تشدد کے خلاف خواتین کے تحفظ کا قانون :چند اہم نکات

محمد مشتاق احمد

اصولی گزارشات 

پہلے چند اصولی گزارشات ملاحظہ کریں:

۱۔ اسلامی قانون کی رو سے یہ موقف صحیح نہیں ہے کہ نظمِ اجتماعی کو گھر یا خاندان کے امور میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ اگر قاضی کو بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف شکایت ملے تو قاضی کو شوہر سے بازپرس اور اس کے پڑوسیوں کے ذریعے تحقیق کا حق ہے اور نتیجتاً وہ شوہر کی مناسب تادیب بھی کرسکتا ہے۔ پس اس موقف سے گریز ہی بہتر ہے کہ نظمِ اجتماعی کو خاندان کے نجی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے، بلکہ میں تو ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہوں گا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت پر ظلم ایک بدیہی امر ہے جو بے شک اس سطح پر نہ ہوتا ہو جتنا لوگ اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں، لیکن بہرحال اس کی سنگینی سے انکار مناسب نہیں ہے۔ اس لیے اصولاً اس ظلم کے خاتمے کے لیے مناسب قانون سازی کی ضرورت بھی تسلیم کرنی چاہیے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر مناسب قانون سازی کی ضرورت کو دینی حلقے خود ہی پورا نہیں کریں گے تو خلا اسی طرح کی ناقص اور بھونڈی قانون سازی سے پورا ہوگا۔ البتہ اس امر پر بحث ضروری ہے کہ نظمِ اجتماعی کی یہ مداخلت کس نوعیت کی ہے اور کیا وہ شریعت کے اصول و قواعد سے ہم آہنگ ہے یا نہیں ؟ 

۲۔ جب شریعت سے ہم آہنگی کی بات کی جاتی ہے تو یار لوگ پوچھنا شروع کردیتے ہیں کہ اس قانون کی کون سی شق سے کس آیت یا حدیث کی خلاف ورزی ہورہی ہے ؟ اہم بات یہ ہے کہ صرف کسی مخصوص آیت یا حدیث کی مخالفت ہی کی بنا پر کوئی شق غیر اسلامی نہیں ہوجاتی بلکہ اگر وہ شریعت کے اصول اور قواعدِ عامہ سے متصادم ہو تو اس صورت میں بھی حکم یہی ہوگا۔یہ نظریہ صرف اسلامی شریعت نے ہی نہیں دیا بلکہ ملکی قانون کی رو سے بھی عدالتوں نے یہی اصول تسلیم کیا ہے ؛ یہاں تک کہ بین الاقوامی قانون نے بھی ’’قانون کے قواعدِ عامہ‘‘ کو بین الاقوامی قانون کے بنیادی مآخذ میں شمار کیا ہے۔ 

۳۔ مزید برآں ، بعض اوقات کسی خاص شق سے کسی خاص دلیلِ جزئی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی لیکن قانون کا جو پورا مجموعہ ہوتا ہے، وہ شریعت کے عمومی مقاصد150 جسے آج کل معروف اصطلاح میں "شریعت کی روح " کہا جاتا ہے 150سے متصادم ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں ایک ایک شق پر الگ بحث کی ضرورت ہے، وہیں یہ دیکھنا بھی اشد ضروری ہے کہ کیا اس قانون کا کلی تصور شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے؟ 

۴۔ یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ بارِ ثبوت ان لوگوں پر نہیں ہے جو اس قانون کو شریعت سے متصادم قرار دیتے ہیں ، بلکہ ان لوگوں پر ہے جن کا دعویٰ ہے کہ اس قانون سے شریعت کے کسی اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری عدالتوں نے اباحتِ اصلیہ کے انتہائی کمزور تصور کی بنیاد پر کئی اہم فیصلوں کی بنا کی ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ اس معاملے کی برابر کی ذمہ داری ہمارے علماے کرام پر بھی آتی ہے جنھوں نے بعض امور 150 بالخصوص "اسلامی" بینکاری کے امور 150میں اس تصور کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ 

اس قانون کے بارے میں چند اہم نکات 

ان اصولی باتوں کی توضیح کے بعد چند نکات اس قانون کے متعلق پیش کیے جاتے ہیں : 

قانون کا اطلاق 

میڈیا پربغیر کسی تصدیق کے قرار دیا گیا کہ اس قانون کے تحت ایک شوہر پر مقدمہ درج کیا گیا اورپھر ضمانت پر باہر آنے کے بعد اس نے فوراً بیوی کو طلاق دے دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک اس قانون کا نفاذ تو شروع ہی نہیں ہوا۔ دفعہ 1 کی ذیلی دفعہ 3 میں قرار دیاگیا ہے کہ یہ قانون تب نافذ العمل ہوگا جب حکومتِ پنجاب خصوصی اعلان کے ذریعے اس کا نفاذ کرے۔ یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ مختلف علاقوں میں اس کے نفاذ کی تاریخ مختلف ہوسکتی ہے۔ چونکہ ابھی تک سرکاری طور پر کسی بھی ضلع میں اس کا نفاذ نہیں کیا گیا ، اس لیے اس کے تحت مقدمے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس قانون کے تحت تشدد ، بشمول گھریلو تشدد ، اصلاً دیوانی معاملہ ہے جس پر خواہ آخر میں سزا تک بات پہنچ جاتی ہو، لیکن ابتدا میں مقدمہ سول عدالت ( فیملی عدالت ) میں جائے گا۔ تاہم مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کے تحت تشدد پہلے ہی سے قابلِ سزا جرم ہے۔ اس لیے تعزیراتِ پاکستان کے تحت فوجداری مقدمہ بھی دائر ہوسکتا ہے۔ میڈیا میں مذکور کیس اسی نوعیت کا تھا۔ اس مقدمے کا اندراج تعزیراتِ پاکستان کے تحت ہوا تھا ، نہ کہ اس نئے قانون کے تحت۔ 

البتہ اس مقدمے سے یہ بات تو بہرحال ثابت ہوجاتی ہے کہ اس طرح کی مقدمہ بازی کا نتیجہ فوری طلاق کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اس سے تو یہ بھی ثابت ہوا کہ مرد واقعی خواتین پر ظلم کرتے ہیں اور اسی لیے اس ظلم کی روک تھام کے لیے مناسب قانون سازی بہرحال ضروری ہے۔ 

قانون کی وسعت 

میڈیا پر زیادہ تر بحث شوہر کی جانب سے بیوی پر ہونے والے ظلم کے تناظر میں ہورہی ہے ، حالانکہ قانون صرف بیوی اور شوہر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ کسی بھی خاتون پر کسی بھی شخص کی جانب سے ہونے والے ظلم پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ نیز اس قانون کا اطلاق صرف "گھریلو تشدد " پر ہی نہیں ہوتا ، بلکہ کہیں بھی کسی خاتون پر تشدد ہو تو وہاں اس قانون کی رو سے کارروائی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (a) میں "متاثرہ شخص" (aggrieved person) کی تعریف یہ پیش کی گئی ہے : 

a female who has been subjected to violence by a defendant
( کوئی خاتون جسے مدعا علیہ کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ ) 

اسی طرح "مدعا علیہ "(defendant) کی تعریف دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (n) میں یہ کی گئی ہے : 

a person against whom relief has been sought by the aggrieved person
(کوئی شخص جس کے خلاف کارروائی کے لیے متاثرہ فریق نے دعویٰ کیا ہو۔ )

یہاں اس بات پر بھی توجہ رہے کہ "متاثرہ فریق " تو کوئی خاتون ہی ہوسکتی ہے لیکن "مدعا علیہ " کا مرد ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ کسی بھی شخص ، مرد یا عورت ، کے خلاف کسی خاتون پر تشدد کا دعویٰ دائر کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ اس بات کا اضافہ کردیں کہ دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (r) کی رو سے "تشدد " کی تعریف میں اس کی "اعانت" (abatement) بھی شامل ہے۔ مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 107 میں اعانتِ جرم کی جو تعریف پیش کی گئی ہے، اس کی رو سے کسی جرم کی "ترغیب " ، " سازش " یا "عملی معاونت " سبھی کو اعانتِ جرم کہا جاتا ہے۔ اس وسیع تعریف کی رو سے تلوار صرف شوہر کے سر پر ہی نہیں لٹک رہی ، بلکہ باپ ، بھائی ، بیٹے اور دیگر رشتہ دار وں اور خواتین 150 جیسے ساس ، نند وغیرہ 150 کو بھی کڑا پہنایا جاسکتا ہے۔ نیز ، جیسا کہ واضح کیا گیا ، اس کا قانون کا اطلاق صرف گھریلو تشدد پر ہی نہیں ہوتا بلکہ گھر سے باہر 150 گلی ، محلہ ، بازار ، سکول ، کالج ، یونی ورسٹی ، دفتر 150 کہیں بھی اس پر تشدد ہو تو تشدد کرنے والے / والی اور اس کی اعانت (ترغیب ، سازش یا عملی معاونت ) کرنے والے / والی کے خلاف اس قانون کی رو سے کارروائی ہوسکتی ہے۔ 

تشدد کا مفہوم 

اب ذرا اس کی بھی وضاحت کی جائے کہ اس قانون کی رو سے "تشدد" سے کیا مراد ہے ؟ دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (r) کی رو سے "تشدد " کی یہ تعریف پیش کی گئی ہے : 

"any offence committed against the human body of the aggrieved person including abatement of an offence, domestic violence, sexual violence, psychological abuse, economic abuse, stalking or a cybercrime "

یہاں چند نکات قابلِ غور ہیں : 

۱۔ اس تعریف کی رو سے تشددکو "جرم " (offence) قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے خلاف کارروائی کے لیے مقدمہ فیملی کورٹ میں دائر کیا جائے گا جو بنیادی طور پر سول عدالت ہے ، اگرچہ خاندان سے متعلق بعض فوجداری امور کے اختیارات بھی اسے حاصل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب "انسانی جسم کے خلاف کیا گیا جرم " تو مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی رو سے پہلے ہی سے جرم ہے ، تو پھر اس نئی قانون سازی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ نیز جب تعزیراتِ پاکستان کی رو سے اس فعل پر کارروائی ہوگی تو مقدمہ فوجداری عدالت میں جائے گا، لیکن جب اس قانون کی رو سے کارروائی ہوگی تو مقدمہ فیملی عدالت میں دائر کیا جائے گا۔ اس طرح غیر ضروری مقدمہ بازی کے لیے اچھی خاصی گنجایش پیدا ہوجائے گی۔ 

۲۔ "گھریلو تشدد " اس تعریف کی رو سے تشدد کی ایک قسم ہے۔ اس قانون کی دفعہ 2 ، ذیلی دفعہ (h) میں گھریلو تشدد (domestic violence) کی تعریف ان الفاظ میں پیش کی گئی ہے :

"domestic violence" means the violence committed by the defendant with whom the aggrieved is living or has lived in a house when they are related to each other by consanguinity, marriage or adoption"
( گھریلو تشدد سے مراد وہ تشدد ہے جس کا ارتکاب وہ مدعا علیہ کرے جس کے ساتھ متاثرہ خاتون کسی مکان میں رہتی ہے ، یا رہ چکی ہے ، جبکہ ان کا ایک دوسرے سے نسب ، شادی یا تبنی کا رشتہ ہو۔) 

اس تعریف میں چند نکات قابلِ غور ہیں : 

اولاً : تشدد کی جتنی قسمیں آگے ذکر کی جائیں گی وہ سب گھریلو تشدد کہلائیں گی ، اگر ان کا ارتکاب ایسا شخص کرے جس کے ساتھ متاثرہ خاتون ایک مکان میں رہتی ہو ، یا کبھی رہ چکی ہو ، بشرطیکہ اس شخص اور اس خاتون کے درمیان نسب، شادی یا تبنی کا رشتہ ہو۔ 

ثانیاً : قطع نظر اس سے کہ پاکستانی قانون کس حد تک تبنی کے رشتے کو مانتا ہے ، اس بات پر توجہ کی ضرورت ہے کہ اگر باپ اپنی بیٹی کے خلاف ، یا شوہر اپنی بیوی کے خلاف تادیبی کارروائی کرتا ہے ، خواہ وہ کارروائی شریعت کی مقررہ حدود کے اندر ہی کیوں نہ ہو ، تو کیا وہ تادیبی کارروائی اس تعریف کی رو سے "گھریلو تشدد" نہیں ہوگی ؟

۳۔ "جنسی تشدد" کی تعریف اس قانون میں پیش نہیں کی گئی ہے۔ کسی دوسرے قانون میں بھی ابھی تک اس جرم کی مستقل تعریف اور اس کی مختلف قسموں کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ "زنا بالجبر " (rape) اس کی تعریف میں داخل ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب 2006ء میں جنرل مشرف نے "قانونِ تحفظِ نسواں " بنایا تھا تو اس کی رو سے حد زنا آرڈی نینس سے زنا بالجبر کے جرم اور اس کی سزا کے متعلق دفعات ختم کرکے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 376 میں rape کے جرم کی تعریف اور دفعہ 377 میں اس کی سزا مقرر کی گئی۔ اس قانون کی رو سے rape کی تعریف میں marital rape بھی شامل ہے۔ چنانچہ اگر شوہر نے بیوی کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ جماع کیا تو تعزیراتِ پاکستان کی رو سے یہ marital rape ہوگا اور اس نئے قانون کی رو سے یہ "تشدد" کے ضمن میں آئے گا۔ واضح رہے کہ rape جنسی تشدد کی ایک انتہائی شکل ہے۔ اس سے کم تر شکلیں ، جیسے بوس و کنار ، خواہ rape نہ کہلائیں لیکن وہ بہرحال تشدد میں شامل سمجھے جائیں گے ، خواہ ان کا ارتکاب کرنے والا اس خاتون کا شوہر ہی ہو۔ 

۴۔ نفسیاتی بدسلوکی (psychological abuse) کو بھی تشدد کی ایک قسم قرار دیاگیا ہے اور دفعہ 2 میں تشدد کی تعریف کی توضیحِ دوم میں قرار دیاگیا ہے: 

"psychological violence includes psychological deterioration of aggrieved person which may result in anorexia, suicide attempt or clinically proven depression resulting from defendant's oppressive behaviour or limiting freedom of movement of the aggrieved person and that condition is certified by a panel of psychologists appointed by District Women Protection Committee"

اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مدعا علیہ ( باپ ، بھائی ، شوہر ، افسر وغیرہ) کے رویے سے ، یا اس کی جانب سے متاثرہ فریق (بیٹی ، بہن ، بیوی ، ماتحت خاتون وغیرہ) کی نقل و حرکت محدود کرنے کی وجہ سے ، وجود میں آنے والی پریشانی کو نفسیاتی بدسلوکی تصور کیا جائے گا ، بشرطیکہ ماہرینِ نفسیات کا پینل اس نتیجے پر پہنچے۔تاہم اس کے ساتھ اس بات پر بھی توجہ ہوکہ اس تعریف میں means کی جگہincludes کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفسیاتی بدسلوکی کی کچھ اور قسمیں بھی ہوسکتی ہیں جویہاں مذکور نہیں ہیں لیکن عدالت ان کا تعین کرسکتی ہے۔ 

۵۔ اسی طرح "معاشی بدسلوکی " کو تشدد کی ایک اور قسم قرار دیا گیا ہے اور دفعہ 2 میں تشدد کی تعریف کی توضیحِ اول میں اس کی تعریف ان الفاظ میں پیش کی گئی ہے : 

"economic abuse" means denial of food, clothing and shelter in a domestic relationship to the aggrieved person by the defendant in accordance with the defendant's income or taking away the income of the aggrieved person without her consent by the defendant

اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشی بدسلوکی کا اطلاق صرف "گھریلو تعلقات " کے ضمن میں ہی ہوسکتا ہے۔ معاشی بدسلوکی کی دو قسمیں ذکر کی گئی ہیں : 

اولاًکھانے ، کپڑوں یا رہایش سے محرومی ، لیکن اس کو بدسلوکی ، اور نتیجتاً تشدد ، نہیں کہا جائے گا اگر خاتون نے مدعا علیہ کی آمدنی سے بڑھ کر کوئی مطالبہ کیا۔ یہ حقیقت واضح ہے کہ اس کا اطلاق والدین کی جانب سے بچی کے خلاف تادیبی کارروائی پر بھی ہوسکتا ہے۔ 

ثانیاً: معاشی بدسلوکی کی دوسری قسم یہ ہے کہ خاتون کی مرضی کے بغیر مدعا علیہ اس کی آمدنی اپنے تصرف میں لے آئے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کئی بے غیرت شوہر اپنی بیویوں کو ان کی آمدنی سے محروم کرتے ہیں حالانکہ اس کا ان کو شرعاً ، قانوناً یا عرفاً کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ 

۶۔ تشدد کی آخری دو قسمیں stalking اور cyber crime ہیں۔ ان دونوں امور کی تعریف اس قانون میں پیش نہیں کی گئی۔ اس لیے عدالت ان کی تشریح و تعبیر کے لیے دیگر قوانین اور قواعدِ عامہ کی طرف رجوع کرے گی۔ 

آکسفرڈ ڈکشنری آف لا میں Cyber crime کی یہ تعریف پیش کی گئی ہے: 

Crime committed over the internet
( ایسا جرم جس کا ارتکاب انٹرنیٹ پر کیا جائے۔ ) 

جعلی ای میل اکاؤنٹ کھولنا سائبر کرائم کی ایک عام مثال ہے۔ 

جہاں تک Stalkingکا تعلق ہے تو اس کی تعریف آکسفرڈ ڈکشنری آف لا میں یہ کی گئی ہے : 

Persistent threatening behaviour by one person against another
(ایک شخص کا دوسرے شخص کے خلاف مسلسل دھمکی آمیز رویہ ) 

گیل انسائیکلوپیڈیا آف امیریکن لا سے اس کی مزید وضاحت ہوجاتی ہے : 

Criminal activity consisting of the repeated following and harassing of another person
(ایسی مجرمانہ کارروائی جو کسی دوسرے شخص کا مسلسل پیچھا کرنے اور اسے ہراساں کرنے پر مبنی ہو۔ ) 

سوال یہ ہے کہ اگر باپ اپنی بیٹی سے پوچھ گچھ کرتا رہے کہ وہ کہاں گئی ، کس سے ملی ، کب آئی ، کہاں سے آئی ، کس کے ساتھ آئی ، تو کیا اس پوچھ گچھ کو stalking ، اور اسی بنا پر "تشدد" ، کہا جائے گا ؟ 

۷۔ تشدد کی تعریف پر اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف خواتین کے خلاف ہونے والے عمومی تشدد کی روک تھام کی کوشش کی گئی ہے ، جو اپنی جگہ ایک مستحسن کام ہے ، وہیں دوسری طرف اس بات کا بالکل ہی خیال نہیں رکھا گیا کہ شریعت نے "ولایت" کا جو تصور دیا ہے اور اس کے تحت "ولی" کو اپنے ماتحتوں کی "تادیب" کا اختیار دیا گیا ہے، وہ بھی پامال ہوجاتے ہیں ! یہی بات،جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ، "گھریلو تشدد " کی تعریف سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ 

شنوائی کا طریقِ کار 

اگر کسی خاتون پر تشدد ہو ، یا اسے تشدد کا خطرہ ہو ، تو اس قانون کے تحت اس کے پاس دو راستے ہیں : عدالت میں استغاثہ یا ویمن پروٹیکشن آفیسر کو شکایت۔ ان دونوں پر الگ الگ بحث ضروری ہے۔ 

دفعہ 4 کی ذیلی دفعہ 1 میں قرار دیاگیا ہے کہ عدالت میں استغاثہ متاثرہ خاتون خود ، یا اس کی جانب سے مقررہ کیا گیا کوئی شخص ( مرد یا عورت)، یا ویمن پروٹیکشن آفیسرکی جانب سے دائر کیا جاسکے گا۔ اس استغاثے پر عدالت درج ذیل تین میں سے کوئی ایک یا زیادہ حکم جاری کرسکتی ہے: تحفظ کا حکم ، رہایش کا حکم یا مال سے متعلق حکم۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک اہم مسئلے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ دفعہ 21 کی ذیلی دفعہ 1 میں قرار دیاگیا ہے کہ اس قانون کے تحت کسی بھی جرم پر عدالت تبھی کارروائی کرسکے گی جب ویمن پروٹیکشن آفیسر کی جانب سے اس کے سامنے استغاثہ نہ کیا جائے۔ کیا ان دونوں دفعات میں تضاد ہے ؟ یا دفعہ 4 کے تحت جرم سے قبل روک تھام کے لیے شکایت کا ذکر ہے جو خاتون خود یا اس کا نمائندہ یا ویمن پروٹیکشن آفیسر کی جانب سے آسکتی ہے اور دفعہ 21 میں جرم کے بعد کی کارروائی کا ذکر ہے جو صرف ویمن پروٹیکشن آفیسر کی جانب سے شکایت کے بعد ہی ہوسکے گی ؟ 

شکایت موصول ہونے کے بعد سماعت کے لیے عدالت زیادہ سے زیادہ سات دن کے اندر تاریخ مقرر کرے گی۔ نیز وہ مدعا علیہ کو نوٹس دے گی کہ سات دن کے اندر جوابِ دعویٰ دائر کردے ورنہ اس کے خلاف یک طرفہ کارروائی کی جائے گی۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت نوے دن کے اندر کرے گی۔ واضح رہے کہ عدالت سے اس قانون میں مراد فیملی کورٹ ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جب کسی خاتون کے خلاف تشدد گھر سے باہر کسی غیر مرد ( جیسے دفتر میں باس، یا پڑوس کے کسی آوارہ نوجوان ) نے کیا ہو تو پھر مقدمہ فیملی کورٹ میں کیوں دائر کیا جائے گا ؟ اس سوال پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ جب فیملی عدالتیں پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبی جارہی ہیں تو ان پر مزید مقدمات کا بوجھ لادنے کے بعد ان سے بہتر نتائج کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ؟ 

شکایت کے بعد وہ متاثرہ خاتون جس نے گھریلو تشدد کی شکایت کی ہو چاہے تو اپنے گھر کے بجاے مدعا علیہ کے خرچے پر کسی اور گھر میں یا "دار الامان" (shelter home) میں رہ سکے گی۔ (دفعہ 5 ، ذیلی دفعہ b) یہاں پھر اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ واقعتاً کسی خاتون کو گھر میں / سسرال میں تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہو تو اس کا تحفظ ضروری ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ولی کے پاس تادیب کا جو اختیار ہے، کیا وہ سلب نہیں ہوجائے گا ؟ کیا اس قانون نے ان دو امور میں توازن کو نظرانداز نہیں کردیا ہے ؟ اور کیا اس طرح خاندانوں کے اجڑنے کا عمل آسان نہیں ہوجائے گا ؟ 

یہی کچھ ان احکامات کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے جو عدالت جاری کرسکتی ہے۔ مثلاً restraining order جسے اس قانون میں protection order کہا گیا ہے، ان معاشروں میں تو بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے جہاں ازدواجی رشتے کا خاتمہ بہت مشکل کام ہو۔ تاہم ہمارے قانونی نظام میں جب مرد صرف ایک لفظ بول کر نکاح کا رشتہ ختم کرسکتا ہے، کیا اس قسم کے احکامات سے تشدد کی روک تھام ہوگی یا رہے سہے بندھن بھی ختم ہوجائیں گے ، بالخصوص جبکہ قانون بنانے والوں کا مفروضہ بھی یہ ہے کہ مرد ظالم ہیں ؟

شنوائی کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ویمن پروٹیکشن آفیسر کسی متاثرہ خاتون کو بچانے کے لیے کارروائی کرے۔ اس ضمن میں دفعہ 15 نے اسے اختیار دیا ہے کہ کسی بھی گھر میں بغیر عدالتی وارنٹ کے داخل ہو اور اس ضمن میں پولیس اور دیگر اداروں سے مدد لے ؛ نیز اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ایک مستقل جرم ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ جب پولیس پر وارنٹ کی پابندی بہت سے معاملات میں ہے اور اس کے باوجود وہ چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے میں بدنام ہے تو جب ایسے آفیسر ہوں جنھیں یہ کام کرنے کے لیے وارنٹ کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہو تو وہ کیا کچھ نہیں کرگزریں گے ! اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ویمن پروٹیکشن آفیسر کے لیے خاتون ہونا بھی ضروری نہیں ہے (دفعہ 2 ، ذیلی دفعہ s)۔ اس لیے یہ کارہائے نمایاں بہت سارے مرد حضرات اپنی تمام تر مردانگی سمیت سرانجام دے سکیں گے۔ اگرچہ خواتین کے رہایشی حصے میں داخلے کے لیے صرف خواتین آفیسر ہی جاسکیں گی ( دفعہ 15، ذیلی دفعہ 5 ) ، لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ پابندی نہایت کمزور ہے اور اس کی موجودگی کے باوجود اس قانون کا غلط استعمال نہایت آسان ہے۔ 

یہ بات بھی اہم ہے کہ شکایت متاثرہ خاتون کے علاوہ کوئی اور شخص بھی کرسکتا /کرسکتی ہے۔ بدنیتی پر مبنی شکایت کو جرم قرار دیا گیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اس الزام کے خلاف "نیک نیتی " (good faith) اور "مفادِ عامہ" (public good)کے عذر میسر رہیں گے جن کی بنا پر شاید ہی کبھی کسی کو اس جرم کا مرتکب قرار دیا جاسکے۔ دفعہ 19 کی رو سے جھوٹی شکایت کرنے والے کو تبھی سزا دی جاسکے گی جب یہ ثابت کیا جاسکے کہ اسے معلوم تھا کہ شکایت جھوٹی ہے ، یا ایسے اسباب موجود تھے جن کی رو سے اسے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ شکایت جھوٹی ہے ! (knows or has reason to believe to be false) قانون کے ادنیٰ طالب علم بھی جانتے ہیں کہ اس ترکیب کی موجودگی میں جرم کا ثابت کرنا ناممکن حد تک مشکل ہوجاتا ہے۔ 

اسلامی قانون سے تصادم؟ 

اس قانون سے اسلامی قانون کے کن اصول و قواعد کی خلاف ورزی ہوتی ہے ؟ اس سلسلے میں کچھ اشارات تو سطورِ بالا میں دیے گئے۔ یہاں ایک اور پہلو کی وضاحت ضروری ہے۔ 

سورۃ النساء کی آیت 34 میں قرار دیا گیا ہے کہ "نشوز" کی صورت میں شوہر اپنی بیوی کی مناسب تادیب کرسکتا ہے اور اس ضمن میں تین اقدامات ذکرکیے گئے ہیں : وعظ و نصیحت ، خواب گاہوں کے اندر علیحدگی اور ضرب۔ حدیثِ مبارک میں وضاحت کی گئی ہے کہ ضرب ایسی نہ ہو جو نشان چھوڑے۔ اسی طرح حدیثِ مبارک میں ان بچوں کے لیے بھی ، جو دس سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد نماز نہ پڑھیں ، ضرب کا ذکر ہے۔ فقہائے کرام نے ان دونوں امور میں تصریح کی ہے کہ یہ سزا نہیں ، بلکہ تادیب ہے اور اسی لیے اس میں ڈنڈے یا کوڑے کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اب خواہ "نشوز"سے ہر قسم کی "نافرمانی" مرادنہ ہو ، بلکہ صرف ایک مخصوص قسم کی سرکشی ہی مراد ہو ، اور اس صورت میں بھی خواہ ضرب ان حدود کے اندر ہو جو فقہاے کرام نے ذکر کی ہیں ، بہرحال اس قانون کی رو سے اس کا شمار "گھریلو تشدد" میں ہوگا۔ 

گویا یہاں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک جانب یہ انتہا ہے کہ نشوز سے ہر طرح کی "نافرمانی "مراد لے کر اور ضرب کو "مار پیٹ " سمجھ کر شوہر کے لیے بیوی پر مختلف نوعیت کے مظالم ڈھانے کو اس کا شرعی حق قرار دیا جاتا ہے ، تو دوسری انتہا یہ ہے کہ قرآن کے اس حکم کو ، خواہ اسلامی قانون کی حدود کے اندر ہی اس پر عمل کیا جائے ، تشدد قرار دیاجاتا ہے۔ دینی حلقوں کے سامنے اس وقت اصل سوال یہی ہے کہ کس طرح شریعت کے اس حکم سے انکار کیے بغیر گھریلو تشددد کا راستہ روکا جائے ؟ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ دینی حلقے تو یہ بات ماننے کے لیے ہی تیار نہیں ہیں کہ شریعت کے اس حکم کی غلط تعبیر کی جاتی ہے یا یہ کہ گھریلو تشدد ایک امر واقعی ہے۔ جب تک دینی حلقے انکار کی نفسیات سے نکل کر ایسی قانون سازی کے لیے رہنمائی فراہم نہیں کریں گے جس سے شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی بھی نہ ہوتی ہو اور گھریلو تشدد کی روک تھام بھی ہوسکے ، تب تک دوسروں سے گلہ بے جا ہی ہوگا۔ 

پس چہ باید کرد؟ 

۱۔ اولاً تو دینی حلقوں کے لیے یہ بات قابلِ غور ہے کہ سانپ گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا عمل وہ کب تک جاری رکھیں گے ؟ قانون کا یہ مسودہ مئی 2015ء میں اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ دس مہینے بعد اسے منظور کیا گیا۔ یہ دس مہینے کیوں اس مسودے پر بحث کرکے اس کی کمزوریاں دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ؟اسلامی نظریاتی کونسل کا ادارہ بنیادی طور پر اسی قبل از تقنین (pre-legislation) مرحلے کے لیے بنایا گیا ہے، اگرچہ بعد از تقنین بھی وہ مشورے دے سکتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں ان مشوروں کا ماننا اسمبلی پر لازم نہیں ہے، لیکن بدیہی امر ہے کہ قبل از تقنین مرحلے پر ان کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور جب ان کے ساتھ عوامی دباو بھی ہو تو ان مشوروں کا وزن اور بڑھ جاتا ہے۔ 

۲۔ بعد از تقنین مرحلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے مشوروں کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ البتہ دو اداروں کا کام شروع ہوجاتا ہے : وفاقی شرعی عدالت اور عدالت ہاے عالیہ۔ اول الذکر عدالت کے ذریعے اس قانون کو شریعت سے تصادم کی بنیاد پر ختم یا تبدیل کرایا جاسکتا ہے ، جبکہ عدالتِ عالیہ کے ذریعے اس کی ان شقوں کو ختم یا تبدیل کرایا جاسکتا ہے جو خلافِ دستور ہیں۔ بلکہ اگر یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے تو دستور سے تصادم کے مسئلے کو براہِ راست عدالتِ عظمی میں بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔

۳۔ اس بات پر بھی زور دینے کی ضرورت ہے کہ عدالتیں قانوناً اس کی پابند ہیں کہ تمام قوانین کی تعبیر و تشریح اسلامی قانون کی روشنی میں کریں ( حوالے کے لیے دیکھیے : قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4 )۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہماری عدالتوں نے کبھی اس فریضے کی ادائیگی میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، نہ ہی کبھی وکلا نے اس طرف توجہ دلائی۔ اور تو اور خود دینی حلقے اس اہم قانونی شق کو بالکل ہی بھول چکے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عدالتِ عظمی کے سامنے قصاص و دیت کے قانون کا کوئی مسئلہ آتا ہے تو ایک فاضل جج صاحب فیصلے میں یہ لکھتے ہیں کہ شریعت سے تصادم کا مسئلہ اٹھانے کے لیے مناسب فورم عدالتِ عظمیٰ کے بجاے وفاقی شرعی عدالت ہے اور ایک دوسرے جج صاحب لکھتے ہیں کہ خدائی قانون کی تعبیر و تشریح کے لیے وہ خود میں مناسب اہلیت نہیں پاتے ! یہ دونوں فاضل جج صاحبان یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلامی قانون سے ہم آہنگ تعبیر کرنا ان پر مذکورہ بالا قانون کی رو سے بھی لازم ہے اور بالخصوص قصاص و دیت کے قانون میں تو مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 338۔ایف نے تصریح کی ہے کہ اس باب کی تعبیر و تشریح اسلامی قانون کی روشنی میں کی جائے گی۔ پس شریعت سے متصادم یا ہم آہنگ قرار دینے کا اختیار تو یقیناًوفاقی شرعی عدالت ، اور پھر اپیل ہو تو عدالتِ عظمیٰ کی شریعت اپیلیٹ بنچ ، کے پاس ہے لیکن جہاں تک تمام قوانین کی ایسی تعبیر و تشریح کا معاملہ ہے جو شریعت سے ہم آہنگ ہو ، تو وہ ماتحت عدالتوں سے لے کر عدالتِ عظمیٰ تک تمام عدالتوں کا قانونی فریضہ ہے۔ 

۴۔ وہ دینی حلقے جو تشدد اور انتہاپسندی سے خود کو الگ تھلگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ ان ریاستی اداروں 150 اسلامی نظریاتی کونسل ، وفاقی شرعی عدالت اور عدالت ہائے عالیہ و عدالت عظمی 150 کے ذریعے قوانین کو اسلام سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں تیز کردیں۔ کیا کسی نے اس امر پر غور کیا ہے کہ 1980ء سے 1999ء تک وفاقی شرعی عدالت اور عدالتِ عظمیٰ کی شریعت اپیلیٹ بنچ کس قدر موثر ادارے تھے اور اس کے بعد ڈیڑھ دہائی میں وہ کس قدر غیر متعلق ہوچکے ہیں؟ کیا کسی نے اس امر کا بھی جائزہ لیا ہے کہ ان اداروں کے غیر موثر اور غیر متعلق ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کے بیانیے کو ہی تائید مل رہی ہے جو پورے ریاستی و دستوری ڈھانچے کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں ؟ 

۵۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ وفاقی شرعی عدالت ، یا عدالتِ عالیہ و عدالتِ عظمیٰ سے فیصلہ حاصل کرنے کے بعد بھی بالآخر متبادل قانون سازی کے لیے اسمبلی کے فلور کا ہی رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے عدالت اور اسمبلی کا راستہ کٹھن اور لمبا ہی سہی ، جمہوری سیاست میں اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ان قانونی راستوں کی موجودگی میں بھی براہ راست احتجاج اور دھونس کی راہ اختیار کرنا دراصل اس مرض کی ابتدا ہے جس کی انتہائی شکل نظمِ اجتماعی کے خلاف بغاوت کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ 

"تنگ دروازہ سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازہ چوڑا ہے اور وہ راستہ کشادہ ہے جو ہلاکت کو پہنچا سکتا ہے اور اس سے داخل ہونے والے بہت ہیں۔کیو نکہ وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کو پہنچاتا ہے اور اس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔" (انجیل متی ، باب 7 ، آیات 13۔14) 

آراء و افکار