’’مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت: ایک تعارف‘‘

محمد سہیل قاسمی

مصنف : پروفیسر سعود عالم قاسمی      (شعبہ سنی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

 مطالعہ مذاہب اورتقابل ادیان سماجی علوم میں مستقل ایک موضوع ہے ۔ دورحاضرمیں دینی ومذہبی جامعات کے ساتھ عصری تعلیم گاہوں اوریونیورسٹیز میں بھی تقابل ادیان پر توجہ مبذول کی گئی ۔ پچھلے چندصدیوںمیں مغربی ممالک میں دیگر علوم کی طرح اس فن میں بھی اختصاص حاصل کرنے کا رجحان بڑھا، جس میں میکس مولر کو تقابل ادیان کاباباآدم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ آکسفورڈ اورہارورڈ جیسے اداروں نے اس غلط فہمی کی تشہیر میں تعاون کیا۔   مغربی ممالک نے سائنسی علوم کے ساتھ ہر علوم وفنون کی ابتداءکا سہرااپنے ہی سر باندھنے کی ایک کوشش کی ، جس میں تقابل ادیان اور تاریخ مذاہب بھی ہے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس فن پہ سب سے پہلے مسلمانوں نے توجہ دی ۔مسلمانوں نے دوسرے مذاہب کامطالعہ دیانت داری سے کیا، پھر ان کے ماننے والوں سے مکالمے کیے اورحسب ضرورت مناظرے بھی کیے۔قرآن کریم نے سابقہ اقوام کے درست حالات وواقعات کو بیان کرکے اس علمی روایت کی ابتداءکی ۔

مذاہب عالم کے تعارف کے سلسلہ میں قرآن وسنت کی تعلیمات اورمسلمانوں کی خدمات کو علمی اورتجزیاتی پیرایہ میں پیش کرنے کی ضرورت تھی ۔ اس ضرورت کی تکمیل کیلئے اورتاریخی حوالوں و واقعات کی روشنی میں اپنی بات ثابت کرنے کیلئے اے ایم یو کے دینیات فیکلٹی کے سابق ڈین وسابق صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر سعود عالم قاسمی نے”مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت “کے نام سے مستقل ایک کتاب تالیف کی ۔

یہ کتاب ایک مقدمہ ، ایک پیش لفظ اوردس ابواب پر مشتمل ہے ۔ پروفیسر اشتیاق احمد ظلی ، ڈائرکٹر شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ نے فاضلانہ مقدمہ لکھاجبکہ پیش لفظ صاحب کتاب نے ، جس میں مطالعہ مذاہب کے محرکات ومناہج پر خصوصیت سے روشنی ڈالی ۔کتاب کے پہلے باب میں عہد نبوی اورعہد صحابہؓ میں مکالمہ بین المذاہب پر تفصیلا بحث ہے ۔ تہذیب وشائستگی اورباہمی احترام کو قرآن کریم کے بین المذاہب مکالمہ میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ، آپ لکھتے ہیں :

” قرآن پاک بین المذاہب مکالمہ میں تہذیب وشائستگی اورباہمی احترام کو غیرمعمولی اہمیت دیتاہے ۔۔۔۔ اسی لئے قرآن نے مومنوں کو ہدایت کی ہے:

وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آَمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (۱لعنکبوت: ۶۴)

 ترجمہ : اوراہل کتاب سے بحث نہ کرومگر عمدہ طریقہ سے ، سوائے ان لوگوں کے جو ان میں ظالم ہیں اورکہوکہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو ہماری طرف نازل ہوئی اورہمارااورتمہارامعبود ایک ہی ہے اورہم اسی کے فرماں بردار ہیں “ (ص: ۱۲)

اس باب میں دورنبوی اوردور صحابہ میں یہودیت وعیسائیت اورفارس سے آنے والے وفود سے ایک دوسرے کے درمیان مذہبی امور پر ہونے والے مکالمات کوذکر کیاگیا ، جس میں مشہور سردارمکہ عتبہ بن ربیعہ ، یہودی علمااورعیسائی وفد سے آپ ﷺ کی ہونے والی گفتگو کا بیان ہے ۔ اس کے بعد صحابہ کرام کے شاہان روم وفارس اورنجاشی بادشاہ کے مکالمات کا تذکرہ ہے ۔ ان مکالمات سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے مصنف نے دو قیمتی باتیں بیان کی ، وہ لکھتے ہیں :

” اول یہ کہ دین اسلام کے عقائد ، احکام اورتعلیمات کو سمجھنے کے ساتھ مسلمانوں نے معاصرمذاہب کی حقیقت اورتعلیم کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ۔ ان کی خوبیوں اورخامیوں پر نظر رکھی ۔۔۔۔۔۔۔ دوم یہ کہ مسلمانوں نے اپنے عقیدے اوراصول زندگی کا اظہاردوسروں کے سامنے نہایت معقولیت اورحکمت کے ساتھ کیا“ ( ص: ۵۴)

درج بالا دوباتوںمیں سے ایک بات سے دیگر مذاہب پر صحابہ کرام کی معلومات کاپتہ چلتا ہے ، جس سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ ہر دورمیں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو تاریخ مذاہب میں درک رکھتی ہو۔ اوردوسری بات سے مکالمہ بین المذاہب کے اصول بھی واضح ہوگئے ۔ کہ دیگر ادیان ومذاہب سے تقابل کا طریقہ کیسا ہو ۔ آج تحقیقی مقالات کی تحریر میں بنیادی شرط ” غیرجانب داری“ ہے ، جس کا سرادورصحابہ سے ہی ملتاہے ۔

دوسراباب مسلم سلاطین اوربین المذاہب مکالمہ ہے ، اس باب میں اموی اورعباسی عہد سلطنت میں مسلم اسکالرس کے دیگر مذاہب سے ہونے والے مکالموں کا بیان ہے ۔ جیسے امام ابوحنیفہ اوررومی سفیر، ابن حزم اورعیسائی جج ، ابن قیم کاایک یہودی عالم اورابن تیمیہ کاعیسائیوں سے ہونے والے مکالمات کی مکمل روداد کاتذکرہ ہے ۔ اس کے بعد ہندوستان میں مکالمہ بین المذاہب کی تاریخ کاتذکرہ ہے ، جس کی شروعات دورعباسی سے ہوتی ہے اس وقت بودھ مذہب کے پروہتوں نے بصرہ پہنچ کر مکالمہ کیا اورتشفی بخش جواب پاکر دین اسلام سے مشرف ہوئے ۔ مصنف نے اسی ضمن میں ایک واقعہ اکبر شاہ نجیب آبادی کی کتاب ’ آئینہ حقیقت نما‘کے حوالہ سے لکھی ہے کہ سندھ کے راجہ نے ہارون رشید سے ایک ایسے عالم کو بھیجنے کی درخواست کی جو پنڈتوں کے سوالوں کا جواب دے کر اسلام کی حقانیت ثابت کرسکے ، تو ہارون رشید نے ایک محدث کو بھیجا جو علم کلام سے ناواقف تھے، اس لئے وہ تشفی بخش جواب نہ دے سکے۔ چنانچہ ہارون رشید نے دوبارہ معمریا ابوخلدہ نامی ایک متکلم کو بھیجا ، جس کے علمی لیاقت کا اندازہ ہندوستانی پنڈتوں کو پہلے سے ہوگیا ، اس لئے اس عالم کو دربارپہنچنےسے پہلے ہی زہر دے کرمرواڈالا ( ص: ۵۵) ۔

مذکورہ واقعہ سے پتہ چلتاہے کہ پہلے آنے والا عالم محدث تھا، جبکہ علامہ شبلی نے ’علم الکلام‘ صفحہ اکتالیس پر اس واقعہ کو مرتضی زیدی کی کتاب ’ملل ونحل‘ کے حوالے سے اس طرح بیان کیاکہ ہارون رشید نے پہلے ایک فقیہ کو بھیجا ، پھرمشہور متکلم معمر بن عباد کوبھیجا ۔ یعنی علامہ شبلی کے مطابق پہلے آنے والا عالم فقیہ تھااوراس فقیہ کے بعد آنے والا متکلم کی بھی تعیین ہوگئی کہ معمر بن عباد تھا۔

 ابوریحان البیرونی کے بارے میں مصنف نے لکھا کہ ہندوستان میں رہ کر ہندومذہب ،ہندوسماج ، سنسکرت زبان اورثقافت کا گہرامطالعہ کیا اوردوسرے مذاہب بالخصوص اسلام کے تعلق سے ہندووں کی دوری بلکہ دشمنی کے متعدد اسباب اپنی کتاب ’فی تحقیق ما للہند‘ میں لکھے۔ ابوریحان البیرونی کے بعد اکبر ، جہانگیر اورانگریز وں کے دورحکومت میں ہونے والے مباحثوں ومناظروں کا مفصل ذکرباب کے اخیر میں ماضی قریب کے عالمی سطح پہ مکالمہ بین المذاہب کے ایک بڑے اسکالر شیخ احمد دیدات کی خدمات کابھی تذکرہ ہے۔

تین ابواب کے بعد بقیہ سات ابواب میں اسلامی اسکالرز کے ان کتب پر تفصیلی تبصرہ ہے جو مطالعہ مذاہب سے متعلق ہیں۔ تیسرے باب میں البیرونی کی مشہور کتاب ’فی تحقیق ماللہند‘ ، چوتھے باب میں علامہ ابن حزم ظاہری اندلسی کی مشہورکتاب ’الفصل فی الملل والنحل‘ ، پانچویں باب میں عبدالکریم شہرستانی کی کتاب ’الملل والنحل‘ ، چھٹے باب میں علامہ ابن تیمیہ کی کتاب ’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘ ، ساتویں باب میں علامہ ابن قیم کی کتاب ’ھدایة الحیاری فی اجوبة الیھود والنصاری‘ ، آٹھویں باب میں نامعلوم فارسی مصنف کی کتاب ’دبستان مذاہب‘، نویں باب میں سرسید احمد خاں کی کتاب ’تبیین الکلام فی تفسیر التوراة والانجیل‘ اوردسویں باب میں مولانا عنایت رسول چریاکوٹی کی کتاب ’بشری‘  کا مکمل تعارف ہے ۔

ان سات ابواب میں آپ کا طرز تحریریہ ہے کہ آپ سب سے پہلے صاحب کتاب کے مختصر حالات اورعلمی خدمات کو ذکر کرتے ہیں ، پھر کتاب لکھے جانے کا مقصد، اس کے مشمولات ،زبان ،انداز تحریر اورعوام پر اس کے اثرات کو بیا ن کرتے ہیں ۔ان میں اکثر کتابیں عیسائیت اوراسلام سے متعلق ہیں ۔

پروفیسر سعود عالم قاسمی صاحب کی اس کتاب میں ابتداءاسلام سے برطانوی عہد تک مطالعہ مذاہب کی جوروایت رہی ہے ، اس کا تذکرہ ہے ۔ بعد میں ملک وبیرون ملک انفرادی اورتعلیم گاہوں کی شکل میں مکالمہ بین المذاہب کا جو سلسلہ شروع ہوااس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ اتنی ہی باتوں سے مصنف کا مقصد( مطالعہ مذاہب کی ابتداءکی حقیقی تاریخ پیش کرنا) حاصل ہوگیا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جدید دورمیں مطالعہ مذاہب کی روایت کاذکرایک الگ موضوع ہے ،جس کیلئے مستقل ایک کتاب کی ضرورت ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ تقابل ادیان وتاریخ مذاہب پر ریسرچ وتحقیق کرنے والوں کیلئے اس کتاب کو رہنما کی حیثیت حاصل ہے ۔ اس کے ذریعہ ہم مطالعہ مذاہب کی صحیح اوردرست تاریخ سے واقف ہوکر مسلم مورخین اوراسکالرس کے علمی تحقیقات سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔اپنے موضوع پر اردومیں یہ واحد کتاب ہے جس نے علمی دنیامیں ایک نئے موضوع کا تعارف کرایا۔ ۳۰۳ صفحات کی یہ کتاب علم وتحقیق کے عظیم ادارہ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ سے ۲٠۱۹ءمیں عمدہ کاغذ اوردیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ شائع ہوئی ، جس کی قیمت ۳٠٠ روپیہ ہے۔اس کتاب کی علمی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ پروفیسر سعود عالم قاسمی صاحب کی یہ گرانقدر علمی تحقیق دارالمصنفین کے سلسلہ مطبوعات میں شامل ہے۔


تعارف و تبصرہ

(نومبر ۲۰۱۹ء)

تلاش

Flag Counter