فتویٰ کے نظام کے لیے قانون سازی کی ضرورت

ادارہ

اسلام آباد (عمر فاروق سے) حکومت نے مختلف مدارس اور دار الافتاؤں کی طرف سے جاری ہونے والے فتوؤں پر پابندی عائد کرنے اور مستند فتوؤں کے اجراء کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ قانون سازی کے بعد وہی دارالافتاء فتویٰ دے سکیں گے جن کے پاس سرکاری لائسنس ہوگا۔ وزارت مذہبی امور نے اس حوالے سے مشاورت و اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گلی محلوں سے جاری ہونے والے فتوؤں پر پابندی عائد کی جائے اور ایسے مستند دارالافتاؤں کو فتویٰ دینے کے حوالے سے لائسنس دیا جائے جن کی عوامی اور دینی حلقوں میں کوئی حیثیت ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ نیشنل ایکشن پلان کی روشنی میں کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ہر مسجد اور مدرسے سے جاری ہونے والے فتوے ملک میں خلفشار، انتشار اور فرقہ وارانہ تصادم کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر گلی محلے میں دارالافتاء کھول دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں فتوے اور مفتی کی حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بعض لوگ ایسے فتوے بھی دے رہے ہیں کہ جس سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور بعض عناصر ریاست مخالف فتوے بھی دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے ریاست اور دفاعی اداروں کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بلاضرورت ہر بات پر بغیر تحقیق کے فتویٰ دے مارتے ہیں اور بعض لوگ سیاسی مفادات کے لیے فتوؤں کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف دارالافتاؤں میں جو لوگ فتوے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں ان کی علمی قابلیت بھی نہیں دیکھی جاتی اور نہ مفتیوں کے تقوے کو معیار بنایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں مسلکی خلفشار بڑھ رہا ہے۔ اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے جید علماء کرام کی مشاورت سے گلی محلوں کے دارالافتاؤں کو بند کر کے مستند دارالافتاؤں کو لائسنس جاری کیا جائے جو فتوے جاری کر سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکومت مختلف مسالک کے علماء کرام سے مشاورت کر رہی ہے اور ان کی طرف سے سامنے آنے والی تجاویز کی روشنی میں پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے گی۔ اس حوالے سے وزارت مذہبی امور نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ حکومت فتوے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے، بلکہ حکومت چاہتی ہے کہ فتویٰ غیر سرکاری ہی رہے مگر مستند فتویٰ دیے جائیں تاکہ عوام میں فتوؤں کا معیار برقرار رہے۔ اس حوالے سے حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلامی تاریخ میں مفتیان کے فتوؤں کی بہت بڑی حیثیت اور قدر ہوتی تھی۔ ایک ایک فتوے سے حکومتیں ہل جاتی تھیں مگر ان فتوؤں میں کہیں بھی تعصب کی بو نہیں آتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فتوے کی حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے، اس حیثیت کو بحال کرنے کے لیے حکومت ایسے اقدامات اٹھانا چاہتی ہے۔ اسی حوالے سے منگل کو وزارت امور مذہبی کے زیر اہتمام ہونے والے اجلاس میں جب کچھ علماء نے مختلف دارالافتاؤں کی طرف سے جاری ہونے والے فتوؤں کی نشاندہی کی تو وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر امین الحسنات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتاوٰی کے اجراء کے لیے جلد قانون سازی کی جائے گی اور ایسے معروف دارالافتاؤں کو لائسنس جاری کیا جائے گا جو مستند ہوں۔

(روزنامہ اوصاف لاہور۔ 14 اکتوبر 2015ء)

اخبار و آثار