تعارف و تبصرہ

ادارہ

مولانا محمد حسن امروہوی ۔ ایک تعارف، ایک تجزیہ

مصنف: مولانا محمد اورنگزیب اعوان۔ 

ناشر: کتاب محل، دربار مارکیٹ لاہور۔ 

ہندوستان میں ایک عالم تھے، محمد احسن امروہوی جن کا تعلق مسلکِ اہلحدیث سے تھا۔ انہوں نے بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ایک کتاب ’’ادلہ کاملہ‘‘ کا جواب ’’مصباح الادلہ‘‘ کے نام سے لکھا تھا۔ اِس کا جواب شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے ’’ایضاح الادلہ‘‘ کے نام سے لکھا۔ یہی محمد احسن امروہوی مرزا غلام احمد قادیانی کے حلقہ بگوش ہو گئے اور قادیانیت کا ہی طوق گلے میں ڈالے آخرت کو سدھارے۔

اِسی زمانہ میں ایک اور عالم تھے، مولانا محمد حسن امروہویؒ جو نہ اہلحدیث تھے اور نہ ہی قادیانی ہوئے۔ جید عالم اور زاہد و عابد بزرگ تھے۔ مولانا فضل حق خیرآبادیؒ ، مفتی صدرالدین آزردہ دہلویؒ اور حکیم امام الدین دہلویؒ کے مایہ ناز شاگرد تھے۔ قرآن کریم کی فارسی اور اردو میں تفسیر لکھی۔ اس کے علاوہ تصوف اور دیگر موضوعات پر اُ ن کی گیارہ تصانیف موجود ہیں۔ بدقسمتی سے محمد احسن امروہوی قادیانی سے ملتے جلتے نام کی وجہ سے بعض اہلِ علم کو شبہ ہو گیا کہ یہ محمد حسن امروہوی، محمد احسن امروہی قادیانی ہیں، یہاں تک کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیر ی بھی اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے۔ ان کے مایہ ناز شاگر مولانا محمد یوسف بنوری بھی مولانا محمد حسن امروہی مرحوم کو قادیانی ہی سمجھتے رہے اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی بھی ان کی تفسیر کے متعلق غلط فہمی کا شکار رہے۔

مولانا محمد اورنگ زیب اعوان نے مولانا محمد حسن امروہی کی وفات کے ۱۱۰ سال کے بعد بیسیوں کتابوں اور ہزاروں صفحات کی ورق گردانی کے بعد اس گرد کو صاف کرنے کا فریضہ سر انجام دیا اور ناقابل تردید حوالہ جات سے یہ ثابت کیا ہے کہ مولانا محمد حسن امروہی قادیانی نہیں تھے۔ مصنف نے ڈاکٹر شاہد علی، ڈاکٹر صالحہ عبدالحکیم، ڈاکٹر شکیل اوج، ڈاکٹر محمد حبیب اللہ چترالی، مولانا قاضی زاہد الحسینی، مولانا عبدالصمد صارم الازہری، جناب خلیق نظامی، مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا عبدالحی لکھنوی ندوی، مولانا عبدالماجد دریا آبادی اور دیگر مشاہیر کی تحریروں کی کہکشاں سجا کر مولانا محمد حسن امروہی مرحوم کا تعارف پیش کیا ہے۔مولانا مناظر احسن گیلانی ایک مضمون ’’ہندوستان کا ایک مظلوم مولوی‘‘ کے عنوان سے ماہنامہ ’’معارف‘‘ اعظم گڑھ میں مولانا محمد حسن امروہی کے دفاع میں لکھا تھا، اسے بھی شامل کتاب کر دیا گیا ہے۔

کتاب جہاں مصنف کی شبانہ روز محنت کا ثمرہ ہے، وہاں ناشر کے اعلیٰ ذوق کی بھی عکاس ہے۔ عمدہ کاغذ اور شاندار جلد سے مجلدیہ کتاب اپنے قدردانوں کی منتظر ہے۔

(قیمت: 300/- روپے۔ مکتبہ امام اہل سنت پر دستیاب ہے)

تعارف و تبصرہ

مارچ ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۳