملہ پڑھ لینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور جلد معاملے کی تہہ تک پہنچ جانا ان کا وصف ہے۔ مولانا ناخن گرہ کشا بھی رکھتے ہیں جن کی وجہ سے بڑی بڑی پیچیدہ اور الجھی گتھیاں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں آزاد کشمیر میں تھے۔ جہاں توہین قرآن کے حوالے سے حالات نازک ہو گئے۔ مولانا کی گرہ کشائی کی صلاحیت بروقت کام آئی اور معاملات کنٹرول میں آگئے۔ وگرنہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر لوگوں کے لیے حالات بہت گھمبیر ہونے کا خدشہ تھا۔ 

آگ لگانا آسان ہے لیکن آگ بجھانے کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ بندھی رسی پر بغیر سہارے چلنا شاید آسان ہو لیکن بگڑے حالات کو قابو میں لانا تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس کام کے لیے دل بھی چاہیے اور دل کے ساتھ گردے بھی توانا ہونے ضروری ہیں۔ مولانا موصوف نے آزاد کشمیر میں یہی فریضہ سر انجام دیا اور حالات سنبھل گئے۔ جسے اس واقعہ کی تفصیل جاننا ہو وہ ۲۷ مئی ۲۰۱۳ء کے روزنامہ پاکستان میں مولانا کا کالم بعنوان ’’تحفظ ناموس رسالت‘‘ پڑھ لے۔ مولانا موصوف نے بڑی جرأت سے کام لیا۔ جو کام انتظامیہ کے بس کا نہ تھا آپ نے آسانی سے کر دکھایا۔ مولانا ماضی میں بھی ایسے مثبت کام سر انجام دیتے رہے ہیں۔ ایک موقعہ پر مولانا کی ایسی ہی خدمات پر بشپ آف پاکستان ڈاکٹر الیگزینڈر نے مولانا کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا نے اپنے کالم میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’میں نے بشپ آف پاکستان کے اس شکریے کا ذکر تو کر دیا ہے مگر اس انتظار میں ہوں کہ عظیم عرب مجاہد امیر عبدالقادر الجزائریؒ کی طرح مجھ پر بھی (عیسائیوں کا گماشتہ) ہونے کا فتویٰ کب صادر ہوتا ہے‘‘۔ 

ہم مولانا سے عرض کریں گے ’’گھبرائیے نہیں اس طرح تو ہوتا ہی ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘۔ 

تقریباً سال بھر ادھر کی بات ہے، ملک میں قرآنی اوراق سوزی کے واقعات رونما ہوئے۔ اخبارات نے خوب سرخیاں جمائیں، توڑ پھوڑ بھی ہوئی۔ دل سوزی کے بعد گر سوزی کے واقعات بھی سامنے آئے۔ ہم نے اس حوالے سے ایک کالم لکھا، لیکن کالم کی طباعت سے باز رہے۔ مبادا بھڑکتے جذبات میں چھڑکا ہوا پانی تیل ہی ثابت ہو اور مزید شعلے بھڑک اٹھیں۔ مولانا زاہد الراشدی کے کالم کے تناظر میں وہ کالم اب طباعت کے لیے بھیجنے کا حوصلہ کر رہے ہیں۔ 

’’نور حسین ایک سیدھا سادا آدمی تھا۔ بچپن میں اس کے والدین نے اسے تعلیم دلانے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی طبیعت اس طرف نہ آسکی۔ حتّٰی کہ وہ قرآن مجید بھی نہ پڑھ سکا۔ جب بڑا ہوا تو اسے اپنی اس محرومی کا بے حد احساس ہوا۔ اس کا دل اسے کچوکے دیتا۔ کاش میں قرآن مجید کو پڑھ سکتا۔ روزانہ تلاوت کر لیا کرتا۔ اس احساس نے اس کے دل میں قرآن سے بے پناہ محبت پیدا کر دی۔ جو کوئی قرآن پڑھتا وہ اس کے پاس بیٹھ کر نہایت محبت سے سنتا۔ ریڈیو پر تلاوت آتی تو بہت انہماک سے سننے لگتا۔ قرآن مجید کی تلاوت کے کیسٹ لگا کر گھنٹوں سنتا رہتا۔ یہی اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ایک روز راستہ چلتے ہوئے اس نے ایک کاغذ سڑک پر گرا دیکھا ۔ اس پر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ اس نے بڑھ کر اٹھایا ، چوما، ماتھے سے لگایا اور گھر لا کر الماری کے اوپر والے پھٹے پر رکھ دیا کہ اﷲ کا قرآن ہے ۔ اس کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہیے۔ اب اس نے یہ عادت بنا لی۔ وہ ہر گرے پڑے کاغذ کو دیکھا کرتا۔ اگر اس پر کوئی قرآنی آیت لکھی ہوتی تو وہ اٹھاتا، چومتا ، گھر لے آتا۔ کرتے کرتے دو بوریاں بھر گئیں۔ ان کا مصرف کیا ہو؟ وہ ان بوریوں کا کیا کرے ؟ کہاں رکھے؟ مزید اوراق قرآنی کس طرح جمع کرے؟ 
جب یہ اوراق بہت زیادہ ہو گئے اور رکھنے کی جگہ بھی نہ رہی تو اسے پریشانی لاحق ہوئی کہ ان اوراق کا کیا کرے؟ اس پریشانی کا حل تلاش کرنے کے لیے وہ ایک روز شہر کے مفتی صاحب کے پاس گیا۔ وہ بڑے عالم تھے۔ ان کے سامنے نور حسین نے اپنا مسئلہ رکھا ۔ مفتی صاحب نے نور حسین کی بات غور سے سنی اور جواب میں فرمایا کہ ان اوراق کو بہتی ندی میں بہا دو۔ بہتا پانی پاک ہوتا ہے۔ نور حسین نے بوسیدہ اوراق قرآنی سے بھری بوریاں سر پر اٹھائیں ۔ ہانپتا کانپتا ان کو ندی کنارے لے گیا۔ وہاں اس نے ان اوراق کو پانی میں بہانا شروع کیا۔ چند اسلام کے متوالوں نے دیکھ لیا۔ اسے پکڑ کر مارنے لگے۔ یہ صورت حال دیکھ کر کچھ لوگ آگے بڑھے ، بیچ بچاؤ کرا دیا۔ وجہ نزاع معلوم کی ، پتہ چلا کہ یہ قرآن کی بے حرمتی کر رہا تھا۔ قرآن مجید کے اوراق کو دریا برد کر رہا ہے۔ سننے والوں نے بھی مارنا شروع کیا۔ اگلے دن اخبارات میں سرخیاں لگ گئیں ۔ ایک شخص قرآن کی بے حرمتی کرتا ہوا پکڑا گیا۔ لوگوں نے اس کو بروقت دیکھ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ نور حسین پر اس جرم کی پاداش میں مقدمہ چلا ۔ مقدمہ کی کاروائی کے دوران وہ جیل ہی میں رہا۔ کسی نے اس کی ضمانت تک نہ کرائی۔ لیکن اس کی قسمت اچھی تھی۔ وہ مقدمہ میں بری ہو گیا۔ 
اس کو قرآن سے محبت تھی۔ اس نے پھر قرآن کے بوسیدہ اوراق اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ جب بہت زیادہ جمع ہو گئے تو اس نے پھر مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا۔ اور اپنی بپتا بھی بیان کی اور کہا کہ مفتی صاحب میں اب بوسیدہ اوراق کو ندی میں نہیں بہاؤں گا ۔ مجھے اس کا کوئی اور حل بتلائیے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ بہتر ہے ان اوراق کو قبرستان میں گڑھا کھود کر دفن کر دوکہ فقہی طور پر اس کی اجازت ہے۔ وہ مفتی صاحب کی بات سن کر خوش ہوا ۔ گھر آگیا۔ اس نے احتیاط برتی ۔ وہ رات کے اندھیرے میں قبرستان گیا تاکہ اسے کوئی دیکھ نہ سکے اور پھر پہلے جیسی نوبت نہ آجائے ۔ اس نے گڑھا کھودا اور تمام اوارق دفن کر دیے، گھر لوٹ آیا ۔چند دن بعد کچھ گورگن قبر کھود رہے تھے کہ یہی اوراق اور بوسیدہ قرآن مجید وہاں سے برآمد ہوئے۔ یہ دیکھنتے ہی لوگوں میں غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ سب لوگ فوراً تھانے گئے اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا۔ اخباروں میں سرخیاں لگ گئیں۔ کسی بدبخت نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی ہے۔ قبر کھودتے ہوئے بے شمار قرآن مجید گڑھے میں گرے ہوئے ملے۔ شہر کے شرفا سراپا احتجاج ہیں ۔ سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔ 
پھر کیا تھا،پولیس مستعد ہوئی۔ نور حسین گرفتار ہو گیا۔ مقدمہ چلا ، سزا ہوئی ، جیل کاٹ کر گھر آگیا۔ محلے کے لوگ دوست احباب اور دیگر تعلق والے ملنے آئے اور کہا اب تم ایسا کوئی کام نہ کرنا۔ لیکن اسے تو قرآن سے عشق کی حد تک محبت تھی۔ وہ قرآن کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے پھر قرآن کے بوسیدہ اوراق جمع کرنا شروع کر دیے۔ پھر دو بوریاں بھر گئیں۔ پھر مفتی صاحب کے پاس گیا۔ کہنے لگا کوئی اور صورت بتائیں۔ اب میں ان بوسیدہ اوراق کو نہ تو ندی میں بہاؤں گا ، نہ قبرستان میں دفن کروں گا۔ کوئی اور ترکیب بتلائیے۔ مفتی صاحب نے سوچ بچار کے بعد کہا کہ ایسا کرو ان بوسیدہ اوراق کو ندی کنارے لے جا کر جلا دو۔ اور ان کی راکھ پانی میں بہا دو۔ وہ جواب سن کر تھوڑا سا ٹھٹھکا۔ کہنے لگا میں ان بوسیدہ اوراق کو آگ لگاؤں۔ یہ تو اچھی بات نہیں۔ مفتی صاحب بولے یہ عمل حضرت عثمان غنی ؓ سے ثابت ہے۔ انہوں نے قرآن مجید کے بعض حصوں کو آگ لگا کر راکھ پانی میں بہا دی تھی۔ اس لیے ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ 
نور حسین نے دونوں بوریاں اٹھائیں اور رات کے وقت شہر سے دور ویرانے میں نہر کنارے چلا گیا۔ وہاں اس نے ان اوراق بوسیدہ کو ایک ایک کر کے جلانا شروع کیا۔ کچھ جیالے قسم کے نوجوان سگریٹ کے مرغولے ایک دوسرے پر چھوڑتے اٹھکیلیاں کرتے سیٹیاں بجاتے قہقہے لگاتے ادھر سے گزر رہے تھے ۔بولے او بھئی کیا کر رہے ہو؟ نور حسین خاموش رہا۔ وہ آگے بڑھے اور اوراق قرآن دیکھ کر ایک دم طیش میں آگئے اور اسے مارنے لگے ۔ تمہیں شرم نہیں آتی قرآن کے اوراق جلا رہے ہو۔ نور حسین بیچارہ چیختا رہا ۔ میں نے فتویٰ ۔۔۔تویٰ۔۔۔تویٰ۔۔۔ پوچھا ہے۔ مگراس کی کون سنتا ۔ اس شور شرابے میں دیگر راہ گیر اور اکٹھے ہو ئے ۔ انہوں نے بھی نور حسین کو مارکر ثواب حاصل کرنے کی کوشش کی اور قرآن سے محبت کا ثبوت بہم پہنچایا۔ نور حسین بیچارہ کیا کرتا ۔مار کھا کر گھر آگیا۔ 
اگلے روز اخبارات میں سرخیاں جم گئیں ’’ایک بدبخت نہر کنارے قرآن کو آگ لگا کر بھاگ گیا۔ مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ پولیس تعاقب کر رہی ہے۔ مجرم کو جلد پکڑ لیا جائے گا اور اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ عوام مشتعل نہ ہوں‘‘۔ 
علامہ اقبال کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً پون صدی ہو چکی ہے۔ لیکن جانے انہیں کس طرح اپنی زندگی ہی میں نور حسین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی خبر ہو گئی تھی ۔ اس لیے وہ پہلے ہی قرآن کی عظمت کے رکھوالوں اور متوالوں کے بارے میں فرما گئے:
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت 
کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد‘‘

آراء و افکار

(جولائی ۲۰۱۳ء)

Flag Counter