عدالتی فیصلہ اور استاد منگو

پروفیسر میاں انعام الرحمن

۲۰ جولائی ۲۰۰۷ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فل کورٹ ۱۳ رکنی بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں عدلیہ کا افتخار بحال کر دیا۔ پاکستان میں عدالتی افتخار کی زبوں حالی دوچار مہینوں کا قصہ نہیں بلکہ کم ازکم نصف صدی پر محیط داستان ہے ۔ پچاس کی دہائی میں سندھ ہائی کورٹ کے باعث افتخار فیصلے کو بے افتخار کرنے کا ’’کارنامہ‘‘ جسٹس منیر کی سربراہی میں فیڈرل کورٹ نے سرانجام دیا جس کے نتیجے میں عدلیہ نہ صرف انتظامیہ کی رکھیل بن کر رہ گئی بلکہ ابن الوقتی ایک قومی قدر کا روپ دھار گئی ۔مولوی تمیزالدین کے مذکورہ کیس سے لے کرسپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے تک کی طویل تاریخ ، جس میں اسٹیبلشمنٹ چھائی رہی اور ابن الوقتی کو فروغ دیتی رہی ، درحقیقت ایک فریب خوردہ قوم کی حسرت و یاس کی تاریخ ہے ۔ ایسی الم ناک تاریخ کی حامل قوم جب ۲۰ جولائی کے عدالتی فیصلے پر شکرانے کے نوافل ادا کرنے اور مٹھائیاں بانٹنے میں مگن ہے، اور سب سے بڑھ کر اس کا دل اس یقین سے معمور ہے کہ اب سر اٹھا کر چلنے کا وقت آ گیا ہے تو ہمیں بے اختیار’’ منگو‘‘ یاد آگیا ہے ۔

سعادت حسن منٹو (۱۹۱۲۔۱۹۵۵) نے ’’نیا قانون‘‘ میں ۱۹۳۵ کے انڈین ایکٹ کے حوالے سے ’’ منگو‘‘ کی فریب خوردگی کو بہت مہارت سے واضح کیا ہے۔ منگو ٹانگے والے کو ادھر ادھر سے سن گن ملی تھی کہ نیا دستور آنے والا ہے جس کے نتیجے میں حالات بدل جائیں گے اور وہ اپنی سرزمین پر سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہو جائے گا۔ نیا دستور آنے کے بعداستاد منگو نے جب سر اٹھا کر چلنے کی کوشش کی تو اس غریب کی خوب درگت بنائی گئی۔ سعادت حسن منٹو نے استاد منگو کی فریب خوردگی کی داستان کا انجام اس طرح کیا ہے : 

’’لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کے دو سپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کو استاد منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ استاد منگو ان دو سپاہیوں کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کی چوڑی چھاتی پھولی ہوئی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا اور اپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حیرت زدہ مجمع کی طرف دیکھ کر وہ ہانپتی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا:
’’وہ دن گزر گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے ...... اب نیا قانون ہے میاں ...... نیا قانون!‘‘
اور بے چارہ گورا اپنے بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ بے وقوفوں کے مانند کبھی استاد منگو کی طرف دیکھتا اور کبھی ہجوم کی طرف۔
استاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے۔ راستے میں اور تھانے کے اندر کمرے میں وہ نیا قانون، نیا قانون چلاتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔
’’نیا قانون، نیا قانون، کیا بک رہے ہو ...... قانون وہی ہے پرانا .......‘‘
اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا!‘‘

سوال یہ ہے کہ کیا عدلیہ کا حالیہ فیصلہ، جسے تاریخ ساز قرار دیا جا رہا ہے، ’’نیا قانون‘‘ ہے؟ اور کیا ہم سب استاد منگو ہیں؟ جواب آنے والا کل دے گا۔

حالات و واقعات

(اگست ۲۰۰۷ء)

اگست ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۸

Flag Counter