امارت اسلامیہ کا قیام اور سقوط ۔ افغان طالبان کا نقطہ نظر

ادارہ

(زیر نظر سطور امارت اسلامیہ افغانستان کے سرکاری ترجمان ماہنامہ ’’شریعت‘‘ کے شمارہ نومبر/ دسمبر ۲۰۱۳ء میں ’’۱۵؍محرم: افغان عوام کی فتح کا دن‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے ایک مضمون سے ماخوذ ہیں۔ امارت اسلامیہ اور القاعدہ کے مابین تعلق کی نوعیت کے ضمن میں افغان طالبان کے موقف کے حوالے سے اہمیت کے پیش نظر اس حصے کو یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ اہل دانش کی طرف سے اس موضوع پر سنجیدہ تجزیاتی تحریروں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ مدیر)


طالبان تحریک کا ظہور وقت اور حالات کا ایک مثبت رد عمل تھا۔ یہ ایک مسلح تحریک تھی جس نے افغانستان کو ٹوٹنے، بکھرنے، فسادات سے تباہ ہونے اور طوائف الملوکی کا شکار ہونے سے بچا لیا او رمسلمانوں کو صدر اسلام کی ایک حقیقی خوب صورت تصویر دکھا دی۔ یہی اسباب وعوامل تھے جو تحریک کے آغاز کا باعث بنے۔

طالبان کو کون لایا؟ 

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب بہت آسان اور بہت واضح ہے۔ وہ یہ کہ طالبان ایک اسلامی اور قومی احساس کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں۔ نہ انھیں کسی نے ورغلایا ہے اور نہ یہ باہر کا کوئی وارداتی گروہ ہے، بلکہ یہ حالات کا وہ فوری رد عمل تھا جس کے ریشے بہت کم وقت میں عوام کے بھرپور تعاون کی بدولت سپین بولدک سے اسلام قلعہ، تورخم اور شیر خان بندرہ تک پھیل گئے، جس نے اپنے ہم وطنوں کو قوم پرستی کی بجائے اخوت، بھائی چارے اور امن کا پیغام دیا۔

نہ کسی بیرونی جنرل نے اسے منظم کیا، نہ لندن کے سفارت خانے یا کسی اور بیرونی محور کے اشارے، دولت یا اسلحوں سے اس تحریک کی تنظیم سازی کی گئی۔ اگر کچھ مزید تحقیق میں جائیں تو تحریک اسلامی طالبان بہت پہلے سے ’’جمعیت طلبہ اہل السنت والجماعت‘‘ کے نام سے موجود تھی۔ اس تنظیم کی صوبائی، ضلعی اور علاقائی شوریٰ بھی فعال تھی۔ روس کے خلاف لوگوں کے جہادی جذبات بہت گرم تھے۔ ایک عینی شاہد کے طور پر وہ رکنیت فیس یا ماہانہ چندہ اب بھی مجھے یاد ہے جس کی ادائیگی زمانہ طالب علمی میں تہی دستی اور کس مپرسی کے باوجود صرف اس تحریک کو مضبوط کرنے کے لیے ہم کرتے تھے۔ اسی دور میں جنوبی علاقوں میں طلبہ کے بڑے بڑے جہادی محاذ پہلے سے موجود تھے جو کمیونسٹوں کی شکست کے بعد غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہو کر غیر منظم ہو گئے تھے اور کسی نئی تحریک اور بیداری کے منتظر تھے۔ دینی مدارس اور جامعات میں جمعیت طلبہ اہل السنت والجماعت کی تحریک اور طلبہ کے سابقہ جہادی محاذ ساتھ ساتھ کام کر رہے تھے۔ ایک اسلامی امارت کے قیام نے ان جماعتوں اور محاذوں کو ایک نتیجے پر منتج کر دیا، اس لیے طالبان تحریک کی اٹھان کے اسباب اجنبی نہیں، داخلی تھے جس نے ایسی روشن تحریک کی شکل اختیار کر لی۔

طالبان کے مالی اور عسکری مآخذ 

امریکی جارحیت کے خلاف جاری حالیہ جہاد کے دوران امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے جتنے مالی منابع اور مآخذ کام کر رہے ہیں، پہلے اس سے بھی زیادہ تھے، اس لیے کہ ملک کے مخلص صاحب حیثیت اور عسکری حضرات کے پاس جو اسلحہ اور رقم تھا، وہ انھوں نے طالبان تحریک کے حوالے کر دیا، اس لیے کہ وہ جنگجو فسادیوں سے تنگ آ چکے تھے۔ وہ جن کی جان، مال، عزت اور ناموس کو غیر قانونی شدت پسند جنگجووں سے خطرہ تھا، انھوں نے طالبان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرنے سے گریز نہیں کیا۔

طالبان اور شیخ اسامہ بن لادن شہید رحمہ اللہ 

اس میں شک نہیں کہ شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ ایک عالمی مجاہد اور تمام اسلامی ممالک کی آزادی کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ فلسطینیوں کو اپنا حق دیا جانا چاہیے۔ جزیرۂ عرب سے خارجی افواج کو نکالا جائے اور افغانستان میں بھی ایک اسلامی نظام کا قیام ہونا چاہیے۔ مگر یہ بات کسی کو بھولنی نہیں چاہیے کہ شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ طالبان سے پہلے بھی افغانستان میں موجود تھے۔ عبد اللہ عزام شہید رحمہ اللہ کے ہمراہ روسیوں کے خلاف سالہا سال تک بے دریغ قربانیاں دیں اور اسی وقت سے کچھ جہادی تنظیموں کے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ طالبان نے اگر پوری جواں مردی اور بہادری سے آخری سانسوں تک ان کی حفاظت کی اوربالآخر اپنی سلطنت بھی اس پر قربان کر دی تو اس کی وجہ صرف اور صرف دین اسلام کا حکم اور افغانی روایات تھیں، طالبان نے آخری سانس تک جس کی لاج رکھی اور ہر طرح کے سیاسی اور فوجی دباؤ کو مسترد کیا۔ ایسی بات کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ طالبان نے شیخ اسامہ کو عالمی تحریکوں اور کارروائیوں کے حوالے سے کوئی ہدایات دی ہوں۔ وہ یہاں ایک مہمان تھے اور عالمی مسائل میںآزاد تھے۔ وہ یہاں تھے تو اپنے عالمی جہادی منصوبے وہ خود ترتیب دیتے تھے۔ طالبان نے کبھی اس میں دخل نہیں دیا اور نہ طالبان کو اس حوالے سے کوئی اطلاع ہوتی تھی۔

نیو یارک کا واقعہ اور طالبان کی بے خبری 

جب عالمی تجارتی مرکز اور پینٹاگون پر حملہ ہوا تو طالبان نے اس سے بے خبری ظاہر کی۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح انھیں بھی حیرت تھی کہ یہ واقعہ کس نے ترتیب دیا تھا؟ بلکہ اس حوالے سے امارت اسلامیہ نے ایک مذمتی اعلامیہ بھی نشر کر دیا۔ جارج ڈبلیو بش جو پہلے سے امارت اسلامیہ کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا، اسے اچھا موقع ہاتھ آ گیا۔ اس نے عالمی دنیا میں اعلان کر دیا کہ یا تو ہمارے ساتھ ہو جاؤ یا القاعدہ کے ساتھ۔ ایک پریس کانفرنس میں تو اس نے صلیبی جنگ کے آغاز کے الفاظ بھی استعمال کیے جس پر بعد میں شدید تنقید بھی کی گئی۔ امارت اسلامیہ افغانستان پر حملہ کیا گیا۔ یہ اس دور کی اپنے طرز کی ایک انتہائی غیر متوازن جنگ تھی، مگر طالبان نے اس جنگ کو بھی پیٹھ نہیں دکھائی۔ آج یہ اپنی شکست کا خواب دیکھ رہے ہیں، انھیں رسوائی کا سامنا ہے۔ افغانستان پر حملہ ایسے حالات میں کیا گیا کہ انھیں نہ گیارہ ستمبر کی خبر تھی اور نہ وہ اس میں ملوث رہے تھے۔

آراء و افکار

Since 1st December 2020

Flag Counter