خواتین کے تحفظ کا بل ۔ اصل مسئلہ اور حل

محمد زاہد صدیق مغل

پنجاب اسمبلی میں "خواتین کے تحفظ" کے نام پر جو نیا قانون پاس کیا گیا ہے اسے لے کر ہمارے یہاں کہ مذہب پسند اور لبرل طبقات میں فکری بحث و مباحثہ اور سیاسی رسہ کشی جاری ہے۔ اس قانون کی حمایت کرنے والوں کے خیال میں اس بل سے نہ صرف یہ کہ خواتین کو مردوں کے تشدد سے تحفظ فراہم ہوگا بلکہ خواتین کی ترقی میں بھی پیش قدمی ہوگی (جیسا کہ کچھ سیاسی احباب نے اسے خواتین کی ترقی کا بل قرار دیا ہے)۔ یہاں اختصار کے ساتھ ہم ان مفروضات کا ذکر کریں گے جن کی بنا پر یہ بل ہمارے سماجی حقائق کے ساتھ مطابقت اور ہماری تہذیبی اقدار کے تحفظ کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بل میں چونکہ نفس مسئلہ کی تشخیص ہی غلط کی گئی ہے لہذا اس کا نہایت غیر متعلق حل پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک متبادل تجویز بھی پیش کی جائے گی۔ 

خواتین کے تحفظ کا یہ بل پیش کرنے والوں کے دو مفروضے ہیں: (1) مار کھانے والی تمام خواتین یورپی خواتین کی طرح معاشی و سماجی طور پر خود مختار ہیں، یعنی شوہر کے خلاف اس قسم کی قانونی کاروائی کا فیصلہ کرنے اور پھر اس فیصلے کے سماجی نتائج بھگتنے کے لئے خود مختار اور تیار ہیں، (2) جو مرد اس قدر سفاک ہے کہ اپنی بیوی کو بری طرح مارتا ہے، بیوی کی طرف سے پولیس کے حوالے کئے جانے کے بعد وہ بیوی کو خوشی سے گھر میں بسا کر رکھے گا، اور اگر طلاق دے کر فارغ کردے گا، جو تقریبا یقیناًکردے گا، تو ریاست ایسی بے سہارا خواتین کو کھچا کھچ دارالامان میں بھرتی کرلیا کرے گی۔ گویا یوں ایک بیوی کو ایک محفوظ اور باوقار زندگی میسر آجائے گی۔ دھیان رہے، یہ دارالامان عوام کے ٹیکسوں سے چلائے جائیں گے۔ یہ ادارے کیسے "چلتے" اور "چلائے جاتے" ہیں یہ امر بھی اہل نظر پر کچھ مخفی نہیں۔ 

اہم تر سوال یہ ہے کہ کیا اس سب سے ایک "بیوی" محفوظ ہوگی یا برباد؟ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ قانون ایک "بیوی" کا تحفظ کرنے میں ناکام رہتا ہے؟ درحقیقت اس قسم کے ترمیمی بل جہاں ایک طرف مقامی زمینی حقائق اور معاشرتی اقدار سے سہو نظر کرکے مغربی طرز کے معاشروں کی نقالی پر مبنی ہوتے ہیں، دوسری طرف انہیں وضع کرتے وقت ان فلسفیانہ فکری مفروضات سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جو اس قسم کے قوانین کے پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ مغرب میں نافذ العمل یہ قوانین "ہیومن رائٹس" کی ایک مخصوص فلسفیانہ تشریح پر مبنی ہیں۔ حقوق کی تفصیلات طے کرنے کا یہ مخصوص قانونی فریم ورک انسان کو تعلقات کی ایک اکائی کے طور پر نہیں بلکہ ایک "قائم بالذات مجرد فرد" کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ مجرد فرد خود کو صرف ایک ایسی ذات کے طور پر پہچانتا ہے جو اپنی ذاتی آزادی میں بے پناہ اضافے کا خواہاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ہیومن رائٹس فریم ورک کی کمٹمنٹ کسی بھی سماجی اکائی کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی (سوائے سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے، البتہ یہ ایک الگ موضوع ہے)، یہ فریم ورک صرف "ہیومن" (بطور مجرد فرد) کے حقوق کو ڈیفائن کرنے اور ان کا تحفظ کرنے کی یقین دھانی کراتا ہے۔ یہ فریم ورک فرد کو میاں بیوی، ماں باپ، بیٹا بیٹی جیسی شناختوں میں پہچاننے، ان کے حقوق متعین کرنے اور ان کا تحفظ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ چنانچہ "تحفظ خواتین بل" اس رویے کی ایک تازہ ترین مثال ہے جسے اس امر میں تو دلچسپی ہے کہ "عورت بطور ایک فرد" کا تحفظ کیسے ممکن ہے، مگر یہ اس سوال سے کلیتاً سہو نظر کرتاہے کہ کیا اس میں ایک "بیوی" کا تحفظ بھی ہے؟ 

مذہبی حلقوں کا اس قانون یہی بنیادی اعتراض ہے کہ آخر اس قانون سے ایک بیوی محفوظ ہوگی یا برباد؟ اور نتیجتا کیا خاندان کی اکائی مضبوط ہوگی یا کمزور؟ اس بل کے حامیوں کو اس اہم ترین سوال کے جواب سے کوئی غرض نہیں۔ تاریخ کا سفر یہ بتاتا ہے کہ ہیومن رائٹس فریم ورک سے ماخوذ یہ قوانین بیوی وشوہر جیسے رشتوں کو معدوم کرکے خاندان کی اکائی کو نیست و نابود کردیتے ہیں اور بالاخر "اکیلا فرد" باقی بچ رہتا ہے۔ یہ بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام "مرد و عورت کے حقوق" نامی عنوان باندھ کر کسی کو حقوق نہیں دیتا، ہر کسی کو جو بھی حقوق دئیے گئے ہیں وہ ان "مخصوص تعلقات" سے وجود میں آنے والی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے عطا کیے گئے ہیں جنہیں اسلام مطلوبہ معاشرتی تعلقات کے طور پر دیکھتا ہے۔ چنانچہ معاشرتی حقوق کی بنیاد شوھر، باپ، بیوی و ماں وغیرہ ہونا ہے، نہ کہ مجرد مرد یا عورت ہونا۔ جو علمی فریم ورک تعلقات کی ان جاحت سے سہو نظر کرتے ہوئے مرد و عورت کو مجرد حیثیت میں حقوق دینے پر اصرار کرتا ہے، وہ لازماً ان تعلقات کو نیست و نابود کردیتا ہے کیونکہ اس فریم ورک میں حقوق کی تفصیلات ان مخصوص ذمہ داریوں کی ادائیگی کے تناظر میں طے ہی نہیں کی جاتیں جو ان تعلقات کی بقا کی ضامن ہو۔ حقوق بذات خود مطلوب نہیں ہوتے بلکہ مخصوص فرائض کی ادائیگی کے لیے عطا کیے جاتے ہیں۔ اگر فرائض کا تصور مختلف ہوگا تو حقوق کی تفصیلات بھی مختلف ہوگی، اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ 

اب رہا یہ سوال کہ اس قسم کے گھریلو تشدد کو کیسے ختم کیا جائے، تو اس کا جواب ہے گھریلو تعلقات کے نگران افراد اور اداروں کو مؤثر بنا کر۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کا خدشہ ہو تو دونوں کی طرف سے حکم مقرر کرو جو ان کے مابین صلح کی کوشش کریں۔ چنانچہ خواتین پر تشدد کو ختم کرنے کے لیے "حکم کے ادارے" کو مؤثر بنانے کے لئے قانون سازی اور کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل نوعیت کے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں: 

  • قانونی مداخلت کا بنیادی مقصد "عورت بطور فرد" نہیں بلکہ ایک "بیوی" کو تشدد سے تحفظ دیناہے ۔
  • تشدد کی روک تھام میں پولیس کی مداخلت کم از کم ہونی چاہیے۔ شکایات کے ازالے کے لیے ایسے سماجی افراد، تعلقات اور اداروں پر انحصار کرنا چاہیے جو سماجی و نفسیاتی اعتبار سے قابل قدر و لحاظ سمجھے جاتے ہیں ۔
  • اس کے لیے نکاح رجسٹرار اور قاضی کے کردار کو قانونی طور پر مؤثر بنایا جائے، یعنی پولیس کے بجائے نکاح رجسٹرار کے پاس شکایت درج کرائی جائے۔ نکاح رجسٹرار کو جب کوئی شکایت موصول ہو تو بجائے اس کے کہ بیوی ازخود شوہر کو گھر سے نکال دے یا پولیس اسے جیل بھیج دے، نکاح رجسٹرار و قاضی دونوں طرف کے ذمہ داروں (حکمین) کو معاملے میں شامل کرکے مسئلہ حل کرانے کا پابند ہو۔
  • اس سلسلے میں فریقین کو تھانے کے بجائے مقامی مسجد یا مدرسے میں بلایا جائے اور امام صاحب کے روبرو اور ان کی زیر نگرانی کاروائی کی جائے ۔
  • متعلقہ مرد اور خاتون دونوں کو کچھ عرصے کے لیے مسجد و مدرسے کے امام و مہتمم صاحب کی زیر نگرانی تعلیم و تربیت کا پابند بنایا جائے یعنی مرد اور خاتون دونوں ان تعلیمی و تربیتی نشستوں میں شامل ہونے کے پابند ہوں ۔
  • اگر مرد اس پورے عمل میں تعاون نہ کرے تو نکاح رجسٹرار اس تعاون کو ممکن بنانے کے لیے حسب ضرورت و حکمت پولیس کی مدد لے سکتا ہو ۔

الغرض مداخلت کا مقصد گھریلو مسائل کا ایسا حل تلاش کرنا ہونا چاہئے جو گھر کی اکائی کو برقرار رکھتے ہوئے مسئلے کو حل کرسکے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ان مسائل کے حل کے لیے سماجی طور پر معتبر سمجھے جانے والے افراد اور اداروں کو مؤثر طور پر شامل معاملہ کیا جائے۔ میاں بیوی کا تعلق کارخانے دار اور مزدور کا نہیں کہ آج ایک کارخانے دار تو کل دوسرا، یہ محبت و خلوص پر مبنی عمر بھر ساتھ نبھانے کا بندھن ہے اور انہی کے فروغ میں اس کی بقا ہے۔حکم کا مؤثر کردار اور تعلیم و تربیت کا مناسب انتظام ہی وہ راستہ ہے جو فی الواقع ہمارے یہاں ایک بیوی کو شوہر کے تشدد سے نجات دلا سکتا ہے۔ عورت کی پٹائی بنیادی طور پر پیٹنے والے اور مار کھاتی بیٹی و بہن کا ساتھ نہ دینے والے مردوں کی کمزوری و تربیت کے فقدان کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جس بدقسمت بیوی کو اس کا باپ، بھائی، بیٹا، شوہر اور دیگر خاندانی تعلقات مرد کی پٹائی سے نہیں بچا سکتے، مغربی اقوام کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ خواتین کے تحفظ جیسے حالیہ بل زیادہ دور اور دیر تک اس کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ اس نوعیت کے تمام تر قوانین کے باوجود مغرب میں 50 فیصد سے زائد "خواتین " آج بھی مردوں کے ہاتھوں سے پٹتی ہیں۔ ہمارے یہاں بھی یہ اپنی نوعیت کا کوئی اچھوتا بل نہیں جسے منظور کیا گیا ہو، اس طرح کے بل ماضی میں بھی منظور کیے گئے ہیں تا ہم عورت اسی طرح سے مظلوم ہے۔ اس پر سب سے بڑی دلیل پاکستان میں نشر ہونے والے دو درجن سے زائد وہ کرائم شوز ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس اور دیگر حکومتی اداروں کی سرپرستی میں ہی عورتوں کی خرید و فروخت ،جسم فروشی ،جبری زنا وغیرہ کا کام جاری و ساری ہے۔ اس خدشے کو بھی کلیتاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ منظور شدہ بل کے ذریعے مالی مفادات سمیٹنا مقصود ہو کیونکہ جس انداز سے نئے ادارے قائم ہوں گے، افراد کو بھرتی کیا جائے گا، ڈونرز سے چندے وصول کیے جائیں گے اس سب سے "اصل مسئلہ" حل ہو یا نہ ہو البتہ کچھ تحقیقی اداروں، این جی اوز اور سرکاری افریان کے مالی مسائل ضرور حل ہوجائیں گے۔ 

حالات و واقعات

(مئی ۲۰۱۶ء)

Flag Counter