آداب القتال : توضیحِ مزید

محمد مشتاق احمد

ماہنامہ ’’الشریعۃ ‘‘کے نومبر ۔ دسمبر ۲۰۰۸ء کی خصوصی اشاعت میں راقم الحروف کا ایک مضمون ’’ آداب القتال : بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ۔ اس مضمون پر ’’ دہشت گردی : چند مضامین کا تنقیدی جائزہ ‘‘ کے عنوان سے جناب ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب کا تبصرہ جنوری ۲۰۰۹ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔ میں ڈاکٹر صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری تحریر کو تبصرے اور تنقیدکے لائق سمجھا ۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے تبصرے میں جن تین نکات پر بحث کی ہے میں ان کی کچھ مزید وضاحت پیش کرنا ضروری محسوس کرتا ہوں کیونکہ میری ناقص رائے کے مطابق ان میں دو امور ۔ جہادی تنظیموں کی حیثیت اور خود کش حملوں کا عدم جواز ۔ ایسے ہیں جن میں ڈاکٹر صاحب نے شاید میرا مدعا صحیح نہیں سمجھا ورنہ ان امور کے متعلق میرے اور ان کے موقف میں کچھ خاص اختلاف نہیں پایا جاتا ، جبکہ ایک امر ۔ آزادی کی جنگ ۔ ایسا ہے جس میں مجھے ان کی رائے سے اختلاف ہے ۔ 

اولاً : جہادی تنظیموں کی قانونی حیثیت اور ان کی کاروائیوں کے لیے حکومت کی ذمہ داری 

ڈاکٹر صاحب نے جہادی تنظیموں کے متعلق میری رائے کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے : 

’’ اگر کسی ملک کے کچھ مسلح گروہ کسی دوسرے ملک میں کاروائی کریں لیکن انہیں حکومت نے باقاعدہ اجازت نہ دی ہو تو قانوناً پوزیشن یہ ہے کہ جب حکومت نے باوجود علم کے انہیں جانے دیا تو یہ اس کی جانب سے خاموش تائید ہے جو صریح اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ ایسے مسلح گروہوں کی کاروائی جائز ہے۔‘‘ ( ۱) 

میں نے اپنے مضمون میں یہ بات ’’ کچھ مسلح گروہوں ‘‘ کے بارے میں نہیں بلکہ ایسے ’’ بہت سارے لوگوں ‘‘ کے متعلق کہی ہے ’’جو منعۃ رکھتے ہوں‘‘ ، اور قانونی اصطلاح منعۃ کی وضاحت میں نے ’’فوجی اور سیاسی طاقت ‘‘ کے الفاظ کے ذریعے کی تھی ۔ ( ۲) پس میرے نزدیک یہ قانونی پوزیشن باقاعدہ تربیت یافتہ جنگجوؤں کے متعلق ہے جنہیں جنگ کے لیے خاص تربیت دی جاتی ہے اور جو دشمن کو سخت نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ڈاکٹر صاحب نے میری بات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ’’ چنانچہ ایسے مسلح گروہوں کی کاروائی جائز ہے ‘‘ اور پھر اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے ‘‘ کیونکہ معاصر بین الاقوامی قانون کی رو سے یہ ضروری ہے کہ ’’ایک ملک اپنے شہریوں کی جانب سے کسی دوسرے ملک میں کی جانے والی مسلح کاروائی کی باقاعدہ ذمہ داری لے یا اس سے انکار کرے۔‘‘ ( ۳)

اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ عرض کرنی ہے کہ میں نے اس بات کے علی الاطلاق صحیح ہونے کا دعوی ہر گز نہیں کیا ۔ میرے مضمون کا موضوع یہ نہیں تھا کہ کن صورتوں میں جنگ کی اجازت ہوتی ہے اور کن میں نہیں ؟ اس وجہ سے اس مضمون میں اس بات پر بھی کوئی بحث نہیں کی گئی کہ کن لوگوں کے خلاف مسلمان جنگی کاروائی کرسکتے ہیں اور کن کے خلاف نہیں ؟ میں نے مضمون کی ابتدا میں ہی واضح کردیا تھا کہ اس میں jus ad bellum کے مباحث کے بجائے گفتگو jus in bello کے مباحث تک محدود رہے گی ۔ ( ۴) اس کے باوجود میں نے اس مضمون میں مختصراً فقہا کے اس موقف کا ذکر کیا کہ جہاد کی فرضیت کی علت کفر نہیں بلکہ محاربہ ہے ، یعنی مسلمان غیر مسلموں کے خلاف اس بنا پر نہیں لڑ سکتے کہ وہ غیر مسلم ہیں بلکہ وہ صرف ان غیر مسلموں کے خلاف ہی لڑ سکتے ہیں جو اسلام یا مسلمانوں کے خلاف محاربہ کا ارتکاب کریں ۔ ( ۵) پس زیر بحث مسئلے میں راقم کا مفروضہ یہ تھا کہ مسلمان یہ کاروائی انہی لوگوں کے خلاف کررہے ہیں جن کے خلاف کاروائی کی انہیں شرعاً و قانوناً اجازت ہے ۔ باقی رہا ان لوگوں کا معاملہ جن کے خلاف جنگی کاروائی کی شرعاً و قانوناً اجازت نہیں ہے تو ان کے خلاف کاروائی خواہ چند افراد کریں ، یا مسلح تنظیمیں ، اور خواہ ان کو حکومت کی اجازت حاصل ہو یا نہ ہو بہر صورت ان کی کاروائی ناجائز ہوگی کیونکہ ایسی صورت میں جبکہ حکومت کو خود کاروائی کی اجازت نہیں ہے تو وہ افراد یا تنظیموں کو کاروائی کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے ؟ شرعی و قانونی طور پر یہ اصول مسلمہ ہے کہ آپ کسی کو وہی اختیارات تفویض کرسکتے ہیں جو آپ کو حاصل ہیں ۔ جو اختیار آپ کو حاصل نہیں ہے وہ آپ تفویض بھی نہیں کرسکتے ۔ 

میرے مضمون میں جس سیاق میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا ہے وہ یہ ہے کہ بعض اوقات بظاہر جنگی کاروائی حکومت کے بجائے کسی تنظیم نے کی ہوتی ہے اس لیے بعض لوگ اسے محض اس بنا پر ناجائز قرار دے دیتے ہیں کہ جنگی کاروائی کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہے ، حالانکہ اس قسم کی کاروائیوں میں بعض کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ خواہ حکومت نے اس کی صریح اجازت نہ دی ہو اور بظاہر وہ کاروائی کسی تنظیم نے ہی کی ہو لیکن شرعاً و قانوناً اس کے متعلق اصول یہ ہوگا کہ حکومت اس کاروائی کے لیے ذمہ دار ہے کیونکہ اس قسم کی کاروائی حکومت کی خاموش تائید اور سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہوتی ۔ پس اصل سوال یہ تھا کہ کن صورتوں میں افراد یا تنظیموں کی کاروائی کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب امام سرخسی یہ دیتے ہیں کہ اگر حکومت نے اجازت دی ہو تو خواہ کاروائی تنہا ایک فرد کرے یا ایک مضبوط جتھا دشمن پر دھاوا بول دے ، ہر دو صورتوں میں حکومت ذمہ دار ہے ۔ تاہم اگر چند افراد نے حملہ کیا ہو جن میں دشمن کو سخت نقصان پہنچانے کی صلاحیت نہ ہو اور ان کو حکومت نے اجازت بھی نہ دی ہو تو ان کی کاروائی کے لیے حکومت ذمہ دار نہیں ٹھہرے گی ، نہ ہی حکومت پر ان کی مدد لازم ہوگی ۔ البتہ اگر حملہ کسی مضبوط جتھے نے کیا ہو جس کا حکومت کے علم اور مرضی کے بغیر دشمن کے علاقے میں کاروائی کے لیے جانا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں خواہ حکومت نے انہیں باقاعدہ اجازت نہ دی ہو اور خواہ حکومت انہیں own نہ کرتی ہو ، بہر حال حکومت ان کے حملے کے لیے ذمہ دار ہے ۔ میں نے اس بات کی مزید وضاحت اپنے پچھلے مضمون میں ان الفاظ میں کی تھی : 

’’جب حکومت نہ صرف یہ کہ لوگوں کو مسلح تنظیمیں بنانے کا موقع دیتی ہے ، بلکہ انہیں ہر قسم کی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے ۔۔۔ ان کی ٹریننگ ، ان تک اسلحہ کی فراہمی ، ان کو سرحد پار کاروائی میں مدد دینا اور پھر واپس آنے پر محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا، وغیرہ ۔۔۔جب ان میں سے ہر ہر مرحلہ حکومت کی تائید اور نگرانی میں طے پاتا ہو تو پھر صریح اجازت محض ایک کاغذی کاروائی (Formality) ہو جاتی ہے ۔اس کاغذی کاروائی کے بغیر بھی قانونی پوزیشن یہی ہوگی کہ ان مسلح تنظیموں کی کاروائیاں حکومت کی اجازت سے ہی متصور ہوں گی۔‘‘ ( ۶) 

ڈاکٹر فاروق صاحب کے تبصرے کے متعلق دوسری بات یہ عرض کرنی ہے کہ معاصر بین الاقوامی قانون کی رو سے کسی کاروائی کے لیے کسی ریاست کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے اصول یہ نہیں ہے کہ آیا وہ ریاست اس کاروائی کی باقاعدہ ذمہ داری لیتی ہے یا نہیں ؟ بلکہ معاصر بین الاقوامی قانون میں State Responsibility کے قاعدے کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی یہی اصول کارفرما ہیں جو امام سرخسی نے ذکر کیے ہیں۔ ( ۷) مثال کے طور پر مشہور Curfo Channel Case میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے بارودی سرنگوں کے ذریعے واقع ہونے والے نقصانات کے لیے البانیا کو اس بنا پر ذمہ دار ٹھہرایا کہ اسے سمندر میں ان سرنگوں کی موجودگی کا علم تھا ۔ ( ۸) جب Nicaragua Case میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ نکاراگووا میں چھاپہ مار دستوں کی کاروائی کے لیے کیا امریکا ذمہ دار ہے جس نے ان دستوں کو مالی امداد دی اور ہتھیار فراہم کیے ؟ تو بین الاقوامی عدالت انصاف نے قرار دیا کہ امریکا کو ان دستوں کی کاروائی کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے ضروری ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ ان دستوں کی کاروائی امریکا کے کنٹرول کے تحت ہورہی تھی ۔( ۹) Tadic Case میں بین الاقوامی فوجداری عدالت برائے یوگو سلاویا نے قرار دیا کہ ’’کنٹرول ‘‘ کے لیے کوئی لگا بندھا معیار نہیں مقرر کیا جاسکتا اور مختلف سطح کی کاروائی کے لیے درکار کنٹرول کا معیار مختلف بھی ہوسکتا ہے ۔ ( ۱۰) Namibia Case میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے یہ بھی طے کیا ہے کہ ’’کنٹرول ‘‘کے لیے ضروری نہیں کہ کاروائی ایسے علاقے سے ہوئی ہو جس پر ریاست کو قانونی اختیار ( sovereignty) حاصل ہو ، بلکہ اگر وہ ایسے علاقے سے ہوئی ہو جس پر ریاست کو صرف واقعتاً (Pbhysical) کنٹرول حاصل تھا تب بھی اس کاروائی کے لیے ریاست ذمہ دار ٹھہرے گی ۔ ( ۱۱) بلکہ Caire Case کے فیصلے سے یہ بھی واضح ہے کہ اگر کسی ریاستی ادارے کے کسی فرد نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے (ultra vires) کوئی کاروائی کی تب بھی اس کاروائی کے لیے وہ ریاست ذمہ دار ٹھہرے گی اگر اس فرد نے ریاستی ذرائع و وسائل اور سہولیات کا استعمال کیا ہو۔( ۱۲) جنیوا معاہدات کے پہلے اضافی پروٹوکول میں یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ ماتحتوں کی کاروائی کے لیے افسر بالا ذمہ دار ہوگا اگر اسے ماتحت کی جانب سے کاروائی کا علم تھا اور ماتحت کو روکنے کے لیے اس نے وہ اقدامات نہیں اٹھائے جنہیں اٹھانے پر وہ قادر تھا ۔ (۱۳) یہی اصول بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور میں بھی طے کیا گیا ہے ۔ ( ۱۴) 

میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا تھا کہ امام شیبانی اور امام سرخسی نے ذمہ داری کے اس اصول کی بنا پر قرار دیا تھا کہ اگر مسلمانوں سے امن معاہدہ کرنے والے کسی گروہ کے کسی فرد نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کے باوجود اس گروہ کے ساتھ معاہدہ برقرار رہے گا بشرطیکہ خلاف ورزی کو اس فرد کا انفرادی عمل قرار دیا جاسکے ، اور اگر اس گروہ نے علم اور قدرت کے باوجود اس فرد کو معاہدے کی خلاف ورزی سے نہیں روکا تو اس پورے گروہ کو اس خلاف ورزی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور امن معاہدہ غیر مؤثر ہوجائے گا ۔ ( ۱۵) اس اصول کی بنیاد چونکہ قرآن و سنت کی نصوص اور اسلامی شریعت کے قواعد عامہ پر تھی اس لیے امام شیبانی یا امام سرخسی کو کسی مدون بین الاقوامی قانون کے ضابطے کی ضرورت نہیں تھی ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ تجزیہ آج کے مدون بین الاقوامی قانون کی رو سے بھی بالکل درست ہے ۔ اس بنا پر میں ڈاکٹر فاروق صاحب کی اس بات سے بصد ادب و احترام اختلاف کی جرأت کرتا ہوں کہ ’’ امام سرخسی نے جس وقت یہ بات تحریر کی تھی اس وقت بین الاقوامی قانون آج کی طرح مدون نہیں تھا ۔ ‘‘ ( ۱۶) 

ڈاکٹر صاحب کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اگر حکومت امن معاہدے پر کاربند رہنے کی دعویدار ہو اور ساتھ ہی افراد یا تنظیموں کو امن معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت دیتی ہو تو یہ دھوکہ دہی ہے جو شرعاً ناجائز ہے ۔ ( ۱۷) تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس دھوکہ دہی کو صرف معاصر بین الاقوامی قانون نے ہی ناجائز ٹھہرایا ہے یا اس سے بہت پہلے اسے اسلامی شریعت نے بھی ناجائز قرار دیا تھا ؟ اگر اسلامی شریعت نے صدیوں پہلے اس کام کو دھوکہ دہی قرار دے کر اسے ناجائز ٹھہرایا تھا تو پھر فقہا کے دور میں بین الاقوامی قانون کے مدون ہونے یا نہ ہونے کا موضوع زیر بحث پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ پھر سوال یہ نہیں ہوگا کہ کیا یہ دھوکہ دہی اس وقت جائز تھی جبکہ بین الاقوامی قانون غیر مدون تھا ؟ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ جب یہ دھوکہ دہی اس وقت بھی قرآن وسنت کی نصوص اور شریعت کے قواعد عامہ کی رو سے ناجائز تھی تو فقہا اسے جائز کیسے قرار دے سکتے تھے ؟ حاشا و کلا ! فقہا ہر گز کسی قسم کی دھوکہ دہی کو جائز نہیں قرار دے سکتے تھے ، بلکہ انہوں نے جس صورت میں جنگی کاروائی کے جواز کا ذکر کیا ہے وہ دھوکہ دہی کے ضمن میں آتا ہی نہیں ۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں ذکر کیا ، وہ اس قسم کی جنگی کاروائی کو اسی وقت جائز قرار دیتے ہیں جب یہ کسی برسر جنگ گروہ کے خلاف کی جائے ۔ باقی رہی بات ان گروہوں کی جن کے ساتھ مسلمان امن معاہدات میں بندھے ہوئے ہوں تو فقہا نے لفظ اور روح کے ساتھ ان معاہدات کی پابندی لازم ٹھہرائی ہے اور اپنے پچھلے مضمون میں بھی میں نے فقہا کی تصریحات پیش کی تھیں کہ وہ ان افعال کو بھی ناجائز ٹھہراتے ہیں جن میں معاہدے کے لفظ کی خلاف ورزی چاہے نہ ہوتی ہو لیکن اس کی روح کی خلاف ورزی ہوتی ہو ۔ ( ۱۸)

ثانیاً : آزادی کی جنگ 

جناب ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب نے مزاحمت اور آزادی کی جنگ کے جواز کے متعلق میرے موقف پر تنقید کرتے ہوئے اپنی رائے ان الفاظ میں ظاہر کی ہے : 

’’یہاں بھی اگر چند ایک چیزیں موجود ہوں تو جنگ جاری رکھی جاسکتی ہے ، ورنہ نہیں ۔ وہ شرائط یہ ہیں کہ ساری مزاحمتی قوت ایک لیڈر کے تحت منظم ہو ، ایک ایسا خطہ زمین موجود ہو جس میں مزاحمتی قوت امن و امان قائم کرسکے اور قانون کا نفاذ کرسکے ، رائے عامہ اس کی پشت پر ہو اور لڑائی جیتنے کی پوری طاقت موجود ہو ۔ اگر ان میں سے ایک بھی شرط پوری نہ ہو تو مسلح مزاحمت صحیح نہیں۔‘‘ ( ۱۹) 

میں پھر کہوں گا کہ میرے مضمون کا اصل موضوع مزاحمت اور آزادی کی جنگ کے جواز و عدم جواز پر بحث نہیں تھی ۔ اس وجہ سے اس موضوع پر تفصیلی بحث اس میں نہیں کی جاسکی ۔ میرے ایل ایل ایم کے مقالے میں اس موضوع پر تفصیلی بحث موجود ہے جس کا غالب حصہ میری کتاب ’’ جہاد ، مزاحمت اور بغاوت : اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ‘‘ کے حصۂ چہارم میں آگیا ہے ۔ میں یہاں مختصراً اشارات ہی پر اکتفا کروں گا۔ 

مزاحمت اور آزادی کی جنگ پر بحث دو مختلف زاویوں سے کی جاسکتی ہے ۔ ایک صورت یہ ہے کہ کسی علاقے پر غیروں کی جانب سے حملہ ہو اور وہاں کے لوگ اس حملے کے خلاف مدافعت اور مزاحمت کے لیے کھڑے ہوں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی ریاست کے اندر مقیم کوئی گروہ اس ریاست سے علیحدگی اور آزادی کے لیے مسلح جد و جہد کی راہ اختیار کرلے ، یا کسی ریاست پر بیرونی قبضہ مکمل ہونے کے بعد وہاں کچھ لوگ اس قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کریں ۔ پہلی صورت اضطراری ہے اور دوسری صورت اختیاری ۔ میں نے اپنے پچھلے مضمون میں بات پہلی صورت کے متعلق کہی تھی ۔ اس لیے یہاں بھی بحث اسی صورت تک محدود رکھوں گا ۔ 

ڈاکٹر صاحب جن شرائط کا ذکر کرہے ہیں وہ اس صورت میں بالکل ہی غیر متعلق ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صورت دفاع کی ہے جو نہ صرف ہر ہر فرد کے لیے فرض عینی ہے بلکہ ہر ہر فرد کا شرعی ، قانونی اور فطری حق بھی ہے ۔ ( ۲۰) ایسی صورت میں اگر حملے کی زد میں آئے ہوئے علاقے کی حکومت کا ڈھانچہ تباہ ہوجائے لیکن ابھی اس علاقے پر قبضہ تکمیل تک نہ پہنچا ہو تو اس علاقے کے عام افراد کے لیے مزاحمت کا حق مغرب کے وضع کردہ بین الاقوامی قانون نے اس وقت بھی مانا تھا جب ایشیا و افریقا پر مغربی طاقتیں اپنا تسلط جمانے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔ چنانچہ اس حق کو پہلے ان کے رواجی بین الاقوامی قانون (Customary International Law) کی رو سے ثابت شدہ سمجھا جاتا تھا ، پھر ۱۹۰۷ء کے چوتھے معاہدۂ ہیگ نے اسے باقاعدہ بین الاقوامی معاہدے کی صورت میں تسلیم کرلیا ۔ ( ۲۱) دوسری جنگ عظیم کے بعد جب آداب القتال کے بین الاقوامی قانون کی تدوین کے لیے ۱۹۴۹ء میں جنیوا معاہدات کیے گئے تو تیسرے جنیوا معاہدے نے پھر اس حق کو تسلیم کیا ۔ ( ۲۲)

اس قسم کی عوامی مزاحمت کو اصطلاحاً levee en masse کہا جاتاہے ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ مزاحمت چونکہ ’’عوامی ‘‘ہے اس لیے یہ توقع عبث ہے کہ تمام مزاحمت کار کسی ایک لیڈر کے ماتحت منظم ہوں ، نہ ہی وہ کوئی مخصوص امتیازی لباس یا علامت استعمال کرسکتے ہیں ۔ اس کے باوجود معاہدۂ ہیگ اور معاہدۂ جنیوا نے ان مزاحمت کاروں کو ’’ مقاتل ‘‘ (Combatant) کی حیثیت دی ہے اور صراحت کی ہے کہ گرفتار ہونے پر ان کو ’’ جنگی قیدی ‘‘ (Prisoner of War) کی حیثیت حاصل ہوگی ۔ ( ۲۳)

بعض اوقات یوں بھی ہوسکتا ہے کہ حملے کے نتیجے میں کسی ریاست کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے اور وہاں پر حملہ آوروں کا قبضہ بھی مکمل ہوجائے لیکن اس ریاست کی ’’جلاوطن حکومت ‘‘ (Government in Exile) کسی دوسری ریاست میں اس ریاست کے تعاون سے قائم ہوجائے اور وہ وہاں سے مزاحمت اور آزادی کی جنگ جاری رکھے ۔ دوسری جنگ عظیم میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں اور اسی بنا پر ۱۹۴۹ء کے تیسرے جنیوا معاہدے نے اس طرح کی مزاحمت کرنے والوں کے لیے بھی مقاتل اور جنگی قیدی کی حیثیت تسلیم کی ہے اور صراحت کی ہے کہ ان کو یہ حیثیت اس صورت میں بھی حاصل ہوگی جب جنگ کا دوسرا فریق اس حکومت یا لیڈر کو جائز تسلیم نہیں کرتا جس کے ماتحت یہ مزاحمت کرتے ہوں ۔ ( ۲۴) اسی شق کی وجہ سے ۱۹۵۰ء۔ ۱۹۵۱ء کی جنگ کوریا میں شمالی کوریا اور چین سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو امریکا نے جنگی قیدی کی حیثیت دی حالانکہ اس وقت امریکا نے چین اور شمالی کوریا میں سے کسی کی حکومت تسلیم نہیں کی تھی ۔ اس شق کی رو سے امریکا پر لازم تھا کہ ۲۰۰۱ء میں افغانستان پر حملے کے دوران میں طالبان حکومت کے ماتحت مزاحمت کرنے والے جن جنگجوؤں کو اس نے گرفتار کیا انہیں وہ جنگی قیدی کی حیثیت اور حقوق دیتا مگر دیگر بین الاقوامی قوانین کی طرح بش حکومت نے اس قانون کی بھی دھجیاں بکھیر دیں ۔ 

جیسا کہ ذکر کیا گیا، عوامی مزاحمت کار (levee en masse) کسی باقاعدہ کمان کے تحت منظم نہیں ہوتے اور ان کے ملک پر بیرونی حملہ آوروں کا قبضہ ابھی تکمیل نہیں پہنچا ہوتا ۔ سوال یہ تھا کہ جن لوگوں کے ملک پر بیرونی حملہ آوروں کا قبضہ ہوجاتا اور وہ باقاعدہ کمان کے تحت منظم طریقے سے اس قبضے کے خلاف مزاحمت کرتے ان کو کیوں مقاتل اور جنگی قیدی کی حیثیت نہیں دی جاتی تھی ؟ تیسری دنیا میں مزاحمت کاروں کا موقف یہ تھا کہ ان لوگوں کو بدرجۂ اولی یہ حیثیت حاصل ہونی چاہیے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب تیسری دنیا کے ممالک میں مغربی قابض طاقتوں کے خلاف مزاحمت اور آزادی کی جنگوں کا سلسلہ تیز ہوا تو ظاہر ہے کہ ابتدا میں مغربی طاقتیں ان مزاحمت کاروں کو یہ حیثیت دینے پر آمادہ نہیں تھیں ۔ تاہم جب بتدریج تیسری دنیا کے ممالک نے مغربی طاقتوں کے قبضے سے آزادی حاصل کرلی تو پھر مغربی طاقتوں کے علی الرغم ۱۹۷۷ء میں جنیوا معاہدات پر دو مزید ملحقات کا اضافہ کیا گیا ۔ ان میں پہلے پروٹوکول کا تعلق ’’بین الاقوامی جنگوں ‘‘ (International Armed Conflict) سے ہے ۔ اس پروٹوکول نے ایک اصول تو یہ طے کیا کہ آزادی کی جنگ کسی ملک کا اندرونی معاملہ یا خانہ جنگی ( Civil War) نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی جنگ ہے ۔ ( ۲۵) اس اصول کے ماننے کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ اس جنگ میں لڑنے والوں کو مقاتل کی حیثیت اور اس میں قید ہونے والوں کو جنگی قیدی کی حیثیت دی جائے اور ان پر اس ملک کے اندرونی قانون کے بجائے بین الاقوامی قانون کا اطلاق ہو ۔ چنانچہ اس پروٹوکول نے اس کی باقاعدہ تصریح بھی کر لی ۔ ( ۲۶) مزید برآں ، اس نے امتیازی لباس اور علامت کی شرط میں نرمی کرکے چھاپہ مار کاروائی کے لیے بھی قانونی جواز فراہم کرلیا ۔ ( ۲۷) 

اس بحث میں اس اصول کا بھی اضافہ کیجیے کہ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل سے ہی بین الاقوامی قانون نے یہ اصول تسلیم کیا ہوا ہے کہ قبضے (Occupation) کی وجہ سے کسی ریاست کو مقبوضہ علاقے پر قانونی اختیار حاصل نہیں ہوتا اور جلد یا بدیر قابض طاقت کو مقبوضہ علاقے نکلنا ہوگا ۔ چنانچہ ہندوستان تو ۱۸۵۷ء میں ’’برطانوی ہند‘‘ ( British India) میں تبدیل ہوگیا تھا لیکن فلسطین ۱۹۱۸ء میں ’’ برطانوی فلسطین‘‘ نہ ہوسکا ، بلکہ برطانیہ نے ’’ نظام انتداب ‘‘ (Mandate System) کے تحت بطور امانت (Trust)اس پر تسلط حاصل کیا اور ۱۹۴۸ء میں اس ’’ امانت ‘‘ سے جان چھڑالی ۔ اسی طرح ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کے تحت بعض علاقے یہودیوں کے حوالے کیے جن میں ریاست اسرائیل وجود میں آگئی ۔ ان علاقوں کے علاوہ بعض دیگر علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ ۱۹۴۸ء کی جنگ میں اور پھر بعض مزید علاقوں پر ۱۹۶۷ء کی جنگ میں ہوا لیکن ( یروشلم سمیت ) وہ علاقے ریاست اسرائیل کا حصہ نہیں ہیں ، بلکہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے تحت اقوام متحدہ کا سرکاری موقف مسلسل یہ رہا ہے کہ یہ علاقے ’’ مقبوضہ فلسطینی علاقے ‘‘ (Occupied Palestinian Territories) ہیں اور ان علاقوں پر ریاست اسرائیل کے تسلط کی حیثیت قابض طاقت کی ہے ۔ ( ۲۸) اس لیے جلد یا بدیر اسرائیل کو ان علاقوں سے نکلنا ہوگا ، الا یہ کہ تمام متعلقہ فریق کسی آزادانہ بین الاقوامی معاہدے کے تحت ان علاقوں کے مستقبل کے متعلق کوئی اور فیصلہ کرلیں ۔ 

یہ تو اس معاملے کا قانونی پہلو ہوا ۔ باقی رہا شرعی پہلو تو ڈاکٹر صاحب کی مذکورہ تمام شرائط پر بحث کی نوعیت ہی تبدیل ہوجاتی ہے اگر شریعت کے چند مسلمات کی روشنی میں ان شرائط کا جائزہ لیا جائے ۔ ان مسلمات میں ایک یہ ہے کہ دار الاسلام کے ایک ایک ذرے کے تحفظ کی ذمہ داری تمام امت پر فرض کفائی ہے ۔ ( ۲۹) یہ بھی شرعی مسلمات میں ہے کہ فرض کفائی بعض صورتوں میں فرض عینی کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔(۳۰) اس لیے اگر دار الاسلام کے کسی خطے پر بیرونی حملہ ہو تو اس حملے کے خلاف مدافعت صرف اس خطے کے باشندوں کا ہی درد سر نہیں ہے بلکہ وہ پوری امت کا مسئلہ ہے اور اگر اس خطے کے باشندے مدافعت کا فریضہ ادا نہ کرپارہے ہوں تو پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ ان کی نصرت کے لیے اٹھے ۔ اس نصرت کی راہ میں معاصر بین الاقوامی مزاحم نہیں ہے ، بلکہ معاصر بین الاقوامی قانون کی قیود کے تحت رہتے ہوئے بھی دفاع کا یہ اجتماعی فریضہ بطریق احسن ادا کیا جاسکتا ہے ۔ مسئلہ بین الاقوامی قانون یا اسلامی شریعت کے قواعد سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ پست ہمتی ، باہمی افتراق ، جہالت ، مادہ پرستی اور سب سے بڑھ کر ’’وہن‘‘ جیسے عوامل سے پیدا ہوتا ہے جن پر بحث میرے مضمون کے موضوع سے باہر ہے ۔ 

ثالثاً : خود کش حملوں کا جواز ؟ 

ڈاکٹر فاروق صاحب نے خود کش حملوں کے متعلق میری بحث کا نتیجہ ان الفاظ میں نکالا ہے : 

’’ اگر چار شرائط پوری کردی جائیں اسلامی شریعت کی رو سے خود کش حملہ جائز ہے۔‘‘ ( ۳۱) 

یہ بات میرے لیے انتہائی حیرت کا باعث بنی ہے کیونکہ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان شرائط کے پوراکرنے پر خود کش حملہ اسلامی شریعت کی رو سے جائز ہوجاتا ہے بلکہ میرے اس مضمون کا تو بنیادی ہدف درحقیقت یہ امر تھا کہ اسلامی شریعت کی رو سے خود کش حملہ کسی صورت جائز نہیں ہوسکتا ۔ مضمون کی ابتدا میں ہی میں نے وضاحت کی تھی : 

’’بعض اوقات وضعی قانون کی بہ نسبت اسلامی قانون میں زیادہ پابندیاں پائی جاتی ہیں ۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی قانون کی رو سے خود کش حملوں کے جواز یا عدم جواز کی بحث میں اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں کہ خود کشی جائز ہے یا ناجائز ؟ تاہم جب اس قسم کے حملوں کے جواز یا عدم جواز پر اسلامی قانون کی رو سے بحث کی جاتی ہے تو یہ سوال بہت اہم ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کا حملہ ’’خود کشی ‘‘ہے یا نہیں کیونکہ اسلامی شریعت کی رو سے خودکشی ایک بہت بڑا گناہ ہے ؟ ‘‘ ( ۳۲) 

جن چار شرائط کا ڈاکٹر صاحب ذکر کررہے ہیں ان کے متعلق میں نے تصریح کی تھی کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے کسی بھی حملے کے جواز کے لیے یہ چار شرائط ہیں اور اگر یہ پوری کردی جائیں تو بین الاقوامی قانون حملے کو ناجائز نہیں ٹھہراتا خواہ اس حملے میں حملہ آور دوسروں کے علاوہ خود اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کردے کیونکہ بین الاقوامی قانون برائے آداب القتال خود کشی کو ناجائز نہیں ٹھہراتا ، نہ ہی اس طریق جنگ کو ناجائز ٹھہراتا ہے ۔( ۳۳) اس کے بعد میں نے وضاحت کی تھی کہ چونکہ بین الاقوامی معاہدات برائے آداب القتال کی پابندی اسلامی شریعت کی رو سے لازم ہے اس لیے ان شرائط کی پابندی اسلامی شریعت کی رو سے بھی ضروری ہے، ( ۳۴) یہاں تک کہ مقاتل کی حیثیت کے لیے جن شرائط کی پابندی بین الاقوامی قانون نے لازم ٹھہرائی ہے میں نے ان کے متعلق بھی واضح کیا تھا کہ ان کی پابندی شریعت کی رو سے بھی لازم ہے۔ ( ۳۵) اس کے بعد میں نے تصریح کی تھی کہ بین الاقوامی قانون کی ان شرائط کے علاوہ کچھ اضافی قیود اسلامی شریعت نے مزید عائد کی ہیں اور ان میں سب سے اہم قید خودکشی کی ممانعت ہے۔ ( ۳۶) پھر میں نے ان فقہی جزئیات کی صحیح تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی تھی جن سے بعض لوگ خود کش حملوں کے جواز کے لیے استدلال کرتے ہیں ( ۳۷) اور اس ضمن میں اس سوال پر بھی میں نے بحث کی تھی کہ کیا اس قسم کے حملوں میں اپنی زندگی ختم کرنے والا حملہ آور شہید ہوگا یا اسے خود کشی کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا ؟ (۳۸) یہاں میں نے فقہا کی یہ رائے بھی ذکر کی تھی کہ دشمن پر حملہ کرتے ہوئے غلطی سے خود کو زخمی کرنے والے پر بھی فقہا دنیوی امور میں شہادت کے شرعی احکام کا اطلاق نہیں کرتے ۔ ( ۳۹) پھر اس بحث کا خلاصہ میں نے یہ نکالا تھا کہ جب مجاہد دشمن کی صفوں میں گھس کر ان کو قتل اور زخمی کرنے لگتا ہے اور پھر دشمن کے حملے کے نتیجے میں وہ قتل ہوجاتا ہے تو درحقیقت اس کے قتل کا باعث دشمن کا فعل بنا ہے ۔ اس کے برعکس خود کش حملے میں حملہ آور کی موت کا باعث خود اس کا اپنافعل ہوتا ہے ۔ اس لیے اول الذکر صورت کو خود کشی نہیں کہا جاسکتا جبکہ ثانی الذکر صورت خودکشی کی ہے جو حرام ہے۔ ( ۴۰) آخر میں میں نے یہ وضاحت بھی کی تھی کہ خودکشی کی ممانعت کے حکم کو اضطرار کے قاعدے کی بنیاد پر بھی معطل نہیں کیا جا سکتا۔ (۴۱) 

ڈاکٹر فاروق صاحب کہتے ہیں : 

’’ خود کشی کسی صورت میں بھی جائز نہیں ۔ قرآن و حدیث نے اس معاملے میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا اور عقل عام سے بھی اس ضمن میں کوئی استثنا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ ‘‘ ( ۴۲) 

سوال یہ ہے کہ جب میں نے صراحت کی تھی کہ اضطرار کی حالت میں بھی خود کشی کی ممانعت معطل نہیں ہوسکتی تو ڈاکٹر صاحب تنقید کس بات پر کر رہے ہیں ؟ مزید برآں ، ڈاکٹر صاحب کی توجہ شاید اس بات کی طرف نہیں گئی کہ میں نے چند اور بھی ایسے شرعی قواعد ذکر کیے ہیں جو خود کش حملوں کے ذریعے پامال ہوتے ہیں اور جن کو اضطرار کی حالت میں بھی معطل نہیں کیا جاسکتا ، جیسے غدر کی ممانعت ، مسلمان کے قتل عمد کی ممانعت اور شرعی طور پر محفوظ جان و مال کو پہنچائے گئے نقصان کی تلافی کا وجوب ۔ ( ۴۳) مضمون کے آخر میں ساری بحث کا خلاصہ میں نے ان الفاظ میں پیش کیا تھا : 

’’ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر اسلامی شریعت کے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے حملہ کیا جائے تو وہ ’’ خود کش حملہ ‘‘ نہیں ہوگا ۔ پس اسلامی آداب القتال کی پابندی کرتے ہوئے خود کش حملوں کے جواز کے لیے کوئی راہ نہیں نکالی جاسکتی ۔ ‘‘ ( ۴۴) 


حواشی 

۱ ۔ ڈاکٹر محمد فاروق خان ، دہشت گردی : چند مضامین کا تنقیدی جائزہ ، ماہنامہ ’’الشریعۃ ‘‘گوجرانوالہ ، جنوری ۲۰۰۹ء ، ص ۴۶ 

۲ ۔ محمد مشتاق احمد ، آداب القتال : بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل ، ماہنامہ ’’الشریعۃ ‘‘گوجرانوالہ، نومبر ۔ دسمبر ۲۰۰۸ ء ، ص ۴۶ 

۳ ۔ دہشت گردی ، ص ۴۷ 

۴ ۔ آداب القتال ، ص ۲۵ 

۵ ۔ ایضاً ، ص ۳۷ 

۶ ۔ ایضاً ، ص ۴۶ 

۷ ۔ State Responsibility کے قواعد کی وضاحت کے لیے دیکھیے : 

Malcolm N. Shaw, International Law (Cambridge University Press, 2003), 694-752. 

۸۔ ICJ 1949 Rep 4 at 155

۹ ۔ ICJ 1986 Rep 14 at 64-65

۱۰ ۔ 38 ILM 1999, 1518 at 1541

۱۱ ۔ ICJ 1971 Rep 17 at 54

۱۲ ۔ 5 RIAA 516 at 530

۱۳ ۔ ۱۹۷۷ء کے پہلے اضافی پروٹوکول کی دفعات ۸۶ ۔ ۸۶ 

۱۴ ۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور ۱۹۹۸ء کی دفعات ۲۵ ۔ ۲۸ 

۱۵ ۔ آداب القتال ، ص ۳۶ 

۱۶ ۔ دہشت گردی ، ص ۴۷ 

۱۷ ۔ ایضاً 

۱۸ ۔ آداب القتال ، ص ۴۹ ۔ ۵۶ 

۱۹ ۔ دہشت گردی ، ص ۴۷ 

۲۰ ۔ کئی احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے انتہائی بلیغ انداز میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کی کوشش میں اگر کوئی شخص قتل کردیا گیا تو وہ شہید ہوگا : 

من أرید مالہ بدون حق فقاتل فقتل دون مالہ فھو شھید ۔ (سنن الترمذی ، کتاب الدیات ، باب ما جاء فیمن قتل دون مالہ فھو شھید ، حدیث رقم ۱۳۴۰)

[جس کا مال چھینا جارہا ہو اور وہ مزاحمت کرتے ہوئے قتل کیا گیا تو وہ شہید ہے ۔ ]

من قتل دون مالہ فھو شھید ، و من قتل دون دینہ فھو شھید ، و من قتل دون دمہ فھو شھید ، و من قتل دون أھلہ فھو شھید۔ ( ایضاً ، حدیث رقم ۱۳۴۱ ) 

[جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوا وہ شہید ہے ،اور جو شخص اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوا وہ شہید ہے ، اور جو شخص اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوا وہ شہید ہے ،اور جو شخص اپنے خاندان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوا وہ شہید ہے ۔ ] 

۲۱ ۔ ۱۹۰۷ء کے چوتھے معاہدۂ ہیگ کی دفعہ ۲ 

۲۲ ۔ ۱۹۴۹ء کے تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۴ الف کی ذیلی شق ۶ 

۲۳ ۔ Levee en masse کی اصطلاحی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : 

Inhabitants of a non-occupied territory, who on the approach of the enemy spontaneously take up arms to resist the invading forces, without having had time to form themselves into regular armed units. 

۲۴ ۔ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۴ الف کی ذیلی شق ۲ 

۲۵ ۔ پہلے اضافی پروٹوکول کی دفعہ ۱ ، ذیلی دفعہ ۳ 

۲۶ ۔ ایضاً ، دفعہ ۴۳ 

۲۷ ۔ ایضاً ، دفعہ ۴۴ 

۲۸ ۔ مثال کے طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے دیوار کی تعمیر کے قانونی جواز کے خلاف عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے لیے دیکھیے: 

Advisory Opinion on the Legality of the Construction of a Wall in the Occupied Palestinian Territory, ICJ 2004 Rep

۲۹ ۔ برہان الدین المرغینانی ، الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی، (بیروت : دار الفکر ، تاریخ ندارد) ، کتاب السیر ، ج ۲ ، ص ۳۷۸ 

۳۰ ۔ ایضاً 

۳۱ ۔ دہشت گردی ، ص ۴۷ 

۳۲ ۔ آداب القتال ، ص ۳۹

۳۳ ۔ ایضاً ، ص ۳۲

۳۴ ۔ ایضاً ، ص ۵۶ ۔ ۵۷ 

۳۵ ۔ ایضاً ، ص ۴۳ ۔ ۴۹ 

۳۶ ۔ ایضاً ، ص ۵۸ 

۳۷ ۔ ایضاً ، ص ۵۸ ۔ ۵۹ 

۳۸ ۔ ایضاً 

۳۹ ۔ ایضاً ، ص ۵۹ ۔ ۶۰ 

۴۰ ۔ ایضاً 

۴۱ ۔ ایضاً ، ص ۶۸ 

۴۲ ۔ دہشت گردی ، ص ۴۷ 

۴۳ ۔ آداب القتال ، ص ۶۰ ۔ ۶۸ 

۴۴ ۔ ایضاً ، ص ۶۸ 

جہاد / جہادی تحریکات