پاکستانی عدلیہ: ماضی کا کردار اور آئندہ توقعات

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

پاکستان کی دستوری تاریخ میں، مولوی تمیزالدین کیس پہلا اہم کیس ہے۔ اس کیس کے پس منظر میں اختیار کی وہی لڑائی موجود ہے جو آج تک جاری ہے۔ دستور اور مقننہ توڑنے کے شوق کا اظہار ۲۴؍اکتوبر ۱۹۵۴ کو ہوا اور پھر ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ۷؍اکتوبر ۱۹۵۸ء، ۲۵؍ مارچ ۱۹۶۹ء، ۵؍جولائی ۱۹۷۷ء اور ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کی تاریخوں کو بھی سپہ سالاران فوج نے اسی ہوسِ غصب کا مظاہرہ کیا۔ البتہ ۹؍مارچ ۲۰۰۷ء اور ۳؍نومبر ۲۰۰۸ء کے مشرفی اقدام کا نشانہ ، مقننہ کے بجائے بالترتیب چیف جسٹس اور پھر سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس تھے۔ پہلے اقدامات میں مقننہ اور حکومت نشانہ بنتی تھی، مگر اس بار مقننہ نے بطور یرغمالی کے، اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سپہ سالار کا ساتھ دیا۔ پہلے اقدامات میں، ہٹائے جانے والے حکمرانوں نے پر سکوت تعاون اختیار کی، لیکن عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس بار غیر دستوری اقدام کے خلاف فیصلہ کن مزاحمت کا اعلان کیا۔ وکلا برادری اور سول سوسائٹی، غرض پوری قوم، اپنی تاریخ کے ہر اہم موقعے کی طرح، گلی گلی اور روش روش صف آرا ہو گئی۔ حالات نے اپنا رخ اور سمت تبدیل کر لی ہے، مگر جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ جنگ جاری ہے۔ آج کا ’’جمہوری‘‘ صدر بھی، ماضی کے حکمرانوں کی طرح پارلیمنٹ کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور غریبوں کے نام پر غریبوں کا جینا حرام کر رہا ہے۔ حکمرانوں کی آمرانہ روش ایک سی ہے۔ پس منظر میں سپہ سالار فوج کا کردار کار فرما ہے۔ یہ سلسلہ روز و شب ۱۹۵۴ء سے شروع ہوا اور تواتر کے ساتھ چل رہا ہے۔ 

اگر دستور کو تعمیر یا عمارت تصور کر لیا جائے تو اس کی پہلی اینٹ تو یقیناًقاعد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے رکھی۔ انہوں نے اسے سیدھا ہی رکھا۔ اینٹ کا سیدھا ہونا مضبوط تعمیر کے لیے کتنا ضروری ہے، کہنے کی بات نہیں۔ ہر کوئی جانتا اور مانتا ہے۔ اس کے باوجودقائد کی رحلت کے بعدحضرت قائد کے جانشینوں نے اسے ٹیڑھا نصب کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بگاڑ کی ابتدا میں اینٹ کو سیدھا رکھنے کی تمام تر کوشش مولوی تمیز الدین کے کھاتے میں جا ئے گی۔ یہ کوشش کسی طرح بھی کمزور نہیں تھی، مگر یہ حقیقت ہے کہ کوشش کرنے والا شخص بے حد کمزور تھا۔ لہٰذا ہر کمزور شخص کی کوشش کی طرح یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ ٹیڑھی اینٹ رکھنے والے طاقتور اور مکار تھے، لہٰذا وہ کامیاب ہوئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ اینٹ ایسی ٹیڑھی ہوئی کہ آج تک سیدھی نہ ہو سکی۔ 

منیر ایسے ججوں کا پورا سلسلہ ، انوارالحق، ارشاد حسن خان، عبدالحمیدڈوگر جیسے ناموں کے تحت، کل تک غصب و عبث میں غرق رہا۔ کمزور اور طاقتور کے مابین کشمکش میں غلبہ طاقت ور کو ہی نصیب ہوتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخ نے سربلندی کا اعزاز کمزوروں کو ہی عطا کیا ہے۔ مولوی تمیزالدین خان کو، پاکستان کی دستوری تاریخ کا معمارِ اول کہا جاسکتا ہے۔ ان کے مقابل، مسمار اول، ملک غلام محمد گورنرجنرل تھے۔ ان کے سر پر ماما جی کی طرز پر عدالت بیٹھی تھی۔ یاد رہے کہ اس عدالت کو فیڈرل کورٹ کہتے تھے اور اس کے چیف جسٹس محمد منیر تھے۔ مسمار اول کو چیف کی صورت میں عدالتی ’’مزدور‘‘ مل گیا۔ ان کے فیصلے غالب آئے اور آج تک اپنے غالب اثرات کے ساتھ دستور کے اندر بطور ٹائم بم موجود ہیں۔ مگر ان فیصلوں کے ساختہ پرداختہ کتنے رو سیاہ ہوئے ہیں، یہاں ان کے ذکر کا موقع نہیں۔

قیام پاکستان کے بعد ابتدائی دور تھا۔ اس دور میں بھی مولوی تمیزالدین کو اکیلا نہ سمجھا جائے۔ وہ خوف و ہراس کی فضا کو توڑ کر سندھ چیف کورٹ پہنچے تو پوری سندھ چیف کورٹ کے درِ انصاف سے داد رسی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ سندھ چیف کورٹ کے فل بنچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا اور ملک غلام محمد کے دستوریہ توڑنے کے فیصلے کو حرفِ غلط قرار دیا۔ عدالت کے چیف جسٹس کونسٹین ٹائن تھے۔ ساتھی ججوں میں جسٹس ویلانی، جسٹس محمد باچل اور جسٹس محمد بخش میمن شامل تھے۔ تمام ججوں کا فیصلہ متفقہ تھا۔ وفاق کی جانب سے،فیصلے کے خلاف، فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر ہوئی۔ ملک غلام محمد کے ’’ماموں‘‘ محمد منیرچیف جسٹس تھے۔ انہوں نے فیصلے کو تلپٹ کر دیا۔ اپیل کنندگان کے طور پر روسیاہ ہونے والوں میں، بعد ازاں آئین، قانون، انصاف اور جمہوریت کے بننے والے چیمپئن بھی شامل تھے۔ ان میں سے چودھری محمد علی کا نام لکھتے ہوئے مجھے اذیت محسوس ہوتی ہے۔ ان کو خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی صف میں بیٹھے دیکھنا کتنا بڑا مذاق ہے۔ آخر کار سروس کی بھائی بندی بھی کوئی چیز ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس کیس میں سندھ چیف کورٹ میں مولوی صاحب کی جانب سے ایک جونیر کونسل کے طور پر سید شریف الدین پیرزادہ بھی پیش ہوئے۔ ریکارڈ میں اس وقت وہ سید بھی نہیں تھے اور پیرزادہ بھی نہیں۔ کیوں کہ سید شریف الدین پیرزادہ کے طور پر وہ اب تک زندہ ہیں مگر شریف الدین کے طور پر صرف اورصرف سندھ چیف کورٹ کے ریکارڈ پر ہیں۔ (تصدیق کے لیے ملاحظہ ہو پی ایل ڈی ۱۹۵۵ سندھ بر صفحہ نمبر ۱۰۱)۔ اسی صفحے پر مولوی صاحب کے ایک اور وکیل صاحب کا نام ہے، وہ ہیں وحید الدین احمد، جن کے فرزند سعادت مآب جناب جسٹس وجیہ الدین احمد ہیں کہ ہماری دستوری تاریخ کے سب سے بڑے غاصب، جنرل پرویز مشرف کے مقابلے پر وکلا کے صدارتی امیدوار ہونے کا اعزازپا گئے ۔

’’جسٹس ماما محمد منیر‘‘نے گورنرجنرل کو اشیر باد دے دی۔ دوسرے لفظوں میں اینٹ کے ٹیڑھ کو سیدھا قرار دے دیا۔ باقی چار مسلمان ججوں نے اس ٹیڑھ میں حصہ داری کا پورا ثواب کمایا۔ البتہ ایک غیر مسلم جج، جناب اے آر کارنیلیس نے پاکستان کی دستوری عمارت کی بنیاد میں پہلی اینٹ کو، ٹیڑھا نصب کرنے پر، چیف جسٹس کے ہاتھوں پر تیشی اور کانڈی کے ساتھ زور دار ضربیں لگائیں۔ باقی مسلمان ججوں نے ’’ماما‘‘ جج کے فیصلے سے اتفاق کیا، مگر غیر مسلم جج نے اختلافی فیصلہ لکھنے کی جسارت کی۔ جسارت ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اس خشت اول کو سیدھا کرنے کے لیے ایسی بنیاد فراہم کر دی کہ جب بھی اینٹ سیدھی کی جائے گی تو یہی بنیاد بروئے کار آئے گی۔ جسٹس اے آر کار نیلیس کا اختلافی فیصلہ آج بھی روشن ہے۔ 

دستوریہ توڑنے کے اقدام کو کالعدم کروانے کے لیے مولوی صاحب نے سندھ چیف کورٹ میں رٹ درخواست دائر کی۔ دستوریہ نے سو روز قبل مورخہ ۱۶؍ جولائی ۱۹۵۴ کو، ہائیکورٹس کو writ رٹ کا اختیار فراہم کیا تھا۔ اس کے لیے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ میں دفعہ ۲۲۳۔الف ایزاد کی گئی تھی۔ اس وقت تک یہ دستوری روایت بڑی مستحکم ہو چکی تھی کہ دستوریہ جو قانون بھی بناتی، دستوریہ کے صدر اس پر تصدیقی دستخط کرتے اور اپنے اختیار کے تحت سرکاری گزٹ میں شائع کر ادیتے۔ اس طرح اسے جائز قانون کا درجہ مل جاتا۔ یہ دستوریہ کے قواعد کار کے قاعدہ نمبر ۶۲ کے تحت تھا۔ قاعدہ کا متن درج ذیل ہے:

’’بلوں کی تصدیق: جب دستوریہ ایک بل پاس کرتی ہے تو اس کی ایک نقل پر صدر دستخط کریں گے اور پھر صدر کے اختیار سے گزٹ میں اشاعت کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ ‘‘

یہ امر اہم ہے کہ دستوریہ کا وہ اجلاس جس نے رول ۶۲ پاس کیا، اس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔ قائد اعظم کی رہنمائی میں پاس ہونے والے رول کو قانون نہ ماننے والے کس منہ سے بات کرتے ہیں۔ مگر یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ قائد کے لیگی جانشینوں (بقول قائد کھوٹے سکوں) نے قائد، ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح علیہا الرحمہ کے ساتھ کیا کیا؟ محترمہ کی موت کو غیر طبعی قرار دینے والے، سید شریف الدین پیرزادہ، ہر فرعونِ وقت کے نفس ناطقہ اور دماغ بن کر رہے، اس کے باجود، انہوں نے آج تک اس امر کی رپورٹ ابتدائی تک درج کرانے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے ساتھ ہی نہیں، ان کے دیے ہوئے وطن کو کس انجام سے دوچار کیا۔ ایسے لوگوں نے رول، قانون، دستوراور اصول کو نہ مانا تو تبصرہ کرنے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔ 

بہر صورت سندھ چیف کورٹ کے فیصلے پر، سب سے بڑا بنیادی عذر یہ لیا گیا کہ ہائیکورٹ کو رٹ کا اختیار دینے والا قانون جائز نہیں کیونکہ اس کی منظوری گورنرجنرل نے نہیں دی۔ سندھ چیف کورٹ نے اس بنیادی عذر کو تفصیلی غور و خوض کے بعد مسترد کر دیا۔ فیڈرل کورٹ نے چیف جسٹس کی قیادت میں باقی ججوں کے ساتھ اس عذر کو قبول کیا اور اسی ایک فنی نکتے پر فیصلہ کرتے ہوئے وفاق کی اپیل منظور، سندھ چیف کورٹ کے فیصلے کو منسوخ اور مولوی صاحب کی رٹ درخواست خارج کردی۔ اس طرح فیڈرل کورٹ نے متنازعہ اعلان کے دیگر فنی اور واقعاتی میرٹس کو ایک طرف رکھ دیا اور فنی سہارے پر گورنر جنرل کو قائم و دائم کر دیا۔ بنیادی سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ اگر سندھ چیف کورٹ کو ۲۲۳۔الف کے تحت اختیار سماعت نہیں تھا اور اس کی وجہ یہ قرار دی گئی کہ عدالت کو یہ اختیار دینے والی ترمیم کی منظوری گورنر جنرل نے نہیں دی تھی تو فیڈرل کورٹ کا قیام جس قانون کے تحت ہوا، وہ بھی تو گورنرجنرل کی منظوری کے بغیر تھا۔ پاکستان کی فیڈرل کورٹ کے قیام سے پہلے لندن میں پریوی کونسل، عدالت عظمیٰ کے طرز پر کام کرتی تھی۔ پریوی کونسل کی جگہ فیڈرل کورٹ قائم کی گئی۔ اس کے قیام کے لیے جو قانون، دستوریہ نے پاس کیا اس کا نام:

The privy Council (Abolition of Jurisdiction) Act 1950 

تھا۔ اس قانون کی بھی گورنرجنرل نے منظوری نہیں دی تھی۔ اسی طرح دستوریہ توڑنے کے چار دن پہلے تک وفاق، حکومت، مقننہ کا متواتر طرز عمل اور موقف، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے، یہاں تک کہ برطانوی حکومت اور پارلیمنٹ کا رویہ بھی یہی تھا کہ دستوریہ کامل مقتدر ہے۔ اس کا دستوری قانون، گورنرجنرل کی منظوری کے بغیر ہی جائز اور موثر قانون ہے۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قیام پاکستان، ۱۹۴۷ سے لے کر دستوریہ تحلیل کرنے کے حکم ۲۴۔اکتوبر ۱۹۵۴ تک، دستوریہ ۴۶ قوانین پاس کر چکی تھی۔ ان میں سے کسی ایک کی بھی منظوری کا کوئی سوال نہیں اٹھا۔ ان سب قوانین کو گورنر جنرل کی منظوری کے بغیر ہی جائز قانون کا مقام حاصل رہا۔ ان کو گورنر جنرل سمیت سب نے جائز قانون مانا۔ مگر ستم ظریفی کی انتہا ’’ماما جی‘‘ کا فیصلہ ہے۔ فیصلے کی منطق کی رو سے تو فیڈرل کورٹ، ہائیکورٹ (سندھ چیف کورٹ) کی طرح اختیار سماعت نہیں رکھتی تھی۔ اس طرح فیڈرل کورٹ کو خود کو تحلیل کر کے پریوی کونسل سے رجوع کی ہدایت کے ساتھ کیس نبٹا دینا چاہیے تھا۔ جناب اے آر کار نیلیس نے ماما جی کے فیصلے کی جس طرح ٹھوس فنی حوالوں، دلائل اور پھر پوری دلیری کے ساتھ دھجیاں بکھیری ہیں، ان کو صدیوں تک بھی جمع کیا جائے تو جمع نہیں ہو سکتیں۔ منیر کے فیصلے میں الجھاؤ، تضادات، مکذبات اور محرفات اتنے کہ پڑھنے والے کو پڑھنے سے پیشتر، اپنے ذہن کی سلامتی کا بیمہ کرانا ہو گا۔ میں کہ ایک ادنیٰ سیاسی کارکن ہوں، میں نے اس طور ، اپنی سی سطح پر، آئین، قانون اور انصاف کے لیے عمر بھر کام کیا ہے۔ اگر میرے کھاتے میں کوئی نیکی ہو تو اسے جناب اے آر کارنیلیس کے ایصالِ ثواب کے لیے نثار کرنے کوتیار ہوں۔ اسی لیے میں نے، اپنی تازہ تالیف ’’انصاف کرو گے؟‘‘ کو جناب اے آر کار نیلیس کے نام منسوب کیا ہے۔

تاریخ جب معماران قوم اور مسماران قوم کی فہرست مرتب کرے گی تو مولوی تمیزالدین کے ساتھ کارنیلیس کانام آئے گا۔ ان کے ساتھ اس فہرست میں سندھ چیف کورٹ کے تمام ججوں (چیف جسٹس کونسٹین ٹائن، جسٹس ویلانی، جسٹس محمد باچل، جسٹس محمد بخش میمن) کے نام بھی ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔ چاند اور ستاروں کی یہ کہکشاں ہماری تاریخ کا اثاثہ ہے۔ اس میں بھی جسٹس محمدبخش میمن کا مفصل، مدلل اور ٹھوس فیصلہ، درجے میں تو ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے، اس وجہ سے اس کو جناب اے آر کار نیلیس کے فیصلے کے ساتھ میزان میں نہیں رکھا جاسکتا کہ اس میں حفظ مراتب حائل ہو گا، لیکن سند ھ چیف کورٹ کے ججوں کے فیصلوں میں ایک بات بطور خاص برتر ہے کہ ان میں اختیار سماعت کے نکتے کے علاوہ باقی متعلقہ واقعات اور حقائق کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے، جب کہ فیڈرل کورٹ میں صرف اختیار سماعت سے متعلقہ امور پر فیصلہ فرمایا گیا۔ اسی طرح چیف کورٹ کے ججوں نے حالات کو وسیع اور حقیقی تناظر میں طے کیا ہے، جب کہ فیڈرل کورٹ کے ججوں نے صرف ایک نکتے کو پھیلا کر اسی پر کیس کو نبٹا دیا۔ پھر یہ کہ کہ سندھ چیف کورٹ کا فیصلہ چیف جسٹس کی قیادت میں متفقہ تھا۔ ملک میں عمومی فضا بھی اس کے حق میں تھی۔ اگر اس وقت وکلا کو اعتزاز احسن، منیر اے ملک، علی کرد، طارق محمود، حامد خان، فخرالدین جی ابراہیم، ایم انور (مرحوم) جیسے لوگوں کی قیادت نصیب ہوتی تو شاید ہماری تاریخ کی سمت گم نہ ہوتی۔ 

یہاں واضح کر دوں کہ ہماری برادری کے قائدین کا جو کچھ بھی کردار سامنے آیا، اس کا بھی حقیقی کریڈٹ یقیناًچیف جسٹس افتخار کو ہی جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ جس طرح وہ ایوان صدر سے رخصت کر کے گھر میں بند کر دیے گئے، لفٹر کے ذریعے ان کی سرکاری رہائش سے گاڑیاں اٹھا لی گئیں، فون منقطع کر دیے گئے، قائم قام چیف جسٹس کو جنگی بنیادوں پر حلف دیا گیا، سی۔۱۳۰ کے براقی ذریعے سے ابلیس کی مجلس شوریٰ کی طرز پر سپریم جوڈیشل کونسل جمع کی گئی، چار دن بعد چیف، اس کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے اپنے گھر سے باہر آئے تو پولیس نے ان سے ہاتھا پائی کی، ان کا کوٹ پھاڑ ڈالا، مگر یہ کوہ گراں اللہ پر بھروسہ کر کے بر سر پیکار ہو گئے۔ جبری قید کے ان چار دنوں میں باہر کا منظر بدل چکا تھا۔ پیشی والے دن شاہراہ دستور پر وکلا فوج در فوج، رواں دواں تھے، ہر طرف ایک نعرہ تھا: ’’چیف تیرے جاں نثار،بے شمار بے شمار‘‘۔

یہ منظر مولوی تمیزالدین خان سے مشابہہ بھی ہے اور متفرق بھی۔ دستوریہ کے صدر کے طور پر جانشینِ قائد، مقننہ کے سپیکر، سرکاری رہائش گاہ پر مقید، رہائش خالی کرنے کا نوٹس دیا جا چکا تھا۔ سرکاری رہائش پر حکومت کی جانب سے متعینہ ملازم ان کی جاسوسی پر مامور کر دیا گیا۔ مسلم لیگی قیادت کم و بیش روپوش ہو گئی۔ وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نئے بھی ہوگئے۔ مولوی صاحب کی جیب بھی خالی تھی۔ وہ مایوسی اور حزن کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔ اس کے باوجود دل میں طوفان لیے ہوئے تھے۔ ایسے میں جماعت اسلامی کے قیم جناب میاں طفیل محمد مرحوم، سید مودودی علیہ الرحمہ کی ہدایت پر، رات گئے ان سے ملنے آتے ہیں۔ اس ملاقات کے لیے جانے سے پہلے، میاں صاحب رشید پارک اچھرہ کے ٹھیکیدار عبدالرشید سے پانچ ہزار روپے کا عطیہ لے کر گئے۔ میاں صاحب نے یہ رقم ان کی جیب میں ڈال دی تاکہ خالی جیب کا معاملہ تو دور ہو اور ان کے دل میں موجزن طوفان کی حدوں کو توڑ کر باہر نکلنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاسکے۔ اس کے بعد ان سے عدالتی چارہ جوئی کی درخواست کی تو انہوں نے مسلم لیگی رہنماؤں سے مشورہ کی مہلت لی۔ میاں صاحب ان کے متوقع مشیروں کو، اپنے تئیں، سیدھا کرنے کی ضرورت کے تحت ملتے ہیں۔ آخر کار مولوی صاحب ایک موجِ بلا خیز کی صورت میں باہر آتے ہیں۔ ۷۔نومبر کا دن، ۱۹۵۴ کا سال، انصاف کی راہ کا پہلا قدم اٹھنا شروع ہوا۔ مولوی صاحب رٹ دائر کرنے نکلتے ہیں تو برقعہ پوشی کی احتیاط کے ساتھ رکشا پر سوار، ہو کر سندھ چیف کورٹ جاتے ہیں۔ اس منظر اور ۱۳ مارچ ۲۰۰۷ کے منظر میں گہری مشابہت کے باوجود، فرق بھی بہت ہے۔ 

اس وقت وکلا برادری کے قائدین اے کے بروہی، شیخ منظور قادر جیسے لوگ مستقبل کے شریف الدین پیرزادہ اور ملک محمد قیوم کے ’’ارادت مند‘‘ معلوم ہوتے ہیں۔ اس سے فرق یہ ہو اکہ مولوی تمیز الدین کے ساتھ سول سوسائٹی اور وکلا برادری میدان میں نہ آئی، وگرنہ دستوریہ بھی بحال ہوتی اور مولوی تمیزالدین خان بھی چیف جسٹس افتخار کی طرح اپنے منصب پر واپس آتے۔ لیکن صورت حال یہ تھی کہ قائد اعظم علیہ الرحمہ سے قوم محروم ہو چکی تھی۔ لیاقت علی خان اپنے گرد سازشیوں کو جمع کرنے کے بعد، ان کی سازشوں کا نشانہ بن گئے۔ مسلم لیگی قیادت، نئی شیروانیوں کے ساتھ پی سی او کا حلف لینے پر تیار قطاروں میں کھڑی ہو گئی۔ملک بھر میں سکون کی لہریں بہہ رہی تھیں۔ قبرستان کی سی خاموشی طاری تھی۔ ایسے میں فیڈرل کورٹ کے لیے سندھ چیف کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرنا کچھ مشکل نہ تھا ۔ طالع آزماؤں اور غاصبوں کی موج ہو گئی۔ ان کے خریدے ہوئے بے ضمیر ججوں کو وہی کچھ کرنا تھا جو بے ضمیری کا تقاضا تھا۔ مگر ایک روشن ضمیر، روشن دماغ اور روشن کردار جسٹس اے آر کار نیلیس اپنے ضمیر پر قائم ہوا۔ آج کے نوجوانوں کو ایسے روشن مینار سے روشناس کرانا میرے لیے سعادت ہے۔

بہر صورت جناب اے آر کارنیلیس کافیصلہ چیف جسٹس سے اختلاف کرتے ہوئے صادر ہوا۔ اختلاف کی جرات اور جسارت، تاریخ میں اتنا بلند مقام پیدا کر لیتی ہے کہ اس پر کوئی حسد بھی نہ کر سکے۔ 

تمیزالدین کیس میں حکومتی وکلا نے دلائل میں یہ کہا کہ:

’’انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ کے تحت، پاکستان برطانیہ کی ایک ڈومینین dominionہے۔ جب تک قانون سازی کے ذریعے اس حیثیت کو تبدیل نہ کیا جائے، ہر ڈومینین، جہاں مقننہ موجود ہے، تاج برطانیہ کو کامن لا کے تحت مقننہ کی تحلیل کا اختیار ہے۔ البتہ اگر تحلیل کا یہ اختیار ختم کر دیا جائے تو دوسری صورت ہو گی۔ مقننہ کی تحلیل تاج کی پری راگیٹو ہے۔ یہ پری راگیٹو prerogative گورنر جنرل کو انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ کی دفعہ ۵ کے تحت حاصل ہے۔ اس طرح دستوریہ کی تحلیل مکمل طور پر جائز ہے۔‘‘

اگر میں یہ پوچھوں کہ اس طرح کا استدلال پیش اور قبول کرنا، مملکت خدا داد پاکستان کی آزادی کی نفی نہیں؟ کیا اس سے مملکت کے وجود کو چیلنج نہیں کیا گیا؟ کیا اس سے مملکت اور اس کے نظام سے بغاوت کی بو نہیں آتی؟ اگر میں مطالبہ کروں کہ ایسے استدلا ل کو پیش اور قبول کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دو، تو کیا میرا یہ مطالبہ غلط ہو گا۔ میرا مطالبہ مانا جائے یا نہ مانا جائے، مجھے بتایا جائے کہ میں اس مطالبے سے پیچھے کیسے ہٹ جاؤں؟ ساٹھ سال کی جد و جہد میں میری جدو جہد کے پینتالیس سال بھی تو شامل ہیں۔ میں اپنی جد و جہد کے یہ ماہ و سال فروخت کر دوں؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟

سلام و افتخار اس پر کہ جو حالات کو یہاں تک لے آئے کہ آج غاصبوں کو کٹہرے کی جانب کھینچا جا رہا ہے۔ اس نے ہم کو بھی سر بلند کیا ہے۔ ہم اس کے ساتھ ہیں اور جہاں تک ماحول کا تعلق ہے تو یقیناً، ہم اس سے باغی ہیں اور باغی رہیں گے۔ میرا ایمان ہے، عافیہ صدیقی کی قید و بند کے ایک ایک لمحے کاحساب ہو گا۔ لال مسجد کو خون سے نہلانے والوں کو ایک ایک قطرے کا حساب دینا پڑے گا۔ مالاکنڈ کے جری لوگوں کو جس طرح مار مار کر دہشت گرد بنایا گیا، ہمارے سپہ سالار، پلٹن میدان ڈھاکہ کی وہ صبح بھول گئے ہیں جب جنرل ٹائیگر (جنرل امیر عبداللہ خان نیازی) نے اروڑا سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ میں تو آج بھی اس منظر کو عزیز جانتا ہوں۔ آج مالا کنڈ میں اپنے شہریوں کے خلاف فضائیہ، توپخانہ، غرض پوری فوجی طاقت استعمال کی جا رہی ہے۔ لگتا ہے کہ آخری چارہ کار کے طور پر امریکہ، بحیرہ عرب کو اٹھا کر مالا کنڈ ڈویژن میں لا بسائے گا تاکہ جری، خود دار اور حریت پر جان دینے والے قبائل پر بحری قوت بھی بروئے کار لائی جاسکے۔ کیا کوئی اخلاق، قانون، ملکی و غیر ملکی اپنے شہریوں کے خلاف، اس طرح کے طاقت کے استعمال کی اجازت دیتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ لوگ دہشت گرد ہو گئے۔ ایجنسیوں کے ہاتھوں بک گئے۔ سوال یہ ہے اس خطہ امن کو اس صورتِ ظلمت تک لانے کے ذمہ دار کون ہیں؟جس طرح مشرقی پاکستان کو، پاکستان سے دھکے دے دے کر نکالا گیا تھا، وہی صورت یہاں حکمرانوں نے پیدا کی اور یہ طے ہے کہ حکمرانی بہر صورت فوج ہی کی رہی، براہ راست یا بالواسطہ۔ اس میں سپہ سالار ہی ذمہ دار نہیں ہو گا، تمام جرنیل ذمہ دار بنتے ہیں۔ یہ کوئی ڈسپلن نہیں کہ سپہ سالار صاحب جو حکم دیں، اسے ’’اندھوں، بہروں، گونگوں اور مہر زدہ لوگوں‘‘ کی طرح مان لیا جائے۔ ایسے میں

میرے وطن کے رقبے تمام 
بے غیرت جرنیلوں کے نام

کی حد تک تو صورت حال قابل برداشت ہے مگر بیٹیوں کو فروخت کرنے اور اپنے شہریوں پر فوجی طاقت کے استعمال کا جرم، جنگی جرم بھی ہے اور خدا کے خلاف جنگ بھی۔ ایسے جنگجوؤں کو ہم اپنا پیٹ کاٹ کر اس لیے نہیں پال سکتے کہ وہ نہتے شہریوں کو لوہے اور بارود کی بارش سے بھسم کردیں۔ ہماری فوج کو ڈسپلنڈ فورس کہنے والے احمق جواب دیں کہ ساٹھ سال میں سپہ سالاران نے کس موقع پر ڈسپلن کا مظاہرہ کیا؟ اپنی قوم کو مارنے اور فتح کرنے کی مشق کے سوا جرنیلوں کا کردار ہی کیا ہے؟ اگر یہ ڈسپلن ہے تو پھر انڈسپلن indisciplineکیا ہوتا ہے؟ آزاد ملکوں میں اسلحہ رکھنا شہریوں کا بنیادی دستوری حق ہے۔ امریکی دستور میں دوسری ترمیم (بل آف رائٹس)کے الفاظ اس طرح ہیں:

''Amendment 2` Right to keep arms:
the right of the people to keep and bear arms shall not be infringed.
’’لوگوں کے اسلحہ رکھنے اور اٹھانے کے حق کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔‘‘

یہاں پر امن رہنے بھی نہ دیا جائے، اسلحہ رکھنے کا حق بھی تسلیم نہ کیا جائے، ایجنسیاں بندے اٹھالیں، غیر ملکیوں کے حوالے کر دیں، بیچ دیں، پھر اسلامی مملکت کی سالاری کا دعویٰ بھی رکھیں،

ایسے امام سے گزر ، ایسے سالار سے گزر

باسٹھ سال کے تمام تر حالات کے ذمہ دار فوجی جرنیل، سول انتظامیہ اور پھر سیاستدان ہیں۔ سب کو ٹھکانے لگا دینا انصاف کا تقاضا ہے۔ سوات جیسے خطہ امن کو دہشت گردی کی آماجگاہ کس نے بنایا، کیا مجھے یہ سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں؟ میں یہ سوال کسی حاکم کا گریبان پکڑ کر نہیں کر رہا (حالانکہ مجھے اس کا پورا پورا حق ہے)۔ یہ تو ابھی خود کلامی کی صورت میں ہے۔ کیا مجھے اپنے آپ سے بھی پوچھنے کی اجازت نہیں؟ یہ سعودی عرب نہیں کہ جہاں امام کعبہ کو بھی حق سچ بات کہنے کی توفیق ہے اور نہ اجازت۔ میں سعودی شہری بھی نہیں، پاکستانی شہری ہوں۔ یہاں میں سب کچھ کہنے کے لیے آزاد ہوں، مجھے اپنی آزادی جان سے عزیز تر ہے:

تو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں 

خدا موجود ہے۔ اس کا اپنا نظام ہے۔ مکافات عمل بھی موجود ہے۔ دنیاوی اور اخروی مکافات سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ کسی کو وہم ہو تو پچھلوں کا انجام دیکھ لے۔ کوئی نہیں دیکھنا چاہتا، بلی کی طرح آنکھیں بند رکھنا چاہتا ہے تو وہ اس کا اختیار رکھتا ہے، لیکن ایسے کو جان لینا چاہیے کہ آنکھیں نہیں کھولیں گے تو آنکھیں پھاڑنے والے بھی آ سکتے ہیں۔ ذرا انتظار کر لو۔ مکافات اپنا کام کر رہی ہے، لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ کا خود حساب کریں۔ اس تباہی اور خوں آشامی کے ذمہ داروں کو پکڑ کر کٹہرے تک لایا جائے۔ میں تو ۱۹۵۴ سے احتساب کا قائل ہوں۔ نئے دور کی تخلیق کے لیے تاریخ میں حق و ناحق کا تعین لازم ہے۔ پوری تاریخ کو غسل دے کر پاک و صاف کرنا ہو گا۔ اس کے بغیر قومی تعمیر نو کا کوئی امکان نہیں ہو سکتا، لیکن اب اس جانب سفر شروع ہوا چاہتا ہے۔ یہاں میں اپنی بات کو مکمل کرنے کے لیے جناب مسعود مفتی کے تازہ انٹرویو سے چند سطور مستعار لیتا ہوں:

’’آج کی بظاہر بد امنی، در اصل زچگی کا وہ درد اور کرب ہے جس کے ذریعے ہماری قوم بالآخر ایک متحرک معاشرے (سول سوسائٹی) اور عوامی قوت کو جنم دے رہی ہے۔ وکلا کا تعلیم یافتہ گروپ یہ چاہتا ہے کہ یہ جنم قدرتی طریقے سے ہو مگر شدت پسند اسے آپریشن کے تشدد سے جنم دینا چاہتے ہیں۔ مقصد دونوں کا ایک ہی ہے کہ قوم کے اندر چھپے ہوئے جذباتی ہیجان کو اب ایک فعال بدن اور احتجاجی روح میں بدل دیا جائے جو کھلی فضاؤں میں اپنی آواز بلند کر سکے۔‘‘  (سنڈے ایکسپریس، ۳۰ اگست ۲۰۰۹ صفحہ نمبر ۷ کالم نمبر ۲)

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل