مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل

محمد مشتاق احمد

مالاکنڈ ڈویژن میں ایک دفعہ پھر شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ کردیا گیا ہے جس کے بعد سے اس ریگولیشن کے مختلف پہلوؤں اور ان کے سیاسی و سماجی اثرات پر اہل علم کی بحث جاری ہے۔ بعض لوگوں نے اسے نفاذ شریعت کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے تو بعض دیگر لوگ اسے ’’طالبانائزیشن‘‘ اور انتہا پسندی کے مقابلے میں جمہوری اور لبرل قوتوں کی شکست سے تعبیر کررہے ہیں۔ اس مقالے میں ہماری کوشش یہ ہے کہ جذباتیت اور تعصب سے بالاتر ہوکر خالص معروضی قانونی نقطۂ نظر سے اس ریگولیشن کا جائزہ پیش کیا جائے اور اس سے متعلق چند اہم دستوری اور قانونی مسائل پر بحث کی جائے ۔ 

مسودے میں موجود چند فاش غلطیاں 

اس قانون کی مختلف شقوں پر بحث سے پہلے اس بات کی طرف توجہ دلانا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس مسودے کی تحریر میں زیادہ محنت سے کام نہیں لیا گیا۔ مسودہ پڑھتے ہوئے بار بار احساس ہوتا ہے کہ اس کی تیاری خاصی عجلت میں کی گئی ہے اور اس پر کسی نے توجہ سے نظر ثانی بھی نہیں کی۔ یہ بات نہایت عجیب اس وجہ سے بھی محسوس ہوتی ہے کہ صدر مملکت نے اس مسودہ کی منظوری میں کافی پس و پیش سے کام لیا ہے اور یہ کہ اس مسودے کو پارلیمنٹ میں بھی پیش کیا گیا تھا ۔ 

ریگولیشن کے آخر میں پہلے جدول میں ان قوانین کی فہرست دی گئی ہے جن کو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ کیا گیا ہے۔ کیا یہ نہایت عجیب بات نہیں ہے کہ اس فہرست میں مجموعۂ تعزیرات پاکستان مجریہ ۱۸۶۰ء اور مجموعۂ ضابطۂ فوجداری مجریہ ۱۸۹۸ ء موجود نہیں ہے؟ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ریگولیشن کے تیسرے جدول میں انتظامی مجسٹریٹس کے اختیارات کی تفصیل میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہیں وہ اختیارات بھی حاصل ہوں گے جو مجموعۂ تعزیرات پاکستان اور مجموعۂ ضابطۂ فوجداری میں امن و امان کے قیام کے ضمن میں دیے گئے ہیں۔ مزید حیرت اس پر ہوتی ہے کہ ریگولیشن کے پیرا ۱۹، ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ مجموعۂ ضابطۂ فوجداری کا ترمیمی آرڈی نینس مجریہ ۲۰۰۱ء منسوخ کردیا گیا ہے۔ گویا اصل متن کا تو ذکر ہی نہیں کیا گیا، البتہ اس کی چند شقوں میں ترمیم کرنے والا آرڈی نینس تو منسوخ کردیا گیا ہے! پھر کیا یہ بھی عجیب بات نہیں ہے کہ شریعت کی بالادستی کے نام پر نافذ کیے جانے والے اس ریگولیشن میں نافذ العمل قوانین کی فہرست میں قصاص و دیت ایکٹ بھی موجود نہیں ہے؟ 

قاضیوں کی تعیناتی کے ضمن میں ذکر کیا گیا ہے کہ ترجیح ان ججوں کو دی جائے گی جنہوں نے کسی مستند ادارے سے شریعت کا کورس کیا ہو، اور پھر مستند ادارے کی تعریف میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے مراد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکادمی ہے۔ شاید مسودہ لکھنے والوں کو معلوم نہیں تھا کہ اسلامی یونیورسٹی کی شریعہ اکادمی اور شریعہ فیکلٹی دو مختلف شعبے ہیں۔ اول الذکر ایک تحقیقی اور تربیتی نوعیت کا ادارہ ہے جو اسلامی قانون کے مختلف موضوعات پر تحقیقی کاوشیں شائع کرنے کا اہتمام کرتا ہے اور ساتھ ہی ججوں، وکلا اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں سے وابستہ افراد کے لیے مختصر دورانیے کے کورسز کا انعقاد کرتی ہے، جبکہ ثانی الذکر یعنی شریعہ فیکلٹی تعلیمی ادارہ ہے جہاں سے طلبہ باقاعدہ تعلیم کے ذریعے ایل ایل بی، ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ بطور جج تعیناتی کے لیے کم از کم تعلیمی اہلیت ایل ایل بی کی ڈگری ہے جو شریعہ اکادمی نہیں بلکہ شریعہ فیکلٹی دیتی ہے۔ اگر ریگولیشن کے متن کو جوں کا توں مانا جائے تو پھر وہ لوگ بھی بطور قاضی تعینات ہونے کے اہل ہوں گے جنہوں نے شریعہ اکادمی سے ’’اسلامی قانون خط و کتابت کورس ‘‘ کیا ہو! 

ایک نہایت واشگاف ( بلکہ سمجھ میں نہ آنے والی ) غلطی ’’دارل دار القضاء‘‘ کی ترکیب ہے۔ مجھے اردو، فارسی اور عربی صرف و نحو کے علوم میں اپنی کم مائیگی کا احساس ہے، لیکن اس کے باوجود میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ یہ ترکیب بالکل ہی بے معنی ہے۔ ’’ دارل دار القضاء‘‘ سے مراد وہ ادارہ ہے جہاں ’’دار القضاء‘‘ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی جائے گی۔ ( تفصیل آگے آرہی ہے ۔ ) مجھے نہیں معلوم کہ کس صاحب علم نے یہ ترکیب ایجاد کی ہے اور مجھے نہایت حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اخبارات اور میڈیا میں اس ترکیب کے مسلسل استعمال کے باوجود کسی کو یہ ترکیب کھٹکتی نہیں ہے۔ 

ان چند غلطیوں کی نشاندہی کے بعد اب اس قانون کی چند اہم شقوں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے : 

شریعت بطور بالادست قانون 

شرعی نظام عدل ریگولیشن کی سب سے اہم خصوصیت یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس کے ذریعے مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک شریعت کو بالادست قانون تسلیم کرلیا گیا ہے۔ چنانچہ ریگولیشن کے پیرا ۴ میں تصریح کی گئی ہے کہ ریگولیشن کے نفاذ کے بعد مالاکنڈ ڈویژن میں جو بھی قانون، ضابطہ یا رواج قرآن مجید یاسنت نبوی میں موجود احکامِ اسلام سے یا ایسے قانون سے متصادم ہو، جسے ریگولیشن کے ذریعے اس علاقے میں نافذ کیا گیا ہو، وہ کالعدم متصور ہوگا۔یہاں یہ وضاحت نہیں کی گئی، لیکن غالباً مراد یہی ہے کہ ایسا قانون تصادم کی حد تک، نہ کہ کلیتاً کالعدم ہوگا۔ پیرا ۶، ذیلی پیرا ۲ میں قاضیوں اور پیرا ۷، ذیلی پیرا ۲ میں انتظامی مجسٹریٹس کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال رائج الوقت قانون اور شریعت کے ثابت شدہ اصولوں (established) کی روشنی میں کریں گے۔ البتہ اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ شریعت کے ان ’’ثابت شدہ اصولوں‘‘ سے مراد کیا ہے؟ آگے پیرا ۹، ذیلی پیرا ۱ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالتی طریق کار اور مقدمات کے تنازعے کے حل کے لیے قاضی اور انتظامی مجسٹریٹس قرآن مجید، سنت نبوی، اجماع اور قیاس سے رہنمائی حاصل کریں گے اور اس ضمن میں وہ قرآن مجید اور سنت نبوی کی تشریح و توضیح کے ثابت شدہ اصولوں کی پیروی کریں گے اور اس مقصد کے لیے ’’مسلمہ‘‘ (Recognized) فقہا کی آرا و تشریحات کو بھی مد نظر رکھیں گے۔ پیرا ۱۴، ذیلی پیرا ۱ میں قرار دیا گیا ہے کہ قاضیوں اور انتظامی مجسٹریٹس کے لیے ضابطۂ اخلاق شرعی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ اسی پیرا کے ذیلی پیرا ۲ میں تصریح کی گئی ہے کہ کسی دوسرے رائج الوقت قانون کے علی الرغم اس علاقے میں تمام دیوانی و فوجداری مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں شریعت کے مطابق کریں گی، البتہ غیر مسلموں کے نکاح ، طلاق ، مہر اور وراثت کے امور کے فیصلے ان کے شخصی قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔ 

بظاہر یہ سب انتہائی انقلابی اقدامات لگتے ہیں، تاہم ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو پاکستان کے دستوری و قانونی نظام کے لیے بالکل ہی انوکھی یا اجنبی ہو۔ دستور پاکستان کی دفعہ ۲ نے اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیا ہے۔ دفعہ ۲ الف کے تحت قرارداد مقاصد، جو پہلے دستور کا دیباچہ تھا، اب دستور کا عملی حصہ ہے جس میں اقرار کیا گیا ہے کہ پوری کائنات پر حقیقی اقتدار اعلی اللہ تعالیٰ کا ہے اور پاکستان کے عوام اس کے تفویض کردہ اختیارات مقدس امانت کے طور پر استعمال کریں گے۔ دستور میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان میں قرآن وسنت میں مذکور احکام اسلام سے متصادم قانون سازی نہیں کی جائے گی اور یہ کہ تمام موجود قوانین ان احکام سے ہم آہنگ کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کو سفارشات دینے کے لیے دستور نے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ بھی تشکیل دی ہے۔ ۱۹۸۰ء سے وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ یہ کام بھی سر انجام دے رہی ہیں کہ قرآن وسنت میں مذکور احکام اسلام کو تصادم کی حد تک کالعدم قرار دیں۔ یہ صحیح ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو لازمی حیثیت نہیں دی گئی تھی، لیکن وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بنچ کے فیصلے لازمی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان عدالتوں نے بعض غیر اسلامی قوانین کے خاتمے اور بعض نئے اسلامی قوانین کے اجرا کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح ان عدالتوں نے شرعی قوانین کی توضیح اور تنفیذ کے سلسلے میں بعض اہم فیصلے سنائے ہیں۔ مجموعی لحاظ سے ان کی کارکردگی مثالی اور معیاری نہ سہی، لیکن انہیں صحیح سمت میں پیش رفت کا نام ضرور دیا جاسکتا ہے۔ 

یہاں ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ریگولیشن میں ’’شریعت‘‘ کی جو تعریف دی گئی ہے، اس پر بھی ایک نظر ڈالی جائے۔ پیرا ۲، ذیلی پیرا ۱ کی شق ’ ی ‘ میں کہا گیا ہے : ’’ شریعت سے مراد قرآن مجید ، سنت نبوی ، اجماع اور قیاس میں مذکور احکام اسلام ہیں ۔ ‘‘ 

دستور پاکستان نے ’’ قرآن مقدس اور سنت میں مذکور احکام اسلام ‘‘(Injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah) کی ترکیب کئی مقامات پر استعمال کی ہے، لیکن ’’اسلام کے احکام‘‘ (Injunctions of Islam) کی کوئی تعریف پیش نہیں کی۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی ’’سالانہ رپورٹ سال ۱۹۸۶ء‘‘ میں سینیٹ کے منظور کردہ ’’شریعت بل‘‘ کے متعلق اپنی سفارشات میں اسی ترکیب کو ’’شریعت‘‘ قرار دیا، لیکن اس رپورٹ میں بھی ’’احکام اسلام‘‘ کی تعریف پیش نہیں کی گئی ۔ تاہم تعریف کی توضیح میں بتایا گیا ہے : 

’’ احکام اسلام کی تشریح میں رہنمائی کے لیے درج ذیل مآخذ سے استفادہ کیا جائے گا : 

(۱)سنت خلفاء راشدین (۲)تعامل صحابہ (۳) اجماع امت (۴) مسلمہ فقہائے اسلام کی تشریحات و آرا۔‘‘

وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بنچ نے بھی ابھی تک اس اصطلاح کی وضاحت نہیں کی ہے حالانکہ ان کا کام یہ ہے کہ احکام اسلام سے متصادم قوانین کو کالعدم قرار دیں ۔ اس ابہام کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عملاً احکام اسلام کو قرآن و حدیث کی ’’نصوص‘‘ کے مترادف فرض کر لیا گیا ہے، چنانچہ کونسل اور عدالت بسا اوقات کسی معاملے میں یہ کہہ کر کہ کسی خاص نص میں اس کی ممانعت نہیں کی گئی ہے، اسے جائز قرار دیتی ہیں۔ بہ الفاظ دیگر، قوانین کے جواز اور عدم جواز کے لیے ’’اباحت اصلیہ‘‘ کے قاعدے کو نہایت توسیع کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے۔ اس وسعت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ’’انصار برنی کیس‘‘میں وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا کہ اباحت اصلیہ کے قاعدے کے مطابق خاتون حدود و قصاص سمیت ہر قسم کے مقدمات میں جج بن سکتی ہے، کیونکہ اس کی ممانعت کے لیے قرآن و حدیث میں کوئی صریح دلیل نہیں پائی جاتی ۔ (۱) 

۱۹۹۱ء کے نفاذ شریعت ایکٹ میں ’’شریعت‘‘ کی اسی تعریف کو دہرایا گیا ہے۔ ۲۰۰۳ء میں ایم ایم اے حکومت نے صوبہ سرحد میں شرعی قانون ایکٹ پاس کیا جو درحقیقت ۱۹۹۱ء کے نفاذ شریعت ایکٹ کا چربہ تھا، البتہ اس ایکٹ میں شریعت کی تعریف میں یہ اضافہ کیا گیا کہ قرآن و سنت میں مذکور یا ’’ان سے ماخوذ‘‘ احکامِ اسلام کو شریعت قرار دیا گیا۔ مسودہ لکھنے والے غالباً یہ بتانا چاہتے تھے کہ اسلام کے احکام سے صرف نصوص (texts) نہیں مراد بلکہ قواعد عامہ اور مقاصد شریعت بھی اس میں شامل ہیں، لیکن ’’ماخوذ احکام ‘‘ کی اصطلاح بھی مبہم تھی اور ’’اخذ‘‘ کا طریقہ بھی غیر واضح رہا، اس لیے تعریف واضح ہونے کے بجائے مزید مبہم ہوگئی۔ اب اس ریگولیشن میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ قرآن وسنت کے علاوہ اجماع اور قیاس میں مذکور احکام کو بھی شریعت قرار دیا گیا ہے۔ اس تعریف پر چند سوالات قائم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا اجماع اور قیاس میں احکام اسلام ’’مذکور‘‘ ہوتے ہیں یا یہ قرآن و سنت سے احکام اخذ کرنے کے ذرائع ہیں؟ نیز اگر قیاس اور اجماع سے ثابت شدہ احکام شریعت کا حصہ ہیں تو استحسان اور دیگر مآخذ سے ثابت شدہ احکام کیوں شریعت کا حصہ نہیں ہیں؟ ریگولیشن نے بھی ’’احکام اسلام‘‘ کی وضاحت نہیں کی۔ 

احکام اسلام کے متعلق اس ابہام کا ایک لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی طرح مالاکنڈ ڈویژن میں بھی عدالتیں فقہا کی تصریحات کو نظر انداز کرکے براہ راست قرآن و حدیث سے استدلال کی راہ اختیار کر لیں گی۔ اس براہ راست استدلال میں کئی قباحتیں ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس طرح عدالتیں پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کے چکر میں پھنس جائیں گی جو نہ صرف وقت اور توانائی کا ضیاع ہوگا بلکہ اس کوشش میں قانون اندرونی تضادات کا بھی شکار ہوجائے گا۔ نیز اس طرح بسا اوقات اجماع امت کی بھی خلاف ورزی ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر ’’بیگم رشیدہ پٹیل کیس‘‘ میں عدالت نے زنا بالجبر کو حد حرابہ کے تحت لانے کا حکم دیا، لیکن اس بات پر بحث ہی نہیں کی کہ اسے حد حرابہ قرار دینے کے بعد کیا اس پر حرابہ کی سزا دی جائے گی یا اس کی سزا وہی رہے گی جو حد زنا آرڈی نینس میں مقرر کی گئی تھی؟ (۲) 

اگر ایک لمحے کے لیے ’’احکام اسلام ‘‘ کی تعریف کی تعیین کا مسئلہ نظر انداز کیا جائے تو دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احکام اسلام، جو کچھ بھی وہ ہوں، کے ساتھ تصادم کا فیصلہ عدالتیں کس بنیاد پر کریں گی؟ قرآن و سنت کے آپس میں تعلق، خبر واحد کی حجیت، نسخ قرآن، عام کی تخصیص، مطلق کی تقیید، مجمل کی تفسیر اور اس طرح کے دیگر اصولی مباحث میں وہ کیا نظریہ اپنائیں گی؟ ریگولیشن نے ’’مسلمہ فقہا‘‘ کے ’’ثابت شدہ اصولوں‘‘ کی پیروی کا تو ذکر کیا ہے لیکن ان دونوں تراکیب کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ نیز اس بات کی بھی کوئی وضاحت ریگولیشن میں نہیں کی گئی کہ کیا عدالتیں فقہا کی آرا میں اخذ و رد کے لیے آزاد ہوں گی؟ یہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ اصول فقہ کے متعلق ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ تمام مذاہب فقہ کواصول کے معاملے میں ’’ایک نظریہ‘‘ کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔(۳) عصر حاضر میں مختلف مذاہب سے اخذ و رد کے نتیجے میں جو مضحکہ خیز صورتیں پیدا ہوئی ہیں، ان کی سب سے بڑی وجہ یہی غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہاے اسلام نے اصول کے معاملے میں کم از کم تین نظریے اپنائے ہیں۔(۴) ایک نظریے کے تحت جب ایک اصول مان لیا گیا تو دوسرے اصول بھی اسی نظریے کے مطابق مقرر کیے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مذہب ایک اندرونی طور پر مستحکم قانونی نظام کی صورت میں ابھرا۔ فروع سے بھی آگے بڑھ کر جب اصول میں بھی ’’ تلفیق‘‘ کی راہ اختیار کی جاتی ہے تو نتیجہ قانون کے اندر تضادات (Analytical Inconsistency) کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس لیے احکام اسلام کی تعریف متعین کرنے کے علاوہ ضروری یہ ہے کہ قرآن و سنت سے احکام اسلام کے اخذ، اور پھر ان اخذ شدہ احکام کے ساتھ قوانین کے تصادم یا عدم تصادم کا فیصلہ کرنے کے لئے اصول متعین کر لیے جائیں۔ 

رائج الوقت قوانین کا نفاذ 

ریگولیشن نے کئی ملکی قوانین کو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل قرار دیا ہے، چنانچہ پیرا ۳ نے تصریح کی ہے کہ ریگولیشن کے پہلے جدول میں مذکور قوانین مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل ہوں گے۔ البتہ ساتھ ہی تصریح کی ہے کہ ان قوانین اور ریگولیشن میں تصادم کی صورت میں ریگولیشن میں مذکور قواعد پر عمل ہوگا۔ پہلے جدول میں موجود قوانین کی فہرست کا جائزہ لینے سے چند دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر فیملی کورٹس ایکٹ ۱۹۶۴ء مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل ہوگا، لیکن نہ تو مسلم فیملی لاز آرڈی نینس ۱۹۶۱ء کو اور نہ ہی ڈیزولوشن آف مسلم میرجز ایکٹ ۱۹۳۹ء کو اس علاقے میں نافذ کیا گیا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ ایسی صورت میں فیملی کورٹس کس قانون پر عمل کریں گی؟ 

اسی طرح حدود آرڈی نینسز کو تو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ کیا گیا ہے لیکن قانون برائے تحفظ نسواں ۲۰۰۶ء ، جس نے حد زنا آرڈی نینس اور حد قذف آرڈی نینس میں دور رس تبدیلیاں کی ہیں، اسے نافذ نہیں کیا گیا ۔ گویا مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک حدود قوانین اسی صورت میں نافذ ہوں گے جس صورت میں وہ تحفظ نسواں کے قانون کے نفاذ سے پہلے تک پاکستان کے دیگر علاقوں میں تھے۔ اب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان حدود قوانین میں ایسے کئی قواعد دیے گئے ہیں جو شریعت سے متصادم ہیں۔ مثال کے طور پر حد زنا آرڈی نینس نے جرم زنا کو ’’زنا مستوجب حد‘‘ اور ’’زنا مستوجب تعزیر‘‘ کی دو قسموں میں تقسیم کیا تھا، لیکن شریعت کی رو سے ’’زنا مستوجب تعزیر‘‘ نامی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ۔ (۵) اسی طرح حد قذف آرڈی نینس میں ’’نیک نیتی ‘‘ (good faith) پر مبنی اتہام کو قذف کی تعریف سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جو شریعت کی واضح نصوص کے خلاف ہے۔(۶) اب سوال یہ ہے کہ جب مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کو بالادست قانون کی حیثیت دی گئی ہے تو وہاں کی عدالتیں ان قواعد و ضوابط کے ساتھ کیا کریں گی جو شریعت سے متصادم ہوں؟ کیا ان ماتحت عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ کسی شق کو شریعت سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دیں؟ 

ریگولیشن کے پہلے جدول میں دیے گئے قوانین کی فہرست میں صارف کے تحفظ کا قانون ۱۹۹۷ء، ماحول کے تحفظ کاقانون ۱۹۹۷ء اور بچوں کے روزگار کے قانون ۱۹۹۱ء کو دیکھ کر تو خوشگوار حیرت ہوئی ہی تھی، لیکن سب سے زیادہ حیرت نوادرات کے قانون ۱۹۷۵ء کو دیکھ کر ہوئی جس کے تحت بہت سی ایسی نوادرات کا تحفظ قانوناً لازم ہے جنہیں طالبان کا فہمِ شریعت شرک اور کفر کی علامات گردان کر نہی عن المنکر کے قاعدے کے تحت مٹانا لازم قرار دیتا ہے۔ البتہ فہرست میں ایسے قوانین بھی دیے گئے ہیں جن سے شاید طالبان کو زیادہ دلچسپی ہو، جیسے بدکاری کے تدارک کا آرڈی نینس (Suppression of Prostitution Ordinance) ۱۹۶۱ء، غیر اخلاقی اشتہارات پر پابندی کا قانون ۱۹۶۳ء، جوے کی روک تھام کا قانون ۱۹۷۷ء، پتنگ بازی پر پابندی کا قانون ۲۰۰۶ء وغیرہ۔ تاہم بعض قوانین اس فہرست میں ایسے بھی ہیں جنہیں انتظامیہ ان کے خلاف بھی استعمال کرسکتی ہے، جیسے لاؤڈ سپیکر اور ساؤنڈ ایمپلی فائر کے کنٹرول اور انضباط کا قانون ۱۹۶۵ء۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ریگولیشن نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا ) آرڈی نینس ۲۰۰۲ء کو بھی مالاکنڈ میں نافذ کردیا ہے۔ 

دار القضاء اور ’’دار ل دار القضاء ‘‘کی تشکیل 

ریگولیشن کے پیرا ۲ ذیلی پیرا ۱ کی شق ’ب‘ میں قرار دیا گیا ہے کہ دستور پاکستان کی دفعہ ۱۸۳ کی ذیلی دفعہ ۲ کے تحت صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں ’’دار ل دار القضاء‘‘کی تشکیل کی جائے گی جو اپیل اور نظر ثانی کے لیے آخری عدالت ہوگی۔ دستور پاکستان کی دفعہ ۱۸۳ کی ذیلی دفعہ ۲ کا جائزہ لیا جائے تو وہاں مختلف علاقوں میں سپریم کورٹ کے بنچ کی تشکیل کا ذکر ہے۔ گویا ریگولیشن میں طے پایا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں سپریم کورٹ کی بنچ قائم کی جائے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دستور پاکستان کی متعلقہ دفعہ میں قرار دیا گیا ہے کہ بنچ کا قیام چیف جسٹس کا اختیار ہے، تاہم یہ کام چیف جسٹس صدر پاکستان کی منظوری سے کریں گے۔ پس محض ریگولیشن کے نفاذ سے ’’دار ل دار القضاء‘‘کی تشکیل نہیں کی جاسکتی۔ ریگولیشن گورنر نے نافذ کیے ہیں، لیکن سپریم کورٹ کی بنچ کا قیام گورنر یا صدر کاکام نہیں، بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان کا کام ہے ۔ 

اسی طرح آگے شق ’ج‘میں قرار دیا گیا ہے کہ دستور پاکستان کی دفعہ ۱۹۸ کی ذیلی دفعہ ۴ کے تحت صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں ’’دار القضاء‘‘ کی تشکیل کی جائے گی۔ دستور کی متعلقہ دفعہ میں ہائی کورٹ کے بنچ کے قیام کا ذکر ہے اور قرار دیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے علاقائی بنچ کی تشکیل گورنر کابینہ کی تجویز پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورے سے کرے گا۔ پس دارل دار القضاء کی طرح دار القضاء کا قیام بھی ریگولیشن کے نفاذ سے از خود وجود میں نہیں آئے گا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ گورنر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشورہ لے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ۱۹۹۶ء کے مشہور ججز کیس میں سپریم کورٹ نے طے کیا ہے کہ چیف جسٹس کا مشورہ ماننا گورنر پر لازم ہے ۔ 

پس ایک بات تو طے ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں قائم تمام نئی اور پرانی عدالتیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ماتحت اور ان کی نگرانی میں ہی کام کریں گی۔ چنانچہ ریگولیشن کے پیرا ۶ ذیلی پیرا ۳ میں تصریح بھی کی گئی ہے کہ تمام عدالتیں ’’دار القضاء‘‘ (ہائی کورٹ ) کی مرکزی سیٹ کے زیر نگرانی کام کریں گی۔ اسی طرح پیرا ۱۲ میں تصریح کی گئی ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف دار القضاء ( ہائی کورٹ) یا دارل دار القضاء (سپریم کورٹ) میں اپیل اور نظر ثانی کا طریق کار دستور پاکستان کی دفعات کے مطابق ہوگا۔ البتہ ریگولیشن میں دار القضاء ( ہائی کورٹ) کے اختیارات پر چند قدغنیں لگائی گئی ہیں جن کی دستوری حیثیت مشتبہ ہے۔ مثال کے طور پر ریگولیشن کے پیرا ۱۰ ذیلی پیرا ۸ میں قرار دیا گیا ہے کہ جس عدالت میں اپیل دائر کی جائے، وہ پابند ہوگی کہ تیس دنوں کے اندر اس مقدمے کا فیصلہ کرے۔ کیا ریگولیشن کے ذریعے ہائی کورٹ کو اس بات کا پابند کیا جاسکتا ہے؟ اسی طرح اس دفعہ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالت کسی بھی صورت میں اس بات کی مجاز نہیں ہوگی کہ وہ کیس واپس ماتحت عدالت کو ریمانڈ کرے۔ کیا ریگولیشن کے ذریعے ہائی کورٹ کے اختیارات پر اس طرح کی قدغن لگائی جاسکتی ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریگولیشن میں دار القضاء یا دارل دار القضاء کے متعلق زیادہ تفصیلات نہیں پائی جاتیں۔ تاہم چونکہ اول الذکر ہائی کورٹ کے بنچ کا اور ثانی الذکر سپریم کورٹ کے بنچ کا نام ہے، اس لیے دستوری اور قانونی لحاظ سے ان پر وہ تمام اصول لاگو ہوں گے جو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بنچوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ججوں کی تعیناتی اور اس سے متعلقہ دیگر تمام امور کے لیے اصول وہی ہوں گے جو دستور پاکستان میں طے کیے گئے ہیں اور جن کی تشریح و توضیح سپریم کورٹ ججز کیس میں کرچکی ہے۔ 

قاضیوں کی تعیناتی 

بعض لوگوں نے قاضی عدالتوں کے قیام اور قاضیوں کی تعیناتی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بعض دیگر لوگوں نے قاضیوں کی تعیناتی کو ایک بڑا انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے اسے اسلامی عدالتی نظام کے نفاذ سے تعبیر کیا ہے۔ ان دونوں فریقوں نے شاید ریگولیشن کا مسودہ پڑھے بغیر ہی رائے قائم کی ہے۔ اس سلسلے میں ریگولیشن کی شقوں کا مختصر جائزہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ 

ریگولیشن کے پیرا ۲، ذیلی پیرا ۱ کی شق ’الف ‘ میں ’’عدالت ‘‘ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : 

"Court" means the court of competent jurisdiction established and designated as such under this Regulation 
[’’عدالت ‘‘ سے مراد اختیار سماعت کی اہلیت رکھنے والی عدالت ہے جسے اس ریگولیشن کے ذریعے قائم کیا گیا اور اس نام سے موسوم کیا گیا ہو ۔] 

پیرا ۵ میں قرار دیا گیا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں دار القضاء اور دارل دار القضاء کے علاوہ درج ذیل عدالتیں کام کریں گی : 

( الف ) ضلع قاضی کی عدالت (ب ) اضافی ضلع قاضی کی عدالت 

( ج ) اعلیٰ علاقہ قاضی کی عدالت (د) علاقہ قاضی کی عدالت اور 

(ہ) انتظامی مجسٹریٹ کی عدالت 

ان میں انتظامی مجسٹریٹس کا معاملہ مختلف ہے جس کو آگے الگ ذکر کیا جائے گا ۔ دیگر چار قسم کی عدالتوں کی تفصیل یہ ہے : 

پیرا ۲، ذیلی پیرا ۱ کی شق ’ز‘ میں ’’قاضی ‘‘ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : 

"Qazi" means a duly appointed judicial officer as specified and designated in column (3) of Schedule II. 

[’’قاضی ‘‘ سے مراد باقاعدہ تعینات کیا گیا عدالتی افسر ہے جسے دوسے جدول کے تیسرے کالم میں اس نام سے موسوم کیا گیا ہو ۔] 

پھر پیرا ۶ کے ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ یہ عدالتیں انہی اختیارات کی حامل ہوں گی جو صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں ان عدالتوں کو حاصل ہیں جو ریگولیشن کے دوسرے جدول میں مذکور ہیں ۔ 

ریگولیشن کے دوسرے جدول میں مالاکنڈ ڈویژن کی عدالتوں اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کی عدالتوں کا تقابل اس طور پر پیش کیا گیا ہے: 

صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں عدالت کا نام > مالاکنڈ ڈویژن میں عدالت کا نام 

(۱) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  > ضلع قاضی 

(۲) اضافی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج > اضافی ضلع قاضی 

(۳) سینیئر سول جج /دفعہ ۳۰ ضابطۂ فوجداری کے تحت تعینات شدہ جیوڈیشل مجسٹریٹ > اعلیٰ علاقہ قاضی 

(۴) سول جج / جیوڈیشل مجسٹریٹ > علاقہ قاضی 


پس بنیادی طور پر تو یہ صرف ناموں کی تبدیلی کا مسئلہ ہے۔ 

ریگولیشن کے پیرا ۱۱ کے ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ ضلع قاضی، اضافی ضلع قاضی یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد ڈیڑھ سو (۱۵۰) سے زائد ہونے پر حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ نئی عدالتیں قائم کرے۔ اسی طرح اعلیٰ علاقہ قاضی، علاقہ قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التوا مقدمات کی تعداد دو سو (۲۰۰) سے بڑھنے پر حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ نئی عدالتیں قائم کرے ۔ 

اس سلسلے میں ریگولیشن کی دفعہ ۶ ذیلی دفعہ ۱ میں قرار دیا گیا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں میں تعیناتی کے لیے ان ججوں کو ترجیح دی جائے گی جو کسی مستند ادارے سے شریعت کے کورس کے سند یافتہ ہوں۔ پیرا ۲، ذیلی پیرا ۱ کی شق ’ ح ‘ میں قرار دیا گیا ہے کہ ’’مستند ادارے ‘‘ سے مراد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکادمی یا حکومت سے منظور شدہ ایسا ادارہ ہے جو علوم شرعیہ کی تعلیم دیتا ہو ۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ، یہاں بظاہر متن میں غلطی واقع ہوئی ہے ۔ اگر شریعہ اکادمی سے شریعہ فیکلٹی مراد ہو تو پھر ’’شریعت کے کورس‘‘ سے مراد ایل ایل بی شریعہ و قانون کی ڈگری ہوگی۔ تاہم اگر یہاں غلطی واقع نہیں ہوئی اور شریعہ اکادمی سے اکادمی ہی مراد ہے تو پھر شریعت کے کورس سے مراد وہ مختصر دورانیے کے خصوصی کورسز ( اور خط و کتابت کورسز ) ہوں گے جو شریعہ اکادمی اسلامی قانون میں تربیت کے لیے وقتاً فوقتاً منعقد کرتی رہتی ہے۔ اس مسئلے میں قانون کے صحیح منشا کی توضیح حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شریعہ فیکلٹی کے سند یافتہ طلبہ کو چونکہ ایل ایل بی شریعہ و قانون کی ڈگری دی جاتی ہے، اس لیے بطور جج ان کی تعیناتی قانونی لحاظ سے بالکل درست ہے۔ البتہ دینی مدارس جو ’’علوم شرعیہ کی تعلیم ‘‘دیتے ہیں، کی اسناد کا ایل ایل بی کے برابر ہونا تو درکنار، ان کا بی اے کے برابر ہونا بھی ابھی تک مشتبہ ہے۔ اس لیے دینی مدارس کی اسناد کے حاملین کی بطور جج یا قاضی تعیناتی قانونی لحاظ سے صحیح نہیں ہوگا۔ 

انتظامی مجسٹریٹس کی عدالتیں 

جرائم کے سدباب اور مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے ریگولیشن نے انتظامی مجسٹریٹس کی عدالتیں تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ چنانچہ پیرا ۷ کی ذیلی دفعہ ۱ میں قرار دیا گیا ہے کہ ہر ضلع میں ضرورت کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، اضافی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ تعینات کیے جائیں گے۔ ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ یہ مجسٹریٹ تمام کاروائی شریعت اور رائج الوقت قوانین کے مطابق کریں گے۔ ذیلی دفعہ ۳ میں طے کیا گیا ہے کہ شریعت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق امن و امان کے قیام، حکومتی فیصلوں کے نفاذ اور جرائم کی روک تھام -’’ سد ذرائع جنایات ‘‘- ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کام ہوگا۔ ذیلی پیرا ۴ میں قرار دیا کیا گیا ہے کہ ریگولیشن کے تیسرے جدول میں مذکور مسائل سے نمٹنے کا اختیار صرف انتظامی مجسٹریٹ کے پاس ہوگا۔ بالفاظ دیگر ان معاملات میں قاضیوں کو مداخلت کا اختیار نہیں ہوگا۔ تیسرے جدول میں مندرجہ ذیل امور ذکر کیے گئے ہیں: 

۱۔ مجموعۂ تعزیرات پاکستان کے تحت وہ تمام جرائم جن کی سزا تین سال تک قید ہو، خواہ اس کے ساتھ جرمانے کی سزا ہو یا نہ ہو۔ 

۲۔ کسی دیگر خصوصی یا علاقائی قانون (Special or local law) کے تحت وہ تمام جرائم جن کی سزا تین سال تک قید ہو، خواہ اس کے ساتھ جرمانے کی سزا ہو یا نہ ہو۔

۳۔ مجموعۂ تعزیرات پاکستان اور مجموعۂ ضابطۂ فوجداری کے تحت جرائم Public Nuisance کے سد باب کے لیے ضروی اقدامات۔

۴ ۔ کسی لائسنس یا پرمٹ میں مذکور شرائط کی خلاف ورزی پر کارروائی۔ 

اس سے ایک تو یہ بات پھر واضح ہوگئی کہ اس ریگولیشن میں صرف نام کی تبدیلی سے قانون کو اسلامیانے کی کوشش کی گئی ہے، چنانچہ ’’ سد ذرائع جنایات‘‘ سے مراد مجموعۂ تعزیرات پاکستان اور مجموعۂ ظابطۂ فوجداری کے تحت اٹھائے جانے والے Preventive Measures ہیں ۔ 

دوسری بات یہ قابل توجہ ہے کہ کسی لائسنس ( مثلاً ایف ایم ریڈیو کے لائسنس ) کی شرائط کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار انتظامی مجسٹریٹ کو دیا گیا ہے ، نہ کہ قاضی کو ۔ 

تیسری بات، جو سب سے زیادہ اہم ہے، یہ ہے کہ اس ریگولیشن کے ذریعے پرانی افسر شاہی (Bureaucracy ) کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو نہ صرف دستور پاکستان کی واضح شقوں کی خلاف ورزی ہے، بلکہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلوں سے بھی متصادم ہے۔ دستور کی دفعہ ۱۷۵ کی ذیلی دفعہ ۳ میں طے کیا گیا تھا کہ عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدہ کا کام بتدریج پانچ سالوں میں تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ بعد میں دستور میں ترمیم کے ذریعے اس مدت کو چودہ سال کردیا گیا۔ یہ مدت ۱۹۸۷ء میں پوری ہوئی۔ تاہم افسر شاہی، جس نے عدالتی اختیارات کا مزا چکھ لیا تھا، اس علیحدگی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی رہی اور مختلف سیاسی لیڈر بھی انتظامیہ کے عدالتی اختیارات کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے عادی ہوچکے تھے۔ وہ بھی اس علیحدگی کے سخت مخالف تھے ۔ تاہم ان سیاستدانوں اور افسر شاہی کے اس ٹولے کے علی الرغم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں انتظامیہ اور عدلیہ کی علیحدگی بالآخر ۱۹۹۶ء میں عمل میں لائی گئی۔ اس کے بعد سے افسر شاہی نے بارہا کوشش کی ہے کہ کسی طرح عدالتی اختیارات اسے دوبارہ حاصل ہوجائیں۔ اس ریگولیشن کے نفاذ سے کم از کم مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک افسر شاہی اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس اقدام کو درست قرار دیں گی؟ 

چوتھی بات یہ عرض کرنی ہے کہ جب تین سال تک کی سزا والے جرائم کے لیے اختیار سماعت صرف انتظامی مجسٹریٹس کو ہو، ’’سد ذرائع جنایات‘‘ ( ضابطۂ فوجداری کی دفعات ۱۰۶ تا ۱۵۳ ، بشمول دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے) کا اختیار بھی صرف انتظامی مجسٹریٹس کے پاس ہو، اور اسی طرح لائسنسوں اور پرمٹوں کی خلاف ورزی پر کارروائی کا ختیار بھی صرف انتظامی مجسٹریٹس ہی رکھتے ہوں، تو نام نہاد قاضی صاحبان کے پاس کرنے کے لیے کیا رہ جائے گا؟ اسی طرح ’’غیر قانونی اجتماع ‘‘ (Unlawful Assembly) میں شمولیت پر مجموعۂ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۱۴۲ کے تحت چھ ماہ تک قید کی سزا ہے، اور اگر اس اجتماع میں شامل ہونے والے کسی فرد کے پاس ہتھیار بھی ہوں تو اس کی سزا دفعہ ۱۴۴ کے تحت دو سال تک قید ہے۔ ریگولیشن کے تحت ان دونوں صورتوں میں عدالتی کاروائی کا تمام تر اختیار صرف اور صرف انتظامی مجسٹریٹس کے پاس ہوگا اور قاضی صاحبان صرف منہ دیکھتے رہ جائیں گے ۔ 

صلح کے لیے قواعد 

ریگولیشن کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ صرف دیوانی تنازعات، بلکہ فوجداری مقدمات میں بھی صلح کے لیے اصول و ضوابط دیے گئے ہیں ۔ پہلے دیوانی تنازعات کو لے لیجیے ۔ 

ریگولیشن کے پیرا ۱۳ کے مطابق کسی مقدمے میں گواہی ریکارڈ کیے جانے سے قبل اگر مقدمے کے تمام فریق باہمی رضامندی سے تنازعے کو مصلح یا مصلحین کے ذریعے حل کرنا چاہیں تو انہیں اس کا حق حاصل ہوگا۔ اگر وہ مصلح یا مصلحین کے نام پر متفق نہ ہوں تو پھر عدالت ان کے لیے مصلح یا مصلحین کا تعین کرے گی۔ اگر مصلح یا مصلحین اس تنازعے کو حل نہ کرپائیں، یا حل کرنے سے انکار کریں، یا عدالت کی رائے میں صلح کی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر سے کام لیا جارہا ہو ، تو ہر تین صورتوں میں عدالت صلح کی کاروائی کو روک دے گی اور پھر عدالت ہی اس تنازعے کو شریعت کے مطابق حل کرے گی۔ اس سلسلے میں یہ بھی ضروری نہیں کہ کوئی فریق صلح کی کارروائی روکنے کے لیے عدالت کو درخواست دے، بلکہ عدالت از خود (suo moto) بھی اس معاملے میں اقدام کر سکتی ہے۔ مصلحین کے پاس تنازعے کو حل کرنے کے لیے پندرہ دن ہوں گے، تاہم عدالت بعض حالات میں مزید پندرہ دن دے سکتی ہے۔ پھر بھی اگر تنازعہ حل نہ ہوسکا تو عدالت صلح کی کارروائی کو کالعدم قرار دے دے گی اور پھر تنازعہ عدالت میں ہی حل کیا جائے گا۔ اگر مصلحین اتفاق رائے سے تنازعے کو حل نہ کر پائیں تو پھر اکثریتی رائے اور اقلیتی رائے اپنے دلائل سمیت عدالت میں پیش کی جائیں گی۔ اسی طرح اگر اتفاق رائے سے فیصلہ ہو تب بھی اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پھر اگر عدالت کی رائے میں اکثریت کا فیصلہ، اقلیت کا فیصلہ یا متفقہ فیصلہ شریعت کے مطابق ہو تو وہ اس پر عمل درآمد کے احکامات جاری کرے گی، اور اگر عدالت کی رائے یہ ہو کہ فیصلہ شریعت کے مطابق نہیں ہے تو وہ اسے کالعدم قرار دے کر اس تنازعے کو شریعت کے اصولوں کی روشنی میں حل کرے گی۔ کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے قبل عدالت تنازعے کے تمام فریقوں کو اپنے اعتراضات ریکارڈ کرنے کا موقع دے گی جن کا جائزہ لینے کے بعد ہی عدالت کوئی فیصلہ کرے گی۔ 

اصولاً اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ دیوانی تنازعات کو عدالت میں لے جانے کے بجائے مصلحین کے ذریعے حل کیا جائے بشرطیکہ مصلحین کا فیصلہ، شریعت، دستور اور قانون سے متصادم نہ ہو اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ پاکستان میں رائج الوقت قانون کے مطابق بھی ثالث کے ذریعے تنازعے کو حل کرنے کے لیے قانون ثالثی (Arbitration Act) موجود ہے اور بالعموم ثالثی کے طریق کار کو عدالتی طریق کار پر ترجیح دی جاتی ہے، تاہم قانون ثالثی کا ریگولیشن میں مذکور صلح کے طریق کار سے موازنہ کیا جائے تو ایک بار پھر یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ ریگولیشن کا مسودہ بنانے والوں کی نظر میں انصاف اور قانون کا نہایت ہی ابتدائی اور سادہ قسم کا تصور ہے اور وہ عملی زندگی کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہیں۔

مثال کے طور پر ریگولیشن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر تمام فریق صلح کی کاروائی پر راضی نہ ہوں، چند فریق صلح کرنا چاہیں اور چند فریق عدالت میں جانا چاہیں، تو کیا کیا جائے گا؟ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں صلح کی کارروائی ممکن نہیں ہوگی۔ تاہم اگر مقدمے کے پانچ فریق ہوں اور ان میں دو فریقوں کا آپس میں تنازعہ کچھ اس قسم کا ہو جسے باقی تنازعے سے الگ کیا جاسکتا ہو اور اگر وہ تنازعہ حل ہوجائے تو یہ دو فریق ایک فریق کی صورت اختیار کرسکیں گے، تو اس صورت میں ان دو فریقوں کو ان کے خصوصی باہمی تنازعے کو صلح کے ذریعے حل کرنے میں کیا قباحت ہے؟ اس بات کی بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ مصلحین کے فیصلے کی شرعی حیثیت متعین کرنے سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ کہ عدالت جائزہ لے گی کہ آیا مصلحین نے اس امر کا صحیح تعین کیا ہے کہ تنازعے کے فریقوں میں کون حق پر تھا اور کون باطل پر؟ یا یہ کہ عدالت صرف اس بات کا جائزہ لے گی کہ جن شرائط پر صلح ہوگئی ہے، وہ شرعی طور پر صحیح ہیں یا نہیں ؟ اگر عدالت اس تفصیل میں جائے گی کہ کون سا فریق حق پر تھا تو پھر اس میں مزید وقت لگے گا اور پھر مصلح کے پاس جانے کا فائدہ ہی کیا ہوگا؟ نیز ثالث (حَکَم ) کے فیصلے اور مصلح کے فیصلے میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ثالث اپنی سمجھ کے مطابق قانونی فیصلہ کرتا ہے اور متعین کرتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر؟ جبکہ مصلح حق اور باطل کے چکر میں پڑے بغیر فریقین کے تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس لیے وہ بعض اوقات صاحب حق کو اپنے حق سے دستبردار ہونے کے لیے بھی کہہ دیتا ہے ۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قانون ثالثی میں اس بات کی گنجایش رکھی گئی ہے کہ کسی دیوانی مقدمے میں عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل کسی بھی وقت مقدمے کے فریق تنازعے یا اس کے کسی جزو کو ثالثی کے ذریعے حل کرانے کے لیے عدالت کو درخواست دے سکتے ہیں۔ ریگولیشن میں اس بات کی گنجائش نہیں رکھی گئی حالانکہ یہ اصول عدالت کا وقت بچانے کے لیے نہایت مفید ہے ۔ 

ریگولیشن نے فوجداری مقدمات میں صلح کے لیے بھی یہی اصول دیے ہیں جو دیوانی مقدمات کے لیے ہیں ۔ تاہم پیرا ۱۳، ذیلی پیرا ۱ کے تحت حدود قوانین کے تحت آنے والے مقدمات اور ایسے فوجداری مقدمات جن میں وفاقی یا صوبائی حکومت فریق ہو، صلح کے دائرۂ کار سے خارج کردیے گئے ہیں۔ حدود جرائم کو صلح سے مستثنیٰ قرار دینے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے۔ اسلامی قانون کے اصولوں کے تحت حدود جرائم حق اللہ کی کی خلاف ورزی پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے ان میں معافی یا صلح کی گنجایش نہیں ہوتی۔ قصاص میں اسلامی قانون حق العبد کو غالب قرار دیتا ہے، اس لیے متاثرہ فرد یا اس کے ورثا کو معافی اور صلح کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تعزیر کو اسلامی قانون حق العبد پر اعتدا قرار دیتا ہے، اس لیے اس میں بھی معافی اور صلح کی گنجایش ہوتی ہے۔ تاہم جرائم کی اکثریت کو اسلامی قانون ’’سیاسۃ ‘‘ کے اصول کے تحت لاتا ہے جس میں معافی اور صلح کا اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے کیونکہ فقہا سیاسۃ کو حق الامام قرار دیتے ہیں۔ (۷) مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں مذکور جرائم کی غالب اکثریت سیاسۃکے تحت آتی ہے۔ حکومت نے اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے بہت سے جرائم کو ناقابل صلح (not compoundable) قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب ان بہت سارے جرائم میں بھی صلح کی جاسکے گی جو قانوناً ناقابل صلح ہیں؟ مثلاً تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۴۶۸ کے تحت جعلی دستاویز تیار کرنا جرم ہے جو ناقابل دست اندازی پولیس (non cognizable)جرم ہے، یعنی جس میں پولیس عدالتی وارنٹ کے بغیر از خود گرفتاری نہیں کرسکتی۔ عدالت کسی متاثرہ شخص کی شکایت (complaint) پر ہی کارروائی شروع کرے گی ۔ تاہم یہ جرم ناقابل صلح ہے ۔ کیا مالاکنڈ ڈویژن میں یہ جرم بھی قابل صلح ہوگا؟ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ ریگولیشن کے پیرا ۱۸ کے مطابق اس ریگولیشن کو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ کسی بھی دوسرے قانون پر بالادست حیثیت (overriding effect) دی گئی ہے۔ 

ایک اور سوال حدود قوانین کے متعلق پیدا ہوتا ہے ۔ جیسا کہ عام طور پر معلوم ہے، حدود آرڈی نینسز میں حدود جرائم اور سزاؤں کے علاوہ بہت سے ایسے جرائم ذکر کیے گئے تھے جن کو ’’تعزیر‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ درحقیقت ان تعزیری جرائم میں اکثریت کا تعلق سیاسۃ کی قسم سے تھا ۔ ایسے تقریباً تمام جرائم کو ۲۰۰۶ء میں قانون برائے تحفظ نسواں نے حدود قوانین سے نکال کر مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں ڈال دیا ہے ۔ تاہم اس تحفظ نسواں کے قانون کو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ نہیں کیا گیا، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ۔ اس لیے مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک حدود قوانین میں یہ تعزیری جرائم بدستور موجود ہیں۔ ریگولیشن نے حدود قوانین کے تحت آنے والے جرائم کو ناقابل صلح قرار دیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ حدود قوانین میں مذکور یہ تعزیری جرائم بھی ناقابل صلح ہیں۔ کیا اس تضاد کی کوئی توجیہ کی جاسکتی ہے؟ 

دیوانی اور فوجداری مقدمات کے نمٹانے میں تاخیر کا سدباب 

ریگولیشن میں کوشش کی گئی ہے کہ دیوانی اور فوجداری مقدمات کے نمٹانے میں واقع ہونے والی تاخیر کا سد باب کیا جائے۔ پہلے فوجداری مقدمات کا معاملہ دیکھیے ۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل قواعد دیے گئے ہیں : 

(۱) ریگولیشن کے پیرا ۸ کے تحت ایس ایچ او کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ۲۴ گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر کی کاپی اور ۱۴ دنوں کے اندر مکمل چالان قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرے۔ تاہم قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کا یہ اختیار تسلیم کیا گیا ہے کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہ اس مدت میں اضافہ کرے۔ واضح رہے کہ یہ مدت صلح کی کارروائی کے لیے دی گئی مدت سے زائد ہوگی ۔ صلح کی کارروائی پر بحث اوپر گزر چکی ہے۔ 

(۲) اسی پیرا میں قرار دیا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں مکمل چالان پیش نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ ایس ایچ او یا تفتیشی افسر کے خلاف قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ مجاز حکام کو انضباطی کارروائی کے لیے شکایت کرے گا اور مجاز حکام اس شکایت پر فوری انضباطی کارروائی کرکے قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کو آگاہ کریں گے۔ 

(۳) ریگولیشن کے پیرا ۱۰ کے تحت قاضی انتظامی مجسٹریٹ کی ذمہ داری ہوگی کہ فوجداری مقدمے کی کارروائی چار مہینوں میں نمٹائے۔ اگر کسی وجہ سے قاضی اس مدت میں کارروائی پوری نہ کرسکے تو وہ ضلع قاضی یا دار القضاء ( ہائی کورٹ کے بنچ ) کے سربراہ کو رپورٹ کرے گا اور پھر اس کے احکامات کی روشنی میں کاروائی کرے گا۔ اسی طرح انتظامی مجسٹریٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو تاخیر کی وجوہات سے آگاہ کرے گا اور پھر اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوگا۔ 

(۴) اگر ضلع قاضی یا دار القضاء کے سربراہ کی تحقیق کی روشنی میں ثابت ہو کہ کاروائی میں تاخیر کی ذمہ داری مقدمے کے کسی فریق پر عائد ہوتی ہے تو وہ اس فریق کو ’’خرچے ‘‘ (cost)کی ادائیگی کا پابند کردے گا اور مقدمے کو نمٹانے کے لیے قاضی کو مزید ایک ماہ کی مدت دے دے گا۔ یہی اصول انتظامی مجسٹریٹ کے معاملے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اپنائے گا۔ 

(۵) اگر ضلع قاضی یا دار القضاء کے سربراہ کا فیصلہ یہ ہو کہ تاخیر کی ذمہ داری قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ پر عائد ہوتی ہے تو قاضی کے معاملے میں وہ اسے ’’ ناخوشی ‘‘ ( displeasure) کا خط لکھے گا اور ایک سال میں تین اس قسم کے خطوط آنے کے بعد ضلع قاضی یا دار القضاء کے سربراہ کو اختیار ہوگا کہ وہ متعلقہ قاضی کے ذاتی ریکارڈ میں اس کا اندراج کرے، البتہ ایسا کرنے سے قبل وہ قاضی کو صفائی پیش کرنے کا موقع دے گا۔ انتظامی مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کی صورت میں ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ از خود کارروائی نہیں کرے گا، بلکہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کارروائی کے لیے کہے گا جو ضلع قاضی یا دار القضاء کے سربراہ کی سفا رشات کے مطابق کارروائی کرے گا۔ 

(۶) تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ تمام کارروائی کی تین کاپیاں تیار رکھے تاکہ کسی عدالت میں ریکارڈ طلب کیے جانے پر وہ فوری طور پر ریکارڈ وہاں پیش کرسکے۔ 

(۷) ریگولیشن کے پیرا ۱۰ کے ذیلی پیرا ۸ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل تیس دن کے اندر دائر کی جاسکے گی اور اپیل دائر کرنے سے پہلے اس کی کاپی فریق مخالف کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے بھیجی جائے گی۔ اپیلیٹ عدالت اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ اپیل کا فیصلہ تیس دنوں میں کرے۔ نیز اپیلیٹ کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ کسی بھی صورت وہ کیس کو واپس نچلی عدالت کو ریمانڈ کردے ۔ بظاہر یہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک لگتا ہے لیکن ذرا گہرائی میں جاکر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریق کار شروع سے آخر تک خامیوں اور دور رس نتائج کی حامل غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ چند اہم نکات حسب ذیل ہیں : 

اولاً : یہ ضابطہ انتہائی حد تک ناقص ہے۔ فوجداری مقدمات میں بالعموم ضابطۂ فوجداری کی پابندی کی جاتی ہے جس کے تحت فوجداری مقدمات کے لیے انتہائی تفصیلی طریق کار دیا گیاہے۔ ریگولیشن کے پیرا ۷ اور تیسرے جدول میں تصریح کی گئی ہے کہ ضابطۂ فوجداری میں مندرج preventive measures کا اختیار صرف اور صرف انتظامی مجسٹریٹس کو حاصل ہوگا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس نئے ریگولیشن کے نفاذ کے بعد ضابطۂ فوجداری مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل ہی نہیں ہے! ریگولیشن کے پیرا ۱۹ کے ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ ضابطۂ فوجداری کے ترمیمی آرڈی نینس مجریہ ۲۰۰۱ء کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ اس ترمیمی آرڈی نینس کے ماسوا باقی ضابطۂ فوجداری مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل ہے، لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ ریگولیشن کے پیرا ۳ میں تصریح کی گئی ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں وہی قوانین نافذ العمل ہوں گے جو پہلے جدول میں مذکور ہیں۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ پہلے جدول میں ضابطۂ فوجداری سرے سے مذکور ہی نہیں ہے؟ موجودہ ریگولیشن سے پہلے شرعی نظام عدل ریگولیشن مجریہ ۱۹۹۹ء نافذ العمل تھا اور اس کے تحت ضابطہ فوجداری کو مالاکنڈ ڈویژن میں لاگو کیا گیا تھا مگر موجودہ ریگولیشن کے پیرا ۱۹ کے ذیلی پیرا ۱ کے تحت پرانے ریگولیشن کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔ 

ثانیاً : مقدمات کے نمٹانے میں تاخیر انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہے لیکن مقدمات عجلت میں نمٹانے کی روش بھی بے انصافی کا باعث بنتی ہے۔ اس مسودے کے لکھنے والوں نے شاید یہ مقولہ سنا تھا کہ Justice delayed is justice denied [انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف کی عدم فراہمی ہے۔] لیکن شاید انہوں نے یہ نہیں سنا کہ Justice hurried is justice burried [انصاف کرنے میں عجلت کا نتیجہ انصاف کا دفنانا ہوتا ہے۔] 

ثالثاً : ضابطۂ فوجداری کے تحت پہلے ہی سے یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ چالان پیش کرنے میں تاخیر نہ ہو ۔ اس کے باوجود عملی مشکلات کی بنا پر عدالتوں کو مجبوراً اضافی وقت دینا پڑتا ہے ۔ ریگولیشن میں اس مقصد کے لیے جو وقت مقرر کیا گیا ہے، اس سے عملاً کوئی بڑا فرق واقع ہونے کی توقع نہیں کیونکہ اس میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ عدالت اضافی وقت دے سکتی ہے۔ 

رابعاً : اوپر مذکور ہوا کہ اس ریگولیشن کے ذریعے افسر شاہی عدالتی اختیارات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ فوجداری مقدمات کے متعلق ریگولیشن میں مذکور اصولوں سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ افسر شاہی عدالتی اختیارات کے استعمال کے باوجود اعلیٰ عدلیہ کے سامنے جوابدہی سے مبرا ہونا چاہتی ہے۔ چنانچہ ضلع قاضی کے متعلق تو قرار دیا گیا ہے کہ مقدمے میں تاخیر کی وجوہات کے متعلق وہ دار القضاء کے سربراہ کو رپورٹ کرے گا، لیکن ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا کہ اگر وہ مقررہ مدت میں کاروائی نہ نمٹا سکا تو کس کو رپورٹ کرے گا؟ 

خامساً: یہ تو ذکر کیا گیا ہے کہ ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ انتظامی مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کہے گا لیکن قانون کا مسودہ لکھنے والوں کی نظر اس بات کی طرف نہیں گئی کہ جو طریق کار انہوں نے طے کیا ہوا ہے، اس میں ضلع قاضی کو تو سرے سے انتظامی مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کا اختیار ہی نہیں دیا گیا ہے، اور اسی طرح دار القضاء کا سربراہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کا مجاز ہی نہیں ہے۔ ریگولیشن کے تحت انتظامی مجسٹریٹ تاخیر کی وجوہات کی رپورٹ ضلع قاضی کو نہیں بلکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کرے گا اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کس کو رپورٹ کرے گا؟ اس کے متعلق تو ریگولیشن خاموش ہے۔ پھر ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ کیسے کسی مجسٹریٹ کے خلاف ناخوشی کا خط لکھے گا؟ 

سادساً : بظاہر تو یہ بڑا کارگر نسخہ لگتا ہے کہ عدالت کو مقررہ وقت میں فیصلہ سنانے کا پابند کیا جائے لیکن اگر عدالت فیصلہ نہ سنا سکی اور تاخیر کی ذمہ داری عدالت ہی پر عائد ہوتی ہو تو زیادہ سے زیادہ اس کے خلاف کیا کارروائی کی جاسکے گی ؟ ناخوشی کا ایک خط ؟ اور پھر سال میں تین ناخوشی کے خطوط پر اعلیٰ عدلیہ ’’چاہے تو‘‘ (may make) جج کے ذاتی ریکارڈ میں اندراج کرے لیکن ایسا کرنے سے پہلے وہ جج کو صفائی کا موقع دے گی۔ کیا مسودہ لکھنے والوں کی توجہ اس طرف گئی ہے کہ اس کارروائی میں کتنا وقت لگے گا؟ یہاں اس بات پر بھی نظر رہے کہ ریگولیشن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ کتنی مدت میں یہ فیصلہ کرے گا کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ 

سابعاً : ضلع قاضی اور دار القضاء کا سربراہ ایک جانب اپنے زیر سماعت مقدمات کو جلد از جلد ( اور مقررہ وقت میں ) نمٹانے کی کوشش کرے گا اور دوسری طرف ہر ماتحت عدالت کے ہر مقدمے کے فیصلے میں تاخیر کے اسباب معلوم کرکے کبھی کسی فریق کو اور کبھی کسی جج کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ کیا اس پر غور کیا گیا ہے کہ کیا یہ عملاً اس کے لیے ممکن ہوگا ؟ 

ثامناً : اگر تاخیر کا ذمہ دار مقدمے کا کوئی فریق ہو تو قرار دیا گیا ہے کہ ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ اس فریق پر خرچہ عائد کرے گا، لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ خرچہ کس چیز کا ہوگا؟ تاخیر کی وجہ سے دوسرے فریق پر عائد ہونے والے اخراجات؟ ضلع قاضی یا دار القضاء تک جانے کے اخراجات؟ عدالتی اخراجات؟ یا ان سب کا مجموعہ؟ اور پھر یہ کہ یہ خرچہ ہوگا جو دوسرے فریق کو ادا کیا جائے گا یا جرمانہ ہوگا جو سرکار کو ادا کیا جائے گا؟ 

تاسعاً : دار القضاء چونکہ ہائی کورٹ کا بنچ ہوگا، اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے دستوری ترمیم کے بغیر محض ریگولیشن کے ذریعے اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ تیس دنوں کے اندر اپیل کا فیصلہ کرے؟ 

عاشراً : اسی طرح ہائی کورٹ کے اس اختیار کو، کہ بعض حالات میں وہ کیس ماتحت عدالت کو ریمانڈ کرے، کس طرح محض ریگولیشن کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے ؟ 

اب آئیے دیوانی مقدمات کے جلد نمٹانے کے لیے وضع کیے گئے طریق کار کی طرف ۔ 

دیوانی مقدمات کے متعلق چند نکات تو وہی ہیں جو اوپر فوجداری مقدمات کے ضمن میں ذکر کیے گئے، جیسے تاخیر کی صورت میں اعلیٰ عدلیہ کو رپورٹ اور پھر رپورٹ کے بعد اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے ؟ وغیرہ ۔ دیوانی مقدمات کے لیے جو اضافی اصول دیے گئے ہیں، وہ ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں : 

( ۱) ریگولیشن کے پیرا ۹ کے تحت عدالت میں دعوے پر کارروائی شروع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مدعی اپنے دعوے اور تمام متعلقہ دستاویزات کی کاپیاں تمام مدعا علیہان کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے بھیج دے۔ البتہ یہ اصول دائمی حکم امتناعی (Perpetual Injunction) کے دعوے، جس کے ساتھ عارضی حکم امتناعی (Temporary Injunction) کی درخواست ہو، پر لاگو نہیں ہوگا ۔ 

(۲) دعوے کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات کی کاپیاں منسلک ہوں گی۔ نیز تمام غیر سرکاری گواہوں کے بیانات بیان حلفی کی صورت میں، جو اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ ہوں، دعوے کے ساتھ پیش کیے جائیں گے۔ ان بیانات کو گواہوں کے Examination-in-chief کی حیثیت حاصل ہوگی ۔ 

(۳) مدعا علیہ پر لازم ہوگا کہ سات دنوں کے اندر جواب دعویٰ دائر کردے ورنہ اس کا دفاع کا حق ساقط ہوجائے گا ۔ البتہ عدالت بعض حالات میں زیادہ سے زیادہ سات مزید دنوں کی مدت دے سکتی ہے ۔ اس اضافی مدت پر مزید اضافہ کسی بھی صورت میں نہیں کیا جائے گا ۔ 

(۴) گواہی ریکارڈ کیے جانے کے بعد مقررہ تاریخ پر عدالت فریقین سے کہے گی کہ زبانی یا تحریری طور پر اپنے دلائل دیں ۔ فریقین میں اگر کوئی دلائل نہ دے سکے تب بھی دلائل کے لیے کوئی اور تاریخ دینے کے بجائے عدالت از خود انصاف کے مطابق (On Merits) فیصلہ کرے گی ۔ 

(۵) سماعت ملتوی کرنا اصولاً ناجائز ہوگا ، الا یہ کہ عدالت مطمئن ہو کہ ایسا کرنا ناگزیر ہے ۔ اس صورت میں سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دینے والے فریق کو عدالت پابند کرے گی کہ وہ دو ہزار روپے کا خرچہ ادا کردے ۔ 

یہاں بھی واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسودہ بڑی جلدی میں لکھا گیا ہے اور لکھنے والوں کے ذہن میں انصاف کا نہایت ہی سادہ اور ابتدائی تصور تھا ۔ سات دنوں کے اندر جواب دعویٰ دائر نہ کرنے کی صورت میں دفاع کے حق کے ساقط ہونے کو مبنی بر انصاف شاید اس بنا پر متصور کیا گیا کہ اس طرح انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا سدباب ہوجائے گا لیکن دفاع کے حق کے ساقط ہونے سے جو بے انصافی ہوگی اس کی طرف شاید ان کا خیال ہی نہیں گیا۔ 

اسی طرح گواہوں کے بیانات حلفی کو اگر examination-in-chief قرار بھی دیا جائے تو سوال یہ ہے کہ گواہوں پر جرح cross examination کب کی جائے گی؟ اور کیا اس جرح کے بغیر گواہوں کی گواہی کی صحت یا عدم صحت کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے ؟ اگر جرح کیے بغیر گواہوں کی گواہی جوں کی توں قبول کی جائے گی تو کیا اس طرح بے انصافی کا امکان پیدا نہیں ہوگا ؟ نیز جس مقدمے میں گواہوں کی گواہی کے بجائے کسی دستاویز کی بنیاد پر فیصلہ سنانا ہو ، یا کسی خبیر (expert) کی رائے پر عمل کرنا ہو ، وہاں کیا کیا جائے گا ؟ کیا وہاں بھی عدالت بس تحریری رپورٹ پر عمل کرے گی ؟ کیا اس طرح عدالت کے فیصلے غیر عدالتی اہلکاروں ، کلرکوں اور منشیوں کی رائے سے متاثر نہیں ہوجائیں گے ؟ 

فریقین میں اگر کوئی کسی وجہ سے دلائل نہ دے سکے تو کیا اسے مزید موقع نہیں دینا چاہیے ؟ ایسا لگتا ہے کہ اس قانون کا مسودہ لکھنے والوں کے ذہن میں بے انصافی کا صرف ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے فیصلوں میں تاخیر ۔ اس لیے ان کی توجہ اس طرف نہیں دی گئی کہ بسا اوقات مقررہ تاریخ پر دلائل نہ دے سکنے کی کوئی ناگزیر وجہ بھی ہوسکتی ہے اور کسی فریق کے دلائل سنے بغیر از خود اس کے موقف کو سمجھنے کی ذمہ داری لے کر عدالت بے انصافی کی بھی مرتکب ہوسکتی ہے ۔ 

سماعت کا ملتوی کرنا تو ویسے بھی غیر پسندیدہ امر ہے مگر اس حقیقت کو ریگولیشن میں بھی مان لیا گیا ہے کہ بسا اوقات ایسا کرنا انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہوتا ہے ۔ تاہم سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دینے والے کو لازماً خرچہ دینے کا پابند قرار دینا انصاف کے اصولوں سے متصادم ہے ۔ مناسب یہی تھا کہ اس کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیاجاتا کہ معروضی حالات میں وہ مناسب سمجھے تو کسی فریق پر کوئی جرمانہ بھی عائد کرے ۔ ایک بار پھر یہ بات واضح رہے کہ قانون کے متن میں یہاں جرمانے کے بجائے خرچے کا لفظ ہے جس پر وہ تمام سوالات اٹھتے ہیں جو اوپر ذکر کیے گئے۔ 

مقدمات نمٹانے میں تاخیر کے اسباب کے سد باب کے لیے ایک قدم یہ اٹھایا گیاہے کہ زیادہ سے زیادہ جج تعینات کیے جائیں ۔ یہ ایک اچھی تجویز ہے لیکن ریگولیشن میں اس کے لیے جو طریقہ وضع کیا گیا ہے وہ نہایت نامناسب ہے ۔ ریگولیشن کے پیرا ۱۱ کے ذیلی پیرا ۲ میں طے کیا گیا ہے کہ اگر کسی وقت ضلع قاضی ، اضافی ضلع قاضی یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التوا مقدمات کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہوجائے ، یا اعلی علاقہ قاضی ، علاقہ قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التوا مقدمات کی تعداد دو سو سے زائد ہوجائے ، تو حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ نئی عدالتیں قائم کرے ۔ تاہم یہ تجویز دینے والوں نے شاید اس سوال پر غور نہیں کیا کہ مقدمات کی تعداد ڈیڑھ سو یا دو سو سے تجاوز کرنے کے بعد نئی عدالتیں قائم کرنے میں کتنا وقت لگے گا ؟ کیا راتوں رات یہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی یا اس کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے ہوں گے ؟ ججوں کی تعیناتی سے پہلے ان کے انتخاب کا مرحلہ کتنا وقت لیتا ہے ؟ کیا اس کے بجائے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ پہلے ہی سے کثیر تعداد میں ججوں کے انتخاب اور ان کی تعیناتی کا کام مکمل کر لیا جائے ؟ اگر بعد میں کریں گے اور اس پر زیادہ وقت لگے گا تو کیا اس دوران میں مزید مقدمات التوا کا شکار نہیں ہوجائیں گے ؟ 

خلاصۂ بحث 

ابتدا میں ذکر کیا گیا کہ شرعی نظام عدل ریگولیشن ۲۰۰۹ء کے نفاذ کو بعض لوگ شریعت کے نفاذ کی طرف ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں تو بعض دوسرے لوگ اسے انتہا پسندی اور ’’طالبانائزیشن ‘‘ کی کامیابی قرار دیتے ہیں ۔ اس مقالے میں پیش کیے گئے نکات کی روشنی میں ہماری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ یہ دونوں موقف غلط ہیں۔ ہمارے نزدیک اس ریگولیشن سے نہ تو شریعت کے نفاذ میں کچھ مدد لے گی، نہ ہی یہ طالبانائزیشن کی کامیابی ہے، بلکہ درحقیقت اس ریگولیشن کے ذریعے مالاکنڈ ڈویژن کی سرزمین بے آئین میں افسر شاہی نے اپنی حکمرانی قائم کرنے کی سعی کی ہے۔ افسر شاہی ایک دفعہ پھر نفاذ شریعت کے نام پر سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ شریعت ، دستور اور قانون کی سربلندی پر یقین رکھنے والے تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ متحد ہو کر افسر شاہی کی اس سازش کو ناکام بنائیں ۔ 


حواشی 

۱ ۔ PLD 1983 FSC 73

۲ ۔ PLD 1989 FSC 95

۳ ۔ یہ نظریہ بنیادی طور پر مستشرقین نے پیش کیا، لیکن اسے مسلمان اہل علم نے بھی بالعموم صحیح مان لیا ہے ۔ دیکھئے : 

Joseph Schacht, Introduction to Islamic Law, (Oxford, 1964)

۴ ۔ اس موضوع پر ایک جامع تحقیق کے لیے استاد محترم جناب پروفیسر عمران احسن خان نیازی کی کتاب Theories of Islamic Law (Islamabad: Islamic Research Institute, 1994) ملاحظہ کریں ۔ 

۵ ۔ اس موضوع پر تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے : راقم الحروف کی کتاب ’’ حدود قوانین : اسلامی نظریاتی کونسل کی عبوری رپورٹ کا تنقیدی جائزہ ‘‘ ( مردان : مدرار العلوم ، اگست ۲۰۰۶ء ) ، ص ۶۰ ۔ ۶۳ ۔ 

۶ ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : محولہ بالا کتاب ، ص ۹۳ ۔ ۹۸ ۔ 

۷ ۔ ایضاً ، ص ۴۰ ۔ ۴۹ ۔ 


حالات و مشاہدات

مئی و جون ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۵ و ۶

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل
محمد مشتاق احمد

علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاج
ادارہ

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس
محمد عمار خان ناصر

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے
مولانا مفتی محمد زاہد

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع
مولانا مفتی برکت اللہ

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ
قاضی محمد رویس خان ایوبی

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام
ادارہ

’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضات
محمد عمار خان ناصر

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ
مولانا فضل محمد

عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات
محمد انور عباسی

مکاتیب
ادارہ