تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’خامہ بہ جوش‘‘

’’خامہ بہ جوش‘‘ برادرِ عزیز فصیح الدین اشرف کے کالموں پر مشتمل رشحاتِ قلم کا شاہکار ہے۔ مصنف پولیس سروسز آف پاکستان سے وابستہ ہیں اور علم و ادب کا طالب علمانہ ذوق رکھتے ہیں۔ ان کے مطالعات کا کینوس بڑا وسیع ہے۔ دنیائے علم کے تقریباً ہر موضوع پر وسیع معلومات رکھتے ہیں۔ اردو بازار میں ملازمت کے دوران ان کے پختہ علمی ذوق کے پیش نظر ان سے شناسائی ہوئی اور یہ تعلق خط و کتابت اور فون کے ذریعے تا دمِ ایں جاری ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے گوشہ ادب کوئٹہ سے شائع ہونے والی اپنی نادرِ روزگار تالیف ’’خامہ بہ جوش‘‘ ارسال فرمائی اور ساتھ ہی اس پر تبصرہ لکھنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ بڑے سائز کے 410 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اگرچہ مجھ ایسے بے بضاعت اور کم علم کے تبصرے کی محتاج نہیں جس کو ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب اور احمد زین الدین صاحب مدیر روشنائی (کراچی) اور پروفیسر اسحاق وردگ صاحب جیسے اساطینِ علم و ادب نے خراجِ تحسین پیش کیا ہو۔ عجیب حُسنِ اتفاق کہیے یا پھر حُسنِ توارد سمجھیے کہ ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب نے لاہور میں بیٹھ کر اس پر ’’حرفِ چند‘‘ لکھا جبکہ زین الدین صاحب نے کراچی میں بیٹھ کر ’’علم کا جویا۔ فصیح الدین اشرف‘‘ کے عنوان سے لکھا اور دونوں نے اپنی اپنی تحریروں کا خاتمہ شاعر مشرق حکیمِ الامت علامہ اقبال کے اس شہرہ آفاق مصرع پر کہا۔ 

؂ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

فکاہیہ کالم نگاری کے گل سرسید مشفق خواجہ مرحوم کے فکاہیہ کالموں کا مستقل عنوان ’’خامہ بہ گوش‘‘ ہوا کرتا تھا۔ فصیح الدین اشرف نے انہی سے اپنے کالموں کا عنوان مستعار لیا ہے جو ان کے کالموں پر ’’خامہ بہ جوش‘‘ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اتنی بڑی اور قد آور شخصیت کے اختیار کردہ نام کی خوشہ چینی کو مصنف موصوف نے بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے اور ان کے وقار کو قطعاً داغدار نہیں ہونے دیا۔ ’’خامہ بہ جوش‘‘ کا روپ دھار کر جب وہ اس وادئ پر خار میں نکلے ہیں تو ان کے سوزِ دروں، سیماب فطرتی اور علم کے ابلتے جوش نے نتیجتاً انہیں ’’خانہ بردوش‘‘ کر ہی چھوڑا۔ میری ان سے آخری بالمشافہ ملاقات پشاور میں ہوئی تھی، اس وقت سے لے کر تادمِ تحریر وہ ’’خانہ بردوش‘‘ ہی ہیں اور اگر ان کی فکر و نظر کے تیور یہی رہے تو ممکن نہیں کہ وہ کبھی اس ’’خانہ بردوشی‘‘ کی بساط لپیٹ پائیں گے اور اس آبلہ پا کالم نگار کی دیگر انفرادیتوں میں سے ایک انفرادیت بھی یہی ہے۔ وہ اس وقت آتشِ نمرود میں کودے ہیں جب گل و گلزار کی رنگینیوں سے متمتع ہونے کا سنہری وقت ہوتا ہے لیکن انہوں نے اس گنگا میں اشنان کو اپنی شان سے فروتر سمجھا اور قلندرانہ بانکپن کے ساتھ نعرۂ مستانہ لیے ہوئے صدائے جرس دینے لگے۔ 

انہوں نے اپنی کتاب کا انتساب جناب رسالت مآبؐ کی ذات بابرکات کے حضور نذرانۂ عقیدت کے طور پر پیش کیے جانے والے پرواز جالندھری کے ان اشعار سے کیا ہے:

لیتا ہوں تیرا نامؐ ہر اک جام سے پہلے
آتا ہی نہیں کیف تیرے نامؐ سے پہلے
ہر رنگ سے قرطاسِ عقیدت پہ نظر کی
ابھرا نہ کوئی نام تیرے نامؐ سے پہلے
دنیا تیری نسبت سے ہمیں جان رہی ہے
ورنہ یونہی پھرتے رہے بے نام سے پہلے

’’عرض کالم نگار‘‘، ڈاکٹر تحسین فراقی کے ’’حرفے چند‘‘ ، احمد زین الدین کے ’’علم کا جویا ۔ فصیح الدین اشرف‘‘ ، پروفیسر اسحاق وردگ کے فصیح الکالم اور آغا گل کے "Fasihuddin - A Regular Trajan" اور خود صاحب کتاب کے اپنے چشم کشا تعارف ’’میں کون ہوں‘‘ کے بعد کتاب کو مندرجہ ذیل جلی عنوانات کے تحت ترتیب دیا گیا ہے:

  • سلوک و تصوف (اس میں چھ کالم ہیں)
  • فوج اور قومی سلامتی (اس میں پانچ کالم ہیں)
  • ہم، مغرب، امریکہ اور اسلام (اس میں تیرہ کالم ہیں)
  • پولیس، علم الجرائم (کریمنالوجی) کرپشن اور امن عامہ (اس میں دس کالم ہیں)
  • صحافت اور شعر و ادب (اس میں آٹھ کالم ہیں)
  • چند سوالات (اس میں پانچ کالم ہیں)
  • سیاست، قومی و سماجی مسائل اور نظریات و افکار (اس میں بیس کالم ہیں)
  • عظیم پسندیدہ شخصیات (دو شخصیات پر کالم)
  • عظیم زندہ شخصیات (اس میں چھ کالم ہیں)
  • سیر و سیاحت اور بیرون ملک تقریریں (اس میں پانچ کالم ہیں)
  • اسلامی مدارس اور امن و تحفظ (اس میں تین کالم ہیں)
  • یادِ رفتگان (اس میں چار کالم ہیں)
  • گوشۂ بلوچستان (اس میں سات کالم ہیں)
  • قارئین کے تبصرے اور نقد و حرف (اس میں تین کالم ہیں)
  • قندر مکرر (اس میں تین کالم ہیں)
  • نقد و تاثرات (پروفیسر ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی مدظلہ کی تحریر)

اس طرح یہ کتاب سولہ جلی عنوانات اور بے شمار ذیلی عنوانات پر مشتمل کالموں کا ایک بصیرت افروز مرقع ہے۔ گویا کہ آسمانِ عبرت و بصیرت پر بکھری ہوئی کہکشاں ہے۔ اس میں نہ صرف وطن عزیز پاکستان کے سلگتے ہوئے مسائل کو موضوع بحث بنایا گیا ہے بلکہ عالمی سطح پر ان کے زوال و ادبار اور نکبت و بدحالی کے اسباب و علل کی دل لگتی ہوئی نشاندہی کی گئی ہے۔ مصنف بعض مقامات پر اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی کے نقطۂ عروج پر دکھائی دیتے ہیں۔ ہر کالم اس لائق ہے کہ اس پر ایک بسیط تبصرہ لکھا جا سکتا ہے۔ جب صریر نامہ کی وقعت کا یہ عالم ہو تو پھر جمیع کالموں پر ایک مختصر تبصرے میں قلم کشائی کا ر دارد ہے۔ مصنف کے استاد گرامی علی اصغر باواجی ان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اِک گونج بن کے پھیل رہے ہیں افق افق
ہم روحِ عصرِ نوا کی صدا کے سفیر ہیں
فصیح کے اندر ایک آفاقی اور تخلیقی صلاحیت موجود ہے جو ہر وقت ان کی معاونت کے لیے تیار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ زندگی میں وہ جس شعبے میں بھی داخل ہوئے وہاں انہوں نے کوئی اجنبیت محسوس نہیں کی۔ اپنی انفرادیت اور شناخت کو برقرار رکھا اور اس کی سر بلندی پر جا ٹھہرے۔ ایک بار کہنے لگے کہ باواجی! میری زندگی صرف ظاہری شکل و صورت پر مشتمل ایک وجود نہیں ہے بلکہ اس میں فطرت نے سوچنے اور محسوس کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھ دی ہے۔ میں نے قدرت کے دیے گئے ان عطیات کو بروئے کار لانا ہے اور اپنے تخلیقی عمل سے ایک جہانِ نو تخلیق کرنا ہے۔ ایسا نظام تعلیم رائج کرنا چاہتا ہوں جس سے انسانیت میں ایک وحدت پیدا ہو جائے اور یہ مذہبی، نسلی اور قبائلی تفاوت ختم ہو جائے۔ ایسے عمل ہی کو خیر کہتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ فصیح اپنے اندر ایک تڑپ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی معیار کے مطابق ان کے اپنے ملک میں ایک یونیورسٹی (انسٹیٹیوٹ آف کریمنالوجی) کا قیام ہو جہاں سے طالب علم ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کر کے ملک و قوم کی خدمت کریں۔‘‘ (بیک فلیپ)‘‘

فصیح الدین کے جذبات و احساسات کا ایک خوبصورت آئینہ خانہ ان کی یہ کتاب ہے جس کے مندرجات سے کماحقہ استفادہ کرنے کے لیے کتاب کا براہِ راست مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس گنجینۂ معانی کو صوری و معنوی خوبیوں سے آراستہ کر کے اربابِ علم و دانش کی بارگاہ میں پیش کرنے کا سہرا جناب زعیم بخاری کے سر بندھتا ہے جنہوں نے خوبصورت گیٹ اپ، عمدہ طباعت اور حسین پیشکش کے باوجود قیمت قارئین کی دسترس سے ماورا نہیں ہونے دی۔ 

(مبصر : محمد شبیر قمر)

تعارف و تبصرہ