وفاقی شرعی عدالت کے قیام کا پس منظر اور ضروریات

جسٹس (ر) تنزیل الرحمن

روزنامہ جنگ لاہور ۲۳۔ اگست ۲۰۰۲ کی خبر کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا اعجاز احمد خان نے لاہور میں اقلیتوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بتایا ہے کہ انہوں نے وفاقی وزارت قانون کو لکھ کر بھیج دیا ہے کہ ہائی کورٹ کے ہوتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اسے ختم کر دیا جائے۔ صوبائی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت تعصب کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے اس لیے اسے باقی رکھنا ضروری نہیں ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کے بارے میں ایک عرصے سے بین الاقوامی حلقوں اور پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ یہ چونکہ مذہب کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے، اس لیے اس کا عمل اور رول تعصب پر مبنی ہے جو آج کے دور میں جمہوری اور سیکولر ذہن رکھنے والوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے اس لیے وفاقی شرعی عدالت بلکہ اس کے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کے وجود پر بھی نظر ثانی کی جائے اور انہیں باقی رکھنے کی ضرورت کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ صوبائی وزیر قانون رانا اعجاز احمد خان نے بھی اسی موقف کو دہرایا ہے اور بتایا ہے کہ اس موقف کو صوبائی وزارت قانون کی طرف سے باقاعدہ سفارش کا درجہ دے کر وفاقی وزارت قانون کو بھجوا دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون سے تو شاید اتنا عرض کر دینا ہی کافی ہو کہ جس پاکستان میں وہ قیام پذیر ہیں، خود اس ملک کا وجود اسی ’’تعصب‘‘ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اور جس دستور کے تحت وہ صوبائی وزارت قانون کے منصب پر براجمان ہیں، اس دستور میں اس ’’تعصب‘‘ کو قومی پالیسیوں کا سرچشمہ قرار دے کر ملک کو مذہبی تعلیمات وقوانین کے دائرے میں چلانے کی ضمانت دی گئی ہے اس لیے وہ اگر اس ’’تعصب‘‘ سے پیچھا چھڑانے میں سنجیدہ اور مخلص ہیں تو انہیں سب سے پہلے ’’تعصب‘‘ کی بنیاد پر بننے والے ملک میں اپنے قیام اور ’’تعصب‘‘ کو ملک کی پالیسیوں کی بنیاد قرار دینے والے دستور کے تحت وزارت کا منصب قبول کرنے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

اس سلسلے میں وفاقی شرعی عدالت ہی کے سابق سربراہ جسٹس (ر) ڈاکٹر تنزیل الرحمن کا ایک مضمون روزنامہ ’’اسلام‘‘ کراچی نے شائع کیا ہے جس میں انہوں نے وفاقی شرعی عدالت کے قیام کے پس منظر پر روشنی ڈالی ہے اور اسے موثر بنانے کے لیے ضروری تجاویز پیش کی ہیں۔ قارئین کے استفادہ کے لیے یہ مضمون ’’اسلام‘‘ کے شکریے کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔

(ادارہ)


جنرل محمد ضیاء الحق نے عنان حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد وعدہ کیا کہ وہ ملک کے نظام کو اسلامی خدوخال سے مزین کریں گے۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے اس مقصد سے ایک عام اعلان کیا جس میں کہا گیا کہ یکم جنوری ۱۹۷۸ء سے پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں کسی بھی ایسے قانون کو کالعدم قرار دینے کی مجاز ہوں گی جو قرآن وسنت سے متصادم ہوگا۔

اپنے قانونی مشیروں سے مشورہ کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے اس اعلان کا اطلاق ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ پر براہ راست کرنے کے بجائے تما م ہائی کورٹس میں چار شریعت بینچیں تشکیل دیں اور سپریم کورٹ میں ایک شریعت اپیلٹ بنچ قائم کی۔ یہ بنچیں فروری ۱۹۷۹ء کو ایک حکم کے ذریعے قائم کی گئیں جن کا مقصد ملکی قوانین سے ان احکامات کا خاتمہ کرنا تھا جو قرآن وسنت سے متصادم تھے۔ صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے جنرل محمد ضیاء الحق نے ۱۹۷۳ء کے آئین میں ترمیم کر کے وفاقی شرعی عدالت قائم کی۔ یہ نئی وفاقی شرعی عدالت قانون عامہ (Common Law) کے پانچ ماہر جج صاحبان پر مشتمل تھی۔ اس میں شامل چار ججز ہائی کورٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ایک ریٹائرڈ سپریم کورٹ کے جج کو اس کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔

جنرل ضیاء الحق بلاشبہ مقصد سے مخلص نہیں تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ چند مستثنیات کے علاوہ عدلیہ کے ارکان شریعت کی مطلوبہ اہلیت اور تربیت نہیں رکھتے۔ ان کا اصل مقصد کچھ ججوں کو ان کی متعلقہ ہائی کورٹس سے فوراً علیحدہ کرنا تھا کیونکہ مارشل لا کے نقطہ نگاہ سے یہ جج ناپسندیدہ قرار پائے تھے۔ اس مقصد کا مکمل اظہار ۱۹۸۱ء کے عبوری آئینی حکم سے ہوا جو شرعی عدالت کے نو ماہ بعد سامنے آیا۔ اس حکم کے تحت چیف جسٹس سمیت ہماری اعلیٰ عدلیہ کے دو درجن ارکان کو ان کے عہدوں سے جبری ریٹائر کر دیا گیا۔

جیسا کہ کہا گیا، عدالت کے قیام کا اصل مقصد قوانین کو اسلامی شکل دینا نہیں تھا کیونکہ عدالت میں علما جج شامل نہیں تھے اور اس کے اختیارات بھی محدود تھے۔ عدالت کو اختیار نہیں تھا کہ وہ:

۱۔ آئین کی کسی دفعہ کا جائزہ لے جو ہمارے قانون اور سماجی زندگی کی اساس ہے۔

۲۔ مسلم پرسنل لا کا جائزہ لے جو خاندانی زندگی کا بنیادی قانون ہے۔

۳۔ مالی اور ٹیکس سے متعلق قوانین کا جائزہ لے جو ہمارے معاشرے کے سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں۔

۴۔ ان قواعد وقوانین کا جائزہ لے جو ہماری عدالتوں اور ٹربیونلز میں انصاف کی فراہمی کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔

یہی سبب تھا کہ عوام، علما اور قانون دانوں نے عدالت پر کسی اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ عدالت ان کی مشکل کا ازالہ نہیں کر سکتی کیونکہ اس کو اختیارات ہی نہیں دیے گئے۔ بعد ازاں جب وفاقی شرعی عدالت نے اپنے ایک فیصلے کے تحت رجم کو حد قرار دینے سے انکار کیا تو اس فیصلے کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہوئے اور جنرل ضیاء الحق مجبور ہو گئے کہ شرعی عدالت میں اسلامی قوانین سے واقف تین علما بھی شامل کریں۔ اس کے لیے آئین میں ترمیم کرنا پڑی۔

کچھ عرصے بعد آئین میں پھر ترمیم کی گئی اور سپریم کورٹ میں دو علما کو شامل کیا گیا کیونکہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ اپیلٹ بنچ کے عام جج شرعی معاملات میں عوامی اعتماد پر پورا اترنے سے قاصر تھے تاہم وفاقی شرعی عدالت میں علما ججز کی تقرری سے متعلق آئینی دفعہ میں ایک بڑا سقم ہے۔ اس دفعہ میں عالم جج کی مطلوبہ اہلیت کو واضح نہیں کیا گیا بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ اسے اسلامی قوانین سے اچھی طرح آگاہ ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ مطلوبہ جج کو یہ واقفیت ہے یا نہیں؟ آئین اس بارے میں بالکل خاموش ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی شرعی عدالت میں جج کی حیثیت سے تقرری کے لیے عالم کی اہلیت کو آئین میں واضح کر دیا جائے۔

میری ناچیز رائے میں یہ ایک ایسا فرد ہونا چاہیے جو درس نظامی سے فراغت کے بعد تخصص فی الفقہ شرعی کورس کسی مستند دار العلوم سے مکمل کر چکا ہو، اس نے اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے ایل ایل ایم شریعت کی ڈگری حاصل کی ہو یا وہ عربی، اسلامک اسٹڈی یا اسلامی اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حامل ہو اور ساتھ ساتھ ہی اسلامی تحقیقی ادارے میں کم از کم پندرہ برس خدمات انجام دے چکا ہو، ایسے فرد کو شرعی عدالت میں عالم جج کی حیثیت سے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ ایک مسئلہ یہ رہا ہے کہ شریعت کا مطلوبہ علم رکھنے والے ججز کا قحط رہا ہے۔ اس کا سبب ہماری قانونی تعلیم کا نظام ہے۔ بینچ اور بار دونوں کے ارکان دیوانی قوانین میں تحصیل یافتہ وتربیت یافتہ ہوتے ہیں جو اصل میں ’’اینگلو سیکسن‘‘ قوانین ہیں۔ چند مستثنیات وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی محنت سے اسلامی قوانین کا علم حاصل کیا ہے۔ اسلام آباد میں اسلامی یونیورسٹی کے قیام کے بعد صورت حال ذرا بہتر ہوئی ہے اور ۱۹۸۹ء کے بعد سے شرعی قوانین اور اسلامی اقتصادیات میں پی ایچ ڈی اور ماسٹر ڈگری کے حامل افراد کی قابل ذکر تعداد فارغ التحصیل ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں دیوانی قوانین کے ججز کی تعداد کو رفتہ رفتہ کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بدلے اہل علم علما، شریعت لا کے پروفیسر اور پوسٹ گریجویٹ افراد کو وفاقی شرعی عدالت میں جج مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اس تقرر کے لیے آئین کی دفعہ 203C(BA) میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔

۹۸۳اء میں جب میں اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین تھا، مجھ سے وفاقی سیکرٹری قانون نے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے بارے میں غیر رسمی صلاح مشورہ کیا تھا۔ میں نے بس اتنا کہا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کے اعتبار سے ہی ہونی چاہیے یعنی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اور جج صاحبان (بشمول علما جج) اور شرعی اپیلٹ بنچ (سپریم کورٹ) کی ریٹائرمنٹ کی عمر ۶۵ برس مقرر کی جائے۔ یہ مشورہ جنرل ضیا کے لیے سود مند نہیں تھا کیونکہ وہ چیف جسٹس اور کورٹ کے ججوں کو اپنی مرضی کا پابند رکھنا چاہتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ شرعی عدالت کے ججوں کی تقرری اور معزولی مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں رہے۔

ججوں کی ریٹائرمنٹ کا معاملہ ایگزیکٹو کی صواب دید پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ اس طرح چیف جسٹس، جج صاحبان اور علما جج صاحبان کو اس مسلسل خطرے سے نجات مل جائے گی کہ ان کی ملازمتوں کو صدر یا وزیر اعظم کسی فیصلے سے ناراض ہو کر ختم کر سکتے ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت کے قیام کے ساتھ ہائی کورٹس میں شرعی بنچوں کے قیام کے قبل ازیں کیے گئے قانونی فیصلے کو منسوخ کر دیا گیا۔ ان بنچوں میں التوا میں پڑی مختلف شرعی پیشیوں کو شرعی عدالت میں بھیج دیا گیا۔ مئی میں ختم ہونے والے ایک سال کے دوران شرعی عدالت نے ایک سو چودہ ایسی پیشیوں کو نمٹا دیا۔ ان میں سے اکثر کا تعلق ایسے معاملات سے تھا جن سے درخواست دہندگان کا ذاتی مفاد وابستہ تھا۔ مثال کے طور پر ۶۷ درخواستوں کا تعلق پنجاب میں زرعی مزارعت سے تھا جبکہ درجن بھر درخواستیں قتل سے متعلق دفعہ تین سو دو کے بارے میں تھیں۔ عدالت نے ان دونوں قوانین پر فیصلہ ۸۱۔۱۹۸۰ میں صادر کر دیا لیکن فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ شرعی اپیلٹ بنچ میں دائر کی گئی جس کے باعث حتمی فیصلہ آنے میں مزید آٹھ برس لگ گئے۔

پنجاب میں قصاص ودیت کے قوانین ۹۰۔۱۹۸۹ء میں بنائے گئے تقریباً نصف درجن درخواستوں کا تعلق نماز کے اوقات، اذان اور پردے وغیرہ سے تھا جن کوخارج کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ مزید درخواستیں بھی تھیں جن کا فیصلہ کرنے کا اختیار شرعی عدالت کے پاس نہ تھا لہٰذا ان کو برخاست کر دیا گیا۔

عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایسی تمام کوششوں سے قوانین کو اسلامی شکل دینے کی مد میں کوئی خاطر خواہ کام یابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس لیے ۱۹۸۲ء کے لگ بھگ صدر نے آئین میں مزید ترمیم کی اور شرعی عدالت کو اختیار دیا گیا کہ وہ ازخود جائزہ لے اور مذکورہ پابندیوں کے دائرے میں قوانین کو قرآن وسنت سے متصادم پائے تو ان کو کالعدم قرار دے۔ لہٰذا شرعی عدالت نے قومی روزناموں میں اشتہارات جاری کیے کہ فلاں فلاں تاریخوں کو فلاں فلاں قوانین کا جائزہ لیا جائے گا۔ عوام اور علما کو بتا دیا گیا کہ دونوں قوانین کے حوالے سے اپنی رائے دیں اور معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے عدالت کی مدد کریں۔ بعد ازاں شرعی عدالت نے بتایا کہ اس کو کسی ضلع سے کوئی رہنمائی یا معاونت نہیں مل سکی کیونکہ عوام نے اس معاملے میں دل چسپی نہیں لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عدالت کو اپنے طور پر نئے قوانین کا جائزہ خود لینا پڑا اور یوں وہ عملی طور پر محض ایک کمیشن میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔

عوامی حلقوں کا کوئی فرد کسی قانون کی دفعہ کو شریعت سے متصادم قرار دینے کے لیے اعتراض اٹھانے کی غرض سے شرعی عدالت نہیں آیا۔ یہاں مجھے ہائی کورٹ کے اپنے ایک فاضل دوست کے الفاظ یاد آ رہے ہیں جس کو تبادلے پر وفاقی شرعی عدالت میں خدمات انجام دینی پڑی تھیں۔ ۲۰ جنوری ۱۹۸۳ء کو جنرل ضیاء الحق کی سرکردگی میں نفاذ اسلام کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے اس نے کہا تھا: ’’ہم شرعی عدالت کے جج دیوانی قوانین کے جج ہیں۔ قوانین کا تجزیہ کرنے کے لیے ہم کو شریعت کے ماہرین کی معاونت درکار ہے۔‘‘

شرعی عدالت کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ قرآن وسنت سے متصادم قانونی دفعات کی نشان دہی کرے، اس کے بعد حکومت کا فرض ہے کہ وہ آئین میں ترمیم کر کے مذکورہ دفعہ کو شریعت کے مطابق بنا دے، لیکن حکومت عام طور پر پالیسی کے تحت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرتی ہے جس کی سماعت میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ حکومت ان اپیلوں کے جلد فیصلے کروانے کے لیے کوئی دل چسپی ظاہر نہیں کرتی۔ اس کے برخلاف وہ تاخیری حربے استعمال کرتی ہے جبکہ خود سپریم کورٹ بھی ایسی اپیلوں کی سماعت کو ترجیح نہیں دیتی۔ وہ عام دیوانی اور فوج داری درخواستیں نمٹانے میں مصروف رہتی ہے۔ سیاسی امور کے تصفیے میں بھی کافی وقت صرف ہوتا ہے۔

میں نے حال ہی میں اخبارات میں پڑھا ہے کہ چیف جسٹس نے لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں پانچ بنچوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔ میری خواہش تھی کہ اس موقع پر شریعت اپیلٹ بنچ بھی قائم کر دی جاتی تاکہ ان شرعی اپیلوں کی سماعت ممکن ہو جاتی ہے جو عرصہ چھ سات برس سے التوا کا شکار ہیں۔

یہاں میں ایک اور اہم بات کی نشان دہی کرتا چلوں۔ ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیا نے آئین کی دفعہ 203(1) میں ایک اضافہ کر دیا تھا جس کے تحت وفاقی شرعی عدالت کے کسی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ اپیلٹ بنچ میں محض اپیل دائر کرتے ہی خود بخود حکم امتناعی حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ حکم امتناعی اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک سپریم کورٹ کی متعلقہ بنچ اپیل پر فیصلہ نہیں سنا دیتی۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دیگر تمام کارروائیوں میں ہائی کورٹ کے کسی فیصلے کے خلاف اپیل کا حکم امتناعی اس وقت تک حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک سپریم کورٹ اس کے لیے خصوصی احکامات صادر نہ کرے لیکن شرعی امور کے لیے جنرل ضیاء الحق نے یہ بے مثل دفعہ بنائی ہے تاکہ ان کے مقاصد پر پوری اتر سکے۔ یہ دفعہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اگر اس کو جاری رہنے دیا گیا تو اس کی حیثیت اپیل کنندہ (جو عموماً حکومت ہوتی ہے) کے ہاتھ میں آلہ استبداد کی سی رہے گی۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(ستمبر ۲۰۰۲ء)

Flag Counter