حدود آرڈیننس : چند تجزیاتی آرا

ادارہ

(ہمارا معاشرہ، بہت سے دوسرے فکری اور عملی سوالات کی طرح، اسلامی قوانین کے حوالے سے بھی انتہا پسندی کا شکار ہے۔ ایک طرف جدید مغربی فلسفہ قانون سے متاثر وہ طبقہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے باوجود شرعی قوانین کی افادیت اور ان کے قابل عمل ہونے پر سرے سے یقین ہی نہیں رکھتا اور قرآن وسنت کو بطور ماخذ قانون تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ دوسری طرف مذہبی طبقات ہیں جن کے ہاں اسلامی قوانین کے بارے میں یہ تصور رائج ہے کہ گویا وہ کوئی ’’جادو کی چھڑی‘‘ (Magic Wand) ہیں جن کو معاشرے کی اخلاقی تربیت اور عملی حالات اور پیچیدگیوں کا لحاظ رکھے بغیر محض جیسے تیسے نافذ کر دینے سے مطلوبہ برکات ونتائج حاصل ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قانون کی تعبیر وتشریح، اس کے نفاذ کی عملی شکل اور اس میں درپیش معروضی مشکلات اور مسائل کے حوالے سے بھی کوئی بحث اگر سامنے آتی ہے تو مذہبی طبقات بالعموم اس میں کوئی مثبت اور تعمیری حصہ لینے کے بجائے ’اسلامائزیشن‘ اور ’سیکولرازم‘ کا غیر متعلق سوال کھڑا کر کے خلط مبحث پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ معاشرتی وقانونی مسائل کے حوالے سے غیر ضروری الجھنیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خود اہل مذہب کے شریعت وقانون کے فہم کے بارے میں بھی بد اعتمادی پید ا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ 
ہماری رائے میں شرعی قوانین کی اہمیت وافادیت کے بے لچک دفاع کے ساتھ ساتھ ان کی تعبیر اور عملی نفاذ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے آزادانہ بحث وتمحیص کا رویہ ہی مذکورہ دونوں رویوں کے مابین نقطہ اعتدال ہے ۔ ذیل میں حدود آرڈیننس کے بارے میں جاری حالیہ بحث کے تناظر میں چند تجزیاتی آرا شائع کی جا رہی ہیں۔ توقع ہے کہ ان کو سنجیدہ غوروفکر کا مستحق سمجھا جائے گا۔ مدیر)


(۱)

قومی اسمبلی میں ایم ایم اے کی خواتین ارکان اسمبلی نے ویمن کمیشن کی سربراہ جسٹس ماجدہ کی طرف سے حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کے مطالبہ پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ شرعی قوانین کی منسوخی کا کوئی قدم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ویمن کمیشن نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ملک میں نافذ ہونے والے حدود آرڈیننس کو یکسر منسوخ کر دیا جائے کیونکہ یہ آرڈیننس کمیشن کے ارکان کے بقول ملک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی کا باعث بن رہا ہے اور اس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔

’’حدود‘‘ کی اصطلاح اسلامی شریعت کی ایک مخصوص اصطلاح ہے جس کا اطلاق معاشرتی جرائم کی ان سزاؤں پر ہوتا ہے جو قرآن وسنت میں حتمی طور پر طے شدہ ہیں۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں کسی عدالت کو ان سزاؤں میں کمی بیشی کا اختیار نہیں ہوتا اور عدالت ان سزاؤں کو اسی صورت میں نافذ کرنے کی پابند ہوتی ہے جس طرح قرآن وسنت اور اجماع امت کے ذریعے انہیں بیان کیا گیا ہے۔ یہ صرف چند جرائم کی سزائیں ہیں، ان کے علاوہ باقی جرائم کی سزائیں متعین کرنے کا اسلامی حکومت کو اختیار حاصل ہوتا ہے اور قاضی بھی موقع محل کی مناسبت سے ان سزاؤں میں کمی بیشی یا معافی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ سزائیں تعزیرات کہلاتی ہیں اور پانچ چھ جرائم کے سوا باقی تمام صورتوں میں اسلام نے حکومت اور عدالت کو سزا دینے یا نہ دینے، سزا میں کمی بیشی کرنے یا اپنے ماحول یا ضرورت کے مطابق سزا کی کوئی شکل طے کرنے کا اختیار دیا ہے، البتہ پانچ یا چھ جرائم ایسے ہیں جن کے عدالت کے نوٹس میں آ جانے اور جرم ثابت ہو جانے کے بعد سزا کو معاف کرنے یا اس میں کمی بیشی کرنے کا اختیار عدالت کے پاس باقی نہیں رہتا اور وہ فقہ اسلامی کی وضاحت کے مطابق درج ذیل ہیں:

۱۔ چوری کی سزا قرآن کریم نے سورۃ المائدہ آیت نمبر ۳۸ کے مطابق یہ طے کی ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور متعدد روایات کے مطابق جناب نبی اکرم ﷺ نے خود بھی عملاً یہی سزا دی ہے۔

۲۔ شراب پینا اسلامی شریعت میں حرام ہے اور اس کی سزا صحابہ کرام کے اجماع کی رو سے ۸۰ کوڑے ہے۔

۳۔ کسی پاک دامن مرد یا عورت پر بدکاری کی تہمت لگانا سنگین جرم ہے جسے قذف کہا جاتا ہے اور اس کی سزا قرآن کریم نے سورۃ النور آیت نمبر ۴ کے مطابق ۸۰ کوڑے متعین کی ہے۔ 

۴۔ زنا کی سزا قرآن کریم اور جناب نبی اکرم ﷺ کی واضح تشریحات کے مطابق دو درجوں میں ہے۔ اگر بدکاری کرنے والا مرد یا عورت شادی شدہ ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے اور اگر وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک غیر شادی شدہ ہے تو اسے ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں گے۔

۵۔ ڈکیتی کی سزا قرآن کریم نے سورۃ المائدہ آیت نمبر ۳۳ میں مختلف صورتوں میں ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹنا، سولی پر لٹکانا یا جلا وطن کرنا بیان کی ہے۔

۶۔ ارتداد یعنی کسی مسلمان کا ایک اسلامی ریاست میں اپنا مذہب چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنا بھی اسلامی شریعت کی رو سے قابل دست اندازی پولیس جرم تصور ہوتا ہے اور اس کی سزا خود جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشاد مبارک کے مطابق یہ ہے کہ توبہ نہ کرنے کی صورت میں اسے قتل کر دیا جائے۔

قرآن وسنت کی بیان کردہ ان سزاؤں کو حدود کہا جاتا ہے اور جہاں بھی اسلامی نظام کی بات ہوتی ہے، فطری طور پر نفاذ اسلام کے مطالبات میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ معاشرے میں جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے حدود شرعیہ کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔

ہمارے ہاں ۱۸۵۷ء تک پورے متحدہ ہندوستان میں جو قانونی نظام رائج تھا، اس میں یہ حدود شامل تھیں جو ملکی قانون کی صورت میں نافذ تھیں اور عدالتیں اسی کے مطابق فیصلے دیا کرتی تھیں، مگر ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد جب برطانوی حکومت نے دہلی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی تو ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کی صورت میں نافذ ان شرعی قوانین کو ختم کر کے برطانوی قوانین کے مطابق قانونی نظام کا ایک نیا ڈھانچہ متحدہ ہندوستان کی عدالتوں میں تعزیرات ہند کے نام سے نافذ کر دیا جو ابھی تک باقی چلا آ رہا ہے اور قیام پاکستان کے بعد اسی کو تعزیرات پاکستان کا نام دے دیا گیا ہے۔

پاکستان بن جانے کے بعد ملک کے دینی حلقوں نے اس بنیاد پر کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے متعدد اعلانات میں واضح کیا تھا کہ پاکستان میں وہی قوانین نافذ ہوں گے جو قرآن وسنت نے بیان کیے ہیں، مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قومی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح عدالتوں میں بھی اسلامی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور اسی مطالبہ پر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے اپنے دور حکومت میں ’’حدود آرڈیننس‘‘ کے نام سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ان سزاؤں کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔ ان سزاؤں کا آج تک عملی نفاذ سامنے نہیں آیا بلکہ چند شرعی قوانین کے نفاذ کے ساتھ ہی ان کے گرد مروجہ قانونی نظام کی بالادستی اور دیگر تحفظات کا ایک ایسا حصار قائم کر دیا گیا ہے کہ کسی جرم پر شرعی سزا کا عملاً نفاذ نہ آج تک ممکن ہو سکا ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی توقع ہے، مگر ان کے باوجود ’’حدود شرعیہ‘‘ کے اس برائے نام نفاذ پر بھی پوری دنیا میں شور بپا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے حکومت پاکستان پر ان قوانین کی منسوخی کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور ہمارے خیال میں ویمن کمیشن کی مذکورہ سفارش بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔

حدود شرعیہ کے سلسلے میں جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں، ان میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ یہ قوانین آج کے مروجہ عالمی قانونی نظام سے متصادم ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور کی روشنی میں دنیا میں انسانی حقوق کی جو تشریح کی جا رہی ہے، اس کی رو سے معاشرتی جرائم کی یہ سزائیں متشددانہ اور ذہنی وجسمانی اذیت پر مشتمل ہیں، اس لیے انسانی حقوق کے منافی ہیں، حتیٰ کہ بعض معاملات میں صرف سزاؤں کی سختی اور تشدد تک بات محدود نہیں رہتی بلکہ کسی عمل کے جرم ہونے کا تصور وتعین بھی متنازعہ قرار پاتا ہے۔ مثلاً زنا یعنی اپنی جائز بیوی کے سوا کسی اور عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا اسلام کی رو سے سنگین جرم ہے جس کی انتہائی سزا موت ہے مگر اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی اداروں کی طرف سے کی گئی اس کی تشریحات کے مطابق کوئی مرد اور عورت نکاح کا تعلق نہ ہونے کے باوجود اگر باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں تو یہ سرے سے جرم ہی نہیں ہے۔ اسی طرح مرد کا مرد کے ساتھ جنسی تعلق اسلام کی رو سے قطعی حرام ہے اور اس کی سنگین سزا بیان کی گئی ہے مگرمروجہ عالمی قانونی نظام کے مطابق یہ کام جرم ہی متصور نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی خواتین کانفرنس میں قرارداد کے ذریعے دنیا بھر کی حکومتوں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ملکوں میں ’’متبادل جنسی عمل‘‘ (یعنی لواطت) کو قانونی تحفظ فراہم کریں، جبکہ اکثر وبیشتر مغربی ملکوں میں اس لعنتی عمل کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔

قوانین کے سخت ہونے یا نہ ہونے کی بحث ایک طرف، مگر یہ حقیقت ہے کہ حدود شرعیہ کے نفاذ پر مغربی فلسفہ وتہذیب اور مروجہ بین الاقوامی قانونی نظام کے پس منظر میں اعتراض کرنا اور کسی مسلمان ملک میں نافذ شدہ اسلامی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرنا اسلامی تہذیب وثقافت اور مغربی ثقافت ومعاشرت کے درمیان جاری کشمکش میں مغرب کی حمایت اور اس کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، اس لیے ویمن کمیشن کی مذکورہ سفارش کو اس تہذیبی کشمکش اور ثقافتی محاذ آرائی کے اس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور اس کی حمایت یا مخالفت کرنے والوں کو اپنے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچ لینا چاہیے کہ وہ موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش کے حوالے سے کس کیمپ میں کھڑے ہیں۔

حدود آرڈیننس کے نفاذ کے حوالے سے جو دوسرا بڑا اعتراض کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور اعتراض کرنے والوں کے بقول سینکڑوں خواتین غلط الزامات کے تحت جیلوں میں قید ہیں۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے اور اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حجاب نہیں ہونا چاہیے کہ ان قوانین کا بہت جگہ غلط استعمال ہو رہا ہے، لیکن یہ صرف ان قوانین کی بات نہیں، ان کے علاوہ باقی قوانین کا بھی یہی حال ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں نافذ اکثر وبیشتر قوانین کا ہر سطح پر غلط استعمال ہو رہا ہے، مگر اس کا تعلق قانون کی ضرورت وافادیت سے نہیں بلکہ معاشرتی رویوں سے ہے اور ان معاشرتی اقدار سے ہے جو دور غلامی میں ہماری صفوں میں گھس آئی تھیں اور اب نیم غلامی کے دور میں مسلسل پروان چڑھ رہی ہیں اور انہوں نے پورے معاشرے کو کرپٹ کر دیا ہے۔

لہٰذا اگر قانون کے غلط استعمال کو دلیل کے طور پر قبول کر لیا جائے تو کوئی قانون اس کی زد سے نہیں بچتا اور اکثر وبیشتر مروجہ قوانین کو باقی رکھنے کا جواز مشکوک ہو جاتا ہے۔ مثلاً قتل ایک سنگین جرم ہے جس کی سزا ہمارے قانون میں موت ہے۔ اگر مذکورہ بنیاد پر ملک میں قتل کے جرم میں درج کیے گئے مقدمات اور ان کے تحت گرفتار شدہ حضرات کا اسی طرح سروے کیا جائے جیسے ہماری این جی اوز حدود آرڈیننس کے مقدمات کا سروے کرتی رہتی ہیں تو قتل کے قوانین کے غلط استعمال اور ان کے ذریعے ہونے والی زیادتیوں اور مظالم کا تناسب اس سے کسی طرح کم نہیں ہوگا جس کا نقشہ حدود آرڈیننس کے مقدمات کے حوالے سے قوم کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، اس لیے اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ سرے سے قتل کی سزا کا قانون ہی ختم کر دیا جائے یا قتل کو جرم قرار دینے سے انکار کر دیا جائے، بلکہ اس کا اصل اور صحیح حل یہ ہے کہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مناسب تدابیر اختیار کی جائیں اور زیادتیوں کی روک تھام کی راہ نکالی جائے۔ کسی قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے اس قانون کو ہی ختم کر دینے کے مطالبہ نہ تو مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔

(ابو عمار زاہد الراشدی، روزنامہ پاکستان، ۱۴ ستمبر ۲۰۰۳ء)

(۲)

چند روز پہلے حقوق نسواں کے لیے متحرک خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ایک مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حدود آرڈیننس عورتوں کے بارے میں ایک امتیازی قانون ہے جسے ختم یا تبدیل ہو نا چاہیے۔ایک آدھ دن کے بعد مذہبی جماعتوں سے وابستہ خواتین نے اس آرڈیننس کے حق میں مظاہرہ کیا۔ ان کی رائے میں اس قانون کاباقی رہنا ضروری ہے کیونکہ یہ اسلامی تعلیمات کا ترجمان ہے۔ ایک دن کے وقفے سے سرحد اسمبلی نے اس قانون کے حق میں ایک قرارداد منظور کی اور اس کی مخالفت کو اسلام دشمنی سے تعبیر کیا۔ اس پر رد عمل ہوا اور سرحد کی بعض سماجی تنظیموں نے سرحد اسمبلی کے خلاف مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا۔

حدود آرڈیننس چند قوانین کا مجموعہ ہے جو ۱۹۸۰ء میں نافذ ہوئے۔ یہ قوانین اسی وقت سے متنازعہ چلے آ رہے ہیں اور یہ دونوں نقطہ ہائے نظر تب سے موجود ہیں۔ وقتاً فوقتاً بعض لوگ اپنی رائے کے اظہار میں بلند آہنگ ہو جاتے ہیں جس سے یہ بحث نئے سرے سے زندہ ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اختلاف کو بالعموم اخلاقی حدود کا پابند نہیں بنایا جاتا، اس لیے ہر اختلاف اپنے سیاق وسباق سے اوپر اٹھ کر شخصی مخالفت میں ڈھل جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ایمان اور دین سے وابستگی کے بارے میں فتاویٰ جاری ہوتے ہیں، اس لیے اس بات کی ہمیشہ ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ اس نوعیت کے تمام مسائل کو ان کے صحیح پس منظر میں سمجھنے کی سعی کی جائے تاکہ کوئی اختلاف معاشرے میں کسی تقسیم (polarization) کو آگے بڑھانے کے بجائے ہمارے فکری ارتقا کے لیے معاون ثابت ہو۔ میں نے حدود آرڈیننس کے مسئلے کو اس تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ ’حدود‘ اور ’حدود آرڈیننس‘ میں فرق کیا جانا چاہیے۔ ’حدود‘ سے مراد وہ سزائیں ہیں جو بعض جرائم کے لیے شریعت نے متعین کر دیں اور ’حدود آرڈیننس‘ سے مراد وہ قانون ہے جو بعض انسانوں نے اپنے فہم کے مطابق حدود کے نفاذ کے لیے بنایا۔ اس قانون کو کوئی الہامی تقدس حاصل نہیں۔ اس پر تنقید ایمان کا معاملہ نہیں اور نہ ہی اسے شرعی قوانین پر تنقید سمجھنا چاہیے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ آج جو لوگ حدود آرڈیننس پر معترض ہیں، ان کی اکثریت کا اختلاف ان لوگوں کے فہم دین سے ہے جنہوں نے یہ قانون بنایا۔ اب اس بات پر کسی کو اسلام دشمن یا اسلام مخالف قرار دینا ایک انتہا پسندی ہے جس کے لیے اللہ کے حضور میں جواب طلبی ہو سکتی ہے۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ ان قوانین میں فی الواقع ایسی باتیں موجود ہیں جو ناقابل فہم ہیں۔ ان باتوں کا تعلق حدود سے نہیں بلکہ ان کے نفاذ کی عملی تدبیر سے ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی فردپر حدود کے تحت کوئی مقدمہ قائم ہوتا ہے اور عدالت میں ثابت نہیں ہوتا تو اس فرد کو تعزیراً سزا دے دی جاتی ہے۔ اب کسی جرم کی دو ہی ممکنہ صورتیں ہیں۔یا تو جرم ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے۔ اگر جرم ثابت ہے تو پھر حد کا نفاذ کیوں نہیں اور اگر نہیں ثابت تو تعزیر کس بات کی؟ آخر وہ درمیانی صورت کیا ہے جس کے لیے تعزیر نافذ کی جا رہی ہے؟ مثال کے طور پر ایک شخص کے خلاف چوری کا الزام ہے۔ عدالت کو اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ اس نے چوری کی ہے یا نہیں کی۔ اب عدالت یہ کہتی ہے کہ اس پر چوری ثابت نہیں کیونکہ شہادت اس درجے کی نہیں جو چوری کا مقدمہ ثابت ہونے کے لیے ضروری ہے لیکن چونکہ بعض شواہد موجود ہیں اس لیے اسے تعزیراً سزا دی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چوری سو فی صد ثابت نہیں لیکن اسی یا ستر فی صد ثابت ہے؟ کیا چوری، زنا یا قذف کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جرم اتنے فی صد ہوا اور اتنے فی صد نہیں ہوا؟ یہ ایک ایسی مضحکہ خیز صورت ہے جس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں۔ نہ نقلی نہ عقلی۔

حدود آرڈیننس کے نفاذ کے بعد شاید ہی کسی پر حد جاری کی گئی ہے لیکن حدود کے تحت مقدمات میں تعزیراً بے شمار لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس صورت حال پر ہماری عدالتیں، بالخصوص وفاقی شرعی عدالت ، قانون ساز اسمبلی، علما اور دوسرے حضرات غور کریں کہ کیا ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کے نقص فہم نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جس کے باعث اللہ کے قوانین بلاوجہ زیر بحث آ گئے ہیں؟

دوسری بات شہادت کے قانون سے متعلق ہے۔ حدود کے بارے میں گواہی کے معیارات کا بیان حدود آرڈیننس میں موجود ہے۔ اس کے بعد ۱۹۸۴ء میں جو قانون شہادت نافذ ہوا، اسے بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ان قوانین کے تحت حدود کے مقدمات میں عورت کی گواہی سرے سے قابل قبول نہیں اور دیگر مقدمات میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے۔ عورت کی گواہی ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ ہماری تاریخ میں جہاں عورت کی گواہی کی عدم قبولیت کے واقعات درج ہیں، وہاں یہ بھی موجود ہے کہ بعض ادوار بالخصوص خلافت راشدہ میں حدود کے مقدمات میں عورت کی گواہی قبول کی گئی ہے۔ * اس کے بعض شواہد ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے اسلامی نظریاتی کونسل کے نام اپنے خط میں جمع کر دیے ہیں اور ان ہی کی بنیاد پر وہ خود بھی حدود میں عورت کی گواہی کو مصدقہ سمجھتے ہیں، اگرچہ وہ دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کے برابر قرار دیتے ہیں۔ تاہم بہت سے علما ایسے بھی ہیں جو مرد اور عورت کی گواہی میں تفریق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک قرآن مجید کی جس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے، وہ استدلال درست نہیں۔ استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی نے اس پر دلائل دیے ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیت دستاویزی شہادت سے متعلق ہے جب گواہوں کا انتخاب انسان خود کرتے ہیں۔ واقعاتی شہادت ایک دوسری چیز ہے اور اس ضمن میں اصل حیثیت عدالت کے اطمینان کو حاصل ہے۔ اگر وہ کسی عورت کی گواہی سے مطمئن ہو جاتی ہے تو محض اس وجہ سے یہ گواہی کم قیمت نہیں ہوگی کہ وہ عورت ہے۔ جاوید صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن مجید کی یہ آیت ایک معاشرتی ہدایت ہے نہ کہ عدالت سے متعلق کوئی حکم۔ * میرا کہنا یہ ہے کہ عورت کی گواہی کا مسئلہ بھی ایسا نہیں جس پر سب اہل علم متفق ہوں۔ اب ایسے اختلافی مسئلے کو دین اسلام کا بنیادی مسئلہ بنانا بھی اپنی حدود سے تجاوز ہوگا۔ اس پہلو سے دیکھیے تو یہ قانون بہرحال عورتوں کے حوالے سے امتیازی ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ ان قوانین میں زنا بالجبر کا ثبوت عورت کے ذمے ہے۔ اگر وہ یہ ثابت نہیں کر سکتی تو یہ مقدمہ اس کے خلاف زنا کے مقدمے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آ سکی۔ اگر زنا بالجبر کا مقدمہ ثابت نہیں ہوتا تو اس سے یہ تو ہو سکتا ہے کہ ملزموں کو چھوڑ دیا جائے لیکن عورت کو سزا دینے کا کیا جواز ہے؟ کیا اس کا جرم یہ ہے کہ اس نے وقوعہ سے پہلے چار گواہوں کا اہتمام نہیں کیا جو واقعے کو بہت باریک بینی سے ملاحظہ فرماتے؟

غور کیجیے تو یہ مسئلہ بھی شریعت کا نہیں، ہمارے فہم شریعت کا ہے۔ اب اس کا نتیجہ کیا ہے؟ ہمارے ہاں شریعت کے نام پر گواہی کا جو قانون نافذ ہے، اس کے تحت کسی پر حد جاری ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کو نافذ ہوئے تئیس برس ہو گئے لیکن آج تک کسی پر، میرے علم کی حد تک، حد نافذ نہیں ہوئی۔ اب اگر کسی عورت کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے پاس دو راستے ہیں: وہ عدالت کے پاس جائے یا گھر بیٹھی رہے۔ اگر عدالت جاکر وہ اپنا مقدمہ ثابت نہیں کر سکتی تو اسے زنا کی سزا لازماً بھگتنا ہوگی۔ اس خوف کے تحت وہ عدالت سے گریز کرے گی اور گھر میں بیٹھی رہے گی۔ اگر اس حادثے کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو جاتی ہے تو معاشرے میں اس کو جس اذیت سے گزرنا پڑے گا، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے یہ قانون بنا کر مظلوم عورت کی مدد کی یا اوباش مجرموں کی؟ اس قانون کے تحت عورتوں پر جو ظلم ہوا، اس کی ایک طویل داستان ہے۔ اس وقت اس قانون کا سقم پوری طرح نمایاں ہوا جب ایک نابینا لڑکی سفیہ بانو اوباشوں کے ہاتھوں اپنی عزت گنوا بیٹھی جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ اس کی داد رسی یوں ہوئی کہ عدالت نے اسے زنا کے جرم میں تین سال قید بامشقت، پندرہ کوڑوں اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ یہ ایسا کھلا ظلم تھا کہ وفاقی شرعی عدالت کو یہ سزا ختم کرنا پڑی۔

چوتھی بات قذف سے متعلق ہے۔ اگرچہ قانون میں یہ بات موجود نہیں لیکن وفاقی شرعی عدالت کے ایک فیصلے سے یہ تاثر قائم ہوا کہ خاوند بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور ثابت نہ کر سکے تو بیوی جواباً خاوند پر قذف کا مقدمہ قائم نہیں کر سکتی۔ جس معاشرے میں خاوند اکثر اس کے مرتکب ہوتے ہوں کہ دوسری شادی یا کسی اور ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لیے بیویوں پر اخلاقی الزام عائد کرتے ہوں، وہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا عورت کو اپنی حیثیت عرفی کے دفاع کا قانونی حق نہیں ملنا چاہیے؟

پانچویں بات قید کی سزا سے متعلق ہے جس کا تعلق حدود آرڈیننس کے ساتھ نہیں، تمام قوانین سے ہے۔ قید کی سزا سے ایک عورت بالخصوص اور ایک مرد بالعموم جس اذیت سے گزرتے ہیں، وہ ایک ایسے معاشرتی المیے کو جنم دیتا ہے جس کا اندازہ ہر اس شخص کو ہو سکتا ہے جو انسانی جذبات کو ادنیٰ درجے میں بھی سمجھتا ہے۔ میں اس پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قید کی سزا کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، اسے ختم کیا جانا چاہیے۔

حدود آرڈیننس پر جو اعتراضات ہوتے ہیں، ان کا زیادہ تعلق قانون کے نفاذ اور ہمارے عدالتی نظام سے ہے۔ اس معاشرے کے ہر طبقے، مذہبی یا غیر مذہبی سے میری درخواست یہ ہے کہ وہ حدود آرڈیننس کو اس تناظر میں دیکھے کہ کیا اس سے معاشرے میں جرائم کم ہوئے ہیں؟ کیا اس میں فی الواقع خواتین کے ساتھ امتیاز اور ظلم روا رکھا گیا ہے؟ اگر جرائم میں کوئی کمی نہیں آئی اور عورتوں پر مظالم بڑھے ہیں تو پھر ہمیں اپنے فہم دین پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اللہ کے قوانین تو ہیں ہی اس لیے کہ لوگوں کے ساتھ انصاف ہو اور کسی پر ظلم نہ ہو۔

(خورشید ندیم، روزنامہ جنگ ، ۱۶ ستمبر ۲۰۰۳ء)

(۳)

یہ تقریباً تین سال پرانی بات ہے جب حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کے خلاف اتنی شدومد سے آوازیں اٹھنا شروع نہیں ہوئی تھیں اور میرے جیسے عام لوگ اس آرڈیننس کی کرامات سے اتنے زیادہ باخبر نہیں تھے۔ انہی دنوں ’’خواتین پر جنسی تشدد‘‘ کے موضوع پر وہ سیمینار مجھے یاد ہے جس کا اہتمام انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کیا تھا۔ موضوع پر گفتگو سے قبل ایک تھیٹر دکھایا گیا تھا کہ کس طرح ایک لڑکی بعض بااثر لوگوں کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے لیکن گھر والے زنا کے مقدمہ کے خوف اور بدنامی کے ڈر سے اس کی ایف آئی آر درج نہیں کراتے لیکن بدنامی پھر بھی اس کی جھولی میں آن گرتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ بے قصور ہے، سماج اسے ٹھکرا دیتا ہے، حتیٰ کہ اس کا منگیتر بھی اس سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ یہ تھیٹر دکھانے کے بعد موضوع پر بحث کا آغاز ہوا۔ شرکا جن میں دانش ور اور تقریباً تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے افراد تھے، انہوں نے بحث میں بھرپور حصہ لیاجس میں موضوع کے سماجی، قانونی اور دیگر پہلوؤں پر بحث مباحثہ کے علاوہ ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ کیا جنسی تشدد کا شکار ہونے والی عورت یا لڑکی کی ایف آئی آر درج کرانی چاہیے یا گھر والوں کو معاملہ خاموشی سے دبا دینا چاہیے، جیسا کہ تھیٹر میں دکھایا گیااور جو ہمارے معاشرتی رویے کی ہوبہو عکاسی کر رہا تھا۔ شرکا نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق اظہار خیال کیا، جبکہ میری رائے تھی کہ ایسے واقعات کو چھپانا نہیں چاہیے۔ میرا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ لڑکی پر ظلم بھی ہو اور جرم کو چھپا کر ہم اسے احساس جرم میں بھی مبتلا کر دیں؟ میں نے استفسار کیا کہ قتل کو تو جرم سمجھا جاتا ہے جبکہ آبرو ریزی کے واقعہ کو بدنامی کا موجب قرار دے کر اسے جرم کے دائرے سے خارج کر دیا جاتا ہے اور لڑکی کے سماجی مستقبل کی فکر کی جانے لگتی ہے۔ بحث مختلف جہتوں پر چلتی ہوئی بالآخر اختتام پذیر ہوئی، جس کا حاصل کیا رہا؟ یہاں اس کا بیان میرے اصل موضوع سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تاہم میری تمام دلیلیں مجھے اس روز بے وزن سی معلوم ہوئیں جب میں نے حال ہی میں کوٹ لکھپت جیل لاہور کا وزٹ کیا۔

۱۶ یا ۱۷ برس کی ریحانہ منظور جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑی زاروقطار رو رہی تھی۔ دھرم پورہ لاہور کی یہ لڑکی زنا کے کیس میں چند روز قبل (اس اکتوبر کی دس یا گیارہ تاریخ کو) یہاں لائی گئی۔ تقریباً چھ ماہ قبل وہ اپنی بہن کے گھر گئی تھی جہاں اس کے بہنوئی نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا اور وہ چپ چاپ گھر چلی آئی۔ شاید وہ عمر بھر لب نہ کھولتی اور اپنی بہن کے گھر کے اجڑنے کے خوف سے اور اپنی بدنامی کے ڈر سے یہ ظلم سہہ جاتی، مگر بد قسمت بچی حاملہ ہوگئی جس کے بعد اس کے لیے صورت حال چھپانا ناممکن ہو گیا۔ والدہ اور بہن کو معلوم ہوا تو انہوں نے معاملہ گھر کے اندر ہی دبانے کی کوشش کی اور ریحانہ کی والدہ نے اپنے داماد الیاس کی منتیں کیں کہ وہ اپنے جرم کا اعتراف کر لے، جس پر الیاس نے بے غیرتی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی کہیں اور منہ کالا کر آئی ہے اور مجھے بدنام کر رہی ہے۔ جب صورت حال کافی بگڑ گئی تو ریحانہ کی ماں نے تھانے میں الیاس کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی۔ (مجھے قوی یقین ہے کہ ریحانہ کی ماں، جو ایک ان پڑھ اور قانون سے بے بہرہ عورت ہے، یہ نہیں جانتی تھی کہ تھانے میں اس کے اور اس کی بیٹی کے ساتھ کیا ہونے والا ہے) تھانے میں زنا کا کیس درج کر لیا گیا اور یوں ریحانہ منظور انصاف حاصل کرنے کے بجائے جیل بھجوا دی گئی۔ ریحانہ نے روتے ہوئے بتایا کہ میڈیکل رپورٹ سے ثابت ہو چکا ہے کہ میرے پیٹ میں حمل الیاس کا ہے، لیکن ہمارے پاس شہادتیں نہیں ہیں اور ہم غریب ہیں۔ یہ کہہ کر ریحانہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا: ’’باجی! میں رہا ہو جاؤں گی؟ باجی! میری مدد کریں‘‘ میں اسے روتا ہوا دیکھ کر سکتے میں آگئی۔ ممکن ہے وہ رہا ہو جائے، یا شاید سزا بھی ہو لیکن جب بھی وہ جیل سے گھر آئے گی تو کیا معاشرہ اسے پہلے والی حیثیت میں قبول کر لے گا؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ بے قصور ہے؟

پاکستان میں روزانہ کئی عورتیں اور بچیاں مردوں کی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں جن کے صحیح اعداد وشمار حاصل کرنا ناممکن ہے، کیونکہ ۸۰فی صد کیس تو بدنامی اور رسوائی کے خوف اور حدود آرڈیننس سے بچنے کے لیے چھپا لیے جاتے ہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر دو گھنٹے میں ایک عورت جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے، جبکہ ہر آٹھ گھنٹے میں ایک گینگ ریپ ہوتا ہے۔ آپ کو روزانہ اخبار کی ایک خبر ریپ یا گینگ ریپ سے متعلق ضرور ملے گی اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں جب یہ حدود آرڈیننس اسلامائزیشن کے نام سے متعارف کروایا گیاتو اس کے بعد تو جیسے قانون کے ٹھیکیداروں کے ہاتھ ایک ایسا لائسنس آ گیا جسے انہوں نے رقمیں ہتھیانے اور مفادات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور جو جنسی تشدد کی روک تھام کے بجائے اس میں اضافے کا سبب بنا۔ ۱۹۷۸ء سے لے کر اب تک جنسی تشدد اور گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کے اگر بالکل درست اعداد وشمار اکٹھے کرنا ممکن ہو (ریکارڈ اور غیر ریکارڈ شدہ) تو یہ تعداد بلامبالغہ لاکھوں میں ہوگی، کیونکہ مجرم کو ہمیشہ یہ اطمینان رہا کہ عورت کبھی چار گواہ پیش نہیں کر پائے گی اور زنا کا مرتکب ٹھہرایا جانا کوئی مسئلہ نہیں۔ خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق ۸۰ فیصد خواتین زنا کے کیسوں میں بہت بہت عرصہ ٹرائل پر ہی سزا بھگت رہی ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ اس قانون کا کئی اور طرح سے بھی Misuse ہوتا رہا اور ابھی تک ہو رہا ہے۔ کوٹ لکھپت میں ہی میری ملاقات ستوکتلہ واپڈا ٹاؤن لاہور کی ۲۰ سالہ شمائلہ بشیر سے بھی کرائی گئی جو کہ گزشتہ ۸ ماہ سے یہاں پر ہے اور اس کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اس پر بھی اس کی والدہ نے زنا کا مقدمہ درج کروا رکھا ہے، کیونکہ اس نے گھر سے بھاگ کر اپنی پسند کی شادی کی تھی اور شیخوپورہ میں فاروق انجم کے ساتھ عدالت میں نکاح کیا تھا۔ اس کے پاس نکاح نامہ بھی موجود ہے۔ شمائلہ نے بتایا کہ میری ماں کو اعتراض تھا کہ لڑکا ہماری ذات کا نہیں اور ہم دونوں پر زنا اور چوری کے دو کیس درج کرا دیے۔ فاروق انجم کے گھر والے اس شادی پر رضامند ہیں۔ مدعیوں نے وکیل نہیں کیا، اس لیے مجھے شہادتوں کے لیے بھی نہیں بلایا جاتا، یوں مقدمہ طوالت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہاں ہمیں یہ آرڈیننس پسند کی شادی پر گھر والوں کے رد عمل کے طور پر Misuse ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

واضح رہے کہ ان دنوں حدود آرڈیننس پارلیمنٹ سے لے کر وکلا اور ہر طبقہ ہائے فکر میں ایک متنازعہ موضوع بنا ہوا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک عہدیدار اور مجلس عمل حدود آرڈیننس کی حمایت میں کھڑے ہیں، جبکہ قومی کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن سمیت تمام اپوزیشن (ماسوائے مجلس عمل) اسی قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، جس میں خصوصاً خواتین اور وکلا کی تنظیموں کی طرف سے اسے ختم کرنے کے لیے حکومت پر خاصا دباؤ ہے۔ اسی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ سرحد کی زعفران بی بی کی سنگ ساری کی سزا کو عدالت کو معطل کرنا پڑا تھا۔ قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین اس مسئلے پر سب سے آگے ہیں کہ اس آرڈیننس کا فوری خاتمہ کیا جائے، جبکہ اپنے دونوں دور حکومت میں انہوں نے اس معاملے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا تھا۔

شکیلہ دختر انور جو کہ رائے ونڈ لاہور کی رہائشی ہے، وہ بھی اسی جیل میں ہے۔ اس نے بھی ریاض نامی شخص سے مرضی کی شادی کی اور ماں نے اس پر زنا بالرضا کا کیس دائر کر دیا اور یہ سب کچھ بقول شکیلہ کے سوتیلے باپ کے ایما پر کیا گیا ہے۔ اب ماں مقدمہ واپس لینے کے لیے تو تیار ہے مگر ۱۹ ہزار روپے کے عوض ’’جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے، کیونکہ ہم بہت غریب ہیں‘‘ شکیلہ نے بتایا۔ اس کا شوہر ریاض بھی کیمپ جیل میں ہے۔ وہ یہاں ایک سال سے ہے۔ ریاض کے گھر والوں نے وکیل کروایا ہے لیکن ابھی اگلی تاریخ کا انتظار ہے۔ ہمارے پاس نکاح نامہ اور سارے ثبوت موجود ہیں۔ یہ کہتے ہوئے شکیلہ کی آنکھیں بھر آئیں۔

حدود کے بے شمار کیسوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس آرڈیننس کا سب سے زیادہ استعمال پسند کی شادی کے جرم میں کیا گیا اور چاروں صوبوں میں ایسے بے شمار کیس سامنے آئے ہیں جن میں پسند کی شادی پر گھر والوں کو اعتراض ہوتا ہے اور وہ انتقام کی آگ میں زنا بالرضا کی ایف آئی آر درج کروا کر خود اپنی بیٹی کے لیے جہنم تیار کر ڈالتے ہیں۔ 

شکیلہ کے بعد میری ملاقات نازیہ دختر عاشق سے کرائی گئی، جس کی عمر بمشکل ۲۰ سال ہوگی۔ اس کی گود میں ایک نو ماہ کی بچی تھی جس کا نام اس نے آرزو شہزادی رکھا ہے۔ وہ لاہور کینٹ کچہری کی رہنے والی ہے اور اس کے شوہر اشفاق، جو گھر داماد تھا، کے ساتھ ساس کا زمین کے ایک ٹکڑے پر جھگڑا ہو گیا۔ ساس یعنی نازیہ کی ماں کا اور تو کوئی بس نہ چلا، داماد اور بیٹی پر زنا کا کیس دائر کر دیا۔ وہ آٹھ ماہ سے یہاں ہے۔ مقدمہ چل رہا ہے، اس کی ضمانت ہو چکی ہے، لیکن مچلکہ دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ ’’باجی! مچلکہ کا بندوبست کر دیں‘‘ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے مجھ سے درخواست کی۔ اس کی نو ماہ کی بچی حالات کی سنگینی سے بے خبر جیل کی موٹی سلاخوں والی کھڑکی کو بار بار ہاتھ مار رہی تھی، جو آٹھ ماہ سے ماں کے ساتھ جیل میں ہے۔ 

یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ گھریلو تنازعات میں بھی یہ آرڈیننس کس طرح مدعی کو تحفظ دیتا ہے اور یہ آرڈیننس کس طرح مختلف شکلوں میں عدل وانصاف کی آبرو ریزی کر رہا ہے، ایسے کہ جیسے شیطانوں کے ہاتھوں میں دستی بم ہو، جس نے ہزاروں عورتوں اور ان کے خاندانوں کی عزت وحرمت اور ان کی سماجی حیثیت کے پرخچے اڑا ڈالے۔ ریحانہ، شمائلہ بشیر، شکیلہ، نازیہ دختر عاشق اور ان جیسی سینکڑوں ہزاروں عورتیں پاکستان کی کئی جیلوں میں زنا کے تحت سزائیں کاٹ رہی ہیں جن میں سے اکثر طویل عرصہ سے ٹرائل پر ہی ہیں۔

میری اگلی ملاقاتی نازیہ ممتاز تھی۔ اس کا سابقہ خاوند گلزار اس سے جسم فروشی کرواتا تھا۔ وہ مالی پورہ داتا صاحب لاہور کی رہائشی ہے۔ اس دھندے میں اس کی نند خالدہ بھی ملوث تھی۔ نازیہ نے بالآخر گلزار سے طلاق لے لی اور وہاں سے بھاگ گئی جس کے بعد اس نے ایک مزدور پیشہ شخص سے شادی کر لی۔ پہلے شوہر نے اس پر زنا بالرضا کا مقدمہ درج کروا دیا اور اس سے اس کی بچی بھی چھین لی، جبکہ اس کا بچہ اس کی جیل میں موجودگی کے دوران عدم نگہداشت کے باعث مر گیا۔ نازیہ ممتاز حاملہ ہے۔ ’’باجی! بے میری بچی مجھے واپس دلا دی جائے‘‘ نازیہ ممتاز نے مجھ سے درخواست کی۔

کوٹ لکھپت جیل میں میری ملاقات جتنی بھی قیدی عورتوں سے ہوئی، وہ سب ایک ایک سال یا کچھ مہینوں سے ٹرائل پر ہیں۔ مجھے زنا کے کچھ پرانے کیس بھی درکار تھے۔ معلوم ہوا کہ ایسے زیادہ تر کیس ملتان جیل میں ہیں، جن میں ایک فاطمہ بی بی زوجہ عزیز الرحمن تھی، جس کا ایف آئی آر نمبر 211/95 تھا۔ اسے ۱۱ جون ۱۹۹۶ء کو زنااور چوری کے جرم میں ۵ سال قید، ۲ ہزار روپے جرمانہ اور ۱۰ کوڑوں کی سزا سنانے کے بعد تھانہ ٹبی سٹی سے ملتان جیل بھیج دیا گیا تھا۔

حدود آرڈیننس کے تحت اس وقت بھی ہزاروں خواتین قید با مشقت بھگت رہی ہیں، جن میں سے اکثریت کسی دشمنی، ناچاقی، بدلے یا کسی ایسے ہی تنازعے کی بھینٹ چڑھی ہوں گی۔ حدود آرڈیننس نے معاشرے میں کس قدر بگاڑ پیدا کیا اور عدل وانصاف کے کس طرح سے پرخچے اڑائے، اس کا ایک طویل ریکارڈ ہے۔

موجودہ حالات متقاضی ہیں کہ نہ صرف حدود آرڈیننس کو ختم کیا جائے بلکہ ان جرائم میں قید اور سزا کاٹنے والی عورتوں کو بھی رہا کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مزید عورتیں اس کا شکار بنتی چلی جائیں گی اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا چلا جائے گا کیونکہ ایسی عورتوں کو معاشرے میں بھی کوئی قبول نہیں کرتا، جس کے بعد ان کے پاس معاشی وسماجی حیثیت سے ایک باعزت زندگی گزارنے کا کوئی حق باقی رہ جاتا ہے؟ تو پھر کیا معاشرے میں مزید بے راہ روی نہیں پھیلے گی؟ کیا مزید گھر برباد نہیں ہوں گے؟ کیا مزید لڑکیوں کا مستقبل تاریکیوں کی نذر نہیں ہوگا؟ کیا دنیا میں اسلام کی رسوائی نہیں ہوگی؟ اور کیا مجرموں کے ہاتھ مزید مضبوط نہیں ہوں گے؟ لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ یہ Divine Law (خدائی قانون) ہے۔ وہ بتائیں کہ اب تک یہ کہاں عدل کے تقاضے پورے کر پایا ہے اور کر رہا ہے، جبکہ اسلام عدل وانصاف پر زور دیتا ہے۔ وہ شخص مومن نہیں جو پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور قریب اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔ (بخاری)

(یاسمین فرخ، روزنامہ پاکستان، ۸ نومبر، ۲۰۰۳ء)


حواشی

* حدود میں عورتوں کی گواہی کے ناقابل قبول ہونے کے موقف کے حق میں واضح اور صریح دلیل کی حیثیت تنہا امام زہریؒ کے اس بیان کو حاصل ہے کہ: مضت السنۃ عن رسول اللہ ﷺ ان لا تجوز شہادۃ النساء فی الحدود ولا فی النکاح ولا فی الطلاق (ابن قدامہ، المغنی، ۷/۸۔ مسئلہ ۵۱۴۲) ’’رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ حدود اور نکاح وطلاق کے معاملات میں عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں۔‘‘ 

لیکن ہماری رائے میں اس قدر اہمیت اور نزاکت کے حامل معاملے میں محض امام زہریؒ کے بیان پر انحصار دو وجوہ سے بے حد کمزور ہے:

ایک یہ کہ یہ روایت امام زہریؒ نے مرسلاً بیان کی ہے اور محدثین کے نزدیک ان کی مراسیل پایہ اعتبار سے ساقط ہیں: ان یحیی بن القطان کان لا یری مراسیل الزہری وقتادۃ شیئا ویقول ہی بمنزلۃ الریح (ابن الہمام، فتح القدیر، ۵/۵۰۳) ’’یحییٰ بن القطان، زہری اور قتادہ کی مراسیل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ بالکل بے وقعت ہیں۔‘‘ والزہری مراسیلہ ضعیفۃ (شوکانی، نیل الاوطار، ۷/۲۶۴) ’’زہری کی مراسیل ضعیف ہیں۔‘‘

دوسری یہ کہ امام زہریؒ کی آرا میں متعدد ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں وہ کسی چیز کو ’’سنت‘‘ یعنی عہد نبوی اور عہد صحابہ کا معمول بہ طریقہ قرار دیتے ہیں، لیکن دلائل وشواہد اس کے بالکل برخلاف ہوتے ہیں۔ اکابر اہل علم نے اس بنیاد پر بہت سے امور میں امام زہریؒ کے بیانات کو اپنی رائے کا ماخذ بنانے سے گریز کیا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:

۱۔ زیر بحث روایت ہی میں امام زہریؒ نے فرمایا ہے کہ نکاح وطلاق کے معاملات میں بھی عورتوں کی گواہی ازروے سنت قابل قبول نہیں، لیکن سیدنا عمرؓ اور سیدنا علیؓ کے علاوہ تابعین میں سے عطا، شریح اور شعبی رحمہم اللہ سے اس کے برعکس فیصلے منقول ہیں، چنانچہ فقہاے احناف نے امام زہری کے اس بیان کو قبول نہیں کیا اور وہ اپنے دلائل کی بنا پر ان امور میں عورتوں کی شہادت کو جائز قرار دیتے ہیں۔ (جصاص، احکام القرآن، ۱/۶۸۵)

۲۔ امام زہریؒ سے قضاء بالیمین والشاہد کے طریقے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ: ما اعرفہ وانہا لبدعۃ واول من قضی بہ معاویۃ (جصاص، احکام القرآن ۱/۷۰۵) ’’میں اس طریقے سے واقف نہیں۔ یہ بدعت ہے۔ سب سے پہلے اس کے مطابق معاویہؓ نے فیصلہ کیا تھا۔‘‘

حالانکہ یہ طریقہ رسول اللہ ﷺ اور خلفاے راشدین سے شہرت کے ساتھ ثابت ہے، چنانچہ خود امام زہریؒ کے جلیل القدر شاگرد امام مالکؒ فرماتے ہیں: مضت السنۃ فی القضاء بالیمین مع الشاہد الواحد (الموطا، کتاب الاقضیۃ) ’’ایک گواہ کے ساتھ قسم کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا طریقہ رائج اور معمول بہ چلا آ رہا ہے۔‘‘

۳۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں: اہل ذمہ کی دیت کے بارے میں روئے زمین پر مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ان کی دیت رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں ایک ہزار دینار تھی، لیکن جب معاویہؓ کا دور حکومت آیا تو انہوں نے مقتول کے ورثا کو پانچ سو دینار دے کر باقی رقم بیت المال میں جمع کرنے کا حکم دے دیا۔ (البیہقی، السنن الکبریٰ، ۸/۱۲۰)

حالانکہ روایات میں رسول اللہ ﷺ اور خلفاے راشدین سے مختلف مقدمات میں اہل ذمہ کی دیت کی مختلف مقداریں منقول ہیں اور اسی بنیاد پر ائمہ فقہا کی آرا بھی اس باب میں مختلف ہیں۔ (جصاص، احکام القرآن، ۲/۲۳۵، ۲۳۷۔ نیل الاوطار، ۷/۷۸، ۷۹) چنانچہ امام زہریؓ کے اس بیان کو کہ سیدنا معاویہؓ سے پہلے اہل ذمہ کی دیت کی ا یک ہی متعین مقدار رائج تھی، اکابر اہل علم نے قبول نہیں کیا۔ امام بیہقی لکھتے ہیں: وقد ردہ الشافعی بکونہ مرسلا وبان الزہری قبح المرسل وان روینا عن عمر وعثمان ما ہو اصح منہ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۸/۱۰۲) ’’امام زہری کے اس بیان کو امام شافعی نے اس بنیاد پر رد کر دیا ہے کہ یہ مرسل ہے اور زہری کی مراسیل بہت قبیح ہیں۔ نیز حضرت عمر اور حضرت عثمان سے اس کے برعکس فیصلے زیادہ مستند طریقے سے مروی ہیں۔‘‘ شوکانی فرماتے ہیں: وحدیث الزہری مرسل ومراسیلہ قبیحۃ لانہ حافظ کبیر لا یرسل الا لعلۃ (نیل الاوطار، ۷/۸۰) ’’زہری کا قول مرسل ہے اور ان کی مرسل روایتیں بہت قبیح ہیں، کیونکہ وہ ایک بڑے حافظ حدیث ہیں اور ارسال کا طریقہ اسی وقت اختیار کرتے ہیں جب روایت میں کوئی خرابی موجود ہو۔‘‘

۴۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں: ان السنۃ للمعتکف ان لا یخرج الا لحاجۃ الانسان ولا یتبع جنازۃ ولا یعود مریضا (سنن الدارقطنی، ۲/۲۰۱) ’’معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ ناگزیر انسانی ضروریات کے علاوہ مسجد سے نہ نکلے، نہ نماز جنازہ میں شرکت کرے اور نہ کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے۔‘‘

حالانکہ معتکف کے لیے مریض کی عیادت اور نماز جنازہ میں شرکت کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ سے کوئی واضح اور قطعی ہدایت منقول نہیں اور اسی وجہ سے اہل علم میں اس حوالے سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ سعید بن مسیبؒ ، مجاہدؒ ، امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ اس کے عدم جواز کے جبکہ سیدنا علیؓ، سفیان ثوریؒ ، حسن بن صالحؒ ،سعید بن جبیرؒ اور ایک روایت کے مطابق امام احمدؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ (جصاص، احکام القرآن، ۱/۳۴۰، ۳۴۱۔ ابن قدامہ، المغنی، ۳/۷۰)

۵۔ اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی کتاب تمام کی تمام اشعار پرمشتمل ہو تو کیا اس کے شروع میں بسم اللہ لکھی جائے گی یا نہیں؟ امام زہریؒ فرماتے ہیں: مضت السنۃ ان لا یکتب فی الشعر بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ’’سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ شعر کے آغاز میں بسم اللہ نہ لکھی جائے۔‘‘ لیکن جمہور فقہا نے ان کے اس بیان کو قبول نہیں کیا اور اشعار کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کو جائز قرار دیا ہے۔ (محمد بن محمد الحطاب، مواہب الجلیل، ۱/۱۱)

۶۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں: مضت السنۃ فی زکاۃ الزیتون ان توخذ ۔ ’’سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ زیتون کی فصل سے بھی زکاۃ وصول کی جائے۔‘‘ لیکن روایات سے ان کے اس بیان کی تائید نہیں ہوتی، چنانچہ امام بیہقی فرماتے ہیں: وہذا موقوف لا یعلم اشتہارہ ولا یحتج بہ علی الصحیح (نیل الاوطار ۵/۴۳۳) ’’یہ امام زہری کا اپنا بیان ہے حالانکہ زیتون کی زکاۃ وصول کرنا (عہد صحابہ میں) معروف نہیں، اور نہ صحیح رائے کے مطابق اس قول سے استدلال درست ہے۔‘‘

۷۔ نکاح کے بعد خاوند مہر کی ادائیگی سے قبل بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کر سکتا ہے یا نہیں؟ امام زہریؒ فرماتے ہیں: مضت السنۃ ان لا یدخل بہا حتی یعطیہا شیئا ۔ ’’سنت یہ ہے کہ مہر کا کچھ حصہ دیے بغیر خاوند ایسا نہیں کر سکتا۔‘‘ لیکن متعدد روایات سے اس کے جواز کا ثبوت ملتا ہے اور انہی کی بنا پر سعید بن مسیبؒ ، حسن بصریؒ ، ابراہیم نخعیؒ ، سفیان ثوریؒ اور امام شافعیؒ جیسے ائمہ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ (المغنی، ۷/۱۸۸۔ مسئلہ ۵۶۱۱)

* فقہاے احناف سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۸۲ کو، جس میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، عدالت اور قضا سے متعلق مانتے اور عدالتی فیصلوں میں مذکورہ نصاب شہادت کی پابندی کو لازم قرار دیتے ہیں۔ (جصاص، احکام القرآن، ۱/۷۰۲) جبکہ دوسرے فقہا کے نزدیک اس آیت میں خطاب چونکہ عدالت سے نہیں بلکہ معاملے کے فریقین سے ہے، اس لیے فصل مقدمات میں اس نصاب کی پابندی لازم نہیں۔ ابن قدامہؒ لکھتے ہیں: ان الآیۃ واردۃ فی التحمل دون الاداء ولہذا قال ان تضل احداہما فتذکر احداہما الاخری والنزاع فی الاداء (المغنی، ۱۰/۱۵۸۔ مسئلہ ۸۳۳۷) ’’آیت کا تعلق کسی معاملے میں گواہ بنانے سے ہے نہ کہ عدالت میں گواہی دینے سے، جس کا قرینہ یہ ہے کہ اس میں کہا گیا ہے کہ (دو عورتوں کو گواہ بنایا جائے) تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد کرا دے۔ جبکہ اختلاف اس میں ہے کہ کیا گواہی کی ادائیگی میں بھی اس طریقے کی پیروی ضروری ہے؟‘‘

موخر الذکر رائے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے منقول فیصلوں میں کہیں اس بات کا تاثر نہیں ملتا کہ آپ نے آیت میں مذکور نصاب شہادت کے التزام کو ہر حال میں ضروری سمجھا ہو۔ اس کے بجائے آپ نے صورت حال کی نوعیت کے لحاظ سے واقعہ کے ثبوت کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے۔ مثلاً:

  •  بعض مقدمات میں مدعی سے فرمایا کہ اپنے حق میں دو گواہ پیش کرو ورنہ مدعا علیہ سے حلف لے کر اس کو بری الذمہ قرار دیا جائے گا۔ (بخاری، الرہن، ۲۳۳۲)
  •  بعض مقدمات میں اگر مدعی دو گواہ پیش نہ کر سکا تو ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے حلف لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ (صحیح مسلم، الاقضیۃ، ۳۲۳۰۔ سنن ابی داؤد، الاقضیۃ، ۳۱۳۳) 
  •  بعض مقدمات میں یہ قرار دیا کہ اگر مدعی کے پاس ایک ہی گواہ ہے تو مدعا علیہ کے قسم کھانے پر مقدمہ خارج کر دیا جائے گا، لیکن اگر مدعا علیہ قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے قائم مقام سمجھا جائے گا اور مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ، الطلاق، ۲۰۲۸)
  • ایک موقع پر محض ایک شخص کی گواہی پر سلمہ بن الاکوع کے حق میں ’سلب القتیل‘ کا فیصلہ فرمایا۔ (صحیح البخاری، المغازی، ۳۹۷۸) اسی طرح ایک موقع پر صرف ایک اعرابی کی گواہی پر رمضان کا چاند نظر آنے کا اعلان فرما دیا۔ (جامع الترمذی، الصوم، ۶۲۷) ایک دوسرے موقع پر صرف عبد اللہ بن عمرؓ کی گواہی پر آپ نے لوگوں کو رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔ (ابو داؤد، الصوم، ۱۹۹۵)
  • رضاعت کے ایک مقدمے میں آپ نے محض دودھ پلانے والی عورت کی گواہی پر ثبوت رضاعت کا فیصلہ فرما دیا۔ (بخاری، العلم، ۸۶) آپ سے پوچھا گیا کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے کتنے گواہ کافی ہیں؟ تو فرمایا کہ ایک مرد یا ایک عورت ۔ (مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، ۵۶۱۰) 

(مدیر)

آراء و افکار