سائنسی تدبر کی بحث: مان کر نہ ماننے کی روش

ڈاکٹر محمد شہباز منج

عصرِ حاضر اور بالخصوص برصغیر کے اربابِ مذہب کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ اپنے فہمِ مذہب کو مذہی متن کی آخری و حتمی مراد سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی حساس واقع ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی تعبیرِ متنِ مذہب کے خلاف کوئی بات دیکھ پڑھ کر جذباتی صدمے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ اپنی رائے سے کسی علمی اختلاف پر ان کا دل بیٹھ بیٹھ جاتا ہے کہ یہ تنقید کرنے والے کیسے لوگ ہیں، "قرآن و حدیث" کے خلاف دلائل دینے پر تلے ہیں۔

قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ ہماری اس بات کو جناب عبداللہ شارق سے ہماری بحث سے الگ کر کے دیکھ لیں، وہ پہلے ہی ہماری یاوہ گوئیوں سے رنجیدہ ہیں، انہیں ہماری گزارشات پڑھ کر دلی افسوس ہوا ہے۔ (الشریعہ اکتوبر 2014،ص 50) ہم یہاں ان کے حوالے سے انتہائی ہلکی پھلکی (Light) گفتگو کے موڈ میں ہیں، اور ہماری جس بات سے بھی ان کے دل کو "چوٹ" لگی ہے ہم اس پر معذرت خواہ ہیں۔ ہماری جنابِ شارق سے گزارش ہے کہ ہمارے درمیان کوئی "مسئلہ کشمیر" (ایضاً،ص40) حل طلب نہیں۔ ہمارا مسئلہ نہایت سادہ تھا اور وہ ماشاء اللہ حل ہو گیا ہے۔ آپ نے ہماری اس گذارش کو تسلیم کر لیا ہے کہ آپ کے پیش کردہ سائنسی و روحانی تدبر دریا کے دو کنارے نہیں جو مل نہ سکتے ہوں، ایک سے دوستی دوسرے سے دشمنی کا تقاضا نہیں کرتی۔ (دیکھیے الشریعہ اگست 2014 میں ہمارا مضمون " روحانی تدبرِ کائنات؟"،ص52) آپ نے فرمایا ہے:

"یہ تاثر لینا درست نہیں ہو گا کہ میرے نزدیک روحانی تدبر اور مادی اغراض کے لیے ہونے والے "سائنسی تدبر " کی آمیزش ناممکن ہے۔ کیونکہ ایک ہی تدبر میں روحانیت او ر مادیت کی یوں آمیزش ہو سکتی ہے کہ اس کا جتنا حصہ "روحانی " ہو گا وہ " قرآنی تدبرِ کائنات" کے فضائل کا مصداق ہوگا اور جو حصہ غیر روحانی ہو گا،اس کا حکم "سائنسی و مادی تدبر" والا ہی ہو گا۔یہ عین ممکن ہے کہ سائنسی تدبر ہی کے دوران ایک صاحبِ تدبر اپنا کام بھی کر رہا ہو اور توجہ الی اللہ کو بھی اپنے دل میں سموئے ہوئے ہو،طبیعی عوامل پر غور کرتے ہوئے بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہواور اس کے سامنے سائنسی و تحقیقی منظر نامہ "حجاب" بننے کی بجائے معرفتِ الٰہی میں بڑھوتری ہی کا ایک ذریعہ ثابت ہو رہا ہو۔اب ظاہر ہے کہ اس صورت میں روحانی و سائنسی تدبر یکجا ہیں،اس میں جتنا حصہ اللہ کے لیے ہوگا ،اس کا اجر اسے اللہ کے ہاں ملے گا اور جو حصہ غیر روحانی ہوگا، وہ قرآنی تدبر کائنات کے فضائل کا مصداق نہیں ہوگا۔"(الشریعہ اگست 2014، ص 42)

ہم اس ڈر سے کہ کہیں آپ دلی افسوس میں مبتلا نہ ہو جائیں، اس بحث میں نہیں پڑتے کہ ایک ہی تدبر کی یہ دو باریک موضوعی تقسیمیں آپ کیسے کریں گے؟ ایک صاحبِ تدبر کے ایک ہی تدبر کا کونسا حصہ کب روحانی اور کب مادی قرار پائے گا؟صرف یہ کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ آپ کے اس ارشاد سے ہمارا یہ موقف ثابت ہوگیا کہ روحانی ومادی تدبر یکجا ہیں۔اور آپ کا الشریعہ ،جون 2014،ص38پر یہ ارشاد منسوخ ہو گیا کہ روحانی و مادی تدبر میں زمین و آسمان کا فاصلہ ہے۔اسی پر بس نہیں بلکہ آپ نے تو اب کے" روحانی تدبر" کو یہ کہہ کر" سائنسی تدبر" سے واصل کر دیا کہ "روحانی تدبر بھی ہمارے نزدیک تدبرِ کائنات کی ایک قسم ہونے کی وجہ سے حسی و مشاہداتی اور قابلِ تفہیم تدبر ہی ہے۔" (الشریعہ اکتوبر2014،ص45)

ہم نے عرض کیا تھا کہ جس تدبر کو آپ "سائنسی تدبر "کہہ کر غیر روحانی یا محض ایک مباح سرگرمی بنانے کے درپے ہیں وہ ،عین ممکن ہے کہ کسی صاحبِ تدبر کے لیے خدا کے عرفان و ایقان کا ذریعہ بن جائے۔ (دیکھیے "روحانی تدبر کائنات؟"،ص52) آپ نے بھی اقرار کر لیا ہے کہ "سائنسی تدبر" خدائی مطالب? تدبر کی تکمیل ہو سکتا ہے۔آپ کا ارشاد ہے:

"یہ ممکن ہے کہ کوئی سائنسدان مادی اغراض کے لیے ہونے والے اپنے مذکورہ تدبر کو قلب کی بیداری، ہوشیاری ،ابدی و بدیہی صداقتوں کی بازیابی ،ظلمتوں کی سرکوبی اور طاری غفلت کے ازالہ کے لیے استعمال کرے تو سائنسی تدبر کا یہ ملکوتی استعمال خدائی مطالبہ تدبر کی تکمیل کہلائے گا۔"(الشریعہ اکتوبر 2014، ص 51) 

تدبر کو سائنسی اورروحانی خانوں میں تقسیم کرنے کی بنیاد دراصل یہ مفروضہ تھا کہ "سائنسی تدبر"، "روحانی تدبر " کی راہ میں رکاوٹ ہے۔اگر آدمی " سائنسی تدبر" میں منہمک ہو جائے تو وہ "روحانی تدبر" کی برکات سے محروم ہو جاتا ہے۔ اسی تناظر میں آپ نے استدلال کیا تھا کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رویہ " سائنسی تدبر" سے میل نہیں کھاتا۔ (الشریعہ جون 2014،ص38۔41)لیکن اب آپ نے یہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ "سائنسی تدبر" روحانی تدبر" کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔آپ کے الفاظ ہیں :

"آپ جان چکے ہیں کہ ہم نے سائنسی تدبر کو مباح بلکہ مستحسن بھی لکھا ہے ،پس اگر یہ تدبر خدا نخواستہ مطلوب روحانی تدبر کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہوتا جو کہ حکمِ خداوندی ہے تو ہم سائنس کو آخر کیوں مباح اور مستحسن کہتے،اس صورت میں تو ایک خداوندی حکم کی تعمیل میں رکاوٹ کی وجہ سے اسے واجب الترک اور قابلِ نفرین ہونا چاہیے تھا۔" (الشریعہ اکتوبر 2014، ص 43)

آپ نے صرف یہی حقیقت بیان نہیں کی کہ "سائنسی تدبر " "روحانی تدبر" کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس حقیقت کو بھی واضح کر دیا کہ جدید دور کے سائنسی انسان کے سائنسی تدبر سے اس کی روحانیت کو ئی خطرہ لا حق نہیں۔ آپ کا کہنا ہے :" ہمارا مقصد اپنے مضمون میں کہیں پر بھی یہ ثابت کرنا نہیں تھا کہ جدید دور کا سائنسی انسان جو سائنسی ورلڈ ویو رکھتا ہے، وہ روحانی تدبر کا اہل نہیں۔"(ایضاً) 

ہمارا بحث میں ایک مدعا یہ تھا کہ سائنسی تدبر کو محض مباح سرگرمی قرار دینے سے اس کی مذہبی اہمیت ختم یا کم ہو جاتی ہے، حالانکہ اس کے بہت سے بدیہی نتائج کی غیر معمولی مذہبی اہمیت ناقابلِ انکار ہے۔اس مقدمے کے ثبوت میں ہم نے عرض کیا تھا:

"دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے حالاتِ زمانہ کے تحت توپیں ،بم اور ٹینک وغیرہ سامانِ حرب کی تیاری تقریباً تمام اہل علم کے نزدیک قرآن کی تعلیمِ اعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ کی مصداق ہے۔کیا یہ اسی نہج پر تدبر کے بغیر ممکن ہے ؟ اور کیا اسلحہ کے لیے بے شمار انواع کے علوم و فنون کی ضرورت نہیں ،جو ظاہر ہے کہ تدبر ہی کی بنیاد پر استوار ہو سکتے ہیں۔ کیا اس تدبر کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والی چیزیں سائنسی دریافتیں نہیں کہلائیں گی ؟ان اشیا کے حوالے سے کیے گئے تدبر پر آپ کا فتویٰ کیا ہو گا؟روحانی تدبر یا سائنسی تدبر؟اگر روحانی تدبر ہے تو سائنسی دریافتیں روحانی ہو گئیں اور اگر سائنسی تدبر ہے تو واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ایک مباح سرگرمی ٹھہری۔" ("روحانی تدبر کائنات؟"، ص 55)

آپ کو گو اس بات سے اتفاق نہیں کہ سائنسی تدبر کی کوئی مذہبی اہمیت ہو سکتی ہے،تاہم آپ کو یہ تسلیم ہے کہ یہ فضیلت والی اور مستحسن سرگرمی ہے۔آپ اپنے تازہ مضمون میں گذشتہ مضمون کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

"گذشتہ تحریر میں ہمارا مقصد صرف یہ واضح کرنا تھا کہ دنیاوی مقاصد و اغراض کے لیے اور مادی حقائق کو منکشف کرنے کے لیے کائنات میں کیا جانے والا تدبر جو کہ سائنسدان کرتے ہیں ،یہ ہماری اصطلاح میں سائنسی تدبر ہے اور یہ جائز ہے ،بلکہ نیک نیتی کے ساتھ ہو تو واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ جیسی آیات کی وجہ سے فی زمانہ امت مسلمہ کے لیے کسی درجہ مستحسن بھی ہو سکتا ہے۔" (الشریعہ اکتوبر 2014، ص 39) 

ضمنی گزارش سے اگر ہمارے ممدوح تنقید نگار کبیدہ خاطر نہ ہوں تو عرض کیے دیتے ہیں کہ واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ کا حوالہ جناب نے اپنے گذشتہ مضمون میں کہیں نہیں دیا۔(دیکھیے: الشریعہ جون 2014، ص 37۔41) یہ حوالہ ہم نے اپنے مضمون "روحانی تدبرِ کائنات؟" میں دیا ہے،جیسا کہ ہمارے اوپر درج اقتباس سے واضح ہے۔ شاید اپنے مضمون پر ہماری تنقید سے ان کو یہ شبہ ہوا کہ یہ حوالہ انہوں نے دیا ہوگا۔بہر حال ہم اس سہو کو ناقابل گرفت سمجھتے ہیں۔ساتھ ہی ایک چھوٹی سی ضمنی گزارش یہ ہے کون سا تدبر نیک نیتی سے ہو رہا ہے اور کون سا بد نیتی سے، اس کا فیصلہ کرنے کا ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ،اسے اللہ کے اختیار ہی میں رہنے دیجیے۔ایسا کرنے سے ہم دوسروں کے بارے میں ایسے فیصلوں سے بچ جائیں گے جو دوسروں کے کردار و عمل سے متعلق حقائق کی بجائے ہمارے ان کے بارے میں تخمینوں ،مفروضوں اور بغض و نفرت پر مبنی ہوتے ہیں۔ (اس سے متعلق کچھ گزارش ہم آخر میں پیش کریں گے)۔ ہمارا مقصد جناب کے مذکورہ اقتباس سے یہ ہے کہ جناب نے اب سائنسی تدبر کو محض مباح اور فضیلت والی سرگرمی سے اٹھا کر مستحسن سرگرمی کے درجے پر فائز کر دیا ہے۔ سوجناب اگر لفظوں پر نہ جائیں تو اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ سائنسی تدبر کی مذہبی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں اور یہی ہماری بحث سے مقصود تھا۔

جہاں تک جناب عبداللہ شارق کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ ہماری "تنقید بعض ایسی وضاحتوں کی متقاضی ہے جو اگر کسی بچہ کے سامنے دینی ہوتیں تو حرج نہیں تھا ،لیکن الشریعہ کے صفحات پر ایسا کرتے ہوئے گھٹن پید ا ہوتی ہے۔" (الشریعہ اکتوبر 2014،ص50)اس پر ہم ان سے کوئی وضاحت طلب نہیں کریں گے کہ ہم گفتگو کو "لائیٹ" رکھنا چاہتے ہیں اور اپنے ممدوح کو پھر "سیریس "نہیں کرنا چاہتے۔لیکن اتنا عرض کریں گے کہ کم از کم الشریعہ کو، جتنا ہم جانتے ہیں، آپ کی وضاحتوں سے کوئی گھٹن محسوس نہیں ہو سکتی۔وہ ہم ایسے بچوں ہی کو تو بالغ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم میچور ہونے کو تیار ہی نہیں ہو رہے۔

ہماری ایک بات جو جناب کو گھٹن آمیز اور بچگانہ لگی ہے، وہ یہ کہ چونکہ ہم مذہب کے نام پر ایسے بہت سے کام کرتے ہیں جو آنجناب علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہیں کیا کرتے تھے ،اور ہم ان کاموں کو غلط نہیں سمجھتے اس لیے ہمارا ایسا سائنسی تدبر جو وہ اصحاب نہیں کیا کرتے تھے ،غلط کیسے ہو سکتا ہے! لیکن اس بچگانہ بات کو ہم بالغ نظر سمجھنے سے یکسر قاصر ہیں ، اور پھر وہی دلیل دیتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں آنجناب? اور صحابہ نے ایسا کیو ں نہ کیا! جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ ہر اس کام کو غلط نہیں سمجھتے جو حضور اور آپ کے اصحاب نے نہیں کیا، لیکن یہاں معاملہ یہ نہیں۔ یہاں بحث کسی کام کے مطلق رسول? اور اصحاب رسول کے بعد واقع ہونے کی نہیں بلکہ اس کی مذہبی اہمیت کی نفی یا اثبات کی ہے۔یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کیا صرف اسی کام کی مذہبی اہمیت ہے جو بعینہ حضور اور صحابہ کے سے طور و انداز سے انجام پائے یا اس کے علاوہ بھی کوئی عمل مذہبی اہمیت کا سزاوار ہے؟ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے امور و اعمال بھی مسلمہ مذہبی اہمیت کے حامل ہیں جو ہ بعینہ حضور اور صحابہ کے سے طور و انداز سے انجام نہیں پاتے۔ جب ایسا ہے تو زیرِ بحث سائنسی تدبر اس سے مستثنیٰ کیسے ہو سکتا ہے!ہماری جس بات کو جناب عالی "سوال چنا جواب گندم" سے تعبیر فرما کر ہوا میں اڑا رہے ہیں وہ آپ کی اصل "مشکل کشا "ہے۔ آپ جس فہرست کو "وغیرہ وغیرہ کی ایک لمبی داستان"(ایضاً،ص50)کہہ کرفضول باور کرارہے ہیں،وہ ہم نے کچھ یوں بیان کی تھی: 

"کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں وہ سرگرمیاں نظر آتی ہیں جو ہم اور آپ آج کل ببانگ دہل دین کی خدمت کے نام پر انجام دے رہے ہیں ؟کیا حضور اور آپ کے صحابہ ہماری طرح مضمون نگاری کیا کرتے تھے؟کیا انہوں نے بڑے بڑے مدارس اور اداروں کی ادارت سنبھال رکھی تھی ، اور ان کے لیے وہ نصاب وضع کر رکھا تھا جو ہمارے نزدیک قریب قریب الہامی ہے؟ کیا وہ اشعری ، ماتریدی ،حنفی ،شافعی ،دیوبندی ،بریلوی کہلایا کرتے تھے ؟ کیا وہ غزالی اور ابن رشد کی کلامی بحثوں پر وقت ضائع کیا کرتے تھے ؟ کیا ان میں سے بہت سی بحثیں کبھی صحابہ کے خواب و خیال میں بھی آئی تھیں ؟ انہوں نے ایسی مذہبی سیاسی جماعتیں بنا رکھی تھیں جو اسلام کی خدمت کے نام پر ان سیکولرلوگوں کے ساتھ مل کر حکومت کیا کرتی تھیں جن کی کرپشن اور اسلام دشمنی کا خود ہی ڈھنڈورا پیٹا کرتی تھیں ؟"
صحابہ نے تو آپ کے بقول " قرآنی لفظ "اب"کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں نہیں بنائی تھی "لیکن ہمارے فقہا اور متکلمین نے قرآن کے ایک ایک لفظ کے فقہی و کلامی مصداق ڈھونڈنے میں عمریں کھپا دیں ،ہم اس پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور ان کی مزید کرید کے لیے تھوک کے حساب سے دارالافتا ،مفتی اور متکلم بنا دیے، اور مسلسل بنائے جا رہے ہیں۔ دفتروں کے دفتر سیاہ کر دیے اور کرتے جا رہے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے کھجوروں سے مسجدیں بنائیں۔ ہم نے بھوک سے بلکتی مخلوق کی سنی ان سنی کر کے قومی دولت کو تزئین ممبر و محراب میں جھونک دیا۔ "شاگردانِ رسول نے مفتوحہ علاقوں میں پڑے کتا بوں کے انبار سے دلچسپی نہ لی" اور ہم ہیں کہ اپنی للہیت اور خدارسیدگی کو داو پر لگا کر مدارس اور کتب خانوں میں انواع واقسام کی کتابیں جمع کر تے رہتے ہیں ؛اوران کتابوں میں بہت سی ایسی بھی ہیں جن میں ہمارے عقائد کے لحاظ سے کفر بھرا ہوا ہوتاہے۔ یہ فہرست بہت طویل ہے۔یہ سب چیزیں اگر عہدِ نبوی و صحابہ میں موجود نہ ہونے کے باوجوددین و ملت کی خدمت ہیں تو سائنس بے چاری ؛جس نے آپ کی ان دینی خدمات کے لیے اپنی بہت سی سروسز پیش کی ہیں، اس سے متعلق غور و فکر ہی دشمنی ملت اور مخالفتِ قرآن کیوں ٹھہری!"

لیکن اس داستان کی کسی بات سے متعلق آپ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ آج کل اس کی مذہبی اہمیت نہیں اور اس کے حامل وقائل اس کو اسلام کی مطلوب و مقصود بات خیال نہیں کرتے،حالانکہ حضور علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کا اس میں کوئی کردار نہیں۔جب اس لمبی داستان کی ہر بات اسلام کا مطلوب و مقصود ہے تو اس کی آخری بات یعنی سائنسی تدبر کومحض مباح کہنے اور اسلام کا مقصود و مطلوب نہ ماننے کا بھی کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔

آپ سائنسی تدبر کے حوالے سے ہمارے اس استدلال سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ مرغوب و پسندیدہ اور موافقِ قرآن ہے، لیکن آپ کو یہ ماننے میں تامل ہے کہ موافق قرآن پر آیاتِ قرآنی کا انطباق بھی ہو سکتا ہے۔ آپ نے ہمارے استدلال کے حوالے سے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’گزارش یہ ہے کہ جو چیزمباح اور کسی درجہ مستحسن ہو، وہ آپ ہی کے بقول خلافِ قرآن نہیں بلکہ موافقِ قرآن ہے اور اسی کے ہم قائل ہیں۔ لیکن یاد رکھیے کہ کسی چیز کے موافق قرآن ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب اس پر قرآن کی کوئی بھی آیت منطبق کر دینے کا کسی کو فری ہینڈ مل گیا ہے۔ مثلاً جسمانی ورزش ایک مباح و مستحسن سرگرمی ہے اور اس لیے اسے خلافِ قرآن بھی نہیں کہا جا سکتا، مگر اب اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ "اقیموا الصلوۃ" کے قرآنی حکم سے بھی یہی ورزش مراد لینا جائز ہے۔" (ایضاً، ص 51) 

ہمارے لیے جناب عبداللہ شارق بہت محترم ہیں ،اس لیے ہم انہیں "سوال چنا جواب گندم" یا"بچگانہ وضاحتوں کی متقاضی تنقید" کا طعنہ نہیں دیں گے۔ ہم بڑے ادب سے گزارش کریں گے کہ جناب آیتوں کے مختلف مفاہیم پر انطباق کے لیے لوگوں کو فری ہینڈ دینے کا کوئی بھی قائل نہیں۔ہم تو بات اس تدبر کی کر رہے ہیں جس پر قرآن کی سینکڑوں آیات بڑے بڑے مفکرین قرآن کے نزدیک بالبداہت منطبق ہو رہی ہیں،لیکن آپ اس کا کوقرآن کی ضمنی مراد بھی ماننے کو تیار نہیں۔ آپ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ ضمنی مراد اور " یہی مراد" میں بہت فرق ہے۔ضمنی مراد اضافی ہوتی ہے اور اس سے متن کے بنیادی و اصلی مفہوم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ضمنی مراد لینے والا کوئی بھی شخص کبھی یہ نہیں کہتا کہ متن کی یہی مراد ہے ،بلکہ وہ ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ اس سے یہ مفہوم بھی نکل سکتا ہے۔

کسی بات کو قرآن کے نقطہ نظر سے مستحسن اور موافق قرآن مان لینے کے بعد یہ کہنے کی کوئی گنجایش ہی نہیں رہتی کہ وہ بات قرآن کی ضمنی مراد بھی نہیں ہو سکتی۔جو بات قرآن کی ضمنی مراد بھی نہ ہو اس کے مستحسن اور موافق قرآن ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔قرآن کے نقطہ نظر سے صرف اسی بات کو مستحسن اور موافقِ آیاتِ ربانی قرار دیا جاسکتا ہے جو اس کی آیاتِ بینات سے ثابت ہوتی ہو۔ اگرچہ "اقیموا الصلوۃ" سے جسمانی ورزش مراد لینے کی مثال کا تدبر سے متعلق سینکڑوں آیاتِ قرآنی سے سائنسی وتحقیقی تدبر مراد لینے سے کچھ علاقہ نہیں۔ تاہم اگر ہمارے ممدوح تنقید نگار گھٹن محسوس نہ کریں تو نماز کے قیام سے اللہ کی یہ ضمنی حکمت مراد لینے میں بھی کوئی امر مانع نہیں کہ نمازی جسمانی طور پر صحت مند وتوانارہیں، زندگی کو بھرپور انداز سے گزاریں،دشمن کا تر نوالہ نہ بنیں، عبادتِ الٰہی کو رغبت اور دلجمعی کے ساتھ ادا کرسکیں۔ جسمانی ورزش اگر مخالفِ قرآن نہیں اور مستحسن ہے تو اس کا قرآن کی اس نوع کی آیات سے ثابت ہونا کسی طرح بعید از قیاس نہیں۔ "اقیموا الصلوۃ" میں اگر اس حوالے سے آپ کو تکلف محسوس ہو تو "زادہ بسطۃ فی العلم والجسم" اور "واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ" وغیرہ بہت سی دیگر آیات سے استشہاد کیا جا سکتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ جناب عبداللہ شارق کے استدلالات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ سائنسی و روحانی تدبر یکجا ہیں۔ سائنسی تدبر قرآن کے نقطہ نظر سے مستحسن ہے، اس کی مذہبی اہمیت مسلمہ ہے ،اورقرآن سے اس کا جواز فراہم ہوتا ہے،اور یہی ہمارا استدلال ہے۔ہمارے ممدوح تنقید نگار معناً تو ان باتوں کو صاف مان رہے ہیں، البتہ لفظاً وہ کہیں مان لیتے اور کہیں انکار کر دیتے ہیں۔ہم لفظوں پر نہیں جاتے اور سمجھتے ہیں کہ مقصود ومدعا کے اعتبار سے وہ ہمارے نقطہ نظر سے زیادہ دور نہیں۔انہیں مان کر نہ ماننے کی روش نہیں اپنانا چاہیے۔

تاہم ہمیں اس بات پر اصرار نہیں کہ وہ ہماری رائے کو لازماً تسلیم کریں۔ہم اپنے دیانتدرانہ فہمِ مذہب کی بنیاد پر اپنی رائے پیش کر چکے۔وہ جس رائے کو دیانتداری سے صحیح سمجھتے ہیں، اسے اختیار اور بیان کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ البتہ ضد اور اختلاف برائے اختلاف کی بنا پر نہ ماننا کسی طرح روا نہیں ،اور یہ فیصلہ ہر صاحبِ علم و ہوش مسلمان خو د کر سکتا ہے کہ وہ کسی بات کو ضد کی بنا پر نہیں مان رہا یا واقعی اس سے مختلف رائے کو مذہب کا منشا خیال کرتا ہے۔ پہلی صورت میں وہ مواخذے کا سزاوار ہے اور دوسری صورت میں منشا ے الہی تک پہنچنے کی دیانتدارانہ جد و جہد کے حوالے سے دی گئی ثواب کی نوید کی بنا پر اجر کا،لیکن یہ کام نیت سے عبارت ہے اور نیتوں کا حال اور اس پر فیصلے کا اختیار خدوندِ قدوس کا ہے۔ ہم نہ ان سے واقف ہو سکتے ہیں اور نہ اس بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔

آراء و افکار

(نومبر ۲۰۱۴ء)

Flag Counter