اردو پر کرم یا ستم؟ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

جسٹس ج۔س۔ خواجہ نے اردو کو بطور سرکاری زبان رواج دینے کے دستوری تقاضے کے بارے میں بطور چیف جسٹسً اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز پہلے جو فیصلہ دیا ہے، اس پر تحسین و تعریف کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اردو کی دادرسی کا کس حد تک ذریعہ بنتا ہے ، یہ وقت بتائے گا ۔ ماضی تو بہرصورت مایوس کن ہے۔ کوئی بابائے اردو بھی نہیں جو صورت حال کو بدلنے کے لئے میدان لگائے۔ ہم اس فیصلے میں پائے جانے والے inherent omissions پر کچھ کہنا چاہیں گے۔ مقصود بہتری کے امکانات سامنے لانا ہے۔

اردو کا موجودہ کیس سپریم کورٹ میں دو آئینی درخواستوں کا نتیجہ ہے۔ درخواست نمبر ۵۶ سال ۲۰۰۳ میں جناب محمدکوکب اقبال صاحب کی جانب سے دائر ہوئی جو سپریم کورٹ کے وکیل اور شہری حقوق کی ایک این جی او کے چیئرپرسن ہیں۔ دوسری درخواست نمبر ۱۱۲، سال ۲۰۱۲میں سید محمود اختر نقوی نے دائر کی۔ موجودہ فیصلہ ج۔س۔ خواجہ نے صادر فرمایا ہے۔ وہ چوبیس روز کے لیے پاکستان کے چیف جسٹس رہے۔ اس کیس کا فیصلہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز پہلے فرمایا۔ کمال یہ ہے کہ اردو کی تقدیر کا فیصلے کرنے بیٹھے ہیں مگر یہ فیصلہ بھی انہوں نے آدھا اردو میں اور آدھا انگریزی میں تحریر کیا۔ یہ امر بھی ان کے کریڈٹ میں ہے کہ انہوں نے اپنی سروس کے دوران دوچار فیصلے اردو میں تحریرکیے ہیں۔ یہ ان کا اردو پر احسان عظیم ہے۔ جسٹس جواد خواجہ کے چند اردو فیصلے خود ان کے لیے کسی incentive کا باعث نہیں ہوئے تو کسی اور پر کیا اثر ڈالیں گے۔

بہرحال جناب جسٹس خواجہ صاحب کے آخری فیصلے کا سرسری مطالعہ کرنے پر سب سے پہلے جو چیز بری طرح کھٹکتی ہے، وہ یہ ہے کہ فیصلہ میں بارہ تیرہ سال لگے۔ انصاف میں تاخیر انصاف کی نفی ہے۔ اب اس تاخیر کے ذمہ دار کون ہیں، اس کا تعین کرنے کی ضرورت نہیں ۔اگر وکلا یا فریقین کا اس میں کوئی حصہ ہے تو ادارے کے طور پر تمام تر ذمہ داری عدلیہ پر ہی عائد ہو گی۔ فیصلے کے متن سے واضح ہے کہ دائری کے بعد بارہ تیرہ سال میں ایک بار ہی سماعت ہو ئی۔ یہ سماعت ۲۰۱۵۔۸۔۲۶کو ہوئی۔ فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ سال رواں میں اٹھارہ بار کیس سماعت کے لیے لگا ۔ پھر ان پیشیوں پر کیا ہوا؟ عدالت نے چودہ پیشیوں کی کارروائی کا چارٹ مرتب کر کے اسے فیصلے کا حصہ بنایا ہے۔ اس کو دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فریقین اور فاضل عدالت نے وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ کیا کوئی وقت کا حساب لے سکتا ہے؟ اس سے status quo مزید طاقت ور ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تمام ادارے یہی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

اردو کی ترویج کے لیے لوگوں کی طرف سے جتنی عرضیاں اعلیٰ عدالتوں کے ڈبوں میں ڈالی گئیں، شاید کوئی پسند نہیں کرے گا کہ ان کی تفصیلات جمع اور جاری کی جائیں۔ فیصلہ کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ دستور کے آرٹیکل ۲۵۱ (۱) کے الفاظ بڑے واضح ہیں کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ اس آرٹیکل میں انتظامات کی ذمہ داری پورا کرنے کے لیے حکومت یا کسی ادارے کا تذکرہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مملکت کا ہر ادارہ، اپنے اپنے دائرہ کار میں، اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ جناب جواد خواجہ صاحب چوبیس روز تک پاکستان کے چیف جسٹس رہے۔ کاش وہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کو ہدایت جاری کر دیتے کہ وہ اپنی ذمہ داری پورا کرتے ہوئے اردو کو سماعت اور فیصلے کی زبان کے طور پر اختیار کریں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے ایسا اس لیے نہ کیا کہ درخواست گذاروں نے اس کے لیے اپنی درخواستوں میں کوئی دادرسی نہیں مانگی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے suo moto کس بیماری کا نام ہے؟

جناب ج۔ س۔ خواجہ صاحب نے فیصلے میں سائلان کے دلائل اور اپنی آبزرویشنز کے حوالے سے حکومتوں کے غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کو کافی نمایاں کیا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:

5. Indeed, the importance of this issue cannot be emphasized enough. Yet, the way in which this issue is being dealt with by the Government, has been very casual and non serious.
6. During the course of this year alone, these petitions have come up for hearing before this Court eighteen times. However, despite the time the Court dedicated to this crucial issue, no substantial progress was made. On 12.5.2015, for instance, Mr Abdul Rashid Awan, Deputy Attorney General for Federation clearly submitted that in spite of his best efforts the Secretary Cabinet and the Secretary Information, Government of Pakistan, and other concerned functionaries were not paying any heed to the Constitutional imperative in Article 251.
’’۵۔ بے شک اس تنازعے کی اہمیت پر زیادہ زور بیان صرف کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود حکومت اور سیکریٹری کیبنٹ اور سیکریٹری انفرمیشن نے اس بارے میں جو طرز عمل اختیار کیا ہے، وہ بہت معمولی اور غیر سنجیدہ ہے۔‘‘
’’۶۔ صرف رواں سال میں یہ درخواستیں اٹھارہ بار سماعت کے لیے لگائی گئیں۔ عدالت نے ہر حال میں اپنے کام میں پوری یکسوئی سے کام لیا۔ اس کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہو ئی۔بطور مثال مورخہ ۲۰۱۵۔۵۔۱۲ کو جناب عبدالرشید ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وفاق کی جانب سے واضح طور پر فرمایا کہ ان کی بہترین کوششوں کے باوجود حکومت پاکستان کے سیکریٹری کیبنٹ اور سیکریٹری انفرمیشن اس آرٹیکل ۲۵۱ کے دستوری تقاضے پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘

اس کے بعد فیصلے کے سات سے نو صفحات پر ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کی سفارشات ۱۹۸۱درج کی گئی ہیں۔ یہ سفارشات جزو الف، ب اور ج کی صورت میں ہیں۔ جزو الف اردو کی ترویج بطور دفتری زبان ،جزو ب اردو کو ذریعہ تعلیم اور جزو ج مقابلے کے امتحانات اردو میں لینے کی بابت ہیں۔ ہم طوالت کے خوف سے یہ سفارشات درج نہیں کر رہے۔ فیصلے کا یہ حصہ لائق توجہ ہے۔ مزید براں حکومت پاکستان کی جانب سے کابینہ سیکریٹیریٹ کابینہ ڈویژن کا خط مورخہ ۶۔جولائی ۲۰۱۵ء بھی فیصلہ کا حصہ ہے۔ اس سب کچھ کے بعد عدالت پیرگراف نمبر ۱۶ میں لکھتی ہے:

We may also emphasis here that implementing Article 251 is not just a matter of obeying the constitution; it has real practical implications for Pakistani public. In this regard, we may refer to a highly relevant historical fact. In 1972, the provincial government in Balochistan led by the Chief Minister and the provincial government N W F P led by CM Maulana Mufti Mahmud, took some concrete steps towards introducing Urdu as the official language in their respective Provinces. 
’’ہم اس بات پر زور دے سکتے ہیں کہ آرٹیکل ۲۵۱ کا معاملہ صرف دستور کے اتباع کا معاملہ نہیں، یہ لوگوں کے لیے بہت سے عملی اور حقیقی مضمرات کا حامل ہے۔ یہاں ہم تاریخ کے ایک بہت ہی متعلق واقعے کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ ۱۹۷۲ میں بلوچستان کی صوبائی حکومت اور شمال سرحدی صوبہ کے وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود نے اپنے اپنے صوبوں میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے تھے۔‘‘

اس کے بعد فاضل جج ایم ایم اے کی حکومت کے دوران اردو کے نفاذ کا بھی ذکر کرکے کہتے ہیں کہ اس سے دفتری خط و کتابت اور noting میں کافی سہولت اور بہتری آئی۔ اس پس منظر میں عدالت فیصلے کے پیراگراف نمبر ۱۹ میں نو ہدایات جاری کرتے ہیں۔ ہم متعلقہ حصہ یہاں نقل کرنا وقت کا ضیاع خیال نہیں کرتے۔ ہدایت نامہ اس طرح ہے:

19 Therefore, bearing in mind the constitutional commands in Article 5 and 251 reproduced above and noting the in-action and failure of successive governments to implement this important provision, we have no option but to order as under:
’’ ۵۔لہٰذا دستور کے آرٹیکل ۵ اور ۲۵۱ کی دستوری ہدایات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور حکومتوں کے ان دفعات پر عمل کرنے میں مسلسل ناکامی کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے پاس درج ذیل ہدایات کے صادر کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں:
i) The provisions of Article 251 shall be implemented with full force and without unnecessary delay by the Federal and Provincial Governments;
ii) the time-lines (given in letter dated 6-7-2015 reproduced below) which are given by the Government itself must be considered for implementation by the Government in line with Article 251 for implementation;
iii) the Federal Government as well as Provincial Governments should coordinate with each other for uniformity in the (رسم الخط)"rasmulkhat" for the National language;
iv) Federal as well as provincial laws should be translated in the National language within three months;
v) statutory, regulatory and oversight bodies shall take steps to implement Article 251 without unnecessary delay and also ensure compliance by regulatees;
vi) In the competitive examinations at Federal level, the recommendations of government bodies noted above, should be considered by the Government for implementation without unnecessary delay;
vii) Judgments in cases relating to public interest, litigation and judgments enunciating a principle of law in terms of Article 189 must be translated in Urdu and should be published in line with Article 251 of the constitution;
viii) In Court cases, government departments should make all reasonable efforts to submit their replies in Urdu to enable citizens to effectively enforce their legal rights;
ix) If, subsequent to the judgment, any public bodies or public officials continue to violate the constitutional command contained in Article 251, citizens who suffer a tangible loss directly and foreseeably resulting from such violation shall be entitled to enforce any civil rights which may accrue to them on this account.
(I) وفاقی اور صوبائی حکومتیں آرٹیکل ۲۵۱ کو پوری قوت سے بلا غیر ضروری تاخیر نافذ کریں گی۔
(II) خط مورخہ ۲۰۱۵۔۷۔۶ (منجانب ڈاکٹر ارم انجم خان، جوائنٹ سیکریٹری کابینہ)اور آرٹیکل ۲۵۱ میں درج مہلت کا لحاظ رکھتے ہوئے آرٹیکل ۲۵۱ کو نافذ کیا جائے گا۔
(III) وفاقی اور صوبائی حکومتیں رسم الخط کی یکسانی کے لیے باہم مربوط اقدامات کریں گی۔
(IV) وفاقی اور صوبائی قوانین کو قومی زبان میں تین ماہ کے اندر اندر ترجمہ کرایا جائے گا۔
(V) قانون کے تحت قائم نظامتیں، قواعد وضوابط بنانے اور نگرانی کا کردار ادا کرنے والے ادارے آرٹیکل ۲۵۱ پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کریں گے۔
(VI) وفاقی اور صوبائی حکومت کے زیر اہتمام مقابلے کے امتحانات کے بارے میں مختلف اداروں کی جانب سے پیش کردہ سفارشات پر بغیر کسی تاخیر عمل کیا جائے گا۔
(VII) مفاد عامہ اور اہم اصول قانون بیان کرنے والے فیصلوں کا ترجمہ کرانے اور ان کو چھاپنے کا اہتمام کیا جائے گا۔
(VIII) عدالتوں کے سامنے مقدمات میں حکومتیں اپنے جوابات ممکنہ حد تک اردو میں پیش کریں گی،تاکہ لوگ اپنے قانونی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔
(IX) موجودہ فیصلے کے بعد، اگر کوئی حکومتی ادارہ یا حکومتی افسران دستور کے آرٹیکل ۲۵۱ کی عدم اطاعت جاری رکھیں تو بالواسطہ یا بلا واسطہ متاثرہ شہری اپنے شہری حقوق نافذ کروانے کا حق رکھتے ہیں۔

فاضل عدالت نے دستور کے آرٹیکل ۲۵۱ میں لفظ shall کا اطلاق کر کے حکومت کو نو ہدایات جاری کی ہیں جو اوپر درج کر دی گئی ہیں۔ کاش اسی shallکا اطلاق کر کے سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور ماتحت عدالتوں کو اردو میں کام (سماعت اور فیصلہ) کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دیتے۔ معقولیت اور انصاف کا تقاضا یہی معلوم ہوتا ہے۔ وفاق کو نو ہدایات پر مشتمل طویل ہدایت نامہ کتنا ہی مکمل ہو، اس میں تعبیرات اور توجیہات کی ہر طرح کی گنجائش ہے۔ حکومت اور انتظامیہ فیصلے پر عملدرآمد سے بچنے کے لیے چور دروازے ڈھونڈ نکالیں گے جس کی ماضی میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ اگر کوئی چیف جسٹس کچھ کرنا چاہے تو ہر دور میں کام کرنے والوں نے کام کیا ہے۔ عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ کرنے کے لیے سابق چیف جسٹس جناب جسٹس محمد افضل ظلہ نے جو اقدامات (3a)کئے اور ان کو حکومتوں سے موثر طور پر منوایا ، وہ ہماری عدلیہ کی تاریخ کا یقینی طور پر سنہرا باب ہے۔ اسی طرح جب سپریم کورٹ نے قصاص و دیت کے حوالے سے یہ قرار دیا کہ اگر پارلیمان شریعت کے منافی قرار دیے گئے قانون کو دی گئی مہلت کے اندر قانون سازی نہیں کرتی یا حکومت کا جاری کردہ آرڈنینس کسی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے تو بھی قصاص و دیت سے متعلقہ قرآن و سنت کے احکام موثر ہوں گے۔ (قصاص دیت کیس، پی ایل ڈی ۱۹۹۰، سپریم کورٹ ۱۱۷۲)

۱۹۸۶ کے سید کمال کیس میں۱۹۱۳ سے رائج قانون شفعہ کو خلاف شریعت قرار دے دیا گیا۔ اسے شریعت کے مطابق بنانے کی ہدایات میں جو سفارشات درج کی گئیں، وہ اس حق کو ختم کر دینے والی تھیں۔ اس کے باوجود صوبائی حکومتوں نے جس طرح کا بلی چوہے کا کھیل شروع کیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ خاص طور پر پنجاب حکومت نے تو انتہا کر دی۔ ۱۹۸۶ تا ۱۹۹۰ کوئی قانون ہی نہ بنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جاتی عمرا کے لیے شریفوں کی جانب سے اراضی کی وسیع خریداریاں کی جا رہی تھیں۔ آخر کار سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے شفعہ کا نیا قانون بنوا ہی لیا۔ یہ کس حد تک اسلامی ہے اور کس حد تک جاگیردارانہ ذہن کا آئینہ دار ہے، ایک الگ موضوع ہے۔ 

کاش جسٹس ج۔ س۔ خواجہ کو اللہ تعالیٰ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے عزم کا عشرِ عشیر ہی عطا کر دیتا تو اور وہ اپنے ادارے کو دستوری پابندی کی ہدایت جاری کرد یتے ۔ اتنا کر دینے کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے لیے کوئی ہدایت نہ بھی جاری کرتے تو ان کے اقدامات کو ہر شہری اپنے لیے ریلیف محسوس کرتا۔ اس کے بعد اگر وفاق اور صوبائی حکومتوں کو اتنی ہی ہدایت کر دیتے کہ قانون کاقابلِ نفاذ متن اردو میں جاری ہو گا تو ان کا فیصلہ تاریخ کا دھارا بدل دیتا۔ یہاں ہم سوچنے پر مجبور ہیں کہ حکومتوں اور ان کے اداروں نے اردو کے ساتھ جو کچھ کیا، وہی کچھ عدلیہ بھی کرتی آ رہی ہے۔ چیف جسٹس جواد صاحب نے اس کے بارے میں کیوں کچھ کہا نہ کیا؟یہاں فیصلہ سے پیراگراف نمبر ۱۰ اور ۱۱ کا کچھ حصہ نقل کرنا چاہتے ہیں:

’’یہاں رہنمائی کے لیے بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے:
ایک بچے کی ماں اپنے بچے کو بابا صاحب کے پاس لائی۔ اس نے شکایت کی کہ بچہ گڑ بہت کھاتا ہے، اسے نصیحت کریں۔ بابا جی نے ایک ہفتے بعد آنے کے لیے کہا۔ جب وہ دوبارہ بچے کو ساتھ لائی تو بابا جی نے اس کو گڑ نہ کھانے کی نصیحت کی۔ بچے نے اسے مان لیا اور گڑ کھانا چھوڑ دیا۔ اس موقع پر بچے کی ماں نے بابا جی سے دریافت کیا کہ انہوں نے یہی نصیحت پچھلے موقع پر کیوں نہ کر دی؟ اس پر بابا جی نے جواب دیا کہ ان دنوں وہ خود کثرت سے گڑ استعمال کر رہے تھے، اس وجہ سے وہ بچے کو گڑ کھانے سے منع نہیں کر سکتے تھے۔‘‘

یہاں کیسے کہوں کہ دیگراں را نصیحت خود میاں فضیحت کی مثال جسٹس صاحب پر ہی نہیں بلکہ ان کے پورے ادارے پر صادق آتی ہے۔

اردو کے نفاذ کے لیے دستور کے آرٹیکل ۲۵۱میں ۱۹۷۳ پانچ سال کی میعاد مقرر کی گئی تھی۔ بعد میں اسے پندرہ سال کر دیا گیا۔ میعاد کا تعین، پرلے درجے کی منافقت تھی۔ یہ دستور اس طرح کی منافقتوں سے بھرا پڑا ہے۔ اس کی بنیاد پر اسے متفقہ دستور کہا جاتا ہے۔ اردو تو ہمارے اندر ہمیشہ سے موجود ہے۔ اسے بولنے، لکھنے اور اختیار کرنے کے لیے ہمیں کسی میعاد کی ضرورت نہیں۔ ایک زمانے میں ایک سابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ اردو میں کام کرنے کے لیے ہمیں صرف حکم کی ضرورت ہے۔ حکم ہوتے ہی تمام جج اردو میں کام شروع کر دیں گے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ابھی ۱۹۷۳ کا دستورنہیں بنا تھا۔ اصل پریشانی یہ ہے کہ ہم تقدیر کے فیصلے عدالتوں سے لینے لگے ہیں۔ ہمیں اپنی تقدیر اپنے ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے۔ اردو کی تقدیر تو روزِ اول سے طے ہے۔ ضرورت ہے کہ کوئی بابائے اردو جیسا عزم لے کر اٹھے، ڈاکٹر سید محمد عبداللہ کا شوق ہو اور پھر دیکھئے اردو کی تقدیر۔ 

میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ دستور میں اردو کے ترویج کے لیے میعاد کا تعین در اصل اس کے نفاذ کو ٹالنے والے بات تھی۔ حکومتوں اور افسر شاہی نے ہی نہیں، اعلیٰ عدالتوں نے بھی ٹالنے کے اس عمل میں اپنا اپنا حصہ خوب ڈالا ہے۔ اگر جسٹس ج۔س۔ خواجہ کے بعد آنے والے چیف جسٹس صاحبان ٹالنے کے اسی عمل کا حصہ بنے رہتے ہیں تواردو کی تقدیر نہیں بدلے گی۔ اوپر درج ہدایت نامہ ایک بار پھر پڑھ لیں۔ میں نے اسے بار بار پڑھا ہے، ہر بار میرا گمان پختہ ہوا کہ اس پر عمل نہیں ہو گا۔ یہ مبہم ہدایات پر مشتمل ہے۔ عمل درآمد سے فرار کے ہزار راستے ان کے اندر موجود ہیں۔ مزید براں حکومتوں کی نالائقیاں اور نوکر شاہی کی بد نیتی اپنی جگہ ہو گی۔ ان ہدایات میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ مقدموں میں جوابات، فیصلہ جات اور قوانین کے تراجم کیے جائیں۔ کیا یہ تراجم سند ہوں گے؟ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایسا ہو گا۔ اہم ترین بات یہی ہو سکتی تھی کہ سماعت، فیصلوں اور قانون کی زبان فوری طور پر آئندہ کے لئے اردو کر دی جائے۔ 

قصہ مختصر، اب ہم صرف دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ غریب اردو کے لیے راہ نکالے۔ اس طرح ہر شہری کے لئے سہولت کا راستہ پیدا ہو گا۔ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے۔ افسوس یہ ہے کہ مفاد عامہ کا سپریم کورٹ کو خیال ہوتا تو کم کورٹ فیس پر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے (کورٹ فیس کیس،پی ایل ڈی ۱۹۹۲ وفاقی شرعی عدالت ۱۹۵) کے خلاف اپیل ۱۹۹۲ سے تعطل کا شکار نہ ہوتی۔ ربع صدی گزر چکی ہے۔ کبھی سنا نہیں کہ یہ اپیل سماعت کے لیے لگی ہو۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل