آداب القتال: بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل

محمد مشتاق احمد

مسلمان اہل علم کے لیے اس وقت جن مسائل پر بحث از بس ضروری ہوگئی ہے، ان میں شاید سب سے زیادہ اہم مسئلہ آداب القتال کا ہے ۔ فلسطین ، افغانستان ، عراق اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک اس وقت ایک بظاہر نہ ختم ہونے والے مسلح تصادم میں مبتلا ہیں ۔ یہ مسلح تصادم خواہ مسلمانوں میں سے بعض افراد نے شروع کیا ہو یا ان پر غیروں کی جانب سے مسلط کیا گیا ہو ، بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ آداب اور قواعد لوگوں کے لیے واضح کیے جائیں جن کی پابندی ان پر اسلامی شریعت اور موجود بین الاقوامی قانون کی رو سے لازم ہے ۔ ایک افسوسناک امر اس سلسلے میں یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو جنگ اور آداب القتال سے متعلق بین الاقوامی قانون کی مبادیات تک کا علم نہیں ہے ۔ اس لیے اس مقالے میں پہلے بین الاقوامی قانون کی روشنی میں آداب القتال کا جائزہ لیا جائے گا ۔ اس کے بعد دوسرے حصے میں اسلامی شریعت کی روشنی میں ان مسائل پر بحث کی جائے گی ۔ 

اس مقالے کو فقہ اسلامی اور بین الاقوامی قانون کے ایک طالب علم کی کاوش سمجھا جائے ۔ راقم الحروف اپنی رائے کو حتمی نہیں سمجھتا ، اس لیے اصلاح کی خاطر کی جانے والی تنقید کھلے دل سے قبول کی جائے گی ۔ 

حصۂ اول : آداب القتال اور بین الاقوامی قانون 

جنگ اور قتال سے متعلق بین الاقوامی قانون کے دو بڑے حصے ہیں : ایک کو jus ad bellum کہتے ہیں جس میں جنگ کے جواز او عدم جواز سے متعلق احکام ہوتے ہیں ؛ دوسرے حصے کو ، جو جنگ کے طریق کار کو منضبط کرتا ہے ، jus in bello کہا جاتا ہے ۔ گویا اول الذکر حصہ ’علۃ القتال‘ سے بحث کرتا ہے جبکہ ثانی الذکر ’آداب القتال‘ سے متعلق ہے۔ (۱) اس مقالے میں ہم علۃ القتال سے صرف نظر کرتے ہوئے آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون کے چند ایسے اہم قواعد کا ذکر کریں گے جو پاکستان کے اندر اور باہر جاری جنگوں اور مسلح تصادم کے سلسلے میں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔ پھر عصر حاضر میں جاری مسلح تصادم کے چند اہم مسائل پر ان قواعد کی روشنی میں بحث کی جائے گی ۔ 

فصل اول : آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون ۔ ایک تعارف 

بین الاقوامی قانون کے دیگر حصوں کی طرح آداب القتال کا قانون بھی بنیادی طور پر دو مآخذ سے ماخوذ ہے ؛ بین الاقوامی معاہدات (Treaty) اور بین الاقوامی رواج (Custom)۔ (۲) معاہدات سے ماخوذ قانون اور رواج پر مبنی قانون میں بنیادی فرق یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصول Pacta sunt servanda کے بموجب معاہدے کی پابندی صرف ان ریاستوں پر لازم ہوتی ہے جنہوں نے معاہدے کی توثیق کی ہو ، جبکہ رواج پر مبنی قانون کا ماننا ہر ریاست پر لازم ہوتا ہے ۔ (۳) یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بالعموم معاہدے میں مذکور ضوابط رواج پر مبنی ضوابط کی بہ نسبت زیادہ واضح ہوتے ہیں (اگرچہ دیگر قواعد عامہ کی طرح اس قاعدے سے بھی استثناء ات پائے جاتے ہیں )۔ مغرب میں بین الاقوامی قانون اپنے ارتقا کے ابتدائی مراحل میں زیادہ تر رواج پر مبنی تھا ۔ تاہم انیسویں صدی کے آخر سے باقاعدہ کوششیں شروع ہوئیں کہ اس قانون کو معاہدات کی صورت میں مدون کیا جائے ۔ چنانچہ بیسویں صدی میں کئی بین الاقوامی معاہدات کے ذریعے رواج پر مبنی بین الاقوامی قانون کو مدون کیا گیا ۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے نزدیک یہ امر بھی مسلم ہے کہ بہت سے ایسے قواعد ، جو پہلی دفعہ کسی بین الاقوامی معاہدے کے ذریعے وضع کیے گئے ، وقت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی رواج کا حصہ بن گئے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بسا اوقات ایک ہی قاعدہ رواج سے بھی ماخوذ ہوتا ہے اور وہ کسی معاہدے میں بھی مذکور ہوتا ہے ۔ پس اگر کوئی ریاست ایسے کسی قاعدے کو اپنے اوپر لازم نہ سمجھے اور دلیل یہ دے کہ اس نے تو اس معاہدے پر دستخط ہی نہیں کیے تو اس پر دوسری جانب سے یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ یہ قاعدہ صرف معاہدے میں ہی مذکور نہیں، بلکہ یہ رواج کا بھی حصہ ہے اور رواج کی پابندی تمام ریاستوں پر لازم ہے ۔ 

آداب القتال سے متعلق بین الاقوامی قانون ، جسے ’’ مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون ‘‘ (International Humanitarian Law) بھی کہا جاتا ہے ، کئی معاہدات اور رواجی قواعد کا مجموعہ ہے لیکن چار جنیوا معاہدات ایسے ہیں جن کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ ان میں پہلا جنیوا معاہدہ بری جنگ میں زخمی ، بیمار یا معذور ہونے والے فوجیوں کے حقوق سے متعلق ہے جبکہ دوسرا جنیوا معاہدہ بحری جنگ میں زخمی ، بیمار یا معذور ہونے والے فوجیوں کے حقوق کے بارے میں ہے۔ تیسرا جنیوا معاہدہ جنگی قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے اور چوتھا جنیوا معاہدہ جنگ کے دوران میں غیر مقاتلین اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ہے ۔ یہ چاروں معاہدات دوسری جنگ عظیم کے بعد ۱۹۴۹ء میں وضع کیے گئے اور ان پر پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک نے دستخط کیے ہیں ۔ 

جنیوا معاہدات بنیادی طور پر اس مسلح تصادم سے متعلق ہیں جس میں دو ریاستیں حصہ لیں ۔ بہ الفاظ دیگر ان معاہدات کا اطلاق ’’ بین الاقوامی مسلح تصادم ‘‘ (International Armed Conflict) پر ہوتا ہے ۔ ان معاہدات کی صرف دفعہ ۳ ، جو ان چاروں معاہدات میں مشترک ہے ، کا اطلاق ’’غیر بین الاقوامی مسلح تصادم ‘‘ (Non-international Armed Conflict) پر ہوتا ہے۔ جیسا کہ عام طور پر معلوم ہے ، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایشیا ، افریقہ اور مشرق بعید میں آزادی کی جنگوں اور خانہ جنگیوں کا ایک طویل سلسلہ ، جو اب تک جاری ہے ، شروع ہوا ۔ یہ بھی عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے مسلح تصادم میں بالعموم عام شہری آبادی کا زیادہ نقصان ہوتا ہے ۔ مسلح تصادم اور جنگ کی ان قسموں پر جنیوا معاہدات کا اطلاق نہیں ہوتا تھا ۔ اس لیے ۱۹۷۷ء میں جنیوا معاہدات کے ساتھ دو اضافی معاہدات ملحق کیے گئے جنہیں Additional Protocols کہا جاتا ہے ۔ان دونوں اضافی پروٹوکولز کا تعلق عام شہریوں کے تحفظ سے ہے ۔ البتہ پہلے پروٹوکول کا اطلاق بین الاقوامی مسلح تصادم پر ہوتا ہے اور دوسرے پروٹوکول کا اطلاق غیر بین الاقوامی مسلح تصادم پر ہوتا ہے ۔ بہ الفاظ دیگر ، پہلا پروٹوکول چوتھے جنیوا معاہدے پر مزید اضافہ ہے ، جبکہ دوسرا پروٹوکول جنیوا معاہدات کی مشترک دفعہ ۳ کی توسیع اور تفصیل کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہ بات اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ پہلے پروٹوکول کی دفعہ ۱ ، ذیلی دفعہ ۴ کے مطابق آزادی کی جنگ ’’ بین الاقوامی مسلح تصادم ‘‘ ہے ، نہ کہ کسی ملک کا اندرونی معاملہ ۔ یہ ایک بنیادی سبب ہے اس امر کا کہ پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک نے ابھی تک ان پروٹوکولز پر دستخط نہیں کیے ۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ’’قانون جنیوا‘‘ (Geneva Law) یعنی جنیوا معاہدات اور اس کے ساتھ متعلقہ اضافی پروٹوکولز مسلح تصادم سے متاثر ہونے والے افراد (Victims of Warfare) یعنی عام شہری ، زخمی ، بیمار اور معذور جنگجو اور جنگی قیدیوں کا تحفظ کرتے ہیں ۔ 

آداب القتال سے متعلق بین الاقوامی قانون کا ایک دوسرا حصہ بھی ہے جسے ’’ قانون ہیگ ‘‘ (Hague Law) کہا جاتا ہے ۔ اس قانون کا تعلق جنگ کے طریقوں اور ہتھیاروں (Means and Methods of Warfare) سے ہے ۔ اسے قانون ہیگ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ۱۸۹۹ ء اور ۱۹۰۷ء کے ہیگ معاہدات کے ذریعے پہلی دفعہ کوشش کی گئی کہ جنگ کے طریقوں اور ہتھیاروں پر مناسب پابندیاں لگائی جائیں اور اس سلسلے میں پہلے سے موجود بین الاقوامی رواج کے قواعد و ضوابط کو معاہدات کی صورت میں منظم اور مرتب کیا جائے ۔ (۴)

پس مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون نے کوشش کی ہے کہ ایک جانب ہتھیاروں کے استعمال اور حملوں کے طریقوں میں جائز اور ناجائز کی تقسیم کرکے ریاست کے لامحدود اختیار کو محدود کیا جائے اور دوسری جانب جنگ سے متاثرہ افراد کا تحفظ کیا جائے ۔ گویا اس قانون کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جنگ کے جواز اور عدم جواز سے قطع نظر اس بات کی کوشش کی جائے کہ جنگ میں انسانیت کے تقاضوں کا حتی الامکان لحاظ رکھا جائے اور اس طرح جنگ کے نقصان کو ممکن حد تک محدود کیا جائے ۔ اس قانون نے صاحبان اقتدار کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جنگ میں ’’ سب کچھ ‘‘ جائز نہیں ہے ( بالکل اسی طرح جیسے محبت میں بھی ’’سب کچھ ‘‘جائز نہیں ہوتا ) ۔ 

فصل دوم: آداب القتال کے قانون کے بنیادی اصول 

اس قانون کا اولین اور بنیادی اصول ’’ انسانیت ‘‘ (Humanity) ہے ۔ یہ قانون جنگ کو بطور ایک امر اضطراری اور امر واقعی تو مان لیتا ہے مگر قرار دیتا ہے کہ جنگ کے دوران میں انسانیت کے تقاضوں کا لحاظ رکھنا لازم ہے ۔ مثال کے طور پر جنگ کے دوران میں فریق مخالف کے فوجی کو قتل کرنا اس قانون کے تحت ناجائز نہیں ہے لیکن اگر وہ ہتھیار ڈالے ، یا زخمی ہوجائے ، یا معذور ہوجائے ، یا کسی اور وجہ سے جنگ سے باہر (hors de combat) ہوجائے تو پھر اسے قتل کرنا ناجائز ہوجاتا ہے ، الا یہ کہ اس نے قید ہونے سے پہلے یا بعد میں کوئی ایسا جرم کیا ہو جس کی سزا موت ہو ۔ اس آخری صورت میں بھی انسانیت کے تقاضوں کا لحاظ رکھا جائے گا ۔ چنانچہ اس پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا اور اسے صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا ۔ (۵)

اسی اصول کے ایک لازمی نتیجے کے طور پر ’’ تمییز ‘‘ ( Distinction) کا بنیادی اصول بھی وضع کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حملے کے دوران میں جائز اور ناجائز ہدف (Target) میں فرق کیا جائے ۔ چنانچہ دشمن کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ جائز ہے جبکہ شہری آبادی ، ہسپتالوں ، سکولوں ، بازاروں اور عبادت گاہوں پر حملہ ناجائز ہے ۔ اسی طرح ایسے حملے ناجائز ہیں جن میں فوجی اور غیر فوجی دونوں کے نشانہ بننے کا احتمال ہو۔ اسی اصول پر ایسے ہتھیاروں کا استعمال بھی ناجائز ہے جس کا اثر صرف دشمن کے فوجیوں تک ہی محدود نہ ہو ، مثلاً کیمیائی ہتھیار ۔ (۶)

تاہم ، جیسا کہ ذکر کیا گیا ، یہ قانون جنگ کو مکمل طور پر حرام نہیں ٹھہراتا بلکہ جنگی حملے کو جائز قرار دیتا ہے اگر اس میں اوپر مذکورہ اصولوں اور قواعد کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ بہ الفاظ دیگر، اس قانون نے فوجی ضرورت (Military Necessity) کے اصول کو تسلیم کیا ہے ۔ چنانچہ اس اصول کے تحت ایسے حملوں کو جائز قرار دیا گیا ہے جن میں بنیادی ہدف دشمن کا فوجی ٹھکانہ ہو اگرچہ اس میں اضطراری طور پر کچھ عام شہری بھی نشانہ بنیں ۔ ایسے حملوں میں عام شہریوں کو پہنچنے والے ضرر کو ’’ ضمنی نقصان ‘‘ (Collateral Damage) کہا جاتا ہے ۔ (۷)

اضطرار کے اس اصول کو انسانیت اور تمییز کے اصولوں کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو نتیجے کے طور پر ایک اور اہم اصول سامنے آجاتا ہے جسے ’’تناسب کا اصول‘‘ (Principle of Proportionality) کہا جاتا ہے ۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں دشمن کو صرف اتنا ہی نقصان پہنچایا جائے جتنا اس کے حملے کی پسپائی یا اس پر فتح کے حصول کے لیے ضروری ہو ۔ گویا جنگ کا مقصد دشمن کا صفایا کرنا (Extermination) نہیں ہونا چاہیے ۔ اس اصول کی بنیاد پر ایسے ہتھیاروں یا طریقوں کا استعمال بھی ناجائز ہوجاتا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائے ، یا جو غیر ضروری اذیت دے ، خواہ اس کا استعمال دشمن کے فوجیوں پر ہی ہو ۔ (۸)

بین الاقوامی عدالت انصاف نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے جواز و عدم جواز کے متعلق اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ان ہتھیاروں سے آداب القتال کے چند اہم قواعد کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ عدالت کے مطابق ان قواعد میں اہم ترین یہ ہیں : 

۱ ۔ شہری آبادی کو نقصان پہنچانے کی ممانعت 

۲ ۔ اندھا دھند حملوں ( Indiscriminate Attacks) کی ممانعت 

۳ ۔ فریق مخالف کے فوجیوں کو غیر ضروری نقصان پہنچانے کی ممانعت 

۴ ۔ تناسب کا اصول 

۵ ۔ جنگ میں غیر جانبدار رہنے والے ملک کو نقصان پہنچانے کی ممانعت 

۶ ۔ قدرتی ماحول کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچانے کی ممانعت 

۷ ۔ زہریلے مواد کے استعمال کی ممانعت ۔ (۹)

یہاں اس امر کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ بین الاقوامی قانون نے بالعموم دو ریاستوں کے مابین تعلقات کے ضمن میں معاملۃ بالمثل یا مجازاۃ (Reciprocity) کے اصول کو تسلیم کیا ہے لیکن جہاں تک آداب القتال کا تعلق ہے، اس میں معاملۃ بالمثل کا اصول قابل قبول نہیں ہے ۔ پس اگر ایک فریق دوسرے فریق کے عام شہریوں کو نشانہ بنائے، تب بھی دوسرے فریق کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ جواب میں شہریوں کو نشانہ بنائے۔ اگر اس نے بھی شہریوں کو نشانہ بنایا تو یہ اسی طرح کا جرم ہوگا جیسے فریق اول کا فعل جرم تھا۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ آداب القتال کے مسلمہ اصولوں میں ایک اصول ’’ جرم کے ارتکاب کے لیے انفرادی ذمہ داری ‘‘ (Individual Criminal Responsibility) ہے۔ اس اصول کے مطابق نہ صرف ریاست بلکہ ہر فرد بھی آداب القتال کی خلاف ورزی کے لیے انفرادی طور پر ذمہ دار ہے۔ مثال کے طور اگر کسی کمانڈر کے حکم کی اطاعت میں ماتحتوں نے کسی عبادت گاہ پر حملہ کرکے اسے مسمار کردیا اور وہاں موجود افراد کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو ماتحت یہ عذر نہیں پیش کرسکتے کہ وہ اس مجرمانہ فعل کے ارتکاب پر مجبور تھے کیونکہ ان پر لازم تھا کہ وہ اپنے کمانڈر کا حکم مانیں۔ اگر عدالت میں ثابت کیا گیا کہ ماتحت عملاً اس کام پر مجبور تھے اور انہوں نے کرھاً اس کام کا ارتکاب کیا تب بھی وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ البتہ اس بنیاد پر ان کی سزا میں تخفیف کی جاسکے گی۔ اسی طرح کمانڈر اپنے تمام افعال کے لیے بھی ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے ماتحتوں کے افعال کے لیے بھی ۔ پس اگر کسی کمانڈر کے ماتحتوں نے کسی علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں کی آبادی پر مظالم ڈھائے تو کمانڈر لاعلمی کا عذر نہیں پیش کرسکتا ۔ (۱۰)

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ بین الاقوامی قانون بنیادی طور پر ریاستوں کے مابین تعلقات کو منظم کرتا ہے لیکن آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون کا اطلاق ریاستوں کے علاوہ افراد پر بھی ہوتا ہے ۔ 

فصل سوم : مقاتلین اور غیر مقاتلین میں تمییز 

مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون کا بنیادی کارنامہ یہ ہے کہ اس نے غیر مقاتلین (Non-combatants) کو جنگ کے اثرات سے محفوظ کرنے اور جنگ کے طریقوں اور ہتھیاروں کو مناسب حدود کے اندر رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ اس قانون کا اصل اصول یہ ہے کہ عام شہریوں پر حملہ ناجائز ہے ۔ عام شہری صرف دو صورتوں میں حملے کا ہدف بن سکتے ہیں : ایک صورت یہ ہے کہ وہ جنگ میں حصہ لیں اور مقاتلین (Combatants) بن جائیں ؛دوسری صورت یہ ہے کہ مقاتلین اور عام شہریوں میں تمییز ممکن نہ ہو ۔ اول الذکر صورت میں ان کو براہ راست اور عمداً نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ ثانی الذکر صورت میں ان کو براہ راست اور عمداً نشانہ نہیں بنایا جاسکتا ، بلکہ لازم ہوگا کہ حملہ کرنے والا فریق حملے کو ناگزیر ثابت کرے اور حملے کو مقاتلین تک محدود رکھنے کی حتی الامکان کوشش کرے ۔ ایسی صورت میں ، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ، عام شہریوں کو پہنچنے والا نقصان ’’ ضمنی نقصان ‘‘ ( Collateral Damage) کہلاتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس طرح عام شہری جنگ میں حصہ لے تو اس پر حملہ جائز ہوجاتا ہے ، اسی طرح مقاتل جب زخمی یا معذور ہوجائے ، یا ہتھیار ڈال دے ، یا اسے قید کیا جائے ، یا کسی اور وجہ سے جنگ سے باہر (hors de combat) ہوجائے تو اس پر حملہ ناجائز ہو جاتا ہے ۔ 

واضح رہے کہ اس قانون کے مطابق ’’غیر مقاتل ‘‘ (Non-combatant) اور ’’ شہری ‘‘ (Civilian) باہم مترادف ہیں ۔ بہ الفاظ دیگر، ہر فوجی مقاتل ہے الا یہ کہ وہ جنگ سے باہر (hors de combat) ہوجائے ، اور ہر شہری غیر مقاتل ہے الا یہ کہ وہ جنگ میں باقاعدہ حصہ لے ۔ مقاتل اور غیر مقاتل کی حیثیت کے تعین کے لیے جنس یا مذہب کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ چنانچہ خاتون اگر جنگ میں حصہ لے تو مقاتلہ ہے اور اگر مرد اگر جنگ سے باہر ہو تو غیر مقاتل ہے۔ 

رواجی بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر وہ شخص جنگ میں حصہ لے سکتا ہے ، یا حملہ کرسکتا ہے ، جو مندرجہ ذیل چار شرائط پوری کرے : 

۱ ۔ وہ ایک ذمہ دار کمان کے ماتحت ہو ؛ 

۲ ۔ وہ غیر مقاتلین سے خود کو ممیز کرنے کے لیے کوئی امتیازی نشان یا لباس (Uniform) استعمال کرے ؛ 

۳ ۔ وہ واضح طور پر ہتھیار سے مسلح ہو ؛ اور 

۴ ۔ وہ آداب القتال کی پابندی کرے ۔ (۱۱)

یہ چاروں شرائط ۱۹۰۷ء کے ہیگ معاہدے میں بھی مذکور ہیں اور تیسرے جنیوا معاہدے میں بھی انہیں دہرایا گیا ہے ۔ ان چار شرائط کو پورا کرنے والا شخص قانوناً ’’مقاتل ‘‘ (Combatant) کہلانے کا مستحق ہوتا ہے اور گرفتار ہونے کی صورت میں اسے ’’جنگی قیدی ‘‘ (Prisoner of War) کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ 

تاہم یہ اصول بھی مسلمہ ہے کہ بعض اوقات ان میں سے پہلی اور دوسری شرائط معطل ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے پر حملہ ہو اور اس علاقے کے عام لوگ ، کھیتوں میں ہل چلانے والے کسان ، کالجوں کو جانے والے طلبا ، تجارت پیشہ دوکاندار ، وغیرہ اچانک ہی حملہ آوروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور جو ہتھیار جس کے ہاتھ لگے اسی سے حملہ آوروں سے لڑنے لگے تو ان سب کو مقاتل کی حیثیت حاصل ہوگی اگر وہ اوپر مذکور آخری دو شرائط پوری کرتے ہوں ، خواہ وہ باقاعدہ طور کسی کمان کے تحت منظم نہ ہوئے ہوں اور ان کا کوئی امتیازی نشان یا لباس نہ ہو۔ اس قسم کی عمومی اور اچانک شروع ہونے والی مزاحمت کو اصطلاحاً levee en masse کہا جاتا ہے ۔(۱۲) اسی طرح ۱۹۷۷ء کے پہلے اضافی پروٹوکول نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ مسلح تصادم کے ہر مرحلے میں امتیازی نشان یا لباس کے استعمال کی شرط پر عمل ممکن نہیں ہوتا ۔ اس لیے اگر کوئی شخص امتیازی نشان یا لباس کا بعض اوقات استعمال نہ کرے لیکن وہ اوپر مذکور آخری دو شرائط پر عمل کرے تو اسے مقاتل کی حیثیت حاصل رہے گی ۔ (۱۳) یہ بھی واضح رہے کہ ہتھیار سے مسلح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ جنگجو اپنے مخالف فریق پر حملہ کرنے سے پہلے اسے دکھائے کہ اس کے ہاتھ میں کلاشنکوف ہے یا راکٹ لانچر ۔ بلکہ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے فعل اور حرکات و سکنات سے مخالف فریق کو یہ تاثر نہ دے کہ وہ غیر مقاتل ہے ۔ مخالف فریق کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی طرف بڑھنے والا شخص حملہ کرنے کے لیے آرہا ہے ۔ گویا اصل مقصد دھوکہ دہی کی ممانعت ہے۔ 

فصل چہارم : دھوکہ دہی ( Perfidy) کی ممانعت اور جنگی چالوں (Ruses of War) کی اجازت 

مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون نے جنگ کے جن طریقوں کو ’’ جنگی جرائم ‘‘ (War Crimes) میں شمار کیا ہے ان میں ایک ’’دھوکہ دہی ‘‘ (Perfidy) ہے ۔ (۱۴) اس سے مراد یہ ہے کہ دشمن کو پہلے اپنے قول یا فعل کے ذریعے اطمینان دلایا جائے کہ اس پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور پھر اس کے بعد اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر دھوکے سے اس پر حملہ کیا جائے ۔ مثال کے طور پر ہم نے اوپر ذکر کیا کہ مقاتل اگرجنگ سے باہر ہوجائے تو اس پر حملہ ناجائز ہوجاتا ہے ۔ اب اگر کوئی مقاتل دشمن کے سامنے ہاتھ اٹھائے ، یا سفید پرچم بلند کرے ، یا ہتھیار پھینک دے، یا خود کو زخمی یا معذور ظاہر کرے ، اور جب دشمن کے فوجی اس کے قریب آئیں تو یہ اچانک ان پر حملہ کردے ، تو یہ جنگی جرم ہوگا ۔ اسی طرح ایمبولینس پر حملہ ناجائز ہے۔ اگر ایک فریق ایمبولینس میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے بھیس میں اپنے جنگجو بھیجے اور دوسرا فریق انہیں اپنے درمیان آنے دے اور پھر ان کے بیچ میں پہنچ کر ایمبولینس میں بیٹھے افراد ان پر حملہ کردیں تو یہ دھوکہ دہی اور جنگی جرم ہوگا ۔ اسی طرح ہلال احمر اور صلیب احمر کی تنظیموں کے افراد ، دفاتر ، تنصیبات اور گاڑیوں پر حملہ ناجائز ہے کیونکہ ان کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ میدان جنگ میں جاکر زخمیوں اور لاشوں کو اکٹھا کریں اور قیدیوں کے متعلق معلومات بہم پہنچائیں ، اور یہ جنگ میں غیر جانبدار رہتے ہیں ۔ ان کو حملوں کی زد سے بچانے کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے امتیازی نشانات (Distinctive Emblems) اس طور پر استعمال کریں کہ دور سے بھی لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ ہلال احمر یا صلیب احمر کے لوگ ہیں۔ اب اگر کوئی فریق ہلال احمر یا صلیب احمر کی گاڑی یا ان کے امتیازی نشانات استعمال کرکے دشمن کے قریب پہنچ جائے اور پھر اس حملہ کرے تو یہ دھوکہ دہی اور جنگی جرم شمار کیا جائے گا ۔ بعینہ اسی طرح اگر کوئی شخص غیر مقاتل کے بھیس میں ہو اور دشمن اسے غیر مقاتل سمجھ کر اسے نزدیک آنے دے اور اس کے بعد وہ ان پر حملہ کرے تو یہ دھوکہ دہی اور جنگی جرم ہے۔ 

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ’’ دھوکہ دہی ‘‘ کی ممانعت کا مطلب یہ نہیں کہ ’’ جنگی چالیں‘‘ ( Ruses of War) بھی ممنوع ہیں ۔ (۱۵) مثال کے طور پر دشمن پر اچانک حملہ (Surprise Attack) جائز ہے ۔ اسی طرح یہ جائز ہے کہ آپ اپنی فوجوں کی حرکت سے دشمن کو یہ تاثر دیں کہ آپ مشرقی محاذ پر حملہ کرنے والے ہیں اور جب وہ مشرقی محاذ کی حفاظت پر توجہ دے کر مغربی محاذ سے لاپروا ہوجائے تو آپ مغربی محاذ پر حملہ کردیں ۔ اسی طرح فوجوں کی نقل و حرکت کے متعلق دشمن کو شبہ میں مبتلا کیے رکھنا ، یا اسے غلط اطلاع پہنچانا ، یا اپنی فوجوں کی پوزیشن ، تعداد اور صلاحیت کے متعلق اسے غلط فہمی میں مبتلا کرنا جائز جنگی چال ہے ، بشرطیکہ ان میں کسی فعل کی بنا اس بات پر نہ ہو کہ آپ پہلے دشمن کو اعتماد میں لیں کہ آپ اس پر حملہ نہیں کریں گے اور پھر اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں ۔ پس دھوکہ دہی میں ایک فریق دوسرے کو یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ جنگ میں حصہ نہیں لے رہا ، یا یہ کہ اسے حملے کا ہدف بننے سے قانونی تحفظ حاصل ہے اور جب فریق دوم اس پر بھروسہ کرکے اس پر حملے سے باز رہتا ہے تو فریق اول اس پر حملہ کرلیتا ہے ۔ اس کے برعکس جائز جنگی چال میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔ فریق دوم جانتا ہے کہ فریق اول اس پر حملہ کرے گا لیکن ’’کہاں سے ‘‘اور ’’کیسے ‘‘کے تعین میں وہ ٹھوکر کھا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے فریق اول کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ اسی طرح جائز جنگی چال میں فریق اول خود کو حملے کے لیے ناجائز ہدف بنا کر نہیں پیش کرتا بلکہ فریق دوم جانتا ہے کہ فریق اول کو ہدف بنانا جائز ہے لیکن فریق اول کی جنگی چال کی وجہ سے وہ اس بات کے تعین میں غلطی کر بیٹھتا ہے کہ اس پر ’’کہاں‘‘ اور ’’کیسے‘‘ حملہ کرے ؟ اور یہ اس کا اپنا قصور ہوتا ہے ۔ اس میں فریق اول کی جانب سے غدر یا خیانت نہیں ہوتی ۔ 

بین الاقوامی قانون نے دہشت گردی کی متفقہ اور مسلمہ جامع مانع تعریف نہیں پیش کی مگر حملے کی چند صورتیں ایسی ہیں جن کو بالاتفاق دہشت گردی میں شمار کیا جاتا ہے ، مثلاً : 

۱۔ شہری آبادی یا تنصیبات پر براہ راست اور عمداً حملہ ؛

۲ ۔ شہری ہوابازی کے طیاروں کو اغوا کرنا ؛ 

۳ ۔ شہریوں یا مقاتلین کو یرغمال بنانا ؛ 

۴ ۔ مقاتلین پر ’’ دھوکہ دہی ‘‘ کے ذریعے حملہ ؛

۵۔ مقاتلین پر زہریلی گیسوں اور کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال (۱۶)؛ وغیرہ ۔ 

فصل پنجم : خود کش حملوں کی قانونی حیثیت 

بین الاقوامی قانون کے ان اصول و ضوابط کی روشنی میں اگر خود کش حملوں کے جواز اور عدم جواز کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جواز کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پورا کرنا لازم ہوگا : 

اولاً : یہ کہ حملہ مسلح تصادم کے دوران میں کیا جائے ، نہ کہ حالت امن میں ۔ 

ثانیاً : یہ کہ حملہ کرنے والا مقاتل ہو ۔ 

ثالثاً : یہ کہ حملے کا ہدف فریق مخالف کے مقاتلین ہوں ۔ 

رابعاً : یہ کہ حملے میں ایسا طریقہ یا ہتھیار استعمال نہ کیا جائے جو قانوناً ناجائز ہو ۔ 

چنانچہ اگر جنگ کے دوران میں ایک مقاتل سینے سے بم باندھ کر فریق مخالف کے مقاتلین کی صفوں کے اندر گھس جائے اور پھر بم ڈیٹونیٹ کر لے ، یا بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ جائے ، یا جنگی جہاز کا پائلٹ جہاز کو دشمن کے فوجی ٹھکانے پر گرائے ، اور اس طرح خود اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کرلے اور فریق مخالف کو بھی سخت مادی اور نفسیاتی نقصان پہنچائے تو اس قسم کے حملوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت ناجائز نہیں قرار دیا جاسکے گا ۔ 

تاہم چونکہ بالعموم خود کش حملہ کرنے والا شہری آبادی کے اندر حملہ کرتا ہے اس لیے یہ فعل دہشت گردی کے ضمن میں آئے گا ۔ پھر چونکہ وہ مقاتل کے لباس میں نہیں ہوتا بلکہ بظاہر وہ عام شہری کے بھیس میں ہوتا ہے اس لیے وہ ’’ دھوکہ دہی ‘‘ (Perfidy) کا بھی ارتکاب کرتا ہے ۔ اسی طرح خود کش حملوں کا ہدف بالعموم ایسا ہوتا ہے کہ اس میں فریق مخالف کے مقاتلین اور غیر مقاتلین دونوں نشانہ بن جاتے ہیں ۔ بہ الفاظ دیگر ، ان حملوں سے اس قاعدے کی مخالفت ہوتی ہے کہ اندھادھند حملہ ناجائز ہے ۔ بسا اوقات حملے کا مقام یا وقت ایسا ہوتا ہے کہ اس میں غیر مقاتلین کو پہنچنے والا نقصان بہت شدید ہوتا ہے اور اس قسم کے نقصان کو ’’ ضمنی نقصان ‘‘ (Collateral Damage) نہیں کہا جاسکتا ۔ 

اس قسم کے حملوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ فریق مخالف بد اعتمادی کا شکار ہوجاتا ہے اور وہ ہر شخص کو حملہ آور فرض کرنے لگتا ہے خواہ وہ عام شہری کے لباس میں ہی کیوں نہ ہو ۔ اس طرح وہ بسا اوقات عام شہریوں کو خود کش حملہ آور فرض کر کے اس پر حملہ کردیتا ہے ۔ یوں عام شہریوں کی زندگی ہر وقت خطرے میں رہتی ہے ۔ باہمی بد اعتمادی کی اس فضا میں آداب القتال کے بنیادی قاعدے مسمار ہوجاتے ہیں ۔ چنانچہ ایک فریق دوسرے پر الزام رکھتا ہے کہ وہ حملے میں مقاتلین اور عام شہریوں میں تمییز روا نہیں رکھتا اور دوسرا فریق جواب میں قرار دیتا ہے کہ فریق اول کے مقاتلین عام شہریوں کا بھیس بدل کر حملہ کرتے ہیں ۔ یوں آداب القتال کی تمام بحث غیر متعلق ہوجاتی ہے اور فریقین کی جانب سے تمام قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں ۔ پھر ان کے نزدیک جنگ میں ’’ سب کچھ ‘‘ جائز ہوجاتا ہے ۔ فلسطین کی سرزمین پر یہی کچھ عرصے سے ہوتا رہا ہے اور اب پاکستان میں بھی خدانخواستہ حالات کا رخ اسی نہج پر ہے ۔ 

حصۂ دوم : اسلامی شریعت اور آداب القتال 

آداب القتال کے ان مسائل پر جب اسلامی شریعت کی رو سے بحث کی جاتی ہے تو سب سے پہلے اس امر کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے کہ اس بین الاقوامی قانون کی کیا حیثیت ہے جس نے ان آداب کا تعین کیا ہے ؟ بعض لوگوں نے ان بین الاقوامی معاہدات ، بلکہ پورے بین الاقوامی قانون کو اسلامی شریعت سے متصادم قرار دے کر ان کی پابندیاں ماننے سے انکار کیا ہے ۔ اس لیے پہلے اس اصولی بحث کا فیصلہ ضروری ہے ۔ اس کے بعد ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ کیا آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون کے اصول و مبادیات اسلامی شریعت سے مطابقت رکھتے ہیں یا وہ اس سے متصادم ہیں؟ پھر عصر حاضر کے مسلح تصادم کے حوالے سے چند نہایت اہم مسائل کا شریعت کی روشنی میں تجزیہ کیا جائے گا۔ و باللہ التوفیق ۔ 

فصل اول : آداب القتال کے بین الاقوامی معاہدات کی حجیت کا مسئلہ 

آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون ، جیسا کہ واضح کیا گیا ، بنیادی طور پر معاہدات اور بین الاقوامی عرف سے ماخوذ ہے ۔ شریعت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق عرف اور رواج کی پیروی بھی جائز ہے اور معاہدات پر عمل بھی لازم ہے ، الا یہ کہ کسی رواج یا معاہدے کی کسی شق سے شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو ۔ خلاف شریعت کسی شرط کا ماننا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے ( المسلمون علی شروطھم الا شرطاً حرم حلالاً أو أحل حراماً) (۱۷) بلکہ اگر اس قسم کی شرط مان بھی لی گئی تو اس پر عمل ناجائز ہوگا ۔ (ما من شرط لیس فی کتاب اللہ فھو باطل ، ولو کان مائۃ شرط) (۱۸) تاہم بعض شرائط کے مقتضیات کے تعین پر اختلاف ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ یہ ممکن ہے کہ بعض شروط کے ماننے سے بعض لوگوں کے نزدیک کفر کی بالادستی ماننی لازم آتی ہو ، جبکہ بعض دوسرے لوگوں کے خیال میں ہوسکتا ہے کہ یہ ان شروط کے ماننے کا لازمی تقاضا نہ ہو ۔ اس لیے کوئی sweeping statement دینا مناسب نہیں ہوگا ، بلکہ ضروری ہوگا کہ ہر ہر شرط کے مقتضیات پر الگ الگ بحث کی جائے اور پورے معاہدے کے مجموعی اثر پر اس کے بعد نظر ڈالی جائے۔ اس کے بعد ہی اس معاملے کی صحیح شرعی تکییف کی جاسکے گی ۔ عقود اور شروط کے بارے میں اصل صحت ، نفاذ اور لزوم کا ہے ۔ (۱۹) جو شخص دعوی کرے کہ کوئی شرط یا عقد اس اصل کے خلاف ہے تو ثبوت کا بار بھی اسی کے ذمے ہے ۔ مزید برآں ، اگر کسی شرط پر مسلمان اس وجہ سے عمل نہیں کرسکتے کہ وہ خلاف شریعت ہے تب بھی معاہدے کے دوسرے فریق کو اس بات کی اطلاع دینا لازم ہے کہ مسلمان اس معاہدے یا اس شرط کو قبول نہیں کرتے۔ اگر وہ ایسا کیے بغیر اس شرط کی خلاف ورزی کریں گے تو یہ غدر ہوگا جو شرعاً حرام ہے ۔ 

شریعت نے مسلمانوں پر لازم کیا ہے کہ جنگ کے دوران بعض قواعد اور ضوابط کا لحاظ رکھیں گے قطع نظر اس سے کہ دوسرا فریق ان کا خیال رکھتا ہے یا نہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگردوسرا فریق ان قواعد کو معاہدے کا حصہ بناکر ان کی پابندی پر آمادہ ہو تو مسلمانوں کے لیے اس قسم کے معاہدات میں شامل ہونا مستحسن ہی ہوگا ۔ اس کے علاوہ ان معاہدات میں بعض مزید کاموں کو بھی ممنوع قرار دیا جاسکتا ہے ۔ اس قسم کے معاہدات کے تحت ممنوع کام اس وقت تک ممنوع رہیں گے جب تک وہ معاہدات مؤثر ہوں ، الا یہ کہ ان کاموں کو شریعت نے بھی ممنوع قرار دیا ہو ۔ ظاہر ہے کہ شریعت کے تحت ممنوع شدہ کام مسلمانوں کے لیے ممنوع رہیں گے خواہ دوسرے فریق کے ساتھ معاہدہ ختم ہوجائے ۔ 

اس قسم کے معاہدات سے بعض اوقات مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ مثلاً جنگی قیدیوں کے متعلق نص قرآنی ( سورۃ محمد ، آیت ۴ ) کے بموجب مسلمان حکمران کو دو اختیار دیے گئے ہیں ؛ من اور فداء ، یعنی بغیر معاضہ کے یا معاوضہ لے کر رہائی ۔ بعض دیگر آیات اور احادیث کی روشنی میں احناف کی رائے یہ ہے کہ حکمران جنگی قیدیوں کو قتل بھی کرسکتا ہے اور غلام بھی بنا سکتا ہے ۔ (۲۰) تیسرے جنیوا معاہدے کے ذریعے طے کیاگیا ہے کہ جنگ کے خاتمے پر قیدیوں کو بغیر معاوضہ کے رہاکیاجائے گا ۔ (۲۱) اس شق کو شریعت کے خلاف متصور کیا جائے گا یا اسے حکمران کے اختیارات کا جائزاستعمال سمجھا جائے گا ؟ 

امام محمد بن الحسن الشیبانی نے، جو فی الحقیقت آیۃ من آیات اللہ تھے، ’’السیر الکبیر ‘‘ میں کئی ایسے معاہدات پر بحث کی ہے جو مسلمان دیگر اقوام کے ساتھ آداب القتال کے سلسلے میں کرسکتے ہیں۔ شمس الائمہ ابو بکر محمد بن ابی سہل السرخسی نے ’’شرح السیر الکبیر‘‘ میں ان کی توضیح میں کئی اہم قانونی اصول مستخرج کیے ہیں۔ یہاں اس بحث پر ایک نظر ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 

امام شیبانی نے اس قسم کے معاہدات پر بحث اس ضمن میں شروع کی ہے کہ اگر مسلمان لشکر کسی علاقے میں داخل ہونا چاہتا ہے لیکن راہ میں دشمن کے فوجی حائل ہیں اور وہ مسلمانوں کو یہ معاہدہ کرنے کی تجویز دیں کہ اگر مسلمان اس عام اور مختصر راستے کو چھوڑ ایک دوسرے طویل اور پر مشقت راستے سے جائیں تو وہ ان سے نہیں لڑیں گے اور انہیں بحفاظت وہاں سے گزرنے کا حق (Right of Safe Passage) دے دیں گے ، تو اگر ایسا کرنا مسلمانوں کے حق میں بہتر ہو تو مسلمان ایسا معاہدہ کرسکتے ہیں ۔ پھر اگر انہوں نے ایسا معاہدہ کرلیا اور بعد میں مسلمان محسوس کریں کہ انہیں اس مختصر اور عام راستے سے ہی جانا چاہیے تو اس وقت تک اس راستے سے نہیں جاسکتے جب تک کہ وہ فریق مخالف کو باقاعدہ اطلاع نہ دیں کہ ان کا معاہدہ ختم ہوچکا ہے ۔ مسلمان یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس راستے سے جائیں یا اس راستے ، ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا نہ ہی ان کا کوئی نقصان ہوتا ہے :

لأن ھذا بمنزلۃ الموادعۃ والأمان، فیجب الوفاء بہ و التحرز عن الغدر الی أن ینبذوا الیھم (۲۲)
[کیونکہ اس معاہدے کی حیثیت امن کے معاہدے کی ہے ، اس لیے اس پر عمل اور عہد شکنی سے احتراز واجب ہے جب تک مسلمان انہیں باقاعدہ طور معاہدہ ختم ہونے کی اطلاع نہ دیں۔ ] 

اسی طرح وہ بعض مزید شروط کا ذکر کرتے ہیں جن سے مندرجہ ذیل قواعد عامہ مستخرج ہوتے ہیں : 

اولاً : اگر معاہدے میں کسی کام کو ممنوع کیا گیا تو ایسے تمام کام جو اس ممنوع کام کی نوعیت کے ہوں ممنوع ٹھہریں گے ۔ مثلاً اگر فصلوں کو جلانا ممنوع کیا گیا تو انہیں پانی میں غرق کرنا بھی ممنوع ہوگا ۔ 

لأن ھذا فی معنی المنصوص من کل وجہ (۲۳) 
[کیونکہ یہ ہر پہلو سے منصوص حکم کے مفہوم میں داخل ہے ۔ ] 

ثانیاً : ممنوع کام سے اوپر کے درجے کے کام بھی ممنوع ٹھہریں گے ۔ مثلاً فصل میں سے کھانے کے لیے کچھ لینا ممنوع کیا گیا تو جلانا بدرجۂ اولی حرام ہوگا ۔ 

فان الاحراق افساد للعین ، و الأکل انتفاع بالعین ۔ فاذا شرطوا أن لا یؤکل فمقصودھم بقاء العین لھم ، و ذلک ینعدم بالاحراق کما ینعدم بالأکل (۲۴) 
[کیونکہ جلانا اس چیز کو ضائع کرنا ہے ، جبکہ کھانا اس سے فائدہ اٹھانا ہے ۔ پس جب انہوں نے یہ شرط لگائی کہ اسے نہ کھایا جائے تو ان کا مقصد اس چیز کے وجود کو باقی رکھنا تھا ، اور جیسے اس کا وجود کھانے سے معدوم ہوتا ہے ایسے ہی جلانے سے بھی معدوم ہوتا ہے ۔ ] 

اسی طرح اگر معاہدے میں طے پایا کہ مسلمان ان کی کشتیوں کو نہ جلائیں گے اور نہ ہی انہیں غرق کریں گے تو جلانے اور غرق کرنے کے علاوہ ان کشتیوں کو چھین کر لے جانا بھی ممنوع ہوگا : 

لأنھم انما أرادوا أن لا نستھلکھا علیھم ، الا أنہ تعذر علیھم التنصیص علی جمیع أنواع الاستھلاک ، و ذکروا ما ھو الظاھر من أسبابہ ، و ھو التغریق و الاحراق (۲۵) 
[کیونکہ ان کا اردہ دراصل یہ تھا کہ ہم ان کی کشتیاں ان کے لیے ناکارہ نہ بنائیں ، مگر چونکہ ناکارہ بنانے کے تمام طریقوں کا معاہدے میں ذکر کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے انہوں نے صرف اس کے ظاہری اسباب ذکر کیے جو ڈبونا اور جلانا ہیں ۔ ] 

ثالثاً: ممنوع کام سے نچلے درجے کا کام ممنوع نہیں ہوگا ۔ مثلاً جلانا ممنوع کیا گیا تو کھانا ممنوع نہیں ٹھہرے گا ۔ 

والأصل أن ما ثبت بالشرط نصاً لا یلحق بہ ما لیس فی معناہ من کل وجوہ(۲۶) 
[ قاعدہ یہ ہے کہ معاہدے میں مذکور شرط سے جو بات ثابت ہوتی ہو اس کے ساتھ اس بات کو نہیں ملحق کیا جائے گا جو تمام پہلوؤں سے اس کے مفہوم میں داخل نہ ہو ۔ ] 

ان قواعد کی وضاحت کے بعد وہ جنگی قیدیوں کے متعلق معاہدے کا ذکر کرتے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ مسلمان جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں بھی دوسرے فریق سے معاہدہ کرسکتے ہیں اور جب تک یہ معاہدہ برقرار رہے گا اس پر عمل واجب ہوگا ۔ اگر مسلمان اس معاہدے پر عمل نہیں کرنا چاہتے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے ، اور وہ یہ کہ دوسرے فریق کو باقاعدہ اطلاع دے دی جائے کہ وہ ان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ختم کر رہے ہیں ۔ 

امام شیبانی نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ معاہدے میں یہ شرط رکھی جاسکتی ہے کہ مسلمان دوسرے فریق کے قیدیوں کو قتل نہیں کریں گے۔ اس شرط کے بعد قیدیوں کو قتل کرنا ممنوع ٹھہرے گا مگر قید کرنا اور غلام بنانا جائز ہوگا : 

لأن الأسر لیس فی معنی ما شرطوا من القتل (۲۷) 
[کیونکہ انہوں نے قتل کی ممانعت کی شرط رکھی اور قید کرنا قتل کے مفہوم میں داخل نہیں ہے ۔ ] 

امام شیبانی نے آگے یہ بھی قرار دیا ہے کہ اس قسم کے معاہدے کے ذریعے یہ بھی طے کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان سرے سے انہیں قید ہی نہیں کریں گے ۔ اگر یہ طے پایا تو پھر انہیں قید کرنا بھی ناجائز ہوگا اور غلام بنانا اور قتل کرنا بدرجۂ اولیٰ ناجائز ہوگا : 

لأن القتل أشد من الأسر (۲۸) 
[کیونکہ قتل قید سے زیادہ سنگین نوعیت کا کام ہے ۔ ] 

البتہ اگر معاہدے میں طے پایا ہو کہ دوسرا فریق بھی اس قسم کے کاموں سے باز رہے گا اور اس کے بعد دوسرے فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس فعل سے معاہدہ ٹوٹ جائے گا اور مسلمانوں کے لیے جائز ہوگا کہ وہ ان کو قید کریں، غلام بنائیں اور قتل کریں ، جیسا کہ معاہدے کے وجود میں آنے سے پہلے حکم تھا ۔ 

اگر اس شرط کی خلاف ورزی ان کی جانب سے کسی ایک فرد نے کی ہو اور ان کی حکومت نے اس کی اجازت نہ دی ہو تو اس سے معاہدہ نہیں ٹوٹے گا : 

لیس لھذا الواحد ولایۃ نقض العھد علی جماعتھم (۲۹) 
[اس تنہا شخص کو اپنی جماعت پر یہ قانونی اختیار حاصل نہیں کہ وہ ان کی جانب سے معاہدہ ختم کر لے۔] 

تاہم اگر اس کی خلاف ورزی ان کی حکومت نے کی ، یا ایک بڑے گروہ نے کی ، یا ایک فرد یا چند افراد کھلے عام اس کا ارتکاب کریں اور ان کی حکومت انہیں نہ روکے تو یہ ان کی جانب سے عہد شکنی تصور کی جائے گی : 

ان السفیہ اذا لم ینہ مأمور (۳۰) 
[غلط روش پر چلنے والے کو اگر روکا نہ گیا تو گویا اسے اس کی اجازت دی گئی ۔ ] 

اگر معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی کہ فریقین میں کوئی بھی فریق دوسرے فریق کے قیدیوں کو قتل نہیں کرے گا ، اور اس کے بعد وہ مسلمانوں کو قید کریں لیکن قتل نہ کریں تو مسلمانوں کے لیے بھی ان کو قید کرنا جائز اور انہیں قتل کرنا ناجائز ہوگا : 

لأن ھذا لیس نقض العھد منھم ، فانھم التزموا بأن لا یقتلوا ، و ما التزموا بأن لا یأسروا واذا بقی العھد ، نعاملھم کما یعاملوننا جزاء وفاقاً (۳۱) 
[کیونکہ یہ ان کی جانب سے نقض عہد نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ ذمہ داری اٹھائی تھی کہ وہ قیدیوں کو قتل نہیں کریں گے ، یہ نہیں کہ وہ انہیں سرے سے قید ہی نہیں کریں گے ۔ پس جب معاہدہ برقرار ہے تو ہم ان کے ساتھ ان کے عمل کے عین مطابق اسی طرح کا معاملہ کریں گے جیسے وہ ہمارے ساتھ کرتے ہیں ۔] 

امام شیبانی کی ان تصریحات اور امام سرخسی کی توضیحات سے معلوم ہوا کہ آداب القتال کے تعین کے لیے مسلمان دوسرے فریق کے ساتھ معاہدات کرسکتے ہیں ۔ جنیوا معاہدات اور اس کے ساتھ اضافی ملحقات اسی نوعیت کے معاہدات ہیں ۔ تمام اسلامی ممالک نے ان معاہدات پر دستخط کیے ہیں ۔ اس لیے ان معاہدات کی پابندی مسلمانوں پر لازم ہے ۔ 

فصل دوم : آداب القتال کے بنیادی اصول اور اسلامی شریعت 

اسلامی شریعت نے انسانی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح جنگ کو بھی تہذیب اور انسانیت کے دائرے میں رکھنے کے لیے احکام ، اصول اور قواعد دیے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفائے راشدین کے طرز عمل سے آداب القتال کے متعلق فقہا نے تفصیلی ضابطہ اخذ کیا ہے جس کی پابندی مسلمانوں پر ہر صورت میں لازم ہے ، خواہ فریق مخالف اس ضابطے کی پابندی کرے یا نہ کرے ۔ اس ضابطے کی تفصیلات کے متعلق عصر حاضر میں بہت کچھ لکھا گیا ہے ، اور لکھا جارہا ہے۔ ان تفصیلات سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون کے جو قواعد عامہ ہم نے ابتدا میں ذکر کیے ہیں ، اسلامی شریعت نے ان سب کو تسلیم کیا ہوا ہے ۔ 

چنانچہ اسلامی شریعت نے حملے کے دوران میں انسانیت کے تقاضوں کی پابندی لازم ٹھہرائی ہے ۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حملے کے دوران میں غیر مقاتلین کو ہدف بنانے سے منع فرمایا ، لاشوں کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ، لوٹ مار اور قتل عام سے منع فرمایا، امیر کی اطاعت کا حکم دیا ، جنگ کو منظم طریقے سے لڑنے کا حکم دیا، بعض مخصوص قسم کے ہتھیاروں کے استعمال کی ممانعت کی ، جنگی قیدیوں اور مفتوحین کے ساتھ حسن سلوک کی شاندار مثالیں قائم کیں، معاہدات کی پابندی کی اور کروائی ، وغیرہ وغیرہ ۔ (۳۲)

اسی طرح یہ بھی واضح ہے کہ شریعت نے جنگ کو اس وجہ سے جائز ٹھہرایا ہے کہ بعض اوقات اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا، ورنہ اگر پر امن طریقوں سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو شریعت نے پر امن طریقے اپنانے کی ہدایت کی ہے ۔ مثال کے طور پر فقہا کی غالب اکثریت نے قرار دیا ہے کہ غیر مسلموں سے جنگ کا حکم اس وجہ سے نہیں دیا گیا کہ وہ اسلام قبول نہیں کرتے، بلکہ اس وجہ سے ان سے جنگ کا حکم دیا گیا وہ اسلام یا مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتے ہیں ۔ اصطلاحی الفاظ میں اس بات کی تعبیر یوں کی جاتی ہے کہ قتال کی علت کفر نہیں بلکہ محاربہ ہے ۔ (۳۳) اسی طرح شریعت نے لازم ٹھہرایا ہے کہ جنگ سے پہلے مخالف فریق کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے ، اگر ان تک اسلام کی دعوت پہلے ہی نہ پہنچ چکی ہو۔ اسی طرح ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : 

لا تقاتلھم حتی تدعوم ھم ۔ فان أبوا فلا تقاتلوھم حتی یبدء وکم ۔ فان بدء وکم فلا تقاتلوھم حتی یقتلوا منکم قتیلا ۔ ثم أروھم ذلک القتیل و قولوا لھم : ھل الی خیر من ھذا سبیل ؟ فلأن یھدی اللہ تعالیٰ علی یدیک خیر لک مما طلعت علیہ الشمس وغربت (۳۴) 
[ان سے جنگ نہ کرو جب تک کہ ان کو دعوت نہ دو ۔ اگر انہوں نے دعوت کی قبولیت سے انکار کیا تو ان سے جنگ نہ کرو جب تک کہ وہ شروع نہ کریں ۔ پھر اگر وہ جنگ شروع کریں تو ان سے نہ لڑو یہاں تک کہ وہ تم میں کسی کو قتل کرلیں ۔ پھر انہیں مقتول کی لاش دکھا کر کہو : کیا اس سے بہتر کی طرف کوئی راہ نکل سکتی ہے ؟ پس اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے کسی کو ہدایت نصیب کرے تو یہ تمہارے لیے اس سب کچھ سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوا۔ ] 

تاہم شریعت نے فوجی ضرورت کے قاعدے کو بھی تسلیم کیا ہوا ہے ۔ چنانچہ بعض مخصوص شرائط کے ساتھ شریعت نے دشمن پر شب خون کی اجازت دی ہے حالانکہ اس میں غیر مقاتلین کے نشانہ بننے کا احتمال بھی ہوتا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی قلعے میں مسلمانوں کا کوئی قیدی ہو اور اس قلعے پر حملہ ناگزیر ہو تومسلمان اس قلعے پر حملہ کرسکتے ہیں اگر چہ اس میں احتمال ہوتا ہے کہ حملے کی زد میں وہ مسلمان قیدی بھی آجائے ۔ اس قسم کے حملوں میں مسلمان جن شرائط کا خیال رکھیں گے ان میں اہم ترین یہ ہیں کہ جن لوگوں کو ہدف بنانا ناجائز ہے ( مثلاً غیر مقاتلین یا مسلمان قیدی)ان کو عمداً نشانہ نہ بنایا جائے ، ان پر حملے کی نیت نہ کی جائے ، انہیں جہاں تک بچایا جاسکتا ہو بچانے کی کوشش کی جائے ، حملے کو جائز ہدف تک ہی محدود رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ فوجی ضرورت یا اضطرار کے ساتھ ساتھ شریعت نے جائز ضمنی نقصان اور تناسب کے اصولوں کو بھی تسلیم کیاہوا ہے ۔ 

جہاں تک انفرادی فوجداری ذمہ داری ( Individual Criminal Responsibility) کے اصول کا تعلق ہے شریعت نے اسے بھی تسلیم کیا ہے اور صراحتاً قرار دیا ہے کہ جن کاموں کو شریعت نے حرام ٹھہرایا ہے ان کا ارتکاب اس بنیاد پر جائز نہیں ہوسکتا کہ ان کے ارتکاب کا حکم حاکم یا امیر نے دیا ہے اور حاکم یا امیر کی اطاعت لازم ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح اور قطعی الفاظ میں یہ اصول بیان کیا ہے کہ کسی مخلوق کی اطاعت کسی ایسے کام میں جائز نہیں جس سے خالق نے منع کیا ہو ۔ 

لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللہ عز و جل (۳۵) 
[ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے ۔ ] 

ایک موقع پر صحابہ کے ایک فوجی دستے کے امیر نے طیش میں آکر آگ لگا کر اپنے ماتحتوں کو حکم دیا کہ اس آگ میں داخل ہوں ، اور دلیل یہ دی ان پر اپنے امیر کی اطاعت لازم ہے ۔ ماتحتوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ ہم تو آگ سے بچنے کے لیے ہی مسلمان ہوئے ہیں۔ بعد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا: 

لو دخلوھا ما خرجوا منھا أبداً ، انما الطاعۃ فی المعروف لا فی المنکر (۳۶) 
[ اگر وہ اس میں داخل ہوتے تو کبھی اس سے نہ نکلتے ۔ اطاعت صرف جائز کام میں ہے نہ کہ ناجائز کام میں ۔ ] 

اسی طرح یہ اصول بھی شریعت نے تسلیم کیا ہوا ہے کہ امیر اپنے ماتحتوں کے عمل کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بنو جذیمہ کے لوگوں کو غلط فہمی کی بنیاد پر قتل کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین کا خون بہا بھی ادا کیا اور ان کو پہنچنے والے مالی نقصان کی بھی تلافی کی ، باوجود اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس کام کی اجازت نہیں دی تھی ۔ (۳۷)

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد شکنی اور غدر کو انتہائی شدید الفاظ میں منع فرمایا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ جنگی چالوں کی اجازت اپنے فعل سے بھی دی ہے اور قول سے بھی ۔ چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا : 

الحرب خدعۃ (۳۸)
[جنگ چالبازی کا نام ہے ۔ ] 

شریعت کی روشنی میں ناجائز غدر اور جائز جنگی چال میں کیسے فرق کیا جائے گا ؟ اس مسئلے پر آگے تفصیلی بحث آرہی ہے ۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون اپنے اصول عامہ اور قواعد عامہ کے لحاظ سے اسلامی قانون کے عین مطابق ہے ۔ اگر دونوں نظامہائے قوانین میں کسی جزئیے میں کہیں اختلاف آرہا ہو تو وہ الگ بات ہے، لیکن بنیادی طور پر ان میں توافق اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ بلکہ بعض اوقات وضعی قانون کی بہ نسبت اسلامی قانون میں زیادہ پابندیاں پائی جاتی ہیں ۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی قانون کی رو سے خود کش حملوں کے جواز یا عدم جواز کی بحث میں اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں کہ خود کشی جائز ہے یا ناجائز ؟ تاہم جب اس قسم کے حملوں کے جواز یا عدم جواز پر اسلامی قانون کی رو سے بحث کی جاتی ہے تو یہ سوال بہت اہم ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کا حملہ ’’خود کشی ‘‘ہے یا نہیں کیونکہ اسلامی شریعت کی رو سے خودکشی ایک بہت بڑا گناہ ہے؟ 

ان بنیادی اصولوں میں توافق اور ہم آہنگی کے باوجود بعض مسائل ایسے ہیں جن میں عصر حاضر کے تناظر میں ان دونوں نظام ہائے قوانین کے درمیان تفصیلی موازنہ ضروری ہے ۔ 

فصل سوم : مقاتلین اور غیر مقاتلین کی حیثیت کے تعین کا مسئلہ 

دونوں نظام ہائے قوانین نے لازم ٹھہرایا ہے کہ حملے کا جائز ہدف صرف مقاتلین ہی ہوسکتے ہیں اور حتی الامکان اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ غیر مقاتلین حملے کی زد میں نہ آئیں ۔ تاہم مقاتل اور غیر مقاتل کے تعین کے اصولوں میں بظاہر اختلاف نظر آتا ہے ۔ جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ، مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون کی رو سے ’’غیر مقاتل ‘‘ (Non-Combatant) اور ’’شہری ‘‘ یا ’’غیر فوجی ‘‘(Civilian) تقریباً مترادف اصطلاحات ہیں ۔ اس قانون کی رو سے باقاعدہ فوجی یا جنگجو تو مقاتل ہیں الا یہ کہ وہ کسی وجہ سے جنگ سے باہر ہوجائیں ، اور عام شہری ، خواہ مرد ہوں یا عورتیں ، غیر مقاتل ہیں ، الا یہ کہ وہ جنگ میں باقاعدہ حصہ لیں۔ اس کے برعکس فقہاء کے نصوص پر سرسری نظر دوڑائی جائے تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک برسر جنگ قوم کا ہر عاقل بالغ مرد اصلاً مقاتل ہے ، الا یہ کہ کسی اور سبب سے اسے مقاتل نہ سمجھا جائے ، اور نا بالغ بچے اور عورتیں غیر مقاتلین ہیں الا یہ کہ وہ جنگ میں حصہ لیں ۔ عورتوں کو اصلاً غیر مقاتلین میں شمار کرنے سے تو اتنے بڑے مسائل پیدا نہیں ہوتے لیکن تمام مردوں کو اصولاً مقاتلین فرض کرنے سے بظاہر بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ تاہم اگر اس اصول کا تفصیلی قانونی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون میں توافق اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ 

مردوں کو فقہانے اس وجہ سے اصولاً مقاتلین میں شمار کیا کہ زمانۂ قدیم میں، جبکہ فقہا نے اسلامی قانون کے اصولوں کا استخراج کیا ، جنگوں میں بنیادی کردار مرد ہی ادا کرتے تھے اور کسی قوم کے تقریباً تمام ہی عاقل بالغ مرد جنگ میں حصہ لیتے تھے۔ البتہ بعض حالات کی وجہ سے بعض مرد جنگ میں حصہ نہ لے پاتے تو فقہاان کو مقاتلین میں شمار نہیں کرتے تھے۔ مثلاً فقہا نے ایک طرف یہ اصول طے کیا ہے کہ ہر مرد مقاتل ہے اور دوسری طرف یہ بھی قرار دیا ہے کہ دشمن کے علاقے میں داخل ہونے والے تاجر غنیمت میں حصہ لینے کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ وہ قتال میں حصہ لینے کے لیے نہیں بلکہ تجارت کے لیے وہاں جاتے ہیں ۔ پس وہ صرف اسی صورت میں غنیمت میں حصہ لینے کے مستحق ہوں گے جب وہ قتال میں باقاعدہ شرکت کریں ۔ امام سرخسی اس حکم کے پیچھے کارفرما قانونی اصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں : 

فانھم کانوا تجاراً قبل ھذا ، لا غزاۃً (۳۹) 
[ کیونکہ وہ قتال میں حصہ لینے سے پہلے تاجر تھے ، نہ کہ غازی ۔ ] 

پس اصل قاعدہ یہ ہے کہ مقاتل اور غیر مقاتل کی حیثیت کا تعین کسی شخص کی جنس سے نہیں بلکہ اس کے قتال میں حصہ لینے یا نہ لینے سے ہوتا ہے ۔ چونکہ اس زمانے میں بالعموم تمام مرد قتال میں حصہ لیتے تھے اس لیے مفروضہ یہ ہوتا تھا کہ تمام مرد مقاتلین ہیں الا یہ کہ ان کا غیر مقاتل ہونا ثابت ہو ۔ 

اس مسئلے کا تجزیہ ایک اور پہلو سے بھی کیا جاسکتا ہے ۔ غیر مقاتلین کی ممانعت کا حکم کہاں سے اخذ کیا گیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگوں میں عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۔ (۴۰) اہل ظاہر قرار دیتے ہیں کہ اصلاً جنگ میں ہر غیر مسلم کا قتل جائز ہے ، سوائے عورتوں اور بچوں کے ۔ اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ سورۃ التوبۃ میں تمام مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت گویا قاعدے سے استثنا ہے ۔ (۴۱) اس کے برعکس جمہور فقہا عورتوں اور بچوں کے علاوہ دیگر ایسے لوگوں کو بھی غیر مقاتلین میں شمار کرتے ہیں جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے مثلاً شیخ فانی، خانقاہ میں باقی دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے راہب ، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان وغیرہ ۔ (۴۲) اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض دیگر احادیث ، جو متشدد روایت پسندوں کے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں ، میں ان لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے ۔ نیز خلفاے راشدین کے فرامین اور احکامات میں بھی یہ استثناء ات مذکور ہیں ۔ 

سوال یہ ہے کہ اگر سورۃ التوبۃ کی آیت ۵ کے حکم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم  [پس مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی ان کو پاؤ ] کو عام حکم مانا جائے تو ان احادیث اور خلفا کے فرامین نے اس عام کی تخصیص کیسے کردی ؟ یہ سوال شافعی فقہا کے لیے اتنا اہم نہیں ہے کیونکہ ان کے نزدیک عام ظنی الدلالۃ ہوتا ہے جس کی تخصیص خبر واحد ، بلکہ قیاس ، کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے ۔ تاہم احناف کے نزدیک عام قطعی الدلالۃ ہوتا ہے اور اس کی پہلی تخصیص کے لیے قطعی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ البتہ پہلی تخصیص کے بعد احناف کے نزدیک بھی مزید تخصیص خبر واحد اور قیاس کے ذریعے ہوسکتی ہے کیونکہ ’’عام مخصوص منہ البعض ‘‘ ان کے نزدیک بھی ظنی الدلالۃ ہوجاتا ہے۔ (۴۳) یہاں اس عام حکم کی تخصیص اس آیت کریمہ کے معاً بعد آنے والی آیت نے کر دی ہے : 

وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَأَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّٰہِ ثُمَّ أَبْلِغْہُ مَأْمَنَہُ (سورۃ التوبۃ ، آیت ۶ ) 
[ اگر ان مشرکین میں کوئی تم سے امان مانگے تو اسے امان دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے ۔ پھر اسے اس کے امان کی جگہ تک پہنچاؤ ۔ ] 

اس آیت نے واضح کیا کہ ماسبق آیت میں لفظ ’المشرکین‘ بظاہر عام ہے لیکن درحقیقت عام نہیں ہے ، بلکہ اس سے ایک مخصوص گروہ مراد ہے کیونکہ مستامن کو قتل کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ وہ مشرک ہو ۔ گویا ما سبق آیت میں مذکور حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ’’ تمام مشرکین ‘‘ کو قتل کرو ۔ اب جب لفظ ’المشرکین‘ عام نہیں رہا تو دیگر دلائل احادیث مبارکہ ، صحابہ کرام کے فیصلوں اور قیاس کے ذریعے اس بظاہر عام حکم کی مزید تخصیص ہوسکتی ہے۔ 

باقی رہا یہ سوال کہ عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں ، راہبوں اور کسانوں کو اس حکم سے کیوں مستثنیٰ کیا گیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انہیں مستثنیٰ کرنے کی وجہ وہی ہے جو مستامن کو مستثنی کرنے کی ہے ۔ جیسے مستامن مسلمانوں سے لڑتا نہیں بلکہ ان سے امن کا معاہدہ کرتا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی جنگ میں حصہ نہیں لیتے ۔ بہ الفاظ دیگر ، یہ لوگ ’’غیر مقاتلین‘‘ ہیں ۔ یہ علت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارک سے براہ راست بھی معلوم ہوتی ہے۔ جب آپ نے میدان جنگ میں ایک خاتون کی لاش دیکھی تو اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : 

ما کانت ھذہ فیمن یقاتل (۴۴) 
[یہ تو لڑنے والوں میں نہیں تھی ۔ ] 

پس جن سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے وہ صرف وہ ہیں جن کو مقاتلین کہا جاسکے ، اور جو غیر مقاتلین ہیں وہ اس حکم سے مستثنی ہوئے ۔ البتہ غیر مقاتلین میں کوئی فرد اگر قتال میں حصہ لے تو اس پر حملہ جائز ہوجاتا ہے کیونکہ جس ’’علت‘‘ کی وجہ سے اس پر حملہ ناجائز تھا وہ علت معدوم ہوگئی ، یا یوں کہیے کہ جس ’’علت ‘‘ کی وجہ سے کسی پر حملہ کرنا جائز ہوجاتا ہے وہ علت اس میں اب پائی جاتی ہے ۔ چنانچہ اگر عورت جنگ میں حصہ لے تو اسے ہدف بنایا جاسکتا ہے کیونکہ اسے استثنا عورت ہونے کی وجہ سے نہیں دیا گیا تھا بلکہ غیر مقاتلہ ہونے کی وجہ سے دیا گیا تھا اور اب وہ غیر مقاتلہ نہیں رہی ۔ 

پس اصل چیز جو دیکھنے کی ہے ، اور جس پر حکم کے وجود اور عدم کا مدار ہے ، وہ یہ ہے کہ کون جنگ میں حصہ لیتا ہے اور کون نہیں لیتا ؟ اول الذکر کو مقاتل کہا جائے گا اور ثانی الذکر کو غیر مقاتل ۔ چونکہ عصر حاضر میں جنگوں میں ، ماسوائے استثنائی حالات کے ، عام شہری حصہ نہیں لیتے اس لیے عام شہریوں کو غیر مقاتلین ہی کہا جائے گا جب تک وہ جنگ میں باقاعدہ حصہ نہ لیں ۔ 

یہاں یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ ’’ جنگ میں باقاعدہ حصہ لینے ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ بعض لوگوں کی جانب سے یہ رائے سامنے آئی ہے کہ چونکہ فوج کے اخراجات ان ٹیکسوں سے پورے کیے جاتے ہیں جو حکومت اپنے شہریوں پر لگاتی ہے، اس لیے ہر وہ شخص مقاتل ہے جو حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہے کیونکہ اس طرح وہ مال کے ذریعے قتال میں حصہ لے رہا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے نزدیک وہ تمام دانشور ، ماہرین اور اہل علم بھی مقاتل شمار ہوں گے جن کی آرا یا نظریات کسی بھی طور پر جنگ میں ممد و معاون ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس رائے کو تسلیم کیا گیا تو پورے اسلامی آداب القتال کا حلیہ ہی تبدیل ہوجائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی جنگوں کے لیے سرمائے کی ضرورت ہوتی لیکن کیا انہوں نے ہر اس شخص کو مقاتل قرار دیا جس نے جنگ کے لیے فنڈ میں ذرا سا بھی حصہ ڈالا ہو ؟ ہر شخص جانتا ہے کہ غزوۂ بدر میں شکست کے بعد اہل مکہ کے ہر مرد و عورت نے بدلے کے لیے تیاری میں بھرپور حصہ لیا اور غزوۂ احد کے لیے باقاعدہ Fund Raising ہوئی۔ خود قرآن کریم اس پر گواہ ہے : 

إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَسَیُنفِقُونَہَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُونَ (سورۃ الانفال ، آیت ۳۶ ) 
[کفر کرنے والے اپنا مال اس مقصد سے خرچ کررہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں ۔ پس وہ اسے خرچ تو کرلیں گے ، پھر یہ ان کے لیے سرمایۂ حسرت بنے گا ، پھر وہ مغلوب ہو جائیں گے ۔ ] 

اس سے بھی آگے بڑھ کر مشرکین کی عورتیں اپنے مردوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے میدان جنگ میں بھی آئیں اور شعر اور نغمے گا گا کر مردوں کے جذبات کو برانگیختہ کرتی رہیں ۔ اس کے باوجود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر حملہ کرنے سے منع فرمایا ۔ 

یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کے لیے مادی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ شریعت نے مباشر اور متسبب میں فرق کیا ہے یا نہیں ؟ پھر دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک سبب کے وجود میں آنے کے بعد نتیجہ نمودار ہونے سے پہلے درمیان میں ایک اور سبب طاری ہوجائے تو فعل کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی ؟ اگر ایک سبب کا کوئی نتیجہ برآمد ہو اور وہ نتیجہ ایک اور فعل کا سبب بنے تو یہ آخری فعل سبب اول کی طرف منسوب ہوگا یا سبب ثانی کی طرف ؟ کیا نتیجے اور سبب کے درمیان رابطہ سببیہ (Causal Link) ثابت کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ اسباب کا یہ سلسلہ کہاں روکا جائے گا ؟ کیا شہد کی مکھی کے باغ میں داخل ہونے کو پروانے کے خونِ ناحق کا اس بنا پر سبب قرار دیا جاسکتا ہے کہ نہ وہ باغ میں داخل ہوتی نہ رس چوستی ، نہ اس سے موم بنتا ، نہ موم بتی وجود میں آتی ، نہ موم بتی جلائی جاتی ، نہ ہی پروانے اس پر نثار ہوتے ؟ 

پس جن لوگوں کا جنگ کی تیاری میں براہ راست حصہ ہو ، جنہیں جنگ کا ’’متسبب‘‘ قرار دیا جاسکے ، جن کے فعل اور جنگ کے درمیان رابطہ سببیہ ثابت کیا جاسکے ، جن کے فعل اور جنگ کے درمیان کوئی اور قوی سبب طاری نہ ہوا ہو ، ان کو یقیناًجنگ کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے خواہ انہوں نے باقاعدہ ہتھیار نہ اٹھائے ہوں ۔ کعب بن الاشرف کو مقاتل قرار دیا گیا تو محض اس وجہ سے نہیں کہ اس نے غزوۂ بدر میں قریش کے مقتولین کا مرثیہ کہا تھا ، بلکہ دراصل اس نے اپنی اس شاعری اورخطابت کے زور پر مشرکین مکہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لیے ابھارا تھا اور اس کے لیے باقاعدہ مہم چلائی تھی اور منصوبہ بندی میں حصہ لیا تھا ۔ (۴۵) نیز اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی تھیں جو نص قرآنی کے بموجب ’’طعن فی الدین‘‘ ہونے کے سبب سے قتال کی علت میں شامل ہے۔ (۴۶) اسی سبب سے ابو عزہ شاعر کو سزاے موت سنائی گئی کہ وہ قریہ قریہ جا کر اپنے اشعار کے ذریعے لوگوں کو جنگ کے لیے اکٹھا کرتا رہا ، اور ساتھ ہی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجو میں شعر کہتا تھا۔ اسی طرح عمر رسیدہ درید ابن الصمہ کو مقاتل شمار کیا گیا کیونکہ اس نے جنگ کی منصوبہ بندی میں باقاعدہ حصہ لیا تھا اور جنگ کی ابتدا میں مسلمانوں کو جو سخت جانی نقصان ہوا، اس میں درید کے مشوروں نے اہم کردار ادا کیا تھا ۔ (۴۷) پس مقاتلین میں کچھ تو وہ لوگ ہیں جن کو ’’مباشر ‘‘ کی حیثیت حاصل ہے ، یعنی جنگجو یا فوجی، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن کو ’’ متسبب‘‘ کی حیثیت حاصل ہے ۔ اس ثانی الذکر گروہ میں صرف انہی کو شامل کیا جاسکتا ہے جن پر جنگ کی براہ راست ذمہ داری ڈالی جاسکے ۔ یہی اصول بین الاقوامی قانون کا بھی ہے ۔ مثال کے طور پر ریاست کا سربراہ جنگ میں فوجی کے طور پر حصہ نہیں لیتا لیکن اس کے باوجود جنگ شروع کرنے اور جنگ کے دوران میں کیے جانے والے بعض کاموں کے لیے اسے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور بعض کے لیے ذمہ داری اس پر نہیں ڈالی جاتی ۔ 

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت کو جو ٹیکس ادا کیا جاتا ہے وہ خالصتاً جنگ کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس پر حکومت اور ریاست کا پورا نظام چلایاجاتا ہے اور اس کا کچھ ہی حصہ جنگ کے مصارف پر بھی خرچ کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں، وہ لازماً اس نیت سے نہیں دیتے کہ اس کو جنگ پر خرچ کیا جائے، بلکہ ان میں سے کئی لوگ جنگ کے مخالف بھی ہوتے ہیں۔ عراق پر حملے کے خلاف جتنے بڑے مظاہرے خود امریکہ میں ہوئے اس کے عشر عشیر کے برابر بھی پاکستان سمیت کسی مسلمان ملک میں نہیں ہوئے ۔ کیا ان جنگ کے مخالفین کو بھی ’’مقاتلین‘‘ میں شمار کیا جائے گا کیونکہ یہ جب ٹیلی فون کا بل ادا کرتے ہیں تو اس ضمن میں حکومت کو ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں ؟ پس عام شہریوں کو محض اس بنا پر مقاتلین میں شمار کرنا کہ وہ حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں بدیہی طور پر غلط ہے ۔ 

فصل چہارم : مقاتل کی حیثیت کے لیے چار شرائط 

یہاں ایک اور مسئلہ بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ’’مقاتل ‘‘کی حیثیت اسی شخص کو دی جاتی ہے جو چند مخصوص شرائط پوری کرے ۔ ان شرائط کو پورا کیے بغیر کوئی شخص جنگ میں حصہ نہیں لے سکتا ۔ شریعت کی رو سے ان شرائط کی کیا حیثیت ہے ؟ اصولی طور پر ، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ، مسلمان اگر آداب القتال کے تعین کے لیے معاہدہ کرلیں تو جب تک وہ معاہدہ برقرار رہتا ہے مسلمانوں پر اس کی پابندی لازم ہوتی ہے البتہ مسلمان معاہدے میں کسی ایسی شرط کو نہیں مان سکتے جس کے ماننے سے شریعت کی خلاف ورزی لازم آتی ہو ۔ پس اصولاً اس قسم کے شرائط طے کرنا صحیح ہے ۔ اگر کسی کو کسی شرط پر اعتراض ہے تو اس شرط کا بطلان ثابت کرنا اسی کی ذمہ داری ہے ۔ ہماری ناقص رائے میں ان چاروں شرائط میں کوئی شرط بھی شریعت سے متصادم نہیں ہے ۔ 

یہ شرط کہ قتال میں حصہ لینے والے خود کو غیر مقاتلین سے ممیز کرنے کے لیے کوئی امتیازی لباس یا نشان استعمال کریں ، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ، دھوکہ دہی (Perfidy) کی ممانعت کا لازمی تقاضا ہے ۔ اس پر شریعت کی روشنی میں تفصیلی بحث ہم آگے غدر اور خدعہ میں فرق کے ضمن میں کریں گے ۔ جہاں تک اس شرط کا تعلق ہے کہ مقاتل کی حیثیت اسی جنگجو کو حاصل ہوگی جو آداب القتال کی پابندی کرے تو ظاہر ہے کہ جن آداب القتال کی پابندی شرعاً لازم ہے ان کے متعلق کوئی دو رائیں نہیں ہوسکتیں ، اور جن اضافی آداب کی پابندی بین الاقوامی معاہدات کے ذریعے لازم ٹھہرائی گئی ہے ان کے متعلق بھی ہم نے تفصیل سے واضح کیا کہ اسلامی شریعت کی رو سے مسلمانوں کو اجازت ہے کہ اس قسم کے معاہدات کریں اور یہ کہ وہ ان معاہدات پر عمل کے پابند ہوں گے ۔ البتہ باقی دو شرائط پر ذرا تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ 

ذمہ دار کمان کے تحت لڑائی کی شرط 

درحقیقت یہ شرط شریعت کے مقتضیات کے عین مطابق ہے ۔ یہ شرط اصل میں اس مقصد کے لیے رکھی گئی ہے کہ جنگ منظم طریقے سے ہو اور لوٹ مار اور دہشت گردی یا رہزنی کی سی صورت پیدانہ ہو ۔ زمانۂ جاہلیت میں رائج جنگ کے طور طریقوں میں شریعت نے جو اصلاحات کیں ان میں ایک اہم اصلاح یہ ہے کہ اس نے جنگ کو منظم کیا اور حکمران اور امیر کی اطاعت میں جنگ کا حکم دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: 

الغزو غزوان ۔ فاما من ابتغی وجہ اللہ و أطاع الامام و أنفق الکریمۃ و اجتنب الفساد فان نومہ و نبھتہ أجر کلہ ۔ و أما من غزا ریاء و سمعۃ و عصی الامام و أفسد فی الأرض فانہ لا یرجع بالکفاف (۴۸)
[جنگیں دو قسم کی ہیں : جس شخص نے خاص اللہ کی خوشنودی کیلیے جنگ کی ، امام کی اطاعت کی ، اپنا بہترین مال خرچ کیا اور فساد سے اجتناب کیا اس کا سونا اور جاگنا سب اجر کا مستحق ہے ۔ اور جس نے دکھاوے اور شہرت کے لیے جنگ کی ، امام کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد پھیلایا تو وہ برابر بھی نہیں چھوٹے گا ۔ ] 

ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

من أطاعنی فقد أطاع اللہ ، و من یطع الأمیر فقد أطاعنی ، و من یعص الأمیر فقد عصانی ۔ و انما الامام جنۃ یقاتل من ورآۂ و یتقی بہ ۔ فان أمر بتقوی اللہ و عدل فان لہ بذلک أجرا ، و ان قال بغیرہ فان علیہ منہ (۴۹)
[جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ،اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔ امام تو ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر جنگ کی جاتی ہے اور جس کے ذریعے اپنا بچاؤ کیاجاتا ہے ۔ پس اگر وہ اللہ سے ڈرنے کا حکم دے اور عدل کرے تو اس سب کا جر اسے ملے گا ، اور اگر وہ اس کے سوا کچھ اور حکم دے تو اس کا وبال بھی اس پر آئے گا ۔ ] 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرمایا کہ حاکم چاہے اچھا ہو یا برا جہاد اسی کی امارت میں کیا جائے گا: 

الجھاد واجب مع کل أمیر برا کان او فاجرا (۵۰)
[جہاد ہر امیر کے ساتھ ، چاہے وہ نیک ہو یا بد ، واجب ہے ]

ایک اور موقع پر فرمایا: 

لا یدخل الجنۃ الا نفس مسلمۃ و ان اللہ لےؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر (۵۱) 
[جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے ، البتہ اللہ تعالی اس دین کی مدد کسی فاجر شخص سے بھی کرتا ہے ۔ ] 

اسی بنا پر تمام فقہا نے قرار دیا کہ جہاد حکمران کی اطاعت میں کیاجائے گا ۔ امام ابو حنیفہ کے عظیم المرتبت شاگرد اور اپنے عہد کے چیف جسٹس امام ابو یوسف نے صراحتاً قرار دیا ہے کہ کوئی جہادی کاروائی حکمران یا اس کے نائب کی اجازت کے بغیر نہیں کی جائے گی ۔ 

لا تسری سریۃ بغیر اذن الامام (۵۲)
[کوئی لشکرکشی امام کی اجازت کے بغیر نہیں کی جائے گی ۔ ] 

مشہور حنبلی فقیہ ابن قدامہ کا قول ہے : 

و أمر الجھاد موکول الی الامام و اجتھادہ ، و یلزم الرعیۃ طاعتہ فیما یراہ من ذلک (۵۳)
[جہاد کا معاملہ امام اور اس کے اجتہاد کے حوالے ہے ، اوروہ اس معاملے میں جو فیصلہ کرے رعیت پر لازم ہے کہ اس کی اطاعت کرے ۔ ] 

بلکہ ، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، امام محمد بن الحسن الشیبانی نے تو صراحت کی ہے کہ ہم اسی قاعدے کو غیرمسلموں پر بھی لاگو کریں گے ۔ چنانچہ اگر کسی غیر مسلم ملک کے چند افراد نے اسلامی ملک کے کسی علاقے پہ حملہ کیا تو حملہ آوروں کے خلاف تو کارروائی کی جائے گی لیکن اسے اس ملک کی جانب سے حملہ اس وقت تک نہیں تصور کیا جائے گا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ یہ حملہ اس ملک کی حکومت کی اجازت سے ہوا ہے۔ 

یہ قاعدہ اور اصول کہ جنگی کاروائی حکومتی نظم کے تحت ہو صرف حملے ہی کے لیے نہیں بلکہ دفاع میں بھی اصول یہی ہے ۔ جب مسلمان ملک پر حملہ ہو تو حکومت ہی مدافعت کرے گی اور وہی مختلف محاذوں پر فوجیں بھیجے گی ۔ اسی طرح حکومت ہی نفیر عام کا فریضہ ادا کرے گی ، یعنی وہی اعلان کرے گی کہ سارے ہی لوگ دفاع کے لیے اٹھ جائیں۔ (۵۴) مزید برآں فقہا نے اس کی بھی صراحت کی ہے جنگ سے متعلق دیگر جتنے امور ہیں ۔۔۔ جیسے مقبوضہ علاقوں اور آبادی نیز جنگی قیدیوں کے مستقبل کے متعلق فیصلہ ، جنگ بندی یا مستقل امن کا معاہدہ طے کرنا وغیرہ ۔۔۔ تو یہ سب حکومت کے کرنے کے کام ہیں۔ (۵۵)

البتہ یہاں دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے : 

ایک یہ کہ موجودہ دور میں اس شرط سے عام طور پر نتیجہ یہ اخذ کیاجاتا ہے کہ یہ حکومت کا حق (Prerogative)ہے ، جبکہ اس کے برعکس فقہاء جہاد کو حکومت کا فریضہ قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے فریضے کو حق میں تبدیل کرنے سے پورا مفہوم اور مدعا ہی بدل جاتا ہے ۔

دوسری یہ کہ بعض استثنائی صورتیں ایسی ہیں جن میں یہ شرط ساقط ہوجاتی ہے ، یا تو اس وجہ سے کہ اس شرط پر عمل ممکن ہی نہیں رہ جاتا اور یا اس وجہ سے کہ اس شرط کا شرعی بدل موجود ہوتا ہے ۔ ان صورتوں کی کچھ وضاحت یہاں کی جاتی ہے ۔ 

اولاً: اچانک حملہ (Surprise Attack) اور حق دفاع شخصی (Right of Private Defense) 

اگر حملہ اچانک ہو اور مرکزی حکومت یا اس کے نائبین کے ساتھ رابطہ ممکن نہ ہو ، یا اس میں بہت سخت نقصان کا اندیشہ ہو تو پھر حملے کی زد میں آئے ہوئے لوگ خود ہی مدافعت کا فرض ادا کریں گے اور ان کے لیے حکومت یا کسی بھی شخص کی اجازت ضروری نہیں ہوگی ۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ایسی صورت میں دفاع کا فریضہ فرض عینی کی حیثیت حاصل کرلیتا ہے ، اور فرض عینی کی ادائیگی میں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔(۵۶) دوسرا سبب اس کا یہ ہے کہ ایسی صورت میں دفاع صرف فریضہ ہی نہیں بلکہ حق بھی ہوتا ہے ۔ اپنی جان ، مال اور عزت بچانا ہر شخص کا حق ہے اور حملہ آور کے خلاف اس کے حملے کو روکنے اور خطرہ دفع کرنے کے لیے طاقت کا استعمال بھی ہر انسان کا حق ہے ۔ اس لیے اس سلسلے میں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ (۵۷) اس کی ایک مثال حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کی کاروائی ہے جو انہوں نے اچانک حملہ کرنے والوں کے خلاف کی تھی اور جس کے لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موقع پر یا پیشگی اجازت نہیں لی تھی۔ (۵۸)

ثانیاً: حکومت کی خاموش تائید جو اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے :

بعض اوقات کسی فرد یا جتھے کو حکومت باقاعدہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ مخالفین کے خلاف فوجی کاروائی کرے ۔ تاہم حکومت کے مختلف اقدامات ، بلکہ بعض اوقات اس کی خاموشی بھی ، اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے ۔ اس اجمال کی تفصیل امام سرخسی نے یوں بیان کی ہے کہ مخالفین کے خلاف کاروائی کرنے والے چار طرح کے ہوسکتے ہیں: یا تو وہ ایک یا چند ہی افراد ہوں گے جو کچھ خاص فوجی اور سیاسی طاقت (منعۃ) نہ رکھتے ہوں ؛ یا وہ ایک مضبوط جتھے کی صورت میں جو منعۃ رکھتے ہوں کاروائی کریں گے ۔ پھر ہر دو صورتوں میں انہیں یا تو حکومت کی اجازت حاصل ہوگی یا نہیں ہوگی ۔ 

۱۔ پس اگر وہ چند ہی لوگ ہوں جو منعۃ نہ رکھتے ہوں اور انہیں حکومت کی اجازت بھی حاصل نہ ہو تو سرخسی کے الفاظ میں وہ گویا چوروں اور ڈاکووں کی طرح (علی سبیل التلصص) وہاں گئے ہیں ۔ اگر وہ وہاں پھنس جائیں تو مسلمانوں کی حکومت پر ان کی مدد واجب نہیں ہوگی اور اگر وہ کچھ مال حاصل کرلیں تو اسے مال غنیمت کی حیثیت بھی حاصل نہیں ہوگی ، کیونکہ مال غنیمت اس مال کو کہا جاتا ہے جو اعلاء کلمۃ اللہ کی راہ میں مل جائے اور جسے مقصود اصلی کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ 

۲۔ اگر وہ چند ہی لوگ ہوں اور انہیں حکومت نے اجازت دی ہو تو ان کی حیثیت حکومت کے نمائندوں یا جاسوسوں یا چھاپہ مار دستوں کی ہوگی۔ ان کی مدد بھی حکومت پر واجب ہوگی اور انہیں جو مال وغیرہ ملے، اس کی حیثیت مال غنیمت کی ہوگی۔ 

۳۔ اگر بہت سارے لوگ جو منعۃ بھی رکھتے ہوں حکومت کی اجازت سے دوسرے ملک میں کارروائی کریں تو ان کی حیثیت فوج کے مختلف دستوں کی ہوگی ۔ حکومت پر ان کی نصرت واجب ہوگی اور جو مال وہ حاصل کریں، وہ مال غنیمت متصور ہوگا ۔

۴۔ اگر بہت سارے لوگ جو منعۃ بھی رکھتے ہوں دوسرے ملک میں کاروائی کریں لیکن انہیں حکومت نے باقاعدہ صریح اجازت نہ دی ہو تب بھی قانوناً پوزیشن یہی ہوگی کہ ان کی حیثیت فوج کے مختلف دستوں کی ہوگی ۔ اس کی وجہ سرخسی نے یہ ذکر کی ہے کہ ایک مضبوط جتھا جو فوجی طاقت اور شوکت کا حامل ہو اور وہ کاروائی کے لیے اسلامی ملک سے کسی دوسرے ملک جاتا ہے تو یہ حکومت کے علم میں آئے بغیر نہیں ہوسکتا ، اور جب حکومت نے باوجود علم کے انہیں جانے دیا تو یہ اس کی جانب سے خاموش تائید ہے جو صریح اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے ۔ اس لیے حکومت پر ان کی نصرت بھی واجب ہوگی اور جو مال وہ حاصل کریں وہ مال غنیمت ہی متصور ہوگا ۔ (۵۹)

ہمارے نزدیک سرخسی کا یہ تجزیہ بالکل صحیح ہے اور اس کی روشنی میں جہادی تنظیموں کی صحیح حیثیت بہ آسانی متعین ہوجاتی ہے۔ جب حکومت نہ صرف یہ کہ لوگوں کو مسلح تنظیمیں بنانے کا موقع دیتی ہے ، بلکہ انہیں ہر قسم کی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے ۔۔۔ ان کی ٹریننگ ، ان تک اسلحہ کی فراہمی ، ان کو سرحد پار کاروائی میں مدد دینا اور پھر واپس آنے پر محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا، وغیرہ ۔۔۔جب ان میں سے ہر ہر مرحلہ حکومت کی تائید اور نگرانی میں طے پاتا ہو تو پھر صریح اجازت محض ایک کاغذی کاروائی (Formality) ہو جاتی ہے ۔اس کاغذی کاروائی کے بغیر بھی قانونی پوزیشن یہی ہوگی کہ ان مسلح تنظیموں کی کاروائیاں حکومت کی اجازت سے ہی متصور ہوں گی ۔

ثالثاً: اسلامی حکومت کی عدم موجودگی میں حق دفاع شخصی کے لیے منظم جدوجہد 

جیسا کہ پیچھے اشارہ کیاگیا ، کبھی کبھار شرط کی عدم موجودگی میں اس کا بدل اس کا قائم مقام بن جاتا ہے ۔ اس اصول پر اگر کبھی اسلامی ملک پر حملے کے نتیجے میں وہاں کی حکومت کا عملاً خاتمہ ہو جائے اور ابھی جنگ جاری ہو تو دفاع کا فریضہ ادا کرنے کے لیے کسی جگہ باقاعدہ نظمِ حکومت قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ مزاحمت کرنے والے آپس میں کسی کو امیر چن کر اس کی اطاعت کا اقرار کریں تو یہ حکومت کا بدل ہو جائے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت اور ریاست بذات خود مقصد نہیں ، بلکہ فریضۂ دفاع و اعلاء کلمۃ اللہ کے اچھے طریقے سے انجام دینے کے لیے ایک ذریعہ ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی ظالمانہ نظام سے آزادی چاہتے ہو تاکہ اپنے حقوق کا تحفظ کریں تو ان پر بھی ریاست و حکومت کے تحت لڑنے کی شرط لاگو نہیں ہوتی ، بلکہ وہ تو لڑیں گے ہی اس مقصد کے لیے کہ اپنی ریاست اور حکومت قائم کرسکیں ۔ یہ حق انہیں موجودہ بین الاقوامی قانون نے بھی دیا ہے اور شریعت نے بھی ۔ (۶۰)

امام سرخسی نے لکھا ہے کہ اگر کوئی غیرمسلم قوم مسلمانوں کے ملک پر حملہ کرے اور حملہ آور قوم کے ملک میں چند مسلمان عارضی یا مستقل طور پر مقیم ہوں تو ان پر جہاد کا فریضہ عائد نہیں ہوتا ۔ جہاد اور نصرت کا فریضہ اصلاً اسلامی ملک میں مقیم مسلمانوں پر ہی عائد ہوتا ہے ۔ یہ حکم اس وقت بھی ہوگا جب حملہ آور مسلمان مردوں کو قیدی بنائیں ۔تاہم اگر وہ مسلمان عورتوں اور بچوں کو قید کریں تو اب ان کا چھڑانا ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اس کے لیے جدوجہد کی استطاعت رکھتا ہو ، چاہے وہ اس غیر مسلم ملک میں بطور مستامن ہی مقیم ہو۔ ایسی صورت میں اگر وہ مسلح کاروائی کریں گے تو اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہوگا کہ وہ پہلے باقاعدہ حکومت قائم کریں ، بلکہ اتنا ہی کافی ہوگا کہ وہ منظم ہوکر امیر کی اطاعت میں جنگ کریں ۔ (۶۱)

جنیوا معاہدات کے تحت بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جس کمان کے تحت جنگجو جنگ میں حصہ لے رہے ہوں اس کمان کو لازماً ہی جنگ کے دوسرے فریق نے جائز تسلیم کیا ہو ، بلکہ صرف اس قدر ضروری ہے کہ کمانڈر اور جنگجو کے درمیان امیر اور مامور کا تعلق واضح طور پر موجود ہو ۔ چنانچہ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۴ الف کی ذیلی دفعہ ۲ کا کہنا ہے کہ مندرجہ ذیل لوگ بھی مقاتلین میں شمار ہوں گے اور گرفتار ہونے پر انہیں جنگی قیدی کی حیثیت حاصل ہوگی : 

Member of regular armed forces who profess allegiance to a government or authority not recognized by the Detaining Power. 
[ باقاعدہ فوج کے ارکان جو ایسی حکومت یا طاقت کے وفادار ہیں جسے قید کرنے والی طاقت نے تسلیم نہیں کیا ۔ ] 

اضافی پروٹوکول کی دفعہ ۴۳ میں اس اصول کو مزید وسعت دی گئی ہے اور غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو بھی باقاعدہ مقاتل تسلیم کیا گیا ہے : 

The armed forces of a Party to a conflict consist of all organized armed forces, groups and units, which are under a command responsible to that Party for the conduct of its subordinates, even if that Party is represented by a government or authority not recognized by an adverse Party. Such armed forces shall be subject to an internal disciplinary system which, inter alia, shall enforce compliance with the rules of international applicable in armed conflict. 
[ تصادم کے کسی فریق کے فوجیوں میں تمام منظم فوجی ، گروہ اور یونٹ شامل ہیں جو کسی ایسی کمان کے ماتحت ہیں جو اس فریق کے سامنے اپنے ماتحتوں کے افعال کے لیے جوابدہ ہے ، خواہ اس فریق کی نمائندگی ایسی حکومت یا طاقت کرے جسے مخالف فریق نے تسلیم نہیں کیا ۔ ایسے فوجی اندرونی طور پر ایک تنظیمی ڈھانچے میں بندھے ہوں گے جو دیگر امور کے علاوہ مسلح تصادم پر لاگو ہونے والے بین الاقوامی قانون کے ضابطوں کی پابندی کو یقینی بنائے گا ۔ ] 

ہم نے اوپر یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آزادی کی جنگ کو پہلے اضافی پروٹوکول نے ’’بین الاقوامی جنگ‘‘ قرار دیا گیا ہے حالانکہ ظاہر ہے کہ آزادی کے لیے لڑنے والوں کے امیر اور کمانڈر کو دوسرا فریق جائز تسلیم نہیں کرتا ، نہ ہی آزادی کے لیے لڑنے والے کسی ’’ریاست‘‘کی جانب سے لڑتے ہیں ۔ 

مزید برآں ، یہ بھی پیچھے ذکر کیا گیا کہ غیر ملکی حملے کی صورت میں عوامی سطح پر مزاحمت کرنے والے لوگ بھی مقاتل شمار ہوتے ہیں اگرچہ وہ باقاعدہ طور پر کسی کمان کے تحت منظم نہیں ہوئے ہوتے ۔ ایسے لوگوں کو اصطلاحی طور پر levee en masse کہاجاتا ہے ۔ 

کھلے عام ہتھیار لیے پھرنے کی شرط 

قتال میں حصہ لینے کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ حملہ کرنے والا حملے کے وقت واضح طور پر مسلح ہو ، وہ کھلے عام ہتھیار لیے پھرے ، اسے چھپا کر نہ رکھے ۔ یہ شرط بھی ، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، دھوکہ دہی کی ممانعت کا حصہ ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مقاتل اور غیر مقاتل میں تمیز ممکن ہو تاکہ غیر مقاتل کو مقاتل سمجھ کر اس پر حملہ نہ کیا جائے ، نہ ہی مقاتل خود کو غیر مقاتل ظاہر کرکے فریق مخالف کو دھوکہ دے ۔ بعض لوگوں نے اس شرط کو بھی شریعت سے متصادم قرار دیا ہے کیونکہ صحیح بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ غزوۂ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایات دیں، ان میں ایک یہ تھی : 

لا تسلوا السیوف حتی یغشوکم (۶۲)
[ تلوار نیام سے نہ نکالو جب تک وہ تم پر چھا نہ جائیں ۔ ] 

تاہم یہ موقف ہماری ناقص رائے میں صحیح نہیں ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہتھیار کھلے عام لیے پھرنے کی شرط کا یہ مطلب نہیں کہ مقاتل جنگ کے ہر مرحلے پر اور ہر لمحے ہتھیار ہاتھ میں اٹھائے رکھے ، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مقاتل غیر مقاتل سے ممیز ہو اور دھوکے کا احتمال نہ ہو ۔ باقی رہا میدان جنگ کا معاملہ ، جب فوجیں آمنے سامنے ہوں اور لڑائی جاری ہو تو چاہے لڑنے والا تلوار ہاتھ میں لیے رہے یا اسے نیام میں رکھے رہے ہر دو صورتیں جائز ہیں کیونکہ ہر دو صورتوں میں فریق مخالف کو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا لڑنے ہی کے لیے آرہا ہے ۔ البتہ اگر اس نے ہتھیار چھپا لیے اور ہاتھ بلند کرکے یہ تاثر دیا کہ وہ گرفتاری دے رہا ہے ، یا پناہ مانگ رہا ہے ، اور پھر مخالف فوجی کے قریب آنے پر اس پر حملہ کیا تو یہ دھوکہ دہی ہوگی جو بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے اور ، جیسا کہ ہم آگے ذکر کریں گے ، اسلامی قانون کے تحت بھی ناجائز ہے ۔ پس اگر جنگجو نے تلوار باندھ رکھی ہے تو یہ بات اس کے مسلح ہونے اور مقاتل ہونے کا کافی ثبوت ہے ، چاہے تلوار اس کے نیام میں ہو ، یا اس نے نیام سے نکال لی ہو ۔ 

اس بحث کی روشنی میں اس روایت پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت سے یہ استدلال بالکل غلط ہے کہ ہتھیار کھلے عام لیے پھرنے کی شرط اسلامی شریعت سے متصادم ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہدایت میدان جنگ میں اس وقت دی گئی جب فوجیں آمنے سامنے تھیں اور فریقین میں ہر ایک جانتا تھا کہ جو کوئی بھی سامنے ہے وہ قتال کے لیے آیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خود کو غیر مقاتل بنا کر پیش کرو ، پھر جب دشمن قریب آئے تو اچانک اس پر حملہ کرو۔ اس حکم کا مقصد یہ تھا کہ دور ہی سے تلوار لہراتے نہ جاؤ کیونکہ اس طرح تمہارا رعب باقی نہیں رہے گا ، بلکہ جب دشمن قریب آئے تو اچانک تلوار نکالو تاکہ اس کی چمک اور تیزی دیکھ کر دشمن کے دل پر دھاک بیٹھ جائے ۔ مزید برآں ، یہ کوئی دینی حکم نہیں تھا جس کی پابندی لازم ہو ، بلکہ یہ ایک جنگی چال تھی جو انسانی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو سکھائی ۔ چنانچہ اس روایت کی توضیح میں امام سرخسی کہتے ہیں : 

بیانہ أنہ لا ینبغی للغازی أن یسل سیفہ حتی یصیر من العدو بحیث تصل الیہ ضربتہ ، لا أن ذلک مکروہ فی الدین ، و لکنہ من مکایدۃ العدو ، فبریق السیف مخوف للعدو فی أول ما یقع بصرہ علیہ ( ۶۳) 
[اس کی وضاحت یہ ہے کہ غازی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ دور ہی سے تلوار سونت کر نکلے جبکہ ابھی اس کی تلوار کی ضرب اس کے دشمن تک نہ پہنچ سکتی ہو ۔ یہ حکم اس وجہ سے نہیں کہ ایسا کرنا دینی لحاظ سے ناپسندیدہ ہے ، بلکہ یہ دشمن کے خلاف ایک جنگی چال ہے ، کیونکہ جب دشمن کی نظر تلوار کی چمک پر پہلی دفعہ پڑتی ہے تو اس پر خوف طاری ہوجاتا ہے ۔ ] 

فصل پنجم : غدر کی ممانعت اور خدعہ کی اجازت 

اسلامی شریعت نے جنگ اور امن کی ہر صورت میں غدر اور عہد شکنی کی ممانعت کی ہے اور عہد کی پابندی کو لازم ٹھہرایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 

یٰایھا الذین آمنوا أوفوا بالعقود (سورۃ المآئدۃ ، آیت ۱ ) 
[ اے ایمان والو ! بندشوں کی پابندی کرو ۔ ] 

ایک اور جگہ فرمایا : 

و أوفوا بالعھد ، ان العھد کان مسؤلا ( سورۃ بنی اسرائیل ، آیت ) 
[ عہد کو پورا کرو ۔ بے شک عہد کی پابندی کے متعلق پوچھا جائے گا ۔ ] 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد معاہدوں کی خلاف ورزی کی سنگینی کو اچھی طرح واضح کرتا ہے : 

ألا، انہ ینصب لکل غادر لواء یوم القیمۃ بقدر غدرتہ ، و لا غدرۃ أعظم من غدرۃ امام عامۃ یرکز عند أستہ(۶۵) 
[ آگاہ رہو کہ عہد توڑنے والے ہر شخص کے لیے ایک علم ہوگا جو اس کی عہد شکنی کی مقدار کے برابر بلند ہوگا ۔ اور لوگوں کے حکمران کی عہد شکنی سے بڑی عہد شکنی کوئی نہیں ہے ۔ ] 

شریعت نے معاہدات کے متعلق یہ قاعدہ عامہ دیا : 

فی العھود و فاء ، لا غدر (۶۴) 
[ معاہدات کا پورا کرنا لازم ہے ، ان میں خیانت جائز نہیں ہے ۔ ] 

اس طرح کی نصوص کی وجہ سے فقہاء نے بالاتفاق قرار دیا ہے کہ جنگ میں بھی غدر کی اجازت نہیں ہے ، بلکہ فقہاء ان چالوں کو بھی ناجائز قرار دیتے ہیں جو صورۃً غدر ہوتی ہیں نہ کہ حقیقتاً ۔ (۶۶)

غدر کی ممانعت کے متوازی قاعدہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی چالوں کی اجازت دی ہے اور جنگ کو خدعۃ (چالبازی) کا نام دیا ۔ کیا خدعہ سے مراد یہ ہے کہ جنگ میں جھوٹ بولنا جائز ہے ؟ امام سرخسی اس روایت کی توضیح میں کہتے ہیں : 

و أخذ بعض العلماء بالظاھر فقالوا: یرخص فی الکذب فی ھذہ الحالۃ ۔ و استدلوا بحدیث أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن النبی ﷺ قال: لا یصلح الکذب الا فی ثلاث : فی الصلح بین اثنین ، و فی القتال ، و فی ارضاء الرجل أھلہ ۔ و المذھب عندنا : أنہ لیس المراد الکذب المحض ، فان ذلک لا رخصۃ فیہ ۔ و انما المراد : استعمال المعاریض ۔ و ھو نظیر ما روی أن ابراھیم صلوات اللہ و سلامہ علیہ کذب ثلاث کذبات ، و المراد أنہ تکلم بالمعاریض ، اذ الأنبیاء علیہم صلوات اللہ و سلامہ معصومون عن الکذب المحض ۔ و قال عمر رضی اللہ عنہ : ان فی المعاریض لمندوحۃ عن الکذب ۔ و تفسیرہذا ما ذکرہ محمد رحمہ اللہ فی الکتاب و ھو : أن یکلم من یبارزہ بشیء و لیس الأمر کما قال ، و لکنہ یضمر خلاف ما یظھرہ لہ (۶۷) 
[ بعض علما نے ظاہری معنی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ اس حالت میں جھوٹ بولنے کی رخصت ہے ، اور اس کے لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے استدلال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جھوٹ جائز نہیں مگر تین مواقع پر : دو افراد کے درمیان صلح کے لیے ، جنگ کے دوران میں اور کسی شخص کے اپنی بیوی کو منانے کے سلسلے میں۔ ہمارے نزدیک مذہب یہ ہے کہ یہاں مراد محض جھوٹ نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی رخصت نہیں ہے۔ ( وہ کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہے ۔ ) بلکہ مراد ہے ذو معنی الفاظ کا استعمال ۔ اس قسم کے استعمال کی مثال وہ روایت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام نے تین مواقع پر جھوٹ بولا ۔ اس روایت میں بھی مراد ذو معنی الفاظ کا استعمال ہے کیونکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام محض جھوٹ کے بولنے سے معصوم ہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : ذو معنی کلام کے ذریعے جھوٹ سے بچا جاسکتا ہے ۔ خدعہ کے لفظ کی تفسیر امام محمد رحمہ اللہ نے کتاب ( سیر کبیر ) میں یہ ذکر کی ہے کہ : جنگ کے لیے مد مقابل آنے والے سے کوئی بات کہی جائے جس سے وہ معاملے کو یوں سمجھ بیٹھے جیسے وہ حقیقت میں نہیں ہے ، لیکن یہ بولنے والا اس اصل حقیقت کو دل میں چھپائے رکھے ۔ ] 

آگے امام سرخسی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں : 

و کان من الخدعۃ أن یقول لأصحابہ قولاً لیری من سمعہ أن فیہ ظفراً ، أو أن فیہ أمراً یقوی أصحابہ و لیس الأمر کذلک حقیقۃً ، و لکن یتکلم علی وجہ لا یکون فیہ کاذباً فیہ ظاھراً (۶۸) 
[ خدعہ کی ایک مثال یہ ہے کہ امیر اپنے ساتھیوں سے ایسی بات کہے جس سے سننے والے کو یہ تاثر ملتا ہو کہ اس میں انہیں کامیابی نصیب ہوگی ، یا اس میں کچھ ایسی بات ہے جس سے اس کے ساتھیوں کو تقویت ملے گی ، حالانکہ درحقیقت ایسا نہ ہو ، لیکن شرط یہ ہے کہ ایسی بات وہ اس طرح کہے کہ اس میں اسے ظاہری طور پر جھوٹ نہ بولنا پڑے ۔ ] 

اس قسم کے قول کی مثال میں سرخسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا ذکر کرتے ہیں جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ جنت میں بوڑھیاں داخل نہیں ہوں گی ۔ اس پر ایک بوڑھی خاتون بہت زیادہ پریشان ہوئیں تو آپ نے وضاحت کی کہ جنت میں داخل ہونے والی خواتین دوبارہ جوان ہوں گی ۔ اسی طرح ایک اور طریقے کا ذکر سرخسی نے یوں کیا ہے : 

و من ھذا النوع أن یقید کلامہ بلعل و عسی ، فان ذلک بمنزلۃ الاستثناء ، یخرج بہ الکلام من أن یکون عزیمۃ (۶۹) 
[ اس کی ایک قسم یہ ہے کہ بات کو ’’ کیا خبر ؟ ‘‘ یا ’’ ممکن ہے ‘‘ جیسے الفاظ کے ساتھ مقید کرے ، کیونکہ ان الفاظ کی حیثیت استثنا کی ہے جس سے کلام عزیمت سے نکل جاتا ہے ۔ ] 

پھر اس کی مثال میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چال کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے غزوۂ خندق کے موقع پر چلی۔ جب بنی قریظہ نے مسلمانوں سے عہد شکنی کی اور قریش کے ساتھ ایکا کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا ۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا : 

فلعلنا نحن أمرناھم بھذا (۷۰) 
[ کیا خبر ہم ہی نے ان کو اس کا مشورہ دیا ہو ! ] 

ایک اور روایت کے بموجب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر کہی تھی جب بنی قریظہ نے قریش سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے کچھ افراد ان کے پاس بطور ضمانت چھوڑ دیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ قریش واپس مکہ چلے جائیں اور بنی قریظہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تنہا رہ جائیں۔ (۷۱) 

یہ بات جب قریش کے سپہ سالار ابو سفیان رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اس سے یہ تاثر لیا کہ بنی قریظہ قریش کا ساتھ دینے میں مخلص نہیں بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے کہنے پر قریش کا ساتھ دیا ہے ، یا وہ مسلمانوں کے کہنے پر قریش سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں کچھ افراد بطور ضمانت دیں ۔ اس طرح وہ بنی قریظہ سے بد ظن ہوگئے ۔ پھر ان کا آپس میں اختلاف اتنا بڑھا کہ ان کا اتحاد ٹوٹ گیا۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت یہ بات کہہ رہے تھے انہیں اندازہ تھا کہ یہ بات قریش تک پہنچائی جائے گی ۔ اس لیے انہوں نے ایسی ذو معنی بات کی ۔ اس موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بنی قریظہ کا معاملہ اتنا اہم نہیں ہے، لیکن آپ کی طرف جھوٹ کی نسبت کی جائے تو یہ بہت بڑی بات ہوگی ، یعنی اگر دشمن کل آپ کے متعلق کہیں کہ آپ نے تو ان سے جھوٹ کہا تھا تو یہ بہت بڑا الزام ہوگا ۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا : 

الحرب خدعۃ ، یا عمر! (۷۲)
[اے عمر ! جنگ چالبازی کو کہتے ہیں ۔ ] 

اسی طرح ایک اور اصطلاحی لفظ ’’ توریۃ‘‘ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ متکلم ایسا لفظ استعمال کرے جو فی نفسہ تو صحیح ہو مگر مخاطب اس سے کوئی دوسری بات مراد لے ۔ مثال کے طور پر روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی طرف لشکر کشی کرتے تو بالعموم لوگوں کو صحیح طور پر معلوم نہ ہوپاتا تھا کہ اصل منزل مقصود کیا ہے ۔ 

ان النبی ﷺ کان اذا أراد غزوۃ ورّی غیرھا ، و کان یقول : الحرب خدعۃ (۷۳) 
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی طرف لشکر کشی کا ارادہ کرتے تو اس کے بجائے کسی اور طرف کا تاثر دیتے اور کہتے تھے کہ جنگ چالبازی کا نام ہے ۔ ] 

اس قسم کی چال کی ایک مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت میں بھی ملتی ہے ۔ مکہ مکرمہ سے نکلنے کے بعد آپ نے سیدھا مدینہ مدینہ منورہ کی طرف رخ کرنے کے بجائے اس کے بالکل مخالف سمت میں غارثور کا رخ کیا ۔ کئی دن وہاں قیام کے بعد ایک لمبا چکر کاٹنے کے بعد آپ نے مدینہ منورہ کی راہ پر سفر شروع کیا تو اس وقت تک آپ کا پیچھا کرنے والوں کی سرگرمیاں ماند پڑ چکی تھیں ۔ 

جہاں تک ایسی چال کا تعلق ہے جس سے غدر ، عہد شکنی یا اعتماد شکنی لازم آتی ہو تو وہ جائز خدعہ میں شامل نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر اسلامی قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ اگر جنگ میں کسی ایک مسلمان غازی نے بھی مخالفین میں کسی کو امان دیا تو وہ شخص یا اشخاص حملے سے محفوظ ہوگئے ۔ اس کے بعد ان پر حملہ کرنا ناجائز ہوگا ۔ اب اگر کسی مسلمان نے لڑائی کے دوران میں مخالفین کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا اور زیر لب کہا کہ تم یہاں آؤ تو میں تمہیں قتل کردوں ، اور اس اشارے پر اعتماد کرتے ہوئے مخالفین مسلمانوں کی طرف آئے تو ان پر حملہ ناجائز ہوگا ۔ اشارہ کرنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو اس نے ایک چال چلی تھی کہ دشمن کسی طرح حملے کی زد میں آجائے ۔ پس یہ خدعہ نہیں بلکہ غدر ہے ۔ یہ اصول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس کی وضاحت میں امام سرخسی کہتے ہیں : 

لأنہ بالاشارۃ دعاہ الی نفسہ ، و انما یدعی بمثلہ الآمن لا الخائف ۔ و ما تکلم بہ : ان جئت قتلتک ، لا طریق للکافر الی معرفتہ بدون الاستکشاف منہ ۔ و لا یتمکن من ذلک قبل أن یقرب منہ ۔ فلا بد من اثبات الأمان بظاھر الاشارۃ ، و اسقاط ما وراء ذلک للتحرز عن الغدر (۷۴) 
[ کیونکہ اس نے اشارے سے اسے اپنی طرف بلایا ، اور اس طرح کے اشارے سے اس شخص کو بلایا جاتا ہے جو خوف سے محفوظ ہو ، نہ کہ اس کو جو خائف ہو ۔ اور اس نے جو بات کہی کہ : اگر تم میرے قریب آئے تو میں تمہیں قتل کردوں گا ، تو کافر کے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ اتنی دور سے اس بات کو سن اور سمجھ لے ، جب تک کہ وہ اس کے قریب نہ آئے ۔ پس غدر سے بچنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ظاہری اشارے سے امان کا اثبات کیا جائے اور اس کے علاوہ اس نے جو کچھ کہا اسے غیر مؤثر سمجھا جائے۔ ] 

آگے امام سرخسی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اس فعل کو غدر کیوں کہا جائے گا کہتے ہیں : 

فان ظاھر اشارتہ أمان لہ ، و قولہ : ان جئت قتلتک ، بمعنی النبذ لذلک الأمان۔ فما لم یعلم بالنبذ کان آمناً۔ (۷۵) 
[کیونکہ اس کا ظاہری اشارہ دوسرے فریق کے لیے امان ہے اور اس کا قول کہ ’ اگر تم میرے قریب آئے تو میں تمہیں قتل کردوں گا ‘ اس امان کے خاتمے کے مترادف ہے ۔ پس جب تک دوسرے فریق کو امان کے خاتمے کا علم نہ ہو اسے امان حاصل رہے گا ۔ ] 

اسی طرح یہ ناجائز ہے کہ کوئی مسلمان خود کو مسلمانوں کے سفیر کے طور پر پیش کرے اور پھر جب دوسرا فریق اس کی جانب سے مطمئن ہوکر اسے قریب آنے دے تو یہ اس پر حملہ کرے ۔ یہ کام ناجائز ہوگا خواہ یہ مسلمان درحقیقت سفیر ہو یا اس نے بطور جنگی چال خود کو سفیر بنا کر پیش کیا ہو ۔ یہ جنگی چال نہیں بلکہ غدر ہے ۔ امام شیبانی نے تصریح کی ہے : 

و لو أن رھطاً من المسلمین أتوا أول مسالح أھل الحرب فقالوا: نحن رسل الخلیفۃ ، و أخرجوا کتابا یشبہ کتاب الخلیفۃ ، أو لم یخرجوا ، و کان ذلک خدیعۃ منھم للمشرکین ، فقالوا لھم : ادخلوا ، فدخلوا دار الحرب ، فلیس یحل لھم قتل أحد من أھل الحرب ، و لا أخذ شیء من أموالھم ماداموا فی دارھم(۷۶) 
[ اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ دشمنوں کے پہلے مورچوں کی طرف آکر ان سے کہے کہ ہم اپنے حکمران کے سفیر ہیں ، پھر خواہ وہ سفارت کی دستاویز پیش کریں جو مسلمانوں کے حکمران کی دستاویز سے مشابہ ہو ، یا ایسی کوئی دستاویز پیش نہ کریں ، اور اس طرح وہ مشرکین کے ساتھ چال چل رہے ہوں (درحقیقت وہ سفیر نہ ہوں ) ، تو اگر مشرکین نے انہیں اپنے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی تو داخل ہونے کے بعد جب تک وہ ان کے علاقے میں ہوں گے ان کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ اس علاقے کے لوگوں میں کسی کو قتل کریں یا ان کا مال چھینیں۔] 

اس حکم کی وضاحت میں امام سرخسی نے جو کچھ کہا ہے اس کے لفظ لفظ پر ڈیرے ڈالنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس تشریح سے جو اہم قانونی اصول سامنے آتے ہیں ان سے عصر حاضر کی جنگی چالوں بالخصوص خود کش حملوں کے متعلق نہایت واضح رہنمائی حاصل ہوتی ہے : 

لأن ما أظھروہ لو کان حقاً کانوا فی أمان أھل الحرب ، و أھل الحرب فی أمان منھم أیضاً، لا یحل لھم أن یتعرضوا لھم بشیء ۔ ھو الحکم فی الرسل اذا دخلوا الیھم کما بینا، فکذلک اذا أظھروا ذلک من أنفسھم ، لأنہ لا طریق لھم الی الوقوف علی ما فی باطن الداخلین حقیقۃً ۔ و انما یبنی الحکم علی ما یظھرون، لوجوب التحرز عن الغدر ۔ و ھذا لما بینا أن أمر الأمان شدید ، والقلیل منہ یکفی ۔ فیجعل ما أظھروہ بمنزلۃ الاستئمان منھم ۔ و لو استأمنوا فأمنوھم وجب لھم أن یفوا لھم ۔ فکذلک اذا ظھر ما ھو دلیل الاستئمان (۷۷) 
[ کیونکہ جو کچھ انہوں نے ظاہر کیا ( کہ وہ سفیر ہیں ) اگر یہ حقیقت ہوتی تو وہ دشمن قوم کی جانب سے امان میں ہوتے اور دشمن قوم بھی ان کی جانب سے امان میں ہوتی کیونکہ ان مسلمانوں کے لیے جائز نہ ہوتا کہ دشمن کو کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان پہنچائیں ۔ سفیر جب ان کے علاقے میں داخل ہوں تو ان کے لیے حکم یہی ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے واضح کیا ہے ۔ پس یہی حکم اس صورت میں بھی ہوگا جب وہ خود کو سفیر ظاہر کریں کیونکہ جو کچھ ان داخل ہونے والوں کے دلوں میں چھپا ہوا ہے اسے جاننے کا کوئی ذریعہ دوسرے فریق کے پاس نہیں ہے ۔ پس حکم کا بنا ان کے ظاہر پر کیاجائے گا کیونکہ غدر سے بچنا واجب ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ، جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے ، کہ امان کا معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس کی خلاف ورزی کے لیے معمولی بات بھی کافی ہوتی ہے ۔ پس جو کچھ انہوں نے ظاہر کیا اس کے متعلق کہا جائے گا کہ یہ گویا انہوں نے دوسرے فریق سے امان طلب کیا ۔ پس اگر ان کے امان طلب کرنے پر وہ انہیں امان دیتے تو ان کے لیے لازم ہوتا کہ اس کی پابندی کرتے ( اور ان پر حملہ نہ کرتے)۔ پس یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب ان کی جانب سے ایسا طرز عمل سامنے آیا جو امان طلب کرنے کے برابر ہے ۔ ] 

انہی اصولوں پر آگے امام شیبانی نے قرار دیا ہے کہ اگر مسلمان تاجر کے روپ میں جا کر انہیں یہ تاثر دیں کہ وہ تو لڑنے نہیں آئے تو ان کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ وہ ان پر حملہ کریں ۔اس کی تشریح میں امام سرخسی کہتے ہیں : 

لأنھم لو کانوا تجاراً حقیقۃً کما أظھروا لم یحل لھم أن یغدروا بأھل الحرب ۔ فکذلک اذا أظھروا ذلک لھم۔ ( ۷۸) 
[ کیونکہ اگر وہ درحقیقت تاجر ہوتے ، جیسا کہ انہوں نے ظاہر کیا ، تو ان کے لیے جائز نہ ہوتا کہ دشمن قوم کے ساتھ غدر کرتے ۔ پس یہ حکم اس صورت میں بھی ہوگا جب انہوں نے خود کو تاجر ظاہر کیا ۔ ] 

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس قسم کا حملہ تبھی غدر میں شمار ہوگا اور ناجائز ہوگا جب مسلمان اپنے قول یا فعل سے اپنا ارادہ یہ ظاہر کریں کہ وہ ان سے امان چاہتے ہیں ۔ اگر مسلمانوں نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ مخالفین نے از خود ان کو بے ضرر سمجھ کر ان کو نظر انداز کیا تو مسلمانوں کے لیے جائز ہوگا کہ ان پر حملہ کریں کیونکہ جب انہوں نے امان طلب نہیں کیا ، نہ ہی قول سے نہ فعل سے ، تو ان کی جانب سے حملے کو غدر بھی نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ چنانچہ امام شیبانی ایسے مسلمان قیدیوں کے متعلق، جنہیں دشمن آزاد کردے ، کہتے ہیں : 

ولو أن رھطاً من المسلمین کانوا أسراء فی أیدیھم فخلوا سبیلھم ، لم أر بأساً أن یقتلوا من أحبوا منھم ، و یأخذوا أموالھم ، و یھربوا ان قدروا علی ذلک (۷۹) 
[ اگر مسلمانوں کے کچھ لوگ ان کے قبضے میں قید ہو ں اور وہ انہیں رہا کردیں تو مجھے اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی کہ وہ ان میں جسے چاہیں قتل کریں ، ان کا مال چھینیں اور اگر ہوسکے تو وہاں سے فرار ہوں ۔ ] 

اس کی وجہ یہ ہے کہ دشمن کو معلوم تھا کہ یہ جنگجو تھے ، اسی لیے تو اس نے ان کو قید کیا تھا ۔ چنانچہ قید میں آنے سے پہلے ان کے لیے جائز تھا کہ دشمن پر حملہ کرتے اور قید میں آنے کے بعد انہوں نے اپنے قول یا طرز عمل سے ایسا کو ئی ارادہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ دشمن پر حملہ نہیں کریں گے ۔ گویا انہوں نے صراحتاً یا دلالۃً امان طلب نہیں کیا ۔ امام سرخسی کہتے ہیں : 

لأنھم کانوا مقھورین فی أیدیھم ، و قبل أن یخلوا سبیلھم لو قدروا علی شیء من ذلک کانوا متمکنین منہ ۔ فکذلک بعد تخلیۃ سبیلھم ، لأنھم ما أظھروا من أنفسھم ما یکون دلیل الاستئمان ۔ و ما خلوھم علی سبیل اعطاء الأمان ، بل علی وجہ قلۃ المبالاۃ و الالتفات الیھم (۸۰) 
[ کیونکہ وہ ان کے قبضے میں بالکل بے بس تھے ، اور رہائی سے پہلے اگر وہ اس طرح کے کسی کام پر قادر ہوتے تو اس کا کرنا ان کے لیے جائز ہوتا۔ پس یہ حکم ان کے رہا ہونے کے بعد بھی ہے کیونکہ ان قیدیوں نے اپنی جانب سے ایسا کچھ ظاہر نہیں کیا جسے امان طلب کرنے کی دلیل سمجھا جائے ۔ اور انہوں نے انہیں اس وجہ سے رہا نہیں کیا کہ وہ انہیں امان دے رہے تھے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے ان کو حقیر سمجھا اور ان کو نظر انداز کردیا ۔ ] 

اگر دشمن ان قیدیوں کو خاموشی سے رہا کرنے کے بجائے ان سے کہے کہ ہم نے تمہیں امان دیا ، پس جہاں چاہو جاؤ ، اور یہ قیدی اس کے جواب میں خاموش رہیں ، تب بھی ان کے لیے دشمن پر حملہ جائز ہوگا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیدیوں نے امان طلب نہیں کیا ، نہ ہی دشمن کو اطمینان دلایا ہے کہ وہ ان پر حملہ نہیں کریں گے ، بلکہ جو کچھ بھی کیا ہے دشمن نے اپنی جانب سے کیا ہے ۔ 

و قول أھل الحرب لا یلزمھم شیئا لم یلتزموہ (۸۱) 
[اور دشمن قوم کا قول ان قیدیوں پر ایسی کوئی بات لازم نہیں کرتا جس کی ذمہ داری انہوں نے اپنے اوپر نہ لی ہو ۔ ] 

البتہ اگر مسلمان اپنے علاقے سے دشمن کے علاقے میں داخل ہورہے ہوں اور دشمن نے ان سے کہا کہ ہم نے تمہیں امان دیا ، پس جہاں چاہو جاؤ ، تو ان مسلمانوں کے لیے ناجائز ہوگا کہ وہ ان پر حملہ کریں خواہ دشمن کے اس قول کے جواب میں خاموش ہی کیوں نہ رہے ہوں ۔ ان دونوں حالات میں فرق کی وضاحت کرتے ہوئے امام سرخسی کہتے ہیں : 

لأن ھناک جاء وا عن اختیار مجئ المستأمنین ، فانھم حین ظھروا لأھل الحرب فی موضع لا یکونون ممتنعین منھم بالقوۃ ، فکأنھم استأمنوھم و ان لم یتکلموا بہ ۔ و أما الأسراء فحصلوا فی دارھم مقھورین لا عن اختیار منھم ۔ فلا بد للاستئمان من قول او فعل یدل علیہ (۸۲) 
[ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں وہ اپنے اختیار سے چل کر امان طلب کرنے والوں کی طرح آئے کیونکہ جب وہ ایسے مقام پر دشمن کے سامنے ظاہر ہوئے جہاں وہ قوت کے ذریعے دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے تو گویا انہوں نے امان طلب کیا خواہ انہوں نے امان کی بات نہ کہی ہو ۔ اس کے برعکس قیدی تو دشمن کے علاقے میں بغیر اپنے اختیار کے بے بس پائے گئے۔ چنانچہ ان کی جانب امان طلب کرنے کی نسبت کے لیے ضروری ہے کہ ان کی جانب سے کوئی قول یا فعل ایسا پایا جائے جو امان طلب کرنے پر دلالت کرے ۔ ] 

پس اگر ان قیدیوں کی جانب سے ایسا قول یا فعل پایا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امان طلب کررہے ہیں تو پھر ان کے لیے بھی حکم یہی ہوگا کہ وہ دشمن پر حملہ نہیں کرسکتے ۔ امام شیبانی قرار دیتے ہیں : 

و لو أن قوماً منھم لقوا الأسراء فقالوا : من أنتم ؟ فقالوا : نحن قوم تجار دخلنا بأمان من أصحابکم ، أو قالوا : نحن رسل الخلیفۃ ، فلیس ینبغی لھم بعد ھذا أن یقتلوا أحداً منھم (۸۳) 
[ اور اگر ان میں سے کچھ لوگ قیدیوں سے ملے اور ان سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ تو اس کے جواب میں اگر انہوں نے کہا کہ ہم تاجر ہیں جو تمہارے ساتھیوں سے امان لے کر تمہارے ہاں آئے ہیں ، یا یہ کہا کہ ہم اپنے حکمران کے سفیر ہیں ، تو ایسی صورت میں ان کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ اس کے بعد وہ ان میں کسی کو قتل کریں ۔ ] 

اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح بین الاقوامی قانون نے اس قسم کے حملوں کو Perfidy قرار دے کر جنگی جرم قرار دیا ہے اسی طرح اسلامی قانون کی رو سے بھی اس قسم کے حملے قطعی طور پر ناجائز ہیں اور ان کو جائز جنگی چال قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اگر اسلامی قانون نے اس قسم کے حملوں کو ناجائز نہ قرار دیا ہوتا تب بھی مسلمانوں کے لیے یہ حملے ناجائز ہوتے کیونکہ ان حملوں کو جنیوا معاہدات کے ذریعے ناجائز قرار دیا گیا ہے اور ، جیسا کہ اوپر تفصیل سے واضح کیا گیا ، آداب القتال کے لیے کیے گئے اس طرح کے معاہدات کی پابندی مسلمانوں پر لازم ہے ۔ تاہم یہاں امام شیبانی کی تصریحات اور امام سرخسی کی توضیحات سے معلوم ہوا کہ اصلاً بھی اسلامی قانون کا اس معاملے میں موقف وہی ہے جو بین الاقوامی قانون کا ہے۔ بلکہ بسا اوقات کوئی چال بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہو تب بھی اسلامی قانون کے تحت وہ ناجائز ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر دشمن کو اپنی پوزیشن یا حملے کے ارادے کے متعلق غلط فہمی میں مبتلا رکھنا بین الاقوامی قانون اور اسلامی قانون دونوں کی رو سے جائز جنگی چال ہے ۔ البتہ بین الاقوامی قانون کی رو سے دشمن کو غلط اطلاع دینا (Misinformation) جائز ہے اور اسلامی قانون کی رو سے یہ صرف اس صورت میں جائز ہوسکتا ہے جب اس کے لیے جھوٹ نہ بولنا پڑے ۔ 

فصل ششم : خود کش حملوں کی شرعی حیثیت 

اوپر ہم نے ذکر کیا تھا کہ اگر خود کش حملوں میں چار شرائط پوری کی جائیں تو ان کو بین الاقوامی قانون کی رو سے ناجائز نہیں کہا جائے گا : 

اولاً : یہ کہ حملہ مسلح تصادم کے دوران میں کیا جائے ، نہ کہ حالت امن میں ۔ 

ثانیاً : یہ کہ حملہ کرنے والا مقاتل ہو ۔ 

ثالثاً : یہ کہ حملے کا ہدف فریق مخالف کے مقاتلین ہوں ۔ 

رابعاً : یہ کہ حملے میں ایسا طریقہ یا ہتھیار استعمال نہ کیا جائے جو قانوناً ناجائز ہو ۔ 

اسلامی شریعت کی رو سے بھی ان شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے ، ایک تو اس وجہ سے بین الاقوامی معاہدات اور عرف کی پابندی اسلامی شریعت کی رو سے بھی ضروری ہے ، اور دوسرے اس وجہ سے کہ یہ شرائط خود اسلامی شریعت نے بھی مقرر کی ہیں۔ چنانچہ ہم نے اوپر تفصیل سے ذکر کیا کہ مقاتل کی حیثیت حاصل کرنے کے لیے جو چار شرائط بین الاقوامی قانون نے مقرر کی ہیں ( ذمہ دار کمان کے ماتحت ہونا ، امتیازی لباس کا استعمال کرنا ، واضح طور پر ہتھیار سے مسلح ہونا اور آداب القتال کی پابندی کرنا ) یہ سب شرائط اسلامی قانون نے بھی مقرر کی ہیں ۔ اسی طرح اسلامی شریعت نے لازم ٹھہرایا ہے کہ حملے کا ہدف مقاتلین تک ہی محدود ہو اور حتی الامکان کوشش کی جائے کہ غیر مقاتلین ہدف نہ بنیں ۔ بعینہ اسی طرح بعض ہتھیاروں کا استعمال شریعت نے از خود ناجائز ٹھہرایا ہے اور بعض کو اس وجہ سے ناجائز قرار دیا جائے گا کہ ان کو بین الاقوامی قانون نے ناجائز ٹھہرایا ہے اور بین الاقوامی قانون کی پابندی اصولاً لازم ہے ۔ مثال کے طور پر شریعت نے غیر مقاتلین کو ہدف بنانا ناجائز قرار دیا ہے ۔ پس ایسے ہتھیاروں کا استعمال ناجائز ہوگا جن کا اثر مقاتلین تک ہی محدود نہ رہے بلکہ غیر مقاتلین بھی اس کی زد میں آئیں ، جیسے کیمیائی و جراثیمی ہتھیار یا ایٹمی ہتھیار ۔ اسی طرح شریعت نے مثلہ حرام ٹھہرایا ہے اور ، جیسا کہ امام شیبانی اور امام سرخسی نے تصریح کی ہے ، شریعت کی رو سے باؤلے کتے کا مثلہ بھی حرام ہے ۔ (۸۴) اس لیے ایسے ہتھیاروں کا استعمال بھی اصولاً ناجائز ہوگا جس سے لاشوں کا مثلہ لازم آتا ہو ۔ مثال کے طور پر کسی بھی قسم کے بم کے استعمال کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ لاشوں کے ٹکڑے بکھر کر ادھر ادھر منتشر ہوجائیں ۔ اس لیے اصولاً کسی بھی قسم کے حملے میں کسی بھی قسم کا بم استعمال کرنا ناجائز ہے ۔ اس کا جواز صرف اضطرار کے قاعدے ہی کے تحت پایا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی واضح ہے کہ حالت اضطرار کی اپنی پابندیاں اور حدود ہیں جن کی پابندی لازم ہے ۔ اسی طرح شریعت کی رو سے یہ ناجائز ہے کہ کوئی شخص خود کو غیر مقاتل ظاہر کرکے فریق مخالف کو اعتماد میں لے اور پھر غدر کرتے ہوئے اس پر حملہ کرے ۔ 

البتہ جو پہلی شرط ہے کہ حملہ مسلح تصادم کے دوران میں کیا جائے ، نہ کہ حالت امن میں تو اس کی کچھ وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے ۔ عام طور پر خود کش حملوں کے جواز کے لیے فقہ کے جس جزئیے سے استدلال کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ فقہا نے اسے جائز ٹھہرایا ہے کہ کوئی غازی تنہا دشمنوں کی صفوں میں گھس جائے اگر اسے یقین ہو کہ اس طرح کے حملے سے وہ دشمن کو شدید نقصان پہنچائے گا ، یا اس طرح وہ دشمن کو مرعوب کردے گا ۔ امام شیبانی کہتے ہیں : 

لا بأس بأن یحمل الرجل وحدہ و ان ظن أنہ یقتل ، اذا کان یری أنہ یصنع شیئاً یقتل او یجرح أو یھزم (۸۵) 
[ اس میں کوئی حرج نہیں کہ تنہا ایک آدمی دشمن پر حملہ کرے خواہ اس کا گمان ہو کہ اسے قتل کردیا جائے گا ، بشرطیکہ اس کی رائے یہ ہو کہ وہ کچھ بڑا کام کرلے گا دشمن کو قتل کرکے ، یا زخمی کرکے ، یا پسپا کرکے ۔ ] 

اس کی تشریح میں امام سرخسی کہتے ہیں : 

فقد فعل ذلک جماعۃ من الصحابۃ بین یدی رسول اللہ ﷺ یوم أحد ، ومدحھم علی ذلک (۸۶) 
[ کیونکہ ایسا کام بہت سے صحابہ نے احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا اور آپ نے ان کی تعریف کی ۔ ] 

تاہم اس جزئیے پر معمولی غور سے بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ حکم اس موقع کے لیے ہے جب دو فوجیں جنگ کر رہی ہوں یا جنگ کرنے والی ہوں اور ہر فریق دوسرے کے متعلق جانتا ہے کہ وہ مقاتل ہے اور اس پر حملہ کرنے کے لیے آیا ہے ۔ پس بدیہی طور پر یہ شرط بھی شریعت نے مقرر کی ہے کہ اس قسم کے حملے جنگ کے دوران میں بطور مقاتل کیے جائیں ، نہ کہ غیرمقاتل کے بھیس میں ۔ اس کے برعکس خود کش حملوں میں ہوتا یہ ہے کہ حملہ آور بالعموم غیر مقاتل کے بھیس میں آکر اس گروہ کے بیچ میں پہنچ جاتا ہے جسے وہ ہدف بنانا چاہتا ہے ۔ واضح رہے کہ اس جزئیے سے خود کش حملوں کے جواز کے لیے استدلال بالکل باطل ہے ، جیسا کہ ہم آگے واضح کریں گے ۔ 

خود کشی یا شہادت؟ 

اوپر ہم نے ذکر کیا تھا کہ خود کش حملوں کے جواز پر جب شریعت کی روشنی میں بحث کی جاتی ہے تو بعض ایسے سوالات کا جواب بھی دینا پڑتا ہے جن کی کوئی اہمیت بین الاقوامی قانون برائے آداب القتال کی رو سے نہیں ہوتی ۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی قانون کی رو سے اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ اس طرح کے حملوں میں حملہ آور خود کو ہلاک کرنے کا باعث بنتا ہے ، یا بہ الفاظ دیگر خود کشی کرتا ہے ، تو کیا اس کا یہ فعل جائز ہے ؟ تاہم اسلامی شریعت کی روشنی میں یہ سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت نے خود کشی کو بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے اور اس پر بڑی سخت وعید کا اعلان کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : 

من قتل نفسہ بحدیدۃ فحدیدتہ فی یدہ یجأ بھا نفسہ فی نار جھنم خالداً مخلداً ۔ و من تردی من موضع فھو یتردی فی نار جھنم خالداً مخلداً ۔ و من شرب سماً فمات فھو یشربھا فی نار جھنم خالداً مخلداً ۔ (۸۷) 
[ جس نے اپنے آپ کو لوہے کے ذریعے قتل کیا تو وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اس لوہے کو اپنے جسم میں گھونپتا رہے گا ۔ اور جس نے کسی بلند جگہ سے چھلانگ لگائی تو جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھلانگ لگاتا رہے گا ۔ اور جس نے زہر پی کر خود ہلاک کیا تو اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسے پیتا رہے گا ۔ ] 

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے حملوں میں اپنی زندگی ختم کرنے والا حملہ آور شہید ہوگا یا اسے خود کشی کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا ؟ اس سلسلے میں اولین بات تو یہ ہے کہ اوپر مذکور جزئیے سے خود کش حملوں کے جواز کے لیے استدلال ناجائز ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خود کش حملہ آور بھی ان صحابۂ کرام کی طرح دشمنوں کی صف میں گھس کر ان میں بہت سوں کو قتل کردیتا ہے اور اس حملے کے نتیجے میں خود بھی قتل ہوجاتا ہے ۔ 

اس کی ایک وجہ تو اوپر ذکر کی گئی کہ صحابۂ کرام کے ان حملوں میں غدر کا شائبہ بھی نہیں تھا کیونکہ وہ جنگ کے دوران میں اس طرح کا حملہ کرتے تھے، جبکہ خود کش حملہ آور بالعموم اس طرح کا حملہ غیر مقاتل کے بھیس میں کرتا ہے جو غدر ہے اور حرام ہے ۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ دشمن کی صفوں میں تنہا مجاہد کے گھسنے کے نتیجے میں مجاہد کا قتل ہونا یقینی نہیں بلکہ محض ایک امکان کے طور پر ہوتا ہے اور اسے اس لیے جائز قرار دیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں دشمن کو سخت مادی یا نفسیاتی نقصان پہنچتا ہے ۔ چنانچہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اگر اس طرح کے حملے میں دشمن کو مادی یا نفسیاتی نقصان نہ پہنچتا ہو تو پھر اس قسم کا حملہ ناجائز ہے کیونکہ یہ خود کشی کے مترادف ہے ۔ امام شیبانی کہتے ہیں : 

فأما اذا کان یعلم أنہ لا ینکی فیھم فانہ لا یحل لہ أن یحمل علیھم (۸۸) 
[ اگر وہ جانتا ہو کہ اس طرح دشمن کے حوصلے پست نہیں کرسکے گا تو اس کے لیے جائز نہیں کہ ان پر اس طرح تنہا حملہ کرے ۔ ] 

اس کی تشریح میں امام سرخسی کہتے ہیں : 

لأنہ لا یحصل بحملتہ شیء مما یرجع الی اعزاز الدین ، ولکنہ یقتل فقط ، وقد قال اللہ تعالیٰ : و لا تقتلوا أنفسکم (۸۹) 
[ کیونکہ اس کے اس حملے سے کوئی ایسا نتیجہ برآمد نہیں ہوتا جس سے دین کو سرفرازی حاصل ہو ، بلکہ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ وہ قتل کردیا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے : ’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو ۔ ‘‘] 

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اس قسم کے حملے میں مجاہد کے قتل ہونے کا صرف امکان ہی ہوتا ہے پھر بھی فقہاء اس حملہ آور کو اپنے قتل کا ذمہ دار گردانتے ہیں تو اس صورت میں جبکہ حملہ آور کا قتل ہونا یقینی ہوتا ہے ، بلکہ جب دشمن کی موت کے لیے ضروری ہو کہ حملہ آور خود کو قتل کردے ، تو اسے کیسے خود کشی قرار نہیں دیا جائے گا ؟ 

تیسری وجہ ، جو قانونی لحاظ سے زیادہ اہم ہے ، یہ ہے کہ جب مجاہد دشمن کی صفوں میں گھس کر ان کو قتل اور زخمی کرنے لگتا ہے اور پھر دشمن کے حملے کے نتیجے میں وہ قتل ہوجاتا ہے تو درحقیقت اس کے قتل کا باعث دشمن کا فعل بنا ہے ۔ اس کے برعکس خود کش حملے میں حملہ آور کی موت کا باعث خود اس کا اپنافعل ہوتا ہے ۔ فقہاء نے قرار دیا ہے کہ اگر جنگ کے دوران میں حملہ آور نے دشمن پر تلوار چلائی اور غلطی سے وہ تلوار خود اس حملہ آور کو ہی لگ گئی جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی تو ایسا شخص ، خواہ آخرت کے احکام کے لحاظ سے شہید ہو ، دنیوی احکام کے لحاظ سے شہید نہیں کہلائے گا کیونکہ اس کے قتل کا باعث اس کا اپنا فعل بنا ہے ۔ امام سرخسی کہتے ہیں : 

فأما من ابتلی بھذا فی الدنیا یغسل و یکفن و یصلی علیہ ، لأن الشہید الذی لا یغسل من یصیر مقتولا بفعل مضاف الی العدو ، و ھذا صار مقتولا بفعل نفسہ و لکنہ معذور فی ذلک ، لأنہ قصد العدو لا نفسہ ، فیکون شہیداً فی حکم الآخرۃ ، و یصنع بہ ما یصنع بالمیت فی الدنیا ۔ (۹۰) 
[ البتہ جس پر اس قسم کی آزمائش آئی تو دنیا میں اس کے لیے حکم یہ ہے کہ ( شہید کے برعکس) اسے غسل دیا جائے گا ، اسے کفن پہنایا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حکم کہ اسے غسل نہیں دیا جاتا ( اور کفن نہیں پہنایا جاتا ) اس شہید کے لیے ہے جو کسی ایسے فعل سے قتل ہوجائے جسے دشمن کی طرف منسوب کیا جاسکے ، جبکہ یہ شخص خود اپنے فعل کے نتیجے میں قتل ہوا ۔ تاہم چونکہ وہ اس معاملے میں معذور تھا کہ اس نے دشمن کے قتل کا ارادہ کیا تھا نہ کہ اپنے آپ کو قتل کرنے کا ، اس لیے آخرت کے احکام میں وہ شہید ہوگا ۔ اور دنیا میں اس کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے گا جو عام میت کے ساتھ دنیا میں کیا جاتا ہے ۔ ] 

پس جب مجاہد دشمن پر حملہ کرتے ہوئے غلطی سے خود کو زخمی کرلے اور اس زخم سے اس کی موت واقع ہوجائے تو اسے آخرت کے احکام کے لحاظ سے تو شہید کہا جائے گا لیکن اس پر شہید کے دنیوی احکام کا اطلاق نہیں ہوگا ۔ جو شخص قصداً اپنی موت کا باعث بنے ظاہر ہے کہ اس پر شہید کے دنیوی کا احکام کا اطلاق تو قطعاً نا ممکن ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسے آخرت کے احکام کے لحاظ سے شہید کہا جاسکے گا ؟ قرآن و سنت کے نصوص اور فقہاء کی تشریحات کی روشنی میں ہماری ناقص رائے تو یہ ہے و اللہ اعلم کہ ایسا شخص آخرت کے احکام کے لحاظ سے بھی شہید نہیں کہلا سکتا کیونکہ اپنے قتل کا آپ باعث بن کر وہ شریعت کے ایک بنیادی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ غزوۂ خیبر کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حملہ روک دینے کا حکم دیا تو اس کے بعد آپ کو اطلاع ملی کہ فلاں شخص شہید کیا گیا ۔ جب پوچھنے پر آپ کو معلوم ہوا کہ اسے حملے کی ممانعت کے کے حکم کے بعد قتل کیا گیا تو آپ نے فرمایا : 

ان الجنۃ لا تحل لعاص (۹۱) 
[ یقیناًجنت میں نافرمان داخل نہیں ہوسکتا۔ ] 

ایک وقتی حکم کی مخالفت پر اتنی سخت وعید سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ ایک ابدی حکم کی مخالفت کرنے والا خود کو کتنی بڑی سزا کا مستحق بناتا ہے ! و العیاذ باللہ ۔ 

خود کش حملے اور مسلمانوں کا قتل ناحق 

قرآن و سنت میں جن کاموں پر انتہائی سخت وعید آئی ہے ان میں ایک مسلمان کا قتل بھی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 

وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً ( سورۃ النسآء ، آیت ۹۳ ) 
[اور جو کوئی کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اور پر خدا کا غضب اور اس کی لعنت ہے ، اور اللہ نے اس کے لیے ایک عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے ۔ ]

اہل سنت کا عام اصول یہ ہے کہ وہ کسی بھی کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر نہیں ٹھہراتے ۔ اس لیے اس قسم کی آیات اور احادیث کے متعلق ، جن میں کسی گناہ کی سزا میں خلود فی النار کی وعید آئی ہو ، ان کی تاویل یہ ہوتی ہے کہ یہ سزا اس شخص کے لیے ہے جو اس حرام کو حلال قرار دیتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے اور ظاہر ہے کہ حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے ۔ ایک اور تاویل یہ پیش کی جاتی ہے کہ یہاں خلود فی النار سے مراد جہنم میں طویل مدت کے لیے رہنا ہے ۔ اہل سنت کے اصول کی صحت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اس بات کی نشاندہی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ اس آیت کریمہ میں صرف خلود فی النار کی سزا ہی ذکر نہیں ہوئی بلکہ اس کے علاوہ چار دیگر سزائیں بھی ذکر کی گئی ہیں : 

۱۔ یہ کہ اس کا بدلہ جہنم ہے ۔ 

۲ ۔ یہ کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے غضب کیا ۔ 

۳ ۔ یہ کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ۔ 

۴ ۔ یہ کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے شدید عذاب تیار کیا ہے ۔ 

خلود فی النار کی سزا کی طرح یہ چار سزائیں بھی قرآن کریم میں صرف کفار ۔ بلکہ یہود ، نصاری ، مشرکین اور منافقین میں بد ترین کفار ۔ کے لیے آئی ہیں ۔ اس لیے ہماری ناقص رائے میں آیت کا مقتضا یہ ہے کہ مسلمان کا قتل عمد (Cold Blooded Murder) کوئی ایسا شخص کر ہی نہیں سکتا جس کے دل میں ایمان کی ذرا سی بھی رمق باقی ہو ۔ 

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَئاً ( سورۃ النسآء ، آیت ۹۲) 
[ یہ کسی مومن کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے ۔ ] 

بہ الفاظ دیگر، مسلمان کا قتل عمد کرتے وقت ایمان اس میں سے نکل جاتا ہے ۔ البتہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ وہ سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرما کر یہ گناہ معاف کرسکتا ہے ، بلکہ جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے وہ سو آدمیوں کے قاتل کو بھی معاف کرسکتا ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ توبہ سے دنیوی سزا ساقط نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ مقتول خود موت سے قبل یا اس کی موت کے بعد اس کے اولیاء الدم قاتل کو معاف کردیں یا اس کے ساتھ صلح کرلیں ۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ دنیوی سزا قاتل کو مل بھی جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے لازماً ہی آخرت کی سزا ساقط ہوگئی ، بلکہ آخرت کی سزا کا تعلق توبہ سے ہے ۔ نیز چونکہ قتل اللہ تعالیٰ کے حق کے علاوہ بندے کے حق پر بھی اعتدا ہے اس لیے آخرت کی سزا کی معافی کے لیے بھی مقتول کی رضامندی ضروری ہے ۔ چنانچہ احادیث میں آیا ہے کہ جس قاتل نے سچے دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کے مقتول کو جنت میں اعلی مقامات اور انعامات سے سرفراز کرکے اسے اس کا قائل کردے گا کہ وہ اپنے قاتل کو معاف کردے ۔ 

قتل مومن کا معاملہ انتہائی حد تک سنگین معاملہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جہاد کے دوران میں خصوصاً اس بات کا حکم دیا کہ مسلمان حملے کے دوران میں خصوصی احتیاطی اقدامات اٹھائیں تاکہ حملے کی زد میں کوئی مسلمان نہ آجائے، بلکہ اگر کسی کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے تو وہ حملے سے محفوظ سمجھا جائے اور اس کے متعلق یہ نہ کہا جائے کہ وہ مسلمان نہیں ہے: 

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَتَبَیَّنُواْ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً ( سورۃ النسآء ، آیت ۹۴ ) 
[اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو اور جو تمہیں سلام کرے اس کو یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے۔ ] 

چنانچہ شریعت کے مقتضیات کو سمجھتے ہوئے فقہا نے قرار دیا ہے کہ جہاد کے دوران میں بھی کسی مسلمان کا قتل عمد جائز نہیں ہے ، بلکہ انہوں نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر کفار کے کسی قلعے کو فتح کرنے کے بعد ان کے تمام لوگوں کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا جائے، لیکن یہ معلوم ہوا ہو کہ اس قلعے میں کوئی شخص مسلمان بھی ہے تو جب تک اس ایک مسلمان کا علم نہ ہو جائے کہ وہ کون ہے ، تب تک اس قلعے میں کسی ایک شخص کا قتل بھی جائز نہیں ہوگا ۔ امام ابن عابدین کہتے ہیں : 

ان أمر الدم خطر عظیم ، حتی لو فتح الامام حصناً أو بلدۃً وعلم أن فیھا مسلماً لا یحل لہ قتل أحد من أھلہا لاحتمال أن یکون المقتول ھو المسلم ۔ (۹۲) 
[کسی کی جان لینا بڑا سنگین معاملہ ہے ۔ یہاں تک کہ اگر امام کوئی قلعہ یا شہر فتح کرے اور اسے علم ہو کہ وہاں ایک مسلمان ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ وہاں کے لوگوں میں کسی ایک کو بھی قتل کرے کیونکہ ہر شخص کے متعلق یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ شاید وہی مسلمان ہو ۔ ] 

البتہ اضطرار کے قاعدے کے تحت فقہاء نے قرار دیا ہے کہ اگر دشمن کے قلعے پر حملہ ناگزیر ہو تو اس پر حملہ کیا جاسکتا ہے خواہ یہ اندیشہ یا یقین ہو کہ اس قلعے میں کوئی مسلمان قیدی ہے جو حملے کی زد میں آسکتا ہے ۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے مسلمان کا قتل عمد جائز ہے ۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام حسن بن زیاد کہتے ہیں : 

ھذا اذا علم أنہ لیس فی ذلک الحصن أسیر مسلم ۔ فأما اذا لم یعلم ذلک فلا یحل التحریق و التغریق ، لأن التحرز عن قتل المسلم فرض و تحریق حصونھم مباح ۔ و الأخذ بما ھو الفرض أولی۔ (۹۳) 
[دشمن کے قلعے کو جلانا یا اسے پانی میں غرق کرنا اس وقت جائز ہے جب معلوم ہو کہ اس قلعے میں کوئی مسلمان قیدی نہیں ہے ۔ اگر اس بارے میں علم نہ ہو تو اس قلعے کو جلانا یا غرق کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ مسلمان کے قتل سے بچنا فرض ہے اور دشمن کے قلعوں کو جلانا یا غرق کرنا مباح ہے اور فرض پر عمل مباح پر عمل سے زیادہ ضروری ہے۔] 

اس کے جواب میں امام سرخسی اور دیگر فقہائے احناف نے اضطرار کے قاعدے کا ذکر کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اگر ایسے قلعے پر حملہ ناگزیر ہو تو حملہ کیا جاسکتا ہے لیکن حملہ آور مسلمان کے قتل کا ارادہ نہیں کریں گے کیونکہ مسلمان کا قتل عمد حرام ہے۔ امام سرخسی کہتے ہیں : 

لو منعناھم من ذلک یتعذر علیھم قتال المشرکین و الظھور علیھم ، و الحصون قلّ ما تخلو عن أسر ۔ و کما لا یحل قتل الأسیر لا یحل قتل النساء و الولدان ۔ ثم لا یمتنع تحریق حصونھم بکون النساء و الولدان فیھا ۔ فکذلک لا یمتنع ذلک بکون الأسیر فیھا ، و لکنھم یقصدون المشرکین بذلک ، لأنھم لو قدروا علی التمییز فعلاً لزمھم ذلک ۔ فکذلک اذا قدروا علی التمییز بالنےۃ یلزمھم ذلک۔ (۹۴) 
[ اگر ہم مسلمانوں کو اس قلعے پر حملے سے روکیں تو ان کے لیے مشرکین سے لڑنا اور ان پر غالب ہونا ناممکن ہوجائے گا کیونکہ ان کے قلعے میں کم ہی کوئی ایسا ہوگا جس میں کوئی مسلمان قیدی نہ ہو ۔ پھر جس طرح مسلمان قیدی کا قتل ناجائز ہے اسی طرح دشمن کی عورتوں اور بچوں کا قتل بھی ناجائز ہے ۔ اس کے باوجود اس قلعے پر حملہ جائز ہے خواہ وہاں دشمن کی عورتیں اور بچے ہوں ۔ اسی طرح اس قلعے میں مسلمان قیدی کا ہونا اس حملے کی ممانعت کا سبب نہیں بن سکتا ۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ حملہ کرنے والوں کی نیت مشرکین پر حملے کی ہو کیونکہ اگر ان کے لیے عملاً مسلمان اور مشرک میں تمیز ممکن ہوتی تو ان پر لازم ہوتا کہ وہ تمیز کرتے ۔ پس اس صورت میں جبکہ وہ نیت میں تمیز پر قادر ہیں تو ان پر یہی لازم ہے ۔ ] 

کیا کوئی ایسی صورت ہوسکتی ہے جس میں مسلمان کا قتل عمد جائز ہوسکے ؟ امام غزالی نے ایک فرضی صورتحال ذکر کی ہے جس میں کفار مسلمان قیدیوں کو ڈھال بنا کر مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں مسلمان اگر دشمن پر حملہ کریں گے تو اس کے لیے ضروری ہوگا کہ پہلے ان مسلمانوں کو قتل کیا جائے جن کو انہوں نے ڈھال بنا کر آگے کیا ہوا ہے ۔ اگر مسلمان انہیں قتل نہیں کریں گے تو یقینی ہے کہ مسلمانوں پر فتح پانے کے بعد دشمن ان قیدیوں کو بھی قتل کردے گا ۔ پس ایسی صورت میں ان قیدیوں کو بہر حال قتل ہونا ہے ۔ تو کیا ان کا قتل جائز ہوگا ؟ یا ان کے قتل سے باز رہ کر مسلمان دشمن کو آگے بڑھ کر اپنے اوپر غالب ہونے کا موقع دیں گے ؟ 

ان الکفار اذا تترسوا بجماعۃ من أساری المسلمین ، فلو کففنا عنھم لصدمونا ، و غلبوا علی دار الاسلام ، و قتلوا کافۃ المسلیمن ۔ و لو رمینا الترس لقتلنا مسلماً معصوماً لم یذنب ذنباً ، و ھذا لا عھد بہ الشرع ۔ و لو کففنا لسلطنا الکفار علی جمیع المسلمین ، فیقتلونھم ، ثم یقتلون الأساری أیضاً ۔ فیجوز أن یقول قائل : ھذا الأسیر مقتول بکل حال ، فحفظ جمیع المسلمین أقرب الی مقصود الشرع لأنا نعلم قطعاً أن مقصود الشرع تقلیل القتل کما یقصد حسم سبیلہ عند الامکان ۔ فان لم نقدر علی الحسم قدرنا علی التقلیل ۔ و کان ھذا التفاتاً الی مصلحۃ علم بالضرورۃ کونھا مقصود الشرع ، لا بدلیل واحد و أصل معین بل بأدلۃ خارجۃ عن الحصر ۔ لکن تحصیل ھذا المقصود بھذا الطریق ، و ھو قتل من لم یذنب ، غریب لم یشھد لم أصل معین ۔ فھذا مثال مصلحۃ غیر مأخوذۃ بطریق القیاس علی أصل معین ، و انقدح اعتبارھا باعتبار ثلاثۃ أوصاف : أنھا ضرورۃ ، قطعیۃ ، کلیۃ ۔ (۹۵) 
[ اگر کفار مسلمانوں کے قیدیوں کو ڈھال بنائیں تو اگر ہم ان پر حملے سے گریز کریں گے تو وہ ہمیں سخت نقصان پہنچا کت دار الاسلام پر غالب آئیں گے اور پھر تمام مسلمانوں کو قتل کردیں گے ۔ تاہم اگر ہم ان ڈھال بنائے گئے قیدیوں کو نشانہ بنائیں گے تو ہم ایک ایک ایسے مسلمان کو ، جس کی زندگی قانونی طور پر محفوظ ہے ، قتل کریں گے حالانکہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ، اور شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اور اگر ہم ان پر حملہ نہیں کریں گے تو ہم کفار کو تمام مسلمانوں پر مسلط ہونے کا موقع دیں گے جو غالب ہونے کے بعد ان مسلمانوں کو بھی کریں گے اور ان کے بعد ان قیدیوں کو بھی ۔ پس کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ قیدی تو دونوں صورتوں میں قتل ہوں گے تو تمام مسلمانوں کی حفاظت شریعت کے مقصود سے زیادہ قریب ہے کیونکہ ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ شریعت کا مقصود قتل کو روکنا ہے لیکن اگر روکنا ممکن نہ ہو تو پھر شریعت اسے کم سے کم کرنا چاہتی ہے ۔ پس اگر ہم قتل کو روک نہیں سکتے تو اسے کم تو کرسکتے ہیں ۔ پس یہ ایسی مصلحت کی طرف التفات ہے جس کا شریعت کا مقصود ہونا کسی ایک مخصوص دلیل یا معین اصل سے نہیں بلکہ بے شمار دلائل سے ضرورۃً معلوم ہے ۔ تاہم اس مصلحت کا اس مخصوص طریقے سے حصول ، کہ اس کے لیے کسی بے قصور کا قتل کرنا پڑے ، غریب ہے جس کے لیے کوئی معین اصل شاہد نہیں ہے ۔ پس یہ ایسی مصلحت کی مثال ہوئی جو کسی اصل معین پر قیاس کے ذریعے ماخوذ نہیں ہوتی ، اور اس کے معتبر ہونے کے لیے تین شرائط ضروری ہیں : کہ یہ ضرورات میں ہو ، قعطی ہو اور کلی ہو ۔ ] 

امام غزالی نے اس صورت حال کو ’’ مصلحۃ غریبۃ‘‘ کا عنوان دیا ہے ، یعنی وہ مصلحت جس کی شریعت نہ تو تائید کرے نہ تردید ۔ مصلحت غریبہ پر عمل کے لیے امام غزالی نے تین شرائط ذکر کی ہیں : 

(۱) یہ کہ اس کا تعلق ضرورات کے ساتھ ہو ۔ یعنی اس کے ذریعے دین ، نفس ، عقل ، نسل یا مال کی حفاظت مقصود ہو۔ 

(۲) یہ کہ یہ قطعی ہو ۔یعنی اس کے نتائج کے متعلق ہمیں پورا یقین ہو کہ اس کے ذریعے مذکورہ مقصد کی حفاظت ہوگی ۔ 

(۳) یہ کہ یہ کلی ہو ۔ یعنی یہ امت کے کسی ایک فرد یا افراد کے مجموعے کے لیے نہ ہو بلکہ پوری امت کے لیے ہو۔ 

ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے ایک گروہ ، خواہ وہ کتنا ہی بڑا گروہ ہو ، کی مصلحت کو پوری امت کی مصلحت نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس لیے خواہ یہ امکان ہو کہ ایسی صورت میں مسلمانوں کے اس گروہ پر کفار غالب آجائیں گے تب بھی ان کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ ڈھال بنائے گئے مسلمانوں کا قتل عمد کریں ۔ اسی وجہ سے امام غزالی آگے کئی مثالیں ذکر کرتے ہیں جن کے متعلق وہ صراحتاً کہتے ہیں کہ ان صورتوں میں کسی مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ان شرائط میں کوئی شرط مفقود ہوتی ہے : 

ولیس فی معناھا : ما لو تترس الکفار فی قلعۃ بمسلم ، اذ لا یحل رمی الترس، اذ لا ضرورۃ، فینا غنیۃ عن القلعۃ، فنعدل عنھا، اذ لم نقطع بظفرنا بھا لأنھا لیست قطعیۃ ، بل ظنیۃ۔ ولیس فی معناھا: جماعۃ فی سفینۃ لو طرحوا واحداً منھم لنجوا، و الا غرقوا بجملتھم ، لأنھا لیست کلیۃ ، اذ یحصل بھا ھلاک عدد محصور، ولیس ذلک کاستئصال کافۃ المسلمین ، و لأنہ لیس یتعین واحد للاغراق الا أن یتعین بالقرعۃ، و لا أصل لھا۔ وکذلک جماعۃ فی مخمصۃ، لو أکلوا واحداً بالقرعۃ لنجوا، فلا رخصۃ فیہ لأن المصلحۃ لیست کلیۃ ۔(۹۶)
[ ایسی مصلحت کی مثال یہ نہیں ہے کہ اگر کسی قلعے میں کفار نے کسی مسلمان کو ڈھال بنا لیا ہو ، کیونکہ ایسی صورت میں اس ڈھال بنائے گئے مسلمان کو نشانہ بنانا ناجائز ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حملہ ناگزیر نہیں ہے ۔ ہم اس قلعے پر قبضہ کرنے سے بے نیاز ہیں ۔ پس ہم اس قلعے پر حملہ کرنے سے باز رہیں گے کیونکہ ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ہم اسے فتح ہی کرلیں گے ۔ پس یہ مصلحت قطعی نہیں بلکہ ظنی ہے ۔ اسی طرح اس کی مثال یہ بھی نہیں کہ اگر کسی ڈوبتی کشتی میں کئی لوگ سوار ہوں اور اگر وہ کسی ایک کو دریا میں پھینک دیں تو باقی بچ جائیں گے ، اور اگر کسی کو نہیں پھینکیں گے تو سارے ہی ڈوب جائیں گے۔ اس مصلحت کے غیر معتبر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ کلی نہیں ہے کیونکہ اس طرح چند لوگ ہی غرق ہوں گے جسے تمام مسلمانوں کا صفایا ہونے کے مترادف نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ کسی ایک کو دریا میں پھینکنے کے لیے منتخب کرنے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ قرعہ ڈالیں جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی گروہ بھوک سے مجبور ہوجائے اور وہ چاہیں کہ ان میں کسی ایک کو قتل کرکے اس کا گوشت کھائیں ورنہ سارے ہی مر جائیں گے تو اس کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس کی وجہ وہی ہے کہ یہ مصلحت کلی نہیں ہے ( ان چند لوگوں کے مرنے سے پوری امت کا خاتمہ نہیں ہوگا ۔ ] 

قرآن و سنت کے نصوص اور فقہا کی ان تصریحات کے بعد جب خود کش حملوں کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ نظر آتی ہے کہ ان حملوں میں ان تمام نصوص اور تصریحات کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک کتنے معصوم مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے ؟ اس کا کوئی صحیح اندازہ اس وقت تک نہیں لگایا جاسکتا جب تک ان حملوں کے پورے ریکارڈ کا تجزیہ نہ کیا جائے ۔ تاہم اتنی بات تو بالکل واضح ہے کہ مسجد ، جنازگاہ ، جرگہ کی مجلس اور بازار وں میں کیے جانے والے ان حملوں کا نشانہ معصوم مسلمان ہی بنتے ہیں ۔ پچھلے کچھ عرصے سے ان حملوں کا رخ فوج کے علاوہ دیگر سیکیورٹی فورسز بالخصوص پولیس کی طرف ہوا ہے ۔ کیا یہ فوجی اور پولیس غیر مسلم ہیں ؟ کیا ان کا قتل عمد جائز ہے ؟ 

اس قسم کے سوالات سے بچنے کے لیے ہی خود کش حملہ آور کو تیار کرنے والے لوگوں کا زور اس کی جسمانی تربیت کے علاوہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ حملہ آور کو یہ پختہ یقین دلایا جائے کہ جس ہدف پر حملے کے لیے اسے تیار کیا جارہا ہے وہ بالکل جائز ہے کیونکہ یہ لوگ مسلمان نہیں بلکہ مرتد ہیں اور اس وجہ سے واجب القتل ہیں ۔ فوجیوں اور پولیس کو مرتد کیسے قرار دیاجا سکتا ہے ؟ اس کا انہوں نے بڑا سیدھا حل نکالا ہے ۔ عام طور پر استدلال اس طرح کیا جاتا ہے : 

  • امریکہ اور اس کے اتحادی کفار نے مسلمانوں پر حملہ کیا ہے ۔ 
  • ان کفار کا ساتھ دینا حرام ہے ۔ 
  • مسلمان حکمران جو ان کفار کا ساتھ دیتے ہیں وہ مرتد ہوچکے ہیں ۔ 
  • ان حکمرانوں کی حفاظت کرنے والے اور ان کے پشتیبان بننے والے بھی ان کے ساتھ شامل ہیں اور ظاہر ہے کہ حکومت کا دفاع کرنے والوں میں فوجی پہلے درجے میں اور دوسری سیکورٹی فورسز ان کے بعد دوسرے درجے میں آتے ہیں۔ 

یہ استدلال بالبداہت غلط ہے لیکن اس پر بحث اس مقالے کے حدود سے باہر ہے ۔ یہاں صرف اس بات کی طرف اہل علم کی توجہ دلانا مقصود ہے کہ خود کش حملوں کے جواز اور عدم جواز کی بحث میں ’’مسلمان کی تکفیر ‘‘کا مسئلہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے جسے خود کش حملوں پر بحث میں بالعموم نظر انداز کیا گیا ہے۔ 

مقتولین کی دیت ، زخمیوں کا ارش اور املاک کو نقصان پہنچنے والے نقصان کا ضمان 

اگر ایک لمحے کے لیے اسلام اور کفر کے مسئلے سے صرف نظر بھی کیا جائے اور فرض کیا جائے کہ خود کش حملہ آور کا ہدف بنیادی طور پر صحیح ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرض کیا جائے کہ اس کا ارادہ بے قصور لوگوں کو مارنے کا نہیں ہوتا تب بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان بے قصور مقتولین کی دیت کی ادائیگی لازم نہیں ہے ؟ اسی طرح کیا زخمی ہونے والوں کے زخموں کے ارش یا ضمان کی ادائیگی لازم نہیں ہے ؟ اگر دیت ، ارش اور ضمان کی ادائیگی لازم ہے تو اس کی ادائیگی کا کون ذمہ دار ہے ؟ یہی سوال املاک کو پہنچنے والے نقصان کے متعلق بھی ہے ۔ کیا غلطی سے کسی کا مال ضائع کرنے یا خراب کردینے والے کو شریعت نے ضمان ادا کرنے کا پابند نہیں کیا؟ 

فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ جنگ کے دوران میں بھی اگر کوئی شخص غلطی سے کسی ایسے شخص کو قتل کرلے جس کا قتل اس کے لیے جائز نہیں ہے تو دیت کی ادائیگی واجب ہوتی ہے ۔ چنانچہ قتل خطا کی تمثیل میں بالعموم یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ مسلمان نے کسی شخص کو حربی سمجھ کر اس پر حملہ کیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تو مسلمان تھا ، یا اس نے حربی کو نشانہ بنایا لیکن غلطی سے کوئی دوسرا مسلمان اس کی زد میں آکر قتل ہوا ۔ امام شیبانی کہتے ہیں: 

و اذا کان القوم من المسلمین یقاتلون المشرکین فقتل مسلم مسلماً ظن أنہ مشرک ، أو رمی الی مشرک فرجع السھم فأصاب مسلماً فقتلہ فعلیہ الدیۃ و الکفارۃ۔ (۹۷) 
[ اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ مشرکین سے لڑ رہا ہو اور کسی مسلمان نے کسی دوسرے مسلمان کو مشرک سمجھ کر قتل کیا ، یا اس نے مشرک کی طرف تیر پھینکا مگر وہ پلٹ کر کسی مسلمان کو لگا جس کے نتیجے میں وہ قتل ہوگیا ، تو ہر دو صورتوں میں اس پر دیت اور کفارہ لازم ہے ۔ ] 

امام سرخسی اس کی وضاحت میں کہتے ہیں : 

لأن ھذا صورۃ الخطأ ، و الدیۃ و الکفارۃ فی قتل الخطأ واجب بالنص (۹۸) 
[ کیونکہ یہ خطا کی صورت ہے ، اور قتل خطا میں دیت اور کفارے کا وجوب نص سے ثابت ہے ۔ ] 

دیت کا حکم اس صورت میں بھی ہے جب حملے کی زد میں ایسا غیر مسلم آئے جس کا قتل ناجائز ہو ، مثلاً وہ مسلمان ملک میں مستقل اقامت پذیر ہو ( اہل ذمہ ) ، یا وہ ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جس کے ساتھ مسلمانوں نے امن کا معاہدہ کیا ہو ( اہل موادعہ) ، یا وہ مسلمانوں سے اجازت لے کر مسلمانوں کے درمیان آیا ہو ( مستامن ) ۔ ارش اور ضمان کا بھی یہی حکم ہے ۔ یہ اصول بھی فقہا کے نزدیک مسلمہ ہے کہ دیت کی ادائیگی قاتل کی عاقلہ کرتی ہے بشرطیکہ قتل عمد نہ ہو یا دیت کی ادائیگی صلح کے نتیجے میں لازم نہ ہوئی ہو ۔ ان آخری دو صورتوں میں دیت کی ادائیگی کے لیے تنہا قاتل ذمہ دار ہوگا ۔ (۹۹)

پس اگر خود کش حملوں کے نتیجے میں قتل و زخمی ہونے والوں میں کوئی ایسا ہو جس پر حملہ ناجائز ہو ( اور بالعموم ان حملوں کی زد میں وہی لوگ آتے ہیں جن پر حملہ ناجائز ہوتا ہے ) اور یہ فرض کیا جائے کہ یہ غلطی سے حملے کی زد میں آئے تو ان کی دیت کی ادائیگی قاتل کے عاقلہ پر لازم ہوگی، اور اگر یہ مانا جائے کہ ان لوگوں کو قصداً نشانہ بنایا گیا تو پھر اس کی ادائیگی کی ذمہ داری قاتل پر ہوگی ۔ اول الذکر صورت میں یہ تعین کرنا بھی ضروری ہوگا کہ قاتل کا عاقلہ کسے سمجھا جائے ؟ کیا اس کے اہل خاندان کو ؟ یا اس کے ان مربّیوں کو جن کو اس نے اپنا اہل و عیال چھوڑ کر اپنایا ہوتا ہے اور جن کی رہنمائی میں وہ اس حملے پر آمادہ ہوتا ہے ؟ ثانی الذکر صورت میں دیت کی ادائیگی اس کے ترکے سے کی جائے گی کیونکہ قاتل تو خود بھی اس حملے میں ہلاک ہوجاتا ہے ۔ اگر قاتل کے متعلق معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا ؟ یا اس کے عاقلہ کا تعین نہ ہوپارہا ہو ، یا اس نے جو ترکہ چھوڑا ہو، اس میں سے تمام مقتولین و مجروحین کی دیت ، ارش اور ضمان کی ادائیگی ممکن نہ ہو تو پھر اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی ۔ کیا حکومت اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے ؟ 

اسی طرح شریعت نے ضمان کے سلسلے میں عقل ، بلوغت یا عمد کی شرائط نہیں رکھیں ۔ اس لیے کسی کی املاک کو اگر بچہ یا مجنون بھی نقصان پہنچائے ، یا کوئی عاقل بالغ شخص غلطی سے نقصان پہنچائے، تب بھی ان تمام صورتوں میں شریعت نے لازم کیا ہے کہ نقصان پہنچانے والے کے مال سے اس نقصان کی تلافی کی جائے ۔ اس نقصان کی تلافی کے لیے عاقلہ ذمہ دار نہیں ہوتی ۔ اگر نقصان پہنچانے والے کا تعین نہ ہوپارہا ہو تو یہاں بھی آخری ذمہ داری حکومت پر آتی ہے ۔ (۱۰۰) 

اسلامی شریعت کے قواعد عامہ جو خود کش حملے کے نتیجے میں پامال ہوتے ہیں :

اس ساری بحث سے معلوم ہوا کہ خود کش حملوں کے نتیجے میں اسلامی آداب القتال کے کئی قواعد عامہ پامال ہوتے ہیں ۔ ان میں سے چند اہم قواعد عامہ یہاں ذکر کیے جاتے ہیں : 

اولاً : غدر کی ممانعت ۔ خود کش حملہ آور بالعموم مقاتل کے روپ میں نہیں ہوتا اور غدر کا مرتکب ہوتا ہے ۔ 

ثانیاً : غیر مقاتلین پر حملہ ۔ ان حملوں کی زد میں آنے والے لوگوں کی اکثر یت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن پر حملہ کرنا ناجائز ہوتا ہے ۔ 

ثالثاً : اندھا دھند حملے کی ممانعت ۔ حملہ بالعموم میدان جنگ کے بجائے عام شہری آبادی میں کیا جاتا ہے جس میں عام شہریوں کے قتل اور زخمی ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔ 

رابعاً : خود کشی کی ممانعت ۔ حملہ آور کی موت کا باعث خود اس کا اپنا فعل ہوتا ہے ، نہ کہ دشمن کا کوئی فعل ۔ 

خامساً : مثلہ کی ممانعت ۔ حملہ آور بم اور بارود کا استعمال کرکے خود اپنی لاش کا اور دوسروں کی لاشوں کا مثلہ کرتا ہے۔ 

سادساً : قتل مومن کی ممانعت ۔ اگر حملہ مسلمانوں پر ہو تو خود کش حملہ آور ان کے قتل کے گناہ کبیرہ کا بھی ارتکاب کرتا ہے ۔ 

سابعاً : دیت ، ارش اور ضمان ادا کرنے کے حکم کی خلاف ورزی ۔ حملے کی زد میں آنے والے بے قصور مقتولین اور مجروحین کے قتل یا زخمی ہونے ، اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے لازم ہونے والی دیت ، ارش یا ضمان کی ادائیگی نہیں کی جاتی ۔ 

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ خود کش حملوں کے جواز کے لیے ’’ اضطرار ‘‘ کا قاعدہ بھی ناکافی ہے ۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل نکات پر غور کیجیے : 

اولاً : یہ صحیح ہے کہ اگر مقاتلین اور غیر مقاتلین میں تمییز ممکن نہ ہو اور غیر مقاتلین کو حملے سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی اقدامات اٹھائے جائیں تب بھی چند غیر مقاتلین حملے کی زد میں آجائیں تو اضطرار کے قاعدے کے تحت اس کی گنجائش نکل سکتی ہے ۔ تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس صورت میں اضطرار کی پابندیوں پر عمل لازم ہوتا ہے ۔ پس شہری آبادی میں حملہ بہر صورت ناجائز ہوگا کیونکہ اس حملے کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں غیر مقاتلین بلا ارادہ ضمنی طور پر نشانہ بنے ۔ 

ثانیاً : دیت ، ارش یا ضمان کی ادائیگی کے حکم کو اضطرار کے نام پر معطل نہیں کیا جاسکتا ۔ 

ثالثاً : چونکہ حملہ آور کا غیر مقاتل کے بھیس میں آنا غدر ہے اس لیے اسے بھی اضطرار کے نام پر جواز نہیں مل سکتا ۔ 

رابعاً : مسلمان کا قتل عمد اضطرار کے قاعدے سے بھی جائز نہیں ٹھہرتا ، بلکہ اس کے لیے چند اضافی شرائط کی پابندی لازمی ہے جو بہت ہی مخصوص حالات کے ماسوا ممکن نہیں ہوسکتا ۔ 

خامساً : عام حملوں میں بم اور بارود کے استعمال کو اضطرار کے قاعدے کے تحت جائز قرار دیا جاسکتا ہے اور مثلہ کی ممانعت کے حکم کو اضطرار کے قاعدے کے تحت غیر مؤثر سمجھا جاسکتا ہے لیکن خود کش حملے میں ان کے استعمال کو اس وجہ سے جائز نہیں قرار دیا جاسکتا کہ اس کے نتیجے میں حملہ آور خود اپنی موت کا باعث بنتا ہے ۔ گویا اگر اس اجازت دی گئی تو یہ خود کشی کی ممانعت کے حکم کو معطل کرنے کے مترادف ہوگا ۔ کیا خود کشی کی ممانعت کو اضطرار کے تحت معطل کیا جا سکتا ہے ؟ 

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر اسلامی شریعت کے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے حملہ کیا جائے تو وہ ’’ خود کش حملہ ‘‘ نہیں ہوگا ۔ پس اسلامی آداب القتال کی پابندی کرتے ہوئے خود کش حملوں کے جواز کے لیے کوئی راہ نہیں نکالی جاسکتی ۔ 

ھذا ما عندی ، و العلم عند اللہ ۔ اللھم أرنا الحق حقاً و ارزقنا اتباعہ، و أرنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابہ ۔



حواشی 

۱۔ اس موضوع پر بین الاقوامی قانون کے ایک اچھے تعارف کے لیے دیکھئے : 

Michael Akehurst, Modern Introduction to International Law (New York: Routledge, 1997), pp 306-363. 

۲ ۔ ایضاً ، ص ۳۵ ۔ ۴۷ 

۳ ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : 

Larry Maybee and Benerji Chakka (ed.), Custom as a Source of International Humanitarian Law (New Delhi: ICRC, 2006). 

۴ ۔ آداب القتال کے بین الاقوامی قانون کے خلاصے اور تعارف کے لیے دیکھئے : 

Hans-Peter Gasser, International Humanitarian Law (Haupt: Henry Dunant Institute, 1993). 

۵ ۔ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۸۵ کے تحت جنگی قیدی کے خلاف کسی ایسے جرم میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے جو اس نے قید کرنے والے فریق کے خلاف کیا ہو ۔ دفعہ ۱۰۰ کے تحت اسے سزائے موت بھی سنائی جاسکتی ہے ۔ 

۶۔

 International Humanitarian Law, 58-61 

۷ ۔ ایضاً ، ص ۶۲ ۔ ۶۶ 

۸ ۔ ایضاً ، ص ۵۰ ۔ ۵۲ ۔ 

۹۔

 The Legality of the Threat or Use of Nuclear Weapons, ICJ 1996 Rep 66 

۱۰ ۔ اس اصول کی بنیاد پر دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپانی اور جرمن جرنیلوں کو سزائیں دینے کے لیے خصوصی عدالتیں ٹوکیو اور نورمبرگ میں قائم کی گئیں ۔ اسی طرح یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مجرموں کو سزا دینے کے لیے خصوصی عدالت قائم کی جس نے اس اصول کو پھر تسلیم کیا ۔ اس اصول کو روانڈا کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ اب اس قسم کے مجرموں کو سزا دینے کے لیے جو مستقل ’’ عالمی فوجداری عدالت ‘‘ (International Criminal Court) قائم ہوئی ہے اس کے دستور میں بھی اس اصول کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ روایتی طور پر سفیر اور سربراہ ریاست کو عام طور پر فوجداری قانون کے اطلاق سے مستثنی مانا گیا تھا لیکن جنرل پنوشے کیس سے ثابت ہوا ہے کہ اب بین الاقوامی فوجداری قانون (International Criminal Law) کے اطلاق سے سفیر اور سربراہ ریاست بھی مستثنی نہیں ہیں ۔ سوڈان کے صدر عمر البشیر کے خلاف کاروائی کی بنیاد بھی یہی اصول ہے ۔ 

۱۱ ۔ دیکھئے چوتھے ہیگ معاہدے کی دفعہ ۱ ؛ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۴۔ 

۱۲ ۔ چوتھے ہیگ معاہدے کی دفعہ ۲ ؛ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۴ ۔ 

۱۳ ۔ پہلے اضافی پروٹوکول کی دفعہ ۴۳ 

۱۴ ۔ دیکھئے : پہلے اضافی پروٹوکول کی دفعہ ۳۷ 

۱۵ ۔ دیکھئے :

International Humanitarian Law, 56-58; Pietro Verri, Dictionary of the International Law of Armed Conflict (Geneva: International Committee of the Red Cross, 1992), p 100. 

۱۶ ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : 

Muhammad Mushtaq Ahmad, Use of Force for the Right of Self- determination in International Law and Shari'ah: A Comparative Study, Dissertation of LLM Shari'ah and Law, International Islamic University Islamabad, 2006, pp 88-97 and 121-35.

۱۷ ۔ سنن الترمذی ، کتاب الأحکام ، باب ما ذکر عن النبی ﷺ فی الصلح بین الناس ، حدیث رقم ۱۲۷۲ 

۱۸ ۔ صحیح البخاری ، کتاب البیوع ، باب اذا اشترط شروطاً فی البیع لا تحل ، حدیث رقم ۲۰۲۳ 

۱۹ ۔ اس اصول پر فقہاء نے لاتعداد جزئیات کی بنیاد رکھی ہے ۔ مثال کے طور پر انہوں نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی نے معاہدہ کرکے دو دراہم اور ایک دینار کے بدلے ایک درہم اور دو دینار لیے تو یہ معاہدہ صحیح ہوگا حالانکہ معلوم ہے کہ ایک درہم کا دو دراہم کے ساتھ اور ایک دینار کا دو دینار کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں ہے ۔ تاہم معاہدے کی تصحیح حسب الامکان واجب ہے ۔ اس لیے یہ فرض کیا جائے گا کہ اس نے دو دراہم کے بدلے دو دینار لیے اور ایک دینار کے بدلے ایک درہم لیا ، اور یہ دونوں معاملات اپنی جگہ صحیح ہیں ۔( امام ابو بکر برہان الدین المرغینانی ، الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی ( بیروت : دار احیاء التراث العربی ، تاریخ ندار ) ، کتاب الصرف ، ج ۳ ، ص ۸۳ ) 

۲۰ ۔ اس موضوع پر تفصیلی فقہی تجزیے کے لیے دیکھئے : امام ابو بکر محمد بن احمد ابی سہل السرخسی ، شرح کتاب السیر الکبیر (بیروت : دار الکتب العلمیۃ ، ۱۹۹۷ م ) ، باب قتل الأساری و المن علیہم ، ج ۳ ، ص ۱۲۴ ۔ ۱۳۵ ۔ 

۲۱ ۔ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۱۱۸ 

۲۲ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الأمان ، ج ۱ ، ص ۲۱۰ 

۲۳ ۔ ایضاً 

۲۴ ۔ ایضاً 

۲۵ ۔ ایضاً ، ص ۲۱۳ 

۲۶ ۔ ایضاً ، ص ۲۱۲

۲۷ ۔ ایضاً 

۲۸ ۔ ایضاً 

۲۹ ۔ ایضاً ، ص ۲۱۴ 

۳۰ ۔ ایضاً 

۳۱ ۔ ایضاً 

۳۲ ۔ اسلامی آداب القتال کے ایک اچھے مطالعے کے لیے دیکھئے : 

محمد منیر ، أحکام المدنیین فی الحرب فی الفقہ الاسلامی و القانون الدولی الانسانی ۔ دراسۃ مقارنۃ ، بحث مقدم لنیل درجۃ الماجستیر فی الشریعۃ و القانون ، کلیۃ الشریعۃ و القانون ، الجامعۃ الاسلامیۃ العالمیۃ ، اسلام آباد ، ۱۹۹۶ م 

مزید دیکھئے : 

Muhammad Mushtaq Ahmad, International Humanitarian Law and Islamic Law, Journal of Law and Society, Vol. XXXVI, No. 49, January 2007, Legal Research Centre, Law College, University of Peshawar 

۳۳ ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : ابو الولید محمدبن احمد ابن رشد ، بداےۃ المجتھد و نھایۃ المقتصد ، (الریا ض: مکتبۃ مصطفی باز ، ۱۹۹۵ء ) ، ج ۱ ، ص ۳۷۱ ؛ کمال الدین محمد ابن الھمام الاسکندری ، فتح القدیرعلی الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی، (القاھرۃ : دارالکتب العربیۃ ، ۱۹۷۰ء ) ، ج ۴ ، ص ۲۹۱ ؛ سحنون عبد السلام بن سعید بن حبیب التنوخی ،المدونۃ الکبری، (القاھرۃ ، دارالباز ، ۱۳۲۳ ھ) ، ج ۳، ص ۶ ؛ تقی الدین ابن شہاب الدین ابن تیمیۃ ، قاعدۃ فی قتال الکفار ، (دمشق : مطبعۃ السنۃ المحمدیۃ ، ۱۹۴۹ء) ، ص۱۱۶ ۔ 

۳۴ ۔ امام ابو بکر محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی ، المبسوط (بیروت : دار الکتب العلمیۃ ، ۲۰۰۱ م ) ، کتاب السیر ، باب معاملۃ الجیش مع الکفار ، ج ۱۰ ، ص ۳۶ 

۳۵ ۔ مسند احمد ، مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ ، و من مسند علی بن أبی طالب ، حدیث رقم ۱۰۴۱ ؛ مسند المکثرین من الصحابۃ ، باب و من مسند علی بن أبی طالب ، حدیث رقم ۳۶۹۴ ؛ أول مسند البصریین ، باب بقیۃ حدیث الحکم بن عمرو الغفاری ، حدیث رقم ۱۹۷۳۲ ۔ 

۳۶ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب ما یجب من طاعۃ الوالی و ما لا یجب ، ج ۱ ، ص ۱۱۷ 

۳۷ ۔ صحیح البخاری ، کتاب المغازی ، باب بعث النبی ﷺ خالد بن الولید الی بنی جذیمۃ ، حدیث رقم ۳۹۹۴؛ علامہ شبلی نعمانی ، سیرت النبی ﷺ ( کراچی : دار الاشاعت ، ۱۹۸۵ء ) ، ج ۱، ص ۳۴۴ ۔ 

۳۸ ۔ صحیح البخاری ، کتاب الجھاد و السیر ، باب الحرب خدعۃ ، حدیث رقم ۲۸۰۳ ؛ صحیح مسلم ، کتاب الجھاد و السیر ، باب جواز الخداع فی الحرب ، حدیث رقم ۳۲۷۳ ؛ سنن الترمذی ، کتاب الجھاد ، باب ما جاء فی الرخصۃ فی الکذب و الخدیعۃ فی الحرب ، حدیث رقم ۱۵۹۸ ۔ 

۳۹ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب سھمان الخیل فی دار الحرب ، ج ۳ ، ص ۴۸ ۔ عورتوں کا غنیمت میں حصہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ جنگ میں حصہ نہیں لیتیں ۔ تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر وہ جنگ میں زخمیوں کی تیمار داری کریں یا اور کسی طریقے سے جنگ میں حصہ لیں تب بھی ان کو مال غنیمت میں مقررہ حصہ (سھم) نہیں ملے گا ۔ البتہ اس صورت میں امام ان کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں مال غنیمت میں ہی کچھ مال بطور انعام (رضخ) دے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غنیمت میں مقررہ حصہ مقاتلین کے لیے ہے ، جبکہ عورتوں کے متعلق مفروضہ یہ ہے کہ وہ اصلاً غیر مقاتلہ ہے ۔ تاہم قتال میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ غنیمت میں سے کچھ حصہ لینے کی مستحق ہوجاتی ہے ۔ یہ حصہ باقاعدہ مقاتل کے حصے کے برابر تو نہیں ہوتالیکن اسے اس بات کے اعتراف کے طور پر ادا کیا جاتا ہے کہ اس جنگ میں حصہ لیا تھا ۔ گویا وہ وقتی طور پر مقاتلہ ہوگئی تھی ۔ امام سرخسی نے واضح کیا ہے کہ سہم ہو یا رضخ ، چونکہ ہر دو صورتوں میں اس کی ادائیگی مال غنیمت میں ہوتی ہے اس لیے ہر دو صورتوں میں ادائیگی کا استحقاق جنگ میں حصہ لینے کی بنا پر ہوتا ہے ۔ ( ایضاً ، ص ۴۹ ) ان دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ سہم باقاعدہ مقاتل کو ادا کیا جاتا ہے جبکہ رضخ اس کو ادا کیا جاتا ہے جو باقاعدہ مقاتل نہ ہو مگر کسی موقع پر قتال میں حصہ لے ۔ 

۴۰ ۔ کئی روایات میں یہ ممانعت وارد ہوئی ہے ۔ مثال کے طور پر پر دیکھئے : صحیح مسلم ، کتاب الجہاد و السیر ، باب تأمیر الامام الأمراء علی البعوث و وصیتہ ایاھم ، حدیث رقم ۳۲۶۱ ؛ سنن الترمذی ، کتاب السیر ، باب ما جاء فی وصیتہ فی القتال ، حدیث رقم ۱۵۴۲ ۔

۴۱ ۔ امام علی بن احمد ابن حزم الظاھری ، المحلی بالآثار (القاھرۃ : ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ ، ۱۹۳۴ م ) ، ج ۷ ، ص ۲۹۶۔ ۲۹۷ 

۴۲ ۔ المغنی، ج ۸ ، ص ۴۷۷؛ محمد بن علی الشوکانی ، نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار ( بیروت : دار الفکر، ۱۹۹۴ م ) ، ج ۷ ، ص ۲۰۱ ۔ 

۴۳ ۔ امام ابو بکر محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی ، تمھید الفصول فی الأصول ( لاہور : مکتبہ مدنیہ ، تاریخ ندارد ) ، ج ۱ ، ص ۱۴۴ ۔ ۱۴۹ 

۴۴ ۔ سنن ابن ماجۃ ، کتاب الجھاد ، باب الغارۃ و البیات و قتل النساء و الصبیان ، حدیث رقم ۲۸۳۲ 

۴۵ ۔ صحیح مسلم ، کتاب الجھاد و السیر ، باب قتل کعب بن الأشرف طاغوت الیھود ، حدیث رقم ؛ سنن أبی داود ، کتاب الخراج و الامارۃ و الفیء ، باب کیف کان اخراج الیھود من المدینۃ ، حدیث رقم ۲۶۰۶ 

۴۶ ۔ سورۃ النسآء کی آیت ۴۶ کے بموجب رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی ’’ طعن فی الدین ‘‘ ہے ، اور سورۃ التوبۃ کی آیت ۱۳ کے بموجب قتال کا ایک بنیادی سبب طعن فی الدین ہے ۔ 

۴۷ ۔ ابو عزہ عمرو بن عبد اللہ الجمحی نامی اس شاعر کو غزوۂ بدر میں گرفتار ی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے احساناً رہا کیا اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ آئندہ ایسی حرکتیں نہیں کرے گا ۔ تاہم وہ رہائی کے بعد مزید زور و شور سے آپ کے خلاف اشعار کہتا رہا اور مشرکین کو آپ کے خلاف ابھارتا رہا ۔ غزوۂ احد میں وہ دوبارہ گرفتار ہوا تو اسے قتل کردیا گیا ۔ ( نصب الرایۃ لأحادیث الھدایۃ ، ج ۳ ، ص ۴۰۹ ) یہ بھی واضح ہے کہ وہ دونوں دفعہ جنگ میں پکڑا گیا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شاعری سے قطع نظر کیا جائے تب بھی وہ مقاتل تھا ۔ درید بن الصمۃ ایک نہایت عمر رسیدہ (بعض روایات کے مطابق ایک سو ساٹھ سال کی عمر کا ) تھا ۔ اس نے غزوۂ حنین کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ یہ قبیلۂ جشم کا سردار تھا اور اس کی شاعری کے علاوہ بہادری کے قصے بھی ضرب المثل کی حیثیت رکھتے تھے ۔ مزید برآں ، وہ ہزاروں کی جمعیت لے کر جنگ میں شرکت کے لیے اوطاس آیا تھا ۔ ( مزید تفصیلات کے لیے دیکھئے : شبلی ، سیرت النبی ﷺ ، ج ۱ ، ص ۳۰۵ ۔ ۳۱۱ ) 

۴۸ ۔ سنن النسائی ، کتاب البیعۃ ، باب فی تشدید عصیان الامام ،حدیث رقم ۴۱۲۴ ؛ سنن ابی داود ، کتاب الجھاد ، باب فی من یغزو و یلتمس الدنیا ،حدیث رقم ۲۱۵۴ 

۴۹۔ صحیح البخاری ، کتاب الجھاد و السیر ، باب یقاتل من وراء الامام و یتقی بہ ، حدیث رقم ۲۷۳۷ ؛ صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب الامام جنۃ یقاتل من وراۂ و یتقی بہ ،حدیث رقم ۳۴۱۸ 

۵۰ ۔ سنن ابی داود ، کتاب الجھاد ، باب فی الغزو مع أئمۃ الجور ، حدیث رقم ۲۱۷۱ 

۵۱ ۔ صحیح البخاری ، کتاب الجھاد و السیر ، باب ان اللہ یؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر ، حدیث رقم ۲۸۳۴ ؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ ، حدیث رقم ۱۶۲

۵۲ ۔ امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ، کتاب الخراج (القاھرۃ : المطبعۃ السلفیۃ ، ۱۹۳۴ ء ) ، ص ۲۱۵ 

۵۳ ۔ امام موفق الدین ابن قدامۃ الحنبلی ، المغنی فی فقہ امام السنۃ احمد بن حنبل الشیبانی ، (بیروت : دار احیاء التراث العربی ، تاریخ ندارد ) ، ج ۸ ، ص ۳۵۲ 

۵۴ ۔ ایضاً ، ص ۳۵۳ 

۵۵ ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : 

Use of Force for the Right of Self-determination, pp 216-226 

۵۶ ۔ جہاد عام حالات میں فرض کفائی ہوتا ہے لیکن بعض مخصوص حالات میں یہ فرض عینی ہوجاتا ہے ۔ دیکھئے : الھدایۃ ، کتاب السیر ، ج ۲ ، ص ۳۷۸ ۔ 

۵۷ ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حقوق کی حفاظت میں قتل ہونے والے کو شہید قرار دیا ہے ۔ دیکھئے : صحیح البخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب من قاتل دون مالہ ، حدیث رقم ۲۳۰۰ ؛ سنن الترمذی ، کتاب الدیات ، باب ما جاء فی من قتل دون مالہ فھو شہید ،حدیث رقم ۱۳۴۰ و ۱۳۴۱ ؛ سنن النسائی ، کتاب تحریم الدم ، باب من قتل دون مالہ ، حدیث رقم ۴۰۲۵ ۔ 

۵۸ ۔ صحیح البخاری ، کتاب الجھاد و السیر، باب من رأی العدو فنادی بأعلی صوتہ ، حدیث رقم ۲۸۱۴ 

۵۹۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : المبسوط ، کتاب السیر ، باب ما أصیب فی الغنیمۃ مما کان المشرکون أصابوہ من مال المسلم، ج ۱۰ ، ص ۸۲ ۔ اس مسئلے کے بعض دیگر اہم پہلوؤں کی وضاحت کے لیے دیکھئے : شرح کتاب السیر الکبیر ، باب النفل فی دار الحرب ، ج ۲ ، ص ۱۵۰ ؛ باب النفل من أسلاب الخوارج ، ج ۲ ، ص ۲۲۷ ؛ باب ما یجوز من النفل بعد اصابۃ الغنیمۃ ، ج ۲ ، ص ۲۵۹ ؛ باب سھمان الخیل فی دار الحرب ، ج ۳ ، ص ۴۸۔ 

۶۰ ۔ اس موضوع پر تفصیلی بحث کے لیے دیکھئے : 

Muhammad Mushtaq Ahmad, Use of Force for the Right of Self- determination in International Law and Shari'ah: A Comparative Study, Dissertation of LLM Shari'ah and Law, International Islamic University Islamabad, 2006. 

۶۱ ۔ المبسوط ، کتاب السیر ، باب نکاح أھل الحرب و دخول التجار الیھم بالأمان ، ج ۱۰ ، ص ۱۰۶ ۔ ۱۰۷ 

۶۲ ۔ سنن أبی داود ، کتاب الجھاد ، باب فی سل السیوف عند اللقاء ، حدیث رقم ۲۲۹۰ 

۶۳ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب وصایا الأمراء ، ج ۱ ، ص ۴۴ 

۶۴ ۔ اصحاب السنن نے اسے رسول اللہ ﷺ کے صحابی عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر روایت کیا ہے ۔ ایک موقع پر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل روم سے معاہدہ کیا تھا تو معاہدہ ختم ہونے کی مدت سے کچھ قبل انہوں نے روم کی طرف پیش قدمی شروع کی تھی تاکہ معاہدے کا وقت ختم ہوتے ہی ان پر حملہ کردیں ۔ اس موقع پر عمرو بن عبسہ لشکر میں یہ آواز بلند کرتے ہوئے آگے بڑھے کہ : فی العھود وفاء ، لا غدر۔ اس کے بعد آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث سنائی : 

من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یحلن عقداً و لا یشدن حتی یمضی أمدہ أو ینبذ الیھم علی سواء ۔ ( سنن الترمذی ، کتاب السیر، باب ما جاء فی الغدر ، حدیث رقم ۱۵۰۶ ) 
[ جس نے کسی قوم کے ساتھ معاہدہ کیا تو وہ نہ اس معاہدے کی گرہ کھولے نہ ہی اسے مزید سخت کرے یہاں تک کہ اس کی مدت پوری ہو ، یا وہ انہیں معاہدہ ختم کرنے کے متعلق باقاعدہ طور پر آگاہ کردے ۔ ] 

۶۵ ۔ سنن الترمذی ، کتاب الفتن ، باب ما جاء ما أخبر النبی ﷺ أصحابہ بما ھو کائن الی یوم القیامۃ، حدیث رقم ۲۱۱۷؛صحیح البخاری ،کتاب الجزیۃ ، باب اثم الغادر للبر والفاجر ، حدیث رقم ۲۹۴۹؛ صحیح مسلم، کتاب الجھاد و السیر ، باب تحریم الغدر ، حدیث رقم ۳۲۶۹۔ 

۶۶ ۔ اوپر ہم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا جو واقعہ ذکر کیا وہ درحقیقت غدر کے مفہوم میں داخل نہیں تھا لیکن چونکہ صورۃً اسے غدر کہا جاسکتا تھا اس لیے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا ۔ (شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الأمان ثم یصاب المشرکون بعد أمانھم ، ج ۱ ، ص ۱۸۴ ۔ ۱۸۵ ) 

۶۷ ۔ ایضاً ، باب الحرب خدعۃ ، ج ۱ ، ص ۸۵ ۔ ۸۶ 

۶۸ ۔ ایضاً ، ص ۸۶ 

۶۹۔ ایضاً 

۷۰ ۔ کنز العمال ، ج ۱۰ ، ص ۷۴۲ 

۷۱ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الحرب خدعۃ ، ج۱ ، ص ۸۶ 

۷۲ ۔ کنز العمال ، ج ۱۰ ، ص ۷۴۲ 

۷۳ ۔ سنن أبی داود ، کتاب الجھاد ، باب المکر فی الحرب ، حدیث رقم ۲۲۶۷ ۔ بعض مواقع پر رسول اللہ ﷺ نے بعض دیگر مصالح کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کے برعکس طرز عمل بھی اختیار کیا ۔ مثلاً غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے صراحتاً پہلے ہی سے لوگوں کو مطلع کیا کہ ان کا ارادہ کئی سو میل دور جاکر روم کے ساتھ لڑنے کا ہے ۔ اس غزوہ نے منافقین اور مومنین کے درمیان تمیز کا کام تکمیل تک پہنچایا ، جیسا کہ سورۃ التوبۃ میں مفصل مذکور ہے ۔ 

۷۴ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الأمان ثم یصاب المشرکون بعد أمانھم ، ج۱ ، ص۱۸۳ 

۷۵ ۔ ایضاً 

۷۶ ۔ ایضاً ، باب ما یکون أماناً ممن یدخل دار الحرب و الأسری و ما لا یکون أماناً ، ج ۲ ، ص ۶۶ 

۷۷ ۔ ایضاً ، ص ۶۶۔ ۶۷ 

۷۸ ۔ ایضاً 

۷۹۔ ایضاً ، ص ۶۸ 

۸۰ ۔ ایضاً 

۸۱ ۔ ایضاً 

۸۲ ۔ ایضاً ، ص ۶۸ ۔ ۶۹ 

۸۳ ۔ ایضاً ، ص ۶۹ 

۸۴ ۔ المبسوط ، کتاب السیر ، باب الخوارج ، ج ۱۰ ، ص ۱۳۹ ؛ مجمع الزوائد ، ج ۶ ، ص ۳۷۶ 

۸۵ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب من یحل لہ الخمس و الصدقۃ ، ج ۱ ، ص ۱۱۵ 

۸۶ ۔ ایضاً 

۸۷ ۔ صحیح البخاری ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی قاتل النفس ، حدیث رقم ۱۲۷۵ ؛ کتاب الطب ، باب شرب السم و الدواء بہ ، حدیث رقم ۵۳۳۳ ؛ صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب غلظ تحریم الانسان قتل نفسہ ، حدیث رقم ۱۵۸ ؛ سنن الترمذی ، کتاب الطب ، باب ما جاء فی من قتل نفسہ بسم أو غیرہ ، حدیث رقم ۱۹۶۶ ؛ سنن النسائی ، کتاب الجنائز، باب ترک الصلوۃ علی من قتل نفسہ ، حدیث رقم ۱۹۳۹ ۔ 

۸۸ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب من یحل لہ الخمس و الصدقۃ ، ج ۱ ، ص ۱۱۵ 

۸۹ ۔ ایضاً 

۹۰ ۔ ایضاً ، باب من قاتل فأصاب نفسہ ، ص ۷۳ 

۹۱ ۔ مسند احمد ، باقی مسند الأنصار ، باب و من حدیث ثوبان ، حدیث رقم ۲۱۳۳۰ ؛ مجمع الزوائد ، ج ۳ ، ص ۱۵۴۔ ۱۵۵؛ کنز العمال ، ج ۱ ، ص ۵۰۷ ۔ 

۹۲ ۔ محمد امین ابن عابدین الشامی ، مجموعۃ رسائل ابن عابدین ( دمشق : المکتبۃالھاشمیۃ ، ۱۳۲۵ ھ ) ، ج ۱ ، ص ۳۴۴ 

۹۳ ۔ المبسوط ، کتاب السیر ، باب معاملۃ الجیش مع الکفار ، ج ۱۰ ، ص ۳۸ 

۹۴ ۔ ایضاً 

۹۵ ۔ المستصفی من علم الأصول ، ج ۱ ، ص ۲۱۸ 

۹۶ ۔ ایضاً 

۹۷۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب من قاتل فأصاب نفسہ ،ج ۱ ، ص ۷۵ 

۹۸۔ ایضاً 

۹۹۔ بدایۃ المبتدی کے متن میں مذکور ہے : 

و کل عمد سقط القصاص فیہ بشبھۃ فالدیۃ فی مال القاتل ۔ و کل أرش وجب بالصلح فھو فی مال القاتل ۔ (الہدایۃ ، کتاب الدیات ،ج ۴ ، ص ۴۷۰ ) 
[ ہر وہ عمد جس میں قصاص کسی شبہے کی وجہ سے ساقط ہوجائے تو اس کی دیت قاتل کے مال میں سے ادا کی جائے گی ۔ اور وہ ارش جو صلح کی وجہ سے واجب ہو تو وہ بھی قاتل کے مال سے ادا کیا جائے گا ۔ ] 

البتہ اس قاعدے سے یہ استثنا آگے ذکر کیا گیا ہے کہ بچے اور مجنون کا عمد بھی خطا شمار ہوتا ہے : 

و عمد الصبی و المجنون خطأ ، و فیہ الدیۃ علی العاقلۃ ۔( ایضاً ) 
[ بچے اور مجنون کا عمد خطا شمار ہوتا ہے ، اور اس میں دیت عاقلہ پر واجب ہوتی ہے ۔ ] 

۱۰۰ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو جذیمہ کو پہنچنے والے مالی نقصان کی تلافی بھی اپنی طرف سے کی تھی۔ اس سلسلے میں ایک رائے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لیے عاقلہ ہونے کے ناطے یہ تاوان ادا کیا مگر سرخسی اس موقف کو اس بنا پر رد کرتے ہیں کہ عاقلہ مالی نقصان کی تلافی کی ذمہ دار نہیں ہوتی ۔ (شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الأمان ثم یصاب المشرکون بعد أمانھم ، ج ۱ ، ص ۱۸۱) ان کے نزدیک یہ ادائیگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تبرع کی تھی ۔ ہماری ناقص رائے میں زیادہ صحیح موقف یہ ہے کہ یہ ادائیگی حکومت کی جانب سے کی گئی تھی کیونکہ مقتولین کی دیات ، مجروحین کے اروش اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے ساری ادائیگی بیت المال سے کی گئی۔ 

جہاد / جہادی تحریکات