عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ

محمد مشتاق احمد

پچھلے دنوں کئی ایک اہم عدالتی فیصلے سامنے آئے ہیں جن پر اہلِ علم کی جانب سے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ میرا خیال یہ تھا کہ نفاذِ شریعت کے حوالے سے حساس لوگ ان پر ضرور قلم اٹھائیں گے لیکن ہر طرف ہو کا عالم ہی دکھائی دیتا ہے ۔ اس لیے ٹھہرے پانیوں میں پتھر پھینکنے کی نیت سے یہ مختصر مضمون لکھ رہاہوں جس میں فی الوقت صرف ایک فیصلے پر کچھ بحث کروں گا جس کا تعلق نکاح و طلاق کے قانون سے ہے ۔ 

عدالتِ عالیہ لاہور کے فاضل جج جناب جسٹس حافظ شاہد ندیم کہلون نے ایک مقدمے بعنوان : محمد شیر بنام ایڈیشنل سیشن جج /جسٹس آف پیس وغیرہ میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی مطلقہ خاتون نے عدت کے دوران میں کسی دوسرے شخص سے نکاح کیا تو یہ نکاح ’’بے قاعدہ‘‘ (irregular) تو ہے لیکن ’’غیرقانونی‘‘ (illegal) نہیں ہے ۔ فاضل جج صاحب نے مزید یہ بھی فرمایا ہے کہ ایسے جوڑے کے درمیان تعلق کو غیراسلامی یا خلافِ شریعت نہیں کہا جا سکتا ۔ 

اس مقدمے کے حقائق مختصراً کچھ اس طرح ہیں کہ مسماۃ فرزانہ بی بی کو اس کے شوہر محمد سرور نے ۶ فروری ۲۰۱۱ء کو طلاق دی ۔ یکم مئی ۲۰۱۱ء کو فرزانہ بی بی کے والد محمد شیر نے مجاہد اقبال وغیرہ کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرانا چاہا کیونکہ اس کا دعویٰ تھا کہ مجاہد اقبال نے اس کی بیٹی فرزانہ بی بی کو اغوا کیا ہے اور ساتھ ہی ۵ تولے سونا اور مبلغ ۵۰ ہزار روپے بھی چرائے ہیں ۔ اگلے دن ، یعنی ۲ مئی ۲۰۱۱ء کو ، مسمی مجاہد اقبال نے مسماۃ فرزانہ بی بی سے نکاح کیا لیکن فرزانہ بی بی کے والد کا موقف یہ تھا کہ چونکہ ابھی فرزانہ بی بی کی عدت پوری نہیں ہوئی ہے، اس لیے یہ جوڑا زنا کا مرتکب ہورہا ہے ۔ جسٹس آف پیس نے پولیس کا موقف سننے کے بعد ۲۱ جون ۲۰۱۱ء کو فیصلہ سنایا کہ مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا ۔ اس فیصلے کے خلاف محمد شیر اپیل میں عدالتِ عالیہ لاہور گئے جہاں اس کی درخواست کی سماعت ۱۱ ستمبر ۲۰۱۵ء کو ہوئی ، یعنی سوا چار سال بعد ! عدالتِ عالیہ نے بھی اپنے فیصلے میں یہ درخواست مسترد کردی ہے ۔ 

سردست مجھے اس پر بحث نہیں کرنی کہ اگر عدالتِ عالیہ سے مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرانے میں بھی سوا چار سال لگتے ہیں تو انصاف کا یہ نظام کس طرح ظلم اور لاقانونیت کا باعث بن رہا ہے ۔ نہ ہی مجھے اس مقدمے کے حقائق کی روشنی میں موجودہ پاکستانی معاشرے کی اخلاقی حیثیت پر وعظ دینا ہے ۔ میں صرف اس مقدمے میں بیان شدہ قانونی اصولوں پر بحث چاہتا ہوں ۔ اس لحاظ سے اس فیصلے میں سب سے اہم پیرا ۹ ہے جہاں فاضل جج صاحب فرماتے ہیں : 

It is settled Islamic law that the marriage entered into divorced lady before the completion of Iddat period would be irregular marriage and not void marriage as per law laid down in Mullah's Muhammadan Law. Marriage which is irregular cannot be treated as void marriage. The union of husband & wife in irregular marriage cannot be regarded against un-Islamic or Shariah.

اس پیرا میں زبان و بیان کی جو غلطیاں ہیں، انھیں بھی نظر انداز کیجیے لیکن جو قانونی اصول فاضل جج صاحب بیان فرمارہے ہیں اور ان قانونی اصولوں کی بنیاد کی جس طرح وہ وضاحت فرمارہے ہیں ان پر غور کریں ۔ کیا واقعی عدت کے دوران میں کیا گیا نکاح فاسد ہے ، نہ کہ باطل ؟ کیا اس فاسد یا باطل نکاح کے بعد اس جوڑے کا تعلق غیر شرعی نہیں ہے ؟ ان سوالوں کا جواب جج صاحب نے اسلامی شریعت کے کس ماخذ سے حاصل کیا ہے ؟ 

اس آخری سوال پر پہلے بحث ضروری ہے ۔ فاضل جج صاحب نے اسلامی شریعت کے یہ اصول Mullah's Muhammadan Law سے اخذ کیے ہیں اور فاضل جج صاحب کے بقول اس کتاب نے اسلامی قانون کے یہ اصول حتمی طور پر طے کردیے ہیں (It is settled Islamic law... as per law laid down in Mullah's Muhammadan Law.)۔ ہوسکتا ہے بعض قارئین کے لیے یہ بات موجب حیرت ہو کہ اکیسویں صدی میں عدالتِ عالیہ لاہور کا جج کسی ملا کی اس طرح ’’اندھی تقلید ‘‘کیسے کرسکتا ہے لیکن جو جانتے ہیں کہ یہ ملا دراصل مدرسے کے مولوی یا ’’کٹھ ملا‘‘ نہیں بلکہ ایک غیر مسلم وکیل Dinsha Ferdinand Mullah  ہیں جن کے انتقال کو بھی عرصہ بیت گیا ہے ، تو شاید ان کی حیرت دور ہوجائے کیونکہ اسلامی قانون کے اصولوں کی دریافت میں ’’غیر مسلم مردہ ملا ‘‘کی اندھی تقلید ہمارے فاضل جج صاحبان کو کبھی اقبال کا یہ شعر یاد نہیں آتا : 

تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی 
رستہ بھی ڈھونڈ ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے! 

جو قارئین ڈی ایف ملا اور ان کی کتاب سے واقف نہیں ہیں، ان کی مدد کے لیے مختصراً بیان کروں کہ جب انگریز جج صاحبان نے مسلمانوں کے نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ مسائل میں اسلامی قانون کی روشنی میں فیصلے دینے شروع کیے تو اس کے نتیجے میں ’’اینگلو محمڈن لا‘‘ وجود میں آیا ۔ وکیل صاحبان کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ عدالتی نظائر سے باخبر رہیں ۔ اس کام میں ملا کی اس کتاب نے بڑی مدد فراہم کی کیونکہ انھوں نے مختلف عدالت ہائے عالیہ کے فیصلوں کی روشنی میں بننے والے قانون کو دفعہ وار لکھا اور اس مجموعے کو وقت گزرنے کے ساتھ اتنا تقدس حاصل ہوگیا کہ ہمارے فاضل جج صاحبان اسے حرفِ آخر سمجھنے لگے ۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا حنفی فقہ کی یہ تعبیر صحیح ہے کہ عدت کے دوران میں کیا گیا نکاح محض ایک بے ضابطگی ہے جس کی بنا پر اس جوڑے کے تعلق کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا ؟ اس سوال کے جواب میں درج ذیل امور تنقیح طلب ہیں : 

اولاً : حنفی فقہا جس طرح بیوع میں عقد باطل اور عقد فاسد کے درمیان فرق کرتے ہیں، کیا وہ فرق وہ عقدِ نکاح میں بھی روا رکھتے ہیں ؟ 

ثانیاً : عقدِ نکاح کے باطل یا فاسد ہونے کا حد زنا کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ 

ثالثاً : عقدِ نکاح اگر فاسد ہو تو اس کے قانونی اثرات کیا ہیں ؟ 

رابعاً : کیا فاسد عقدِ نکاح کے بعد نئے عقد کی ضرورت ہوتی ہے یا جوڑے کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق نئے عقد کے بغیر بھی جاری رہ سکتا ہے ؟ 

یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ بیوع میں حنفی فقہا فاسد اور باطل عقد میں فرق کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ۱۰۰ دینار کا تبادلہ ۱۱۰ دینار سے ہو تو اسے وہ عقد فاسد قرار دیتے ہیں جبکہ مردار کی خرید و فروخت کو وہ عقد باطل کہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ عقد فاسد کا فساد دور کیا جائے تو وہ صحیح ہوجاتا ہے جبکہ عقد باطل کا بطلان دور نہیں کیا جاسکتا بلکہ جس سبب سے عقد باطل ہوا ہو، اس کے دور کردینے کے بعد نیا عقد کرنا پڑے گا ۔ چنانچہ پہلے عقد میں دس دینار کے اضافے کی شرط ختم کی جائے تو عقد صحیح ہوجاتا ہے جبکہ دوسرے عقد میں چونکہ مردار مال ہی نہیں ہے، اس لیے اس کی خرید و فروخت قطعاً باطل ہے اور فریقین اگر خرید و فروخت کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں کسی اور ’’مال ‘‘کی خرید و فروخت پر نیا عقد کرنا پڑے گا ۔ 

کیا اس طرح کا فرق حنفی فقہا نکاح کے عقد باطل اور عقد فاسد میں بھی کرتے ہیں ؟ فقہی نصوص کا سرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض غیر صحیح عقودِ نکاح کو حنفی فقہا باطل اور بعض کو فاسد قرار دیتے ہیں ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک ہی عقد کو وہ کبھی باطل اور کبھی فاسد قرار دیتے ہیں ۔ مثلاً امام مرغینانی ( صاحبِ ہدایہ ) اور امام کاسانی (صاحبِ بدائع الصنائع ) دونوں عقد متعہ کو باطل قرار دیتے ہیں ؛ لیکن امام مرغینانی نکاح موقت کو باطل اور امام کاسانی اسے فاسد کہتے ہیں ۔ تاہم آگے دونوں ائمہ قرار دیتے ہیں کہ نکاحِ موقت قانوناً متعہ ہی ہے اور اس کے تمام احکام متعہ ہی کے ہیں ۔ علامہ تمرتاشی ( صاحبِ تنویر الابصار ) نے متعہ اور نکاح موقت کو ایک ہی جملے میں اکٹھے باطل قرار دیا ہے۔ پس یہاں ظاہر یہی ہے کہ عقد باطل اور عقد فاسد کو ایک ہی مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن الہمام نے صراحت کی ہے کہ نکاح میں باطل اور فاسد کا حکم یکساں ہے ۔ یہی حقیقت عقد فاسد کی ایک اور مثال پر امام سرخسی کی بحث سے بھی معلوم ہوتی ہے ۔ 

چنانچہ دو بہنوں کے ساتھ نکاح کے بارے میں امام سرخسی قرار دیتے ہیں کہ ایک ہی عقد میں دونوں کے ساتھ نکاح کیا تو دونوں کا عقد باطل ہے (فان تزوجھما فی عقدۃ واحدۃ ، بطل نکاحھما) ۔ تاہم اگر ایک کے ساتھ پہلے نکاح کیا اور دوسری کے ساتھ بعد میں ، تو امام سرخسی کہتے ہیں کہ پہلا نکاح جائز اور دوسرا فاسد ہے (و ان نکح احداھما قبل الاخری ، فنکاح الاولی جائز ۔۔۔ و نکاح الثانیۃ فاسد) ۔ دوسرا نکاح کیوں فاسد ہے ؟ اس کی تعلیل میں امام سرخسی کہتے ہیں کہ چونکہ اسی نکاح کے ذریعے وہ دو بہنوں کو اکٹھا کرتا ہے اس لیے اس کا باطل ہونا ضروری ٹھہرا (لان بھذا العقد یصیر جامعاً بین الاختین ، فتعین فیہ جھۃ البطلان) ۔ یہاں پھر فاسد اور باطل کو انھوں نے ایک ہی مفہوم میں استعمال کیا ہے اور یہ صرف لفظ کا استعمال ہی نہیں بلکہ آگے وہ حکم بھی یہی بیان فرماتے ہیں کہ اس شخص اور اس دوسری عورت کے درمیان تفریق کی جائے گی ، یعنی انھیں ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہنے دیا جائے گا (فیفرق بینھما) ۔ کیا عدالتِ عالیہ لاہور کے فاضل جج صاحب اس آخری بات پر غور فرمائیں گے؟ 

امام سرخسی آگے مزید واضح فرماتے ہیں کہ اگر اس دوسری عورت کے ساتھ اس شخص نے زن و شو کا تعلق قائم نہ کیا ہو تو اس عقد کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس کے ذریعے کوئی حق قائم نہیں ہوتا (فان لم یکن دخل بھا ، فلا شیء لھا)؛ یعنی یہ عقد قانوناً عدم (nullity) کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہی مطلب ہوتا ہے عقد کے باطل ہونے کا ! تاہم اگر دخول ہوجائے تو پھر کچھ اثرات مرتب ہوں گے ! مثلاً اب اس عورت پر عدت لازم ہوگی ، اور وہ مقررہ مہر یا مہر مثل کی ، جو بھی کم ہو ، مستحق ہوگی (و ان کان قد دخل بھا ، فعلیھا العدۃ ؛ و لھا الاقل من المسمی و من مھر المثل) ۔ ان اثرات کے مرتب ہونے کی وجہ کیا ہے ؟ یہی بات یار لوگ سمجھ نہیں پاتے اور یا تو حنفی فقہا کو سب و شتم کا نشانہ بناتے ہیں ، یا فاضل جج صاحب کی طرح فرض کرلیتے ہیں کہ جو بھی ہوا ، غلط طریقے سے ہوا لیکن اب جو ہوا اسے صحیح سمجھو ؛ مٹی پاؤ ! 

دراصل یہاں آکر خانگی قانون کی سرحدیں فوج داری قانون سے مل جاتی ہیں ۔ اگر یہ دوسرا عقد قانوناً باطل تھا ، اور یقیناًتھا ، لیکن اس کے باوجود اس جوڑے نے زن و شو کا تعلق قائم کیا تو کیا ان پر زنا کی حد لاگو ہوگی ؟ حنفی مذہب یہ ہے کہ چونکہ یہاں بظاہر عقد پایا جاتا ہے ، جسے وہ اصطلاحاً شبھۃ العقد کہتے ہیں ، تو اس کی وجہ سے زنا کی حد ساقط ہوجاتی ہے (لان الدخول حصل بشبھۃ العقد ، فیسقط بہ الحد)۔ اب جبکہ حد ساقط ہوگئی ہے تو مہر اور عدت تو یقیناً واجب ہوں گے (و یجب المھر و العدۃ) کیونکہ قاعدہ یہی ہے کہ جب دخول ہو تو دو میں سے کوئی ایک اثر لازماً ہوگا : حد یا مہر ؛ اور استبراء رحم کے لیے عدت بھی گزارنی پڑے گی تاکہ نسب میں اختلاط کا اندیشہ نہ رہے ۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ اس مہر کا یہ مطلب نہیں کہ یہ میاں بیوی ہیں ؛ یہ مہر عقد کے نتیجے میں واجب نہیں ہوا ، ورنہ اس صورت میں مقررہ مہر ہی ادا کرنا پڑتا خواہ مہر مثل سے کتنا ہی زیادہ ہو ؛ بلکہ یہ مہر دخول کی وجہ سے واجب ہوا ہے کیونکہ دخول ہوا لیکن حد نہیں دی گئی ؛ اور اسی وجہ سے مہر مثل یا مقررہ مہر میں جو کم ہو وہی دینا پڑے گا (ان المسمی اذا کان اکثر من مھر المثل ، لم تجب الزیادۃ لعدم صحۃ التسمیۃ) ۔ عدت کے بارے میں بھی واضح رہے کہ یہ صحیح عقد نکاح کے خاتمے کے بعد والی عدت نہیں ہے ۔ چنانچہ اگر دخول کے بعد اس مرد کی موت واقع ہوجائے تو اس عورت پر چار ماہ دس دن کی عدت نہیں ہوگی بلکہ تیسرا حیض آنے پر عدت ختم ہوجائے گی ، جیسا کہ علامہ شامی نے تصریح کی ہے (ان الموطوء ۃ بنکاح فاسد ، سواء فارقھا او مات عنھا ، تجب علیھا العدۃ التی ھی عدۃ طلاق ، و ھی ثلاث حیض) ۔

ایک اور اہم جزئیہ اس مسئلے کے بارے میں یہ ہے کہ نکاح فاسد کو فریقین میں کوئی بھی یک طرفہ طور پر ختم ، یعنی ، فسخ کرسکتا ہے ، خواہ دخول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو (لکل واحد منھما فسخہ، و لو بغیر محضر من صاحبہ، و دخل بھا او لا) ۔ کیا فاضل جج صاحب بتاسکتے ہیں کہ اسلامی قانون کی رو سے صحیح عقد نکاح میں بیوی کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے ، جبکہ اسے طلاق کا حق تفویض بھی نہ کیا گیا ہو ؟ پھر یہاں کیوں اس خاتون کو یہ حق حاصل ہوتا ہے ، خواہ دخول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ یہ معاملہ گناہ کا تھا اور گناہ سے نکلنا واجب ہے (خروجاً عن المعصیۃ) ۔اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ تصریح بھی ملاحظہ کیجیے کہ قاضی پر واجب ہے کہ اگر یہ جوڑا خود ہی اس تعلق کو ختم نہ کرے تو قاضی اس جوڑے کے درمیان تفریق کردے ،یعنی انھیں مزید اکٹھا نہ رہنے دے (بل یجب علی القاضی التفریق بینھما، ای ان لم یتفرقا)۔اس جزئیے کی روشنی میں عدالتِ عالیہ لاہور کے اس فیصلے کی حیثیت کیا ہوجاتی ہے ؟ 

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورت عدت گزار رہی ہو اس کے ساتھ اس کے سابقہ شوہر کے سوا کوئی دوسرا شخص نکاح کرے گا تو وہ نکاح ، خواہ اسے فاسد کا نام دیا گیا ہو ، اپنے آثار اور احکام کے لحاظ سے باطل ہے جب تک وہ جوڑا زن و شو کا تعلق قائم نہ کرلیں ۔ البتہ اگر عدت میں نکاح کا گناہ کرنے کے بعد اس جوڑے نے ایک اور گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے زن و شو کا تعلق بھی قائم کرلیا تو جرم کی سنگینی کے باوجود اس بظاہر عقد (شبھۃ العقد) کی موجودگی کی وجہ سے اس جوڑے کو حد کی سزا نہیں دی جاسکے گی ۔ تاہم اب اس تعلق پر کچھ اور قانونی اثرات مرتب ہوں گے جنھیں عقد فاسد کے اثرات قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ اس مرد پر لازم ہوگا کہ مقررہ مہر یا مہر مثل ( جو بھی کم ہو ) اس عورت کو ادا کردے اور اس عورت پرتین حیض کی عدت لازم ہوجائے گی ۔ اسی کا ایک اور لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس تعلق کے نتیجے میں اگر بچہ پیدا ہوجائے تو اسے ناجائز نہیں قرار دیا جائے گا ۔ البتہ یہ تعلق چونکہ ناجائز اور گناہ ہے، اس لیے فریقین میں کوئی بھی اسے یک طرفہ طور پر فسخ کرسکتا ہے اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو عدالت پر لازم ہوگا کہ ان کے درمیان تفریق کرے ۔ اگر فریقین ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے انھیں نیا عقد نکاح کرنا ہوگا جو صحت کی تمام شرائط پورا کرے ۔ 

زیر بحث مقدمے میں فاضل جج صاحب نے آگے یہ بھی قرار دیا ہے کہ حقائق کی رو سے عورت کی عدت پہلے ہی ختم ہوچکی تھی اور یہ نکاح عدت کے خاتمے کے بعدکیا گیا تھا ۔ تاہم عدت کے خاتمے کے لیے جن دلائل پر فاضل جج صاحب نے بھروسا کیا ہے، ان پر الگ بحث کی ضرورت ہے جسے ہم کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں ۔ سردست صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ اگر واقعی ایسا تھا تو پھر عدت میں نکاح کی ساری بحث ہی فاضل جج صاحب کے لیے غیر ضروری تھی ۔ وہ صرف یہی ثابت کردیتے کہ عدت میں نکاح کا دعوی صحیح نہیں ہے اور اسی لیے یہ نکاح بالکل صحیح ہے ۔ اس کے برعکس جب انھوں نے شد ومد کے ساتھ تصریح کی ہے کہ عدت میں نکاح محض بے ضابطگی ہے اور یہ کہ اس جوڑے کا تعلق غیر شرعی نہیں ہے ، تو آئندہ اسی کو اس فیصلے کی بنیاد (ratio decidendi) کے طور پر استعمال کیے جانے کا اندیشہ ہے ۔ اسی لیے یہ وضاحت ضروری سمجھی گئی۔ ھذا ما عندی ، و العلم عند اللہ۔

حالات و واقعات

دسمبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۲

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
محمد مشتاق احمد

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)
غازی عبد الرحمن قاسمی

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ
رعایت اللہ فاروقی

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی
محمد عامر رانا

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
ادارہ

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس
ادارہ