دستور و قانون
ممتاز قادری کیس: سپریم کورٹ کے فیصلے کے اہم نکات
― ادارہ
یہ کیس سب سے پہلے ایک سپیشل ٹرائل کورٹ میں چلا جس نے ممتاز قادری کو 302 اور اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 کے سیکشن 7 کے تحت سزائے موت سنائی جس کے خلاف جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تو عدالت نے 302 کے تحت پھانسی کی سزا برقرار...
تشدد کے خلاف خواتین کے تحفظ کا قانون :چند اہم نکات
― محمد مشتاق احمد
اصولی گزارشات۔ پہلے چند اصولی گزارشات ملاحظہ کریں: ۱۔ اسلامی قانون کی رو سے یہ موقف صحیح نہیں ہے کہ نظمِ اجتماعی کو گھر یا خاندان کے امور میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ اگر قاضی کو بیوی...
عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
― محمد مشتاق احمد
پچھلے دنوں کئی ایک اہم عدالتی فیصلے سامنے آئے ہیں جن پر اہلِ علم کی جانب سے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ میرا خیال یہ تھا کہ نفاذِ شریعت کے حوالے سے حساس لوگ ان پر ضرور قلم اٹھائیں گے لیکن ہر طرف ہو کا عالم ہی دکھائی دیتا...
ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
― ڈاکٹر محمد شہباز منج
’’شاتم رسول کو جہنم رسید کرنے والے ممتاز حسین قادری کی سزا خلافِ قرآن وسنت، اسوہ رسول اکرم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امت کے 1400 سالہ اجماع کے خلاف ہے، لہٰذا سپریم کورٹ یہ سزا واپس لے۔‘‘ یہ کسی ایک مضمون نگار،عالمِ...
اردو پر کرم یا ستم؟ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ
― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
جسٹس ج۔س۔ خواجہ نے اردو کو بطور سرکاری زبان رواج دینے کے دستوری تقاضے کے بارے میں بطور چیف جسٹسً اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز پہلے جو فیصلہ دیا ہے، اس پر تحسین و تعریف کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اردو کی دادرسی...
فتویٰ کے نظام کے لیے قانون سازی کی ضرورت
― ادارہ
اسلام آباد (عمر فاروق سے) حکومت نے مختلف مدارس اور دار الافتاؤں کی طرف سے جاری ہونے والے فتوؤں پر پابندی عائد کرنے اور مستند فتوؤں کے اجراء کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ قانون سازی کے بعد وہی دارالافتاء فتویٰ دے...
ملی مجلس شرعی کے اجلاس کے اہم فیصلے
― ادارہ
10 ستمبر 2015ء کو بعد نماز مغرب جامعہ اشرفیہ الاہور میں ملی مجلس شرعی پاکستان کا ایک اہم اجلاس مولانا مفتی محمد خان قادری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا زاہد الراشدی، علامہ احمد علی قصوری،...
۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات
― ادارہ
(اسلامی حکومت کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے ۱۹۵۱ء میں سارے مکاتب فکر کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کردہ ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات۔)۔ ایک مدتِ دراز سے اسلامی دستورِ مملکت کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں...
دستوری سفارشات پر مشاہیر علماء کا تبصرہ اور ترمیمات
― ادارہ
پاکستان میں دستور کی اسلامی بنیادوں کے حوالہ سے جنوری 1951ء کے دوران کراچی میں تمام مکاتب فکر کے 31 سرکردہ علماء کرام نے جمع ہو کر ’’22 متفقہ دستوری نکات‘‘ پیش کیے تھے جو کئی بار منظر عام پر آچکے ہیں اور کم و بیش تمام مکاتب...
نفاذِ شریعت کے رہنما اصولوں کے حوالے سے ۵۷ علماء کرام کے متفقہ ۱۵ نکات
― ادارہ
چونکہ اسلامی تعلیمات کا یہ تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار یں اور پاکستان اسی لئے بنایا گیا تھا کہ یہ اسلام کا قلعہ اور تجربہ گاہ بنے لہٰذا 1951ء میں سارے دینی مکاتب فکر کے معتمد...
خاندانی نظام کے لیے تباہ کن ترمیم
― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
مسلمانوں کے ہاں لے دے کر ایک خاندانی یونٹ بچا ہوا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے سال ۲۰۱۵ میں فیملی کورٹس ایکٹ ۱۹۶۴ء میں ایک ترمیم منظور کی ہے جسے گورنر کی منظوری سے باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ یہ ترمیم خاندانی یونٹ کے...
عدالتی فسخ نکاح کی شرعی حیثیت ۔ دینی جامعات کے ایک فتوے کا جائزہ
― قاضی محمد رویس خان ایوبی
استفتاء۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ: ۱۔ مسماۃ فائزہ دختر افسر علی شاہ کا نکاح منظور حسین شاہ سے ہوا، مگر لڑکے کے کردار کو دیکھ کر افسر علی شاہ صاحب نے رخصتی نہ کی۔ مطالبۂ طلاق کیا گیا، مگر منظور حسین نے...
خیبر پختون خوا میں سود کی ترویج کی ایک مذموم کوشش
― محمد مشتاق احمد
قرآنِ کریم نے صراحتاً سودخوروں کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے اعلانِ جنگ کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا اور بعد میں وہاں کے لوگوں نے دار الاسلام کا حصہ بننے کے لیے شرائط رکھیں تو آپ...
اسلامی قانون کی تشکیل نو : درپیش چیلنج اور محدود فکری رویے
― ڈاکٹر محمود احمد غازی
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے بڑی ریاست چھوڑی جو کم و بیش بائیس لاکھ مرب کلو میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی جس میں آبادی کا اندازہ ایک ملین کے قریب تھا...
شریعت کی تعبیر اور دستور کی اسلامیت اور کی بحث
― پروفیسر عمران احسن خان نیازی
ان دنوں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کون سی شریعت پاکستان میں نافذ کی جائے گی ؟ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بہت سے فرقوں اور شریعت کی بہت سی تعبیرات کی موجودگی میں کس کی تعبیر نافذ کی جائے گی ، بالخصوص اب...
نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ دنوں بعض عسکریت پسند گروہوں کی طرف سے اس مضمون کے بیانات اخبارات میں شائع ہوئے کہ حکومت پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے آئین کی بات کرتی ہے جبکہ ہم شریعت کی بات کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ بہت...
تکفیر اور خروج : دستورِ پاکستان کے تناظر میں
― محمد مشتاق احمد
موضوعِ زیر بحث کے کئی گوشے ہیں ۔ جو لوگ خروج کے قائل ہیں ان میں سے بعض تو حکمرانوں کے بعض اقوال یا افعال کی بنا پر ان کی تکفیر کرکے ان کی معزولی کو واجب قرار دیتے ہیں جبکہ بعض کا استدلال یہ ہے کہ پاکستان کا دستور ’ کفریہ...
کیا دستور پاکستان ایک ’کفریہ‘ دستور ہے؟
― محمد عمار خان ناصر
القاعدہ کے راہنما شیخ ایمن الظواہری نے کچھ عرصہ پہلے ’’الصبح والقندیل‘‘ کے زیر عنوان اپنی ایک کتاب میں دستور پاکستان کی اسلامی حیثیت کو موضوع بنایا ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ ’’سپیدۂ سحر اور ٹمٹماتا چراغ‘‘ کے نام...
پروفیسر مشتاق احمد کا مکتوب گرامی
― محمد مشتاق احمد
(جناب ایمن الظواہری کی کتاب پر راقم کے تنقیدی تبصرے پر محترم پروفیسر مشتاق احمد صاحب نے درج ذیل خط ارسال فرمایا جسے موضوع کی مناسبت سے یہاں درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مدیر)۔ برادر محترم عمار خان ناصر صاحب۔ السلام...
پاکستان کا قانون توہین رسالت اور فقہ حنفی
― مولانا مفتی محمد زاہد
توہینِ رسالت کے قانون کو ختم یا اس میں تبدیلی کرنے کی جو کوشش نظر آرہی تھی اور جس کے پیچھے ایک خاص لابی بھی موجود تھی جو ہمیشہ پاکستانی عوام کے احساسات وجذبات کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے، یہ کوشش تو دینی جماعتوں کے باہمی...
توہین رسالت کی سزا کے متعلق حنفی مسلک
― محمد مشتاق احمد
ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ کے مارچ ۲۰۱۱ء کے شمارے میں راقم کا ایک مقالہ ’’ توہین رسالت کی سزا فقہ حنفی کی روشنی میں ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس مقالے کے آخر میں تمام مباحث کا خلاصہ راقم نے ان سات نکات کی صورت میں پیش کیا...
ریمنڈ ڈیوس کیس کے تناظر میں اسلامی فوجداری قانون کا ایک مطالعہ
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
اس وقت ہر طرف شور و غل برپا ہے کہ پاکستان کی ایک عدالت نے پاکستانیوں کے ایک امریکی قاتل کو باعزت بری کر دیا ہے۔ یہ بات سو فی صد غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک عدالت کے ایک ’قاضی‘ نے پاکستانی مسلمانوں...
توہین رسالت پر سزا کا قانون
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
توہین رسالت کی سزا کے قانون کے خلاف ملک میں مختلف حلقے سرگرم عمل ہیں۔ ایک طبقہ ان لوگوں کا ہے جو سرے سے توہین رسالت کو جرم ہی نہیں سمجھتے اور اس پر کسی سزا کو آزادئ رائے، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب کے منافی تصور کرتے ہوئے...
توہین رسالت کی سزا فقہ حنفی کی روشنی میں
― محمد مشتاق احمد
زیر نظر مسئلے پر بحث کے دوران یہ بات مسلسل مد نظر رہے کہ کسی شخص کو باقاعدہ عدالتی کاروائی کے بغیر محض سنی سنائی بات پر یا محض الزام کی بنیاد پر ’’گستاخ رسول ‘‘ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ (۱) پس پہلا سوال یہ ہے کہ کسی شخص...
۲۹۵ سی : اقلیتوں کا نقطہ نظر
― ڈاکٹر کنول فیروز
یادش بخیر! ۲۹۵۔سی کے حوالے سے ہم پہلے بھی اپنی نپی تلی رائے دے چکے ہیں کہ پاکستان کی اقلیتیں خصوصاً مسیحی اس کی روح اور نفاذکے قطعی خلاف نہیں کیونکہ اس قانون کا نفاذ واطلاق اہل اسلام کے دینی اور قلبی جذبات واحساسات کا...
قرار داد مقاصد کا متن
― ادارہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ’’اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے۔ اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔...
تمام مکاتبِ فکر کے اکتیس اکابر علماء کرام کے طے کردہ متفقہ بائیس دستوری نکات
― ادارہ
مدت دراز سے اسلامی دستور مملکت کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسلام کا کوئی دستور مملکت ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کے اصول کیا ہیں اور اس کی عملی شکل کیا ہو سکتی ہے؟ اور کیا اصول اور عملی...
معاشرہ، قانون اور سماجی اخلاقیات
― محمد عمار خان ناصر
کسی معاشرے میں شرعی احکام وقوانین کے نفاذ کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟ یہ سوال چند دوسرے اور اس سے زیادہ بنیادی نوعیت کے سوالات کا ایک حصہ ہے جن سے تعرض کیے بغیر اس سوال کے مضمرات کی درست تفہیم ممکن نہیں۔ مثلاً: ۱۔ ایک...
قرآن کریم اور دستور پاکستان
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں اس وقت حکومت اور حکمرانوں کے حوالے سے بہت سے مقدمات زیر سماعت ہیں اور اس سلسلے میں عدالت میں پیشی سے صدر اور وزیر اعظم کی استثنا پر ملک بھر میں بحث وتمحیص جاری ہے۔ ایک جانب سے...
پاکستانی عدلیہ: ماضی کا کردار اور آئندہ توقعات
― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
پاکستان کی دستوری تاریخ میں، مولوی تمیزالدین کیس پہلا اہم کیس ہے۔ اس کیس کے پس منظر میں اختیار کی وہی لڑائی موجود ہے جو آج تک جاری ہے۔ دستور اور مقننہ توڑنے کے شوق کا اظہار ۲۴؍اکتوبر ۱۹۵۴ کو ہوا اور پھر ایک سلسلہ شروع...
مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ
― محمد مشتاق احمد
مالاکنڈ ڈویژن میں ایک دفعہ پھر شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ کردیا گیا ہے جس کے بعد سے اس ریگولیشن کے مختلف پہلوؤں اور ان کے سیاسی و سماجی اثرات پر اہل علم کی بحث جاری ہے۔ بعض لوگوں نے اسے نفاذ شریعت کی طرف ایک اہم قدم...
آداب القتال : توضیحِ مزید
― محمد مشتاق احمد
ماہنامہ ’’الشریعۃ ‘‘کے نومبر ۔ دسمبر ۲۰۰۸ء کی خصوصی اشاعت میں راقم الحروف کا ایک مضمون ’’ آداب القتال : بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ۔ اس مضمون پر ’’ دہشت گردی : چند...
جہاد و قتال کے شرعی احکام اور بین الاقوامی قانون
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جہاد آج کے دور میں نہ صرف مغرب او رمسلمانوں کے درمیان تعلقات بلکہ گلوبلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی ماحول کے حوالے سے بھی غالباًٍ سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع ہے جس پر مختلف حلقوں میں اور مختلف سطحوں...
آداب القتال: بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل
― محمد مشتاق احمد
مسلمان اہل علم کے لیے اس وقت جن مسائل پر بحث از بس ضروری ہوگئی ہے، ان میں شاید سب سے زیادہ اہم مسئلہ آداب القتال کا ہے ۔ فلسطین ، افغانستان، عراق اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک اس وقت ایک بظاہر نہ ختم ہونے والے مسلح...
مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالت
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
رونامہ’’ پاکستان‘‘ لاہور میں ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ کو بی بی سی کے حوالہ سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ سرحدکی نگران حکومت نے ۱۹۹۴ میں نافذ کیے جانے والے شرعی نظام عدل ریگولیشن میں ترامیم کا فیصلہ کیا...
عدالتی فیصلہ اور استاد منگو
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
۲۰ جولائی ۲۰۰۷ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فل کورٹ ۱۳ رکنی بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں عدلیہ کا افتخار بحال کر دیا۔ پاکستان میں عدالتی افتخار کی زبوں حالی دوچار مہینوں کا قصہ نہیں بلکہ کم ازکم نصف صدی پر محیط داستان...
علماء ججوں کے ایک فیصلے کا تقابلی جائزہ
― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
برا ہمسایہ کتنا بڑا عذاب ہوتا ہے، اس کا تجربہ محلوں اور آبادیوں میں رہنے والوں کو آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ: قال ما زال...
غیر مسلم جج کی بحث اور مسلمان ججوں کا کردار
― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
اجتہاد کی عام فہم تعریف کریں تو اسے ’’ماہرین قانون و شرع کی، متعینہ اصولوں کی روشنی میں، مسائل اور احکام معلوم کرنے کی پر خلوص اور انتہائی کاوش کا نتیجہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح یہ منصب یقینی طور پر علماے کبار اور ماہرین...
’تحفظ نسواں ایکٹ‘ کتاب و سنت کے تناظر میں
― ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
حال ہی میں حکومت پاکستان نے حدود آرڈیننس کے دو قوانین، حد زنا اور حد قذف میں ترمیم کرکے ’تحفظ نسواں بل‘ کے عنوان سے ایک نیا قانون متعارف کروایا۔ اس قانون کو کتاب وسنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک خصوصی علماء کمیٹی تشکیل...
حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حدود شرعیہ کا نفاذ ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور مسلم معاشرہ میں جرائم کا تعین اور روک تھام انھی حدود کے حوالے سے ہوتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے دینی حلقوں کا یہ مطالبہ چلا آ رہا تھا کہ زندگی کے دوسرے...
تحفظ حقوق نسواں بل2006ء ۔ ایک تنقیدی جائزہ
― محمد مشتاق احمد
حدود قوانین میں ترامیم کے لئے حکومت کی جانب سے ’’تحفظ قانون نسواں بل ‘‘ کے نام سے جو بل قومی اسمبلی میں ۲۱ اگست ۲۰۰۶ ء کو پیش کیا گیااس کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے ممبران قومی اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں...
حدود آرڈینینس ۔ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف
― سید منظور الحسن
حدود کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ یہ اسلامی شریعت کا جزو لازم ہیں۔ جان، مال، آبرو اور نظم اجتماعی سے متعلق تمام بڑے جرائم کی یہ سزائیں قرآن مجید نے خود مقرر فرمائی ہیں۔ چنانچہ ان کی حیثیت پروردگار...
حدود اللہ اور حدود آرڈیننس
― ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
باسمہ تعالیٰ۔ اسلام آباد۔ ۱۴؍ اگست ۲۰۰۶۔ گرامی قدر حضرت مولانا زاہد الراشدی، زیدت معالیکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی؟ آپ کا موقر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ بلا مبالغہ پاکستان کے فکری افلاس کے تپتے ہوئے صحرا...
اسلام کا قانون ازدواج اور جدید ذہن کے شبہات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ شمارے میں روزنامہ جناح اسلام آبادکے کالم نگار جناب آصف محمود ایڈووکیٹ کے حوالے سے چند سوالات شائع کیے گئے جن کا تعلق دورحاضر کے معروضی حالات، مغربی فکرو فلسفہ کی یلغار اور بین الاقوامی میڈیا...
حدود آرڈیننس اور اس پر اعتراضات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’حدود آرڈنینس‘‘ ایک بار پھر ملک بھر میں موضوع بحث ہے اور وہ لابیاں از سر نو متحرک نظر آرہی ہیں جو اس کے نفاذ کے ساتھ ہی ا س کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئی تھیں اور قومی اور عالمی سطح پر حدود آرڈنینس کے خلاف فضا گرم کرنے...
حدود آرڈیننس : چند تجزیاتی آرا
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ہمارا معاشرہ، بہت سے دوسرے فکری اور عملی سوالات کی طرح، اسلامی قوانین کے حوالے سے بھی انتہا پسندی کا شکار ہے۔ ایک طرف جدید مغربی فلسفہ قانون سے متاثر وہ طبقہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے باوجود شرعی قوانین کی افادیت...
وفاقی شرعی عدالت کے قیام کا پس منظر اور ضروریات
― جسٹس (ر) تنزیل الرحمن
روزنامہ جنگ لاہور ۲۳۔ اگست ۲۰۰۲ کی خبر کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا اعجاز احمد خان نے لاہور میں اقلیتوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بتایا ہے کہ انہوں نے وفاقی وزارت قانون کو لکھ کر بھیج دیا ہے کہ ہائی کورٹ...
نفاذِ شریعت کی ضرورت و اہمیت
― شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
جب تک برصغیر پر انگریز حکمران رہا اہلِ ایمان اس کے قانون کی پابندی پر مجبور تھے۔ سیاسی، اقتصادی، معاشرتی، تجارتی قوانین سب انگریز کے وضع کردہ تھے۔ البتہ اس نے مسلمانوں کو بعض رعایات دے رکھی تھیں جن کو پرسنل لاء کہا...
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات
― ادارہ
اسلام آباد (خبر نگار) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر شیر محمد زمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جمعہ کی چھٹی کو ختم کرنے کا غلط فیصلہ واپس لیا جائے۔ مقام حیرت ہے کہ جمعۃ الوداع کی تعطیل قیام پاکستان سے لے کر میاں...
توہینِ رسالت کی سزا کے قانون میں تبدیلی
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ توہینِ رسالت کی سزا کے قانون کا طریق کار تبدیل کرنے کی سرکاری تجویز قانون و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور اس طریقِ کار کو اس سے قبل ملک کے قانونی...
| < | 51-100 (110) | > |