مکالمے کی نئی راہیں

محمد عامر خاکوانی

پچھلے ڈیڑھ دو برسوں کے دوران سوشل میڈیا سے میرا رابطہ خاصا بڑھا ہے۔ میری دلچسپی دوسری ویب سائیٹس میں پیدا نہیں ہو سکی، فیس بک البتہ شروع ہی سے مجھے دلچسپ لگی۔ میرے کئی دوستوں کو ٹوئٹر زیادہ پسند ہے اور ان کے خیال میں اس کے ذریعے زیادہ بہتر ابلاغ ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوتا ہوگا، مگر مجھے تو ٹوئٹر خاصا بور لگا۔ جو بات فیس بک میں ہے، وہ ادھر نہیں۔ ممکن ہے آگے جا کر ٹوئٹر میں دلچسپی پیدا ہو جائے۔ فیس بک کا ایک بڑا فائدہ میں نے یہ دیکھا کہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کا باہمی رابطہ او ر انٹرایکشن اس نے ممکن بنا دیا۔ متضاد سوچ کے حامل وہ لوگ جو کبھی ایک محفل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے، ان کے لیے مخالف نقطہ نظر کو سننا اور سمجھنا بھی ممکن نہیں، فیس بک نے ان کی مشکل آسان کر دی ہے۔ کئی جگہوں پر تو اتنی عمدہ بحث دیکھی کہ دل خوش ہو گیا۔ اہم فکری ایشوز پر دوستوں نے بات کی اور نہایت تحمل کے ساتھ دوسروں کے جواب بھی سنے۔ اس طرح کے فورمز پر گفتگو کا اسلوب یہی ہونا چاہیے کہ اپنا نقطہ نظر پوری طرح وضاحت اور دلائل کے ساتھ بیان کر دیا جائے اور پھر جواباً بھی ایسا ہی کیا جائے۔ چیٹ کی طرز پر ایک ایک دو دو فقروں میں سوال جواب سے خلط مبحث ہوتی ہے، کوئی کارآمد چیز برآمد نہیں ہوتی۔ ایک اچھا کام یہ ہوا کہ بہت سے لوگوں نے اردو ٹائپنگ سیکھ لی یا وہ گوگل ٹرانسلیٹر وغیرہ استعمال کر کے اردو میں طویل نوٹ لکھتے ہیں۔ اس سے ابلاغ میں زیادہ آسانی ہو جاتی ہے۔

ایک بات البتہ مجھے شدت سے محسوس ہوئی کہ یہاں بھی بیشتر لکھنے والوں نے اپنے اپنے ڈیرے ہی بنا رکھے ہیں۔ وہ اپنے صفحات پر کالم وغیرہ پوسٹ کر دیتے ہیں اور ان کے مداح ان پر تبصرے کر دیتے ہیں۔ متبادل یا اختلافی رائے کم ہی نظر آئی۔ مجھے لگتا ہے کہ ایسے مشترکہ فورم کی ضرورت ہے جہاں کالم نگار اور تجزیہ نگار اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کر سکیں اور کالموں پر ہونے والے سنجیدہ نوعیت کے سوالات کے جوابات بھی دے سکیں۔ اس طرح کے کسی فورم پر جانے میں کم از کم مجھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ میں دانستہ طور پر ساتھی کالم نگاروں کے فیس بک صفحات پر کمنٹس کرتا رہتا ہوں تاکہ ان صفحات کو وزٹ کرنے والوں کے لیے مختلف آرا ایک ہی جگہ پر میسر آ سکیں۔ برادرم رؤف کلاسرا نے ایک ویب سائٹ کی بنیاد ڈالی تھی جہاں مختلف لکھنے والے اپنی تحریریں بھیجتے رہتے، مگر اپنی مصروفیت کے باعث وہ اسے وقت نہیں دے پائے۔ اس سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے کسی کو آگے آنا چاہیے۔

اسی طرح بہت سے صفحات ایسے ہیں جہاں پر کسی خاص مکتب فکر یا سکول آف تھاٹ کے لوگ ہی اکٹھے ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی سے متاثر فکر کے نوجوانوں کے اپنے پیج ہیں اور وہ ایک دوسرے کی پوسٹ ہی آگے بڑھاتے ہیں۔ کم وبیش یہی حال علامہ طاہر القادری یا زید حامد وغیرہ کے حامی کرتے ہیں۔ ایک خوشگوار تبدیلی میں نے روایتی دینی حلقوں میں دیکھی۔ چونکہ اب کئی جامعات میں کمپیوٹر کی تعلیم دی جا رہی ہے اور وہاں سے فارغ التحصیل افراد کی تعداد بھی خاصی ہو چکی، دینی مدارس سے فارغ التحصیل یہ لوگ اب فیس بک پر آ چکے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ دینی مدارس اور ان کے طلبہ کا حلقہ مین اسٹریم سے کٹا ہوا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کا مدارس کے ساتھ کہیں پر، کسی بھی نوعیت کا انٹر ایکشن موجود نہیں۔ مختلف پبلک یونیورسٹیوں کے طلبہ کے وفود جب دوسرے صوبوں یا شہروں کی یونیورسٹیوں کا وزٹ کرتے ہیں، اس سے باہمی مکالمہ کی فضا قائم ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ جامعہ کراچی یا جام شورو یونیورسٹی جائیں تو یہ صرف طلبہ کے ایک وفد کا وزٹ نہیں، بلکہ دو مختلف ماحول اور مختلف مزاج میں کام کرنے والی جامعات کے طلبہ کا انٹر ایکشن بھی ہے۔ اس کی اپنی افادیت ہے۔ اس طرح کا انٹر ایکشن دینی مدارس اور جدید یونیورسٹیوں کے طلبہ کے درمیان موجود نہیں۔ اگر لمز، فاسٹ اور نسٹ وغیرہ کے طلبہ جامعہ رشیدیہ یا جامعہ بنوریہ جائیں تو ان کی بہت سی غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگا اور مدارس کی حقیقی تصویر سامنے آئے گی۔ کم وبیش یہی صورت حال مدارس کے طلبہ کے پبلک یا نجی یونیورسٹیوں کے وزٹ کے بعد پیدا ہوگی۔

ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ روایتی دینی حلقوں کا ہمارے سماج کے ساتھ بھی قریبی تعلق نہیں۔ روایتی طور پر جسے مولوی کہا جاتا ہے، اسے ہم نے اپنے سماج کا حصہ بنایا ہی نہیں۔ صرف اسے نماز پڑھانے، بچوں کو قرآن پاک پڑھانے یا پھر مخصوص مواقع پر مختلف رسومات کی ادائیگی کے قابل ہی سمجھا ہے۔ انھوں نے فلم یا کسی کلچرل فیسٹیول میں تو کیا جانا ہے، ان کے بارے میں ازخود تصور کر لیا جاتا ہے کہ انھوں نے کسی علمی ادبی سرگرمی میں حصہ نہیں لینا۔ کچھ قصور ان کا بھی ہوگا، مگر ہم نے بھی انھیں ساتھ ملانے کی سعی نہیں کی۔ مولوی یا مدارس کے طلبہ اور فارغ التحصل طلبہ، حتیٰ کہ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے نوجوانوں کو کھیلوں وغیرہ سے بھی دور ہی رکھا جاتا ہے۔ محلے کی کرکٹ ٹیم میں اگر کوئی باریش لڑکا شامل ہو جائے تو اس کا مذاق اڑایا جاتا اور حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اگرچہ جامعۃ الرشید جیسے چند ایک مدارس ایسے ہیں جنھوں نے جدید ترین تعلیم کو اپنے اداروں کا حصہ بنایا، یوں آئی ٹی، بزنس ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ جیسے میدانوں کے لیے تربیت یافتہ نوجوان تیار کیے، مسئلہ مگر یہ ہے کہ اس معیار کے مدارس دو چار ہی ہیں۔ ہمارے دانش وروں اور گھنٹوں نان ایشوز پر ضائع کرنے والے اینکروں کو اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہیے کہ معاشرے سے کٹے ہوئے اس حصے کو کس طرح مین اسٹریم کے ساتھ شامل کرنا ہے۔ ویسے مدارس کی داخلی دنیا کے حوالے سے بھی خاصا کچھ کرنے کی ضرورت ہے، مگر یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

فیس بک نے البتہ یہ کمی کسی حد تک پوری کی ہے۔ مجھے بعض مدارس سے تعلق رکھنے والی ممتاز دینی شخصیات کے صفحات نظر آئے ہیں۔ اگرچہ ان میں زیادہ تر دینی اور اصلاحی نوعیت کا مواد ہی دیا جا رہا ہے، مگر چلو یہ لوگ فیس بک پر تو آ گئے۔ مفتی ابو لبابہ شاہ منصور جیسے ممتاز لکھاری جن کی خاصی بڑی ریڈر شپ ہے، وہ اگر سنجیدہ بحث ومباحثہ کے لیے کوئی پیج بنائیں جہاں روایتی دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے دنیا دار بھی اپنی رائے دے سکیں، ایسی صورت میں باہمی مکالمے کی اچھی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ محترم المقام مولانا زاہد الراشدی نے اپنے ماہانہ جریدے ’الشریعہ‘ کی صورت میں بڑا عمدہ اور معیاری علمی، فکری فورم مہیا کر رکھا ہے۔ ان کے اسکالر صاحب زادے عمار ناصر فیس بک پر خاصے فعال ہیں۔ وہ الشریعہ کے فورم کو سوشل میڈیا پر بھی متحرک کر سکتے ہیں۔ فیس بک کے نقصانات اپنی جگہ ہیں، اس کی زیادتی وقت کے ضیاع کا باعث بنتی ہے، اس لیے توازن ضروری ہے، مگر اس نے مکالمے کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ان امکانات کو کس قدر بروئے کار لاتے ہیں۔

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

آراء و افکار

(مئی ۲۰۱۴ء)

Flag Counter