ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر

ڈاکٹر محمد شہباز منج

’’شاتم رسول کو جہنم رسید کرنے والے ممتاز حسین قادری کی سزا خلافِ قرآن وسنت، اسوہ رسول اکرم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امت کے 1400 سالہ اجماع کے خلاف ہے، لہٰذا سپریم کورٹ یہ سزا واپس لے۔‘‘

یہ کسی ایک مضمون نگار،عالمِ دین اور دانشور کی رائے یا جذبات نہیں، ملی مجلس شرعی کی منتظمہ کی جانب سے ملک میں سیکولرزم، لبرلزم اور لادینیت کو فروغ دینے والے پاکستانی عدلیہ ،انتظامیہ اور مقننہ کے فیصلوں کے خلاف دینی قوتوں کو مل کر جدو جہد کی دعوت دینے کے لیے 18 اکتوبر 2015ء کو لاہور میں منعقدہ ’’تحفظ شریعت کانفرنس‘‘ میں شریک ہونے والے مختلف مکاتب فکر کے 30سے زیادہ علماکے تحفظ شریعت کے مقصد کے تحت کیے گئے چار اہم فیصلوں میں سب سے پہلا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ جناب ڈاکٹر محمد امین کے رسالے ’’البرہان‘‘ کی اکتوبر 2015ء کی اشاعت میں ان تمام علما کے ناموں اور اداروں کے ذکر کے ساتھ شائع ہوا ہے۔میں نے بڑے بڑے مدارس اور جامعات سے متعلق اتنے بڑے بڑے مذہبی ستونوں کا یہ فیصلہ جب سے دیکھا ہے، حیرت و استعجاب کے سمندر میں غرق ہوں: خدایا یہ کیا ہے! ہضم ہی نہیں ہو رہا کہ اتنے دینی دماغوں نے اس قدر غلط اور غیر معقول فیصلے کی تائید کر دی ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے جناب مولانا زاہد الراشدی کے نام پرسے تو اس خاکسار کی نظر ہٹتی ہی نہیں تھی۔کوشش کے باوجود خود کو اس پر بات کرنے سے روک نہیں پایا۔

آگے بڑھنے سے پہلے میں یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ راقم کے نزدیک توہین رسالت کی سزا موت ہی ہونی چاہیے اور سزائے موت کے قانون کو کسی طور ختم نہیں ہونا چاہیے، بالخصوص آج کے دور اور پاکستان کے حالات کے scenario میں توہین رسالت کے قانون کی مخالفت ہر لحاظ سے غلط، غیر معقول اور سنگین نتائج کی طرف لے جانے والی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود ممتاز قادری کیس کے تناظر میں قادری کی سزا کو خلاف قرآن وسنت اور اسوہ رسول و صحابہ رضی اللہ عنہم اور امت کے چودہ سو سالہ اجماع کے خلاف قرار دینا ہر لحاظ سے غلط ہے۔تفنن کا موقع نہیں مگر اس فیصلے کی عبارت سے یوں لگ رہا ہے کہ خدا نخواستہ کتاب وسنت، اسوہ رسول وصحابہ رضی اللہ عنہم اور چودہ سو سالہ اجماع کا بنیادی مسئلہ اور مقصد وحید ممتاز قادری کیس کا فیصلہ کرنا تھا کہ کہیں کسی کو اس کی سزا کے کے سب کے خلاف ہونے میں شک باقی نہ رہ جائے۔

اسلام سے بڑھ کر اصول و ضوابط اور قانونی تقاضوں کا لحاظ کس مذہب اور نظمِ ریاست و قانون میں متصور ہو سکتا ہے۔ لیکن کوئی ایک اور وہ بھی کمزور و نحیف نظم ریاست و حکومت تو بتایا جائے جس میں متاثرفریق کو ملزم سے از خود نپٹنے کی اجازت دی گئی ہو۔ کوئی بھی نظم کسی بھی درجے میں اس کی اجازت دے کر ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔ صاف بات ہے کہ متاثرفریق کا ازخود انصاف لینا اور ریاست و قانون کا اسے انصاف دینا ایک دوسرے کی ضد ہیں۔اگر متاثر فریقوں کو از خود انصاف لینے کی اجازت دے دی جائے تو نظم و قانون ایک بے معنی شے ہو جائے گی۔ جو شخص متاثر ہوگا، وہ خود ہی ظالم سے نپٹ لے گا۔ یہ چیزکبھی انصاف نہیں لا سکتی۔مظلوم بدلے کے وقت ظالم بن جاتا ہے۔ قبائلی معاشرت میں بدلے اور انصاف کے حصول کے اسی نوع کے طریقے رائج رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان میں مدام تباہیاں اور جنگیں رہیں اور کبھی امن کی زندگی میسر نہ آ سکی۔ان تباہیوں ہی نے لوگوں کو قائل کیا کہ کہ نظم و قانون اور ریاست و حکومت ہونی چاہیے جو غیر جانبداررہ کر لوگوں میں ظلم کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کے لیے کام کرے۔

ہمارے ملک میں توہین رسالت پر سزائے موت کا قانون موجود ہے۔اگر کسی کے علم میں آئے کہ کسی شخص نے توہین رسالت کی ہے تو وہ عدالت جا کر ملزم کو مجرم ثابت کرے اور قانون کے مطابق اسے سزاے موت دلوا دے۔اس کو یہ حق کسی طرح نہیں پہنچتا کہ وہ توہین رسالت کے ملزم کو از خود سزائے موت دے دے۔کہا جاتا ہے :ا جی قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے اور ملزم شک کا فائدہ پا جاتا ہے! اگر قانون کو ہاتھ میں لے کر خود انصاف لینے کے لیے یہ جواز ہے تو اس شخص کے لیے کیوں نہیں جس کے باپ،بھائی،بیٹے وغیرہ کو ظلماً قتل کر دیا گیا اوروہ عدالتوں میں انصاف کے لیے رلتا پھر رہا ہے؟ وہ کیوں نہ اپنا حساب خود چکا لے؟ وہ لوگ کیوں مجرم ٹھہرائے جائیں جو اپنے اہل خانہ اور بچوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ریاست کا قانون ماننے سے انکار کر دیں اورریاستی اداروں ،فورسز اور اپنیمزعومہ ملزموں سے خود بدلہ لینا شروع کر دیں؟

اگر عدالتی پروسیجر میں پڑنے کے سبب بڑے او ر با اثر ملزموں کے اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے سزا سے بچ رہنے کے اندیشے کے تحت توہین رسالت کے ملزم کو ذاتی حیثیت میں قتل کرنا جائز کہا جائے تو بااثر قاتلوں اور ظالموں کے ٹرائل میں پڑ کر چھوٹ جانے کے خدشے کی وجہ سے ایک مقتول کے غریب اور بے سہاراورثا اور مظلوموں کے اس سے خود انصاف لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کو کس دلیل کی بنا پر ناجائز کہا جائے گا!

ایک طرف آپ اسلام کے قانونی نظام کا یہ اصول وامتیاز بیان کرتے نہیں تھکتے کہ شک کی بنا پر ملزم کو فائدہ دیا جاتا ہے تو اگر توہینِ رسالت کے کسی ملزم سے متعلق شک ہو جائے تو اس کو فائدہ کیوں نہیں مل سکتا!اگر ثبوت ناکافی ہوں اور ملزم توہین کا انکار کرے تو اس کو سزا دینا اسلامی نقطہ نظر سے غلط ہوگا۔مگر اس کا پتہ تو جب چلے گا جب معاملہ عدالت میں جائے گا۔ اگر عدالت میں پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کا کام تمام کر دیا گیا تو کئی چیزیں جمع ہو گئیں؛ اولاًقاتل نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا ؛ ثانیاًملزم کو صفائی کا موقع نہ دیا؛ ثالثاً، ثبوت کے ناکافی ہونے اور اپنے اقرار نہ کرنے کی بنا پر ملزم کو ملنے والے شک کے متوقع فائدے سے محروم کیا۔ یہ سب چیزیں اسلام کے اصولِ انصاف کے منافی اور ملزم کے ساتھ ظلم وزیادتی کے زمرے میں آتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ججوں کے انصاف کرنے کی کیا گارنٹی ہے؟وہ مختلف مصلحتوں وغیرہ کے تحت ملزم کو چھوڑ دیتے ہیں۔چلیں معاملے کے نسبتاً زیادہ جذباتی پہلو کے پیش نظر ہ یہاں یہ بات نہیں کرتے کہ ایسا تو دیگر بھی بہت سارے کیسوں میں ہوتا ہے، وہاں متاثر فریق کو قانون ہاتھ میں لینے پر معاف کیوں نہ رکھا جائے! ہماری عرض یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کے جج مسلمان نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ویسی ہی عقیدت و محبت کے حامل نہیں جس طرح کوئی بھی مسلمان ہو سکتا ہے؟ کیا وہ توہین ثابت ہونے پر بھی ملزم کو قانون کے مطابق سزا دینے پر تیار نہیں ہوں گے! اور بالفرض وہ سزا دینے سے جان بوجھ کر گریز کرتے ہیں تو انہیں کیا اللہ کے حضور پیش نہیں ہونا اور اپنے اعمال کا حساب نہیں دینا! مزید برآں اگر کوئی جج ملزم کو چھوڑ دیتا ہے تو مدعی کا کوئی قصور نہیں۔ اس کا کام ایک قانونی نظم کے اندر معاملے کو قانون کے نوٹس میں لانا اور اس کے ثبوت پیش کرنا تھا، فیصلہ کرنا نہیں۔وہ شرعی اعتبار سے اپنی استطاعت اور دائرہ اختیار سے باہر کی چیز کے لیے ذمہ دار ہے اور نہ مسؤل و جوابدہ۔اپنے دائرہ استطاعت میں اس کی جو ذمہ داری تھی، وہ ادا کر چکا اور اللہ نے چاہا تو حشر کو ماجور ہوگا۔جج نے اگر فیصلہ جان بوجھ کر غلط دیا تواللہ کی عدالت سے اس کی سزا پائے گا اور اگر اس کی تحقیق میں ملزم مجرم ہی ثابت نہ ہوا تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا ،چاہے وہ فی الواقع مجرم ہی ہو۔اس لیے کہ جج کا کام ثبوت اور ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنا ہی ہوتا ہے اورحدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا ہے کہ قاضی کا ملزم کو چھوڑ دینے میں غلطی کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے۔اگر ملزم فی الواقع مجرم ہو لیکن وہ ہوشیار و چالاک ہو اور قانون کو طرح دے جائے تو بھی فیصلہ ظاہر کے مطابق ہی ہو گا، ملزم عدالت سے چھوٹ جائے گا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہو جائے گا۔

مشہورحدیث ہے کہ تم میں سے دو لوگ میرے پاس اپنے معاملے کو فیصلے کے لیے لاتے ہو۔ایک بڑا چرب زبان ہے اور اپنی چرب زبانی کی بنا پر مجھ سے بغیر حق کے فیصلہ اپنے حق میں کروا لیتا ہے تو وہ یہ مت سمجھے کہ عنداللہ بھی چھوٹ گیا ہے ،اس نے دوسرے کا حق مار کر اپنے پیٹ میں آگ بھری ہے۔اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جج کو فیصلہ ظاہری شواہد پر دینا ہوتا ہے۔اسے جان بوجھ کر کبھی نادرست فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، لیکن ہر کیس میں اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ درست فیصلہ ہی کرپائے۔ایسی صورت میں معاملہ اللہ کی عدالت میں پہنچ جاتا ہے۔لیکن فیصلہ نافذ وہی ہوگا جو عدالت نے کر دیا ہے۔ہاں، اگر متعلقہ عدالت سے بڑی عدالت موجود ہو تو وہاں اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

ثبوت اور گواہیوں وغیرہ کے ناکافی ہونے کی بنا پر ملزم کے چھوٹ جانے حتی کہ مدعی کے مسلمان اورایک غیر مسلم کے مقابلے میں متعلقہ مقدمے میں سچا ہونے کے باوصف فیصلہ اس کے خلاف آنے سے شریعت کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی ، نہ ہمارے اسلاف کو ہوتی تھی ،آج کے حاملینِ شریعت کو بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں یہودی کے آپ کی زرہ چرالینے کے مشہور مقدمے میں اپنے ہی قاضی کے ناکافی ثبوت کی بنا پراپنے خلاف دیے گئے فیصلے پر جھنجلائے نہیں تھے،بلکہ اسے خوش دلی سے قبول کر لیا تھا، حالانکہ فی الحقیقت یہ تصور ہی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ حضرت علی کے مقابلے میں یہودی سچا ہو سکتا ہے۔اگر شریعت کو ملزموں کو ہر حال میں سزا دے کر ہی خوشی ہوتی توملزم کے لیے صفائی،ثبوت اور گواہیوں وغیرہ کا جھنجھٹ رکھا ہی نہ جاتا؛ بس کسی پر الزام سامنے آتا اور اس پر سزا نافذ کر دی جاتی۔شریعت کا تو منشا واضح طور پر اس کے الٹ دکھائی دیتا ہے۔اس نے سزاؤں کے معاملے میں ایسی شرطیں رکھ دیں ہیں کہ بعض دفعہ جرم کا ثبوت محال لگتا ہے۔مثلاً زنا کے معاملے میں ثبوتِ جرم کے لیے شرط ہے کہ چار لوگوں نے سرمے دانی میں سلائی کی مانند یہ فعل ہوتے دیکھا ہو اور وہ اس کی گواہی دیں۔سوال یہ ہے کہ قرائن کے پیش نظر ایک دو یا تین کی گواہی ماننے میں کیا حرج تھا؟ بالکل واضح ہے کہ شریعت کو یہ امر پسند نہیں کہ زنا کے ملزم لائے جاتے رہیں اور شریعت ہر وقت کوڑے برساتی اور سنگسار کرتی رہے۔اس کی خواہش ہے کہ لوگ اس کی تعلیمات کے اخلاقی و روحانی طور پر قائل ہوں نہ کہ سزاؤں سے ڈر ڈر کے۔ شک کی بنا پرحد کے ٹلنے کا فقہی اصول بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شریعت دراصل لوگوں کی اصلاح ان کے جسم کے ذریعے نہیں بلکہ روح کے ذریعے کرنے کو پسند کرتی ہے۔سزا دینا اس کی ضرورت اور مجبوری ہے، خوشی اور دل لگی نہیں۔عجب ستم ظریفی ہے کہ جس شریعت کی خوشی لوگوں پر سے سزائیں ٹالنے میں ہے، ہم اسے سزائیں زبردستی نافذ کر کے خوش کرنا چاہتے ہیں:

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

یہاں ایک ضمنی بات عرض کرنا ضروری ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ سزاٹالنا اچھا ہے تو زیرِ نظر کیس میں ملزمِ توہین رسالت کے قاتل سے رعایت کیوں نہ برتی جائے، لیکن یہاں یہ بات کرنا گویا یہ کہنا ہے کہ جرم میں شک وشبہ اور اس کا ثبوت و یقین ایک ہی شے ہے۔قابلِ التفات یہ امر نہیں کہ کس معاملے میں جرم کتنا واضح اور ملزم کا مجرم ہونا کس قدر بدیہی ہے، اہمیت اس بات کی ہے کہ بعض لوگوں کی خواہش اور تعبیر مذہب کیا ہے! وہ قراردیں تو ملزم مجرم ہے اور اسے بلا تحقیق، بلا ثبوت، بلا ٹرائل سوسائٹی کا جو فردجب چاہے سزا دینے کا حق رکھتا ہے اور ان حضرات کا فیصلہ ہو تو قانون و عدالت ،ملزم کا اقرار،گواہوں کی گواہی اور ہر طرح کے واضح قرائن کوئی معنی نہیں رکھتے۔حقیقت یہ ہے کہ یہاں ملزم کو چھوڑنا اس کے سوا ممکن نہیں کہ جج واضح ثبوت اور قانونی تقاضوں سے آنکھیں بند کر کے کچھ لوگوں کے دباؤ اور خواہشات کے سامنے سپر رکھ دیں۔ 

قانونِ توہین رسالت کا دفاع اور توہین رسالت کے ملزم کو بلا صفائی و ٹرائل اورقانون کو ہاتھ میں لے کر قتل کرنے والے شخص کا دفاع دو یکسر متضاد باتیں ہیں۔یا آپ قانونِ تو ہین رسالت کا دفاع کریں یا توہین رسالت کے ملزم کے قاتل کا۔ قانون کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ متعلقہ الزام کے معاملے میں ثبوت کا تقاضا کرے؛ اگر ثبوت مل جائیں اور ملزم مجرم ثابت ہو جائے تو سزا پائے اور اگر ثبوت نہ ملیں تو بری ہو جائے۔اگر ثبوت و ٹرائل اور ضابطے کے بغیر کسی بھی شخص کو توہین رسالت پر سزاکا اختیار ہے تو قانون کی ضرورت ہی کیا ہے!جو شخص جہاں بھی توہین ہوتی دیکھے یا محسوس کرے گا، معاملے کا فیصلہ کر لے گا۔کیس کو جلدی نپٹانے اور موقعے پر انصاف کرنے کے لیے تو موخر الذکر صورت زیادہ آئیڈیل ہے۔ کیوں خواہ مخواہ قانونی موشگافیوں کے اندیشے کا شکار ہونے کے لیے قانون قانون کی رَٹ لگائی جائے اور اس کا دفاع کیا جائے؟ دین اسلام تو ایک طرف، کسی ہلکے پھلکے قانونی نظام کے نام پر بھی کیا اس سے زیادہ غیر معقول بات کا قائل ہو ا جا سکتا ہے کہ قانون ٹرائل کر کے کسی کو سزا دے دے تو بھی ٹھیک ہے اور اگر متاثرفریق موقع پاکر خود ہی انصاف کر لے تو بھی ٹھیک ہے؛ نظمِ ریاست و قانون کو حق نہیں کہ اس کے اقدام پر اعتراض کرے! فیاللعجب۔

کہا جا سکتا ہے کہ توہین رسالت پر ردعمل کا معاملہ دیگر کیسوں اور ان پر متاثرین کے ردعمل سے مختلف ہے۔لیکن اس صورت میں بھی متاثر فریق کو از خود اقدام کا حق دینے کے بجائے اس بات پر زور دینا چاہیے کہ قانونِ تو ہین رسالت کو موثر بنایا جائے تاکہ لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔قانون پر عمل درآمد میں کمزوریاں بہرحال ذاتی حیثیت میں اقدام کا جواز نہیں بن سکتیں۔مزید برآں کسی کے لیے مخصوص حالات میں اپنے کسی عزیز کا قتل یا اپنی کسی عزیزہ کا ریپ وغیرہ کسی شخص کے بارے میں توہین رسالت کے سنے سنائے معاملے سے زیادہ سنگین اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔اس صورت میں اس کا بدلے کی غرض سے ازخود اقدام کا حق بدرجہ اولیٰ تسلیم کیا جانا چاہیے۔آپ کس دلیل کی بنیاد پر کہیں گے کہ ان دونوں میں سے ایک متاثرفریق تو اپنے اقدام میں حق بجانب تھا اور دوسرا غلط! یہ کہنا ایک لحاظ سے معقول کہا جاسکتا ہے کہ جذبات کی شدت کو سمجھتے ہوئے عدالتوں اور اداروں کو چاہیے کہ توہین رسالت کے کیس کو دیگر کیسوں سے زیادہ اہمیت دیں اور انصاف کے تقاضے جلد از جلد اور ترجیحاً پورے کیے جائیں۔ اگرچہ یہاں بھی یہ سوال ہوگا کہ جس کے جذبات کی شدت دوسرے کیسوں میں زیادہ ہو، وہ اسی زمرے میں کیو ں نہیں آئے گا!

اگر یہ شرط رکھی جائے کہ جب تک قانون پر موثر عمل درآمد کی صورت پید ا نہیں ہوتی، توہین رسالت کے ملزم کے قاتل سے درگزر کرنا چاہیے تو یہ شرط اس لیے غلط ٹھہرے گی کہ ایسا عبوری دور کبھی ختم نہیں ہوگا اور کبھی بھی یہ بات نہیں منوائی جا سکے گی کہ اب قانون پر موثر عمل درآمد ہو رہا ہے، لہٰذا اب مذکوہ نوعیت کے ملزموں کو رعایت نہیں ملے گی۔

سلمان تاثیر کے حوالے سے ذرائع سے یہ باتیں سامنے آئیں کہ اس نے قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کے حوالے سے اعتراض کیا تھا، جیسا کہ اْن دنوں ایک ایشو بنا ہوا تھا اور دوسرے بہت سے لوگ بھی اعتراض کر رہے تھے۔ اگر یہی اعتراض فی نفسہ توہین رسالت کے مترادف تھا تو اکیلا سلمان تاثیر نہیں، ایسی باتیں کرنے والے سارے لوگ توہین رسالت کے مجرم تھے۔ دیگر لوگ تو ایک طرف، بہت سے علما بھی اس کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور یہ آواز آج بھی اٹھائی جاتی ہے۔ تاہم اگر معاملہ اس سے مختلف تھا اور کسی کا خیال تھا کہ اس نے واقعی توہین کی تھی تو اسلامی نقطہ نظر سے اسے صفائی کا موقع دیا جانا اس کا حق تھا؛ اور یہ کام عدالت ہی کے ذریعے ہو سکتا تھا۔

آنجناب علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب سے توہین رسالت کے مجرموں کو دی گئی سزائے موت نظم و قانون اور ریاست کے تحت آتی ہے۔ پھر ان کی طرف سے تو ملزموں کو موقع دینے اور باز آجانے پر معاف کر دینے کی بھی بہ کثرت مثالیں ملتی ہیں۔ان کے اسوہ سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ کوئی اپنی انفرادی حیثیت میں جس کو جب چاہے، توہین رسالت کے الزام میں قتل کر دے؟ مسلم سلطنتوں میں توہینِ رسالت پر سزا کے حوالے سے ایک نمایاں تاریخی واقعہ قرطبہ کے ان مسیحیوں کی سزا ے موت کا ہے ، جن کو مسیحیوں کے یہاں ’’شہداے قرطبہ‘‘ (Martyrs of Corodoba) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ان لوگوں نے مسلمانوں کے سامنے بازاروں میں توہین رسالت کی، لیکن مسلمانوں نے ان کو خود قتل نہیں کیا بلکہ مسلم عدالت نے ان کو سزائے موت دی۔ ان کے متعلق یہ بھی آتا ہے کہ انہیں موقع دیا گیا اور توہین سے باز آنے کا کہا گیا تھا۔ جب انہوں نے منع کرنے کے باوجود اور تکرار کے ساتھ توہین کی تو عدالت نے سزائے موت دی۔

ذاتی حیثیت میں ایسے قتل کو سندِ جواز عطا کرنا سوسائٹی کو انارکی اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔ کیا دینی قوتوں کو سامنے کی یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ چیز تو ان کے اپنے کاز کو نقصان پہنچانے والی ہے؟ اس نوع کے مواقف اپنانے کے نتیجے میں اہلِ مذہب کو نشانہ تنقید بنایا جاتا؛ سینکڑوں سال پہلے کے معاشروں کے باشندے کہا جاتا؛ دقیانوسی اور معاشرے اور حالات سے ناواقف، جذبات کی رو میں بہہ کر اور معروضی حالات کو نظر انداز کر کے آرا قائم کرنے والے اور سوسائٹی کے امیچور عناصر باور کیا جاتا ہے؛ قانون توہین رسالت کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے ؛کہا جاتا ہے کہ مذہبی لوگ مذہب کے نام پر اپنے مذہبی یا سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کے مرتکب ہوتے ہیں۔نتیجتاً اسلام مذاق بنتا؛ لوگ مذہبی لوگوں کے حوالے سے افرادِ معاشرہ کے عدم تحفظ کا شکار ہونے کا تصور قائم کرتے اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایسے احساسات سے مملو ہوجاتے ہیں:

جانے کب، کون ،کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

پاکستان کی مسلم ریاست نے یہ قانون اسی تناظر میں تو بنایا تھا کہ کوئی مسلمان نبی آخر الزمان کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اس امر میں ریاست خاموش یا غیر جانبدار نہیں رہ سکتی؛اسے ایسے ملزم کو خود ہی سزا دینے کا بندو بست کرنا ہوگا،ورنہ لوگ خود اقدام کریں گے جس کے نتیجے میں سوسائٹی اور نظمِ ریاست کو نقصان پہنچے گا۔ آج کے دور میں توہینِ رسالت پر ردِ عمل میں اگر کسی درجے میں ایک مسلمان کے ذاتی حیثیت میں اقدام کا کوئی جواز ہو سکتا ہے تو اس جگہ جہاں توہین رسالت پر قانون موجود نہیں۔اگرچہ آئیڈیل صورت وہاں بھی یہی ہوگی کہ اربابِ بست و کشاد کومعاملے کی حساسیت پر متوجہ اور قائل کر کے قانون بنوایا جائے اور اس وقت تک خود کومعذور سمجھا جائے،البتہ مروجہ ذرائع کو کام میں لاتے ہوئے توہین کی مذمت اور حوصلہ شکنی ضرور کی جائے۔

فرض کریں، قادری نے صحیح کیا تھاتو بھی اس کا ثواب وہ عنداللہ پائے گا۔اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کرنا چاہیے۔ قانون کو تو ظاہر کے مطابق ہی فیصلہ کرنا ہے اور ظاہر میں وہ قانون ہاتھ میں لے کر ایک ایسا قتل کرنے کا مجرم ہے جس کا اختیار ملک کے قانون نے اس کو نہیں دیا تھا۔وہ جنتی ہے تو سزا پانے سے اس کا نقصان کیا! اس نے جس منزل کے لیے یہ اقدام کیا، وہاں پہنچنے کے لیے تو غازی علم الدین کی طرح اسے بے تاب ہونا چاہیے۔ فرشتے ہار لے کر کھڑے ہیں اور حوریں سلامی کو، علما خواہ مخواہ راہ کی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

تحفظِ شریعت کانفرنس کے مذکورہ فیصلے کے مویدین میں دیگر مسالک کے علاوہ کئی دیوبندی اور بریلوی علما بھی شامل ہیں۔بریلوی علما سے سوال ہو سکتا ہے کہ جس مکتبِ فکر کے اماموں کے خلاف آپ کے امام نے حرمین کے سینکڑوں علما کی تصدیق کے ساتھ گستاخی اور کفر کا فتویٰ دیا تھا،ان کو گستاخ وکافر نہ ماننے والے بلکہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے اور اکابرین امت قرار دینے والے لوگ تو آپ کے پہلو میں بیٹھے ہیں اور آپ اس شخص کے اور وہ بھی ماورائے عدالت اور ذاتی حیثیت میں قتل کو سندِ جواز عطا کر رہے ہیں جس کے بارے میں سینکڑوں علماے حرمین تو ایک طرف، خود امام احمد رضا خان ایسے کسی بڑے عالم نے اکیلے بھی گستاخی کا فتویٰ نہیں دیا تھا۔اسی نوعیت کے کئی سوالات فیصلے کے موید دیوبندی، اہلِ حدیث اور شیعہ علما سے ان کے اپنے اپنے اہلِ مسلک کے دوسروں کے بارے میں فتاویٰ اور رویوں سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ اس سے اس کے علاوہ کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کے اس طرح کے فیصلے شریعت کے موقف نہیں، حالات کے جبر اور موضوعی واضافی تصورِ کفر وارتداد کے مظہر ہیں!حالات تقاضا کر یں تو کافر و گستاخ اور مشرک و منافق مومن اور قابلِ معافی ہو سکتے ہیں اور ضرورت داعی ہو تو ایک موہوم سا گستاخ اس قابل بھی نہیں رہتا کہ اسے صفائی کا موقع دیا جائے!

جناب ڈاکٹر محمد امین صاحب اعلیٰ علمی صلاحیت کے حامل عالم اور دانش ور ہیں۔ امت کا بہت درد رکھتے ہیں۔ ’’البرہان‘‘ کی اشاعت ، ملی مجلسِ شرعی کا قیام، ایک اسلامی یو نی ورسٹی کے لیے مہم اور اس کے ابتدائی مراحل سے متعلق کام ان کی دردِ امت کی کوششوں کا مظہر ہیں۔وہ اسبابِ زوالِ امت پر لکھتے اور ماہرین سے لکھواتے رہتے ہیں۔ ’’البرہان‘‘ کی دلچسپی کا یہ خاص میدان ہے۔اس کے اکثر مضامین اسی موضوع کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب محترم کا امراضِ امت کی تشخیص اورعلاج کا جذبہ قابلِ صد تحسین ہے، لیکن مجھے معاف رکھا جائے اگر ان کی دلچسپیوں اور خوابوں کے جزیروں کے فورمز اور تشخیص و علاج گاہوں سے اتنے بڑے بڑے معالجین کی جانب سے اس نوع کی تشخیص اور نسخے لکھے جاتے رہیں گے تو زیرِ تشخیص و علاج امت کو قرنوں تک ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کی کیفیت سے دو چار رہنا پڑے گا:

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

حالات و واقعات

دسمبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۲

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
محمد مشتاق احمد

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)
غازی عبد الرحمن قاسمی

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ
رعایت اللہ فاروقی

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی
محمد عامر رانا

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
ادارہ

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس
ادارہ

Flag Counter