’’فقہائے احناف اور فہم حدیث۔ اصولی مباحث‘‘

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

حال ہی میں جناب پروفیسر عمار خان ناصر کی کتاب "فقہائے احناف اور فہمِ حدیث۔ اصولی مباحث" کتاب محل لاہور سے طبع ہوکر آئی ہے۔ کتاب اس کش مکش کو حل کرنے کی کوشش ہے جو برصغیر میں حنفی مدارس کے درسِ نظامی کے ہر ذہین طالب علم کو پیش آتی ہے کہ اگر صحاحِ ستہ کے اس ذخیرہ احادیث پر جو داخل نصاب ہے اور جن میں سے بعض کتب کو اَصح الکتب قرار دیا جاتا ہے، احکامِ شرعیہ کا مدار ہے تو حنفی فقہ کے حدیث سے مستنبط ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اور اگر حنفی فقہ کی زیرِ تدریس کتب میں مذکور ادلہ مستند ہیں تو کیا عقل و قیاس کی اساس پر صحیح احادیث سے صرفِ نظر کیا جاسکتا ہے یا صحیح اور مستند ترین روایات پر دوسرے اور تیسرے درجے کی کتب احادیث کی روایات کو ترجیح دی جاسکتی ہے؟ اس کش مکش کے نتیجے میں یا تو فقہ حنفی کا یہ دعویٰ مخدوش معلوم ہونے لگتا ہے کہ اس کی بنیاد کتاب اللہ کے بعد سنت نبوی پر ہے یا یہ خیال پختہ ہونے لگتا ہے کہ احادیث کے اخذ و قبول میں حنفیہ مخصوص انتخابی رجحان کے حامل ہیں۔

اس کش مکش کا اصل سبب یہ ہے کہ مدارس میں داخل نصاب کتب احادیث کی تفہیم اور ان سے استدلال کے لیے جو اصولِ حدیث پڑھائے جاتے ہیں، وہ ان اصول سے مختلف ہیں جن کی اساس پر داخل نصاب کتب فقہ کی تدوین کی گئی ہے۔ اس تضاد کی وجہ سے طلبہ کے ذہن میں یہ تصور جاگزیں ہوجاتا ہے کہ حنفی فقہ اور احادیث میں یکسانی کا فقدان ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ حنفی مدارس میں جو اصولِ حدیث کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، وہ حنفیہ کے نہیں بلکہ محدثین کے اصول بیان کرتی ہیں اور طلبہ موقوف علیہ اور دورہ حدیث کے دوران احادیث کو اْنہیں اصول پر پرکھنے کی مہارت بہم پہنچاتے ہیں۔ حنفیہ کے اصولِ حدیث مختلف ہیں لیکن وہ تدریس حدیث کے مقدمہ کے طور پر نہیں بلکہ اصولِ فقہ میں ضمناً پڑھائے جاتے ہیں اور ان کی مناسب تطبیقی مشق بھی نہیں کرائی جاتی۔ اگر اصولِ حدیث کی تدریس کے دوران صرف محدثین کے اصول پڑھانے کی بجائے حنفیہ اور محدثین دونوں کے اصول کی نہ صرف تدریس بلکہ مْقارنہ کرکے ثمرۂ اختلاف اور نتائج سے متعارف کروایاجائے تو یقیناًطلبہ ذہنی کش مکش میں مبتلا ہونے کی بجائے دورانِ تعلیم ہی یک سْو ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں مدارس میں حدیث کی تدریس کا انداز اس طرح کا اختیار کیا جاتا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایک صحیح حدیث کے مقابلے میں مناظرانہ جوابات کے انبار لگادیے گئے ہیں۔ ہر چند کے اساتذہ دورانِ بحث یہ باور کرتے ہوں گے کہ انہوں نے درجنوں اور بیسیوں جوابات قلم بند کروادیے ہیں، لیکن طلبہ کے ذہن سے یہ بات نہیں کھرچی جاسکتی کہ صحیح احادیث کو مصنوعی جوابات سے رد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس ساری صورت حال کا واحد سبب یہ ہے کہ مدارس میں حنفیہ کے اصولِ حدیث کی تدریس کا مستقلاً اہتمام نہیں ہے، ورنہ بلاشبہ جس طرح فقہ حنفی کی اساس باقی تمام مذاہبِ فقہیہ کی بہ نسبت زیادہ علمی، فکری، عملی اور بین الاقوامی رجحان کی حامل ہے، اسی طرح حنفیہ کے اصولِ حدیث اس نوعیت کے ہیں کہ تاریخ کے طویل ادوار کی منظّم تحریکیں اور حجیت سنت کے خلاف ہونے والی علمی اور فکری محاذ آرائی نے انہیں سرمو متاثر نہیں کیا۔

اکثر محدثین کے برعکس حنفیہ نے شروع ہی سے حدیث اور سنت میں واضح خطِ امتیاز کھینچ کر حدیث کو نہیں بلکہ سنت کو حجت قرار دیا اور سنت کی بنیاد اسناد و متون پر رکھنے کی بجائے تعامل اور تواتر عملی پر رکھی۔ نیز سنت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی تقسیم کرتے ہوئے سنت کو کتاب اللہ کی تبیین و تفسیر قرار دیا۔ چنانچہ انہوں نے بجاطور پر یہ نقطہ نظر اختیار کیا کہ تشریعی سنن کا بیان اور ان کے مطابق سماج کی تشکیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی طرح فرضِ منصبی تھا جیسے تعلیم کتاب و حکمت۔ پس حنفیہ اور مالکیہ نے اپنے مذاہب فقہیہ کے لیے تقریباً سارہ ذخیرۂ سنن_متون اور ان کی معاشرتی تطبیق_ کھنگال کر اپنے مذاہب مدون کیے۔ یہی وجہ ہے کہ جن سنن کو اولین ائمہ مجتہدین نے اپنا مستدل قرار دے کر ان پر اپنے مذاہب کی بنیاد رکھی، بعد کے کسی مؤلف کی بیان کردہ اسناد کی اساس پر انہیں چیلنج کرنے کو اہل علم نے کبھی درست قرار نہیں دیا۔

اگرچہ محدثین نے احادیث کی جمع و تدوین اور ان کی ہر نوع کی جانچ پرکھ کے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تشریعی احادیث کی نہ صرف جمع و تدوین کا کام محدثین کی کاوشوں کے آغاز سے پہلے ہی فقہاء مکمل کر چکے تھے بلکہ ان کو مدارِ استدلال بنا کر اپنے مذاہب فقہیہ بھی مدون کرچکے تھے۔ یہ محدثین ہیں جنہیں فتنہ وضعِ احادیث کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اس کے مقابلے کے لیے جرح و تعدیل اور اسماء الرجال کی عظیم الشان لائبریری تشکیل دے دی لیکن یہ چیلنج ائمہ مجتہدین بالخصوص حنفیہ و مالکیہ کو پیش نہیں آیا کیوں کہ وہ اپنے مذاہب کی بنیاد سنن متداولہ پر رکھ چکے تھے اور کوئی موضوع حدیث سنن متداولہ کو چیلنج نہیں کرسکتی تھی۔

ماضی قریب میں جن مستشرقین نے حدیث کو موضوعِ بحث بنایا، ان میں گولڈ زیئر Goldzeihr اور شاخت Schacht کو مغرب میں اس قدر اہمیت حاصل ہوئی کہ ان کے منہجِ تحقیق کو موضوعِ بحث بنانا "توہین اکابر" کے زْمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے جزوی روایات اور واقعات سے کلی نتائج اخذ کرتے ہوئے یہ نقطہ نظر اختیار کیا کہ:

۱۔ سلسلہ سند کا آغاز پہلی صدی کے اختتام اور دوسری صدی کے شروع میں ہوا، اس سے پہلے نہیں تھا۔

۲۔ محدثین نے متونِ حدیث کی نقد کا کام نہیں کیا، اس لیے کئی احادیث عقل کے خلاف ہیں۔

۳۔ جس طرح متن وضع کرنا آسان تھا، سند وضع کرنا اس کی بہ نسبت زیادہ آسان تھا۔

۴۔ سیاسی اور کلامی اختلافات کے عہد میں متون بمع اسناد وضع کیے گئے۔

۵۔ شاخت کے بقول مذاہب فقہیہ کے ابتدائی دور میں فقہی اقوال علماء و فقہاء کی طرف منسوب کیے جاتے تھے اور ان کے مآخذ مقامی قوانین اور رسوم و رواج تھے۔ان اقوال کو احادیث نبویہ کا درجہ بعد میں دیا گیا اور ان کو مستند بنانے کے لیے سند متصل وضع کی گئی۔ جہاں کہیں مکمل، متصل سند موجود ہوگی، وہاں وضع کا احتمال زیادہ ہوگا اور اگر یہ معلوم کرنا ہو کہ یہ روایت کس نے وضع کی ہے تو تمام سلسلہ ہائے اسناد سے مرکزی راوی معلوم کیا جائے، یہ اْسی کی کارستانی ہے۔ نیزسلسلہ ہائے اسناد کو متون کے ساتھ کیف مااتفق ملادیا گیا۔ بعد کے دور میں سلسلہ ہائے اسناد کو زیادہ مرتب اور مدون کیا گیا ور ان میں خالی جگہیں بھر دی گئیں۔

مستشرقین کے منہج تحقیق حدیث کو مغرب میں قبولیت عامہ حاصل ہوئی اور اسلامی دنیا میں بھی بہت سے لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ اس کے ردِ عمل میں متعدد اسلامی سکالرز بالخصوص فواد سزگین، ڈاکٹر محمد حمیداللہ، ڈاکٹر مصطفی اعظمی اور ڈاکٹر حبیب الرحمن اعظمی نے مذکورہ بالا مفروضات کا تحقیقی جواب دیا، لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ مستشرقین کے یہ اعتراضات محدثین کے اصولِ حدیث پر وارد ہوتے ہیں۔ حنفیہ اور مالکیہ کے اصولِ حدیث پر ان سے کوئی آنچ نہیں آتی، کیوں کہ اگر یہ بات مان لی جائے کہ متداول کتبِ حدیث دوسری اور تیسری صدی کا کلچر تھا تو یہ وہی چیز ہے جسے امام مالک "من السنۃ" اور "الامر عندنا" کہہ کر تعبیر کرتے تھے اور یہی حنفیہ کا مستدل ہے اور یہ وہی کلچر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً رائج کردیا تھا۔

اس ساری صورت حال کا مداوا صرف اور صرف اس طریقے سے ہوسکتا ہے کہ حنفیہ کے اصولِ حدیث کو الگ سے اس طرح مدلل اور شستہ انداز میں بیان کیا جائے کہ تاریخ کا سارا گرد و غبار دْھل جائے۔ جناب پروفیسر عمار خان ناصر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے دورِ حاضر کے احناف کے ذمے جو قرض تھا، اسے انتہائی علمی، مدلل، واضح اور شائستہ انداز سے ادا کردیا۔ لگ بھگ ایک سو صفحات میں حنفی منہجِ اجتہاد میں احادیث و آثار کی اہمیت پر گفتگوکی گئی اور یہ ثابت کیا گیاکہ حنفی مستدلات میں آثار و روایات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور مثالوں سے واضح کیا گیا کہ حنفیہ کے بارے میں یہ خیال غلط ہے کہ وہ قیاس کی بنا پر حدیث کو ترک کردیتے ہیں جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ حنفیہ نے نہ صرف احادیث بلکہ آثارِ صحابہ کو بھی مستدل قرار دیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ حنفیہ کی تحقیق اور رد و قبول حدیث کے معیار وہی ہیں جو فقہاء صحابہ کرام سے منقول ہیں اور اگر درایت کی بنا پر صحابہ کرام کا دوسرے صحابہ کرام کی بیان کردہ روایات کا ترک یا ان پر نقد قابل اعتراض نہیں تو وہی معیار حنفیہ نے اختیار کیاہے، ان پر تنقید کا کیا جواز ہے؟ کتاب کا یہ حصہ بہت اہم ہے جس میں صحابہ کے ایک دوسرے کی روایات قبول نہ کرنے کے واقعات و اسباب بیان کیے گئے ہیں۔ اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ایک دوسرے پر دانستہ دروغ گوئی کا الزام نہ لگانے کے باوجود وہم راوی اور فہم راوی کو زیر بحث لاکر بعض روایات کو رد کردیتے تھے۔

میرے خیال میں اس موضوع کے زیر عنوان اس امر پر بھی غور کرنا چاہیے جسے جصاص نے الفصول فی الاصول میں ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہ ایک ہی مجلس میں احادیث نبویہ اور وہب بن منبہ سے سنی ہوئی باتیں بیان کیا کرتے تھے اور ان کے شاگرد بعد میں انہیں روایت کرتے ہوئے انتساب نادانستہ گڈ مڈ کردیتے تھے۔ مزید براں اس حوالے سے بھی ایک جامع تحقیقی مطالعے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ فتنہ وضع حدیث کے عہد میں کہیں وضاعین نے مکثرین صحابہ کے اسماء کو اتصالِ سند کے لیے استعمال تو نہیں کیا یا طویل عمر پانے والے صحابہ کرام مثلاً حضرت انس رضی اللہ عنہ کی طرف ایسی احادیث تو منسوب نہیں کردی گئیں جن کی ان کی وفات کے بعد کسی دوسرے ذریعے سے تصدیق کا امکان نہیں تھا؟ مذکورہ بالا امور اس کے متقاضی ہیں کہ الصحابۃ کلہم عدول کے اصول کے تناظر میں اس نقد کی حدبندی کردی جائے تاکہ ہمارے دور میں پیدا ہونے والی شدت پسندی کا علمی اساس پر تدارک ہوسکے۔

کتاب کا تیسرا حصہ جو لگ بھگ سو صفحات پر مشتمل ہے، حدیث کی تعبیر و تشریح کے اصول پر مبنی ہے اور حنفی اصولِ حدیث کے حوالے سے سب سے اہم ہے۔

کتاب بلاشبہ اس امر کا استحقاق رکھتی ہے کہ اسے دینی مدارس اور رسمی جامعات کے علومِ اسلامیہ کے شعبوں میں درساً پڑھایا جائے۔ میرے خیال میں یہ کتاب امام جصاص کی "الفصول فی الاصول " سے اس اعتبار سے ہم آہنگ ہے کہ انہوں نے قرآنی احکام سے استدلال و استنباط کے لیے پہلے بطور مقدمہ ایک ضخیم کتاب تالیف کی اور انہیں اصول کی بنیاد پر احکام القرآن کی تدوین کی۔ اسی طرح یہ کتاب اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ان اصول کی بنیاد پر کتبِ سنن یا تشریعی احادیث پر حنفی اصولِ حدیث کے تناظر میں مفصل تحقیقی کام کیا جائے۔

میرے لیے یہ امر باعث مسرت ہے کہ اتنی گراں قدر علمی فکری اور تحقیقی کاوش پر برادر عزیز پروفیسر عمار خان ناصر کو ہدیہ تبریک پیش کروں۔

تعارف و تبصرہ