ممتاز قادری کیس: سپریم کورٹ کے فیصلے کے اہم نکات

ادارہ

یہ کیس سب سے پہلے ایک سپیشل ٹرائل کورٹ میں چلا جس نے ممتاز قادری کو 302 اور اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 کے سیکشن 7 کے تحت سزائے موت سنائی جس کے خلاف جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تو عدالت نے 302 کے تحت پھانسی کی سزا برقرار رکھی مگر انسدادِ دہشت گردی کی شق ہٹا دی۔ پھر جب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی تو سپریم کورٹ کی بینچ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور 302 کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے تحت سزائے موت بھی بحال کر دی۔ سب سے پہلے فیصلے میں کیس کی نوعیت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اس کیس کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ کیا توہین مذہب کے ارتکاب کے نتیجے میں کوئی شخص کسی کو قتل کر سکتا ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ’’کیا کوئی شخص کسی پر توہین مذہب کے شبہے میں یا اپنی دانست میں کسی بات کو توہین مذہب سمجھ کر کسی کو قتل کر سکتا ہے؟’’

کیس میں ممتاز قادری کا دفاع 2 نکات پر مشتمل تھا:

  • میں سلمان تاثیر کو قتل کرنے میں حق بجانب تھا، کیونکہ اس نے توہین رسالت کی تھی اور ایک ایسی عورت کو سپورٹ کیا تھا جس کو توہین رسالت کے کیس میں سزا ہو چکی تھی۔
  • میں سلمان تاثیر کو قتل کرنے میں اس لیے حق بجانب تھا کہ اس نے مجھے اشتعال دلایا۔ جب وہ کوہسار مارکیٹ کے ریسٹورنٹ سے اپنے دوست کے ساتھ باہر نکلا تو میں نے اس سے کہا کہ جنابِ والا! آپ نے گورنر ہوتے ہوئے بلاسفیمی لا کو کالا قانون کہا ہے جو آپ کے شایانِ شان نہیں۔ اس پر سلمان تاثیر نے آگے سے نہ صرف یہ کہا کہ یہ کالا قانون ہے، بلکہ اس نے اس قانون کو مزید برا بھلا کہا جس پر ممتاز قادری کو مبینہ طور پر اشتعال آ گیا اور اس نے گولیاں چلا دیں۔

پہلے نکتے کو ثابت کرنے کے لیے ممتاز قادری نے عدالت میں 2 اخباری رپورٹیں جمع کروائیں جس میں سلمان تاثیر کے آسیہ بی بی سے متعلق ریمارکس بتائے گئے تھے۔ اْن میں سے ایک رپورٹ تو قتل ہو جانے کے بعد شائع ہوئی تھی۔ دوسری رپورٹ کے بارے میں جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے اس رپورٹ کی تصدیق کی تھی کہ کس نے اسے رپورٹ کیا اور کیا واقعی یہ سلمان تاثیر کے الفاظ ہیں؟ تو ممتاز قادری کا جواب نفی میں تھا جس پر عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ممتاز قادری نے آسیہ بی بی سے متعلق ریمارکس براہ راست نہیں سنے بلکہ یہ Hearsay پر مبنی ہیں جن کو وہ اپنی دانست میں توہین رسالت سمجھ بیٹھا۔

دوسرے نکتے کو ٹرائل کورٹ میں تحریری طور پر کیس چلنے کے وقت جمع کروایا گیا تھا۔ اس بارے میں جب اس سے کہا گیا کہ وہ عدالت میں آ کر حلف اٹھا کر یہ بیان دے کہ سلمان تاثیر نے اس کے سامنے ایسی بات کہی تھی تو اس نے حلفیہ بیان دینے سے انکار کر دیا۔ اس مبینہ گفتگو کے وقت تین ہی لوگ موجود تھے: ایک سلمان تاثیر کا دوست شیخ وقاص، دوسرا سلمان تاثیر اور تیسرا قادری۔ ایک انسان مارا جا چکا تھا۔ دوسرے کو انہوں نے عدالت میں طلب کرنے کی درخواست نہیں جمع کروائی۔ اگر کرواتے تو یہ عدالت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس اہم گواہ کو بلاتی اور اگر وہ نہ پیش ہوتا تو اس پر توہین عدالت لگ جاتی۔ لیکن اپیل کنندہ کی جانب سے ایسی کوئی درخواست ہی جمع نہیں کروائی گئی۔ خود اپیل کنندہ نے بھی حلف اٹھا کر یہ بات کہنے سے انکار کر دیا۔

بس یہی وہ نکتہ تھا جس نے اس کیس کو سب سے زیادہ کمزور کر دیا اور عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ اپنا دفاع بہتر کرنے کے لیے بعد میں ایجاد کی گئی ایک کہانی ہے کیونکہ ٹرائل کورٹ سے پہلے تفتیشی افسر کے سامنے بھی ممتاز قادری نے قتل کے وقت ایسے کسی مکالمے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ ممتاز قادری کے وکلاء نے کہا کہ مقتول کو گولیاں سامنے سے لگی تھیں جس سے پتا لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان ضرور کوئی مکالمہ ہوا ہوگا اور 28 گولیوں کے لگنے سے پتا لگتا ہے کہ ضرور ملزم اشتعال میں آیا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں، ان سے ایسا کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔

ممتاز قادری کے وکلاء کی جانب سے یہ بات بھی اٹھائی گئی کہ توہین مذہب پر سزا کے قانون کو غلط کہنا بھی توہین مذہب ہے اور فیصلے کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے حق میں انہوں نے جو حوالے پیش کیے، ان میں سے کوئی بھی قرآن یا حدیث کے حوالے پر مبنی نہیں تھا، بلکہ وہ صرف کچھ اسکالرز کی رائے تھی کہ توہین مذہب پر سزا کے قانون کو غلط کہنا بھی توہین مذہب ہے۔ عدالت کا موقف یہ تھا کہ بلاسفیمی کیا ہے، اْس کی تعریف 295-C میں موجود ہے۔ سلمان تاثیر کا اس قانون سے متعلق بیان کسی بھی صورت میں 295-C میں بیان کردہ توہین مذہب کی تعریف میں نہیں آتا۔ فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ بلاسفیمی قانون میں پہلے بھی کئی بار ترمیم ہو چکی ہے۔ یہ سب سے پہلے 1866 میں انڈین پینل کوڈ میں شامل ہوا۔ پھر سب سے پہلی ترمیم 1927 میں ہوئی۔ پھر 1986 اور 1991 میں اس میں ترامیم ہوئیں۔ لہٰذا جس قانون میں پہلے ہی کئی بار ترامیم ہو چکی ہوں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی ساکت و جامد قانون نہیں ہے بلکہ اس کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس پر نظر ثانی کی جائے تو یہ مطالبہ کوئی غلط بات نہیں۔ معزز جج صاحبان نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک 2002 کے کیس کا حوالہ دیا جس میں خود عدالت نے قانون میں ترامیم کی کچھ سفارشات پیش کی تھیں کہ اس کے پروسیجر میں یہ اور یہ تبدیلیاں کی جائیں۔ اس کی تفتیش کوئی عام ASI یا محرر نہ کرے، بلکہ دو ایسے افسر کریں جن کو اس بارے میں مکمل علم ہو کہ توہین مذہب کی تعریف کیا ہے اور ان کے ساتھ ایک غیر جانبدار مذہبی اسکالر بھی ہو اور پوری تفتیش کے بعد کیس درج کیا جائے۔ عدالت نے فیصلے میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کی اس قانون میں تبدیلیاں کرنے کی سفارشات کو کسی بھی صورت میں توہین مذہب کہا جا سکتا ہے؟ خود ہی اس کا جواب بھی دیا ہے کہ ہرگز نہیں۔

جج صاحبان نے بلاسفیمی کیسز کے حوالے سے کچھ اعداد و شمار بھی فراہم کیے جن کے مطابق 1953 سے 2012 تک درج ہونے والے 434 بلاسفیمی کے مقدمات میں 258 خود مسلمانوں کے خلاف تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس قانون کا استعمال ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لیے کیا جاتا ہے، لہٰذا اگر کوئی یہ بات کرتا ہے کہ اس قانون پر نظر ثانی کی جائے اور اس کا غلط استعمال روکا جائے تو یہ کوئی غلط مطالبہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی توہین مذہب ہے۔

(https://www.facebook.com/leee3x/posts/193792064320665)

حالات و واقعات